Home Forums Non Siasi ملالہ یوسفزئی: طالبان کی ایک گولی کا زخم جو نو برس بعد بھی بھر نہیں سکا

Viewing 10 posts - 1 through 10 (of 10 total)
  • Author
    Posts
  • حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1

    دو ہفتے قبل جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا جاری تھا اور طالبان کا تسلط قائم ہو رہا تھا، تو میں بوسٹن کے ایک ہسپتال میں بستر پر لیٹی اپنے چھٹے آپریشن کے عمل سے گزر رہی تھی، کیوںکہ طالبان نے میرے جسم کو جو نقصان پہنچایا تھا، ڈاکٹروں نے اس کا علاج جاری رکھا تھا۔
    اکتوبر 2012 میں پاکستانی طالبان کے ایک رکن نے میری اسکول ویگن پر سوار ہو کر میری بائیں کنپٹی میں گولی داغ دی۔ گولی نے میری بائیں آنکھ، کھوپڑی اور دماغ کو چیر دیا۔ میرے چہرے کے اعصاب کو مجروح کیا، میرے کان کا پردہ توڑ ڈالا اور میرے جبڑے کے جوڑوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
    پشاور میں ایمرجنسی سرجنوں نے عارضی طور پر میری بائیں کھوپڑی کی ہڈی کو ہٹا دیا تاکہ میرے دماغ کو چوٹ لگنے کی وجہ سے بننے والے سوجن کے لیے جگہ پیدا ہو۔ ان کی فوری کارروائی نے بلاشبہ میری جان بچائی لیکن جلد ہی میرے اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا اور مجھے ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔ ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ مجھے شدید دیکھ بھال کی ضرورت ہے اور علاج جاری رکھنے کے لیے مجھے ملک سے باہر منتقل کیا جانا چاہیے۔
    اس عرصے کے دوران مجھے کوما میں رکھا گیا تھا۔ گولی لگنے کے دن سے برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال میں ہوش میں آنے تک مجھے کچھ بھی یاد نہیں۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو مجھے احساس ہوا کہ میں زندہ ہوں لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ میں کہاں تھی یا مجھے انگریزی بولنے والے اجنبیوں نے کیوں گھیر لیا تھا۔
    میرے سر میں شدید درد تھا۔ میری نظر دھندلا گئی تھی۔ میری گردن میں لگی ٹیوب نے میرے لیے بات کرنا ناممکن بنا دیا تھا۔ کئی دن گزرنے کے باوجود میں بولنے سے قاصر تھی لیکن میں نے ایک نوٹ بک میں چیزیں لکھنا شروع کیں اور جسے میں کمرے میں آنے والے ہر شخص کو دکھاتی۔ میں نے کچھ سوالات لکھے تھے: میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ میرے والد کہاں ہیں؟ اس علاج کا خرچہ کون دے گا؟ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔
    میں نے لفظ آئینہ لکھا اور اسے نرسوں کو دکھایا۔ میں اپنے آپ کو دیکھنا چاہتی تھی۔ آئینے میں مَیں نے اپنے چہرے کا صرف آدھا حصہ پہچانا۔ دوسرا حصہ میرے لیے نامانوس تھا۔ کالی آنکھ، گن پاؤڈر کے چھینٹے، مسکراہٹ سے عاری، چمک غائب، یہاں تک کہ میں اس کو جنبش بھی نہیں دے سکتی تھی۔ میرے آدھے بال منڈوائے جا چکے تھے۔ میں نے سوچا کہ طالبان نے میرے ساتھ یہ بھی کیا ہے۔ لیکن نرس نے کہا کہ ڈاکٹروں نے سرجری کے لیے منڈوا دیے ہیں۔
    میں نے پرسکون رہنے کی کوشش کی۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ’جب وہ مجھے ڈسچارج کریں گے تو میں نوکری تلاش کروں گی، کچھ پیسے کماؤں گی، ایک فون خریدوں گی، اپنے گھر والوں کو فون کروں گی اور اس وقت تک کام کروں گی جب تک میں ہسپتال کے تمام بل ادا نہ کروں۔‘
    مجھے اپنی طاقت پر یقین تھا۔ میں پُراعتماد تھی کہ میں ہسپتال سے نکل کر ایک بھیڑیے کی طرح دوڑ لگاؤں گی، ایک شاہین کی طرح اڑوں گی لیکن میں نے جلد ہی محسوس کیا کہ میں اپنے جسم کے بیشتر حصے کو کوئی حرکت نہیں دے سکتی۔ ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی کہ میری یہ کیفیت عارضی ہے۔
    میں نے اپنے پیٹ کو چھوا۔ وہ سخت اور بے لچک تھا۔ میں نے نرس سے پوچھا کیا میرے پیٹ میں کوئی مسئلہ ہے؟ اس نے مجھے بتایا کہ جب پاکستانی سرجنوں نے میری کھوپڑی کی ہڈی کا کچھ حصہ ہٹایا تو انھوں نے اسے میرے پیٹ میں منتقل کیا تاکہ کچھ عرصہ کے بعد وہ میری دوسری سرجری کرکے اسے دوبارہ سر میں ڈال سکیں۔
    لیکن برطانیہ کے ڈاکٹروں نے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اس جگہ پہ بالآخر ٹائٹینیم پلیٹ لگانے کا فیصلہ کیا جہاں میری کھوپڑی کی ہڈی تھی۔ اس طریقۂ کار کو کرینیو پلاسٹی کہتے ہیں۔ انھوں نے میری کھوپڑی کا ٹکڑا میرے پیٹ سے نکال لیا جو آج میرے بک شیلف پر پڑا ہے۔
    ٹائٹینیم کرینیو پلاسٹی کے دوران انھوں نے میرے کان کے اندر اس مقام پر کوکلئیر امپلانٹ بھی کیا جہاں گولی نے میرے کان کا پردہ توڑ ڈالا تھا۔
    جب میرا خاندان برطانیہ میں میرے ساتھ شامل ہوا تو میں نے فزیکل تھیراپی اور بحالی کا عمل شروع کیا۔ میں آہستہ آہستہ چلتی، بچے کی طرح قدم اٹھاتی، بات بھی بچے کی طرح کرتی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے دوسری زندگی کا آغاز کیا ہو۔
    برطانیہ کی سرزمین پر پہلی مرتبہ اترنے کے چھ ہفتے بعد ڈاکٹروں نے میرے مفلوج چہرے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے کے لیے انھوں نے ایک بار پھر میرے چہرے کو کاٹ دیا اور میرے چہرے کی شدید کٹی ہوئی رگوں کو اس امید پر دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی کہ بالآخر ان کی بتدریج نشوونما ہوگی اور یہ نقل و حرکت میں سہولت فراہم کریں گی۔
    اعصابی سرجری کے چند ماہ بعد اور چہرے کے باقاعدہ مساج کے ساتھ میرے توازن اور حرکت میں تھوڑی بہتری آئی۔ اگر میں اپنے ہونٹ بند کرکے مسکراؤں تو اس طرح میں قریباً اپنا پرانا چہرہ دیکھ سکتی ہوں۔ جب میں ہنستی تو اپنے ہاتھوں سے اپنا منھ ڈھانپ لیتی تاکہ لوگ یہ نہ دیکھ پائیں کہ چہرے کا ایک حصہ دوسرے حصے کی طرح کام نہیں کر رہا ہے۔
    میں نے آئینے میں جھانکنے یا اپنے آپ کو ویڈیو میں دیکھنے سے گریز اختیار کرنا شروع کیا۔ اپنے ذہن میں مَیں نے سوچا کہ میں ٹھیک لگ رہی ہوں۔ میں نے حقیقت کو قبول کیا اور خوش رہنے لگی۔
    دوسری طرف میرے والدین ہر اس چیز کا علاج چاہتے تھے جو ان کی بیٹی نے کھو دی تھی۔ چناں چہ ہم نے بوسٹن میں ماس آئی اینڈ ایئر کے سرجنز سے ملاقات کی تاکہ ان سے کراس فیشل نرو گرافٹ کے بارے میں بات کریں جو کہ مفلوج چہرے کا ایک پیچیدہ علاج ہے۔
    مجھے دو بڑے آپریشنوں کی ضرورت ہو گی۔ 2018 میں ڈاکٹروں نے سب سے پہلے میری پنڈلی سے ایک نس نکالی اور اسے میرے چہرے میں نصب کیا جو دائیں طرف سے بائیں طرف تیزی سے حرکت کرتی تھی۔
    ٢٠١٩ میں انھوں نے میری ران سے ٹشو لیا اور اسے میرے چہرے کے بائیں جانب لگایا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ نس ٹشو سے جڑ جائے گی اور میرے چہرے کے پٹھوں کو سگنل بھیجنا شروع کر دے گی۔
    اور اس نے کام کیا۔ بالآخرمیں اپنے چہرے کو زیادہ حرکت دینے کے قابل ہوئی۔ لیکن دوسرا طریقۂ کار میرے گال اور جبڑے کے ارد گرد اضافی چربی اور بلغمی سیال پیدا کرنے کا سبب بنا۔ تب ڈاکٹروں نے کہا کہ مجھے ایک اور سرجری کی ضرورت ہے۔
    بوسٹن میں نو اگست کی صبح پانچ بجے میں اٹھی تاکہ میں اپنی نئی سرجری کے لیے ہسپتال جاؤں اور خبر دیکھی کہ طالبان نے زوال پذیر افغانستان کے پہلے بڑے شہر قندوز پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگلے چند دنوں میں آئس پیکس کے ساتھ میرے سر کے گرد پٹی لپیٹ دی گئی اور میں ٹی وی سکرین پر دیکھتی رہی کہ ایک صوبے کے بعد دوسرا صوبہ ان لوگوں کے سامنے ہتھیار ڈالتا رہا جن کی بندوقیں اس شخص کی بندوق کی طرح گولیوں سے بھری ہوئی تھیں جس نے مجھے نشانہ بنایا تھا۔
    جیسے ہی میری طبیعت بحال ہوئی، میں فون پہ فون کال کر نے لگی، دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت کو خط لکھنے لگی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ان کارکنوں سے بات کرنے لگی جو ابھی تک افغانستان میں تھے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران ہم ان میں سے کئی کارکنوں کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کر سکے ہیں لیکن میں جانتی ہوں کہ ہم سب کو نہیں بچا سکتے۔
    جب طالبان نے مجھے گولی ماری تو پاکستان میں موجود صحافی اور چند بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس پہلے ہی میرا نام جانتے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ میں برسوں سے، شدت پسندوں کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف بول رہی تھی۔ انھوں نے حملے کو رپورٹ کیا اور دنیا بھر کے لوگوں نے اس پر ردِ عمل ظاہر کیا۔ لیکن اس کا ردِ عمل مختلف بھی ہوسکتا تھا اور میری کہانی شاید ایک مقامی خبر میں ختم ہوجاتی کہ ’پندرہ سال کی لڑکی کو سر میں گولی مار دی گئی۔
    میں ہوں ملالہ‘ کا بینر تھامے ہوئے لوگوں کے ہجوم کے بغیر، ہزاروں خطوط اور مدد کی پیشکشوں کے بغیر، دعاؤں اور خبروں میں تذکروں کے بغیر، شاید مجھے طبی امداد نہ ملتی۔ میرے والدین یقینی طور پر خود ان اخراجات کو پورا کرنے کے قابل نہ ہوتے اور شاید میں زندہ نہ رہ پاتی۔
    نو سال کے بعد میں ابھی تک صرف ایک گولی سے ہی صحت یاب ہو رہی ہوں۔ افغانستان کے لوگوں نے پچھلی چار دہائیوں میں لاکھوں گولیاں کھائی ہیں۔ میرا دل ان لوگوں کے لیے ٹوٹ جاتا ہے جن کے نام ہم بھول جائیں گے یا انھیں کبھی پہچان بھی نہیں سکیں گے اور جو مدد کے لیے پکار رہے ہیں لیکن ان کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچ سکے گا۔
    میری حالیہ سرجری کے زخم تازہ ہیں۔ میں اپنی پیٹھ پر اب بھی وہاں پر داغ ڈھو رہی ہوں جہاں ڈاکٹروں نے میرے جسم سے گولی نکالی تھی۔
    چند دن قبل میں نے اپنی بہترین سہیلی کو فون کیا، وہی لڑکی جو اسکول بس میں اس وقت میرے ساتھ بیٹھی تھی جب مجھ پر حملہ ہوا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے دوبارہ بتائیں کہ اس دن کیا ہوا تھا۔
    کیا میں چیخ اٹھی تھی، کیا میں نے بھاگنے کی کوشش کی تھی؟ میں آپ سے پوچھتی ہوں۔
    نہیں‘، اس نے کہا ’تم پرسکون اور خاموش تھیں، طالب نے جیسے ہی تمہارا نام پکارا، تم اس کی آنکھوں میں گھور رہی تھیں۔ تم نے میرا ہاتھ اتنی مضبوطی سے تھام لیا تھا کہ میں کئی دنوں تک اس میں درد محسوس کرتی رہی۔ اس نے تمھیں پہچانا اور فائرنگ شروع کی۔ تم نے اپنے چہرے کو ہاتھوں سے ڈھانپ لیا اور نیچے جھکنے کی کوشش کی۔ ایک سیکنڈ کے بعد تم میری گود میں گر گئیں۔
    میری دو ہم جماعتوں شازیہ اور کائنات کو ہاتھ اور بازو میں گولی لگی تھی اور اسکول کی سفید بس خون سے سرخ ہو گئی تھی۔
    میرے جسم پر ایک گولی اور کئی آپریشنوں کے نشانات ہیں لیکن اس دن کی کوئی یاد میرے ذہن میں موجود نہیں لیکن نو سال بعد میری بہترین سہیلی کو ابھی تک ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-58328134

    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    #2
    اس بچی کو سوات جیسے ایریا میں بغیر سیکیورٹی کے یوں اسکول بھیجنا حیرت انگیز ہے۔ بی بی سی کو بھی معلوم تھا کہ ان کے ویب پرلکھنے والی یہ بچی بہت ہی غیرمحفوظ ہے مگر کسی نے کچھ نہ کیا الٹا صوفی تحریک کی سرکوبی کے بعد اس کی شناخت بھی ظاہر کر دی گئی۔
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    #3
    اس بچی کو سوات جیسے ایریا میں بغیر سیکیورٹی کے یوں اسکول بھیجنا حیرت انگیز ہے۔ بی بی سی کو بھی معلوم تھا کہ ان کے ویب پرلکھنے والی یہ بچی بہت ہی غیرمحفوظ ہے مگر کسی نے کچھ نہ کیا الٹا صوفی تحریک کی سرکوبی کے بعد اس کی شناخت بھی ظاہر کر دی گئی۔

    بیلور یار تم کوئی پڑھے لکھے بھی نہیں پھر اتنی ماڑی اور کوجی باتیں کیسے کر لیتے ہو ۔۔اب ایک اور سٹوری سن لے ۔۔

    Angelina jolie

    نے افغانستان کی لڑکی کا ایک  آپنے انسٹاگرام اکاونٹ سے خط شائع کیا ہے کہہ میں دنیا کے سامنے افغانستان کی لڑکیوں کی آواز بنوں گی ۔۔بلکل ویسے ہی جیسے ملالہ کرتی تھی کسی اور نام سے ۔۔

    اس کو۔  فاطمہ

    بھٹو نے آڑے ہاتھوں لیا ہے کہہ تم نے اج تک فلسطین کی بچیوں کے خط تو شائع نہیں کیے اور نہ تم کو کشمیر میں کوئی ظلم نظر آیا ہے شرم آنی چایئے تم کو

    ملالہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ۔۔لگتا ہے ایک اور ملالہ کی تیاری ہو رہی ہے ۔۔

    توں اتنا زیادہ موشنل نہ ہوا کر۔۔تیری شکل ہے ویسے  ہی بری  ہے موشنل ہونے ہور کوجا لگتا ہے

    :jhanda:

    • This reply was modified 1 year, 3 months ago by SaleemRaza.
    Atif Qazi
    Participant
    Offline
    • Expert
    #4
    اس بچی کو سوات جیسے ایریا میں بغیر سیکیورٹی کے یوں اسکول بھیجنا حیرت انگیز ہے۔ بی بی سی کو بھی معلوم تھا کہ ان کے ویب پرلکھنے والی یہ بچی بہت ہی غیرمحفوظ ہے مگر کسی نے کچھ نہ کیا الٹا صوفی تحریک کی سرکوبی کے بعد اس کی شناخت بھی ظاہر کر دی گئی۔

    دراصل آپ اُس وقت کو آجکل کے حالت کے مطابق دیکھ رہے ہیں اسلئے حیرانی ہے۔ پشتون معاشرے میں عورت، بچے اور نہتے پر حملہ انتہائی شرمناک، بزدلی اور ذلالت کی علامت ہے اسلئے اس کے گھر والے اسی بھرم کا شکار تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک نہتی، بچی اور صنف نازک پر ایسا جان لیوا حملہ کیا جاسکتا ہے لہذا کبھی سیکیورٹی کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    #5
    دراصل آپ اُس وقت کو آجکل کے حالت کے مطابق دیکھ رہے ہیں اسلئے حیرانی ہے۔ پشتون معاشرے میں عورت، بچے اور نہتے پر حملہ انتہائی شرمناک، بزدلی اور ذلالت کی علامت ہے اسلئے اس کے گھر والے اسی بھرم کا شکار تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک نہتی، بچی اور صنف نازک پر ایسا جان لیوا حملہ کیا جاسکتا ہے لہذا کبھی سیکیورٹی کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

    درست ہے کہ ہم تو آج کا گند دیکھ رہے ہیں جو بدقسمتی سے پٹھان قوم کو بدنام کروا چکا ہے۔ پشتونوں کی دشمنیان چل رہی ہوتی ہیں فائرنگ اور قتل تک ہوتے ہیں مگر مجال ہے جو کسی قبیلے کی عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھیں عورتیں بغیر محافظوں کے مزے سے پھرتی ہیں اور مرد بے چارے گنیں اٹھاے چار گاڑیوں کے قافلے میں نکلتے ہیں ورنہ اسی دن ان کی لاش واپس آے گی

    حمقان پی ٹی آی  اور چند گروہ مولویان ملالہ کو سی آی اے کی ایجنٹ قرار دیتا جارہا ہے مجھے بھی حیرت ہے کہ آج تک دنیا کی تاریخ میں پہلی بار بارہ سالہ بچی سی آی اے کی ایجنٹ بنی ہے جسے پندرہ کی ایج میں ماردیا گیا تھا پر وہ انکو ننگا کرنے کیلئے بچ گئی ،،کیسے کیسے گدھے موجود ہیں پاکستان میں؟ پھر سوال ہے کہ وہ کیا جاسوسی کررہی تھی سب سے اہم تو ایٹمی تنصیبات ہیں جن کے بارے میں ملالہ کو شائد یہ بھی نہ پتا ہو کہ کہاں کہاں ہیں، مولوی اشرفی کے مدرسے کی جاسوسی تو وہ کرنے سے رہی؟

    آج کے دن تک ملالہ کی سرجری جاری ہے شائد آٹھویں سرجری ہوی ہے۔ سلام ہے انسانیت کی قدر کرنے والے ان ڈاکٹرز کو جو جنگ عظیم کے دور سے آج تک مردوں (حادثات اور جنگوں میں جھلسے اور ادھ مرے) میں زندگیاں ڈال رہے ہیں ملالہ کے والد نے تو تابوت اور کفن دفن کے انتظامات بھی کروا لئے تھے

    اگر ملالہ جاسوس بھی ہے تو آخر اس سے کیا کام لیا جارہا ہے؟ اگر کوی کہے کہ اسلام اور پاکستان کی بدنامی کررہی ہے تو اسلام کو بدنام جتنا دھشت گرد کرچکے ہیں اس کے بعد مزید گنجائش نہیں ہے اور اگر کوی پاکستان کی بات کرے تو پاکستان معزز قوموں میں کب شامل ہوا تھا جو اس کو کوی پندرہ سال کی لڑکی بدنام کرے گی؟ ہاں کوی کہے کہ ناروے یا نیوزی لینڈ کی بدنامی ہورہی ہے تو بات سمجھ آتی ہے کیونکہ ان ملکوں کی دنیا میں بہت زیادہ عزت ہے۔ ملالہ پر گزرنے والی خوفناک مشکلات کے باوجود اس کی ہمت و استقلال دیکھ کر مجھے فخر ہوتا ہے میری قوم کی بیٹی اس قدر بہادر ہوسکتی ہے؟

    ملالہ کی تعلیم کیلئے پوری دنیا میں خدمات سن کر اور بھی خوشی ہوتی ہے بعض بڑے تعلیمی ادارے ملالہ پاکستان اور افغانستان میں بھی شروع کرواچکی ہے۔ مگر جاہلوں کے معاشرے میں جہاں جتنا کوی پڑھ لکھ جاتا ہے اتنا ہی نظرانداز کرنے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے جیسے ڈاکٹر سلام اور ایسا عموما جماعت اسلامی کے بدمعاش اور لفنگے جو یونیورسٹی بھی پنہچ جائیں تو بدمعاشی ہی کرتے ہیں کی طرف سے کیا جاتا ہے باقاعدہ کمپین چلای جاتی ہے کبھی بے نظیر کے خلاف بھی انہی کی کمپین تھی نوازشریف تو ان کا اتحادی ہونے کی وجہ سے بدنام ہوگیا اصل نوستاروں والے اتحاد کے اندر بھیجہ جماعتی تھا جو ظاہر ہے غلیظ تھا

    • This reply was modified 1 year, 3 months ago by Believer12.
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    #6
    بیلور یار تم کوئی پڑھے لکھے بھی نہیں پھر اتنی ماڑی اور کوجی باتیں کیسے کر لیتے ہو ۔۔اب ایک اور سٹوری سن لے ۔۔ Angelina jolie نے افغانستان کی لڑکی کا ایک آپنے انسٹاگرام اکاونٹ سے خط شائع کیا ہے کہہ میں دنیا کے سامنے افغانستان کی لڑکیوں کی آواز بنوں گی ۔۔بلکل ویسے ہی جیسے ملالہ کرتی تھی کسی اور نام سے ۔۔ اس کو۔ فاطمہ بھٹو نے آڑے ہاتھوں لیا ہے کہہ تم نے اج تک فلسطین کی بچیوں کے خط تو شائع نہیں کیے اور نہ تم کو کشمیر میں کوئی ظلم نظر آیا ہے شرم آنی چایئے تم کو ملالہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ۔۔لگتا ہے ایک اور ملالہ کی تیاری ہو رہی ہے ۔۔ توں اتنا زیادہ موشنل نہ ہوا کر۔۔تیری شکل ہے ویسے ہی بری ہے موشنل ہونے ہور کوجا لگتا ہے :jhanda:

    سلیم رضا، امید ہے کہ میٹرک تو امتیازی نمبروں سے پاس کیا ہوگا میرے بھرا نے؟ فاطمہ بھٹو کا ہیرو اس کا باپ ہے جس نے اپنے کارندے چھڑوانے کیلئے پی آی اے کا جہاز اغوا کروا کے افغانستان پنہچا دیا تھا مگر آپ کی یاداشت بہت کمزور ہے فاطمہ ہیرو بن گئی کیونکہ اس کی ماں لبنانی تھی اس کو جو کہنا ہے ضرور کہے مگر کسی ایک پہلو کو بھی کوی اجاگر کرتا ہے تو اسے سراہنا چاہئے

    ویسے مذاق کے علاوہ بتا رہا ہوں کہ ان ڈگریون سے ہٹ کر ہر انسان بعض خوبیوں کا مالک ہوتا ہے جو قدرتی ہوتی ہیں۔ آپ ایک حساس دل کے مالک اچھے انسان ہو مگر جاہل لوگوں کی کہانیوں پر یقین کررہے ہو جنکا کسی داستان میں کبھی ذکر ہی نہیں ہوگا کیونکہ ان کی نسلوں میں صرف گدھے پیدا ہوتے ہیں۔ میں ان مفروضات پر یقین نہیں رکھتا کہ ملالہ کی ٹریننگ بارہ کی ایج میں شروع ہوگئی تھی اور پندرہ کی ایج میں جب اسے مارا گیا تو وہ امریکی ایجنٹ تھی۔ آخرقاتل کے پاس کیا انفارمیشن تھی جو ملالہ انڈر میٹرک لڑکی امریکہ کیلئے کررہی تھی ؟ اسے تو شائد بس اڈے کا راستہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس شہر سے باہر جاکر میٹرک کرلیتی ؟ بی بی سی اس دور میں سوات پر کوریج دے رہا تھا جب اس کی ڈائری پڑھ کر ان کی ایک رپورٹر بہت متاثر ہوی اور اپنے پیج کیلئے اسے اسکول اور باہر کا احوال لکھنے کا کہا جو بہت اعزاز کی بات ہے۔ ملالہ کی ڈائری میں بہت ساری اغلاط ہوتی تھیں بچی تھی جنکی درستگی جسے انگلش میں پروف ریڈنگ کہتے ہیں جو ہر اخبار میں ایک ماہر کی زیرنگرانی ہوتی ہے تاکہ تحریر اغلاط سے پاک ہو کر شایع ہو، میرے بھای بی بی سی کیلئے تو آپ میں اور عاطف بھی لکھ سکتے ہیں تو کیا ہم بھی ایجنٹ ہوجائیں گے؟ ہماری تحریر بھی کوی بہت ماہر اردو دان درست کرے گا تو کیا وہ تحریر اس بندے کی کہلاے گی؟

    آرمی چیف جس کی مرہون منت موجودہ حکومت ہے اس نے خود ملالہ کی صحت جانچ کر ہی اسے ائرایمبولینس پر برطانیہ روانہ کیا تھا پھر اس کی سرجریز کی دردناک داستان پڑھ کر بھی آپ کو ذرا ہمدردی نہیں ہوی الٹا آپ وکٹم کو جس پر ظلم عظیم ہوا ہے اس کی پوری زندگی تباہ ہوگئی ہے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہو آپ تو پی ٹی آی حمقان میں شامل بھی نہیں اور نہ ہی ہوسکتے ہو کیونکہ آپ ایک ذہین اور حساس انسان ہو، خدارا ان جاہلوں کو اپنی جہالت میں مرنے کیلئے چھوڑ دو اور خود امریکہ جیسے ملک میں رہتے ہوے کچھ سیکھنے کی کوشش کرو  کچھ بنو تو ہم بھی کہہ سکیں کہ ہمارا یار امریکہ میں دل کا ڈاکٹر ہے

    :serious:

    • This reply was modified 1 year, 3 months ago by Believer12.
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #7
    ملالا کو تو گولی تحریک پاکستان طالبان نے ماری ہے … جن کو تیار را اور موساد نے کیا تھا … اس کا تو افغانی طالبان جو کہ نیک اور اچھے طالبان ہیں ان سے کوئی تعلق نہیں .. پھر موساد کو جب غلطی کا احساس ہوا ہے تو اسی بچی کو نوبل انعام دلوا دیا .. ورنہ پاکستانی میں دہشت گردی میں ہزاروں پڑھنے پڑھانے والی بچیاں مری ہیں کسی کو کوئی انعام نہیں ملا
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #8
    سلیم رضا ۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    د ل چسپ بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔ جیسے طا لبان نے کابل فتح کیا ہے ۔۔۔۔۔ جیسے ہی طا لبان دوبارہ زندہ ہوئے ہیں ۔۔۔۔ اس مہینے ۔۔۔ ملا لہ ۔۔۔۔ کی بھی سرجری کی بریکنگ نیوزبھی ایک دم زندہ ہوگئی ہیں  ۔

    آنے والے ھفتوں مہینوں میں آپ دیکھیں گے کہ ۔۔۔۔ ایک طرف  طا لبان کا دور چلے گا۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ دوسری طرف آپ کو  ۔۔۔ ملا لہ ۔۔۔ کی فریش  بریکنگ نیوز روز ملا  کریں گے ۔۔۔۔

    مطلب ۔۔۔۔ ایک طرف طا لبان آگئے ہیں ۔۔۔ دوسری طرف ملا لہ کی مظلومیت کی فلم دوبارہ چل پڑی ہے ۔۔۔۔۔

    طا لبان علاقے دنیا میں جو بھی کریں وہ ایک الگ ٹاپک ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ آپ یہ ضرور یکھیں گے کہ ۔۔۔۔۔ طا لبان اور ملا لہ یوسف زئی ۔۔۔۔۔ کا ٹوئنٹی ٹوئنٹی ۔۔۔ میچ بھی سا تھ سا تھ چلے گا ۔۔۔۔۔

    اور تو اور ۔۔۔۔ طا لبان کے  زندہ ہونے کے سا تھ ۔۔۔۔۔ امریکن جیل ۔۔۔۔ سے ۔۔۔ عا فیہ صد یقی ۔۔۔۔ پر مظا لم بھی زندہ ہوگئے ہیں ۔۔۔ اور ۔۔۔ بریکنگ نیوز آ گئی ہے ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آنے والے دنوں میں آپ ایک طرف طا لبان کی فتحوحات سنا کریں گے ۔۔۔ تو دوسری طرف ۔۔۔۔ ملا لہ یوسف زئی ۔۔۔ کا ریڈ یو ۔۔۔ بھی سنا کریں گے ۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 3 months ago by Guilty.
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    #9
    سلیم رضا، امید ہے کہ میٹرک تو امتیازی نمبروں سے پاس کیا ہوگا میرے بھرا نے؟ فاطمہ بھٹو کا ہیرو اس کا باپ ہے جس نے اپنے کارندے چھڑوانے کیلئے پی آی اے کا جہاز اغوا کروا کے افغانستان پنہچا دیا تھا مگر آپ کی یاداشت بہت کمزور ہے فاطمہ ہیرو بن گئی کیونکہ اس کی ماں لبنانی تھی اس کو جو کہنا ہے ضرور کہے مگر کسی ایک پہلو کو بھی کوی اجاگر کرتا ہے تو اسے سراہنا چاہئے ویسے مذاق کے علاوہ بتا رہا ہوں کہ ان ڈگریون سے ہٹ کر ہر انسان بعض خوبیوں کا مالک ہوتا ہے جو قدرتی ہوتی ہیں۔ آپ ایک حساس دل کے مالک اچھے انسان ہو مگر جاہل لوگوں کی کہانیوں پر یقین کررہے ہو جنکا کسی داستان میں کبھی ذکر ہی نہیں ہوگا کیونکہ ان کی نسلوں میں صرف گدھے پیدا ہوتے ہیں۔ میں ان مفروضات پر یقین نہیں رکھتا کہ ملالہ کی ٹریننگ بارہ کی ایج میں شروع ہوگئی تھی اور پندرہ کی ایج میں جب اسے مارا گیا تو وہ امریکی ایجنٹ تھی۔ آخرقاتل کے پاس کیا انفارمیشن تھی جو ملالہ انڈر میٹرک لڑکی امریکہ کیلئے کررہی تھی ؟ اسے تو شائد بس اڈے کا راستہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس شہر سے باہر جاکر میٹرک کرلیتی ؟ بی بی سی اس دور میں سوات پر کوریج دے رہا تھا جب اس کی ڈائری پڑھ کر ان کی ایک رپورٹر بہت متاثر ہوی اور اپنے پیج کیلئے اسے اسکول اور باہر کا احوال لکھنے کا کہا جو بہت اعزاز کی بات ہے۔ ملالہ کی ڈائری میں بہت ساری اغلاط ہوتی تھیں بچی تھی جنکی درستگی جسے انگلش میں پروف ریڈنگ کہتے ہیں جو ہر اخبار میں ایک ماہر کی زیرنگرانی ہوتی ہے تاکہ تحریر اغلاط سے پاک ہو کر شایع ہو، میرے بھای بی بی سی کیلئے تو آپ میں اور عاطف بھی لکھ سکتے ہیں تو کیا ہم بھی ایجنٹ ہوجائیں گے؟ ہماری تحریر بھی کوی بہت ماہر اردو دان درست کرے گا تو کیا وہ تحریر اس بندے کی کہلاے گی؟ آرمی چیف جس کی مرہون منت موجودہ حکومت ہے اس نے خود ملالہ کی صحت جانچ کر ہی اسے ائرایمبولینس پر برطانیہ روانہ کیا تھا پھر اس کی سرجریز کی دردناک داستان پڑھ کر بھی آپ کو ذرا ہمدردی نہیں ہوی الٹا آپ وکٹم کو جس پر ظلم عظیم ہوا ہے اس کی پوری زندگی تباہ ہوگئی ہے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہو آپ تو پی ٹی آی حمقان میں شامل بھی نہیں اور نہ ہی ہوسکتے ہو کیونکہ آپ ایک ذہین اور حساس انسان ہو، خدارا ان جاہلوں کو اپنی جہالت میں مرنے کیلئے چھوڑ دو اور خود امریکہ جیسے ملک میں رہتے ہوے کچھ سیکھنے کی کوشش کرو کچھ بنو تو ہم بھی کہہ سکیں کہ ہمارا یار امریکہ میں دل کا ڈاکٹر ہے :serious:

    میری سوچ سے آپ زیازہ  سمجھدار نکلے ہیں   ۔میرا مقصد مالالہ پر تنقید کرنا نہیں تھا بلکہ یہ کہنا تھا کہہ مغرب  کو  افغانستان میں ایک اور ملالہ مل گئی ہے ۔۔۔اور اس کو بھی ملالہ کی طرح تیار کیا جارہا ہے ۔۔۔انجلناجولی ۔۔دنیا میں جہاں پر بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے  ان کے لیے تو آواز نہیں اٹھائی ۔۔۔۔۔کشمیر پر کتنے خط شائع کئے گئے ہیں ۔۔کوئی بھی میری نظر سے نہیں گزرا  کشمیر میں کتنے بچوں کو چھرے والی گن سے اندھا کیا گیا ہے ۔۔کون سی انڈیا پر پابندی لگی ہے ۔۔۔اور کون سی  جولی نے آپنے اکاونٹ سے خط شائع کئے ہیں ۔۔۔۔میرا مقصد آپکو بتانا تھا ۔۔کہہ مغرب  نے ایک اور ملالہ تلاش کر لی ہے ۔۔۔ اور اب انسانی حقوق پر ایک تماشہ لگایا جائے گا ۔۔۔۔10۔۔۔۔11۔۔سال کے بچے کو ناک صاف کرنی تو آتی نہیں یہ پتہ نہیں  کس یونیورسٹی سے

    گریجویٹ  ہو کر پیدا ہوتی ہیں ۔۔

    توں زیادہ موشنل نہ ہوا کر ۔۔۔۔

    منحوس تو پہلے سے کچھ تو خیال کر ۔

    :bigsmile:

    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    #10
    میری سوچ سے آپ زیازہ سمجھدار نکلے ہیں ۔میرا مقصد مالالہ پر تنقید کرنا نہیں تھا بلکہ یہ کہنا تھا کہہ مغرب کو افغانستان میں ایک اور ملالہ مل گئی ہے ۔۔۔اور اس کو بھی ملالہ کی طرح تیار کیا جارہا ہے ۔۔۔انجلناجولی ۔۔دنیا میں جہاں پر بھی مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے ان کے لیے تو آواز نہیں اٹھائی ۔۔۔۔۔کشمیر پر کتنے خط شائع کئے گئے ہیں ۔۔کوئی بھی میری نظر سے نہیں گزرا کشمیر میں کتنے بچوں کو چھرے والی گن سے اندھا کیا گیا ہے ۔۔کون سی انڈیا پر پابندی لگی ہے ۔۔۔اور کون سی جولی نے آپنے اکاونٹ سے خط شائع کئے ہیں ۔۔۔۔میرا مقصد آپکو بتانا تھا ۔۔کہہ مغرب نے ایک اور ملالہ تلاش کر لی ہے ۔۔۔ اور اب انسانی حقوق پر ایک تماشہ لگایا جائے گا ۔۔۔۔10۔۔۔۔11۔۔سال کے بچے کو ناک صاف کرنی تو آتی نہیں یہ پتہ نہیں کس یونیورسٹی سے گریجویٹ ہو کر پیدا ہوتی ہیں ۔۔ توں زیادہ موشنل نہ ہوا کر ۔۔۔۔ منحوس تو پہلے سے کچھ تو خیال کر ۔ :bigsmile:

    اگر اتنی سی بات تھی تو پہلی ہی دفعہ کھل کر بولا مرا کر ، میں نے فضول میں تیری تحریر کی گہرای سے چھپے ہوے ہیرے نکالنے کی کوشش میں ادھا گھنٹہ برباد کیا

    :facepalm:

Viewing 10 posts - 1 through 10 (of 10 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi