Home Forums Non Siasi ڈاکٹر عبدالقدیر خان: کیا پاکستان کے جوہری سائنسدان دنیا کے سب سے خطرناک آدمی تھے؟

Viewing 17 posts - 1 through 17 (of 17 total)
  • Author
    Posts
  • حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1

    ١١ دسمبر 2003 کو امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانوی انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئی سکس کے افسران کا ایک گروپ لیبیا میں ایک خصوصی طیارے پر سوار ہونے کو تھا جب انھیں خاکی لفافوں کا ایک پلندہ تھمایا گیا۔
    یہ ٹیم لیبیا کے حکام کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کے ایک خفیہ مشن کے اختتام کے قریب تھی۔ جب انھوں نے جہاز میں سوار ہو کر ان خاکی لفافوں کو کھولا تو انھیں علم ہوا کے انھیں وہ اہم شواہد دیے گئے ہیں جن کی انھیں اشد ضرورت تھی۔ ان خاکی لفافوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن تھے۔
    ان ڈیزائنز کے علاوہ جوہری پروگرام سے متعلقہ پرزہ جات پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مہیا کیے تھے۔ ڈاکٹر قدیر اتوار کو 85 برس کی عمر میں وفات پا چکے ہیں۔
    گذشتہ نصف صدی میں عالمی سلامتی کے حوالے سے عبدالقدیر خان ایک اہم ترین شخصیت تھے۔ ان کی ذات دنیا کی خطرناک ترین ٹیکنالوجی کے حوالے سے جاری لڑائی، جہاں یہ ٹیکنالوجی رکھنے والے اور اس کو حاصل کرنے والے خواہشمند آمنے سامنے ہیں، اس کہانی کا ایک اہم محور تھی۔
    سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جارج ٹینٹ نے اے کیو خان کو ’کم از کم اسامہ بن لادن جتنا خطرناک‘ قرار دیا تھا۔ انھوں نے یہ موازنہ اس وقت پیش کیا تھا جب یہ پتہ لگ چکا تھا کہ اسامہ بن لادن نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ ڈاکٹر اے کیو خان کو مغربی جاسوس دنیا کا سب سے ’خطرناک انسان‘ قرار دیتے ہیں لیکن اپنے وطن پاکستان میں انھیں ایک قومی ہیرو کے طور پر سراہا جاتا ہے۔ یہ چیز آپ کو نہ صرف ان کی شخصیت کی پیچیدگی کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔
    ستر کی دہائی میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان یورپ میں ایٹمی جاسوس بن کر نہیں آئے تھے لیکن وہ ایک جاسوس بن گئے تھے۔
    وہ 1970 کی دہائی میں نیدرلینڈ میں کام کر رہے تھے جب ان کے ملک پاکستان نے 1971 کی جنگ میں شکست کے بعد اور انڈیا کی ایٹمی ترقی سے خوفزدہ ہو کر ایٹمی بم بنانے کی مہم شروع کی تھی۔
    ڈاکٹر خان ایک یورپی کمپنی میں یورینیم افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز بنانے کے کام میں شامل تھے۔
    افزودہ یورینیم کو ایٹمی توانائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اگر اسے ایک حد سے زیادہ افزودہ کیا جائے تو اس سے ایٹمی بم بنایا جا سکتا ہے۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس دور کے جدید سینٹری فیوجز کے ڈیزائن نقل کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپنے ملک واپس لوٹ آئے جہاں انھوں نے ایک خفیہ نیٹ ورک تشکیل دیا جس میں بیشتر یورپی کاروباری افراد تھے جو انھیں ایٹمی بم اور سینٹری فیوجز کی تیاری کے لیے اہم ترین اجزا (خام مال) سپلائی کرتے تھے۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اکثر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ’بانی‘ بھی کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ اس پروگرام کے انتہائی اہم ارکان میں سے ایک تھے۔
    مگر انھوں نے نہایت احتیاط کے ساتھ اپنی ایک کہانی تیار کی جس نے انھیں انڈیا کے خطرے کے خلاف پاکستان کی حفاظت کے لیے ایٹم بم تیار کرنے والے قومی ہیرو کا درجہ دے دیا گیا۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر کے اور کیا کام تھے جس نے انھیں اتنا اہم بنا دیا؟ انھوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے اجزا فراہم کرنے والے اپنے خفیہ نیٹ ورک کو درآمد سے برآمد کی طرف موڑ دیا، اور وہ دنیا بھر میں گھومنے والی ایک شخصیت بن گئے اور انھوں نے کئی ممالک کے ساتھ معاہدے اور سودے کیے۔ ان میں سے بہت سے ممالک کو مغربی ممالک ’باغی ریاستیں‘ سمجھتے تھے۔
    ایران کے شہر نطنز میں ایٹمی پروگرام کے لیے سینٹری فیوجز کی تیاری کا پروگرام جو حالیہ برسوں میں شدید عالمی سفارتکاری کی ایک وجہ بنا رہا ہے، اس کا نمایاں حصہ عبدالقدیر کے فراہم کردہ ڈیزائن اور مواد سے بنایا گیا تھا۔
    ایک ملاقات میں عبدالقدیر خان کے نمائندوں نے ایران کو ایک ایٹمی پروگرام کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد اور اجزا کی ایک فہرست فراہم کی تھی جس میں قیمتیں بھی درج تھیں اور ایرانی حکام اس کے مطابق مال کا آرڈر دے سکتے تھے۔
    عبدالقدیر خان نے ایک درجن سے زائد دورے شمالی کوریا کے بھی کیے تھے جہاں سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے بدلے میزائل ٹیکنالوجی کی مہارت حاصل کی گئی تھی۔
    ان تمام سودوں کے ساتھ ایک اہم راز ہمیشہ رہا کہ کیا عبدالقدیر خان یہ سب کچھ اکیلے کر رہے تھے یا وہ اپنی حکومت کے احکامات کے تحت کام کر رہے تھے، خاص طور پر شمالی کوریا کے ساتھ معاہدہ کے معاملے میں۔
    کبھی یہ بھی کہا گیا کہ عبدالقدیر خان یہ سب کچھ پیسوں کے لالچ میں کر رہے تھے لیکن یہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ وہ اپنے ملک کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں پر مغربی ممالک کی اجارہ داری کو توڑنا چاہتے تھے۔
    انھوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی پر مغربی ممالک کی اجارہ داری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مغربی منافقت قرار دیا تھا اور سوال کیا تھا کہ چند ممالک کو اپنے تحفظ و دفاع کے لیے یہ ہتھیار رکھنے کی اجازت کیوں دی جانی چاہیے اور دوسروں کو کیوں نہیں۔
    ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ ’میں پاگل یا بیوقوف انسان نہیں۔ وہ مجھے ناپسند کرتے ہیں اور وہ میرے خلاف ہر طرح کے من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں کیونکہ میں نے ان کے سٹرٹیجک منصوبوں کو خراب کر دیا ہے۔
    ان کے نیٹ ورک میں شامل دوسرے افراد جن سے میں نے اس وقت ملاقات کی تھی جب میں عبدالقدیر خان کے متعلق کتاب لکھ رہا تھا، تو مجھے ایسا لگا کہ وہ پیسوں کے لالچ میں یہ کام کرتے محسوس ہوئے تھے۔ 1990 کی دہائی میں لیبیا کے ساتھ ہونے والے ان کے جوہری پروگرام کے معاہدے نے جہاں ان کو زیادہ پیسے دیے تھے وہی ان کے زوال کو بھی تیز تر کر دیا تھا۔
    برطانوی انٹیلجنس ایجنسی ایم آئی سکس اور امریکی سی آئی اے نے عبدالقدیر خان کی نگرانی شروع کر دی تھی، انھوں نے ان کے بین الاقوامی دوروں پر نظر رکھنا شروع کی، ان کی فون کالز کو ٹیپ اور پکڑنا شروع کر دیا اور ان کے نیٹ ورک میں گھس گئے اور اس کے لیے انھوں نے اے کیو خان کے نیٹ ورک میں شامل افراد کو بھاری رقوم کی پیشکش بھی کی۔ بعض مواقع پر کم از کم دس لاکھ ڈالرز تک رقم کی پیشکش کی گئی تاکہ ان کے نیٹ ورک کے ارکان کو اپنا ایجنٹ بنایا جا سکے اور ان کے رازوں کو حاصل کیا جا سکے۔
    ایک سی آئی اے اہلکار کا کہنا تھا کہ ’ہم ان کے گھر کے اندر تھے، ہم ان کے دفاتر میں تھے، ہم ان کے کمروں میں تھے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد خطرہ بڑھ گیا تھا کہ دہشت گرد بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور یہ ہی مشکل اور پیچیدگی پاکستان سے نمٹنے اور اسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف کارروائی کرنے پر آمادہ کرنے میں تھی۔
    مارچ 2003 میں جب برطانیہ اور امریکہ عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی وجہ سے حملہ کر رہے تھے، جن کا بعدازاں کوئی وجود نہیں نکلا، لیبیا کے رہنما کرنل قذافی نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ انھیں اپنے ایٹمی پروگرام کے منصوبے سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ منصوبہ ایم آئی سکس اور سی آئی اے کے خفیہ دورے کی وجہ بنا اور جلد ہی اس معاہدے کے عوامی اعلان کے بعد اس نے امریکہ کو ایک اہم موقع فراہم کیا کہ وہ پاکستان پر زور دے کہ وہ عبدالقدیر خان کے خلاف کارروائی کرے۔
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس کے نتیجے میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور انھیں ٹی وی پر آ کر اعتراف جرم کرنے پر بھی مجبور کیا گیا۔ انھوں نے اپنی بقیہ زندگی ایک عجیب صورتحال میں بسر کی جہاں وہ نہ آزاد تھے نہ ہی قید۔ انھیں آج بھی پاکستانی عوام کی جانب سے ایٹم بم بنانے پر ملکی ہیرو قرار دیا جاتا ہے۔ انھیں بیرونی دنیا کا سفر کرنے اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔
    انھوں نے کیا کیا تھا اور کیوں کیا تھا شاید اس کی اصل کہانی کبھی معلوم نہ ہو سکے۔

    https://www.bbc.com/urdu/world-58866410

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #2

    Dr. Qadeer Khan

    Abdus Salam

    How unfortunate and ungrateful is the nation of Pakistan!!

    • This reply was modified 1 year, 8 months ago by Anjaan.
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #3

    Dr. Qadeer Khan

    Abdus Salam

    How unfortunate and ungrateful is the nation of Pakistan!!

    ڈاکٹر قد یر خان ۔۔۔۔۔۔۔

    کی گرفتاری ۔۔۔۔ ٹی وی پر اقرار جرم ۔۔۔۔۔ تنزلی ۔۔۔۔ بے عزتی ۔۔۔۔۔ پا ک فوج کے چیف اف سٹاف جرنل مشرف نے کی ۔۔۔۔۔۔

    با لکل ویسے ہی جیسے ستر سال سے پا ک فوج پا کستان کا بیڑہ غرق کررھی ہے ۔۔۔۔۔۔

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #4
    ڈاکٹر قد یر خان ۔۔۔۔۔۔۔ کی گرفتاری ۔۔۔۔ ٹی وی پر اقرار جرم ۔۔۔۔۔ تنزلی ۔۔۔۔ بے عزتی ۔۔۔۔۔ پا ک فوج کے چیف اف سٹاف جرنل مشرف نے کی ۔۔۔۔۔۔ با لکل ویسے ہی جیسے ستر سال سے پا ک فوج پا کستان کا بیڑہ غرق کررھی ہے ۔۔۔۔۔۔

    Should Pakistanis accept this lying down or face the army as the Egyptians did?

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #5
    Should Pakistanis accept this lying down or face the army as the Egyptians did?

    مثا ل کے طور پر آپ جنگل میں جا رھےہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    سا منے سے شیر نکل آتا ہے ۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے کہ شیر آپ سے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہے ۔۔۔۔۔

    لیکن موت آپ کے سا منےکھڑی ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔۔

    آپ کے پا س دو آپشن ہیں ۔۔۔۔۔۔

    پہلی آپشن یہ ہے کہ ۔۔۔۔ آپ  شیر کی طا قت کے سا منے سرنڈر کرکے زمین پر لیٹ جائیں اور شیر کو کہیں ۔۔۔ شیر مجھے کھا لو میں تم سے لڑ نہیں سکتا ہے ۔۔۔۔۔

    دوسری آپشن ۔۔۔۔۔یہ ہے کہ ۔۔۔۔ آپ شیر پر پتھر یا لکڑی یا جھاڑی سے حملہ کردیں ۔۔۔۔ یا پھر شیر سے بھا گنے کی کوشش کریں یا پھر شیر کو چیخیں مار مار کر دور رکھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے پلیز بتا دیں آپ کے کونسی آپشن لینا پسند کریں گے ۔۔۔۔۔

    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #6

    بھائی جان اس بندے نے ایٹم بم بنا کر پاکستان کو مقروض کر دیا ہے .. بلکل بہت ہی خطرناک آدمی تھا … آج کی دنیا گولوبل وللیج بن چکی ہے …. پاکستان کو اپنی معشیت بہتر کرنے کی ضرورت تھی .. جہاں اس بندے نے ایٹم بم بنا کر ویسے ہی خوا مخوا ملک و قوم قوم پر بوجھ بنا دیا

    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #7

    Dr. Qadeer Khan

    Abdus Salam

    How unfortunate and ungrateful is the nation of Pakistan!!

    ڈاکٹر قدیر ڈاکٹر کم اور چور زیادہ تھا … جبکے عبدل سلام حقیقی سائنس دان تھا …

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #8

    ڈاکٹر قدیر ڈاکٹر کم اور چور زیادہ تھا … جبکے عبدل سلام حقیقی سائنس دان تھا …

    And how did this Qaum treat “Haqeeqi Sciencedaan”?

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #9

    بھائی جان اس بندے نے ایٹم بم بنا کر پاکستان کو مقروض کر دیا ہے .. بلکل بہت ہی خطرناک آدمی تھا … آج کی دنیا گولوبل وللیج بن چکی ہے …. پاکستان کو اپنی معشیت بہتر کرنے کی ضرورت تھی .. جہاں اس بندے نے ایٹم بم بنا کر ویسے ہی خوا مخوا ملک و قوم قوم پر بوجھ بنا دیا

    He was asked to make a bomb by the rulers of the nation!

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #10
    مثا ل کے طور پر آپ جنگل میں جا رھےہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سا منے سے شیر نکل آتا ہے ۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے کہ شیر آپ سے زیادہ طاقتور اور خطرناک ہے ۔۔۔۔۔ لیکن موت آپ کے سا منےکھڑی ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ کے پا س دو آپشن ہیں ۔۔۔۔۔۔ پہلی آپشن یہ ہے کہ ۔۔۔۔ آپ شیر کی طا قت کے سا منے سرنڈر کرکے زمین پر لیٹ جائیں اور شیر کو کہیں ۔۔۔ شیر مجھے کھا لو میں تم سے لڑ نہیں سکتا ہے ۔۔۔۔۔ دوسری آپشن ۔۔۔۔۔یہ ہے کہ ۔۔۔۔ آپ شیر پر پتھر یا لکڑی یا جھاڑی سے حملہ کردیں ۔۔۔۔ یا پھر شیر سے بھا گنے کی کوشش کریں یا پھر شیر کو چیخیں مار مار کر دور رکھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے پلیز بتا دیں آپ کے کونسی آپشن لینا پسند کریں گے ۔۔۔۔۔

    If it was just myself, I will run away. That is why I gave the example of the Egyptians. They stood together and faced the “Sher” as a nation and the “Sher” ran away for his life.

    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #11
    And how did this Qaum treat “Haqeeqi Sciencedaan”?

    Dear that the problem with belief system of “Qaum” and bias…  This Quam is enemy of true people and this quam glorify every looters / fraud

    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #12
    He was asked to make a bomb by the rulers of the nation!

    Dear he should use his brain. Because enstien has predicted it. He has started a never ending Arm Race in Sub-continent   Albert Einstein — ‘I know not with what weapons World War III will be fought, but World War IV will be fought with sticks and stones.’

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #13
    If it was just myself, I will run away. That is why I gave the example of the Egyptians. They stood together and faced the “Sher” as a nation and the “Sher” ran away for his life.

    آپ نے ٹھیک آپشن چوز کی ہے کہ ۔۔۔۔ کہ خطرںاک جا ن لیوا ۔۔۔ شیر کے سا منے سرنڈر کرنے کا نہیں سوچا ہے ۔۔۔۔۔

    یہی انسا ن ہونے کا تقا ضہ ہے ۔۔۔۔

    نوازشریف بھی سرنڈر کرنے کا نہیں سوچتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور  یہ ایک مثبت انسا نی سوچ ہے ۔۔۔۔ ھم نوازشریف کے سا تھ کھڑے ہیں ۔۔۔

    جو خطرناک جا ن لیوا طا قت سے مذ احمت کے لیئے موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #14

    بھائی جان اس بندے نے ایٹم بم بنا کر پاکستان کو مقروض کر دیا ہے .. بلکل بہت ہی خطرناک آدمی تھا … آج کی دنیا گولوبل وللیج بن چکی ہے …. پاکستان کو اپنی معشیت بہتر کرنے کی ضرورت تھی .. جہاں اس بندے نے ایٹم بم بنا کر ویسے ہی خوا مخوا ملک و قوم قوم پر بوجھ بنا دیا

    معیشت بہتر کرنے کے لیئے آپ لے تو آئے ہیں ۔۔۔۔ گورا چٹہ ۔۔۔ کول ۔۔۔ ھینڈ سم ۔۔۔۔ پیارا ۔۔۔ کرکٹر ۔۔۔۔۔ اب کروالیں ۔۔۔ اس سے اپنی معیشت بہتر ۔۔۔۔۔

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #15
    Dear he should use his brain. Because enstien has predicted it. He has started a never ending Arm Race in Sub-continent Albert Einstein — ‘I know not with what weapons World War III will be fought, but World War IV will be fought with sticks and stones.’

    البرٹ آئین سٹا ئین کا ۔۔۔۔۔۔ جنگ ۔۔۔۔ سے کچھ لینا دینا   ۔۔۔۔ نہ تھا ۔۔۔۔ نہ ہے ۔۔۔۔۔۔ چولیں نہ ماریں ۔۔۔۔۔

    دوسری بات ابھی تک آپ کو کسی سا ئیندان یا کسی پروفیسر بتا یا نہیں کہ ۔۔۔۔ جنگ ۔۔۔ جنگوں کا زمانہ گزر چکا ہے  ۔۔۔۔ اب کبھی ورلڈ وار فور ۔۔۔۔ نہیں ہوگی ۔۔۔

    مستقبل میں نہ کبھی انڈ یا ۔۔۔ پا کستان کی جنگ ہوگی اور نہ کوئی اور جنگ ہوگی ۔۔۔۔۔

    د نیا ۔۔۔ بر اعظم ۔۔۔ اور ۔۔۔ مما لک  بلکہ انسا نیت کی زندگی ۔۔۔۔ جنگوں کے بنیا دی ۔۔۔۔۔ فلسفے اور ضرورت  ۔۔۔۔ سے گزر کر ۔۔۔ اگلے مرحلے میں دا خل ہوچکی ہے جہاں جنگ نہیں ہوتی ۔۔۔

    با لکل ایسے ہی جیسے ۔۔۔۔  جوانی میں لڑکی سے عشق کی جنگ کی جاتی ہے ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ لڑکی اغوا کر لینے کے بعد  جنگ ختم ہوجاتی  ہے ۔۔۔ پھر  کچھ اور ہوتا ہے     ۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 7 months ago by Guilty.
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #16
    کبھی کبھی بحث کرتے ہوئے انجان بھی افلاطون لگتا ہے

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #17
    کبھی کبھی بحث کرتے ہوئے انجان بھی افلاطون لگتا ہے

    As always, YOU ARE A GOOD DEPUTY

Viewing 17 posts - 1 through 17 (of 17 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi