Home Forums Siasi Discussion فضل الرحمان کی ’خوشی‘ اور موسیٰ خان کی حراست کا معاملہ

Viewing 3 posts - 1 through 3 (of 3 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2847
    • Total Posts: 7157
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: فضل الرحمان کی ’خوشی‘ اور موسیٰ خان کی حراست کا معاملہ

    حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ ان دنوں ان کی شمالی علاقہ جات کی سیر کی تصویریں وائرل ہوئی ہیں جن میں ان کے چہرے کے تاثرات ان کی خوشگوار موڈ کو ظاہر کر رہے ہیں۔
    مولانا فضل الرحمان ان دنوں کشمیر کی وادی نیلم میں ہیں جہاں وہ اتوار تک رہیں گے۔ ان کی جماعت کے ذرائع نے بتایا کہ یہ دورہ کشمیر میں تنظیمی معاملات کے لیے پہلے سے شیڈول تھا۔
    اپوزیشن کی اے پی سی کے بعد مولانا فضل الرحمان سے وابستہ خبریں وائرل ہوئی ہیں جن میں اے پی سی کے دوران انھیں براہ راست نہ دکھانے کا شکوہ ہو یا ان کے سخت گیر موقف کی ویڈیو ہو میڈیا پر چھائی رہی ہیں۔
    شمالی علاقہ جات کی تصویروں میں مولانا فضل الرحمان دریا کے کنارے پتھروں پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جبکہ ایک تصویر میں ان کے ہمراہ جے یو آئی سندھ کے رہنما راشد سومرو اور ضیا الرحمان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس بارے میں لوگ اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ ’مولانا خود ہی شمالی علاقہ جات کی سیر کو چلے گئے ہیں۔
    یاد رہے ’شمالی علاقہ جات کی سیر‘ اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر گیا تھا جب ایس ای سی پی کے ایک افسر مبینہ جبری گمشدگی کے بعد واپس آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گئے تھے۔ یہ ٹرینڈ بظاہر ان لوگوں کے لیے تھا جو لوگ اچانک لاپتہ ہو جاتے ہیں اور الزام خفیہ اداروں پر لگایا جاتا ہے۔
    مولانا فضل الرحمان کے چاہنے والے ان کی نظر آنے والی اس خوشی کو ان کی حالیہ ’کامیابی‘ سے جوڑ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے ان کو نوٹس جاری کرنے کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا کو اب تک کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام کے ان کارکنوں کو بھی رہا کر دیا گیا ہے جنھیں جماعت کے ایک رہنما موسیٰ خان بلوچ کی گرفتاری کے بعد احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
    موسیٰ خان بلوچ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تحصیل پہاڑپور کے امیر ہیں اور ان دنوں نیب کی حراست میں ہیں۔ بعض تجزیہ کار اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بظاہر ’موسیٰ خان کو مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے اور اس گرفتاری کا مقصد مولانا کو ہراسان کرنا ہے۔
    ایسا اس لیے بھی کہا جا رہا ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے موسیٰ خان کے خلاف انکوائری تو مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت گیر موقف سے پہلے ہی شروع کر دی گئی تھی لیکن ان گرفتاری بظاہر مولانا کے سخت موقف کے بعد کی گئی ہے۔

    موسیٰ خان بلوچ کون ہیں؟

    ذرائع ابلاغ میں موسیٰ خان بلوچ کو کہیں مولانا فضل الرحمان کا ’فرنٹ مین‘ تو کہیں مولانا فضل الرحمان کا دست راست کہا جا رہا ہے لیکن کیا اس میں صداقت ہے یا یہ سب کچھ بغیر کسی تحقیق اور معلومات کے اچھالا جا رہا ہے؟
    موسیٰ خان بلوچ سنہ 2017 میں ڈسٹرکٹ فارسٹ افسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ سرکاری ملازمت کے بعد انھوں نے جمعیت علمائے اسلام میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی۔ مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق موسیٰ خان کا جمعیت اور مولانا سے نظریاتی لگاؤ ہے اور یہ کوئی اب کا نہیں بلکہ خاندانی سطح کا نظریاتی تعلق ہے۔
    قومی احتساب بیورو کی جانب سے موسیٰ خان بلوچ پر مبینہ طور پر آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے اور سرکاری فنڈز میں خرد برد کے الزامات میں انکوائری جاری ہے۔
    موسیٰ خان بلوچ کو عدالت نے دو روز پہلے مزید پانچ روز کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا ہے جبکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے مزید افراد کو پوچھ گچھ کے لیے جمعے کو طلب کیا گیا ہے۔
    مولانا فضل الرحمان کو نوٹس کی خبریں بھی اے پی سی کے بعد آئیں اور پھر موسیٰ خان بلوچ کو بھی گرفتار کیا گیا جس کے بعد جمعیت علمائے اسلام نے دھرنوں کی دھمکی دی تھی اور جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔
    نیب نے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں نوٹس کی خبروں پر بیان جاری کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے کوئی نوٹس مولانا فضل الرحمان کو نہیں بھیجا اور اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ خان کی حراست کے بعد احتجاج کرنے والے جماعت کے کارکنوں کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس نے جماعت کے کچھ کارکنوں کو گرفتار کیا تھا اور بڑی تعداد میں کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے تھے۔
    نیب نے کیا الزمات عائد کیے ہیں؟
    معروف قانون دان لطیف آفریدی ایڈووکیٹ موسیٰ خان کے وکیل ہیں۔ بی بی سی نے ان سے پوچھا کہ موسیٰ خان کے خلاف الزامات کتنے سنگین ہیں تو ان کا دعویٰ تھا کہ نیب نے جو دستاویزات فراہم کی ہیں وہ ’مبہم ہیں اور ان میں کوئی تفصیلات نہیں ہیں بلکہ عمومی قسم کے الزامات ہیں‘، جن میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں فنڈز میں خرد برد کی ہے اور ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر کے طور پر سرکار کو نقصان پہنچایا ہے۔
    انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں سنا کہ موسیٰ خان نے کوئی کروڑوں روپے کمائے ہیں یا ’بلین ٹری سونامی‘ میں کوئی خرد برد کی ہے لیکن انھوں نے الزام عائد کیا کہ موسیٰ خان کی گرفتاری کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ موسیٰ خان کا بیٹا مولانا فضل الرحمان کا سیکریٹری ہے اور ’یہ سب کچھ مولانا صاحب کو ہراساں کرنے کی کوشش نظر آتی ہے‘ اس کے علاوہ انھیں کچھ ایسا نہیں لگتا۔

    تحقیقات میں کیا ہو رہا ہے؟

    بظاہر تو اب تک سرکاری سطح پر کچھ ایسا نہیں بتایا جا رہا کہ آمدن سے زیادہ اثاثے کیا ہیں اور ان کی مالیت کتنی ہے لیکن ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب کو کچھ ایسی دستاویز ملی ہیں جن میں ان کے اثاثوں کی تفصیل ہے۔
    ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان میں مبینہ طور پر کوئی لگ بھگ 190 کنال زمین ہے جو تحصیل پہاڑپور کے قریب ڈھکی، ڈیرہ اسماعیل خان اور راجن پور میں ہے اور اس کے علاوہ ایک کرش مشین ہے جو بظاہر ان کے بھتیجے کے نام پر ہے۔ اس کرش مشین کی مالیت کوئی 30 ملین روپے تک بتائی گئی ہے اور اس کے ساتھ لوڈر اور دیگر گاڑیاں بھی ہیں۔
    اس کے علاوہ ذرائع نے بتایا کہ مبینہ طور پر ایک ریسٹ ہاؤس ہے جو سرکاری زمین پر تعمیر کیا گیا ہے اور بلین ٹری سونامی منصوبے میں پودوں کی خریداری میں خرد برد کا الزام ہے۔ ان میں ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر نرسریوں سے جس قیمت میں پودے خریدے گئے اور دستاویزات میں جو رقم درج کی گئی اس میں تضاد پایا گیا ہے۔
    اس کے علاوہ بھی کچھ الزامات ہیں جن کے دستاویزات موجود نہیں ہیں یا ان کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کن کی ملکیت ہیں۔ اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ان کے قریبی سرکاری اہلکاروں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
    ان پر ایک الزام سرکاری نوکری میں اپنے قریبی رشتہ دار کو تعینات کرنا ہے اور اس سیلیکشن کمیٹی میں یہ خود موجود تھے اس بارے میں بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

    کیا موسیٰ خان مولانا کے دست راست تھے؟

    مقامی سطح پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے ایسے کچھ شواہد نہیں ملے ما سوائے اس کے کہ موسیٰ خان کا بیٹا مولانا فضل الرحمان کا سیکریٹری ہے۔ سینیئر مقامی صحافی اور کالم نویس اسلم اعوان کا کہنا ہے کہ سرکاری نوکری کے بعد موسیٰ خان نے جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور اس کے بعد وہ تحصیل پہاڑپور میں جماعت کے امیر مقرر ہوئے۔
    موسیٰ خان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان کی تعلیم ایف اے ہے۔ موسیٰ خان فارسٹ گارڈ بھرتی ہوئے تھے اور ترقی کر کے ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر کے عہدے پر ریٹائر ہوئے۔ پہاڑپور تحصیل کے گاؤں ڈھکی کے رہنے والے ہیں اور ان کے والد زمیندار تھے۔
    اسلم اعوان نے کہا کہ موسیٰ خان کی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ نظریاتی لگاؤ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور نہ ہی مولانا فضل الرحمان اس سطح پر کوئی ایسے تعلقات رکھتے ہیں۔
    انھوں نے بتایا کہ موسیٰ خان حقیقی معنوں میں فارسٹر تھے اور انھوں نے جنگلات کے لیے کافی کام کیا ہے جن میں انھوں نے مردان میں بہت کام کیا اور بلین ٹری سونامی کے لیے کام کیا تھا۔ اسلم اعوان نے بتایا کہ موسیٰ خان نے خیبر پختونخوا کے دریائے سندھ کے قریب 400 کنال زمین واگزار کرائی تھی جس پر ’عمران خان نے بھی تعریف کی تھی‘۔
    تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ موسیٰ خان کے خلاف نیب کی کارروائی اے پی سی سے پہلے شروع کر دی گئی تھی لیکن اس میں کوئی زیادہ بدعنوانی کے شواہد نہیں ملے لیکن ان کی گرفتاری اے پی سی کے بعد ہوئی ہے جس وجہ سے موسیٰ خان کی گرفتاری کو زیادہ کوریج حاصل ہوئی ہے۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-54383895

    #2
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2847
    • Total Posts: 7157
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: فضل الرحمان کی ’خوشی‘ اور موسیٰ خان کی حراست کا معاملہ

    #3
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2847
    • Total Posts: 7157
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: فضل الرحمان کی ’خوشی‘ اور موسیٰ خان کی حراست کا معاملہ

Viewing 3 posts - 1 through 3 (of 3 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi