Home Forums Siasi Video میرے گھر کوئی لفافہ دے گیا : علی ذیدی

Viewing 3 posts - 1 through 3 (of 3 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 667
    • Posts: 4167
    • Total Posts: 4834
    • Join Date:
      13 Oct, 2016

    Re: میرے گھر کوئی لفافہ دے گیا : علی ذیدی

    میرے گھر کوئی لفافہ دے گیا : علی ذیدی

    “خاکی” ہوگا ، ظاہر ہے: وسیم بادامی

    #2
    حسن داور
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 4323
    • Posts: 2853
    • Total Posts: 7176
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: میرے گھر کوئی لفافہ دے گیا : علی ذیدی

    پاکستان میں ٹی وی چینلوں سے لے کر سوشل میڈیا تک لیاری گینگ وار میں مبینہ طور پر ملوث عذیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری کی آتش زنی اور نثار مورائی کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس منظرِ عام پر آنے کے بعد ان رپورٹس کی قانونی حیثیت اور ان پر دستخط کے حوالے سے وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان چپقلش جاری ہے اور ہر روز نئے انکشافات اور بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
    اس صورتحال نے ایک دلچسپ موڑ اس وقت لیا جب منگل کی رات نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر میزبان وسیم بادامی کے شو میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس عزیر بلوچ سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹس سنہ 2017 سے موجود ہیں اور یہ وہ وقت ہے جب وہ وفاقی وزیر بھی نہیں تھے۔
    وسیم بادامی کے شو میں اپنی تحقیق کا ثبوت دیتے ہوئے علی زیدی کا کہنا تھا کہ سنہ 2017 میں جب وہ دبئی سے کراچی پہنچے تو ان کے مطابق گھر پر موجود چوکیدار نے انھیں ایک ’موٹا سا لفافہ‘ یہ کہتے ہوئے پکڑا دیا کہ ’کوئی موٹر سائیکل سوار دے کر چلا گیا ہے‘۔
    ان کا کہنا تھا کہ ’جب اس لفافے کو کھولا تو اس میں تین جے آئی ٹی رپورٹس عزیر بلوچ کی تھیں جبکہ دو نثار مورائی کی تھیں اور اس پر ایک نوٹ لکھا تھا بیسٹ آف لک۔

    سندھ حکومت کا رد عمل

    علی زیدی کے لگائے گئے الزامات پر سندھ حکومت کے ترجمان اور پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ وفاقی وزیر علی زیدی کہتے ہیں کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی اصل رپورٹ اُن کے پاس 2017 سے ہے تو وہ بتائیں انھیں جے آئی ٹی رپورٹس کس نے فراہم کیں؟
    پیپلز پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پیٹل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ایک وفاقی وزیر کس طرح ایسی غیرمصدقہ دستاویز اسمبلی میں دکھا سکتے ہیں؟
    ان کا کہنا تھا ‘علی زیدی نے بڑے بڑے دعوے کیے مگر کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا، علی زیدی نے اسمبلی کے فلور پر خدا کی قسم کھا کر کہا جے آئی ٹی میں قادرپٹیل کا نام ہے۔
    مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ ‘سیاسی قیادت کو بدنام کرنے کے لیے اس طرح کی دستاویزات ماضی میں بھی کئی بار بنائی گئیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ‘سرکاری دستاویزات پر دستخط یا مہریں لگی ہوتی ہیں، ہم نے تینوں جے آئی ٹی رپورٹس عدالت کے حکم کے مطابق جاری کی ہیں، علی زیدی بتائیں چار دستخط والی جے آئی ٹی ان کے پاس کہاں سے آئی۔
    مرتضیٰ وہاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘علی زیدی نے جو الزامات لگائے وہ غلط، جھوٹ اور بے بنیاد تھے اور وفاقی وزرا ملکی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار ایسی الزام تراشی والی سیاست اور پرانی باتیں کرتے ہیں جن کا حقیقت سےکوئی لینا دینا نہیں ہے۔
    یاد رہے حکومت سندھ نے پیر کو لیاری گینگ وار میں مبینہ طور پر ملوث عذیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری کی آتش زنی اور نثار مورائی کے معاملے سے متعلق جے آئی ٹی رپورٹس محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری کر دی تھیں تاہم ان میں سے کسی میں بھی پیپلز پارٹی کے کسی اعلیٰ عہدیدار کا نام شامل نہیں تھا۔
    یہاں یہ بات اہم ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹس 35 صفحات پر مبنی ہیں اور ان پر جے آئی ٹی اراکین اور اس کے سربراہ کے دستخط موجود ہیں جبکہ علی زیدی کی جانب سے جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹس 20 صفحات پر مبنی ہیں اور ان پر آئی ایس آئی، اینٹیلیجنس بیورو، پاکستان رینجرز اور ملٹری اینٹیلیجنس کے دستخط تو موجود ہیں لیکن اسپیشل برانچ اور سی آئی ڈی کے دستخط نہیں ہیں۔
    مزید یہ کہ علی زیدی کی جانب سے جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے نام بھی موجود ہیں اور ان پر سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
    اسی حوالے سے منگل کی رات ایک اور نجی چینل جیو ٹی وی پر میزبان شاہزیب خانزادہ کے شو میں علی زیدی سے کیے گئے سوالات کے چند کلپ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
    ٹاک شو میں میزیان شاہ زیب خانزادہ کے یہ پوچھنے پر کہ ’چیف جسٹس پر ذمہ داری ڈالنے سے پہلے وزیرِ اعظم اپنے ماتحت اداروں جن میں آئی ایس آئی، اینٹیلیجنس بیورو، پاکستان رینجرز اور ملٹری اینٹیلیجنس شامل ہیں، ان کے سربراہوں کو بلا کر خود کیوں نہیں پوچھتے کہ انھوں نے سندھ حکومت کی دکھائی جانے والی جے آئی ٹی پر دستخط کیوں کیے؟ حکومتوں کے دباؤ میں آکر پولیس اور سی ٹی ڈی کا ان کی بات ماننا تو سنا ہے لیکن آئی ایس آئی، اینٹیلیجنس بیورو، پاکستان رینجرز اور ملٹری اینٹیلیجنس نے ایسا کیوں کیا۔
    اس کے جواب میں علی زیدی یہ کہتے ہیں کہ ’اگر وزیِر اعظم ایسا کریں تو پھر سب کہیں گے سیاست ہو رہی ہے۔
    ان کا کہنا تھا ’اس میں سیاست ہے ہی نہیں، اس میں بے گناہ پاکستانیوں کی موت ہوئی ہے اور کچھ گناہ گار ٹارگٹ کلر بھی مارے گئے لیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔
    اسی کلپ کے دوسرے حصے میں یہ پوچھنے پر کہ ’پیپلز پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے نام نکالے جانے پر کیا وزیرِ اعظم کو اپنے ماتحت اداروں سے پوچھ گچھ نہیں کرنی چاہیے؟‘ علی زیدی کا کہنا تھا ’میں نے وزیرِاعظم کے سامنے سب چیزیں رکھ دیں ہیں اب یہ ان کی صوابدید پر ہے لیکن میں ایک شہری اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوں۔
    جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے سندھ کے محکمہ داخلہ کے سابق سیکریٹری قاضی کبیر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت آئی جی پولیس کی سفارش پر تشکیل دی جاتی ہے۔
    انھوں نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے مطابق دہشت گردی، بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار ملزم سے تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جاتی ہے جس کا سربراہ 18 گریڈ کا پولیس افسر ہوتا ہے جبکہ مسلح افواج، انٹیلی جنس اداروں اور سول اداروں کے بھی اسی سطح کے افسران اس میں شامل ہوتے ہیں۔
    قاضی کبیر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے لیے پانچ ممبران ہوتے ہیں، تین اراکین پر مشتمل اجلاس کو مکمل کورم سمجھا جاتا ہے اور جے آئی ٹی 30 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ عدالت کو بھیجتی ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ آئی جی کے سفارش پر جے آئی ٹی کی تشکیل ہوتی ہے اور ممبران وہ خود بھی نامزد کرسکتے ہیں اور محکمہ داخلہ بھی نام دے سکتا ہے۔
    رپورٹس پر دستخط کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’جے آئی ٹی کے ممبران مل کر بیان لیتے ہیں، بحث کرتے ہیں اور اگر کوئی اختلاف رائے ہو تو وہ بھی بیان کر دیا جاتا ہے، اس کے بعد دستخط ہوتے ہیں تاہم جو ڈرافٹ سامنے آتا ہے اس کی تو کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
    جے آئی ٹی کی قانونی حیثیت سے متلعق قاضی کبیر کا کہنا تھا کہ ’عدالت میں ثبوت کے طور پر جے آئی ٹی کی کوئی بڑی حیثیت نہیں ہوتی، جس طرح پولیس اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتی ہے ویسے ہی یہ بھی تحقیقاتی رپورٹ ہوتی ہے لیکن عدالت صرف اس کی بنیاد پر سزا نہیں سناتی۔
    اس بارے میں سندھ کے سابق ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر ضمیر گھمرو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’قانون کے مطابق پولیس افسر کے سامنے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس حوالے سے عدالتوں کے کئی فیصلے موجود ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ملزم کا 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانون میں حیثیت اور اہمیت ہے، پراسیکیوشن اگر سمجھتی ہے کہ جے آئی ٹی میں کچھ دم خم ہے تو پھر رپورٹ عدالت میں پیش کی جاتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر ردِ عمل

    اسی موضوع پر ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #میرے_گھر_کوئی_لفافہ_دے_گیا ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا۔
    صحافی حامد میر کہتے ہیں ’نا معلوم افراد نے کچھ مبینہ جے آئی ٹی رپورٹیں علی زیدی صاحب کو بھجوا دیں اور انھوں نے پانچ سال کے بعد انھیں بے نقاب کر دیا۔
    علی زیدی کے دعوے پر امداد علی سومرو نامی صارف کہتے ہیں ’شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں تو جو ہوا سو ہوا یہاں تو حد ہی ہو گئی۔ علی زیدی جن کاغذوں کو جے آئی ٹی رپورٹس کہہ کر ہیجان برپا کیے ہوئے ہیں انھیں خود یہ تک نہیں پتا کہ وہ کہاں سے آئے۔ ایک نامعلوم شخص گھر پر لفافہ چھوڑ گیا اور ان کی ضد ہے کہ اسے جے آئی ٹی مانا جائے۔
    اسی بارے میں صحافی سلیم صافی کہتے ہیں ’بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے والا سوال ہے کہ علی زیدی کو لفافہ کس نے دیا ؟ ظاہر ہے انھوں نے دیا ہوگا جنھوں نے انھیں اسمبلی کا ممبر بنایا۔
    عارفہ بھٹو نامی صارف لکھتی ہیں ’علی زیدی سے 10 بجے خانزادہ پوچھتے ہیں کہ آپ کو یہ رپورٹ کیسے ملی، 11 بجے وہ وسیم بادامی کو بتاتے ہیں کہ کسی نے گھر آکر میرے گارڈ کو دے دیا تھا۔
    پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سحر کامران اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں ’ایک تھا لفافہ اور لفافہ بھی خاکی۔۔۔ اور لفافہ ایسا تھا کہ علی زیدی ایمان لے آئے اور 2017 میں ہی عہد و پیمان کر لیا۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-53339476

    #3
    حسن داور
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 4323
    • Posts: 2853
    • Total Posts: 7176
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: میرے گھر کوئی لفافہ دے گیا : علی ذیدی

Viewing 3 posts - 1 through 3 (of 3 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi