Home Forums Siasi Discussion کھجی گراؤنڈ: کراچی میں کھیل کا میدان جہاں کبھی موت سب سے مقبول کھیل تھی

Viewing 2 posts - 1 through 2 (of 2 total)
  • Author
    Posts
  • حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1

    تنبیہ: اس خبر کے کچھ پہلو ہمارے قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔
    لاش فٹبال کھیلنے والے میدان میں گول کے کھمبے سے لٹکی ہوئی تھی جناب۔ چہرے مہرے سے 30، 32 برس کا کوئی مقامی لگتا ہے۔ اس علاقے کا تو نہیں شاید مگر مقتول تھا خوش قسمت۔ اس پر زیادہ تشدد نہیں کیا گیا تھا۔
    ابھی اسم و سکونت (پولیس کی سرکاری زبان میں نام و پتہ) نامعلوم ہے سر۔ افسران اب لاش عباسی شہید لے کر جا رہے ہیں پوسٹ مارٹم کے لیے۔ چاہیں تو آ جائیں سر آپ بھی۔
    نہ تو اتنی بھیانک تفصیلات فون پر مجھے بتاتے ہوئے گلبہار تھانے سے بات کرنے والے اس پولیس افسر کے لہجے میں کوئی سنسنی تھی اور نہ ہی سنتے ہوئے مجھے بھی کسی قسم کی کوئی گھبراہٹ۔
    اور ہوتی بھی کیوں؟
    کرائم رپورٹر اور پولیس افسر کے طور پر فرائض سرانجام دیتے ہوئے ہم دونوں ہی کے لیے تب تک کھجّی گراؤنڈ سے ایسی خبروں کا آنا اور ان کی تفصیلات جاننا ’معمول‘ بن چکا تھا۔
    یہ 1990 کی اس دہائی کا ذکر ہے جب کراچی کے ضلع وسطی کا یہ میدان دہشت، خوف اور بربریت کی علامت بن چکا تھا۔
    ضلع وسطی کو شہر کے مشرقی حصے سے علیحدہ کرنے والے لسبیلہ چوک سے اگر گولیمار (گلبہار اس علاقے کو دیا جانے والا نیا نام ہے جو کبھی مقبول نہ ہو سکا اور یہ علاقہ ہمیشہ گولیمار ہی کہلاتا رہا) کی جانب بڑھیں تو ناظم آباد چورنگی کی سمت جانے والی نواب صدیق علی خان روڈ پر قائم پل اترتے ہی دائیں جانب کی ایک گلی تھانہ گلبہار جاتی ہے مگر بائیں جانب کی مشہور زمانہ پیتل گلی‘ اور ’پھول والی گلی‘ سمیت قریباً تمام ہی گلیاں جہاں ختم ہو رہی ہیں، یہی کھجّی گراؤنڈ ہے
    اس گراؤنڈ (یا میدان) کی تینوں اطراف یہ انتہائی تنگ گلیاں ہیں اور چوتھی سمت ایک نالہ۔
    نالہ عبور کر لیا جائے تو دوسری جانب کی ایسی ہی تنگ گلیوں سے گزر کر منگھوپیر روڈ پر پہنچا جاسکتا ہے جو ایک گنجان آباد اور تنگ گلیوں کے علاقے پاک کالونی یا بسم اللّہ ہوٹل کا علاقہ کہلاتا ہے۔
    منگھوپیر روڈ ایک جانب شہر کے سب سے مشہور صنعتی علاقے سائیٹ انڈسٹریل اسٹیٹ کو جارہا ہے اور دوسری جانب گارڈن، صدر یا شہر کے مرکزی علاقے کو جانے والا راستہ بن جاتا ہے۔
    ١٩٩٠ کی دہائی میں یہ کھجّی گراؤنڈ انھی تنگ گلیوں اور (قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے دور) اپنی جغرافیائی خصوصیات کی بنا پر تشدد اور قتل و غارت کا ایسا مرکز بنا جہاں رات کی تاریکی تو کیا دن کے اجالے میں بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تک قدم رکھنے سے گھبرانے لگے۔
    کھجّی گراؤنڈ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا‘، انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے (اس وقت) بلدیات اور جرائم سے متعلق خبروں کی کوریج کرنے والے صحافی طاہر صدیقی نے اپنی یادداشت کھنگالتے ہوئے کہا۔
    ١٩٨٧ میں بلدیہ نے باقاعدہ قرارداد منظور کر کے یہاں نوجوانوں کو فٹبال اور ہاکی کھیلنے کی سہولت دینے کی خاطر ایک کمیونٹی کمپلیکس قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔
    طاہر صدیقی نے بتایا کہ ’کمیونٹی کمپلیکس کے اس منصوبے کی تکمیل دو برس میں ہونی تھی۔‘ مگر اس وقت کے پولیس افسران کہتے ہیں کہ آئندہ دو برسوں میں کھیلوں کا کمپلیکس تو نہیں بن سکا مگر آئندہ دو نسلوں نے یہاں قتل و غارت کا وہ کھیل دیکھا جسے سوچ کر تو بہت سے لوگ آج بھی کانپ جاتے ہیں۔

    اس میدان کی تو کہانی ہی کچھ الگ تھی

    کراچی پولیس میں سپرٹینڈنٹ آف پولیس کے رینک تک کام کرنے والے افسران اب بھی کھجّی گراؤنڈ کو یاد کر لینے پر آسانی سے تیار نہیں۔ ایسے ہی ایک افسر جو اب پاکستان چھوڑ کر جا چکے ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے کے لیے تیار ہوئے۔’میں نے شہر کی پولیس کے تقریباً تمام ہی اسپیشل یونٹس کے ساتھ کام کیا ہے مگر کھجّی گراؤنڈ۔۔۔ اٹ واز اے کمپلیٹلی ڈفرنٹ اسٹوری۔
    یہ افسر مسلح پولیس مقابلوں کے لیے پاکستان میں مشہور پولیس افسر ایس ایس پی چوہدری محمد اسلم خان کے ساتھ بےشمار پولیس مقابلوں میں بھی شامل رہے تھے اور جنوری 2014 میں اس بم حملے کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے جس میں چوہدری اسلم کی ہلاکت ہوئی تھی۔
    کھجّی گراؤنڈ کو یاد کر کے وہ کہتے ہیں ’میں اور اسلم القاعدہ، طالبان، لشکر جھنگوی سے بھی لڑے ہیں اور منشیات فروشوں اور لیاری گینگ وار کے مسلح گروہوں سے بھی مگر کھجّی گراؤنڈ جب تک سیاسی سرپرستی میں مقامی لوگوں کے ہاتھ میں رہا تب تک اتنا ’گرم‘ نہیں ہوا تھا۔
    عجیب علاقہ تھا۔ ایک دوسرے سے جُڑے چھوٹے چھوٹے مکان۔ گلیوں میں اندر جاؤ تو چاہے ٹھیلے والا ہو یا دکاندار، رہائشی ہو یا راہگیر سب لوگ تمام آنے جانے والوں پر کڑی نگاہ رکھتے تھے یا ہر ایک کی آنکھوں میں خوف ہوتا تھا یا جاسوسوں والی تشویش جیسے ہر آنے جانے والے کی مکمل نگرانی ہو رہی ہو۔
    ان کے مطابق یہ وہ علاقہ تھا جس کی ’تشدد اور قتل و غارت میں ملوّث عناصر کو مکمل پشت پناہی یا مدد حاصل رہی اور ان عناصر کی علاقے سے یہی شناسائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اسی عدم واقفیت نے تشدد اور ہلاکت خیزی کرنے والوں کو وہ مدد فراہم کی کہ چاہے رات کی تاریکی ہو یا دن کا اجالا ان کے لیے دن و رات کے کسی بھی حصّے میں یہاں کچھ بھی کر گزرنا کبھی مشکل نہیں رہا۔

    کھجی گراؤنڈ میں موت کا کھیل

    مخالفین کو اغوا کر کے یہاں لانا ہو یا یہاں قتل کر کے ان کی لاشوں کو (باقی تمام مخالفین کے لیے نشانِ عبرت بنا کر) بوری میں بند کر کے کہیں اور لے جانا یا پھر یہیں گول کے کھمبوں سے لٹکا دینا، کچھ بھی محض چند منٹ میں کیا جا سکتا تھا۔
    پھر ان قتل و غارت کرنے والے عناصر نے کھیلوں کے اس میدان میں موت کو ہی کھیل بنا لیا۔ زندہ انسانوں کے گھٹنوں میں ڈرل مشین سے سوراخ کیے، گول پوسٹ سے لٹکا کر ان کو زندہ اور مردہ حالت میں بکروں اور جانوروں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ آری، ہتھوڑے اور چھینی سے کاٹ ڈالا، ہاتھ پاؤں میں کیلیں ٹھونک دیں، گلے کاٹ کر ذبح کیا جاتا تھا اور آنکھوں میں ایلفی (چپکا دینے ولا مائع مواد) انڈیل دیتے تھے‘۔
    تاہم صحافی طاہر صدیقی کہتے ہیں کہ ایسا صرف کھجّی گراؤنڈ میں ہی نہیں ہوتا تھا۔ ’تشدد زدہ اور بوری بند لاشیں پورے شہر میں ملتی تھیں۔ شو مارکیٹ اور رنچھوڑ لائن کے علاقوں میں واردات اور طرح ہو رہی تھی۔ زبان کی بنیاد پر شناخت کر کے لوگوں کو بسوں سے اتار دیا جاتا تھا اور مار کر ٹکڑے کر کے ان کی لاشیں بھی پھینک دی جاتی تھیں۔
    ذرائع ابلاغ کی پرانی اشاعتوں اور نشریات کے تفصیلی جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تشدد و قتل و غارت کسی ایک علاقے، زبان یا کسی ایک تنظیم اور جماعت تک محدود نہیں تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر تنظیم کے کارکن اور ہر سیاسی جماعت و گروہ کے ارکان موت کے اس بھیانک کھیل کا شکار ہوئے۔
    اور یہ سب خاموشی سے نہیں ہو رہا تھا۔
    پاکستان کے قومی اخبارات میں کم و بیش ہر سیاسی جماعت و تنظیم اور تمام لسّانی گروہوں سے تعلق رکھنے افراد اور ارکان کے قتل کی یہ خبریں نمایاں انداز میں شائع ہوتی رہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ بھی ان واقعات کی نشر و اشاعت بھرپور اور نمایاں انداز سے کرتے رہے۔
    بی بی سی کے نامہ نگار ادریس بختیار اور ظفر عباس تو کم و بیش ہر روز بی بی سی کی نشریات سیربین میں ان واقعات کو رپورٹ کرتے رہے۔
    یہ خبریں سی این این، واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز، گارڈیئن اور اسکائی نیوز جیسے برطانوی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی جگہ بناتی رہیں اور ’کراچی وائلنس‘ عالمی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں شامل ہوتا رہا۔
    صحافی طاہر صدیقی کہتے ہیں ’ریاستی اداروں (فوج اور اس کے خفیہ اداروں، پولیس اور انتظامیہ) کا موقف کچھ بھی ہو مگر شہر بھر میں موت کا رقص جاری تھا۔
    حکام کا الزام تھا کہ مخالفین کے ساتھ یہ سب کرنے والوں کو سیاسی پشت پناہی حاصل تھی مگر سیاسی قائدین یہی الزامات ریاستی اداروں پر لگاتے تھے۔
    سیاسی مؤقف یہ تھا کہ یہ لاشیں ان سیاسی جماعتوں اور ان کی ذیلی تنظیموں کے ارکان کی ہیں جنھیں ریاستی ادارے تشدد کر کے قتل کر رہے ہیں اور ان کی لاشیں یا لاشوں کے ٹکڑے کر کے بوریوں میں بند کر کے کھجّی گراؤنڈ یا شہر کے دیگر حصّوں میں پھینک رہے ہیں۔
    دونوں جانب سے صرف دعوے ہی سامنے آتے تھے اور یہ ٹرف وار (علاقہ گیری کی جنگ) صرف کھجّی گراؤنڈ تک محدود نہیں تھی۔ لیاری سے لانڈھی تک جرائم پیشہ عناصر نے شہر کے مختلف حصّوں سے بھتہ لینے کے لیے ہاتھ پاؤں پھیلائے تو نشتر روڈ ہو یا برنس روڈ ، طارق روڈ ہو یا خالد بن ولید روڈ لائنز ایریا ہو ملیر اور کھوکھراپار، ہر جگہ ہی یہ سب کچھ پوری شدت سے ہو رہا تھا۔
    کھجّی گراؤنڈ کی اس کہانی میں کراچی ایک ایسی سلطنت دکھائی دی جہاں جرائم کا ہر بےتاج بادشاہ، شہر کی ملکیت کا تاج سر پر سجانے کو بےتاب تھا۔
    سندھ پولیس کے ایک اور افسر اور ٹرانس نیشنل ٹیررسٹس انٹیلی جینس گروپ (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) کے انچارج ایس ایس پی راجہ عمر خطاب بھی صحافی طاہر صدیقی کے بیان سے کافی حد تک متفق نظر آئے۔
    یہ صرف کھجّی گراؤنڈ میں نہیں ہو رہا تھا۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے ہی عقوبت خانے قائم تھے۔ جب ہم نے شروع میں کئی اور مقامات پر چھاپے مارے تو تشدد کرنے کے لیے گرم کر کے انسانی جسم سے چپکا دی جانے والی خون آلود استری، ڈرل مشین اور ہتھوڑے، لائنز ایریا کے ایک عقوبت خانے سے بھی یہی سب ملا تھا۔

    شکار کو مارنے سے پہلے پورے میدان میں بھگاتے تھے

    پاکستان چھوڑ جانے والے ایک اور اعلیٰ پولیس افسر کے لیے کھجّی گراؤنڈ قتل و غارت کے اس کھیل کا سب سے بڑا میدان تھا۔
    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انھوں نے بتایا ’کھجّی گراؤنڈ میں تو اور ہی انداز تھا موت کا۔ شراب کی بوتلیں اور برآمد ہونے والے باقی مواد ثبوت اور شواہد اور تحقیقات سے (بعد میں) ثابت ہوا کہ کھجّی گراؤنڈ میں قاتل اپنے شکار کو قتل کرتے وقت جو اذیت دیتے تھے اِس میں اُن بےرحم قاتلوں کو ایک طرح کی لذت حاصل ہونے لگی تھی۔
    وہ اپنے شکار کو پورے میدان میں بھگاتے تھے مارنے سے پہلے۔ اس پر ایسا تشدد کرتے تھے کہ اس کی چیخوں سے اہل علاقہ کے دل دہل جاتے ہوں گے اور وہ قاتل ان چیخوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ پھر اسے مار کر لاش کھمبے سے لٹکا کر خود بھی نشے میں چلاتے تھے۔ زندہ حالت میں ٹکڑے کرتے وقت کی چیخوں کے قصّے فخر سے اپنے دوستوں کو سناتے تھے‘۔
    عجیب بات یہ ہے کہ کھجّی گراؤنڈ میں تشدد اور موت کا سامنا کرنے والوں کی یہ چیخیں سات سمندر پار برطانیہ میں بی بی سی اور امریکہ میں سی این این اور واشنگٹن پوسٹ کے نیوز رومز تک تو پہنچیں مگر ایک سڑک پار کر کے گلبہار تھانے تک نہ پہنچ سکیں۔
    کھجّی گراؤنڈ سے آسمان تک پہنچنے والی مقتولین کی ان چیخوں کے سڑک پار موجود پولیس کے کانوں تک نہ پہنچنے کی وجہ کھجّی گراؤنڈ کی اس کہانی کی کھوج کے دوران گفتگو کرنے والوں میں سے ایک اہم شخصیت نے بتائی مگر نام نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر۔
    وجہ یہ تھی کہ پولیس کا مورال ڈاؤن تھا۔ سیاسی حکومت سیاسی مصلحت کا شکار تھی۔ اپنی حکومت گر جانے یا پھر تشدد کا رخ اپنے کارکنوں، حکام یا پھر اپنی قیادت کی جانب نہ مڑ جانے کے خوف میں مبتلا حکومت کشمکش اور ابہام کا شکار رہی۔
    ان کا کہنا تھا ’ایک تو یہ شبہ تھا کہ ان عناصر کو طاقت اور اسلحہ حاصل کرتے وقت خاموش تماشائی بنے رہنے والے ریاستی اداروں کی پشت پناہی ان عناصر کو اب بھی حاصل ہے یا نہیں کیونکہ اگر ان عناصر کے سرپرست اُس وقت تک ان کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے تو عین ممکن تھا کہ ان کی سیاسی طاقت کے بل پر اس وقت پاکستان کے مخصوص سیاسی حالات کے تناظر میں ان کی حکومت کہیں گھر نہ بھیج دی جائے۔ اس لیے سیاسی حکومت انتظامی فیصلوں سے ہچکچاتی رہی۔ دراصل عزم کی کمی تھی‘۔
    سندھ اور وفاق میں برسراقتدار جماعت پیپلز پارٹی کو ان تمام حلقوں کی سیاسی حمایت حاصل تھی جن کی جانب اس قتل و غارت کے لیے انگلیاں اٹھ رہی تھیں۔ کھجّی گراؤنڈ اور اُس جیسے تمام عقوبت خانوں میں قتل و غارت روکنے کی کوئی بھی کوشش حکومت کو اُس سیاسی حمایت سے محروم کر سکتی تھی جس کے بل پر حکومت کا اپنا وجود قائم تھا۔
    اس شخصیت کا کہنا تھا ’مت بھولیے کہ پیپلز پارٹی اسی مارشل لا سے لڑ کر برسراقتدار آئی تھی جس نے اسی پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹّو کا تختہ الٹا تھا اور یہ قتل و غارت اسی مارشل لا میں پروان چڑھی تھی۔ اگر اسے اس وقت بھی مقتدر حلقوں کی حمایت حاصل ہوتی تو صرف حکومت ہی نہیں جاتی بہت کچھ داؤ پر لگ جاتا ان مخصوص حالات میں‘۔

    آپ خود کمان ضرور کریں مگر وہاں جائیے گا نہیں

    مگر کھجّی گراؤنڈ کے مقتولین کی یہ چیخیں بالآخر اُن مقتدر حلقوں کے کانوں تک پہنچ ہی گئیں جنہیں نوزائیدہ جمہوریت میں بھی سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ ریاستی ادارے اور سیاسی حکومت بالآخر اس امر پر متفق ہوئے کہ موت کا یہ کھیل کھجّی گراؤنڈ سمیت ہر میدان میں روکا جائے۔
    وزیراعظم بینظیر بھٹو اور فوج کی قیادت اس فیصلے ہر پہنچی کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ’آپریشن کلین اپ‘ کیا جائے اور ملک بھر خصوصاً کراچی میں لیاری سے لانڈھی اور کلفٹن سے کھوکھراپار تک ’امن‘ قائم کیا جائے۔
    اس ’آپریشن کلین اپ‘ کی قیادت سونپی گئی بینظیر بھٹو حکومت کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نصیر اللّہ بابر کو اور کراچی پولیس کا مورال بلند کرنے لیے پولیس کی قیادت تبدیل کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا اور پولیس قیادت کے لیے قرعہ فال ڈاکٹر شعیب سڈل کے نام نکلا۔
    برطانیہ کی ساؤتھ ویلز یونیورسٹی سے کریمنالوجی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے ڈاکٹر شعیب سڈل اس وقت راولپنڈی میں ڈی آئی جی تعینات تھے۔
    کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈاکٹر سڈل کو اس کام کی مکمل آزادی کے ساتھ انجام دہی کے لیے اُس وقت کی فوجی قیادت خصوصاً پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالوحید کاکڑ کی مکمل حمایت، تعاون اور پشت پناہی حاصل تھی۔
    رابطہ کرنے پر خود ڈاکٹر سڈل نے اس بات کی تردید یا تصدیق سے تو گریز کیا تاہم کہا ’مجھے براہ راست وزیراعظم اور جنرل بابر (وزیر داخلہ) کی بھرپور حمایت و تعاون حاصل تھا۔
    کھجی گراؤنڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا اس میدان میں ’گول پوسٹ سے لوگوں کو اس وقت تک بکروں کی طرح لٹکا کر تیز دھار آلات سے ٹکڑے کر دیا جاتا تھا، باڈی پارٹس ملتے وہاں سے۔
    علاقے میں آپریشن کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’بالآخر ہم نے اس سب کو روکنے کی پیش قدمی کی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ 1995 کے نومبر کی ایک طوفانی رات تھی۔ شدید بارش اور بہت تیز ہوائیں۔
    جنرل بابر نے مجھے ہدایت کی کہ آپ خود کمان ضرور کریں مگر وہاں نہیں جائیے گا پہلے نفری بھجوائیں مگر جب وزیر داخلہ کو معلوم ہوا کہ میں خود اس آپریشن کی کمان کرنے جارہا ہوں تو انھوں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ رات قریباً ڈیڑھ بجے میں اور جنرل بابر بھاری نفری کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔
    کھجّی گراؤنڈ میں پولیس کے داخلے کی اس کارروائی میں شامل ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا کہ جب 18 جون 1995 کو ڈاکٹر سڈل ڈی آئی جی کا عہدہ سنبھالنے کراچی پہنچے تھے تو پولیس کی حالت یہ تھی کہ ڈی آئی جی صاحب کو ہوائی اڈّے سے ان کی (عارضی) رہائشگاہ پولیس کلب تک بحفاظت پہنچانے کے لیے پولیس کی بجائے نیم فوجی ادارے فرنٹیئر کور (ایف سی) کی نفری بھیجی گئی تھی۔
    پولیس کے مورال کا عالم یہ تھا کہ شہر کی پولیس کے سربراہ کی حفاظت کی ذمہ داری نیم فوجی اداروں کے سپرد تھی۔
    ڈاکٹر سڈل کہتے ہیں ’میرے اور جنرل بابر کے جانے کی وجہ بھی یہی تھی۔ ہم فورس کا مورال بلند کرنا چاہتے تھے۔ رٹ بحال کرنا چاہتے تھے۔ قانون کی بالادستی یقینی بنانا چاہتے تھے۔ مجھے یہ ٹاسک خود براہ راست وزیراعظم بینظیر بھٹو نے دیا تھا۔ جب میں آیا تو وہاں (کراچی میں) یہ عالم تھا کہ تھانوں کے دروازے عام آدمی پر بند کیے جا چکے تھے۔
    رکاوٹیں لگا کر عام آدمی یا کسی ممکنہ حملہ آور دونوں ہی کو تھانے تک پہنچنے سے روکنے کے اقدامات ہوتے تھے۔ ریت کی بوریاں تھانوں کی چھتوں پر رکھی جاتی تھیں تاکہ کسی ممکنہ حملے میں حفاظت یا مورچہ بندی کا کام دے سکیں۔
    ایک شام مغرب کی اذان سے ذرا قبل میں اور جنرل بابر طارق روڈ پر گشت کر رہے تھے۔ میں گاڑی چلا رہا تھا، جنرل بابر ساتھ بیٹھے تھے۔ ایک آئس کریم پارلر کے سامنے کہنے لگے اس کو بلاؤ۔ آئس کریم والا آیا تو اس سے پوچھنے لگے تم کب تک دکان بند کرو گے۔ اس وقت ٹی وی چینلز نہیں تھے، کوئی ہمیں پہچانتا نہیں تھا۔ آئس کریم والےنے ڈرتے ڈرتے بتایا کہ میں تو اب جانے والا ہوں، اندھیرے سے پہلے زندہ گھر پہنچ جاؤں گا۔
    ڈاکٹر سڈل نے اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسی حالت میں یہ کام آسان نہیں تھا مگر مجھے پورے نظام سے بھرپور تعاون ملا۔ خفیہ اداروں نے مدد کی۔ مورال بحال ہو جائے، قیادت ساتھ کھڑی ہو جائے تو پھر فورس بھی ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے، کام کرتی ہے اور پھر ہُوا کام۔

    آپریشن کلین اپ کی داغدار غیرجانبداری

    بعض حلقوں میں اگرچہ اس تشدد زدہ کراچی میں امن کی بحالی کا ڈاکٹر شعیب سڈل کا دعویٰ درست مان لیا گیا مگر ایسا نہیں تھا کہ پولیس نے اس کارروائی میں سب کچھ اچھا اچھا ہی کیا۔
    وہی صحافی اور ذرائع ابلاغ جنھوں نے کراچی اور کھجّی گراؤنڈ میں قتل و غارت پر پورے نظام کو خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رکھا تھا انھوں نے ہی اس’آپریشن کلین اپ‘ پر اس وقت سوالیہ نشان لگا دیے جب سیاسی حلقوں کی جانب سے پولیس اور حکام خاص طور پر وزیرِ داخلہ نصیر اللّہ بابر اور کراچی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل پر جانبداری اور قانون کی طاقت کے اندھا دھند استعمال کے الزامات عائد کیے۔
    سیاسی رہنماؤں اور قائدین نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر سڈل کی پولیس فورس ان کی جماعتوں اور ذیلی تنظیموں کے بےگناہ کارکنان کی ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوث ہیں اور جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں اور سیاسی کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل لیا جا رہا ہے۔
    طویل عرصے سے کراچی میں رہنے والے شہری اور صحافی دونوں ہی جانتے ہیں کہ پولیس مقابلوں سے متعلق یہ شکایتیں اور انکشافات محض الزامات نہیں تھے۔
    اب پاکستان سے باہر مقیم اُس وقت کے ایک قد آور سیاستدان بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنا مؤقف دینے پر آمادہ ہوئے۔ ’یہ محض الزامات نہیں تھے۔ میں تو تم لوگوں کو خود تمہارا اپنا لکھا ہوا یاد دلوا رہا ہوں۔ کیا تم وہ خبریں بھول گئے ہو جن میں خود تم سب لکھتے رہے ہو سارا قصّہ۔
    آپریشن کلین اپ کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں (فوج اور خفیہ اداروں) پر مشتمل ایف آئی ٹی (فیلڈ انویسٹیگیشن ٹیم) کی تشکیل۔ پھر کیا کچھ نہیں کیا اُس ایف آئی ٹی اور پولیس نے۔ پورے پورے علاقوں کا محاصرہ، پوری پوری آبادی کی خانہ تلاشی، ہر گھر سے نوجوانوں کی ناجائز گرفتاری، چادر اور چار دیواری کی خلاف ورزی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں۔ گھروں کی خواتین سے بدسلوکی اور بچوں کے سامنے بڑوں کی گرفتاری۔
    اسی کھجّی گراؤنڈ اور آس پاس کی آبادیوں میں رات رات بھر کی چھاپہ مار کارروائیاں اور یاد ہے کس طرح نوجوانوں کی گرفتاری ہوتی تھی۔ پولیس اور ایف آئی ٹی کے اہلکار نوجوانوں کو ماؤں، بہنوں کے سامنے گرفتار کرتے وقت انھی کی قمیض سے آنکھوں پر پٹّی باندھ کر لے جاتے تھے۔ 28 لاپتہ نوجوانوں کا تو آج تک پتا ہی نہیں چل سکا کہ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔
    ان کا کہنا تھا ’ہم بھی شور مچا مچا کر بالآخر تھک گئے تھے اور لکھ لکھ کر تم سب لوگ بھی جو یہ ساری خبریں اور ان کے سلسلے میں ہونے والی کی عدالتی کارروائی، سب لکھتے رہے ہو اخباروں میں۔
    اس سیاستدان کی بات غلط بھی نہیں تھی۔
    ذرائع ابلاغ بھی گواہ ہیں اور اس وقت فعال تمام صحافی، سیاسی و انتظامی حلقے بھی جانتے ہیں کہ روزانہ ہونے والے ایسے مشکوک اور متنازع پولیس مقابلے اور ان میں ہونے والی متنازع ہلاکتوں نے ایک جانب شہر میں سیاسی بےچینی کو ہوا دی اور دوسری جانب آپریشن کلین اپ کی غیرجانبداری کو داغدار کر دیا۔
    ہر روز کسی کارکن کی ایسے ’مقابلوں‘ میں ہلاکتوں پر پہلے سوگ پھر ہڑتال اور پھر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور کوئی دن نہیں جاتا تھا جب کسی پریس کانفرنس میں سیاسی رہنما کسی متنازع پولیس کارروائی پر سوال نہ اٹھاتے ہوں۔
    اس آپریشن سے منسلک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا۔ ’ہاں، بہت کچھ غلط بھی ہوا اس دوران۔ ہم نے بہت سے لوگ مارے۔ ان میں کچھ غلط بھی ضرور ہوا ہو گا۔
    ان کے مطابق ’کھجّی گراؤنڈ کے سب سے بےرحم قاتل کو انسپکٹر ناصرالحسن نے مارا، بعد میں انسپکٹر ناصر خود مارا گیا اور انسپکٹر ناصر اکیلا نہیں مارا گیا۔ کئی پولیس افسر مارے گئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں جانب نامی گرامی لوگ مارے گئے۔ یہ ایک طرح کی جنونی جنگ بن کر رہ گئی تھی۔
    سیاستدان کا مؤقف اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آنے والے کئی برسوں تک آپریشن کلین اپ میں حصّہ لینے والے پولیس افسران اور اہلکار بھی ہدف بنا کر قتل کیے جانے کی وارداتوں میں مارے جاتے رہے۔
    ہم کرائم رپورٹرز ہدف بنا کر قتل جانے کی وارداتوں میں پولیس افسران اور آئے روز پولیس مقابلے میں مطلوب ملزمان کی ہلاکتوں کی خبریں لکھ لکھ کر واقعی تھک جاتے تھے۔
    ذرائع ابلاغ گواہ ہیں کہ ان خبروں کی نشر و اشاعت اس تواتر سے ہوئی کہ شاید ہی دنیا کے کسی اور شہر میں ایسا ہوا ہو۔ یہ ٹھیک ہے کہ تشدد کا ایسا بازار بھی کسی شہر میں گرم نہیں ہوا ہو گا مگر طاقت کا جواب جس غیر متناسب انداز اور طاقت سے دیا گیا اس کی مثال بھی نہیں ملتی۔

    کھجی گراؤنڈ کا ماضی اور حال

    کھجّی گراؤنڈ تو اب کچھ بھی (خطرناک) نہیں ہے۔‘، ڈاکٹر شعیب سڈل کی آواز میں ایک فاتحانہ فخر تھا۔ ’بعد میں وہاں ایک تھانہ بھی قائم کر دیا گیا تھا غالباً تھانہ رضویہ نام ہے اس کا۔‘ شعیب سڈل نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
    پولیس افسران کے لہجے کے فخر اور سیاستدانوں کے لہجے کی تلخی سے بےنیاز اہل علاقہ آج جب کھجّی گراؤنڈ کا ماضی یاد کرتے ہیں تو ان کے لہجے میں خوف اور شکایت دونوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔
    خود مجھ جیسے لوگوں کے لیے بھی کھجّی گراؤنڈ اور اس جیسے علاقوں میں 25 برس تک یہ سب ہوتے دیکھنا اور اس کو رپورٹ کرنا کل بھی ہرگز آسان نہیں تھا اور آج اگر کھجّی گراؤنڈ سے پہلے اور بعد کی کہانی سنانے کو کہا جائے تو دردناک یادوں کے علاوہ شاید کچھ بھی آپ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔
    ہاں، ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے، کھجّی گراؤنڈ کے گول پوسٹ سے خون کے دھبے اورآپریشن کلین اپ پر لگے سوالیہ نشان، دونوں ہی آج تک نہیں مٹ سکے ہیں۔

    بشکریہ ……. جعفر رضوی

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52899681

    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    #2
    حسن بھای یہ بی بی سی والے بعض اوقات اشارے کرجاتے ہیں جو صرف مقامی افراد ہی جان سکتے ہیں

    یہ مضمون میں نے پڑھا ہے بہت بھیانک دور تھا یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ بڑے شہروں میں ایسی غربا کی بستیوں کے اندر بہت کچھ ہوتا ہے مگر کوی خوف سے بولتا نہیں ورنہ اس کی لاش بھی وہین سے ملتی ہے، اس آرٹیکل میں یہ نہیں معلوم کہ کونسی ایک خاص سیاسی پارٹی یہ سب کچھ کروا رہی تھی

    رینجرز نے ایک پٹھان پکڑا تھا جسے فون آتا تھا تو وہ ایک جگہ پنہچ جاتا تھا جہاں پر کوی بندہ اغوا کرکے لایا جاچکا ہوتا ، خان پھر اپنے اوزاروں سے اس کو ذبح کرکے پیسز کرتا اور پھر لاش کہیں پھینک دیتا اس بندے کو چار پانچ ہزار ملتے تھے اس کا کام کے، کہتا تھا کسی مہینے اچھے پیسے کما لیتا تھا یعنی دس بندے آگئے تو ساٹھ ستر ہزار، ویسے یہ بندہ کوی معمولی کام بھی کرتا تھا یا چوکیدار تھا

    یہ تو خیر پٹھان تھا سیدھا سیدھا کام کرنے والا مگر تہہ خانوں سے ڈرل مشینز اور نت نئے تشدد کے آلات الزام ایم کیو ایم پر بھی آتا رہا ہے

    ایسے ایسے بھیانک کردار ہیں کہ سمجھ سے باہر

    ویسے یہ کھچی گراونڈ کورنگی سے کتنے فاصلے پر ہے ؟

    :facepalm:

    • This reply was modified 1 year, 7 months ago by Believer12.
Viewing 2 posts - 1 through 2 (of 2 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi