Home Forums Non Siasi عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

Viewing 20 posts - 61 through 80 (of 161 total)
  • Author
    Posts
  • #61
    Amir Ali
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 9
    • Posts: 222
    • Total Posts: 231
    • Join Date:
      2 Dec, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    #62
    Zed
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 136
    • Posts: 1705
    • Total Posts: 1841
    • Join Date:
      17 Feb, 2017

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    . ھر بندے عورت کی اپنے جسم پر اپنی مرضی ہوتی ہے ۔۔۔۔ وہ اپنی مرضی سے نہاتا اور اپنی مرضی سے دھوتا ہے ۔۔۔ اپنی مرضی سے لائف پارٹنر کے ساتھ سوتا ہے اور اپنی مرضی سے اپنے کتے کے سا تھ سوتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ایسے میں ۔۔۔۔ ٹی وی پر یہ نعرے مارنا کہ میرا جسم میری مرضی ۔۔۔۔۔۔ واٹ از شی ٹرائنگ ٹو ۔۔۔۔ پرووو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #63
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    ۔۔ رات کو لڑکا ۔۔۔۔ لڑکی کے سا تھ سونے کی کوشش کرتا لڑکی انکار کردیتی ۔۔۔۔ وہ پھدو لڑکا ۔۔۔ لڑکی کو ۔۔۔ اسلام ۔۔۔ مذ ھب کے احکا ما ت سنا نے لگتا کہ ۔۔۔ میرا شرعی حق ہے ۔۔۔ مجھے کرنے دیا جائے ۔۔۔ پھدو انسان بجا ئے لڑکی کا دل جیتنے کے ۔۔۔۔ مذ ھبی اور معا شرتی ۔۔۔۔ پریشر سے ۔۔۔ خواھش پوری کرجاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لڑکا واقعی پھدو تھا، اس کو چاہیے تھا کہ اسلام کی کچھ تعلیمات سے آگاہی حاصل کرتا، کیونکہ اسلام میں بیوی کو تابعِ فرمان کرنے کے بے شمار گُر ہیں، اگر وہ صرف یہی حدیث بیوی کو ہر رات سنا دیتا تو اس کی مجال نہ تھی کہ وہ انکار کرتی۔۔۔

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور عورت انکار کردے اور شوہر اسی طرح ناراضگی کی حالت میں رات بسر کرے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ (مشکاة: ۲۸۰)۔

    • This reply was modified 1 year, 4 months ago by Zinda Rood.
    #64
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 752
    • Posts: 8937
    • Total Posts: 9689
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    یار آپ اپنے دماغ پر زیادہ زور نہ ڈالا کرو

    دوسرا میں بھی سوچ رہا ہو کے سبزی خور بن جاؤں اور گوشت خوری چھوڑ دو

    پاکستانی عورت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ معاشی طور پر خودکفیل نہیں ہے۔ اگر وہ مالی طور پر خود مختار ہوجائے تو اسے کسی سے کوئی حق مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ وہ مرد کے تسلط سے خودبخود نکل جائے گی۔ پاکستان میں ایک ہی گھر میں لڑکا اور لڑکی کو مختلف سوچ کے تحت پروان چڑھایا جاتا ہے۔ لڑکے کی اس امید کے ساتھ پرورش اور تربیت ہوتی ہے کہ وہ ماں باپ کا سہارا بنے گا، گھر کاروبار کو سنبھالے گا، جبکہ لڑکی کی اس نیت کے ساتھ تعلیم، تربیت کی جاتی ہے کہ یہ تو پرایا دھن ہے، اس نے تو دوسرے گھر ہی جانا ہے۔ بھلے لڑکی کو پی ایچ ڈی کروالیں، مگر اس کو اس بات کی آزادی نہیں دی جاتی کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرسکے، وہ شادی کرنا چاہتی ہے یا نہیں، اس فیصلے کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہیں، پاکستانی سماج میں ایک لڑکے کا کنوارا رہنا تو گوارا ہوجاتا ہے، مگر ایک بن بیاہی لڑکی کیلئے کوئی جگہ نہیں، کیونکہ وہ معاشی طور پر کسی نہ کسی مرد (باپ / بھائی وغیرہ) پر ڈپینڈنٹ ہوتی ہے، اس لئے اس کی زندگی کے فیصلے بھی کسی مرد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں ایک لڑکا بڑی آزادی کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے، سائیکل، موٹر بائیک یا گاڑی چلاتے ہوئے کہیں بھی چلاجاتا ہے۔ مگر لڑکی کو یہ آزادی حاصل نہیں، اسے لڑکوں کی طرح سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے کی آزادی نہیں۔ وہ لڑکوں کی طرح اکیلے کہیں آجا نہیں سکتی، وہ بغیر برقعے یا کالی چادر کو اوڑھے گھوم پھر نہیں سکتی، میں نے دیکھا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اچھی بھلی پڑھی لکھی لڑکیاں بھی گھروں سے نکلتی ہیں تو کالا برقعے اوڑھے بھتنی بنی نکلتی ہیں، مئی جون کی انتہائی گرمی اور حبس میں وہ کالے برقعے کے عذاب کو خود پر جھیلتی رہتی ہیں۔۔

    عورت کو مالی طور پر مرد کے ماتحت کرنے پر عورت کی شناخت ہی ختم ہوگئی ہے، وہ یا تو کسی کی بیٹی کے طور پر جانی جاتی ہے، یا بہن کے طور یا بیوی کے طور پر۔ عورت کو یہ حق کیوں نہیں کہ وہ بھی جب چاہے اپنے شوہر کے منہ پر طلاق مار کر اس سے خلاصی حاصل کرسکے، عورت کو جائیداد میں مرد کے برابر حق کیوں نہیں دیا جاتا، عورت کو یہ فیصلہ کرنے کا پورا حق ہونا چاہیے کہ اس کے کتنے بچے ہوں گے، ہمارے سماج میں بچوں کی تعداد کا مکمل فیصلہ مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور عورت بے چاری کو محض بچہ پیدا کرنے کی مشین سمجھا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اسلامی تہذیب کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والی خواتین اعتماد سے کلی طور پر محروم ہوتی ہیں، یہاں تک کہ جو چند خواتین کچھ شعبوں میں آگے نکل آتی ہیں، وہ بھی اتنی پراعتماد نہیں ہوتیں، جتنی کسی دوسرے آزاد معاشرے کی خاتون ۔ پاکستان کے میڈیا کی خواتین کا موازنہ انڈین خواتین اینکرز سے کرلیں، پاکستانی میڈیا میں ایک بھی خاتون اتنی بااعتماد نہیں ملے گی، جتنی انڈین میڈیا کی خواتین ہیں۔

    عورت مارچ میں عورت کی آزادی سے متعلق متنازعہ نعروں کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہ اشو بھرپور طریقے سے ہائی لائیٹ ہونا شروع ہوگیا، میڈیا پر بھی اور عورت مارچ کے مخالفین بھی اپنی فطری حماقت کے زیر اثر اس کی خوب تشہیر کررہے ہیں۔ جس سے اب کم از کم عورت کے حقوق کی بحث تو چھڑ گئی ہے۔ اگر یہ متنازعہ نعرے نہ ہوتے تو کسی کو پتا بھی نہ ہوتا کہ عورت مارچ کونسی سڑک سے گزر کر ختم ہوگیا ہے۔۔ یہ متنازعہ نعرے عورت مارچ کی کامیابی ہیں۔۔

    #65
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 398
    • Posts: 9093
    • Total Posts: 9491
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    He is an imposter and a copy cat. He is copying Jordan Paterson’s philosophy and his drama serial was also copied from the movie “indecent proposal”. تھکا ہوا لنڈے کا دانشور۔

    اس نے تو یہ بھی کہا ہے کہ مجھ پر تحریر اوپر سے اترتی ہے میں تو صرف اس کی نوک پلک سنوارتا ہوں

    :yapping:

    #66
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 398
    • Posts: 9093
    • Total Posts: 9491
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    وہ تو اکثر انڈین پاکستانی فلموں میں بھی ہیروئین پیسوں کی خاطر ہی ہیرو کو چھوڑنے پر رضامند ہوجاتی ہے؟؟ انڈیسنٹ پروپوزل میں ہیروئن نے اپنے شوہر کو رضامند کیا تھا کہ پیسوں کی خاطرولن کے ساتھ ایک رات سونا صرف ایک جسمانی تعلق ہوگا اور کچھ نہیں۔ شوہر کے دماغ میں اوٹ پٹانگ خیالات آتے گئے اور اس نے اتنی پاکباز بیوی پر شک کرنا شروع کردیا تھا جس کی وجہ سے نوبت طلاق اور پھر رجوع تک پہنچی۔ میرے پاس تم ہو کی کہانی میں ہیروئین نے پیسوں کی خاطر شوہر کو چھوڑا اور ولن کے کنگال ہوجانے کے بعد شوہر سے رجوع کرنے کی کوشش فرمائی جو کہ ناکام ثابت ہوئی۔ اب ان دونوں کو ایک ہی پلاٹ سمجھنا ایسی ہی کوشش ہے جیسے نواز شریف اور عمران کو ایک سمجھنا :bigsmile: ۔

    آپ نے تو ان دونوں ڈراموں کا پلاٹ ایک ثابت کردیا بہت خوب

    دونوں عورتوں میں پیسے کی خاطر کچھ کر دکھانے کا جذبہ تو تھا ایک کا کلچر اسے اجازت دیتا تھا  اور دوسری کا نہیں لہذا نقالئے نے دوسری کو کلچر کے لحاظ سے ڈھال دیا

    دونوں نے پیسے کو اہمیت دی اور جسم یعنی ان کی خوبصورتی ہی اصل میں امیر کسٹمر کی ڈیمانڈ تھی جو دونوں نے ان کو پیسے لے کر پوری کردی خواہ طریقہ اپنا اپنا تھا

    یہ بندہ چول ہے آپ مانیں کہہ رہا تھا کہ تحریر اس پر اوپر سے اترتی ہے بس نوک پلک سنوارنی پڑتی ہے

    :serious:

    #67
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 110
    • Posts: 2770
    • Total Posts: 2880
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    #68
    Zed
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 136
    • Posts: 1705
    • Total Posts: 1841
    • Join Date:
      17 Feb, 2017

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    پاکستانی عورت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ معاشی طور پر خودکفیل نہیں ہے۔ اگر وہ مالی طور پر خود مختار ہوجائے تو اسے کسی سے کوئی حق مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ وہ مرد کے تسلط سے خودبخود نکل جائے گی۔ پاکستان میں ایک ہی گھر میں لڑکا اور لڑکی کو مختلف سوچ کے تحت پروان چڑھایا جاتا ہے۔ لڑکے کی اس امید کے ساتھ پرورش اور تربیت ہوتی ہے کہ وہ ماں باپ کا سہارا بنے گا، گھر کاروبار کو سنبھالے گا، جبکہ لڑکی کی اس نیت کے ساتھ تعلیم، تربیت کی جاتی ہے کہ یہ تو پرایا دھن ہے، اس نے تو دوسرے گھر ہی جانا ہے۔ بھلے لڑکی کو پی ایچ ڈی کروالیں، مگر اس کو اس بات کی آزادی نہیں دی جاتی کہ وہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرسکے، وہ شادی کرنا چاہتی ہے یا نہیں، اس فیصلے کا اختیار اس کے ہاتھ میں نہیں، پاکستانی سماج میں ایک لڑکے کا کنوارا رہنا تو گوارا ہوجاتا ہے، مگر ایک بن بیاہی لڑکی کیلئے کوئی جگہ نہیں، کیونکہ وہ معاشی طور پر کسی نہ کسی مرد (باپ / بھائی وغیرہ) پر ڈپینڈنٹ ہوتی ہے، اس لئے اس کی زندگی کے فیصلے بھی کسی مرد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں ایک لڑکا بڑی آزادی کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے، سائیکل، موٹر بائیک یا گاڑی چلاتے ہوئے کہیں بھی چلاجاتا ہے۔ مگر لڑکی کو یہ آزادی حاصل نہیں، اسے لڑکوں کی طرح سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے کی آزادی نہیں۔ وہ لڑکوں کی طرح اکیلے کہیں آجا نہیں سکتی، وہ بغیر برقعے یا کالی چادر کو اوڑھے گھوم پھر نہیں سکتی، میں نے دیکھا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اچھی بھلی پڑھی لکھی لڑکیاں بھی گھروں سے نکلتی ہیں تو کالا برقعے اوڑھے بھتنی بنی نکلتی ہیں، مئی جون کی انتہائی گرمی اور حبس میں وہ کالے برقعے کے عذاب کو خود پر جھیلتی رہتی ہیں۔۔

    عورت کو مالی طور پر مرد کے ماتحت کرنے پر عورت کی شناخت ہی ختم ہوگئی ہے، وہ یا تو کسی کی بیٹی کے طور پر جانی جاتی ہے، یا بہن کے طور یا بیوی کے طور پر۔ عورت کو یہ حق کیوں نہیں کہ وہ بھی جب چاہے اپنے شوہر کے منہ پر طلاق مار کر اس سے خلاصی حاصل کرسکے، عورت کو جائیداد میں مرد کے برابر حق کیوں نہیں دیا جاتا، عورت کو یہ فیصلہ کرنے کا پورا حق ہونا چاہیے کہ اس کے کتنے بچے ہوں گے، ہمارے سماج میں بچوں کی تعداد کا مکمل فیصلہ مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور عورت بے چاری کو محض بچہ پیدا کرنے کی مشین سمجھا جاتا ہے۔

    پاکستان میں اسلامی تہذیب کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والی خواتین اعتماد سے کلی طور پر محروم ہوتی ہیں، یہاں تک کہ جو چند خواتین کچھ شعبوں میں آگے نکل آتی ہیں، وہ بھی اتنی پراعتماد نہیں ہوتیں، جتنی کسی دوسرے آزاد معاشرے کی خاتون ۔ پاکستان کے میڈیا کی خواتین کا موازنہ انڈین خواتین اینکرز سے کرلیں، پاکستانی میڈیا میں ایک بھی خاتون اتنی بااعتماد نہیں ملے گی، جتنی انڈین میڈیا کی خواتین ہیں۔

    عورت مارچ میں عورت کی آزادی سے متعلق متنازعہ نعروں کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہ اشو بھرپور طریقے سے ہائی لائیٹ ہونا شروع ہوگیا، میڈیا پر بھی اور عورت مارچ کے مخالفین بھی اپنی فطری حماقت کے زیر اثر اس کی خوب تشہیر کررہے ہیں۔ جس سے اب کم از کم عورت کے حقوق کی بحث تو چھڑ گئی ہے۔ اگر یہ متنازعہ نعرے نہ ہوتے تو کسی کو پتا بھی نہ ہوتا کہ عورت مارچ کونسی سڑک سے گزر کر ختم ہوگیا ہے۔۔ یہ متنازعہ نعرے عورت مارچ کی کامیابی ہیں۔۔

    One of the biggest benefit of Mera jism, meri marzi will be population control.

    #69
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    یار آپ اپنے دماغ پر زیادہ زور نہ ڈالا کرو

    :thinking:

    لگتا ہے آپ کا بھی دماغ خراب ہوگیا ہے

    :bigsmile:

    فکری بیواؤں کے پاس دماغ ہوتا تو کیا ساری عمر رنڈی رونا روتے ہی گزارتیں؟

    ان کے پاس دو ہی چیزیں ہوتی ہیں، رونے کے لئے آنکھیں اور چیخیں مارنے کے لئے منہ ہوتا ہے

    اب یہ نہ پوچھنا شروع ہو جائیے گا کہ کوںسے منہ کی بات ہو رہی ہے؟

    :hilar: :hilar:

    #70
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    One of the biggest benefit of Mera jism, meri marzi will be population control.

    مجھے نہیں لگتا ہے کہ “میرا جسم میری مرضی” والے ہیجڑے آبادی بڑھانے کے قابل ہوتے ہیں

    :)

    #71
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    آپ نے تو ان دونوں ڈراموں کا پلاٹ ایک ثابت کردیا بہت خوب دونوں عورتوں میں پیسے کی خاطر کچھ کر دکھانے کا جذبہ تو تھا ایک کا کلچر اسے اجازت دیتا تھا اور دوسری کا نہیں لہذا نقالئے نے دوسری کو کلچر کے لحاظ سے ڈھال دیا دونوں نے پیسے کو اہمیت دی اور جسم یعنی ان کی خوبصورتی ہی اصل میں امیر کسٹمر کی ڈیمانڈ تھی جو دونوں نے ان کو پیسے لے کر پوری کردی خواہ طریقہ اپنا اپنا تھا یہ بندہ چول ہے آپ مانیں کہہ رہا تھا کہ تحریر اس پر اوپر سے اترتی ہے بس نوک پلک سنوارنی پڑتی ہے :serious:

    جسمانی خوبصورتی ڈھلتی چھاوں چھاوں کی طرح ہوتی ہے

    کوئی کب تک اپنی جسمانی خوبصورتی سے اپنے امیر کسٹمرز کی ڈیمانڈ پوری کرتا رہے گا؟

    چار دن کی جوانی ڈھل جائے گی تو پھر پیسہ کہاں سے آئے گا؟

    زندگی جسم کی خوبصورتی سے حاصل کئے گئے پیسوں پر نہیں، محنت کرکے کمائے گئے پیسوں پر گزرتی ہے

    • This reply was modified 1 year, 4 months ago by Bawa.
    #72
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 752
    • Posts: 8937
    • Total Posts: 9689
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    تو کٹوا کیوں نہی دیتے ؟

    :serious:

    One of the biggest benefit of Mera jism, meri marzi will be population control.
    #73
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2846
    • Total Posts: 7156
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    تو کٹوا کیوں نہی دیتے ؟ :serious:

    کیا؟؟؟؟

    #74
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    اس “میرا جسم میری مرضی” والی عورت کی ہنسی سے اس کے گھٹیا ہونے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے

    • This reply was modified 1 year, 4 months ago by Bawa.
    #75
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2846
    • Total Posts: 7156
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    فیمینسٹوں اور ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کے بیچ نزاع کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں- البتہ جنگ کی جو صورتِ حال اس بار بنی ہے وہ ضرور نئ ہے
    جیو ٹی وی / سیون اسکائ اور خلیل الرحمن قمر کا معاہدہ ، سیاہی جس کی ابھی تک خشک بھی نہ ہوئ تھی ، ٹوٹ چکا ہے- فیمینسٹی منجنیقیوں کو ہر اس قلعہ پہ سنگ باری کی ہدایت ہے جس پہ “فیملی سسٹم” کا جھنڈا لہرا رہا ہے- آثار بتاتے ہیں کہ اس بار جو بھی تریا ھَٹ کے سامنے آئے گا خس و خاشاک کی طرح بہا دیا جائے گا
    نزاع ، آغاز جس کا خلیل کے مشہور ڈرامے “میرے پاس تم ہو” کی قسط نمبر 12 سے ہوا چینل 24 کے ٹاک شو کے بعد گھمسان کا رُخ اختیار کر چکا ہے- اوپر سے 8 مارچ بھی سر پہ کھڑا ہے- خدا خیر کرے
    ہم خلیل الرحمن قمر کو کبھی نہ جان پاتے اگر وہ “میرے پاس تم ہو” کی قسط نمبر 12 نہ لکھتا- کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑنے والی اس سیریل کی کہانی ایک مڈل کلاس سرکاری ملازم کی ہے جو اپنی بیوی کے خواب پورے کرنے کےلئے سرتوڑ محنت کرتا ہے- بیوی ، نام جس کا مہوش ہے ، آسائشوں کی جستجو میں اپنے ایماندار شوہر دانش” کو چھوڑ کر ایک کامیاب بزنس مین “شہوار” کا ہاتھ تھام لیتی ہے- وجہ ؟ میرا جسم میری مرضی
    قسط نمبر 12 میں ، اپنی محبوب بیوی سے جدا ہوتے وقت دانش صاحب نے ، شہوار سے ایک تاریخی کلمہ ارشاد فرمایا کہ “دیکھنے سننے میں آپ ایک کامیاب بزنس مین لگتے ہیں ، لیکن یہاں بھاؤ کرتے وقت آپ نے مجھے بھی حیران کر دیا- ایک دوٹکّے کی عورت کےلئے آپ مجھے پچاس ملین دے رہے تھے ؟
    اس مکالمہ نے فیمینسٹ طبقہ کے جزبات کو شدید زِک پہنچائ خیال میں جن کے “نکاح” کی روایت 1825ء میں انگریز نے ڈالی تھی- دوسری طرف خلیل الرحمن قمر بھی اپنے مؤقف پہ ڈٹ گئے کہ محض آسائشوں کی خاطر اپنا گھر توڑنے والی عورت دوٹکّے کی ہی ہوتی ہے
    اس پوری صورتِ حال کو سمجھنا کوئ مشکل امر نہیں اور نہ ہی یہ کوئ مسئلہء فیثا غورث ہے- آپ خلیل الرحمن قمر کے ساتھ کھڑے ہیں تو آپ یقیناً فیملی سسٹم کے ساتھ ہیں- آپ ماروی سرمد کے سپورٹر ہیں تو ” طلاق پسند” ہیں اور آپ کے نزدیک عورت کا جسم کسی قانون ، قاعدے ، اصول کا پابند نہیں
    آپ خلیل سے نفرت کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے دلائل میں فریقِ مخالف کو بری طرح لتاڑ دیتا ہے- اس کی زبان بھی وہی ہے جو کپتان کی دھرنے کے دنوں میں تھی لیکن ایک بات آپ کو ماننا پڑے گی کہ اگر کوئ پتّھر اس بہاؤ کے رستے میں واقعی کھڑا ہے تو وہ دراز گو ، دشنام طراز خلیل الرحمن قمر ہی ہے
    کھڑے تو اپنے سلوگن پہ فیمینسٹ بھی ہیں- ان کے ہاتھوں میں بھی وہی پرانے کتبے ہیں- ہاں فرق یہ ہے کہ کل کی نسبت آج وہ کئ قدم آگے بڑھ چکے ہیں
    جن نعروں کا کل سوشل میڈیا پہ مذاق اڑایا جاتا تھا، آج اسی پلیٹ فارم سے ان کی تاویلات کی جا رہی ہیں- سال پہلے “عورت مارچ” سوشل میڈیا کی انٹرٹینمنٹ تھا آج الیکٹرونکس میڈیا کا سب سے گرم موضوع ہے
    ان نعروں کو تھڑوں سے اٹھا کر تحریک میں بدلنے والے آپ خود ہیں- یہ آپ ہی ہیں جو تاویلات کے الائچی بادام ڈال کر ان نعروں کو ایک خوبصورت فلسفہ کا رنگ دے رہے ہیں- وجہ صرف یہ ہے کہ آپ روایات کی زنجیریں توڑ کر “جدّت پسند” کہلانا چاھتے ہیں
    کل آپ نے جدّت پسندی کے نام پر “تبدیلی” کا زھر قوم کی رگوں میں اتارا ، آج اس ادھ موئ قوم کو “عورت مارچ” کے نام پر بے وقوف بنانے چلے ہیں- وجہ صرف یہ کہ آپ ہر صورت جدّت پسند ہی کہلانا چاھتے ہیں
    فیمنسٹ “خاندانی نظام” کا کُل اثاثہ یعنی “عورت” کو لوٹنے پہ کمر بستہ ہیں- یہ ہماری رویات اور اقدار کا سربازار جنازہ نکالنا چاھتے ہیں- یہ بات ہم اور آپ اچھی طرح جاننے کے باوجود اس تحریک کے ساتھ مسلسل بہے جا رہے ہیں- آپ جدّت پسند کہلانا چاھتے ہیں ، آپ کی مجبوری ہے لیکن ہمارا کیا قصور ہے کہ کُل سرمایہ جن کا عورت ہے؟
    مذھبی طبقہ تو خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد ، دونوں کے شر سے پناہ مانگ چکا- سوشل میڈیا کے علمائے پھنّے خان کا رویہ بھی دیکھنے لائق ہے- اس گرما گرم تالاب میں اترتے ہیں تو اکابرین کے فتوے سر پہ پڑتے ہیں ، باہر نکلتے ہیں تو لبرلز جان کو آتے ہیں
    وہ بیچارے کبھی لبرلز کی طرف دیکھتے ہیں ، کبھی اکابرین کی طرف- کبھی اس حوض کے اندر گھستے ہیں تو کبھی باہر آکر پائنچے نچوڑنے لگتے ہیں
    سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟
    ہم نے فیملی سسٹم کو تریا ھٹ سے بچانے کےلئے کیا کیا ؟ فلسفہ ایجاد کیا ؟ اور کچھ؟ سیلاب آپ کے دروازے پہ کھڑا ہے- کب تک ایک ڈرامہ نگار پہ انحصار کرتے رہیں گے- قلم اٹھائیے اور نئ نسل کو ایجوکیٹ کیجئے- انہیں فیملی سسٹم کی افادیت اور عورت مارچ کے اصل مقاصد سے آگاہ کیجئے- یہ آخری موقع ہے ، ضائع کر دیا تو اگلے سال عورت مارچ کے نعرے اس سے بھی “چھوٹے” ہونگے اور جلوس “میلاد” سے بھی بڑے

    بشکریہ ….. ظفر اقبال محمّد

    https://www.facebook.com/zafar.awan.56211/posts/2608608656063857?__cft__%5B0%5D=AZUAJmeuEGccs7f4e2sxVbvcGSdWv5cd64RARS3KmC4PsiVO3jmNNmJuCrEQ1uCkgLmGjKFuPQ0cwPhzNba2pTjGo_zwRXlPi3irWE5AXlj8ZwSCOI51zRlgbapsWHNVxbw&__tn__=%2CO%2CP-R

    #76
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    تو کٹوا کیوں نہی دیتے ؟ :serious:

    غیر اخلاقی اور ذومعنی گفتگو سے گریز کریں

    :bigsmile:

    #77
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    جس پر وہ پٹری سے اتر گیا Well summed up Bawa Ji As far as interruption is concerned, is there any TV discussion programme in Pakistani TV Channels where participants (including the host) do not have shouting matches? Even these shouting matches are deliberately allowed to happen otherwise the anchorperson and the programme director have a very simple tool (turn the sound off) available to them. I wish they learn few things from their European fellow professionals.

    کومنٹس نمبر چوہتر میں پوسٹ کردہ وڈیو سے اس عورت کی اصلیت کا اندازہ لگایا جا سکتا یے

    وہ وڈیو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ خلیل الرحمٰن نے جو اس کے ساتھ کیا ہے وہ اسی قابل تھی

    #78
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 0
    • Posts: 5403
    • Total Posts: 5403
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    تو کٹوا کیوں نہی دیتے ؟ :serious:

    ۔

    میرا خیال ملحد بنا تے وقت اور ھیجڑہ    ۔۔۔۔۔۔  بنا تے وقت ۔۔۔۔۔ کا ٹ ۔۔۔۔ دیا جاتا  ہے ۔۔۔۔

    کٹنے کے بعد یہ صرف ۔۔۔۔ زنانہ ۔۔۔۔ با تیں کرتے ہیں ۔۔۔۔ مردوں سے چڑتے بھی ہیں ۔۔۔۔۔ مردوں سے پھٹتی بھی ہے ۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 4 months ago by Guilty.
    #79
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 0
    • Posts: 5403
    • Total Posts: 5403
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    ۔

    جوں جوں دنیا میں عورت کے حقوق بڑھتے جا رھے ہیں ۔۔۔۔ مارکیٹ میں ۔۔۔۔ پیشہ ور ۔۔۔ عورتوں ۔۔۔۔۔ سٹرپ لڑکیوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رھی ہے ۔۔

    مغرب میں بھی اور پا کستان میں بھی ۔۔۔۔ زیادہ سے زیادہ ۔۔۔ نوجوان ۔۔۔۔ لڑکیاں ۔۔۔ مارکیٹ میں ۔۔۔۔ مہیا ہورھی ہیں ۔۔۔۔۔۔

    مجھے خوشی ہے اگر ماڈرن عورتیں ۔۔۔۔ پا کستانی عورتوں کو بھی مغرب کی عورتوں کی طرح مزید حقوق دلوادیں گی ۔۔۔۔

    پا کستانی مردوں ۔۔۔ دوستوں کو ۔۔۔۔ لڑکیاں زیادہ سستی ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ زیادہ کم عمر ۔۔۔۔ مل سکیں گی ۔۔۔۔

    مردوں کی جوں جوں عمر بڑھتی جا ئے گی ۔۔۔۔ نئی سے نئی  نوجوان ۔۔۔۔ لڑکیوں کی ۔۔۔ فراوانی بڑھتی چلی جائے گی اور آسان ترین ہوتی جا ئے گی ۔۔

    اس حسا ب سے تو ۔۔۔۔ مردوں کو ۔۔۔۔ ماروی سرمد ۔۔۔۔ ملحد ین ۔۔۔۔ کو ۔۔۔۔ ا یپ ری شی ایٹ ۔۔۔۔کر نا چا ھیے ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #80
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عورت مارچ پر خلیل الرحمٰن قمر اور ماروی سرمد کی بحث

    یار آپ اپنے دماغ پر زیادہ زور نہ ڈالا کرو دوسرا میں بھی سوچ رہا ہو کے سبزی خور بن جاؤں اور گوشت خوری چھوڑ دو

    بن جاؤ یار۔۔ دونوں مل کر آلو بریانی کھائیں گے۔۔۔

    ذرا نادان اور سلیم رضا کا کچھ پتا تو کریں، “احمقوں کی محفل” والا تھریڈ کتنا سونا سونا لگ رہا ہے ان کے بغیر۔۔۔ 

Viewing 20 posts - 61 through 80 (of 161 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi