Home Forums Siasi Discussion نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ، پس پردہ کیا ہو رہا ہے ؟

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 33 total)
  • Author
    Posts
  • Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #1
    مریم نواز کے بی بی سی انٹرویو کے بھد ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے کہ مریم نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا عندیہ دیا ہے – کہا جا رہا ہے کہ پس پردہ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ میں رابطے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے یہ رابطے میاں صاحب سے نہیں بلکے پاکستان میں موجود قیادت سے ہوئے ہیں – بقول نجم سیٹھی اسٹیبلشمنٹ نے میاں صاحب سے لندن میں رابطے کی کوشش کی ہے تا کہ ان سے کہا جائے کہ نام نہ لیں مگر میاں صاحب نے بات کرنے سے انکار کیا ہے – میرے خیال میں میاں صاحب جس راستے پر چل رہے ہیں آگے چل کر وہ خالدہ ضیاء اور خان حسینہ واجد بن جائیں گے – میاں صاحب کو کہیں نہ کہیں رکنا ہو گا اور خود بھی مزاکرات کی بات کرنی ہو گی – جنگ کے ذرائع کا کہنا ہے اپوزیشن پہلے مرحلے میں پنجاب حکومت کو ٹارگٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس میں زیادہ دلچسبی پیپلز پارٹی کو ہے – میرے خیال سے اپوزیشن کو ایک حکمت عملی سے آگے بڑھنا ہو گا اور وہ ٹارگٹ رکھنا ہو گا جو حاصل ہو سکے – خان حکومت کو گرانا قابل حصول ٹارگٹ نہیں ہے – اسٹیبلشمنٹ کسی صورت خان کو ہٹا کر الیکشن نہیں کرائے گی جب اسے یقین ہے ایسی صورت میں نون لیگ پاور میں آ جائے گی – اسٹیبلشمنٹ خود بھی بزدار کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے اور اگر مولانا اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کر کے انہیں اس بات پر راضی کر لیں کہ ق لیگ تحریک عدم اھتماد کی صورت میں اپوزیشن کو ووٹ دے گی تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی – اگر اپوزیشن پنجاب میں اپنی حکومت بنا لیتی ہے تو اس کے بھد بھلے پانچ سال خان حکومت ہی مرکز میں رہے نون لیگ پنجاب میں تحریک انصاف کو فارغ کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گی – یہ دو ہزار تیرہ سے پہلے والی صورتحال بن جائے گی جب شہباز شریف نے پنجاب میں اچھی کارکردگی دکھا کر پنجاب سویپ کیا – یہ کوئی اتنا آسان ٹارگٹ نہیں ہے – یہ سب حاصل کرنے سے پہلے اپوزیشن کو اپنی پوری توانائی لگانی پڑے گی اور دکھانا ہو گا کہ عوام موجودہ حکومت سے سخت نا راض ہے اور اپوزیشن کے جلسوں میں شرکت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے – اس میں دو مہینے کا وقت لگ سکتا ہے مگر پنجاب حکومت کا گرانا میری نظرمیں   قابل حصول ٹارگٹ ہے -مولانا صاحب اگرچے صرف اس پر نہیں رکیں گے اور آگے جا کر مرکزی حکومت کو بھی گرانے کی ضد کریں گے لیکن مولانا صاحب جیسے زیرک سیاست دان کو سمجھنا ہو گا کہ یہ سب مرحلہ وار ہی ہو سکتا ہے –

    (جنگ گروپ کی مذکورہ خبر کا لنک )

    https://jang.com.pk/news/844072

    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #2
    • This reply was modified 1 year, 6 months ago by Awan.
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #3

    اعوان صاحب، جس طرح نواز شریف کو کہیں نا کہیں رکنا ہوگا، اسی طرح سے اپوزیشن کو بھی دوبارہ پھوجی جنتا سے مل ملا کر توڑ پھوڑاور جوڑ توڑ کی ماضی والی سیاست سے رکنا ہوگا ۔ اگر پھوجی جنتا سے گفتگو کرنی ہے تو آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر انہیں انکا آئین میں دیا گیا کردار یاد دلانے کی ضرورت ہے اور مستقبل میں انکی کسی بھی قسم کی مداخلت کو روکنے کی بات کی جانی چاھیے ۔ موجودہ حکومت یوں تو پھوجی پھوڑے کی طرح جسم پر اگ آئ ہے لیکن بجائے اس پھوڑے کی ریڈیکل سرجری کرنے کے ، اسے وقت کے ساتھ مندمل کرنے کی کوشش کی جانی چاھیے ۔ ویسے بھی یہ اپنی مدت کے تیسرے سال میں پہنچ چکے ہیں ۔ انہیں ان کی قدرتی موت مرنے دیا جائے ،ھاں اس پھوڑے سے مذید ٹاکسن حاصل کرنے کی صلاحیت کو سلیکٹرز کے ساتھ بیٹھ کر ختم کرنا چاھیے اور اس کی یقین دھانی کر لینی چاھیے کہ قوم کی پشت پر یہ آخری پھوڑہ ہو ۔

    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    #4
    Awan

    اعوان بھائی،
    انگریزی کا مقولہ ہے کہ
    “فارچون فیور دا بریو”
    ایمانداری کی بات ہے کہ اپنی سیاست کے اس موڑ پر میاں صاحب نے میری توقع اور اپنی روایات کے بر خلاف کہیں زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس بریوری کے کا سب سے بڑا اور غیر متوقع فائدہ کیپٹین صفدر کی مزار قائد پر جذباتی جمہوری نعروں اور نتیجتا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رعونت بھرے اقدامات اور سندھ پولیس کے انتہائی موثر احتجاج نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس نے اس گندی اسٹیبلشمنٹ کو پوری طرح برہنہ کرکے میاں صاحب کو یہ کہنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ
    “دیکھیں ریاست سے اوپر ریاست کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے.”
    حالیہ چھکے اور چوکوں سے میاں صاحب اور انکی بہادر اور کراؤڈ پلر بیٹی نے اس میچ میں اپنے لئے سازگار ماحول بنالیا ہے . اب سے کچھ عرصہ قبل تک عمران اور اسٹیبلشمنٹ حزب اختلاف کے پیچھے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے چوروں کے پیچھے کوتوال مگر اب صورتحال میں کافی بدلاؤ آچکا ہے اسٹیبلشمنٹ پہلی مرتبہ کافی عرصہ کے بعد دفاعی انداز میں آچکی ہے حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ ڈھکے چھپے الفاظ میں خان بھی باجوہ پر تنقید کررہا ہے .جو کہ ایک تشویشناک بات ہے
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ ایسا ہی ہے جو نظر آرہا ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے ہی کچھ عناصر پی ڈی ایم کے پیچھے ہیں اور انکو عوامی دباؤ بڑھاکر عمران کو بلکل ہی تابعدار بنانا چاہتے ہیں جسکا اشارہ حالیہ دنوں میں خان نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ اگر میری حکومت جاتی ہے تو جائے مگر میں نے ان چوروں کو نہیں چھوڑنا . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکو یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ اسکی حکومت جاسکتی ہے؟ اور اگر حکومت جاتی ہے تو عمران کی سیاست کے لئے یہ بیانیہ ضروری ہے کہ دیکھو میں نے چوروں اور مافیاؤں پر کمپرومائز نہیں کیا اور اپنی حکومت سے جان چھڑالی .
    ایک بلین ڈالر کا سوال ہے کہ وہ کونسی صورت ہو سکتی ہے جسکے تحت یہ حکومت گھر چلی جائے اور نیے انتخابات کی صورت بنے؟
    ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ خان کو بھی عدالت کے ذرئیے نااہل قرار دلوادیا جائے یا یوسف رضا گیلانی ٹائپ کا مقدمہ بنا کر اسکو باہر کردیا جائے جسکے نتیجے میں سڑکوں پر کچھ امن و امان کا مسلہ پیدا ہوجاے اور حالت کو درست کرنے کے بہانے اقدامات لئے جایں. اور بھی کچھ صورتیں ہوسکتیں ہیں .
    اب آتے ہیں اصل نکتہ کی طرف کہ کیا فوج سے مذاکرت کی بات کرکے مریم نے کچھ غلط کیا ہے؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ فوج ایک ڈی فیکٹو طاقت ہے اور اس سے آپ کو بات کرنی ہی پڑے گی . اہم بات یہ ہے کہ کیا بات کرنی ہے. اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ حالت میں اسٹیبلشمنٹ نے کچھ علاقہ بحالت مجبوری خالی کیا ہے، فلحال فوج کو فیس سیونگ دی جاسکتی ہے اور دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بندوق کس کے پاس ہے . ایک بات مگر طے ہے کہ مریم گروپ اگر حکومت میں آتی ہے تو اسٹبلشمنٹ کو کافی علاقہ خالی کرنا پڑے گا خطرہ اس صورتحال کا یہ ہے کہ کیا خان کو رسی تڑوا کر بھاگنے اور حزب اختلاف کی سیاست کرنے کی سہولت دی سکتی ہے ؟ یہ بہت خطرناک آپشن ہوگا کیوں کہ حکومت میں رہتے ہوے خان جن رسیوں میں بندھا ہوا ہے آزاد ہوتے ہی اسکی زبان پر قابو کرنا ناممکن ہوگا اسکو یا تو جیل میں ڈالنا پڑے گا یا مستقل علاج کرنا پڑےگا
    جو بھی ہو آنے والا وقت انتہائی دلچسپ ہونے جارہا ہے

    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #5
    Awan اعوان بھائی، انگریزی کا مقولہ ہے کہ “فارچون فیور دا بریو” ایمانداری کی بات ہے کہ اپنی سیاست کے اس موڑ پر میاں صاحب نے میری توقع اور اپنی روایات کے بر خلاف کہیں زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس بریوری کے کا سب سے بڑا اور غیر متوقع فائدہ کیپٹین صفدر کی مزار قائد پر جذباتی جمہوری نعروں اور نتیجتا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رعونت بھرے اقدامات اور سندھ پولیس کے انتہائی موثر احتجاج نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس نے اس گندی اسٹیبلشمنٹ کو پوری طرح برہنہ کرکے میاں صاحب کو یہ کہنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ “دیکھیں ریاست سے اوپر ریاست کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے.” حالیہ چھکے اور چوکوں سے میاں صاحب اور انکی بہادر اور کراؤڈ پلر بیٹی نے اس میچ میں اپنے لئے سازگار ماحول بنالیا ہے . اب سے کچھ عرصہ قبل تک عمران اور اسٹیبلشمنٹ حزب اختلاف کے پیچھے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے چوروں کے پیچھے کوتوال مگر اب صورتحال میں کافی بدلاؤ آچکا ہے اسٹیبلشمنٹ پہلی مرتبہ کافی عرصہ کے بعد دفاعی انداز میں آچکی ہے حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ ڈھکے چھپے الفاظ میں خان بھی باجوہ پر تنقید کررہا ہے .جو کہ ایک تشویشناک بات ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ ایسا ہی ہے جو نظر آرہا ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے ہی کچھ عناصر پی ڈی ایم کے پیچھے ہیں اور انکو عوامی دباؤ بڑھاکر عمران کو بلکل ہی تابعدار بنانا چاہتے ہیں جسکا اشارہ حالیہ دنوں میں خان نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ اگر میری حکومت جاتی ہے تو جائے مگر میں نے ان چوروں کو نہیں چھوڑنا . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکو یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ اسکی حکومت جاسکتی ہے؟ اور اگر حکومت جاتی ہے تو عمران کی سیاست کے لئے یہ بیانیہ ضروری ہے کہ دیکھو میں نے چوروں اور مافیاؤں پر کمپرومائز نہیں کیا اور اپنی حکومت سے جان چھڑالی . ایک بلین ڈالر کا سوال ہے کہ وہ کونسی صورت ہو سکتی ہے جسکے تحت یہ حکومت گھر چلی جائے اور نیے انتخابات کی صورت بنے؟ ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ خان کو بھی عدالت کے ذرئیے نااہل قرار دلوادیا جائے یا یوسف رضا گیلانی ٹائپ کا مقدمہ بنا کر اسکو باہر کردیا جائے جسکے نتیجے میں سڑکوں پر کچھ امن و امان کا مسلہ پیدا ہوجاے اور حالت کو درست کرنے کے بہانے اقدامات لئے جایں. اور بھی کچھ صورتیں ہوسکتیں ہیں . اب آتے ہیں اصل نکتہ کی طرف کہ کیا فوج سے مذاکرت کی بات کرکے مریم نے کچھ غلط کیا ہے؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ فوج ایک ڈی فیکٹو طاقت ہے اور اس سے آپ کو بات کرنی ہی پڑے گی . اہم بات یہ ہے کہ کیا بات کرنی ہے. اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ حالت میں اسٹیبلشمنٹ نے کچھ علاقہ بحالت مجبوری خالی کیا ہے، فلحال فوج کو فیس سیونگ دی جاسکتی ہے اور دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بندوق کس کے پاس ہے . ایک بات مگر طے ہے کہ مریم گروپ اگر حکومت میں آتی ہے تو اسٹبلشمنٹ کو کافی علاقہ خالی کرنا پڑے گا خطرہ اس صورتحال کا یہ ہے کہ کیا خان کو رسی تڑوا کر بھاگنے اور حزب اختلاف کی سیاست کرنے کی سہولت دی سکتی ہے ؟ یہ بہت خطرناک آپشن ہوگا کیوں کہ حکومت میں رہتے ہوے خان جن رسیوں میں بندھا ہوا ہے آزاد ہوتے ہی اسکی زبان پر قابو کرنا ناممکن ہوگا اسکو یا تو جیل میں ڈالنا پڑے گا یا مستقل علاج کرنا پڑےگا جو بھی ہو آنے والا وقت انتہائی دلچسپ ہونے جارہا ہے

    بہت خوب گھوسٹ صاحب ، میں صرف اتنا ہی اضافہ کرنا چاہوں گا ۔

    لوئے لوئے بھر لے کڑیے جے ددھ بھانڈاں بھرنا
    شام پئی بن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا

    • This reply was modified 1 year, 6 months ago by Zaidi. Reason: reorg
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    #6
    Awan اعوان بھائی، انگریزی کا مقولہ ہے کہ “فارچون فیور دا بریو” ایمانداری کی بات ہے کہ اپنی سیاست کے اس موڑ پر میاں صاحب نے میری توقع اور اپنی روایات کے بر خلاف کہیں زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس بریوری کے کا سب سے بڑا اور غیر متوقع فائدہ کیپٹین صفدر کی مزار قائد پر جذباتی جمہوری نعروں اور نتیجتا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رعونت بھرے اقدامات اور سندھ پولیس کے انتہائی موثر احتجاج نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس نے اس گندی اسٹیبلشمنٹ کو پوری طرح برہنہ کرکے میاں صاحب کو یہ کہنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ “دیکھیں ریاست سے اوپر ریاست کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے.” حالیہ چھکے اور چوکوں سے میاں صاحب اور انکی بہادر اور کراؤڈ پلر بیٹی نے اس میچ میں اپنے لئے سازگار ماحول بنالیا ہے . اب سے کچھ عرصہ قبل تک عمران اور اسٹیبلشمنٹ حزب اختلاف کے پیچھے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے چوروں کے پیچھے کوتوال مگر اب صورتحال میں کافی بدلاؤ آچکا ہے اسٹیبلشمنٹ پہلی مرتبہ کافی عرصہ کے بعد دفاعی انداز میں آچکی ہے حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ ڈھکے چھپے الفاظ میں خان بھی باجوہ پر تنقید کررہا ہے .جو کہ ایک تشویشناک بات ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ ایسا ہی ہے جو نظر آرہا ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے ہی کچھ عناصر پی ڈی ایم کے پیچھے ہیں اور انکو عوامی دباؤ بڑھاکر عمران کو بلکل ہی تابعدار بنانا چاہتے ہیں جسکا اشارہ حالیہ دنوں میں خان نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ اگر میری حکومت جاتی ہے تو جائے مگر میں نے ان چوروں کو نہیں چھوڑنا . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکو یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ اسکی حکومت جاسکتی ہے؟ اور اگر حکومت جاتی ہے تو عمران کی سیاست کے لئے یہ بیانیہ ضروری ہے کہ دیکھو میں نے چوروں اور مافیاؤں پر کمپرومائز نہیں کیا اور اپنی حکومت سے جان چھڑالی . ایک بلین ڈالر کا سوال ہے کہ وہ کونسی صورت ہو سکتی ہے جسکے تحت یہ حکومت گھر چلی جائے اور نیے انتخابات کی صورت بنے؟ ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ خان کو بھی عدالت کے ذرئیے نااہل قرار دلوادیا جائے یا یوسف رضا گیلانی ٹائپ کا مقدمہ بنا کر اسکو باہر کردیا جائے جسکے نتیجے میں سڑکوں پر کچھ امن و امان کا مسلہ پیدا ہوجاے اور حالت کو درست کرنے کے بہانے اقدامات لئے جایں. اور بھی کچھ صورتیں ہوسکتیں ہیں . اب آتے ہیں اصل نکتہ کی طرف کہ کیا فوج سے مذاکرت کی بات کرکے مریم نے کچھ غلط کیا ہے؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ فوج ایک ڈی فیکٹو طاقت ہے اور اس سے آپ کو بات کرنی ہی پڑے گی . اہم بات یہ ہے کہ کیا بات کرنی ہے. اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ حالت میں اسٹیبلشمنٹ نے کچھ علاقہ بحالت مجبوری خالی کیا ہے، فلحال فوج کو فیس سیونگ دی جاسکتی ہے اور دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بندوق کس کے پاس ہے . ایک بات مگر طے ہے کہ مریم گروپ اگر حکومت میں آتی ہے تو اسٹبلشمنٹ کو کافی علاقہ خالی کرنا پڑے گا خطرہ اس صورتحال کا یہ ہے کہ کیا خان کو رسی تڑوا کر بھاگنے اور حزب اختلاف کی سیاست کرنے کی سہولت دی سکتی ہے ؟ یہ بہت خطرناک آپشن ہوگا کیوں کہ حکومت میں رہتے ہوے خان جن رسیوں میں بندھا ہوا ہے آزاد ہوتے ہی اسکی زبان پر قابو کرنا ناممکن ہوگا اسکو یا تو جیل میں ڈالنا پڑے گا یا مستقل علاج کرنا پڑےگا جو بھی ہو آنے والا وقت انتہائی دلچسپ ہونے جارہا ہے

    Ghost Protocol sahib

    محترم گھوسٹ پروٹوکول صاحب

    نشان زدہ جملہ کو کیا انگریزی لفظ کانسٹنٹ کے طور پر لیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

    جہاں تک محترم نواز شریف صاحب اور محترمہ مریم صاحبہ کی بیان بازی کا تعلق ہے کیا اس کے پیچھے مقصد عوام اور جمہوریت کی بالادستی ہے یا ایک واری فر شیر کے اقتدار کی خواہش .

    اور کیا اس کار خیر کو عوام کی اکثریت اور باقی سیاستدانوں بشمول مسلم لیگ نون کے اہم سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہو گی ؟

    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    #7

    محترم گھوسٹ پروٹوکول صاحب

    نشان زدہ جملہ کو کیا انگریزی لفظ کانسٹنٹ کے طور پر لیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

    ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔

    جے ایم پی صاحب بلیک شیپ کے کونسٹینٹ اور گھوسٹ صاحب کے کونسٹینٹ میں ایک اہم فرق تو ضرور ہے۔۔۔۔۔

    کونسٹینٹِ بلیک شیپ حرام ہے اور گھوسٹیانہ کونسٹینٹ حلال ہے۔۔۔۔۔

    ;-) :cwl: ;-) ™©

    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    #8

    نشان زدہ جملہ کو کیا انگریزی لفظ کانسٹنٹ کے طور پر لیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

    جے بھیا،
    سب سے پہلے تو طویل عرصہ کے بعد محفل کو رونق بخشنے پر آپ کو خوش آمدید.

    جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو یہ فرد کا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ اس کو کیا کہنا ہے پاکستانی سیاست کا کویی ایسا ہوشمند طالب علم نہیں ہو سکتا جو فوج کی پاکستانی سیاست میں بطور ایک عامل کی موجودگی کا انکار کرے بلکہ یہی تو آرگیو منٹ ہے کہ فوج ایک عامل ہے اور اسکو نہیں ہونا چاہئے .
    ان صفحات پر اس لفظ کونسٹنٹ کو لے کر جب بھی بات ہویی ہے وہ اس پیرائے میں ہویی ہے کہ فوجی عامل کے مقابلے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟
    ٹرمینالوجی کا استعمال اختلاف کی جڑ نہیں ہے .

    جہاں تک محترم نواز شریف صاحب اور محترمہ مریم صاحبہ کی بیان بازی کا تعلق ہے کیا اس کے پیچھے مقصد عوام اور جمہوریت کی بالادستی ہے یا ایک واری فر شیر کے اقتدار کی خواہش .

    اور کیا اس کار خیر کو عوام کی اکثریت اور باقی سیاستدانوں بشمول مسلم لیگ نون کے اہم سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہو گی ؟

    کیا ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کے لئے طب کا پیشہ اختیار کرتے ہیں یا عزت و دولت کمانے کے لئے؟ کیا انجینئیر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں یا عزت اور نسبتا خوشحالی کے لئے؟ کیا فوج میں افسر ملک کی حفاظت اور جان قربان کرنے کے جذبے تحت بنا جاتا ہے یا عزت، طاقت اور کچھ حد تک پیسہ بنانے کے لئے ؟ ان سوالوں کا جواب اسطرح دیا جاسکتا ہے کہیں نہ کہیں ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض و مقاصد کے ساتھ اوور لیپ کرتے ہیں
    اسی طرح سیاست دان کی جدوجہد بھی اقتدار کے حصول کے لئے ہوتی ہے اور ہونا بھی چاہئے ورنہ کس کا دماغ خراب ہوا ہے کہ اپنی دولت جلسے جلوسوں میں لٹاتاپھرے ؟ .سیاست دان کے بھی ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض مقاصد کے ساتھ کہیں نہ کہیں اوور لیپ کریں گے اور سیاست دان جمہوری ہوگا تو یہ اوور لیپ کا رقبہ بڑھ جائے گا سیاست دان فوجی ہوگا تو یا تو اوور لیپ ہوگا ہی نہیں یا بہت کم ہوگا . اسی لئے سول سوسایٹی کا فرض ہے کہ فوجی عامل کا سیاست میں کردار کم سے کم کروایا جائے تاکہ عوامی مفاد اور سیاست دان کے ذاتی مفاد کا اشتراک زیادہ سے زیادہ بڑھ سکے .

    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #9

    Ghost Protocol sahib

    محترم گھوسٹ پروٹوکول صاحب

    نشان زدہ جملہ کو کیا انگریزی لفظ کانسٹنٹ کے طور پر لیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

    جہاں تک محترم نواز شریف صاحب اور محترمہ مریم صاحبہ کی بیان بازی کا تعلق ہے کیا اس کے پیچھے مقصد عوام اور جمہوریت کی بالادستی ہے یا ایک واری فر شیر کے اقتدار کی خواہش .

    اور کیا اس کار خیر کو عوام کی اکثریت اور باقی سیاستدانوں بشمول مسلم لیگ نون کے اہم سیاستدانوں کی حمایت حاصل ہو گی ؟

    جے ایم پی  صاحب ، دخل اندازی پر معذرت مگر آپ کا سوال اس لحاظ سے بہت ریلیونٹ ہے کہ اس سارے عمل کا نتیجہ اگر انتخابات کی شفافت اور غیر جانبداری پر نکلتا ہے تو یہ نہ صرف شیر بلکہ پورے ملک کے لیے قابل ستائش ہے ۔ عوام کے صحیح نمائندے صرف اور صرف ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے نتیجے میں کامیابی پانے والے امیدواروں کی صورت میں ہی سامنےآسکتے ہیں ۔ سالہاسال سے چلنے والے اس بوسیدہ ، نقب شدہ اور بدبو دار عمل کے نتیجے میں آنے والے مسخرے ہم بہت بھگت چکے ہیں ۔ لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اور حالات کا اندازہ لگاتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ عوام کے حق رائے دہی پر نقب لگانے والے ، اتنی آسانی سے باز نہیں آئیں گے ۔ جو خون ان کے لبوں کو لگ چکا ہے ، وہ اس ذائقے کے عادی ہوچکے ہیں ۔ ابھی کل ہی الیکشن کمشنر گلگت کا انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا ، دل چاہا کہ اس چوھے نما انسان کو پہاڑی سے نیچے لٹکا دیا جائے ، خچر اس بات سے خوشی سے پھولا نہیں سما رہا کہ جرمانے کی مد میں خلاف ورزیوں کے نتیجے میں قومی خزانے میں اب تک چھ لاکھ اور کچھ ہزار روپے جمع کرواچکا ہے ، اس نے یہ جملہ متعدد بار استعمال کیا ۔ کس ڈنگر کو یہ ذمہ داری سونپی گئ ہے ۔ وللہ عالم ۔

    • This reply was modified 1 year, 6 months ago by Zaidi.
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #10
    Awan اعوان بھائی، انگریزی کا مقولہ ہے کہ “فارچون فیور دا بریو” ایمانداری کی بات ہے کہ اپنی سیاست کے اس موڑ پر میاں صاحب نے میری توقع اور اپنی روایات کے بر خلاف کہیں زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس بریوری کے کا سب سے بڑا اور غیر متوقع فائدہ کیپٹین صفدر کی مزار قائد پر جذباتی جمہوری نعروں اور نتیجتا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رعونت بھرے اقدامات اور سندھ پولیس کے انتہائی موثر احتجاج نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس نے اس گندی اسٹیبلشمنٹ کو پوری طرح برہنہ کرکے میاں صاحب کو یہ کہنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ “دیکھیں ریاست سے اوپر ریاست کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے.” حالیہ چھکے اور چوکوں سے میاں صاحب اور انکی بہادر اور کراؤڈ پلر بیٹی نے اس میچ میں اپنے لئے سازگار ماحول بنالیا ہے . اب سے کچھ عرصہ قبل تک عمران اور اسٹیبلشمنٹ حزب اختلاف کے پیچھے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے چوروں کے پیچھے کوتوال مگر اب صورتحال میں کافی بدلاؤ آچکا ہے اسٹیبلشمنٹ پہلی مرتبہ کافی عرصہ کے بعد دفاعی انداز میں آچکی ہے حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ ڈھکے چھپے الفاظ میں خان بھی باجوہ پر تنقید کررہا ہے .جو کہ ایک تشویشناک بات ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ ایسا ہی ہے جو نظر آرہا ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے ہی کچھ عناصر پی ڈی ایم کے پیچھے ہیں اور انکو عوامی دباؤ بڑھاکر عمران کو بلکل ہی تابعدار بنانا چاہتے ہیں جسکا اشارہ حالیہ دنوں میں خان نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ اگر میری حکومت جاتی ہے تو جائے مگر میں نے ان چوروں کو نہیں چھوڑنا . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکو یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ اسکی حکومت جاسکتی ہے؟ اور اگر حکومت جاتی ہے تو عمران کی سیاست کے لئے یہ بیانیہ ضروری ہے کہ دیکھو میں نے چوروں اور مافیاؤں پر کمپرومائز نہیں کیا اور اپنی حکومت سے جان چھڑالی . ایک بلین ڈالر کا سوال ہے کہ وہ کونسی صورت ہو سکتی ہے جسکے تحت یہ حکومت گھر چلی جائے اور نیے انتخابات کی صورت بنے؟ ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ خان کو بھی عدالت کے ذرئیے نااہل قرار دلوادیا جائے یا یوسف رضا گیلانی ٹائپ کا مقدمہ بنا کر اسکو باہر کردیا جائے جسکے نتیجے میں سڑکوں پر کچھ امن و امان کا مسلہ پیدا ہوجاے اور حالت کو درست کرنے کے بہانے اقدامات لئے جایں. اور بھی کچھ صورتیں ہوسکتیں ہیں . اب آتے ہیں اصل نکتہ کی طرف کہ کیا فوج سے مذاکرت کی بات کرکے مریم نے کچھ غلط کیا ہے؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ فوج ایک ڈی فیکٹو طاقت ہے اور اس سے آپ کو بات کرنی ہی پڑے گی . اہم بات یہ ہے کہ کیا بات کرنی ہے. اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ حالت میں اسٹیبلشمنٹ نے کچھ علاقہ بحالت مجبوری خالی کیا ہے، فلحال فوج کو فیس سیونگ دی جاسکتی ہے اور دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بندوق کس کے پاس ہے . ایک بات مگر طے ہے کہ مریم گروپ اگر حکومت میں آتی ہے تو اسٹبلشمنٹ کو کافی علاقہ خالی کرنا پڑے گا خطرہ اس صورتحال کا یہ ہے کہ کیا خان کو رسی تڑوا کر بھاگنے اور حزب اختلاف کی سیاست کرنے کی سہولت دی سکتی ہے ؟ یہ بہت خطرناک آپشن ہوگا کیوں کہ حکومت میں رہتے ہوے خان جن رسیوں میں بندھا ہوا ہے آزاد ہوتے ہی اسکی زبان پر قابو کرنا ناممکن ہوگا اسکو یا تو جیل میں ڈالنا پڑے گا یا مستقل علاج کرنا پڑےگا جو بھی ہو آنے والا وقت انتہائی دلچسپ ہونے جارہا ہے

    گھوسٹ بھائی بہت اچھی تجزیہ کیا آپ نے حالات کا ، سارے اینٹی اسٹیبلشمنٹ لوگ بہت خوش ہیں میاں صاحب کے نام لے کر فوجیوں کو للکارنے پر مگر اس کا سیاسی طور پر کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہے یہ دیکھنا ہو گا – ایک بات طے ہے کہ میاں صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کے لئے کوئی چوئیس نہیں چھوڑی کہ وہ خان صاحب سے اپنی جپھی مزید مظبوط کر لے – اگر میاں صاحب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی نہیں ہے تو پھر بظاھر تو میاں صاحب کے لئے یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہو گا اور انہوں نے خان کے پانچ سال پورے ہونے کے بھد بھی اپنے آنے کے چانس ختم کر دئے ہیں – دوسری طرف دیکھیں تو نون کے پاس بھی کوئی چوئیس نہیں تھی – حالات ایسے بنائے جا رہے تھے کہ سینٹ کے الیکشن کے بھد قانون سازی کر کے ان کے گرد شکنجہ مزید سخت کیا جائے اور خان حکومت والے موجودہ سیٹ اپ کو خان حکومت کے پانچ سال پورے ہونے کے بھد بھی جاری رکھا جائے جس میں اختیارات خان کے پاس کم اور مقتدرہ کے پاس زیادہ ہیں – نون لیگ نے سوچا ہے جب مرنا ہی ہے تو کیوں نہ لڑ کر مرا جائے اس سے کوئی فائدہ ہو نہ ہو نقصان بھی مزید کیا ہو گا – مرے ہوئے کو کیا مارو گے اور پھر وہ وقت بھی دور نہیں تھا جب شہباز شریف اور حمزہ کو بھی سات دس سال کے لئے نیب جیل کی سزا سنا دیتا – جب مفاہمت بھی ناکام ہے تو کیوں نا مزاحمت کو ٹاپ گئیر لگایا جائے – ہر چیز کا انجام بات چیت پر ہونا ہوتا ہے اسلئے مریم نے کچھ غلط نہیں کیا مگر میرا خیال ہے میاں صاحب نے ہمت کر ہی لی ہے تو فلحال آگ میں تھوڑا اور ایندھن ڈالیں یا آگ کو اسی رفتار سے چلنے دیں کیونکے ابھی فوج پر اتنا دباؤ نہیں پڑا کہ آپ کے حق میں کوئی نتیجہ نکل سکے – آج مریم نے سوات میں جلسے سے خطاب کیا وہاں میاں صاحب نے بھی ویڈیو لنک پر تقریر کی مگر کہیں رپورٹ نہیں ہوا میاں صاحب نے وہاں کیا کہا – اس تقریر کے سننے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ میاں صاحب اس لڑائی کو آگے کیسے لے کر چلنا چاہتے ہیں – میاں صاحب کو کچھ ملے یا نہ ملے مگر میاں صاحب نے سیاسی عمل میں فوج کی مداخلت کو اب ایسا موضوع بنا دیا ہے کہ اب ہر کوئی کھل کر اس پر بات کر رہا ہے اور وہ دن گئے جب فوج کی بجائے دوسرے الفاظ جیسے طاقت ور حلقے ، مقتدرہ ، خلائی مخلوق ، محکمہ زراعت ، پوشیدہ قوتیں وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے جاتے تھے – آج کالم نگار بھی بہادر ہو گئے ہیں اور کھل کر فوج کا نام لے رہے ہیں – یہ چیز کہیں نہ کہیں کبھی نہ کبھی ملک کو فائدہ ضرور دے گی –

    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #11
    Awan اعوان بھائی، انگریزی کا مقولہ ہے کہ “فارچون فیور دا بریو” ایمانداری کی بات ہے کہ اپنی سیاست کے اس موڑ پر میاں صاحب نے میری توقع اور اپنی روایات کے بر خلاف کہیں زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا ہے اس بریوری کے کا سب سے بڑا اور غیر متوقع فائدہ کیپٹین صفدر کی مزار قائد پر جذباتی جمہوری نعروں اور نتیجتا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رعونت بھرے اقدامات اور سندھ پولیس کے انتہائی موثر احتجاج نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جس نے اس گندی اسٹیبلشمنٹ کو پوری طرح برہنہ کرکے میاں صاحب کو یہ کہنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ “دیکھیں ریاست سے اوپر ریاست کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہئے.” حالیہ چھکے اور چوکوں سے میاں صاحب اور انکی بہادر اور کراؤڈ پلر بیٹی نے اس میچ میں اپنے لئے سازگار ماحول بنالیا ہے . اب سے کچھ عرصہ قبل تک عمران اور اسٹیبلشمنٹ حزب اختلاف کے پیچھے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے چوروں کے پیچھے کوتوال مگر اب صورتحال میں کافی بدلاؤ آچکا ہے اسٹیبلشمنٹ پہلی مرتبہ کافی عرصہ کے بعد دفاعی انداز میں آچکی ہے حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ ڈھکے چھپے الفاظ میں خان بھی باجوہ پر تنقید کررہا ہے .جو کہ ایک تشویشناک بات ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ ایسا ہی ہے جو نظر آرہا ہے یا اسٹیبلشمنٹ کے ہی کچھ عناصر پی ڈی ایم کے پیچھے ہیں اور انکو عوامی دباؤ بڑھاکر عمران کو بلکل ہی تابعدار بنانا چاہتے ہیں جسکا اشارہ حالیہ دنوں میں خان نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ اگر میری حکومت جاتی ہے تو جائے مگر میں نے ان چوروں کو نہیں چھوڑنا . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکو یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ اسکی حکومت جاسکتی ہے؟ اور اگر حکومت جاتی ہے تو عمران کی سیاست کے لئے یہ بیانیہ ضروری ہے کہ دیکھو میں نے چوروں اور مافیاؤں پر کمپرومائز نہیں کیا اور اپنی حکومت سے جان چھڑالی . ایک بلین ڈالر کا سوال ہے کہ وہ کونسی صورت ہو سکتی ہے جسکے تحت یہ حکومت گھر چلی جائے اور نیے انتخابات کی صورت بنے؟ ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ خان کو بھی عدالت کے ذرئیے نااہل قرار دلوادیا جائے یا یوسف رضا گیلانی ٹائپ کا مقدمہ بنا کر اسکو باہر کردیا جائے جسکے نتیجے میں سڑکوں پر کچھ امن و امان کا مسلہ پیدا ہوجاے اور حالت کو درست کرنے کے بہانے اقدامات لئے جایں. اور بھی کچھ صورتیں ہوسکتیں ہیں . اب آتے ہیں اصل نکتہ کی طرف کہ کیا فوج سے مذاکرت کی بات کرکے مریم نے کچھ غلط کیا ہے؟ میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ فوج ایک ڈی فیکٹو طاقت ہے اور اس سے آپ کو بات کرنی ہی پڑے گی . اہم بات یہ ہے کہ کیا بات کرنی ہے. اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ موجودہ حالت میں اسٹیبلشمنٹ نے کچھ علاقہ بحالت مجبوری خالی کیا ہے، فلحال فوج کو فیس سیونگ دی جاسکتی ہے اور دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ بندوق کس کے پاس ہے . ایک بات مگر طے ہے کہ مریم گروپ اگر حکومت میں آتی ہے تو اسٹبلشمنٹ کو کافی علاقہ خالی کرنا پڑے گا خطرہ اس صورتحال کا یہ ہے کہ کیا خان کو رسی تڑوا کر بھاگنے اور حزب اختلاف کی سیاست کرنے کی سہولت دی سکتی ہے ؟ یہ بہت خطرناک آپشن ہوگا کیوں کہ حکومت میں رہتے ہوے خان جن رسیوں میں بندھا ہوا ہے آزاد ہوتے ہی اسکی زبان پر قابو کرنا ناممکن ہوگا اسکو یا تو جیل میں ڈالنا پڑے گا یا مستقل علاج کرنا پڑےگا جو بھی ہو آنے والا وقت انتہائی دلچسپ ہونے جارہا ہے

    ایک بات کا جواب رہ گیا تھا – آپ نے کہا ہے ملین ڈالر کا سوال ہے کہ حکومت کیسے جائے – بظاھر لگتا ہے خان کو گھر بھیجنا بہت مشکل ہے مگر یہ منحصر کرتا ہے اسٹیبلشمنٹ کونسا طریقہ اختیار کرتی ہے -خان کو نا اہل قرار دینے والے آپشن کو میں خارج الامکان قرار دونگا کیونکے اسے کوئی نہیں مانے گا نہ اسٹیبلشمنٹ اس حد تک جائے گی کہ خان جیسے فرمابردار کو ہمیشہ کے لئے نا اہل کر دے – میرے خیال کے مطابق سب سے پہلے اسٹیبلشمنٹ خان کو استعفیٰ دینے کا کہے گی اور تقریبا سو فیصد امکان ہے کہ خان انکار کرے گا – بائیس سال کے پاپڑ بیلنے کے بھد وہ کیسے اتنی آسانی سے اقتدار کو جانے دے گا – اس کے بھد خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے اور اس تحریک کو کامیاب کرنا ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے اپوزیشن تو اپوزیشن حکومت میں شامل ق لیگ اور ایم قیو ایم بھی خان کے خلاف ووٹ دینگی آزاد امیدواروں کا کیا وہ تو آسان ہدف ہونگے – مزے کی بات یہ ہے جس نے جہاز میں ڈھو ڈھو کر خان کے لئے بندے پورے کئے تھے وہی مخالفت کے لئے اپنا جہاز پیش کرے گا – خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بھد اسٹیبلشمنٹ ایک آدھا تیتر آدھا بٹیر کی طرح سب پارٹیوں کے اپنے وفاداروں پر مشتمل ایک حکومت اور اوپر شاہ محمود جیسا کوئی اپنا پٹھو وزیر اعظم لا سکتی ہے – میں سمجھتا ہوں یہ آپشن قومی حکومت کے نام پر بہت پہلے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے شہباز شریف کو پیش کی جا چکی ہے جسے نون لیگ خاص کر میاں صاحب رد کر چکے ہیں – نیا وزیر اعظم اسمبلیاں توڑ کر نئے اتخابات بھی کروا سکتا ہے جو نون سمیت تمام اپوزیشن قبول کرے گی -یہ سب تب ممکن ہے جب واقعی فوج کے کچھ عناصر جو اینٹی باجوہ ہیں پس پردہ نون یا اپوزیشن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو اسٹیبلشمنٹ کیوں انتخابات کروا کر نون کو اپنے سر پر بٹھائے گی ؟ سب سے زیادہ اسی بات کے چانس ہیں کہ اپوزیشن کو ابھی لمبی لڑائی لڑنی ہے اور پانچ سال خان کے پورے ہونگے – خان کے اقتدار کے آخری سال آگے کی منصوبہ بندی ہو گی خاص کر باجوہ کے جانے کے بھد – باجوہ خان حکومت کے آخری سال جائے گا اور خان کتنا بھی اپنا وفا دار جنرل لے کر آئے اس نے وہی کرنا ہے جو فوج پہلے سے طے کر چکی ہو گی –

    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    #12
    جے بھیا، سب سے پہلے تو طویل عرصہ کے بعد محفل کو رونق بخشنے پر آپ کو خوش آمدید. جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو یہ فرد کا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ اس کو کیا کہنا ہے پاکستانی سیاست کا کویی ایسا ہوشمند طالب علم نہیں ہو سکتا جو فوج کی پاکستانی سیاست میں بطور ایک عامل کی موجودگی کا انکار کرے بلکہ یہی تو آرگیو منٹ ہے کہ فوج ایک عامل ہے اور اسکو نہیں ہونا چاہئے . ان صفحات پر اس لفظ کونسٹنٹ کو لے کر جب بھی بات ہویی ہے وہ اس پیرائے میں ہویی ہے کہ فوجی عامل کے مقابلے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ ٹرمینالوجی کا استعمال اختلاف کی جڑ نہیں ہے . کیا ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کے لئے طب کا پیشہ اختیار کرتے ہیں یا عزت و دولت کمانے کے لئے؟ کیا انجینئیر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں یا عزت اور نسبتا خوشحالی کے لئے؟ کیا فوج میں افسر ملک کی حفاظت اور جان قربان کرنے کے جذبے تحت بنا جاتا ہے یا عزت، طاقت اور کچھ حد تک پیسہ بنانے کے لئے ؟ ان سوالوں کا جواب اسطرح دیا جاسکتا ہے کہیں نہ کہیں ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض و مقاصد کے ساتھ اوور لیپ کرتے ہیں اسی طرح سیاست دان کی جدوجہد بھی اقتدار کے حصول کے لئے ہوتی ہے اور ہونا بھی چاہئے ورنہ کس کا دماغ خراب ہوا ہے کہ اپنی دولت جلسے جلوسوں میں لٹاتاپھرے ؟ .سیاست دان کے بھی ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض مقاصد کے ساتھ کہیں نہ کہیں اوور لیپ کریں گے اور سیاست دان جمہوری ہوگا تو یہ اوور لیپ کا رقبہ بڑھ جائے گا سیاست دان فوجی ہوگا تو یا تو اوور لیپ ہوگا ہی نہیں یا بہت کم ہوگا . اسی لئے سول سوسایٹی کا فرض ہے کہ فوجی عامل کا سیاست میں کردار کم سے کم کروایا جائے تاکہ عوامی مفاد اور سیاست دان کے ذاتی مفاد کا اشتراک زیادہ سے زیادہ بڑھ سکے .

    Ghost Protocol sahib

    محترم

    بہت بہت شکریہ

    آپکی جمہوریت پسندی اور حقیقت آشنائی کا ہمیشہ معترف رہا ہوں اور لگتا ہے ہمیشہ رہوں گا

    انگریزی کانسٹنٹ کے موضوع پر تو شاید کچھ اور بات کرنا غیر ضروری ہے کہ نہ آپ نہ باقی اور نہ شاید میں اس سے انکاری ہیں کے کچھ غیر سیاسی قوتیں ڈی فیکٹو طاقتیں ہیں اور اس پر بھی آپ، باقی سب اور شاید میں بھی اس پر متفق ہیں کہ ان کو ایسا نہیں ہونا چاہے اور جو سیاسی قوتیں ان سے برسر پیکار ہیں انکی حمایت جمہوری سوچ رکھنے والوں پر لازم ہے

    دوسری بات پر بھی لگتا ہے کے اتفاق ہے . اپنا مفاد انسانی ذات کا حصہ ہے اور خاص طور پر مجھ کمزور منافق لوگوں کے لئے تو یہ سب سے اہم ہے

    جہاں تک ڈاکٹر اور انجنئیر یا کسی اور پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا تعلق ہے میں اس بات سے متفق ہوں کے وہ بھی اپنا مفاد مقدم رکھتے ہیں
    ان میں اور سیاستدانوں میں میرے نزدیک ایک دو فرق ہیں ١) یہ عوام کے ووٹوں کی مدد سے اپنا پیشہ اختیار اور حاصل نہیں کرتے ٢) یہ عوام سے کوئی وعدہ نہیں کرتے نہ ان سے جان، مال ، وقت وغیرہ کی قربانی مانگ کر اپنا پیشہ حاصل کرتے ہیں.

    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    #13

    جے ایم پی صاحب ، دخل اندازی پر معذرت مگر آپ کا سوال اس لحاظ سے بہت ریلیونٹ ہے کہ اس سارے عمل کا نتیجہ اگر انتخابات کی شفافت اور غیر جانبداری پر نکلتا ہے تو یہ نہ صرف شیر بلکہ پورے ملک کے لیے قابل ستائش ہے ۔ عوام کے صحیح نمائندے صرف اور صرف ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے نتیجے میں کامیابی پانے والے امیدواروں کی صورت میں ہی سامنےآسکتے ہیں ۔ سالہاسال سے چلنے والے اس بوسیدہ ، نقب شدہ اور بدبو دار عمل کے نتیجے میں آنے والے مسخرے ہم بہت بھگت چکے ہیں ۔ لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اور حالات کا اندازہ لگاتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ عوام کے حق رائے دہی پر نقب لگانے والے ، اتنی آسانی سے باز نہیں آئیں گے ۔ جو خون ان کے لبوں کو لگ چکا ہے ، وہ اس ذائقے کے عادی ہوچکے ہیں ۔ ابھی کل ہی الیکشن کمشنر گلگت کا انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا ، دل چاہا کہ اس چوھے نما انسان کو پہاڑی سے نیچے لٹکا دیا جائے ، خچر اس بات سے خوشی سے پھولا نہیں سما رہا کہ جرمانے کی مد میں خلاف ورزیوں کے نتیجے میں قومی خزانے میں اب تک چھ لاکھ اور کچھ ہزار روپے جمع کرواچکا ہے ، اس نے یہ جملہ متعدد بار استعمال کیا ۔ کس ڈنگر کو یہ ذمہ داری سونپی گئ ہے ۔ وللہ عالم ۔

    Zaidi sahib

    محترم زیدی صاحب

    آپ جب چاہیں جو چاہیں میری تحریر کے حوالے سے تحریر کر سکتے ہے، اختلاف کر سکتے ہیں اور اپنی قیمتی راۓ سے گفتگو کو مزید آگے بڑھا سکتے ہیں

    اگر سبز والی بات پوری ہو جاۓ تو اس سےزیادہ کچھ بہتر نہیں ہے

    ویسے ١٩٨٨ سے جتنی حکومتیں بار سر اقتدار آئ ہیں اور اس میں سے مشرف صاحب کے اقتدار کو الگ کر دیں تو کس سیاسی جماعت نے ہمیشہ دوسری بر سر اقتدار جماعت کو نہ قبول کیا نہ انکی جمہوری سوچ کی حمایت کی نہ ہی ان کے خلاف ساز باز سے پرہیز کیا ہے

    مسلم لیگ نون اور محترم نواز شریف صاحب اور اب محترمہ مریم صاحبہ کو دوسری سیاسی جماعتوں پر صرف ایک ہی فوقیت ہے اور اس فوقیت کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے مگر اس سے جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں ہوئی ہے میری نظر میں .

    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    #14

    جہاں تک ڈاکٹر اور انجنئیر یا کسی اور پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا تعلق ہے میں اس بات سے متفق ہوں کے وہ بھی اپنا مفاد مقدم رکھتے ہیں ان میں اور سیاستدانوں میں میرے نزدیک ایک دو فرق ہیں ١) یہ عوام کے ووٹوں کی مدد سے اپنا پیشہ اختیار اور حاصل نہیں کرتے ٢) یہ عوام سے کوئی وعدہ نہیں کرتے نہ ان سے جان، مال ، وقت وغیرہ کی قربانی مانگ کر اپنا پیشہ حاصل کرتے ہیں.

    جے بھیا،
    میں آپ کی دیگر پیشوں اور سیاستدانوں میں کی جانے والی پہلی تفریق سے کلی اور دوسری تفریق سے جزوی اتفاق کرتا ہوں جزوی اس لئے کہ مہذب ممالک میں ریگولٹڈ پیشہ ایک کوڈ آف ایتھکس کے تحت ریگولیٹ کئیے جاتے ہیں جنمیں پیشہ ور سے عوامی مفاد کا حلف لیا جاتا ہے
    اس سلسلے میں مزید عرضی کو اپنے گزشتہ تبصرے سے جوڑوں گا کہ سیاستدان اگر عوامی و اور جمہوری طریقہ سے آئے گا یعنی حقیقی سیاستدان ہوگا تو اسکے مفادات اور عوامی مفادات میں اشتراک بہت زیادہ ہوگا جیسا کہ “نارمل” جمہوریاؤں میں ہوتا ہے مگر فوجی انڈوں سے نکلے اور کنٹرولڈ سیاستدانوں کی وفاداری عوامی مفادات سے زیادہ مقتدرہ سے زیادہ ہوگی اور ہوتی ہے جسکا عوامی مفاد سے تعلق ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ پاکستان کی مثال میں تو یہ عوامی مفاد کے معکوس ہی ہے
    پاکستان جہاں کی سیاست میں داخلہ اور بقا فوجیوں کی مرھون منت ہے اور باغی غداروں کی بقا کی کویی گنجائش نہیں ہے اسمیں ٢٤ قیراط خالص سیاستدان آپ کو مل نہیں سکتا ہے لہذا ایک ٹرانزیشن کا دور آئے گا اسمیں موجود ہر سیاستدان کا ایک بیگیج ہوگا ماضی ہوگا جو جاتے جاتے جائیگا . میرا اپنا خیال ہے کہ پاکستان اس دور سے گزر رہا تھا مگر فوجیوں نے ترپ کا پتہ پھر سے پھینکا اور عمران خان کی شکل میں ایک اور پپٹ میدان میں اتار کر کھیل کو نوے کی دھائی میں دھکیل دیا اسی لئے اس ٹرانزیشن کو رول بیک کرنے کا میں سب سے بڑا قصور وار عمران خان کو سمجھتا ہوں اور وہ تمام اسکے سپورٹرز جو اس تمام صورتحال سے بدرجہ اتم واقف ہیں اور فوجیوں کے بوٹ برضا و رغبت چاٹتے ہیں وہ اس قصور بلکہ جرم میں برابر کے شریک ہیں

    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    #15
    Zaidi sahib

    ویسے ١٩٨٨ سے جتنی حکومتیں بار سر اقتدار آئ ہیں اور اس میں سے مشرف صاحب کے اقتدار کو الگ کر دیں تو کس سیاسی جماعت نے ہمیشہ دوسری بر سر اقتدار جماعت کو نہ قبول کیا نہ انکی جمہوری سوچ کی حمایت کی نہ ہی ان کے خلاف ساز باز سے پرہیز کیا ہے .

    ویسے میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ مشرف کے ہاتھوں میاں صاحب کی ہتک آمیز بر خواستگی اگر نہ ہویی ہوتی تو انکے انڈے سے جمہوری چوزہ کبھی برآمد نہ ہونا تھا ١٩٩٦ میں دو تہائی اکثریت کے بعد میاں صاحب کی رعونت کسی اور ہی آسمان پر تھی اور اپنے مخالفین کا وجود انکو بلکل بھی برداشت نہ ہوتا مگر ٢٠٠٦ کا چارٹر آف ڈیموکریسی کا معجزہ اسی زخم سے رستا ہوا نکلا تھا جو مشرف نے لگائے تھے .
    وہ کہتے ہیں نا کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے ہوسکتا ہے آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی اچھے کے لئے ہو رہا ہے کیوں کہ مریم کا غصہ بھی اسی ہتک کا نتیجہ ہے جو فوجیوں کے ذرئیے شریف خاندان کی ہو رہی ہے

    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    #16
    اسی لئے اس ٹرانزیشن کو رول بیک کرنے کا میں سب سے بڑا قصور وار عمران خان کو سمجھتا ہوں اور وہ تمام اسکے سپورٹرز جو اس تمام صورتحال سے بدرجہ اتم واقف ہیں اور فوجیوں کے بوٹ برضا و رغبت چاٹتے ہیں وہ اس قصور بلکہ جرم میں برابر کے شریک ہیں

    بہت عمدہ، بہت اعلیٰ۔۔۔۔۔

    گھوسٹ صاحب آپ کی اندھی(اور اندھا دُھند) حق پرستی کی بصیرت کا تو پورا فورم بلکہ ایک زمانہ قائل ہے۔۔۔۔۔ مگر اوپر آپ کا گہرا کیا گیا جملہ پڑھ کر رہا نہیں گیا اور آپ کو داد دینے سے اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔۔۔۔

    مَیں بھی آپ کی اِقتداء میں اِسی حق پرستانہ بَحر میں کچھ کہنا چاہوں گا۔۔۔۔۔

    مَیں کراچی کو خون میں نہلانے کا سب سے بڑا قصوروار الطاف حسین کو سمجھتا ہوں اور مختلف آن لائن بلاگز پر پائے جانے والے وہ تمام اسکے بھونپو جو اس تمام صورتحال سے بدرجہ اَتم واقف ہیں اور الطاف حسین اور ایم کیو ایم کا انتہائی منطقی دفاع کرتے ہوئے ایک خیالی و تصوراتی دُنیا تخلیق کرتے ہیں، وہ اس قتل و غارت کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔۔۔۔۔

    :cwl: ;-) :cwl: ™©

    • This reply was modified 1 year, 6 months ago by BlackSheep.
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    #17
    جے بھیا، سب سے پہلے تو طویل عرصہ کے بعد محفل کو رونق بخشنے پر آپ کو خوش آمدید. جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو یہ فرد کا فیصلہ ہو سکتا ہے کہ اس کو کیا کہنا ہے پاکستانی سیاست کا کویی ایسا ہوشمند طالب علم نہیں ہو سکتا جو فوج کی پاکستانی سیاست میں بطور ایک عامل کی موجودگی کا انکار کرے بلکہ یہی تو آرگیو منٹ ہے کہ فوج ایک عامل ہے اور اسکو نہیں ہونا چاہئے . ان صفحات پر اس لفظ کونسٹنٹ کو لے کر جب بھی بات ہویی ہے وہ اس پیرائے میں ہویی ہے کہ فوجی عامل کے مقابلے میں ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ ٹرمینالوجی کا استعمال اختلاف کی جڑ نہیں ہے . کیا ڈاکٹر انسانیت کی خدمت کے لئے طب کا پیشہ اختیار کرتے ہیں یا عزت و دولت کمانے کے لئے؟ کیا انجینئیر ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے انجینیرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں یا عزت اور نسبتا خوشحالی کے لئے؟ کیا فوج میں افسر ملک کی حفاظت اور جان قربان کرنے کے جذبے تحت بنا جاتا ہے یا عزت، طاقت اور کچھ حد تک پیسہ بنانے کے لئے ؟ ان سوالوں کا جواب اسطرح دیا جاسکتا ہے کہیں نہ کہیں ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض و مقاصد کے ساتھ اوور لیپ کرتے ہیں اسی طرح سیاست دان کی جدوجہد بھی اقتدار کے حصول کے لئے ہوتی ہے اور ہونا بھی چاہئے ورنہ کس کا دماغ خراب ہوا ہے کہ اپنی دولت جلسے جلوسوں میں لٹاتاپھرے ؟ .سیاست دان کے بھی ذاتی اغراض و مقاصد قومی اغراض مقاصد کے ساتھ کہیں نہ کہیں اوور لیپ کریں گے اور سیاست دان جمہوری ہوگا تو یہ اوور لیپ کا رقبہ بڑھ جائے گا سیاست دان فوجی ہوگا تو یا تو اوور لیپ ہوگا ہی نہیں یا بہت کم ہوگا . اسی لئے سول سوسایٹی کا فرض ہے کہ فوجی عامل کا سیاست میں کردار کم سے کم کروایا جائے تاکہ عوامی مفاد اور سیاست دان کے ذاتی مفاد کا اشتراک زیادہ سے زیادہ بڑھ سکے .

    گھوسٹ صاحب
    آپ کے اس تجزئیے سے متفق نہی ہوں کہ فوج کے کچھ عناصر اپنی کمانڈ کی پالیسی کے مخالف جا کر نواز شریف اور مریم کو ان کی تحریک میں مدد کر رہے ہونگے۔ میرے خیال میں پاکستان فوج میں ایسا نہی ہوتا سوائے اس بات کے کہ پچھلے چوہتر سال میں ایسا ایک آدھ واقعہ ہو گیا ہو۔ پاکستان کی افغان اور کشمیر پالیسی میں امریکہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے اس بیانئے کو ایک عزر کے طور پر ضرور پیش کیا ہے کہ ہائی کمانڈ پر الزام سے بچا جائے لیکن درحقیقت ایسا ہے نہی۔

    آپ کی دوسری بات کہ سیاست دان کے مفادات اور عوامی مفادات میں زیادہ اشتراک ہوتا ہے پر یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ بات اصولی طور پر اور مغربی ممالک تک تو صحیح ہے لیکن پاکستان کی حد تک اس میں کوئی سچائی نہی۔ عوام کا سب سے زیادہ مفاد بلدیاتی نظام میں ہے ہوتا ہے لیکن پاکستان میں جب بھی سیاست دان کی حکومت آئی ہے تو بلدیاتی نظام کو یا تو بے بس کر دیا گیا یا پھر چلتا ہی کر دیا گیا۔ اسی طرح باقی معاملات میں بھی یا تو ذاتی مالی مفاد دیکھا گیا ہے یا پھر ان پڑھ عوام سے ایسی دھوکا دہی کہ عوام خوش تو ہو جائیں گے لیکن دور رس نتائج عوام کی تباہی ہوگا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ن لیگ نے بجلی کے جتنے بھی منصوبے لگائے ان کی اوسط فی کلو واٹ قیمت ۱۱ اعشاریہ ۲۸ پینس ہے جبکہ اسی عرصے میں انڈیا میں جتنے بھی بجلی کے منصوبے لگے ان کی قیمت ساڑھے چار پینس سے سات پینس تک ہے۔اسی طرح ڈان لیکس کے بعد ن لیگ نے یہ معلوم پڑنے کے بعد کہ اگلی حکومت ان کی نہی بلکہ عمران خان کی ہے، ملک کی معیشت کے ساتھ جو کچھ کیا اور اس کا جو عوام نے خمیازہ پچھلے دو سال میں بھگتا وہ پری پلانڈ بھی تھا اور عوام کے مفادات کا قتل بھی۔ پی پی پی نے بیس پچیس سال میں سندھ کا جو حشر کیا ہے یا کراچی ہی کی مثال لے لیں تو پاکستان کے سیاست دان کا اپنا دولت اور طاقت کا بھوکا مفاد عوامی مفاد سے بہت کم ملتا نظر آئے گا۔

    .
    یہی وجہ ہے کہ آج بھی عوام یہ فیصلہ نہی کر پا رہے کہ ہمیں آمریت چاہئیے یا آمریت نما جمہوریت۔

    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    #18
    گھوسٹ صاحب آپ کے اس تجزئیے سے متفق نہی ہوں کہ فوج کے کچھ عناصر اپنی کمانڈ کی پالیسی کے مخالف جا کر نواز شریف اور مریم کو ان کی تحریک میں مدد کر رہے ہونگے۔ میرے خیال میں پاکستان فوج میں ایسا نہی ہوتا سوائے اس بات کے کہ پچھلے چوہتر سال میں ایسا ایک آدھ واقعہ ہو گیا ہو۔ پاکستان کی افغان اور کشمیر پالیسی میں امریکہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے اس بیانئے کو ایک عزر کے طور پر ضرور پیش کیا ہے کہ ہائی کمانڈ پر الزام سے بچا جائے لیکن درحقیقت ایسا ہے نہی۔
    شاہد بھائی،
    آپ نے میرا جو تبصرہ قوٹ کیا ہے اسمیں میں نے فوج کے عناصر کا پی ڈی ایم کی پشت پناہی کے بارے میں کویی تجزیہ پیش نہیں کیا ہے ہاں اپنے پچھلے ایک تبصرے میں اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ فوج کے ہی کچھ عناصر میں کچھ لوگ پی ڈی ایم کی پشت پناہی کررہے ہوں. ہمیں یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ فوج میں ایک بہت بڑا طبقہ میاں صاحب سے ہمدردی رکھتا ہو گا اور ہو سکتا ہے عمران خان کو پسند نہ کرتا ہو خصوصا حکومت کی انتہائی نقص کارکردگی کے چلتے بھی یہ ناراضگی بڑھ رہی ہو مگر ڈسپلن کی وجہ سے خاموش ہو. فوج کے ہائر رینکس میں باجوہ صاحب کی ایکسٹنشن کی وجہ سے کچھ افسران کا ان سے ناراض ہونا بھی قابل فہم ہے ماضی میں وکلا تحریک کے بارے میں شنید رہی ہے کہ کیانی صاحب نے اسکو ہوا دینے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا اور مشرف کی رخصتی کا سب سے زیادہ فائدہ بھی کیانی صاحب کو ہوا تھا. دوسرے خان نے ایک سے زیادہ مرتبہ حالیہ دنوں میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ حکومت جاتی ہے تو جائے مگر میں نے چوروں کو نہیں چھوڑنا ہے تو سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اسکی روایتی بونگی ہے یا دال میں کچھ کالا بھی ہے؟ یہ بہرحال ایک امکان ہے اور پاکستان کے تناظر میں عجیب و غریب امکانات کی گنجائش ہمیشہ برقرار رہتی ہے .

    آپ کی دوسری بات کہ سیاست دان کے مفادات اور عوامی مفادات میں زیادہ اشتراک ہوتا ہے پر یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ بات اصولی طور پر اور مغربی ممالک تک تو صحیح ہے لیکن پاکستان کی حد تک اس میں کوئی سچائی نہی۔ عوام کا سب سے زیادہ مفاد بلدیاتی نظام میں ہے ہوتا ہے لیکن پاکستان میں جب بھی سیاست دان کی حکومت آئی ہے تو بلدیاتی نظام کو یا تو بے بس کر دیا گیا یا پھر چلتا ہی کر دیا گیا۔ اسی طرح باقی معاملات میں بھی یا تو ذاتی مالی مفاد دیکھا گیا ہے یا پھر ان پڑھ عوام سے ایسی دھوکا دہی کہ عوام خوش تو ہو جائیں گے لیکن دور رس نتائج عوام کی تباہی ہوگا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ن لیگ نے بجلی کے جتنے بھی منصوبے لگائے ان کی اوسط فی کلو واٹ قیمت ۱۱ اعشاریہ ۲۸ پینس ہے جبکہ اسی عرصے میں انڈیا میں جتنے بھی بجلی کے منصوبے لگے ان کی قیمت ساڑھے چار پینس سے سات پینس تک ہے

    پاکستانی سیاستدانوں کے حوالے سے عوام مفادات کے خلاف خصوصا بلدیاتی اختیارات کو غضب کرنے والے آپ کے مشاہدے سے سو فیصد متفق ہوں لوگوں کی ایسی ذہنیت بن گئی ہے کہ بلدیاتی سطح کے منصوبوں کی شروعات ، انکا افتتاح اور انکا کریڈٹ وزیر اعلی اور وزیر اعظم کی سطح سے لیا جاتا ہے مگر آپ اس بات پر بھی غور کریں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ آپ نے ایک طرح سے میری ہی بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر سیاستدان فوجی فیکٹری کی پیداوار ہوگا تو اسکے ذاتی مفادات اور عوامی مفادات میں اشتراک کم سے کم ہوگا اور کہیں تو یہ عوامی مفادات کے معکوس ہی ہوگا آپ نے جیسا کہ اپنے تبصرے میں فرمایا ہے کہ اصولی طور پر اور مغربی ممالک میں تو شاید سیاستدان اور عوامی مفادات میں اشتراک ہوتا ہے اور وہاں ایسا اسی لئے ہوتا ہے کہ وہاں کی فوج انتخابی عمل میں من مانی نہیں کرتی ہے اور یہی ہماری بھی منزل ہونی چاہئے ہماری فوج بھی بجائے سیاست کو کنٹرول کرنے کے اگر سول اداروں یعنی الیکشن کمیشن، میڈیا ، پولیس، احتسابی اداروں اور عدلیہ کے پیچھے اپنا وژن رکھ دے اور ہر قسم کی بد معاشی سے ان اداروں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے تو کچھ بعید نہیں ہے کہ ایک ڈیڑھ دھائی میں جمہوری کلچر پروان چڑھ جائے اور ہماری تنقید فوج پر اور بوٹ چاٹیوں پر اسی حوالے سے ہوتی ہے

    اسی طرح ڈان لیکس کے بعد ن لیگ نے یہ معلوم پڑنے کے بعد کہ اگلی حکومت ان کی نہی بلکہ عمران خان کی ہے، ملک کی معیشت کے ساتھ جو کچھ کیا اور اس کا جو عوام نے خمیازہ پچھلے دو سال میں بھگتا وہ پری پلانڈ بھی تھا اور عوام کے مفادات کا قتل بھی۔ پی پی پی نے بیس پچیس سال میں سندھ کا جو حشر کیا ہے یا کراچی ہی کی مثال لے لیں تو پاکستان کے سیاست دان کا اپنا دولت اور طاقت کا بھوکا مفاد عوامی مفاد سے بہت کم ملتا نظر آئے گا۔ . یہی وجہ ہے کہ آج بھی عوام یہ فیصلہ نہی کر پا رہے کہ ہمیں آمریت چاہئیے یا آمریت نما جمہوریت۔

    آپ نے نون لیگ کی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے حوالے سے انتہائی دلچسپ نکتہ بیان کیا ہے جو کہ گاہے بگاہے شاید آپ اپنے پرانے تبصروں میں بھی بیان کرتے آئے ہیں مگر مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ آپ نے اس وجہ پر کسی قسم کا اعتراض یا تبصرہ نہیں کیا ہے جسنے آپ کے بقول نون لیگ کو معیشت کو دانستہ نقصان پہنچانے پر مجبور کیا تھا . میرا اپنا خیال ہے کہ اسحاق ڈار اتنا قابل وزیر خزانہ نہیں تھا کہ اپنی مرضی سے معیشت کو انگلیوں پر نچاسکے . موجودہ حکومت کی نالائقی اور ناہلی کی وجہ سے اربوں ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ زرعی اجناس اور ایل این جی کی درآمد پر خرچ ہورہا ہے. میری انتہائی غیر پیشہ ورانہ دانست میں تجارتی خسارہ میں کمی کا جو ڈھنڈورہ موجودہ حکومت پیٹ رہی ہے اسکی بنیادی وجہ معیشت میں آہستگی اور ترسیلات زر میں اضافہ ہے ، جب معیشت تیری سے ترقی کرے گی تو درآمدات پھر سے بڑھیں اور یہ تجارتی خسارہ پھر سے بڑھ جائے گا اس پر طرہ نا اہلی کی وجہ سے اربوں ڈالر کے ضیاع کی وجہ سے حالت مزید خراب ہوں گے .
    جو بات موجودہ حکومت کی قابل تعریف ہے وہ ترسیلات زر میں اضافہ کے لئے اوور سیز پاکستانیوں کے ڈالر ، یوروز ،ریال و دھرم کو لبھانے کی کوشش ہے اور انکو تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری کی ترغیب ہے آپ اور ہم دونوں جانتے ہیں کہ تعمیراتی شعبہ میں سرمایہ کاری سے معیشت عارضی طور پر ضرور مستحکم ہوگی مگر دور رس ترقی کے لئے برآمدات میں اضافہ نا گزیر ہے

    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #19
    مجھے تو یہ سمجھنے میں مشکل ہو رہی ہے ، دو سالوں میں اندرونی اور بیرونی قرضوں میں پچاس فی صد اضافہ کس کے کھاتے میں ڈالنا ہے ؟

    اور یہ ہوا کیسے ؟

    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #20
    مجھے تو یہ سمجھنے میں مشکل ہو رہی ہے ، دو سالوں میں اندرونی اور بیرونی قرضوں میں پچاس فی صد اضافہ کس کے کھاتے میں ڈالنا ہے ؟ اور یہ ہوا کیسے ؟

    شاہد عباسی بھائی سے پوچھیں وہ اسے بھی پچھلی حکومت کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں – کیا آسان منطقیں ہیں تحریک انصاف کو سپورٹ کرنے والوں کی – گلگت بلتستان میں ہمیں دو تہائی اکثریت اسلئے نہیں ملی کیونکے پہلی بار شفاف الیکشن ہوئے ہیں – پچھلی حکومتیں دھاندلی کر کے دو تہائی اکثریت لیتی تھی – قرض اسلئے لے رہے ہیں کہ پچھلی حکومتیں ہم پر قرض چھوڑ گئیں تھی اور قرض دے کر بھی اضافی قرض اسلئے لے رہے ہیں کہ مافیا اکٹھا ہو گیا ہے اور ہمیں ٹیکس نہیں دے رہا – مہنگائی اسلئے ہے کہ پچھلی حکومت نے مصنوہی طور پر مہنگائی کو روک رکھا تھا – اب یہی کہنا رہ گیا ہے کہ مرغی اور انڈے اسلئے مہنگے ہیں کہ پچھلی حکومت مرغیوں سے غلط
    کنٹریکٹ کر کے گئی –

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 33 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi