Home Forums Siasi Discussion مریم نواز اور پرویز رشید اپنی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو پر معذرت سے انکاری کیوں؟

Viewing 5 posts - 1 through 5 (of 5 total)
  • Author
    Posts
  • حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1

    پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور اس کے دو سینئر رہنماؤں مریم نواز اور پرویز رشید کو صحافتی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ان کی ایک حالیہ ’آڈیو لیک‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
    تاہم مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اپنے موقف میں فون ٹیپ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’پاکستان کے قوانین کے مطابق کسی بھی فرد کی نجی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کرنا جرم ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے لیے بھی اگر آپ کو ایسا کرنا پڑے تو پہلے عدالت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔’
    تنقید کا مرکز ان کی وہ گفتگو ہے جس میں سابق وزیرِ اطلاعات پرویز رشید چند صحافیوں کے حوالے سے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
    سوشل میڈیا ہی پر سامنے آنے والی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی آڈیو میں پرویز رشید ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ایک پروگرام سکور کارڈ کے چند مہمانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نازیبا الفاط میں کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’۔۔۔ہم پر بٹھا دیے گئے ہیں۔‘
    اس سے قبل وہ ایک پینلسٹ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو اپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ جہاں ہمارے خلاف بات کرتے تھے وہیں وہ عمران خان کے خلاف بھی بات کرتے تھے لیکن چینل نے انھیں پروگرام سے ہٹا دیا ہے۔‘
    اس کے ساتھ ہی وہ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’یہ بہت زیادتی کی بات ہے۔ انھوں نے ان کا کالم بھی بند کر دیا ہے اور انھیں پروگرام سے بھی ہٹا دیا ہے۔‘

    میری نجی گفتگو تھی جس کو پبلک کیا گیا

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اس بات کی تصدیق کی کہ سامنے آنے والی آڈیو میں آواز انہی کی ہے۔ صحافیوں کے حوالے سے گفتگو پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے الفاظ پر قائم ہیں۔
    یہ میری ایک نجی گفتگو تھی جس کو پبلک کیا گیا اور ایک نجی گفتگو میں اپنی رائے دینا کا میرا حق ہے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ جو الفاظ انھوں نے صحافیوں کے حوالے سے استعمال کیے ’کیا وہ ہمارے اردو محاورے کا حصہ نہیں ہیں؟
    وہ یہ تاثر دینا چاہ رہے تھے کہ جو الفاظ انھوں نے ’محاورتاً‘ استعمال کیے وہ ایک نجی گفتگو کا حصہ تھے۔ ’کیا ہم نجی گفتگو کے دوران ایسی باتیں نہیں کر لیتے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر میں دو صحافیوں کی نجی گفتگو کو بھی پبلک کر دوں تو اس میں ایک دوسرے یا کسی کے بارے میں ایسی گفتگو موجود ہوگی۔
    پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ گفتگو سنہ 2016 کی ہے۔ تاہم انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ گفتگو واٹس ایپ آڈیو کال پر ہوئی تھی یا فون پر۔
    اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرِاعظم کے دفتر کے اندر فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔ ہمارا سوال یہ کہ کون یہ فون ٹیپ کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق کسی بھی فرد کی نجی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کرنا جرم ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے لیے بھی اگر آپ کو ایسا کرنا پڑے تو پہلے عدالت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔
    تاہم اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ‘یہ تو ریاست کے دیکھنے کا معاملہ ہے۔ اگر سڑک پر کوئی قتل ہو جائے تو کیا ریاست خود سے اس پر تحقیقات نہیں کرے گی۔’

    ان کے منہ سے ایسے الفاظ اچھے نہیں لگتے

    تاہم سینیئر صحافی ان کی دلیل سے اتفاق نہیں کرتے۔ صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ پرویز رشید ایک پرانے اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، ایسے الفاظ استعمال کرنا انھیں زیب نہیں دیتا۔ ایسے الفاظ ان کے منہ سے اچھے نہیں لگے۔
    سہیل وڑائچ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ وہ الفاظ محاورتاً استعمال کیے گئے تھے۔ ان کے خیال میں ان الفاظ اور لہجے میں ’کسی کی بے عزتی اور توہین کرنے کا پہلو واضح تھا۔
    سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس بھی سابق وزیرِ اطلاعات کی دلیل سے متفق نہیں تھے۔ وہ خود بھی جیو نیوز کے اس پروگرام کا حصہ ہیں جس کے حوالے سے آڈیو لیک میں گفتگو ہوتی سنائی دیتی ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ وہ پرویز رشید کو گذشتہ کئی دہائیوں سے جانتے ہیں۔ ’اور اگر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنے الفاظ (پر قائم) ہوں تو میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ خوش رہیں۔
    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ذاتی طور پر وہ خود کسی نجی گفتگو میں بھی کسی کے بارے میں بھی، چاہے وہ صحافی ہو یا نہ ہو، اس قسم کے الفاظ کبھی استعمال کرنا نہیں چاہیں گے۔
    یہ ٹھیک ہے کہ وہ ان کی نجی گفتگو تھی لیکن میرے خیال میں آپ نجی گفتگو میں بھی کسی کے حوالے سے اس طرح کے ہتک آمیز الفاظ کا استعمال نہیں کرتے۔

    یہ دو بے تکلف دوستوں کے درمیان گفتگو نہیں تھی

    مظہر عباس کے خیال میں یہ تاثر دینا غلط ہے کہ وہ محاورتاً بات کر رہے تھے جو کہ ’بے تکلف دوستوں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کی جا رہی ہو۔
    ایک تو مریم نواز صاحبہ جماعت کی سینئر لیڈر ہیں، نواز شریف کی بیٹی ہیں اور پرویز رشید صاحب بھی اس وقت وزیر تھے تو ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ایسی نہیں تھی جو دو بے تکلف دوستوں کے درمیان ہوتی ہے۔
    مظہر عباس کے خیال میں سابق وزیرِ اطلاعات کے لہجے سے ہتک آمیزی عیاں تھی۔ پاکستان میں صحافتی تنظیموں نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور سابق وزیرِ اطلاعات پرویز رشید سے ان گفتگو پر صحافیوں سے معذرت کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
    دوسری جانب مریم نواز نے اپنے نام سے لیک ہونے والی آڈیو کے بارے میں کہا ہے کہ اُنھیں اپنی نجی گفتگو پر معذرت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اُن کا فون ٹیپ کرنے والوں کو اُن سے معذرت کرنی چاہیے۔
    جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز سے سوال ہوا کہ کیا وہ آڈیو ٹیپ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید سے گفتگو میں استعمال ہونے والے الفاظ پر معذرت کرتی ہیں؟
    اس پر مریم نواز نے اس آڈیو سے متعلق کسی قسم کی تردید کیے بغیر کہا کہ پہلے اُن سے معذرت کی جائے کہ اُن کا فون کیوں ٹیپ کیا گیا۔
    اُنھوں نے کہا کہ یہ اُن کی ذاتی اور نجی گفتگو تھی جس پر وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔
    پہلے مجھ سے معذرت کی جائے کہ میرا فون کیوں ٹیپ کیا گیا۔ وہ ذاتی اور نجی گفتگو تھی، کیوں ریکارڈ کی گئی، ایک میڈیا چینل کو کیوں دی گئی اور آن ایئر کیا گیا۔
    اُنھوں نے کہا کہ ’پہلے تو مجھے اس بات کا جواب دیا جائے کہ ایک پاکستان کے شہری کی، ایک خاتون کی گفتگو کیوں ریکارڈ کی گئی۔
    جب اُن سے ایک اور سوال میں پوچھا گیا کہ کیا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ فون کال ریکارڈ کرنا ’جائز‘ تھا تو اس پر اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے وہ ریکارڈنگ نہیں کی۔
    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو اور اُن کی مبینہ طور پر لیک ہونے والی آڈیو کا کوئی موازنہ نہیں بنتا۔ اُن کا مؤقف تھا کہ اُن کی ٹیپ میں کسی کے خلاف سازش نہیں تھی۔
    کچھ عرصہ قبل سابق چیف جسٹس کی مبینہ ٹیلی فون کال کی ریکارڈنگ بھی لیک ہو چکی ہے
    اُنھوں نے ثاقب نثار کی مبینہ ٹیلیفون ریکارڈنگ لیک ہونے کے بارے میں کہا کہ ’یہ میرے کرنے سے نہیں ہوئیں، یہ ’اُدھر‘ سے آئی ہیں۔
    تاہم اُنھوں نے مزید وضاحت نہیں کی کہ ’اُدھر‘ سے اُن کی کیا مراد ہے۔
    مریم نواز نے کہا کہ ’میں نے کسی کی کوئی ٹیپ نہیں کی، چیزیں سامنے آ جاتی ہیں، قدرت کا اپنا طریقہ ہے۔

    نواز شریف واپس آئیں گے

    مریم نواز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف واپس آئیں گے تاہم اُنھوں نے کہا کہ اُن کے لیے ایسا کرنے کا کون سا وقت محفوظ ہے اس کا تعین مسلم لیگ (ن) کرے گی۔
    بدھ کو پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کے کسی مبینہ ڈیل سے متعلق تردیدی بیان کے تناظر میں امریم نواز نے کہا کہ ڈیل کی ضرورت اُنھیں ہوتی ہے جن کی جڑیں عوام میں نہیں ہوتیں۔
    اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں کسی ڈیل کی ضرورت نہیں۔
    مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف ملک سے اس لیے باہر گئے تھے کیونکہ اُن کی ’جان کو خطرہ تھا‘ تاہم وہ واپس آئیں گے۔

    فارن فنڈنگ پر عمران خان استعفیٰ دیں

    مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق رپورٹ پر بھی پاکستان تحریک انصاف اور وزیرِ اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
    اُنھوں نے الزام لگایا کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے ’سات سال طاقت، دھونس اور دھاندلی کا استعمال کیا‘ تاکہ یہ مقدمہ آگے نہ بڑھ پائے۔
    اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ جب وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا گیا کہ یہ رپورٹ جاری نہ کی جائے۔
    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور اپوزیشن مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان فی الفور استعفیٰ دیں۔
    اُنھوں نے الیکشن کمیشن سے مخاطب ہو کر کہا کہ صرف رپورٹ دینا کافی نہیں بلکہ اب عمران خان اور اُن کی جماعت کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔
    واضح رہے کہ عمران خان پہلے ہی فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو اپنے حق میں قرار دے کر اس کا خیر مقدم کر چکے ہیں۔

    فارن فنڈنگ کا معاملہ

    منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکمران جماعت نے انتخابی ادارے سے 31 کروڑ سے زائد کی رقم خفیہ رکھی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کی طرف سے درجنوں اکاؤنٹ ظاہر ہی نہیں کیے گئے۔
    کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن کمیشن میں عطیات سے متعلق غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے چند افراد کے علاوہ فارن فنڈنگ کے مکمل ذرائع ظاہر نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے سکروٹنی کمیٹی اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہے۔
    رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کو یورپی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت دیگر ممالک سے فنڈ موصول ہوئے۔ کمیشن کے مطابق تحریک انصاف کو نیوزی لینڈ سے موصول ہونے والے فنڈ تک اسکروٹنی کمیٹی کو رسائی نہیں دی گئی۔
    اسکروٹنی کمیٹی کے مطابق جب تحریک انصاف سمیت فریقین کی طرف سے مکمل ڈیٹا تک رسائی سے متعلق تعاون نہیں کیا گیا تو پھر کمیٹی نے الیکشن کمیشن کی اجازت سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان کے دیگر بینکوں سے 2009 سے 2013 کے ریکارڈ تک رسائی حاصل کی اور یوں یہ رپورٹ مرتب کی گئی۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-59897419

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #2
    مریم نواز کی آ ڈ یو ریکارڈنگ کی لیک کا قصہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔

    اس آ ڈ یو ٹیپ میں ۔۔۔۔ ن لیگ کے سب سے بڑے  ۔۔۔۔ مخالف صحا فیوں ۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔ اور ۔۔۔ ارشاد بھٹی ۔۔۔ کو ۔۔۔۔ بھو نکنے والا کتے کا خطا ب دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔

    جس سے ان دونوں بھو نکنے والے صحافیوں کی بڑی بے عزتی ہوئی ہے یہ تو اپنے آپ کو ۔۔۔۔ دانشور افلاطون سمجھے بیٹھے تھے ۔۔۔

    اس آ ڈیو ٹیپ ۔۔۔۔ سے حکومت کو یہ فا ئدہ ہوگا کہ ۔۔۔۔۔۔  یہ دونوں بھو نکنے والے صحا فی اپنی اتنی بے عزتی کے بعد ۔۔۔۔ اگلے الیکشن میں کسی طور پر ۔۔۔۔ عمران کو چھوڑ ن لیگ کی سپورٹ پر راضی نہ ہوسکیں گے

    جیسا کہ پہلے ہی کچھ صحا فی نیازی کے مخالف بولنا شروع ہوگئے ہیں ۔۔۔۔

    مریم نواز کو اس آ ڈ یو لیک کا یہ فا ئدہ ہوا ہے کہ ۔۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ ارشاد بھٹی ۔۔۔ کو ۔۔۔۔ کتا ۔۔۔۔ کہہ کر ۔۔۔۔ ان دونوں کی صحافتی وقار کو نیچے گرادیا گیا ہے

    لیک کے بعد یہ دونوں بھو نکنے والے ۔۔۔۔ اپنا ۔۔۔ جارحا نہ طریقہ واردات ۔۔۔ ۔چھوڑنے اور بیک فٹ پر جا تے نظر آئے ہیں ۔۔۔۔۔

    اس لحاظ سے مریم نواز ۔۔۔۔۔ کو اس بات سے خوشی ہوئی ہے کہ ۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔۔ا رشاد بھٹی ۔۔۔۔۔ کو فل ڈوز مل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔

    عمران خان حکومت کو یہ فا ئدہ ہوا ہے کہ ۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔ ارشاد بھٹی ۔۔۔۔۔  ن لیگ سے گا لیاں کھا نے کے بعد اب اگلے الیکشن تک ۔۔۔۔ ن لیگ کی بھول کر بھی سپورٹ نہیں کریں گے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس آ ڈ یو ۔۔۔۔ لیک ۔۔۔۔ سے نیازی کو بھی بہت فا ئدہ پہنچا ہے  ۔۔۔۔ اور مریم نوا کو بھی فا ئدہ پہنچا ہے ۔۔۔۔۔۔

    اور میرا خیا ل ۔۔۔۔ اس لیک سے ۔۔۔۔ عوام پا کستان کو بھی بہت فا ئدہ پہنچا ہے کہ ۔۔۔۔۔ یہ دونوں بھو نکنے والے سرکاری کتے ۔۔۔

    سا لوں سے ۔۔۔۔ خفیہ ایجنسیوں کے ایجنڈ ے بھو نک بھونک کر ۔۔۔۔ عوام کے دما غوں  میں  برین واشنگ کرتے رھتے تھے ۔۔۔۔

    ان خفیہ ایجنسیوں کے جا سوس  گندے صحا فیوں ۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔ لعنت پڑ گئی ہے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ عوام ۔۔۔ کو ۔۔۔ ان کی برین واشنگ  سے کچھ نہ کچھ  کمی ضرور آئے گی ۔۔۔

    کیونکہ اتنی بے عزتی کے بعد ۔۔۔ سرکاری فوجی کتوں کے ۔۔۔۔ سرکاری  بھونکنے ۔۔۔ برین واشنگ ۔۔۔۔ میں کمی کی توقع متوقع ہے ۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 2 weeks, 6 days ago by Guilty.
    کک باکسر
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #3
    1. مریم نواز کی آ ڈ یو ریکارڈنگ کی لیک کا قصہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ اس آ ڈ یو ٹیپ میں ۔۔۔۔ ن لیگ کے سب سے بڑے ۔۔۔۔ مخالف صحا فیوں ۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔ اور ۔۔۔ ارشاد بھٹی ۔۔۔ کو ۔۔۔۔ بھو نکنے والا کتے کا خطا ب دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ جس سے ان دونوں بھو نکنے والے صحافیوں کی بڑی بے عزتی ہوئی ہے یہ تو اپنے آپ کو ۔۔۔۔ دانشور افلاطون سمجھے بیٹھے تھے ۔۔۔ اس آ ڈیو ٹیپ ۔۔۔۔ سے حکومت کو یہ فا ئدہ ہوگا کہ ۔۔۔۔۔۔ یہ دونوں بھو نکنے والے صحا فی اپنی اتنی بے عزتی کے بعد ۔۔۔۔ اگلے الیکشن میں کسی طور پر ۔۔۔۔ عمران کو چھوڑ ن لیگ کی سپورٹ پر راضی نہ ہوسکیں گے جیسا کہ پہلے ہی کچھ صحا فی نیازی کے مخالف بولنا شروع ہوگئے ہیں ۔۔۔۔ مریم نواز کو اس آ ڈ یو لیک کا یہ فا ئدہ ہوا ہے کہ ۔۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ ارشاد بھٹی ۔۔۔ کو ۔۔۔۔ کتا ۔۔۔۔ کہہ کر ۔۔۔۔ ان دونوں کی صحافتی وقار کو نیچے گرادیا گیا ہے لیک کے بعد یہ دونوں بھو نکنے والے ۔۔۔۔ اپنا ۔۔۔ جارحا نہ طریقہ واردات ۔۔۔ ۔چھوڑنے اور بیک فٹ پر جا تے نظر آئے ہیں ۔۔۔۔۔ اس لحاظ سے مریم نواز ۔۔۔۔۔ کو اس بات سے خوشی ہوئی ہے کہ ۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔۔ا رشاد بھٹی ۔۔۔۔۔ کو فل ڈوز مل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ عمران خان حکومت کو یہ فا ئدہ ہوا ہے کہ ۔۔۔۔ حسن نثار ۔۔۔ ارشاد بھٹی ۔۔۔۔۔ ن لیگ سے گا لیاں کھا نے کے بعد اب اگلے الیکشن تک ۔۔۔۔ ن لیگ کی بھول کر بھی سپورٹ نہیں کریں گے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آ ڈ یو ۔۔۔۔ لیک ۔۔۔۔ سے نیازی کو بھی بہت فا ئدہ پہنچا ہے ۔۔۔۔ اور مریم نوا کو بھی فا ئدہ پہنچا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور میرا خیا ل ۔۔۔۔ اس لیک سے ۔۔۔۔ عوام پا کستان کو بھی بہت فا ئدہ پہنچا ہے کہ ۔۔۔۔۔ یہ دونوں بھو نکنے والے سرکاری کتے ۔۔۔ سا لوں سے ۔۔۔۔ خفیہ ایجنسیوں کے ایجنڈ ے بھو نک بھونک کر ۔۔۔۔ عوام کے دما غوں میں برین واشنگ کرتے رھتے تھے ۔۔۔۔ ان خفیہ ایجنسیوں کے جا سوس گندے صحا فیوں ۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔ لعنت پڑ گئی ہے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ عوام ۔۔۔ کو ۔۔۔ ان کی برین واشنگ سے کچھ نہ کچھ کمی ضرور آئے گی ۔۔۔ کیونکہ اتنی بے عزتی کے بعد ۔۔۔ سرکاری فوجی کتوں کے ۔۔۔۔ سرکاری بھونکنے ۔۔۔ برین واشنگ ۔۔۔۔ میں کمی کی توقع متوقع ہے ۔۔۔۔۔

    اتنا لمبا ریپلائی بھونکنے کے زمرے میں آتا ہے۔

    :lol: :hilar:

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #4

    اتنا لمبا ریپلائی بھونکنے کے زمرے میں آتا ہے۔ :lol: :hilar:

    حسن نثار ۔۔۔ ارشاد بھٹی ۔۔۔۔ کے ساتھ ۔۔۔ جو اس لیک نے کردیا ہے ۔۔۔۔۔۔

    اور ان دونوں کی ۔۔۔ دا نشوری ۔۔۔۔ کو ننگا کردیا ہے ۔۔۔۔۔

    مز ہ آگیا ۔۔۔۔۔۔ آ ڈ یو سن کر ۔۔۔۔۔

    ایک دن تیری ستھن بھی اسی طرح اتر جا ئے گی ۔۔۔۔ ھر ۔۔۔۔ ڈ یول ۔۔۔ کا ایک دن انجام ہو جا تا ہے ۔۔۔۔۔۔

    Sohraab
    Participant
    Offline
    • Expert
    #5
    prime minister ki beti ka phone record karna aik jurm hai
Viewing 5 posts - 1 through 5 (of 5 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi