Home Forums Siasi Discussion کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

Viewing 20 posts - 41 through 60 (of 62 total)
  • Author
    Posts
  • #41
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد بھائی پرفارمنس میں سے محیشت پر لمبی چوڑی گفتگو ہو سکتی ہے اور ہوتی رہی ہے – دوسرا پہلو گوورنس ہے جس میں میں آٹا ایکسپورٹ کرنا پھر امپورٹ کرنا چینی ایکسپورٹ کرنا پھر امپورٹ کرنا پی آئی اے کو رسوا کر کے کم و بیش پوری دنیا میں بین کروانا بلکے پاکستانی پائلٹوں کو بین کروانا سمیت بہت سارے اشو گوورنس کے زمرے میں آتے ہیں – اسی طرح انتظامی طور پر اداروں کو نہ سمبھال پانے کی وجہ سے زیادہ تر اداروں کے سربراہ فوجی لگنا بھی انتظامی ناکامی کی وجہ سے ہیں – اب آپ ان چیزوں کو نہ مانیں تو الگ بات ہے ورنہ غیر جانب دار تجزیہ نگار تواتر سے یہ بات لکھ رہے ہیں کہ ہر جگہ نالائقی اور نا اہلی کی وجہ سے ملک کو نقصان ہو رہے ہیں – عثمان بزدار کی ناہلی کی داستانیں الگ ہیں – اور کارکردگی کس چڑیا کا نام ہے ؟

    تجزیہ نگاروں کی باتوں پر جائیں گے ایسی باتیں ہی کریں گے۔ پاکستان میں کونسا تجزیہ نگار آزاد خیال ہے جو سچی بات کر سکے۔ یہ چینی اور آٹا نہ ہوتے ہوئے بھی ایکسپورٹ اور پھر امپورٹ کرنے کی کہانی نئی نہی ہے۔ دس سال سے چینی کو وافر نہ ہوتے ہوئے بھی وافر دکھا کر کاغذوں میں ایکسپورٹ کیا جا رہا تھا۔ ہر سال شوگر مافیا (جن کی اپنی حکومت ہوتی تھی) کہتی تھی ہمارے پاس چار ملین وافر پراڈکشن ہے۔ اور کیونکہ پراڈکشن پرائس زیادہ ہے اور ایکسپورٹ پرائس کم اس لئے حکومت سبسڈی دے۔ حکومت ۳۰ ارب تک سبسڈی دے دیتی تھی اور شوگر کی افغانستان ایکسپورٹ دکھا دی جاتی تھی۔ نہ چینی وافر ہوتی تھی نہ ایکسپورٹ ہوتی تھی، نہ فیزیکلی چینی افغانستان جاتی تھی لیکن مل مالکان ۳۰ ارب روپئہ کھا جاتے تھے۔ آپس کی بات تھی زرداری تھا شریف تھے یا ترین اور دوسرے سیاست دان۔ آپس ہی میں مک مکا ہو جاتا تھا۔
    نئی حکومت کے پہلے سال بھی یہی ہوا۔ انہیں جو وافر چینی اور گندم کے اعدادو شمار بیوروکریسی(جو خود حصہ لیتے تھے) کی طرف سے دئیے گئے انہی پر انحصار کرتے ہوئے انہوں نے چار ارب سبسڈی بھی دی اور ایکسپورٹ کی اجازت بھی لیکن جیسے ہی انکوائری ہوئی، حقائق سامنے آئے تو یہ دروازہ بند کر دیا گیا اور مل مالکان کا رونا اس دن سے دیدنی ہے۔ ملکی اداروں کو کرپشن سے جس طرح شریفوں نے تباہ کیا اسی طرح چلنے دئیے جاتے تو شاید آپ بھی راضی ہوتے اور ان کرپٹ لوگوں کے ٹاؤٹ تجزیہ نگار بھی۔
    نظر اور سوچ کی بات ہے سرجی۔ ایک چھ لین موٹر وے ملتان سے سکھر بنی تھی قیمت تھی ساڑھے سات ملین ڈالر فی کلومیٹر۔ ایک اب سکھر سے حیدرآباد تک چھ لین ایکنک نے منظور کر لی ہے چھ سال بعد بھی قیمت ہے سوا چار ملین ڈالر فی کلومیٹر۔
    ایک ۱۰۰ میگاواٹ کا سولر پارک بھاولپور میں لگا تھا آج اس سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت ہے ۲۵ روپئیے فی یونٹ ایک ایسا ہی ۱۰۰ میگاواٹ کا پارک اب لیہ میں لگا ہے ٹیریف ہے ساڑھے چھ روپئیے۔
    کچھ بجلی کے پلانٹس تب لگے تھے ٹیریف بھی دس سے ساڑھے گیارہ پینس تھا اور کیپیسٹی چارجز بھی سو فیصد پر تھے
    کچھ اب ایپروو ہوئے ہیں جن کا ٹیریف ہے ساڑھے چار پینس فی یونٹ اور کوئی کیپیسٹی چارجز نہی ہے۔ کچھ نئے بھی ساڑھے تین پینس پر آفر کر رہے ہیں اور یہ کلین انرجی ہے۔

    سولہ سو ارب سالانہ کے کیپیسٹی چارجز دینے پڑ رہے ہیں بغیر ایک میگاواٹ بجلی استعمال کئے ہوئے۔ چھ فیصد گروتھ سالانہ بھی ہوتی تو اس بجلی کی کھپت کو آٹھ سال مزید لگتے۔ ۳۸۰۰۰ کی کیپیسٹی ہے جبکہ گرمیوں میں ۲۳۰۰۰ اور سردیوں میں نو ہزار میگاواٹ کی ڈیمانڈ ہے۔ سولہ سو ارب سالانہ کا یہ ٹھیپا اس فوجی بجٹ سے بھی زیادہ ہے جسے ہم ہر سال روتے ہیں۔ اب مہنگی بجلی لے کر لوگوں کو سستی بیچتے رہو، سرکلر ڈیٹ بڑھاتے رہو اور ۳۸۰۰۰ تک میگاواٹ بڑھانے کے کیپیسٹی چارجز دیتے رہو۔ لیکن سمجھنا مت کہ کچھ اشوز اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ایک دھائی تک قوم لٹ جاتی ہے اور کچھ کاسمیٹک اشوز ہوتے ہیں کہ فلاں ڈی سی کو اتار کے فلاں دوسرے کو کیوں لگا دیا۔

    .
    باقی باتیں بغیر کسی ثبوت جتنی مرضی کرتے جاؤ۔ بڑے مقاصد اور اشوز کو آف سیٹ کرنے کو چھوٹی چھوٹی نقطہ چینیاں، پاپولر اپوزیشن سٹینس، یا نعروں کو مروموٹ کرنا سب کی طرح آپ کا بھی حق ہے۔ ہر حکومت سے چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی ہوتی ہیں، سب کی طرح بوٹ پالش کرنا اور اصل داتاؤں کو خوش رکھنا بھی آج کل ہر حکومت کی مجبوری ہے چاہے وہ دو تہائی اکثریت سے آئے یا مانگے کی اکثریت سے۔ جتنی مظبوط مینڈیٹ والی حکومت ہو گی اتنا زیادہ رززسٹ کر سکے گی اور جتنی کم اکثریت والی ہو گی تو داتاؤں کا اثر زیادہ ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اسے بدلنے کے لئے عمران زرداری یا شریف نہی بلکہ ایک الگ سے بندہ چاہئیے جس کے پیچھے اس مقصد کے لئے عوام بھی کھڑی ہو۔

    #42
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 152
    • Posts: 2951
    • Total Posts: 3103
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    تجزیہ نگاروں کی باتوں پر جائیں گے ایسی باتیں ہی کریں گے۔ پاکستان میں کونسا تجزیہ نگار آزاد خیال ہے جو سچی بات کر سکے۔ یہ چینی اور آٹا نہ ہوتے ہوئے بھی ایکسپورٹ اور پھر امپورٹ کرنے کی کہانی نئی نہی ہے۔ دس سال سے چینی کو وافر نہ ہوتے ہوئے بھی وافر دکھا کر کاغذوں میں ایکسپورٹ کیا جا رہا تھا۔ ہر سال شوگر مافیا (جن کی اپنی حکومت ہوتی تھی) کہتی تھی ہمارے پاس چار ملین وافر پراڈکشن ہے۔ اور کیونکہ پراڈکشن پرائس زیادہ ہے اور ایکسپورٹ پرائس کم اس لئے حکومت سبسڈی دے۔ حکومت ۳۰ ارب تک سبسڈی دے دیتی تھی اور شوگر کی افغانستان ایکسپورٹ دکھا دی جاتی تھی۔ نہ چینی وافر ہوتی تھی نہ ایکسپورٹ ہوتی تھی، نہ فیزیکلی چینی افغانستان جاتی تھی لیکن مل مالکان ۳۰ ارب روپئہ کھا جاتے تھے۔ آپس کی بات تھی زرداری تھا شریف تھے یا ترین اور دوسرے سیاست دان۔ آپس ہی میں مک مکا ہو جاتا تھا۔ نئی حکومت کے پہلے سال بھی یہی ہوا۔ انہیں جو وافر چینی اور گندم کے اعدادو شمار بیوروکریسی(جو خود حصہ لیتے تھے) کی طرف سے دئیے گئے انہی پر انحصار کرتے ہوئے انہوں نے چار ارب سبسڈی بھی دی اور ایکسپورٹ کی اجازت بھی لیکن جیسے ہی انکوائری ہوئی، حقائق سامنے آئے تو یہ دروازہ بند کر دیا گیا اور مل مالکان کا رونا اس دن سے دیدنی ہے۔ ملکی اداروں کو کرپشن سے جس طرح شریفوں نے تباہ کیا اسی طرح چلنے دئیے جاتے تو شاید آپ بھی راضی ہوتے اور ان کرپٹ لوگوں کے ٹاؤٹ تجزیہ نگار بھی۔ نظر اور سوچ کی بات ہے سرجی۔ ایک چھ لین موٹر وے ملتان سے سکھر بنی تھی قیمت تھی ساڑھے سات ملین ڈالر فی کلومیٹر۔ ایک اب سکھر سے حیدرآباد تک چھ لین ایکنک نے منظور کر لی ہے چھ سال بعد بھی قیمت ہے سوا چار ملین ڈالر فی کلومیٹر۔ ایک ۱۰۰ میگاواٹ کا سولر پارک بھاولپور میں لگا تھا آج اس سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت ہے ۲۵ روپئیے فی یونٹ ایک ایسا ہی ۱۰۰ میگاواٹ کا پارک اب لیہ میں لگا ہے ٹیریف ہے ساڑھے چھ روپئیے۔ کچھ بجلی کے پلانٹس تب لگے تھے ٹیریف بھی دس سے ساڑھے گیارہ پینس تھا اور کیپیسٹی چارجز بھی سو فیصد پر تھے کچھ اب ایپروو ہوئے ہیں جن کا ٹیریف ہے ساڑھے چار پینس فی یونٹ اور کوئی کیپیسٹی چارجز نہی ہے۔ کچھ نئے بھی ساڑھے تین پینس پر آفر کر رہے ہیں اور یہ کلین انرجی ہے۔ سولہ سو ارب سالانہ کے کیپیسٹی چارجز دینے پڑ رہے ہیں بغیر ایک میگاواٹ بجلی استعمال کئے ہوئے۔ چھ فیصد گروتھ سالانہ بھی ہوتی تو اس بجلی کی کھپت کو آٹھ سال مزید لگتے۔ ۳۸۰۰۰ کی کیپیسٹی ہے جبکہ گرمیوں میں ۲۳۰۰۰ اور سردیوں میں نو ہزار میگاواٹ کی ڈیمانڈ ہے۔ سولہ سو ارب سالانہ کا یہ ٹھیپا اس فوجی بجٹ سے بھی زیادہ ہے جسے ہم ہر سال روتے ہیں۔ اب مہنگی بجلی لے کر لوگوں کو سستی بیچتے رہو، سرکلر ڈیٹ بڑھاتے رہو اور ۳۸۰۰۰ تک میگاواٹ بڑھانے کے کیپیسٹی چارجز دیتے رہو۔ لیکن سمجھنا مت کہ کچھ اشوز اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ایک دھائی تک قوم لٹ جاتی ہے اور کچھ کاسمیٹک اشوز ہوتے ہیں کہ فلاں ڈی سی کو اتار کے فلاں دوسرے کو کیوں لگا دیا۔ . باقی باتیں بغیر کسی ثبوت جتنی مرضی کرتے جاؤ۔ بڑے مقاصد اور اشوز کو آف سیٹ کرنے کو چھوٹی چھوٹی نقطہ چینیاں، پاپولر اپوزیشن سٹینس، یا نعروں کو مروموٹ کرنا سب کی طرح آپ کا بھی حق ہے۔ ہر حکومت سے چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی ہوتی ہیں، سب کی طرح بوٹ پالش کرنا اور اصل داتاؤں کو خوش رکھنا بھی آج کل ہر حکومت کی مجبوری ہے چاہے وہ دو تہائی اکثریت سے آئے یا مانگے کی اکثریت سے۔ جتنی مظبوط مینڈیٹ والی حکومت ہو گی اتنا زیادہ رززسٹ کر سکے گی اور جتنی کم اکثریت والی ہو گی تو داتاؤں کا اثر زیادہ ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اسے بدلنے کے لئے عمران زرداری یا شریف نہی بلکہ ایک الگ سے بندہ چاہئیے جس کے پیچھے اس مقصد کے لئے عوام بھی کھڑی ہو۔

    شاہد بھائی آپ میری باتوں پر مت یقین کریں آپ اپنے کلاس فیلو خالد مسعود کے پچھلے تین سال کے کالم دیکھ لیں – خالد مسعود ایک تحقیقاتی جرنلسٹ ہے اور تحریک انصاف کا پکا سپورٹر تھا – پچھلے تین سال میں وہ پنجاب میں بزدار حکومت کی کرپشن اور نالائقی پر بے شمار کالم لکھ چکا ہے – آپ پھر بھی دن کو رات کہیں تو اس کا کیا کیا جائے

    باقی جہاں تک عوام کے پیچھے کھڑے ہونے والی بات ہے تو جس کے پیچھے بھی عوام کھڑی ہوگی اس ملک کی فوج اس کے نیچے سے زمین کھینج لے گی – یہی بہتر سال سے ہو رہا ہے -جب ایک ادارے کے چند افراد اپنے مفاد کے کھیل کھیلتے رہیں گے نہ کوئی خان بہتری لا سکتا ہے نہ نواز اور نہ کوئی اور –

    #43
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد بھائی آپ میری باتوں پر مت یقین کریں آپ اپنے کلاس فیلو خالد مسعود کے پچھلے تین سال کے کالم دیکھ لیں – خالد مسعود ایک تحقیقاتی جرنلسٹ ہے اور تحریک انصاف کا پکا سپورٹر تھا – پچھلے تین سال میں وہ پنجاب میں بزدار حکومت کی کرپشن اور نالائقی پر بے شمار کالم لکھ چکا ہے – آپ پھر بھی دن کو رات کہیں تو اس کا کیا کیا جائے باقی جہاں تک عوام کے پیچھے کھڑے ہونے والی بات ہے تو جس کے پیچھے بھی عوام کھڑی ہوگی اس ملک کی فوج اس کے نیچے سے زمین کھینج لے گی – یہی بہتر سال سے ہو رہا ہے -جب ایک ادارے کے چند افراد اپنے مفاد کے کھیل کھیلتے رہیں گے نہ کوئی خان بہتری لا سکتا ہے نہ نواز اور نہ کوئی اور –

    اسی لئے تو پہلے وہ میرا سینئر تھا، پھر میرا کلاس فیلو اور پھر میرے جونئیرز کا۔

    :lol:

    #44
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    فوجی تو اس مملکتِ خدا داد کے مالک ہیں بچہ دیں یا انڈہ، بات حکومت کی کارکردگی کی ہو رہی ہے باوا سائیں۔ رہے فوجی تو ان سے لڑنے کے لئے ان سیاست دانوں میں کسی کے گَٹوں میں پانی نہی ہے۔ ورنہ تو انقلابی مریم نواز یوں بار بار چپ کے روزے نہ رکھتی۔ جب بھی کسی طرح کوئی ڈیل شیل ہونے کی امید ہوتی ہے تو ٹیں ٹیں چھوڑ کر جھاڑو پوچے میں لگ جاتی ہے۔ حضرت بلیک شیپ نے خوب فرمایا تھا کہ فوج ان سب کے لئے کانسٹینٹ ہے، بلاول ہو یا عمران یا نواز اور اس کی بیٹی، یہ سب ان کا دستِ شفقت ہی تو چاہتے ہیں۔بس جس بچے کو کسی وقت کم شفقت مل رہی ہوتی ہے تو وہ اینٹ سے اینٹ بجانے کے نعرے مار کر یا دور بیٹھ کر بڑ بڑ کر کے اپنی کیفیت کا احساس دلاتے ہیں تاکہ مالکان پھر سے انہیں قابلِ شفقت سمجھ لیں۔ عوام بھی یہی چاہتے ہیں تو یہ بھی جمہوریت ہی ہوئی نا۔

    شاہد عباسی بھائی

    نہ تو میں کسی بوٹ چاٹنے والے کے کانسٹینٹ کو کانسٹینٹ مانتا ہوں اور نہ ہی کارگل میں اپنے شہیدوں کی میتیں چھوڑ کر دم دبا کر بھاگ نکلنے والے اور انہیں اپنے فوجی تسلیم کرنے سے انکار کرنے والے بزدلوں کو اس مملکت کا مالک مانتا ہوں

    میرا ایک ہی کانسٹینٹ پر ایمان ہے جو اول سے ہے اور آخر تک رہے گا اور وہی اس مملکت سمیت کل کائنات کا مالک ہے. وہ چاہے تو خود کو کانسٹینٹ سمجھنے والے ہاتھیوں کے مالکوں کو ابابیل جیسے معمولی پرندوں سے نیست و نابود کروا دے

    فوجیوں کے بوٹ چاٹنے والوں کے کانسٹینٹ اور آپکے مملکت خدا داد کے نام ان نہاد مالکوں کی اوقات بھی اتنی سی ہے کہ مشرقی پاکستان سے آ کر میاں افتخار الدین کی حویلی کے سرونٹ کوارٹرز میں ٹھہرنے والے ایک معمولی سیاسی کارکن نے ان پچانوے ہزار کانسٹینٹ کی پوری دنیا کے سامنے پتلونیں اتروا دی تھیں

    وہ چاہے تو پھر کسی سیاست دان کی حویلی کے سرونٹ کوارٹرز میں قیام پزیر کسی معمولی سیاسی کارکن کو اس کی زمین پر خدا بنے بیٹھے ان کانسٹینٹ کو ذلیل و خوار کرنے کیلیے بھیج دے

    بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

    #45
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 752
    • Posts: 8939
    • Total Posts: 9691
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    اعوان بھائی ، شاہد بھائی کی بات میں دم ہے

    میرا ایک اور سوال ہے ، اگر پاکستان امریکہ کو پاکستان میں اڈے دیتا ہے تو کیا پاکستان کے حالات اچھے نہی ہو جائیں گے ؟

    :serious:

    تجزیہ نگاروں کی باتوں پر جائیں گے ایسی باتیں ہی کریں گے۔ پاکستان میں کونسا تجزیہ نگار آزاد خیال ہے جو سچی بات کر سکے۔ یہ چینی اور آٹا نہ ہوتے ہوئے بھی ایکسپورٹ اور پھر امپورٹ کرنے کی کہانی نئی نہی ہے۔ دس سال سے چینی کو وافر نہ ہوتے ہوئے بھی وافر دکھا کر کاغذوں میں ایکسپورٹ کیا جا رہا تھا۔ ہر سال شوگر مافیا (جن کی اپنی حکومت ہوتی تھی) کہتی تھی ہمارے پاس چار ملین وافر پراڈکشن ہے۔ اور کیونکہ پراڈکشن پرائس زیادہ ہے اور ایکسپورٹ پرائس کم اس لئے حکومت سبسڈی دے۔ حکومت ۳۰ ارب تک سبسڈی دے دیتی تھی اور شوگر کی افغانستان ایکسپورٹ دکھا دی جاتی تھی۔ نہ چینی وافر ہوتی تھی نہ ایکسپورٹ ہوتی تھی، نہ فیزیکلی چینی افغانستان جاتی تھی لیکن مل مالکان ۳۰ ارب روپئہ کھا جاتے تھے۔ آپس کی بات تھی زرداری تھا شریف تھے یا ترین اور دوسرے سیاست دان۔ آپس ہی میں مک مکا ہو جاتا تھا۔ نئی حکومت کے پہلے سال بھی یہی ہوا۔ انہیں جو وافر چینی اور گندم کے اعدادو شمار بیوروکریسی(جو خود حصہ لیتے تھے) کی طرف سے دئیے گئے انہی پر انحصار کرتے ہوئے انہوں نے چار ارب سبسڈی بھی دی اور ایکسپورٹ کی اجازت بھی لیکن جیسے ہی انکوائری ہوئی، حقائق سامنے آئے تو یہ دروازہ بند کر دیا گیا اور مل مالکان کا رونا اس دن سے دیدنی ہے۔ ملکی اداروں کو کرپشن سے جس طرح شریفوں نے تباہ کیا اسی طرح چلنے دئیے جاتے تو شاید آپ بھی راضی ہوتے اور ان کرپٹ لوگوں کے ٹاؤٹ تجزیہ نگار بھی۔ نظر اور سوچ کی بات ہے سرجی۔ ایک چھ لین موٹر وے ملتان سے سکھر بنی تھی قیمت تھی ساڑھے سات ملین ڈالر فی کلومیٹر۔ ایک اب سکھر سے حیدرآباد تک چھ لین ایکنک نے منظور کر لی ہے چھ سال بعد بھی قیمت ہے سوا چار ملین ڈالر فی کلومیٹر۔ ایک ۱۰۰ میگاواٹ کا سولر پارک بھاولپور میں لگا تھا آج اس سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت ہے ۲۵ روپئیے فی یونٹ ایک ایسا ہی ۱۰۰ میگاواٹ کا پارک اب لیہ میں لگا ہے ٹیریف ہے ساڑھے چھ روپئیے۔ کچھ بجلی کے پلانٹس تب لگے تھے ٹیریف بھی دس سے ساڑھے گیارہ پینس تھا اور کیپیسٹی چارجز بھی سو فیصد پر تھے کچھ اب ایپروو ہوئے ہیں جن کا ٹیریف ہے ساڑھے چار پینس فی یونٹ اور کوئی کیپیسٹی چارجز نہی ہے۔ کچھ نئے بھی ساڑھے تین پینس پر آفر کر رہے ہیں اور یہ کلین انرجی ہے۔ سولہ سو ارب سالانہ کے کیپیسٹی چارجز دینے پڑ رہے ہیں بغیر ایک میگاواٹ بجلی استعمال کئے ہوئے۔ چھ فیصد گروتھ سالانہ بھی ہوتی تو اس بجلی کی کھپت کو آٹھ سال مزید لگتے۔ ۳۸۰۰۰ کی کیپیسٹی ہے جبکہ گرمیوں میں ۲۳۰۰۰ اور سردیوں میں نو ہزار میگاواٹ کی ڈیمانڈ ہے۔ سولہ سو ارب سالانہ کا یہ ٹھیپا اس فوجی بجٹ سے بھی زیادہ ہے جسے ہم ہر سال روتے ہیں۔ اب مہنگی بجلی لے کر لوگوں کو سستی بیچتے رہو، سرکلر ڈیٹ بڑھاتے رہو اور ۳۸۰۰۰ تک میگاواٹ بڑھانے کے کیپیسٹی چارجز دیتے رہو۔ لیکن سمجھنا مت کہ کچھ اشوز اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ایک دھائی تک قوم لٹ جاتی ہے اور کچھ کاسمیٹک اشوز ہوتے ہیں کہ فلاں ڈی سی کو اتار کے فلاں دوسرے کو کیوں لگا دیا۔ . باقی باتیں بغیر کسی ثبوت جتنی مرضی کرتے جاؤ۔ بڑے مقاصد اور اشوز کو آف سیٹ کرنے کو چھوٹی چھوٹی نقطہ چینیاں، پاپولر اپوزیشن سٹینس، یا نعروں کو مروموٹ کرنا سب کی طرح آپ کا بھی حق ہے۔ ہر حکومت سے چھوٹی چھوٹی غلطیاں بھی ہوتی ہیں، سب کی طرح بوٹ پالش کرنا اور اصل داتاؤں کو خوش رکھنا بھی آج کل ہر حکومت کی مجبوری ہے چاہے وہ دو تہائی اکثریت سے آئے یا مانگے کی اکثریت سے۔ جتنی مظبوط مینڈیٹ والی حکومت ہو گی اتنا زیادہ رززسٹ کر سکے گی اور جتنی کم اکثریت والی ہو گی تو داتاؤں کا اثر زیادہ ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اسے بدلنے کے لئے عمران زرداری یا شریف نہی بلکہ ایک الگ سے بندہ چاہئیے جس کے پیچھے اس مقصد کے لئے عوام بھی کھڑی ہو۔
    #46
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد عباسی بھائی نہ تو میں کسی بوٹ چاٹنے والے کے کانسٹینٹ کو کانسٹینٹ مانتا ہوں اور نہ ہی کارگل میں اپنے شہیدوں کی میتیں چھوڑ کر دم دبا کر بھاگ نکلنے والے اور انہیں اپنے فوجی تسلیم کرنے سے انکار کرنے والے بزدلوں کو اس مملکت کا مالک مانتا ہوں میرا ایک ہی کانسٹینٹ پر ایمان ہے جو اول سے ہے اور آخر تک رہے گا اور وہی اس مملکت سمیت کل کائنات کا مالک ہے. وہ چاہے تو خود کو کانسٹینٹ سمجھنے والے ہاتھیوں کے مالکوں کو ابابیل جیسے معمولی پرندوں سے نیست و نابود کروا دے فوجیوں کے بوٹ چاٹنے والوں کے کانسٹینٹ اور آپکے مملکت خدا داد کے نام ان نہاد مالکوں کی اوقات بھی اتنی سی ہے کہ مشرقی پاکستان سے آ کر میاں افتخار الدین کی حویلی کے سرونٹ کوارٹرز میں ٹھہرنے والے ایک معمولی سیاسی کارکن نے ان پچانوے ہزار کانسٹینٹ کی پوری دنیا کے سامنے پتلونیں اتروا دی تھیں وہ چاہے تو پھر کسی سیاست دان کی حویلی کے سرونٹ کوارٹرز میں قیام پزیر کسی معمولی سیاسی کارکن کو اس کی زمین پر خدا بنے بیٹھے ان کانسٹینٹ کو ذلیل و خوار کرنے کیلیے بھیج دے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

    باواجی جس کانسٹینٹ کی بات آپ کر رہے ہیں وہ اول و آخر کانسٹینٹ ہے۔ جس پر میرا بھی ایمان ہے اور آُپ کا بھی ۔
    آپ نے سیاسی بات کو اوریا مقبول جان کی طرح مذہبی رنگ دے کر گل ای مکا دِتی۔
    ہمارے (بلیک شیپ صاحب کے اور جس سے میں بھی متفق ہوں) کانسٹینٹ محدود مدت کے ہیں۔ جیسے یہ کہہ دیا جائے کی فی الحال یہ ایسا ہی رہے گا لیکن آٹھ دس یا پندرہ سال بعد کیا کوئی اچھے کی صورت نکلتی ہے تو اس بارے کچھ نہی کہا جا سکتا۔ اس کی مثال آپ ہی کے الفاظ سے دی جا سکتی ہے کہ آپ کے درج ذیل الفاظ مجھے یاد ہیں
    ۔
    ’اس ملک میں ملک ریاض کانسٹینٹ ہے اور پلاٹ کی طاقت بندوق ترازو اور قلم کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔‘
    ۔
    بلکل اسی طرح آپ اور ہم مانیں یا نہ مانیں، پسند کریں یا نہ کریں، لیکن نواز مریم شہباز عمران اور زرداری کے ہوتے ہوئے بوٹ کی طاقت ترازو قلم اور ووٹ سے کہیں زیادہ ہے اور کسی امام مہدی کے آنے تک ایسی ہی رہنے کا امکان ہے

    #47
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    اعوان بھائی ، شاہد بھائی کی بات میں دم ہے میرا ایک اور سوال ہے ، اگر پاکستان امریکہ کو پاکستان میں اڈے دیتا ہے تو کیا پاکستان کے حالات اچھے نہی ہو جائیں گے ؟ :serious:

    لاری اڈہ کہیں تو وہ بھی نہی دینا چاہیئے جہازوں والا اڈا تو دور کی بات۔
    کیا پہلے دس پندرہ سال اڈے دے کر حالات اچھے تھے جو اب اچھے ہو جائیں گے؟ اور چین روس اور طالبان سے پنگا الگ سے۔

    #48
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    باواجی جس کانسٹینٹ کی بات آپ کر رہے ہیں وہ اول و آخر کانسٹینٹ ہے۔ جس پر میرا بھی ایمان ہے اور آُپ کا بھی ۔ آپ نے سیاسی بات کو اوریا مقبول جان کی طرح مذہبی رنگ دے کر گل ای مکا دِتی۔ ہمارے (بلیک شیپ صاحب کے اور جس سے میں بھی متفق ہوں) کانسٹینٹ محدود مدت کے ہیں۔ جیسے یہ کہہ دیا جائے کی فی الحال یہ ایسا ہی رہے گا لیکن آٹھ دس یا پندرہ سال بعد کیا کوئی اچھے کی صورت نکلتی ہے تو اس بارے کچھ نہی کہا جا سکتا۔ اس کی مثال آپ ہی کے الفاظ سے دی جا سکتی ہے کہ آپ کے درج ذیل الفاظ مجھے یاد ہیں ۔ ’اس ملک میں ملک ریاض کانسٹینٹ ہے اور پلاٹ کی طاقت بندوق ترازو اور قلم کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔‘ ۔ بلکل اسی طرح آپ اور ہم مانیں یا نہ مانیں، پسند کریں یا نہ کریں، لیکن نواز مریم شہباز عمران اور زرداری کے ہوتے ہوئے بوٹ کی طاقت ترازو قلم اور ووٹ سے کہیں زیادہ ہے اور کسی امام مہدی کے آنے تک ایسی ہی رہنے کا امکان ہے

    شاہد عباسی بھائی

    ہمارے (بلیک شیپ صاحب کے اور جس سے میں بھی متفق ہوں) کانسٹینٹ محدود مدت کے ہیں

    آپکا یہ جملہ پڑھکر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ہے

    کسی محفل میں ایک مراثی انتہائی بے سرا گا رہا تھا. اس کا بے سرا گانا ایک شخص برداشت نہ کر سکا اور ہاتھ میں جوتا پکڑ کر محفل میں کھڑا ہوگیا. مراثی اپنے سامنے اس شخص کو غصے میں جوتا ہاتھ میں پکڑے دیکھکر گھبرا گیا. وہ شخص گھبرائے ہوئے مراثی کو مخاطب کرکے بولا

    سوہنیا توں بے فکر ہو کے گاندا رہ، میں تو یہاں تجھے لانے والے کو ڈھونڈ رہا ہوں

    آپکے اس اوپر والے جملے پر میں یہی کہہ سکتا ہوں

    سوہنیا، توں بے فکر ہو کے کانسٹینٹ نوں محدود کہندا رہ، میں تے تیرے میتھ دے ٹیچر نوں لبھدا واں

    :bigsmile:

    جو وقت کے ساتھ بدل جائے وہ کانسٹینٹ نہیں ویری ایبل ہوتا ہے. آپکے یہ کانسٹینٹ فوجی بھی ویری ایبل ہیں اور یہ بات بنگالی پچانوے ہزار کی پتلونیں اتروا کر اور ان سے اپنا ملک خالی کروا کرثابت کر چکے ہیں

    #49
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 16
    • Posts: 2748
    • Total Posts: 2764
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    باواجی جس کانسٹینٹ کی بات آپ کر رہے ہیں وہ اول و آخر کانسٹینٹ ہے۔ جس پر میرا بھی ایمان ہے اور آُپ کا بھی ۔ آپ نے سیاسی بات کو اوریا مقبول جان کی طرح مذہبی رنگ دے کر گل ای مکا دِتی۔ ہمارے (بلیک شیپ صاحب کے اور جس سے میں بھی متفق ہوں) کانسٹینٹ محدود مدت کے ہیں۔ جیسے یہ کہہ دیا جائے کی فی الحال یہ ایسا ہی رہے گا لیکن آٹھ دس یا پندرہ سال بعد کیا کوئی اچھے کی صورت نکلتی ہے تو اس بارے کچھ نہی کہا جا سکتا۔ اس کی مثال آپ ہی کے الفاظ سے دی جا سکتی ہے کہ آپ کے درج ذیل الفاظ مجھے یاد ہیں ۔ ’اس ملک میں ملک ریاض کانسٹینٹ ہے اور پلاٹ کی طاقت بندوق ترازو اور قلم کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔‘ ۔ بلکل اسی طرح آپ اور ہم مانیں یا نہ مانیں، پسند کریں یا نہ کریں، لیکن نواز مریم شہباز عمران اور زرداری کے ہوتے ہوئے بوٹ کی طاقت ترازو قلم اور ووٹ سے کہیں زیادہ ہے اور کسی امام مہدی کے آنے تک ایسی ہی رہنے کا امکان ہے

    شاہد صاحب۔۔۔۔۔

    آپ کی اِس پوسٹ کے جواب پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ

    ہمارا(یعنی جمہوری عزاداروں) کا کونسٹینٹ(یعنی ملک ریاض) کونسٹینٹ ہے لیکن تمہارا(بلیک شیپ اور شاہد صاحب) کونسٹینٹ، کونسٹینٹ نہیں ویری ایبل ہے۔۔۔۔۔

    ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔

    عزاداروں کی اِنہی دو نمبریوں کی وجہ سے ہی اِن کی کہیں بھی کوئی عزت نہیں ہے۔۔۔۔۔ نہ ہی فورم پر، نہ ہی انکے گھر پر۔۔۔۔۔ بلکہ ہر جگہ پر۔۔۔۔۔

    :cwl: :facepalm: :cwl: ™©

    #50
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد عباسی بھائی ہمارے (بلیک شیپ صاحب کے اور جس سے میں بھی متفق ہوں) کانسٹینٹ محدود مدت کے ہیں آپکا یہ جملہ پڑھکر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ہے کسی محفل میں ایک مراثی انتہائی بے سرا گا رہا تھا. اس کا بے سرا گانا ایک شخص برداشت نہ کر سکا اور ہاتھ میں جوتا پکڑ کر محفل میں کھڑا ہوگیا. مراثی اپنے سامنے اس شخص کو غصے میں جوتا ہاتھ میں پکڑے دیکھکر گھبرا گیا. وہ شخص گھبرائے ہوئے مراثی کو مخاطب کرکے بولا سوہنیا توں بے فکر ہو کے گاندا رہ، میں تو یہاں تجھے لانے والے کو ڈھونڈ رہا ہوں آپکے اس اوپر والے جملے پر میں یہی کہہ سکتا ہوں سوہنیا، توں بے فکر ہو کے کانسٹینٹ نوں محدود کہندا رہ، میں تے تیرے میتھ دے ٹیچر نوں لبھدا واں :bigsmile: جو وقت کے ساتھ بدل جائے وہ کانسٹینٹ نہیں ویری ایبل ہوتا ہے. آپکے یہ کانسٹینٹ فوجی بھی ویری ایبل ہیں اور یہ بات بنگالی پچانوے ہزار کی پتلونیں اتروا کر اور ان سے اپنا ملک خالی کروا کرثابت کر چکے ہیں
    شاہد صاحب۔۔۔۔۔ آپ کی اِس پوسٹ کے جواب پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا(یعنی جمہوری عزاداروں) کا کونسٹینٹ(یعنی ملک ریاض) کونسٹینٹ ہے لیکن تمہارا(بلیک شیپ اور شاہد صاحب) کونسٹینٹ، کونسٹینٹ نہیں ویری ایبل ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ عزاداروں کی اِنہی دو نمبریوں کی وجہ سے ہی اِن کی کہیں بھی کوئی عزت نہیں ہے۔۔۔۔۔ نہ ہی فورم پر، نہ ہی انکے گھر پر۔۔۔۔۔ بلکہ ہر جگہ پر۔۔۔۔۔ :cwl: :facepalm: :cwl: ™©

    یار بلیک شیپ کہاں سے ٹپک پڑے ہو۔ یہاں کوئی لاجک کی باتیں تھوڑی ہو رہی ہیں جو آپ لاجک یاد کرانے آ گئے ہو۔
    یہ تو اچھی خاصی بنی بنائی کھیر میں لیموں کا ست ڈالنے والی بات ہے :lol: ۔
    باواجی جگر اور یار ہیں بلکہ فورم کی جان ہیں اس لئے انہیں پوری اجازت ہے کہ کسے کانسٹینٹ مانیں، نہ مانیں یا چاہیں تو ملک ریاض کا کانسٹینٹ کنایہ اور استعارہ میں لیں لیکن آپ والے کو میتھیمیٹیکل کانسٹینٹ گردانیں۔
    ویسے بھی آپ نے بھی کونسا آئینسٹائن کی طرح سائنسی کانسٹینٹ کا کوئی کلیہ پیش کیا ہے جس کا دفاع ہم پر لازم ہے۔ باواجی کو پوری آزادی ہونی چاہئیے کہ پاکستان جائیں اور اسٹیبلشمنٹ کے انفلوئنس کو ویری ایبل بنانے اور ووٹ کو عزت دلانے کی جدوجہد میں شہباز شریف کے ساتھ مل کر بھر پور حصہ لیں بلکہ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنہ دیں۔
    ۔ :bigsmile: :bigsmile:
    ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ فیزیکل کانسٹینٹ بھی کسی پری ٹیکسٹ اور ایزمپشنز کے ہوتے ہوئے ہی کانسٹینٹ ہوتے ہیں ورنہ تو وہ بھی سپیس اور ٹائم میں بدل سکتے ہیں۔

    • This reply was modified 1 month, 3 weeks ago by shahidabassi.
    #51
    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 47
    • Posts: 2209
    • Total Posts: 2256
    • Join Date:
      2 Mar, 2017
    • Location: Kala Shah kaku

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    STICK TO THE TOPIC

    #52
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 752
    • Posts: 8939
    • Total Posts: 9691
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد بھائی – کون سا عوام سے پوچھ کر اڈے دینے ہیں یا سیاسی قوتوں نے اس کا فیصلہ کرنا ہے

    باقی آپ کی باتیں سننے میں تو اچھی لگتی ہیں مگر آپ ہمیشہ عمران خان کی حکومت کو کلین چٹ پکڑا دیتے ہیں ، اگر تین سال بعد بھی قصور پچھلوں پر ڈالنا ہے تو
    پھر تو الله ہی حافظ ہے

    I must say, maybe I am wrong, I feel like most of the answers are according to your subjective feelings

    لاری اڈہ کہیں تو وہ بھی نہی دینا چاہیئے جہازوں والا اڈا تو دور کی بات۔ کیا پہلے دس پندرہ سال اڈے دے کر حالات اچھے تھے جو اب اچھے ہو جائیں گے؟ اور چین روس اور طالبان سے پنگا الگ سے۔
    #53
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 752
    • Posts: 8939
    • Total Posts: 9691
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    Bawa

    BlackSheep

    آپ لوگوں سے گزارش ہے اپنے میٹریل میں تھوڑا جان ڈالیں ، ابھی تک ایک ہی تکرار پکڑی ہوئی ہے

    باوا جی – آپ اکہتر والی پتلون اتروائی سے باہر نکلیں

    بلیک شیپ – آپ کا میٹریل بھی یک سمتی ہے

    دونوں کی پوسٹس پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسےاپنی ہی پرانی پوسٹ سے ہی کاپی پیسٹ کیا ہے

    #54
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    Bawa BlackSheep آپ لوگوں سے گزارش ہے اپنے میٹریل میں تھوڑا جان ڈالیں ، ابھی تک ایک ہی تکرار پکڑی ہوئی ہے باوا جی – آپ اکہتر والی پتلون اتروائی سے باہر نکلیں بلیک شیپ – آپ کا میٹریل بھی یک سمتی ہے دونوں کی پوسٹس پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسےاپنی ہی پرانی پوسٹ سے ہی کاپی پیسٹ کیا ہے

    شامی بھیا

    میں تو ڈھاکہ کے نیشنل میوزیم کو مستقل تالا لگانے کو تیار ہوں جہاں بنگالیوں نے پچانوے ہزار بزدلوں کی پتلونیں اتروا کر لٹکا رکھی ہیں

    :sorry: :sorry:

    آپ ان بزدلوں کے بوٹ چاٹنے والوں اور انہیں مملکت خداد داد کے مالک قرار دینے والوں سے بھی کہیں کہ انہیں کانسٹینٹ قرار دینے سے پہلے انکی اتری ہوئی پچانوے ہزار پتلونوں پر بھی ایک نظر ڈال لیا کریں

    :hilar: :hilar: :hilar:

    #55
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    یار بلیک شیپ کہاں سے ٹپک پڑے ہو۔ یہاں کوئی لاجک کی باتیں تھوڑی ہو رہی ہیں جو آپ لاجک یاد کرانے آ گئے ہو۔ یہ تو اچھی خاصی بنی بنائی کھیر میں لیموں کا ست ڈالنے والی بات ہے :lol: ۔ باواجی جگر اور یار ہیں بلکہ فورم کی جان ہیں اس لئے انہیں پوری اجازت ہے کہ کسے کانسٹینٹ مانیں، نہ مانیں یا چاہیں تو ملک ریاض کا کانسٹینٹ کنایہ اور استعارہ میں لیں لیکن آپ والے کو میتھیمیٹیکل کانسٹینٹ گردانیں۔ ویسے بھی آپ نے بھی کونسا آئینسٹائن کی طرح سائنسی کانسٹینٹ کا کوئی کلیہ پیش کیا ہے جس کا دفاع ہم پر لازم ہے۔ باواجی کو پوری آزادی ہونی چاہئیے کہ پاکستان جائیں اور اسٹیبلشمنٹ کے انفلوئنس کو ویری ایبل بنانے اور ووٹ کو عزت دلانے کی جدوجہد میں شہباز شریف کے ساتھ مل کر بھر پور حصہ لیں بلکہ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنہ دیں۔ ۔ :bigsmile: :bigsmile: ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ فیزیکل کانسٹینٹ بھی کسی پری ٹیکسٹ اور ایزمپشنز کے ہوتے ہوئے ہی کانسٹینٹ ہوتے ہیں ورنہ تو وہ بھی سپیس اور ٹائم میں بدل سکتے ہیں۔

    شاید عباسی بھائی

    وہ آپ سے پوچھنا تھا کہ بیوی سے پشت پر گولیاں کھا کر غازی کہلانے والے بہادر جرنیل کانسٹینٹ کی کونسی کیٹیگری میں آتے ہیں؟

    :bigsmile: :lol: :hilar:

    #56
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاید عباسی بھائی وہ آپ سے پوچھنا تھا کہ بیوی سے پشت پر گولیاں کھا کر غازی کہلانے والے بہادر جرنیل کانسٹینٹ کی کونسی کیٹیگری میں آتے ہیں؟ :bigsmile: :lol: :hilar:

    سوال یہ ہے کہ اپنی بیوی سے کھائی ہے یا گوانڈی کی بیوی سے
    اگر تو اپنی سے کھائی ہے یعنی بیوی بھی اپنی پستول بھی اپنی گولی بھی اپنی اور پچھاڑی بھی۔ تو کانسٹینٹ اے پلس
    اور اگر گوانڈی کی بیوی سے کھائی ہے تو کانسٹینٹ سی مائنس

    :lol: :lol:

    • This reply was modified 1 month, 3 weeks ago by shahidabassi.
    #57
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد بھائی – کون سا عوام سے پوچھ کر اڈے دینے ہیں یا سیاسی قوتوں نے اس کا فیصلہ کرنا ہے باقی آپ کی باتیں سننے میں تو اچھی لگتی ہیں مگر آپ ہمیشہ عمران خان کی حکومت کو کلین چٹ پکڑا دیتے ہیں ، اگر تین سال بعد بھی قصور پچھلوں پر ڈالنا ہے تو پھر تو الله ہی حافظ ہے I must say, maybe I am wrong, I feel like most of the answers are according to your subjective feelings

    دوسرے معاملات میں میرے تجزئیے سطحی یا سبجیکٹو ہو سکتے ہیں۔ لیکن معیشت میرا مضمون ہے اس بارے سیاسی جانبداری نہی کرتا۔ معیشت پر مجھے ن لیگ کے پہلے تین سال پسند ہیں اور آخری دو سالوں کو قابلِ سزا سمجھتا ہوں۔ اور مجھے یہ ڈر ہے کہ ترین ہمیں پھر اس طرف نہ لے جائے۔ اور عمران حکومت پر بھی گروتھ دکھانے کا پریشر ہے۔
    مصر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ٹھیک کرنے نکلا تو چھ سال تک انفلیشن ۱۲ فیصد سے اوپر رہا اور معیشت ٹھنڈی۔
    یونان کو تو دس سال ہو گئے ہیں۔ حالنکہ انہیں تو یورپین یونین نے بیسیوں ارب یورو بھی دئیے۔

    زرداری کو آٹھ بلین کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا تو انفلیشن تین سال بیس فیصد رہا۔

    .
    میں کوئی عمران کو کلین چِٹ نہی دیتا۔ معیشت کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں تنقید کے لئے۔ لیکن معیشت صحیح سمت ہے اور کھوں سے کھوتا چھ یا دس سال کی بجائے اڑھائی سال میں ہی نکال لیا ہے اور اب یہ دوڑے گا۔ ٹیک مائی ورڈ۔
    دوسرا اگر تو آپ سیاسی نعرہ بازی کی بجائے لاجک سے بات کریں اور ایک منٹ کے لئے نواز عمران کو بھول جائیں تو بتائیں جو دوگنے ٹیرف پر معائدے ہوئے اور سو فیصد کیپیسٹی چارجز کے معائدے ہوئے اور جن کی وجہ سے اگلے سال سے سالانہ آپ آرمی جیسے ہاتھی کے بجٹ سے بھی زیادہ پیسہ یعنی سولہ سو ارب آئی پی پیز کو دیں گے وہ ایک دو تین سال کا مسئلہ ہے یا اگلے کئی سالوں کا؟

    .
    موٹر وے بنائی ساڑھے سات ارب فی کلو میٹر لیکن وہی اب ایکنک سے پاس ہوگئی سوا یا ساڑھے چار ملین پر۔ لازما پیسہ رج کے کھایا گیا لیکن اس مسئلے کا لانگ ٹرم ایمپیکٹ نہی ہے زیادہ۔ لیکن اس کے مقابل اوپر آئی پی پیز کی مثال لیں تو اگلے سات آٹھ سال امپیکٹ رہے گا اور چار ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرنے والی قوم کے لئے سولہ سو ارب سالانہ کا خرچ کوئی ایسا امپیکٹ نہی چھوڑتے کہ تین سال بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائے۔ یہ صرف مثالیں ہیں لیکن اور بہت کچھ ہے جو اپنے بڑے میاں صاحب جاتے جاتے تحفہ دے گئے ہیں جیسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سدھارنے کا امپیکٹ کم ازکم پانچ سال رہتا ہے میرے بھائی۔

    .

    If you think, my analysis is subjective, I challenge anyone to take a serious discussion with me on all economic variables with facts, figures and without any political affiliation. On the political side, I strongly believe that Imran Khan has little to do with these policies. He probably doesn’t even understand anything about economics. So it has very little politics in it. Whoever stood behind it, has done a good job. Hafeez Sheikh, Tareen, Asad are just some faces to it and surely do contribute, but there is a team of 10-12 senior economists that analyses, plans, and recommend the policies. Strange, if you can’t see a difference between import-driven growth (Nawaz) and one which intends to be export-oriented. MLN increased the import bill (CAD -20bn) to get the growth and the present government is moving towards growth without doing that (CAD +800 mn).

    Lastly, just ask yourself that if MLN policies were so good then why would the forex reserves fall from 24bn in 2015 to just 9bn in 2018, and had they stayed in power how would have they financed 20 billion CAD, 11 billion in installment and 6 billion a year to keep the rupee strong (With only 2 billion (net) with the SBP). Why would the stock exchange index fall from 52000 in 2016 to 40000 in 2018? And why all economic and financial ratings would fall while they still were in power.

    • This reply was modified 1 month, 2 weeks ago by shahidabassi.
    #58
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    سوال یہ ہے کہ اپنی بیوی سے کھائی ہے یا گوانڈی کی بیوی سے اگر تو اپنی سے کھائی ہے یعنی بیوی بھی اپنی پستول بھی اپنی گولی بھی اپنی اور پچھاڑی بھی۔ تو کانسٹینٹ اے پلس اور اگر گوانڈی کی بیوی سے کھائی ہے تو کانسٹینٹ سی مائنس :lol: :lol:

    شاہد عباسی بھیا

    پھیر میں کانسٹینٹ اے پلس نوں اگلا چیف ای سمجھاں

    :bigsmile:

    ویسے میں آپکے کانسٹینٹ کی مستقل مزاجی کا قائل ہوگیا ہوں

    پہلے ہتھیار ڈال کر بنگالیوں سے پشت پر ٹھڈے کھائے، پھر کارگل سے بھاگتے ہوئے دشمن کی توپوں کے گولے پشت پر برداشت کیے اور اب گھر میں بیوی سے پشت پر گولیاں کھانے کا اعزاز حاصل کیا

    سلام ہے آپکے کانسٹینٹ کی جوانمردی کو

    :lol: :hilar:

    #59
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 752
    • Posts: 8939
    • Total Posts: 9691
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد بھائی – آپ نمبروں کی گیم کھیلتے ہیں ، چلیں مان لیا آپ کے نمبرز درست ہیں ، کیا حکومت کی سمت دوسرے معاملات میں درست جانب ہے ؟ بجلی ، آٹے ، چینی کا بحران ہو ، الزام پچھلی حکومتوں پر ڈال دو ؟

    کیا کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری ، کرونا کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ بھی ہے ؟

    جس سمت میں ہم ابھی بڑھ رہے ہیں کیا اگلے پانچ سال میں ہمارے اندرونی اور بیرونی قرضے ڈبل نہی ہو جائیں گے ؟

    teach me and educate me……!!!!

    دوسرے معاملات میں میرے تجزئیے سطحی یا سبجیکٹو ہو سکتے ہیں۔ لیکن معیشت میرا مضمون ہے اس بارے سیاسی جانبداری نہی کرتا۔ معیشت پر مجھے ن لیگ کے پہلے تین سال پسند ہیں اور آخری دو سالوں کو قابلِ سزا سمجھتا ہوں۔ اور مجھے یہ ڈر ہے کہ ترین ہمیں پھر اس طرف نہ لے جائے۔ اور عمران حکومت پر بھی گروتھ دکھانے کا پریشر ہے۔ مصر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ٹھیک کرنے نکلا تو چھ سال تک انفلیشن ۱۲ فیصد سے اوپر رہا اور معیشت ٹھنڈی۔ یونان کو تو دس سال ہو گئے ہیں۔ حالنکہ انہیں تو یورپین یونین نے بیسیوں ارب یورو بھی دئیے۔ زرداری کو آٹھ بلین کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا تو انفلیشن تین سال بیس فیصد رہا۔ . میں کوئی عمران کو کلین چِٹ نہی دیتا۔ معیشت کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں تنقید کے لئے۔ لیکن معیشت صحیح سمت ہے اور کھوں سے کھوتا چھ یا دس سال کی بجائے اڑھائی سال میں ہی نکال لیا ہے اور اب یہ دوڑے گا۔ ٹیک مائی ورڈ۔ دوسرا اگر تو آپ سیاسی نعرہ بازی کی بجائے لاجک سے بات کریں اور ایک منٹ کے لئے نواز عمران کو بھول جائیں تو بتائیں جو دوگنے ٹیرف پر معائدے ہوئے اور سو فیصد کیپیسٹی چارجز کے معائدے ہوئے اور جن کی وجہ سے اگلے سال سے سالانہ آپ آرمی جیسے ہاتھی کے بجٹ سے بھی زیادہ پیسہ یعنی سولہ سو ارب آئی پی پیز کو دیں گے وہ ایک دو تین سال کا مسئلہ ہے یا اگلے کئی سالوں کا؟ . موٹر وے بنائی ساڑھے سات ارب فی کلو میٹر لیکن وہی اب ایکنک سے پاس ہوگئی سوا یا ساڑھے چار ملین پر۔ لازما پیسہ رج کے کھایا گیا لیکن اس مسئلے کا لانگ ٹرم ایمپیکٹ نہی ہے زیادہ۔ لیکن اس کے مقابل اوپر آئی پی پیز کی مثال لیں تو اگلے سات آٹھ سال امپیکٹ رہے گا اور چار ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرنے والی قوم کے لئے سولہ سو ارب سالانہ کا خرچ کوئی ایسا امپیکٹ نہی چھوڑتے کہ تین سال بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائے۔ یہ صرف مثالیں ہیں لیکن اور بہت کچھ ہے جو اپنے بڑے میاں صاحب جاتے جاتے تحفہ دے گئے ہیں جیسے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سدھارنے کا امپیکٹ کم ازکم پانچ سال رہتا ہے میرے بھائی۔ .

    If you think, my analysis is subjective, I challenge anyone to take a serious discussion with me on all economic variables with facts, figures and without any political affiliation. On the political side, I strongly believe that Imran Khan has little to do with these policies. He probably doesn’t even understand anything about economics. So it has very little politics in it. Whoever stood behind it, has done a good job. Hafeez Sheikh, Tareen, Asad are just some faces to it and surely do contribute, but there is a team of 10-12 senior economists that analyses, plans, and recommend the policies. Strange, if you can’t see a difference between import-driven growth (Nawaz) and one which intends to be export-oriented. MLN increased the import bill (CAD -20bn) to get the growth and the present government is moving towards growth without doing that (CAD +800 mn).

    Lastly, just ask yourself that if MLN policies were so good then why would the forex reserves fall from 24bn in 2015 to just 9bn in 2018, and had they stayed in power how would they have financed 20 billion CAD, 11 billion in installment and 6 billion a year to keep the rupee strong (With only 2 billion with the SBP). Why would the stock exchange index fall from 52000 in 2016 to 40000 in 2018? And why all economic and financial ratings would fall while they still were in power.

    #60
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 33
    • Posts: 7325
    • Total Posts: 7358
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: کھیل تبدیل ہوا چاہتا ہے

    شاہد بھائی – آپ نمبروں کی گیم کھیلتے ہیں ، چلیں مان لیا آپ کے نمبرز درست ہیں ، کیا حکومت کی سمت دوسرے معاملات میں درست جانب ہے ؟ بجلی ، آٹے ، چینی کا بحران ہو ، الزام پچھلی حکومتوں پر ڈال دو ؟ کیا کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری ، کرونا کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں چھوٹ بھی ہے ؟ جس سمت میں ہم ابھی بڑھ رہے ہیں کیا اگلے پانچ سال میں ہمارے اندرونی اور بیرونی قرضے ڈبل نہی ہو جائیں گے ؟ teach me and educate me……!!!!

    دوسرا سوال کیونکہ آسان ہے تو اس کا جواب پہلے۔
    قرضے، قسطوں کی ادائیگیاں، قرضوں کی معافی یا نئے اور مزید قرضے، یہ سب کچھ کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ نہی ہوتے۔ ہمارے اگر سارے قرض معاف ہو جائیں تب بھی کرنٹ اکاؤنٹ وہی رہے گا۔ دوسرا یہ کہ کووڈ کی وجہ سے پاکستان کا کوئی قرض معاف نہی ہوا۔ ہماری تقریبا ایک بلین ڈالر کی قسطیں ڈیفر ہوئی ہیں یعنی وہی ادائیگی اب اگلے سال کی قسط میں جمع کر کے ہو گی۔ یہ سہولت ہمیں جی ۲۰ نے دی ہے۔ اسی طرح ہمیں کچھ چھوٹی موٹی گرانٹس اور چھوٹے نئے قرضے اسی ضمن میں ملے ہیں لیکن اس سب کا کرنٹ اکاؤنٹ کے ساتھ کوئی لینا دینا نہی ہے۔

    قرضوں بارے یہ کہ ترقی پذیر ممالک کے قرض بڑھتے ہی ہیں کم نہی ہوتے۔ بیرونی محاذ پر اس کی بڑی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ اور اندرونی محاذ پر ٹیکس کم اکٹھا ہونا ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں اتنے بزنسز ہوتے ہی نہی کہ اتنا ٹیکس اکٹھا ہو سکے جو کارِ مملکت کے چلانے کے لئے کافی ہو۔ کسی بھی حکومت کا اصل امتحان یہی ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم سے کم رکھے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرے تاکہ قرضے بڑھنے کی رفتار بھی کم ہی رہے۔
    جب ایک اکانومی ترقی کرتی ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ ہمیشہ خسارے میں جاتا ہے لیکن اصل مسئلہ خسارے کا نہی بلکہ خسارے کے سائز کا ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لئے سالانہ سات سے آٹھ ارب ڈالر کا خسارہ صحت مند اکانومی کی نشانی ہے لیکن اگر خسارہ اس سے بڑھے گا تو اسے سنبھالنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ کمائے گئے ڈالروں کی دونوں طرف ترسیل میں فرق کو کہتے ہیں اور جب آپ نے ڈالر دینے زیادہ ہوں اور آتے کم ہوں تو فرق کو قرض لے کر ہی پورا کریں گے۔ اسی لئے موجودہ حکومت کے پہلے ڈیڑھ دوسال میں بیرونی اور اندرونی قرض بہت تیزی سے بڑھا کیونکہ ابھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہی تھا اور اسے پورا کرنے کے لئے قرض لیا جا رہا ہے۔ ریزروز بھی نہی تھے تو انہیں بھی بھرنا تھا۔ پھر کرنٹ اکاؤنٹ کو کنٹرول کرنے کے لئے شرح سود بڑھایا گیا تاکہ لوگ پیسے کم خرچ کریں تو اس سے گورنمنٹ جو مقامی قرضوں پر سود دیتی ہے وہ سود کا بل بھی ایک ہزار ارب روپئیے بڑھ گیا۔ کووڈ بھی ساتھ آ گیا جس پر ۲۰۰۰ ارب کا پیکج دیا گیا جبکہ کووڈ کی وجہ سے منافعے کم ہوئے تو ٹیکس کالیکشن بھی کم ہوئی۔ اس کے علاوہ پچھلی حکومت اور موجودہ حکومت کی ایک پالیسی بھی آڑے آئی کہ ن لیگ کی حکومت نوٹ چھاپ کر گزارا کر لیتی تھی لیکن موجودہ حکومت نے پہلے دن سے نوٹ نہ چھاپنے کا قصد کیا تاکہ اکانومی کی بیس سٹرانگ ہو سکے۔ تو ان سب عوامل کی وجہ سے قرضے زیادہ لینے پڑے۔ لیکن اب ہم ان حالات سے نکل آئے ہیں یہ سارے مسائل ڈالر کو باندھے رکھنے اور کرنٹ اکاؤنٹ کی وجہ سے تھے جن پر اب قابو پا لیا گیا ہے اور اب قرض کم رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔
    ۔
    ایک اور بات ، کہ حکومت کے پاس سات ہزار ارب کا ریونیو اکٹھا ہوتا ہے جس میں سے آئینی طور پر چار ہزار ارب صوبوں کو چلا جاتا ہے۔ باقی ماندہ تین ہزار ارب میں سے پندرہ سو ارب فوج اور پندرہ سو ارب سود پر چلا جاتا ہے۔ یعنی باقی اخراجات، ڈویلپمنٹ فنڈ، کیپیسٹی چارجز، تنخواہ، صحت، تعلیم اور سینکڑوں دوسری مدوں کے لئے صفر رقم ہوتی ہے۔ اور یہ سب ہمیشہ ہی سے قرض سے پورے ہوتے ہیں۔ تاریخ میں شاید پہلی دفعہ مرکزی حکومت کا پرائمری بیلنس ہے۔ یعنی اگر سود اور قسط نہ دینی ہو تو ہمیں ایک روپئیے قرض کی بھی ضرورت نہی۔

    ۔
    قرضوں بارے آپ کے سوال اور کسی طرف بڑھنے کی سمت پر آپ کے سوال پر سوال ہے کہ اگر ن لیگ کی سمت چلتی رہتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ۲۰ سے ۳۰ ارب ہو چکا ہوتا تو قرض کے بڑھنے کی رفتار کیا ہوتی؟ پچھلی دفعہ تو انہیں ۲۰۱۳ میں اڑھائی ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا تھا اور امپورٹ کے مساوی سات ہزار ارب کے نوٹ بھی چھاپ لئے تھے لیکن اب اگر ان کی سمت اور ان کی حکومت ہوتی تو قرض کے نمبرز کیا ہوتے اور کیا ہم دیوالیے سے بچ جاتے کہ سالانہ قسط ہی ۲۵ ارب ڈالر تک پہنچ جاتی۔
    ۔
    چینی آٹا اور عام مہنگائی۔
    اگر کسی سال پیاز کم پیدا ہو تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے اسے سپلائی ڈیمانڈ کا میکینزم کہتے ہیں۔ اب اگر مارکیٹ میں موجود ساری اشیاء کے مجموعے میں سے ایک چوتھائی اشیاء غائب ہی کردی جائیں تو کیا قیمتیں بڑھیں گیں یا نہی؟
    کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کو کم کرنے کے لئے امپورٹ میں کمی کی گئی تو یہی کچھ ہوا ۔
    ۔
    دوسرا۔ روپئے کی قیمت خالی ریزروز اور ۲۰ ارب ڈالر کے خسارے کی وجہ سے گری۔ ن لیگ کے ہوتے ہوئے ہی اس ڈگر پر چل نکلی تھی۔ شروع میں ڈار نے اسے روک رکھا تھا تو ایک ڈیڑھ ارب ڈالر مارکیٹ میں پھینکنے پڑتے تھے، لیکن دو ہزار سترہ میں وہ چار سے پانچ ارب ڈالر اس پر صرف کر رہا تھا جبکہ ۲۰۱۸ میں ڈالر کو باندھے رکھنے کی قیمت سات ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی تھی۔ اسے ایک نہ ایک دن رسہ تڑوانا ہی تھا۔ کاش ڈار نے شروع ہی سے اہستہ اہستہ اسے جانے دیا ہوتا۔ روپئے کے گرنے سے بھی قیمتیں بڑھیں کہ ایک ڈالر کی چیز پہلے سو روپئےمیں پڑتی تھی اب ایک سو اڑسٹھ پرپہنچ گئی۔
    ۔
    تیسری وجہ۔ پچھلے سال پانی کم تھا اور لوکیٹس ٹڈی نے بھی تباہی پھیلائی، کسان کو بھی زیادہ قیمت دی گئی۔ سپلائی کم اور ڈیمانڈ زیادہ تھی۔ گنے کے کاشتکار کو سندھ میں ۱۵۰ سے بھی کم ملتا تھا لیکن اب اسے فی من ۲۱۲ روپئیے دئیے جارہے ہیں تو چینی کی قیمت بھی لازما بڑھنی تھی۔
    ۔
    چوتھی وجہ۔ حکومت کارٹلز کو کنٹرول نہی کر پا رہی۔ پہلے یہ کارٹلز حکومت کے ساتھ کوآپریٹ کرتے تھے اور حکومت ان کے ساتھ ۔ اب حکومت اور ان کے درمیان کھلی جنگ ہے۔ حکومت سیاسی طور پر کمزور ہے اور قانون سازی بھی نہی کر سکتی۔
    ۔
    پانچویں وجہ بجلی کے مہنگے معائدے اور کیپیسٹی چاجز اور روپئہ گرنے کی وجہ سے مہنگی بجلی ہے۔

    حکومت کی ناکامیاں:۔
    انتظامی ناکامیوں، بزدارازم وغیرہ کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ پر قابو ایکسپورٹ بڑھا کر کم لیکن ریمیٹینسز بڑھنے کی وجہ سے پایا گیا ہے۔ حکومت آنے سے آج تک دس سے گیارہ ارب ڈالر ریمیٹینسز بڑھی ہیں۔
    ان کے بڑھنے میں پالیسیوں کا کتنا حصۃ ہے اور کووڈ کا کتنا، یہ بتانا مشکل ہے۔ کل کلاں اگر ریمیٹینسز دوبارہ بیس ارب پر آگئیں تو ہم وہیں کھڑے ہونگے جہاں میاں صاحبان چھوڑ کر گئے تھے۔ ہمیں ایکسپورٹس بڑھانی ہیں اور وہ بڑھ نہی رہیں یا بہت ہی کم بڑھ رہی ہیں۔

    • This reply was modified 1 month, 2 weeks ago by shahidabassi.
Viewing 20 posts - 41 through 60 (of 62 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi