Home Forums Siasi Discussion گنتی پوری ہے! سہیل وڑائچ

Viewing 17 posts - 1 through 17 (of 17 total)
  • Author
    Posts
  • Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #1
    کنفیوژن تو بہت ہے مگر تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن کی گنتی پوری ہے، کئی ہفتوں سے کھوج لگایا جا رہا تھا کہ اپوزیشن کے پاس نمبر پورے بھی ہیں یا نہیں۔ اب آکر یہ واضح ہوگیا ہے کہ آصف زرداری نے اندر ہی اندر گنتی پوری کرلی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گنتی فلور کراسنگ کی زد میں آنے والے اراکین سے ہٹ کر ہے۔ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد شروع سے پراسرار رنگ لیے ہوئے ہے، اندر کی کوئی خبر نہ زرداری کیمپ سے باہر آ رہی ہے نہ شہباز شریف کیمپ سے۔ سب نے اپنے کارڈ سینے سے لگا رکھے ہیں لیکن پی پی پی کی ہائی کمان اور ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کویقین ہے کہ وہ کامیابی سے ہم کنار ہونے والے ہیں۔

    دراصل تحریک عدم اعتماد صرف عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے نکالنے کےلیے نہیں لائی گئی بلکہ اس کا ہدف اگلے انتخابات، اگلے آرمی چیف کا تقرر یا توسیع اور اگلے سیاسی سیٹ اپ کا منظر نامہ تیار کرنا بھی ہے۔

    حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا کافی مشکل اور محنت طلب کام ہے، حکومت کے پاس اتنے وسائل اور اختیارات ہوتے ہیں کہ وہ ایم این ایز میں وزارتیں، عہدے اور فنڈز بانٹ سکتی ہے جبکہ اپوزیشن تو صرف منصوبہ بندی اور وعدہ فردا پر لوگوں کو ٹال سکتی ہے لیکن یہ مشکل کام زرداری اور شہباز شریف کی مکمل انڈر سٹینڈنگ سے پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اتحادی جماعتوں سے خفیہ ڈپلومیسی کے ذریعے مذاکرات کرکے انہیں مطمئن کیا گیا۔ یہ بھی فرض کیا گیا ہے کہ اگر پوری اتحادی جماعت نہیں ٹوٹتی تو اس کا ایک حصہ تحریک عدم اعتماد کی ظاہری حمایت کرکے مخالفین کے منہ بند کرسکتا ہے۔

    رہی بات جہانگیر ترین اور علیم خان کی، وہ اپنی حکمت عملی کے تحت بے شک اعلان کریں یا نہ کریں اور مناسب وقت اس اعلان کے لیے چنیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ دونوں وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہو چکے ہیں اور آپس میں ان کی صلح کا امکان ہے۔

    پہلے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ شاید علیم خان گروپ اور چھینہ گروپ کو صرف پنجاب کی قیادت پر اعتراض ہے لیکن اندرونی حلقوں سے پتہ چلا ہے کہ انہیں وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سے شکایات پنجاب سے بھی زیادہ ہیں اور وہ اپنے اختلافات کو مناسب وقت پر ظاہر کر دیں گے۔ علیم خان ہوں، جہانگیر ترین گروپ ہو یا منحرف اراکین، ان سب کو خدشہ ہے کہ اگلے انتخابات میں انہیں پی ٹی آئی کے ٹکٹ نہیں ملیں گے اس لیے انہیں ابھی سے یہ منصوبہ بندی کرنی ہے کہ انہیں اگلا الیکشن کس پارٹی سے لڑنا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران ویسے تو پارٹی ڈسپلن میں بہت سخت ہیں لیکن پنجاب میں ڈسپلن کا حال انتہائی پتلا ہے، صوبائی وزرا کھلے عام فارورڈ بلاکس میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں اور عمران خان اور عثمان بزدار کی گرفت اس قدر کمزور ہے کہ وہ ان وزراکو نہ کابینہ سے نکال سکے ہیں حتیٰ کہ انہیں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نوٹس تک نہیں دے سکے۔

    تحریک عدم اعتماد آئی تو وفاق میں ہے لیکن اس کا پنجاب میں یہ اثر پڑا ہے کہ یہاں تو یوں لگتا ہے کہ عام بغاوت ہوگئی ہے، کئی گروپ اور کئی نقطہ نظر ابھر آئے ہیں جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پنجاب میں گڑ بڑ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔

    وفاق میں اپوزیشن کا ٹارگٹ تو 172 ارکان ہیں لیکن وہ اس تعداد کو 200 تک پہنچانا چاہتی ہے تاکہ نمبر گیم میں کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ اپوزیشن اپنی نمبر گیم کو پوری کرنے کے لیے حکمت عملی بدلتی رہی ہے پہلے متحدہ اپوزیشن نے زور لگایا کہ حکومت سے اتحادی توڑے جائیں، شروع میں اس میں مشکل پیش آئی کیونکہ اتحادیوں کے حکومت سے مفادات جڑے ہوئے ہیں، اس کے بعد حکمت عملی میں تبدیلی کرکےپی ٹی آئی کے اندر شگاف ڈالنے کی کوشش ہوئی، اس میں ابتدائی کامیابی ہوئی لیکن پی ٹی آئی نے آرٹیکل 63 کا ایسا ڈراوا دینا شروع کیا کہ پی ٹی آئی کا مرکز میں باغی گروپ خود ہی دم توڑ گیا۔

    حکومت نے طے کرلیا کہ وہ اپنے پارٹی ایم این ایز کو کسی صورت عدم اعتماد کے حق میں ووٹ نہیں ڈالنے دے گی، حکومت اس حوالے سے اپنی پوری ریاستی طاقت بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن نے ان اطلاعات کے بعد پھر سے حکمت عملی بدلی اور اپنی پوری توجہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کی طرف مرکوز کردی اور اب اپوزیشن کو یقین ہے کہ وہ بغیر لوٹوں کے اتحادی جماعتوں ہی کی مددسے حکومت کو ہٹالے گی۔

    اپوزیشن اپنے طور پر طے کرچکی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے گا فی الحال الیکشن نہیں ہوںگے، اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔

    دوسری طرف ہماری اسٹیبلشمنٹ کے قریبی دو وزرا شیخ رشید اور چوہدری فواد حسین نے عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کی صورت میں چھ ماہ کے اندر الیکشن کروانے کی بات کی ہے، دونوں وزیر مقتدر حلقوں سے چاہتے ہیں کہ وہ بیچ میں پڑ کر حکومت اور اپوزیشن میں صلح کروا دیں وگرنہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو یا ناکام دونوں صورتوں میں ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ ان دونوں وزیروں کی رائے کو پذیرائی ملتی ہے یا نہیں یہ آئندہ چند دنوں میں ظاہر ہوگا۔

    تحریک عدم اعتماد دراصل ایک آئینی اور جمہوری عمل ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے زمانے میں تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو اس وقت کے اسپیکر ملک معراج خالد نے اس معاملے کو اس خوش اسلوبی سے نمٹایا کہ پیپلزپارٹی کو اپنے ہی اسپیکر کی جانبداری کا شبہ پیدا ہوگیا بالآخر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔

    اب بھی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور اس معاملے کو ایوان کی چار دیواری کے اندر محدود رکھنا چاہیے وگرنہ اگر لڑائی جھگڑا اور تصادم ہوا تو اس سے صرف حکومت کو نہیں پورے جمہوری نظام کو نقصان پہنچے گا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی ایوان کے کسٹوڈین ہیں وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کرکے سب کو رولز آف دی گیم کا پابند بنائیں، عدم اعتماد کے موقع پر آئین یا قانون سے انحراف نقصان دہ ہوگا اگر سب کچھ آئین کے اندر رہ کر کیا گیا تو حکومت جانے کے باوجود جمہوریت کا بھرم رہ جائے گا۔

    https://jang.com.pk/news/1061827

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #2
    سہیل وڑائچ وہی ہیں جنہوں نے پہلی بار ڈاکٹرائن والا ضمیمہ چھاپا تھا
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #3
    حالات و واقعات کے حسا ب تو یہی کنفرم لگتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ عمران خان کی حکومت چلتی رھے گی ۔۔۔۔۔ حکومت جا نے کا چانس کم ہے ۔۔۔۔

    دوسری طرف ۔۔۔ تحریک عد م اعتماد کی جو فضا بنی ہے ۔۔۔۔۔ وہ کافی خطرناک ہے ۔۔۔۔۔ترین گروپ ۔۔۔۔ علیم خان ۔۔۔۔ گجراتی چوھدری ۔۔۔۔ ایم  کیو ایم ۔۔۔۔۔ کا پاور شو ۔۔۔۔۔

    کچھ اچھے نتا ئج لا نے والا نہیں ہے ۔۔۔۔ ما سوائے اس کے کہ ۔۔۔۔۔ پنجاب ۔۔۔ فیڈرل ۔۔۔ میں حالات مزید  ۔۔۔۔ بلیک میلنگ ۔۔۔ کمزوری ۔۔۔ ٹوٹ پھوٹ ۔۔۔۔ کا شکار ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن سب سے خطرناک پہلو یہ ہےکہ ۔۔۔۔۔۔ عمران خان ۔۔۔۔۔ بہت غصے میں ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ کچھ بھی غیر قانونی ھتھکنڈ ے کر گزرنے کے درپے ہے ۔۔۔۔۔

    اس صورت حال کو ۔۔۔۔۔ پا کی مکار فوج ۔۔۔۔۔۔ بھی مکمل طور گیلری میں بیٹھ کر انجوا ئے کررھی ہے  ۔۔۔۔۔۔ قومی خد مت کے پیش نظر ۔۔۔۔۔ صورت حال کو ۔۔۔۔ ٹھنڈا نہیں کیا ہے ۔۔۔۔۔

    اس لیئے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ پا کی مکار فوج ۔۔۔۔۔ ملک میں ۔۔۔۔ چھوٹے سیاسی گروپوں ۔۔۔۔ اپوزیشن ۔۔۔ حکومت مین ۔۔۔۔۔ فساد کرواکر ۔۔۔۔۔ ملک کو ۔۔۔۔ انارکی میں دھکیلنا چا ھتی ہو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صورت حال ایسے بنتی ہے ۔۔۔۔۔۔ عمران خان کی حکومت چلتی رھے گی ۔۔۔۔۔۔ اس بات کے چانسزز ہیں ۔۔۔۔۔۔ ملک کی سیا سی گرپوں میں ۔۔۔۔ تصادم ۔۔۔۔ ہوجائے ۔۔۔۔۔

    اور ملک  مکمل طور ۔۔۔۔ لا قا نونیت ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ قبا ئلی  جنگل ۔۔۔۔۔۔ کی شکل اختیار کرلے ۔۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 8 months, 3 weeks ago by Guilty.
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #4
    سہیل وڑائچ وہی ہیں جنہوں نے اپنی صحافتی ساکھ خطرے میں ڈالتے ہوئے سب سے پہلے دو ہزار سترہ میں کہا تھا کہ نواز کی پارٹی اوور ہے اسی مناسبت سے میں نے اپنے ایک دوسرے تھریڈ کا یہ نام رکھا ہے – بڑا صحافی کبھی بھی اپنی ساکھ خطرے میں ڈال کر کوئی حتمی بات نہیں کہتا – آج کل صرف نجم سیٹھی کہہ رہا ہے خان حکومت جا رہی ہے باقی سب اگر مگر سے کام لے رہے ہیں – سہیل وڑائچ بھی نمبر پورے ہونے کا کہہ رہا ہے مگر حتمی طور پر نہیں کہہ رہا ہے کہ پارٹی اوور ہے – نمبر پورے ہیں کا اور بھی صحافی کہہ رہے ہیں مگر کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ نمبر پورے رہیں گے – میرا خیال ہے سب ق لیگ کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں جس میں وہ اپوزیشن یا حکومت کے ساتھ ملنے کا اعلان کرے گی – اس کے بھد رہ کیا جاتا ہے پھر تو سب کہیں گے کہانی ختم ہے – اصل پیشن گوئی تو نجم سیٹھی نے کی ہے جو نومبر سے کہہ رہاہے خان کے جانے کا فیصلہ ہو گیا ہے جب سے آئی ایس آئی چیف کی تہیناتی میں دیر ہوئی – اگرچے سیٹھی کی پچھلی دو بار پیشن گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں مگر پہلے کبھی اس نے اتنا حتمی نہیں کہا – عدم اعتماد کی ووٹنگ تاریخ میں دیری سے سب کچھ لیٹ ہو گیا ہے ورنہ ق لیگ نے اب تک اعلان کر دیا ہوتا – ہر کوئی کہہ رہا ہے اگلے دو تین دن اہم ہیں مگر سیٹھی کہہ رہا ہے ایسے ہی چلتا رہے گا اور حکومتی اتحادی بلکل آخر میں اعلان کریں گے –
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #5
    اعوان بھائی – سب طرف ٹھنڈ ہے کوئی تحریک عدم اعتماد نہی آ رہی
    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #6
    سہیل وڑائچ وہی ہیں جنہوں نے اپنی صحافتی ساکھ خطرے میں ڈالتے ہوئے سب سے پہلے دو ہزار سترہ میں کہا تھا کہ نواز کی پارٹی اوور ہے اسی مناسبت سے میں نے اپنے ایک دوسرے تھریڈ کا یہ نام رکھا ہے – بڑا صحافی کبھی بھی اپنی ساکھ خطرے میں ڈال کر کوئی حتمی بات نہیں کہتا – آج کل صرف نجم سیٹھی کہہ رہا ہے خان حکومت جا رہی ہے باقی سب اگر مگر سے کام لے رہے ہیں – سہیل وڑائچ بھی نمبر پورے ہونے کا کہہ رہا ہے مگر حتمی طور پر نہیں کہہ رہا ہے کہ پارٹی اوور ہے – نمبر پورے ہیں کا اور بھی صحافی کہہ رہے ہیں مگر کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ نمبر پورے رہیں گے – میرا خیال ہے سب ق لیگ کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں جس میں وہ اپوزیشن یا حکومت کے ساتھ ملنے کا اعلان کرے گی – اس کے بھد رہ کیا جاتا ہے پھر تو سب کہیں گے کہانی ختم ہے – اصل پیشن گوئی تو نجم سیٹھی نے کی ہے جو نومبر سے کہہ رہاہے خان کے جانے کا فیصلہ ہو گیا ہے جب سے آئی ایس آئی چیف کی تہیناتی میں دیر ہوئی – اگرچے سیٹھی کی پچھلی دو بار پیشن گوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں مگر پہلے کبھی اس نے اتنا حتمی نہیں کہا – عدم اعتماد کی ووٹنگ تاریخ میں دیری سے سب کچھ لیٹ ہو گیا ہے ورنہ ق لیگ نے اب تک اعلان کر دیا ہوتا – ہر کوئی کہہ رہا ہے اگلے دو تین دن اہم ہیں مگر سیٹھی کہہ رہا ہے ایسے ہی چلتا رہے گا اور حکومتی اتحادی بلکل آخر میں اعلان کریں گے –

    سیٹھی کی ایک اطلاع تو درست ثابت ہوئی جب وہ کچھ دن پہلے کہہ رہا تھا کہ عمران زرداری پر اس لئے سب سے زیادہ غصہ ہے اس نے پی ٹی آئی کے دو درجن ایم این ایز کہیں چھپا دئے ہیں اور ایجنسیاں انہیں تلاش کرنے میں ناکام ہیں

    کل عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ اس کے کئی ایم این اے (شائد) سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجود ہیں

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #7
    اب تو اتحادیوں نے بھی خان صاحب کو جگتیں کرنی شروع کردی ہیں

    کہ اگر بندے نہیں مل رہے تو میں ڈھونڈ دوں؟؟

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #8
    کل ہی نجم سیٹھی نے کہا کہ زرداری نے انہیں جہاں رکھا ہوا ہے ان ارکان کا کہنا ہے کہ کھانہ بہت مزیدار ہوتا ہے آج ہی خاں صاب نے بہلانے پھسلانے والی ٹویٹ کردی ، ویسے ایجنسیوں کو سابق وزیر داخلہ والا فارمولہ اپنانا چاہیے جس میں انہوں نے دہشت گردوں کو پکڑنے کیلئے زیادہ نان خریدنے والوں پر نظر رکھنے کا کلیہ اپنایا تھا

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #9

    آج تو لگتا ہے سب چینلوں پر ان لوٹوں کے انٹرویو ہی چلیں گے

    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #10
    سیٹھی کی ایک اطلاع تو درست ثابت ہوئی جب وہ کچھ دن پہلے کہہ رہا تھا کہ عمران زرداری پر اس لئے سب سے زیادہ غصہ ہے اس نے پی ٹی آئی کے دو درجن ایم این ایز کہیں چھپا دئے ہیں اور ایجنسیاں انہیں تلاش کرنے میں ناکام ہیں کل عمران خان نے خود اعتراف کیا کہ اس کے کئی ایم این اے (شائد) سندھ ہاؤس اسلام آباد میں موجود ہیں

    آج کل سیٹھی صاحب کی ساری پیشن گویاں درست ثابت ہو رہی ہیں ایسے لگتا ہے سیٹھی صاحب کی چڑیا اندر سے خبریں لا رہی ہے – باقی سیٹھی صاحب بغیر اندر کی خبر کے بھی زبردست تجزیہ نگار ہیں – سہیل وڑائچ کھل کر کچھ نہیں کہہ رہے وہ باقی لوگوں کی طرح شش پنج کا شکار ہیں اور نمبر پورے ہیں یہ تو ایک مہینہ پہلے سے کہا جا رہا ہے – کل پرویز الہی نے جو انٹرویو مہر بخاری کو دیا اس کے ہر طرف چرچے ہیں کہا جا رہا تھا اس انٹرویو نے کہانی ختم کر دی اور ق لیگ اپوزیشن میں جا رہی ہے – کچھ گھنٹوں بھد پرویز الہی نے یو ٹرن لیا اور کہا ہم نے نہ اپوزیشن جوائن کی ہے نہ حکومت چھوڑی ہے – مختلف لوگ اس کی وجہ مختلف قرار دے رہے ہیں – زیادہ تر لوگ یہ کہہ رہے ہیں ابھی وہ گیم آن رکھنا چاہتے ہیں – صرف کلاسرہ نے مختلف وجہ بتائی کہ ممکنہ طور پر انہیں اسٹیبلشمنٹ سے کال آئی ہے اگر ایسا ہے تو اتحادیوں کی طرف سے خان کے حق میں بیانات آنا شروع ہو جائیں گے جو ابھی تک نہیں ہوا – روز کہا جاتا ہے اگلے دو تین دن بھی اہم ہیں اس بار اگلے دو تین دن اسلئے اہم ہیں کیونکے اتحادیوں کے بیان سے اندازہ ہو گا کہ ان کا رخ کس طرف ہے –

    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #11
    اعوان بھائی – سب طرف ٹھنڈ ہے کوئی تحریک عدم اعتماد نہی آ رہی

    شامی بھائی تحریک عدم اعتماد تو آ چکی آپ یہ کہہ سکتے ہیں اس پر ووٹنگ نہیں ہو گی – اگر ق لیگ اور دوسرے اتحادیوں نے اپوزیشن کے حمایت کا اعلان کر دیا تو پھر ووٹنگ ہونی تو نہیں چاہئے کیونکے نمبرز کا واضح اعلان ہو جائے گا مگر خان صاحب پھر بھی ہار نہیں مانیں گے اور کہیں گے اچھا پہلے ووٹ دو – مبینہ دس لاکھ کا ہجوم پھر سب کو روکے گا بھلے اپنے ہوں یا اتحادی یوں خان صاحب جتنا گند ممکن ہیں ڈالیں گے – خان صاحب کو اندازہ ہے ایک بار کرسی ہاتھ سے نکلی تو پھر نہیں ملنی اور دس لاکھ کے ہجوم سے وہ ممکنہ ٹکراؤ کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے ان کے حق میں جانے کی امید کر رہے ہیں – خان صاحب یہ بھی سوچتے ہیں اتنے خون خرابے کے بھد مجھے کچھ نہ ملا تو کسی کو کچھ نہیں ملے گا – میرا خیال ہے ٹکراؤ کسی نے نہیں ہونے دینا اور حکومت اور اپوزیشن دونوں کے آمنے سامنے والے جلسے کینسل ہونگے – ممکن ہے اپوزیشن کا اجتماع اکٹھا ہو جائے پھر دونوں کو منا کر اعتجاج کینسل کرنے کا فیصلہ ہو جائے آخر کو اب دن ہی کتنے بچے ہیں –

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #12
    آج کل سیٹھی صاحب کی ساری پیشن گویاں درست ثابت ہو رہی ہیں ایسے لگتا ہے سیٹھی صاحب کی چڑیا اندر سے خبریں لا رہی ہے – باقی سیٹھی صاحب بغیر اندر کی خبر کے بھی زبردست تجزیہ نگار ہیں – سہیل وڑائچ کھل کر کچھ نہیں کہہ رہے وہ باقی لوگوں کی طرح شش پنج کا شکار ہیں اور نمبر پورے ہیں یہ تو ایک مہینہ پہلے سے کہا جا رہا ہے – کل پرویز الہی نے جو انٹرویو مہر بخاری کو دیا اس کے ہر طرف چرچے ہیں کہا جا رہا تھا اس انٹرویو نے کہانی ختم کر دی اور ق لیگ اپوزیشن میں جا رہی ہے – کچھ گھنٹوں بھد پرویز الہی نے یو ٹرن لیا اور کہا ہم نے نہ اپوزیشن جوائن کی ہے نہ حکومت چھوڑی ہے – مختلف لوگ اس کی وجہ مختلف قرار دے رہے ہیں – زیادہ تر لوگ یہ کہہ رہے ہیں ابھی وہ گیم آن رکھنا چاہتے ہیں – صرف کلاسرہ نے مختلف وجہ بتائی کہ ممکنہ طور پر انہیں اسٹیبلشمنٹ سے کال آئی ہے اگر ایسا ہے تو اتحادیوں کی طرف سے خان کے حق میں بیانات آنا شروع ہو جائیں گے جو ابھی تک نہیں ہوا – روز کہا جاتا ہے اگلے دو تین دن بھی اہم ہیں اس بار اگلے دو تین دن اسلئے اہم ہیں کیونکے اتحادیوں کے بیان سے اندازہ ہو گا کہ ان کا رخ کس طرف ہے –

    ندیم ملک کے ساتھ انٹرویو میں پرویز الہی کہہ رہے ہیں کہ خرابی فوج کے ساتھ بگاڑنے کی وجہ سے ہوئی یعنی اس کے مطابق فوج اس تحریک عدم اعتماد کے پیچھے ہے

    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #13
    ندیم ملک کے ساتھ انٹرویو میں پرویز الہی کہہ رہے ہیں کہ خرابی فوج کے ساتھ بگاڑنے کی وجہ سے ہوئی یعنی اس کے مطابق فوج اس تحریک عدم اعتماد کے پیچھے ہے

    فوج کے خان کے پیچھے سے ہاتھ کھنچنے کی وجہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعینارتی میں ہونے والی بد مزگی کہا جا رہا ہے – کہا جاتا ہے یہ ان کا اندرونی محاملہ تھا اور اس میں خان صاحب کی مداخلت کو انہوں نے اپنی بے عزتی تصور کیا ہے – بحرحال ہر کوئی یہی کہہ رہا ہے وہ نیوٹرل ہو گئے ہیں اور کسی کا بھی ساتھ نہیں دے رہے – میرے ذاتی خیال میں وہ اب خان کے جانے پر ہی خوش ہیں – ممکن ہے اندرونے کھاتا کوئی کوشش ہو بھی رہی ہو خان کو نکالنے کی اگر ایسا ہے تو ایسی باتیں اب چھپی نہیں رہتیں جلد یا بدیر باہر آ ہی جایئں گے – ویسے خان صاحب اگر نکل گئے تو اس کا مطلب وہ یہی لینگے کہ فوج نے نکالا ہے – پھر ان کی ہمت پر ہے فوج کو کتنا للکارتے ہیں –

    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    #14
    Malik Noor Aalam Khan is the richest MP, Raja Riaz was PPP stalwart. It’s not surprising these people are against IK.
    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #15
    Malik Noor Aalam Khan is the richest MP, Raja Riaz was PPP stalwart. It’s not surprising these people are against IK.

    Half of defectors are first timers.

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #16

    :rock:

    Ubaid Ullah Khan
    Participant
    Offline
    • Member
    #17
    Mai nai apnai zinagi mai Sohail Waraich jitna chawl aur manhoos admi nahi dekha, pata nahi ye badbakht q apnai pait sai batien nikal kar logon ko gumrah karta hai.
Viewing 17 posts - 1 through 17 (of 17 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi