Home Forums Non Siasi پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

Viewing 7 posts - 1 through 7 (of 7 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2846
    • Total Posts: 7156
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

    صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بدھ کی شب احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک 61 سالہ شخص کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ پولیس تھانہ ڈبگری نے اس قتل کا مقدمہ ہلاک ہونے والے شخص معراج احمد کے بیٹے کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔
    جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ مذہبی منافرت کا نتیجہ ہے۔
    ان کے مطابق ’معراج احمد گزشتہ کچھ عرصے سے مشکلات کا شکار تھے۔ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلائی جا رہی تھی جبکہ ان کی دکان میں کام کرنے والے ملازمین نے بھی حال ہی میں ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
    معراج احمد کے بیٹے کے مطابق وہ ڈبگری گارڈن میں واقع اپنا میڈیکل  اسٹور بند کر کے گھر واپس جا رہے تھے جب انھیں اطلاع ملی کہ ان کے والد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔
    انھوں نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال پہنچے تو وہاں ان کے والد کی لاش پڑی تھی جنھیں آتشین اسلحے سے قتل کیا گیا تھا۔
    معراج احمد کے بیٹے کی جانب سے درج کروائی جانے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے والد کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی۔
    انھوں نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘میں نہیں جانتا کہ میرے والد کو کس نے قتل کیا ہے اور نہ ہی وہ کوئی مشہور آدمی تھے۔ ان کی اپنی ساری زندگی میں کبھی کسی کے ساتھ تلخ کلامی نہیں ہوئی تھی۔
    انھوں نے بتایا کہ پہلے ان کے والد میڈیکل  اسٹور پر خود کام کرتے تھے مگر عمر کے تقاضے کی وجہ سے اب ان کے لیے کام کرنا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے اب وہ خود میڈیکل  اسٹور پر ڈیوٹی نہیں دیا کرتے تھے۔
    انھوں نے بتایا کہ ان کے والد زیادہ تر وقت گھر ہی پر گزارتے تھے تاہم شام کے اوقات میں تھوڑا بہت باہر نکلتے تھے۔
    ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں درج کروائے گے مقدمے میں بھی انھوں نے کسی کو نامزد نہیں کیا ہے۔
    امید ہے کہ پولیس اس مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کرے گی۔
    جماعت احمدیہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ معراج احمد کی تدفین ربوہ میں کر دی گئی ہے اور انھوں نے سوگوران میں بیوہ، تین بیٹے اور بیٹی چھوڑی ہے۔
    جماعت کے ترجمان کے مطابق ریاستی ادارے احمدیوں کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں احمدیوں کی جان و مال کو خطرات بڑھ چکے ہیں۔
    ایس ایس پی پشاور منصور امان کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے اعلیٰ سطح پر تفتیش شروع کر دی ہے اور جائے وقوعہ سے ثبوت اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔
    پشاور پولیس کے مطابق واقعے کے بعد پولیس نے کئی لوگوں سے پوچھ کچھ کی ہے اور چند مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-53765140

    #2
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 164
    • Posts: 5438
    • Total Posts: 5602
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

    ماحول بنایا موددی نے ، بیج بویا بھٹو نے ، پانی دے کر تناور درخت میں تبدیل کیا ضیاء الحق نے.
    مگر اپنے انتہائی کم تر درجہ کے سیاسی فوائد کے لئے مذھب کا جو استعمال اس ٹاوٹ کے دور میں ہو رہا ہے اسکے دور رس اثرات سے نپٹنے میں ہجوم کی کم سے کم ایک نسل اور ضائع ہوگی
    #3
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 164
    • Posts: 5438
    • Total Posts: 5602
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

    #4
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

    اسلام خونخوار قبائل کا ایجاد کردہ مذہب ہے، جن کے نزدیک انسانی جان کی کوئی اہمیت نہ تھی اور ایک دوسرے کو مارنا کاٹنا عام سی بات تھی۔ اس مذہب کا اثر آج بھی جس جس معاشرے میں زیادہ ہے، وہاں بربریت اتنی ہی شدید ہے۔ 

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    Nigerian singer sentenced to death for blasphemy in Kano state

    A musician in Nigeria’s northern state of Kano has been sentenced to death by hanging for blaspheming against the Prophet Muhammad.

    An upper Sharia court in the Hausawa Filin Hockey area of the state said Yahaya Sharif-Aminu, 22, was guilty of committing blasphemy for a song he circulated via WhatsApp in March.

    Mr Sharif-Aminu did not deny the charges.

    Judge Khadi Aliyu Muhammad Kani said he could appeal against the verdict.

    States across Muslim-majority northern Nigeria use both secular law and Sharia law, which does not apply to non-Muslims.

    Only one of the death sentences passed by Nigeria’s Sharia courts has been carried out since they were reintroduced in 1999.

    The singer who is currently in detention, had gone into hiding after he composed the song.

    Protesters had burnt down his family home and gathered outside the headquarters of the Islamic police, known as the Hisbah, demanding action against him.

    Critics said the song was blasphemous as it praised an imam from the Tijaniya Muslim brotherhood to the extent it elevated him above the Prophet Muhammad.

    ‘Judgement will serve as deterrent to others’
    The leader of the protesters that called for the musician’s arrest in March, Idris Ibrahim, told the BBC that the judgement will serve as a warning to others “contemplating toeing Yahaya’s path”.”When I heard about the judgment I was so happy because it showed our protest wasn’t in vain.

    “This [judgement] will serve as a deterrent to others who feel they could insult our religion or prophet and go scot-free,” he said.

    Who is Yahaya Sharif-Aminu?
    Few people had heard of him before his arrest in March.

    An Islamic gospel musician, he is not well-known in northern Nigeria and his songs were not popular outside his Tjjaniya sect, who have many such musicians within their ranks.

    How common are death sentences in Sharia courts?
    Several sentences have been passed, including for women convicted of having extramarital sex – cases which have caused widespread condemnation.

    But only one has been carried out – a man convicted of killing a woman and her two children who was hanged in 2002.

    The last time a Nigerian Sharia court passed a death sentence was in 2016 when Abdulazeez Inyass, was sentenced to death for blaspheming against Islam during after a secret trial in Kano.

    He was alleged to have said that Sheikh Ibrahim Niasse, the Senegalese cleric credited with reviving the Tijaniya sect and spreading it across West Africa, “was bigger than Prophet Muhammad”.

    The sentence has not been carried out as a death penalty in Nigeria requires the sign-off of the state governor.

    Mr Inyass is still in detention.

    How Nigeria’s Sharia courts work
    By Mansur Abubakar, BBC News, Kano

    Twelve states in Nigeria’s Muslim-dominated north operate the Sharia system of justice, but only Muslims can be tried in its courts.

    The Sharia system, which also has its own Court of Appeal, handles both civil and criminal matters involving Muslims and its judgements can also be challenged in Nigeria’s secular Courts of Appeal and the Supreme Court.

    The Sharia judges, known as alkalis, are learned in both Islamic and secular laws.

    If a case involves a Muslim and a non-Muslim, the non-Muslim has the option of choosing where they want the case to be tried. The Sharia court can only hear the case if the non-Muslim gives written consent.

    Sentences handed down by the courts include floggings, amputations and the death penalty.

    Source: https://www.bbc.com/news/world-africa-53726256

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    میری معلومات کے مطابق اس وقت تیرہ اسلامی ممالک میں توہینِ اسلام / توہینِ سرکارِ دو عالم کی سزا موت ہے۔۔۔ اسلامی ریاستوں کے علاوہ کہیں آپ کو مذہب کے معاملے میں اتنی جنونی سزائیں نہیں ملیں گی۔۔ جب آپ نے توہینِ مذہب اور اسلام چھوڑنے کی سزا موت قرار دے دی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ سزا ریاست دے یا فرد۔ ایسا ہی معاملہ احمدیوں کے ساتھ ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مرتد اور واجب القتل سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے کسی احمدی کے قتل پر خبر تک نہیں چھپتی۔۔۔ 

    • This reply was modified 11 months, 2 weeks ago by Zinda Rood.
    #5
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

    پچھلے چند دنوں سے جنونی مسلمانوں نے بھارت کے شہر بنگلور میں بوال مچا رکھا ہے ایک معمولی فیس بک پوسٹ پر۔ ایک مسلمان نے فیس بک پر ہندوؤں کے کسی بھگوان کا کارٹون لگایا، جواب میں کسی ہندو نے سرکارِ دو عالم کی ایک تصویر لگادی۔۔ ہندوؤں نے تو  اپنے بھگوان کا مذاق اڑانے پر کوئی جلسے جلوس ہڑتال نہ کی، مگر  مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے، پورے بنگلور میں ہلہ مچادیا۔ اب تک کئی لوگ مارے جاچکے ہیں اور بے شمار زخمی ہیں۔۔۔ یہ ہیں ایک “پرامن” مذہب کے پرامن پیروکار۔۔۔۔

    • This reply was modified 11 months, 2 weeks ago by Zinda Rood.
    #6
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

    بچوں نے پادری کو قتل کر دیا … اسلام بچوں کو بھی مینٹل کر سکتا ہے .. اس لئے بچوں کی پونچھ سے دور رکھیں

    #7
    brethawk
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 30
    • Posts: 294
    • Total Posts: 324
    • Join Date:
      27 Oct, 2016

    Re: پشاور میں 61 سالہ احمدی شہری معراج احمد کا قتل

    Jab janoni qatilun Mumtaz Qadri Aur Khalid ko yeh society Islam Kay hero Bana Kay paish karay gi tu Jannat Kay entry Kay certificate Aur Hero Kay tag Kay liye struggle Kaun kambakht nahin karna chahay ga.

    Yeh janooneyat Reyasat Kay thaikeydarun ko suit karti hay Aur isi janooneyat ko yeh theqydaar apnay political Aur strategic goals hasil karnay Kay liye baad main isteymsal bhi karti rahi hay.

    Mazhabi Janooneyat aik buhut useful tool hay Reyasati idarun Kay liye.

Viewing 7 posts - 1 through 7 (of 7 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi