Thread: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

Home Forums Internationl News عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 27 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    مغربی معاشرے ایک طویل ارتقائی سفر کے بعد تہذیب، شائستگی اور برداشت کے موجودہ مقام پر پہنچے ہیں۔ مغرب نے اس بات کو سمجھ لیا کہ اپنی سوچ، اپنا نظریہ، اپنے خیالات صرف اپنی ذات کی حد تک محدود ہونے چاہئیں اور ان کو کسی دوسرے پر زبردستی نہیں تھوپنا چاہیے۔ اسی لئے وہاں آزادی فکر ترویج پائی، وہ موضوعات جو کسی زمانے میں انتہائی حساس اور ٹیبو سمجھے جاتے تھے، ان پر  کھلے ذہن کے ساتھ بغیر تشدد کے بات کرنا عام ہوگیا۔ چونکہ وہاں کے لوگوں کی اکثریت برداشت کی حامل تھی، سو انہوں نے غلطی یہ کی کہ ان لوگوں کو بھی برداشت کرنا شروع کردیا جو عدم برداشت پر یقین رکھتے تھے۔ ان میں سب سے نمایاں لوگ وہ مسلمان تھے جو تنگ نظر، گھٹن زدہ سوچ کی بنیاد پر قائم پسماندہ ممالک سے نکل کر  روزی روٹی کیلئے ان معاشروں میں آکر رہنے لگے۔ انہوں نے ان معاشروں کی اقدار کو تو کسی حد تک اپنا لیا، لیکن اپنی فرسودہ سوچ سے چھٹکارا نہ پاسکے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ وہاں بھی عدم برداشت کے بیج بونے لگے۔

    سونے پر سہاگا یہ ہوا کچھ مغربی ممالک نے  انتشار زدہ مسلمان ممالک سے دردبدر کی ٹھوکریں کھاتے پناہ گزینوں کیلئے فراخ دلی سے اپنے ممالک کے دروازے کھول دیئے۔ نتیجتاً ہزاروں  لاکھوں پناہ گزین ان ممالک میں داخل ہوگئے اور یہ وہ لوگ تھے جو ایک کاغذ کی کتاب کو انسانی جان سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔  جن لوگوں نے آنے والی تباہی کا ادراک کرتے ہوئے مسلمانوں کی عدم برداشت پر بات کرنے کی کوشش کی، ان کو وہاں انتہا پسند کہا گیا، جب مسلمان عورت کے حجاب کو زیر بحث لایا جاتا تو فیمینسٹ خواتین خود حجاب پہن کر مسلمانوں کی حمایت میں آجاتیں۔مسلمانوں کے جذبات کے احترام کے نام پر بے ضرر خاکوں کی مخالفت کی گئی اور عدم برداشت کے رویے کو برداشت کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ اب عدم برداشت کا وائرس وہاں کے معاشروں میں پھیل رہا ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی معاشرے میں اگر عدم برداشت کو زیادہ عرصہ تک برداشت کیا جائے تو وہ بتدریج برداشت کو نگل جاتی ہے اور پیچھے پھر صرف عدم برداشت رہ جاتی ہے۔ اس کو کارل پاپر نے اپنے پیراڈاکس آف ٹولرینس میں زیادہ وضاحت سے بیان کیا ہے۔۔

    If a society is tolerant without limit, its ability to be tolerant is eventually seized or destroyed by the intolerant. In order to maintain a tolerant society, the society must be intolerant of intolerance.

    I do not imply for instance, that we should always suppress the utterance of intolerant philosophies; as long as we can counter them by rational argument and keep them in check by public opinion, suppression would be most unwise. But we should claim the right to suppress them if necessary even by force.

    اب یہ  ایک پیراڈاکس ہےکہ آپ اگر “عدم برداشت” کو برداشت نہیں کرتے تو یہ بھی ایک قسم کی عدم برداشت ہی ہے، مگر معاشرے میں برداشت کو برقرار رکھنے کیلئے یہ عدم  برداشت ضروری ہے۔۔ اس کا عملی مظاہرہ سویڈن کے شہر میلمو میں دیکھا جاسکتا ہے جس میں کچھ دن پہلے یہ افواہ اڑی کہ کسی نے قرآن کو نظر آتش کردیا ہے، اس کے بعد مسلمان سڑکوں پر نکل آئے اور پاکستانی سٹائل میں وہاں احتجاج شروع کردیا، ٹائر جلانے شروع کردیئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور سویڈن بھی شام، عراق اور پاکستان کا منظر نامہ پیش کرنے لگا۔ سویڈن  نے لاکھوں مسلمان پناہ گزینوں کو پناہ دی اور اب اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔۔

    • This topic was modified 6 months ago by Zinda Rood.
    #2
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 73
    • Posts: 7014
    • Total Posts: 7087
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    یعنی ایک ایسی کتاب جو کروڑوں انسانوں کے لئے انتہائی محترم ہے اسے جلا کے اشتعال دلانا فریڈم آف سپیچ ہے ، بکنی پہننا حتی کہ ننگے گھومنا بھی شخصی آزادی ہے لیکن حجاب پہننا عدم برداشت ہے ، چلیں مان لیا ٹائر جلانا ، توڑ پھوڑ کرنا قابل قبول نہیں  لیکن  قران جلا کے کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کرنا بھی نا قابل قبول ہی ہے ، یہ آپ کے نزدیک کاغذ کی کتاب ہے ، جن کروڑوں اربوں لوگوں کے نزدیک یہ جان سے زیادہ عزیز ہے ان کا کیا، یہ بھی تو زبردستی اپنے خیالات تھوپنے کی بھونڈی کوشش ہے ، مجھے سمجھ نہیں آتی قران جلا کے یا اس کی بے حرمتی کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ ، اب میں یہاں بار بار آپ کو گالی دوں جواب میں تنگ آ کے آپ ایک دفعہ مجھے گالی دیں تو میں رولا ڈال دوں کہ دیکھو ملحدین کتنے بد تمیز ہیں ، مطلب بار بار اشتعال دلاتے ہی کیوں ہیں مسلمانوں کو

    #3
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 111
    • Posts: 2166
    • Total Posts: 2277
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    قرآن جلا کر اُ س کے ری ایکشن کو “عدم برداشت”کہنا آسان ہے

    کیونکہ کبھی کسی مسلمان نے”زبور،انجیل کو نہیں جلایا

    محمد ﷺ کے گھٹیا خاکے بنا کر اُن پر رد عمل کو عدم برداشت کہنا آسان ہے

    کیونکہ کبھی کسی مسلمان نے  عیسیٰ کے مجسمے کو نہیں روندا مجسمے کو روندنا تو دور کی بات صلیب کو زمین پر نہیں پٹخا

    جس دن مسلمانوں کو اس بات  کا ادارک ہوگیا کہ زبور اور انجیل وہ زبور اور انجیل نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی تھیں یہ بعد کے انسانوں کی اپنی تخلیق ہیں

    عیسٰی کا مجسمہ کوئی مقدس مورتی نہی بلکہ  بعد کے لوگوں کے زہن کی تصوراتی صرف ایک پتھر ،لکڑی کی شبیہ ہے  اُس دن انہوں نے تزلیل کے بدلےاِن کی تزلیل شروع کی تب  مغرب کے رد عمل کے وقت برداشت کے فلسفے اورعدم برداشت کے بہاشن سنائے گا۔

    • This reply was modified 6 months ago by Athar.
    #4
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    یعنی ایک ایسی کتاب جو کروڑوں انسانوں کے لئے انتہائی محترم ہے اسے جلا کے اشتعال دلانا فریڈم آف سپیچ ہے ، بکنی پہننا حتی کہ ننگے گھومنا بھی شخصی آزادی ہے لیکن حجاب پہننا عدم برداشت ہے ، چلیں مان لیا ٹائر جلانا ، توڑ پھوڑ کرنا قابل قبول نہیں لیکن قران جلا کے کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کرنا بھی نا قابل قبول ہی ہے ، یہ آپ کے نزدیک کاغذ کی کتاب ہے ، جن کروڑوں اربوں لوگوں کے نزدیک یہ جان سے زیادہ عزیز ہے ان کا کیا، یہ بھی تو زبردستی اپنے خیالات تھوپنے کی بھونڈی کوشش ہے ، مجھے سمجھ نہیں آتی قران جلا کے یا اس کی بے حرمتی کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ ، اب میں یہاں بار بار آپ کو گالی دوں جواب میں تنگ آ کے آپ ایک دفعہ مجھے گالی دیں تو میں رولا ڈال دوں کہ دیکھو ملحدین کتنے بد تمیز ہیں ، مطلب بار بار اشتعال دلاتے ہی کیوں ہیں مسلمانوں کو
    قرآن جلا کر اُ س کے ری ایکشن کو “عدم برداشت”کہنا آسان ہے کیونکہ کبھی کسی مسلمان نے”زبور،انجیل کو نہیں جلایا محمد ﷺ کے گھٹیا خاکے بنا کر اُن پر رد عمل کو عدم برداشت کہنا آسان ہے کیونکہ کبھی کسی مسلمان نے عیسیٰ کے مجسمے کو نہیں روندا مجسمے کو روندنا تو دور کی بات صلیب کو زمین پر نہیں پٹخا جس دن مسلمانوں کو اس بات کا ادارک ہوگیا کہ زبور اور انجیل وہ زبور اور انجیل نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی تھیں یہ بعد کے انسانوں کی اپنی تخلیق ہیں عیسٰی کا مجسمہ کوئی مقدس مورتی نہی بلکہ بعد کے لوگوں کے زہن کی تصوراتی صرف ایک پتھر ،لکڑی کی شبیہ ہے اُس دن انہوں نے تزلیل کے بدلےاِن کی تزلیل شروع کی تب مغرب کے رد عمل کے وقت برداشت کے فلسفے اورعدم برداشت کے بہاشن سنائے گا۔

    آپ حضرات نے میرے موقف کی تائید ہی کی ہے، تردید نہیں ۔ میری نظر میں اس وقت دو قسم کی قابلِ ذکر تہذیبیں ہیں جو تصادم کے کنار پر ہیں، ان میں سے ایک تہذیب وہ ہے جو صدیوں پرانے فکری ورثے کی مالک ہے، ان کے نزدیک کاغذ کی کتابیں، پتھروں کی عمارتیں (مساجد) ، پرانے زمانوں کے فوتشدگان زندہ انسانوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان کیلئے یہ اپنی جان دینا اور دوسروں کی جان لینا باعثِ فخر جانتے ہیں، آزادی فکر ان کے نزدیک ابلیس کی ایجاد ہے، دوسری قوموں کو تو درکنار، یہ خود ایک دوسرے کو بہت مشکل سے برداشت کرتے ہیں۔

    دوسری تہذیب وہ ہے جس سے وابستہ افراد انسانی جان کو کسی بھی کاغذ پتھر سے زیادہ مقدم سمجھتے ہیں، جو آزادی فکر پر یقین رکھتے ہیں اور باہم گفت و شنید میں جوتم پیزار ہونا ان کی روایت نہیں ہے، یہ اختلافِ رائے کو بھرپور سپیس دینے کے قائل ہیں۔   میری رائے میں ان دو تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں بہت زیادہ فرق ہے، ان کی سوچ میں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے اور ان کا ایک ساتھ رہنا معاشرتی امن کیلئے تباہ کن ہے۔ یورپی معاشرے چونکہ موخر التہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی برداشت کے دامن کو حد سے زیادہ وسعت دے کر ہزاروں سال پرانی تہذیب کے فکری وارثان کو اپنے اندر پناہ دینے کی بھیانک غلطی کی ہے اور اس کا خمیازہ انہیں آنے والے وقت میں مزید بھگتنا ہوگا۔ ٹرمپ نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا اور اس کے ساتھ بہت سے امریکیوں نے بھی فرسودہ تہذیب کے وارثان سے جان چھڑانے کیلئے ٹرمپ کو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کیا، ٹرمپ فی الحال اپنے معاشرے کی تلخیص کے عمل میں ناکام نظر آتا ہے۔ ۔ سویڈن والے کیس نے بہت سے لوگوں کو جھنجھوڑا ہے اور  اب لوگوں کو احساس ہورہا ہے کہ کس قسم کے مذہبی جنونی ان کے درمیان رہ رہے ہیں، ابھی تو اقلیت میں ہیں تو یہ حال ہے، کل کو ان کی تعداد ذرا بڑھ گئی تو یہ ان معاشروں کا کیا حال کریں گے۔  

    • This reply was modified 6 months ago by Zinda Rood.
    #5
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 111
    • Posts: 2166
    • Total Posts: 2277
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    آپ حضرات نے میرے موقف کی تائید ہی کی ہے، تردید نہیں ۔ میری نظر میں اس وقت دو قسم کی قابلِ ذکر تہذیبیں ہیں جو تصادم کے کنار پر ہیں، ان میں سے ایک تہذیب وہ ہے جو صدیوں پرانے فکری ورثے کی مالک ہے، ان کے نزدیک کاغذ کی کتابیں، پتھروں کی عمارتیں (مساجد) ، پرانے زمانوں کے فوتشدگان زندہ انسانوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان کیلئے یہ اپنی جان دینا اور دوسروں کی جان لینا باعثِ فخر جانتے ہیں، آزادی فکر ان کے نزدیک ابلیس کی ایجاد ہے، دوسری قوموں کو تو درکنار، یہ خود ایک دوسرے کو بہت مشکل سے برداشت کرتے ہیں۔

    دوسری تہذیب وہ ہے جو انسانی جان کو کسی بھی کاغذ پتھر سے زیادہ مقدم سمجھتے ہیں، جو آزادی فکر پر یقین رکھتے ہیں اور باہم گفت و شنید میں جوتم پیزار ہونا ان کی روایت نہیں ہے، یہ اختلافِ رائے کو بھرپور سپیس دینے کے قائل ہیں۔ میری رائے میں ان دو تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں بہت زیادہ فرق ہے، ان کی سوچ میں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے اور ان کا ایک ساتھ رہنا معاشرتی امن کیلئے تباہ کن ہے۔ یورپی معاشرے چونکہ موخر التہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی برداشت کے دامن کو حد سے زیادہ وسعت دے کر ہزاروں سال پرانی تہذیب کے فکری وارثان کو اپنے اندر پناہ دینے کی بھیانک غلطی کی ہے اور اس کا خمیازہ انہیں آنے والے وقت میں مزید بھگتنا ہوگا۔ ٹرمپ نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا اور اس کے ساتھ بہت سے امریکیوں نے بھی فرسودہ تہذیب کے وارثان سے جان چھڑانے کیلئے ٹرمپ کو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کیا، ٹرمپ فی الحال اپنے معاشرے کی تلخیص کے عمل میں ناکام نظر آتا ہے۔ ۔ سویڈن والے کیس نے بہت سے لوگوں کو جھنجھوڑا ہے اور اب لوگوں کو احساس ہورہا ہے کہ کس قسم کے مذہبی جنونی ان کے درمیان رہ رہے ہیں، ابھی تو اقلیت میں ہیں تو یہ حال ہے، کل کو ان کی تعداد ذرا بڑھ گئی تو یہ ان معاشروں کا کیا حال کریں گے۔

    آپ کی یہ ایک مرغ کی ٹانگ میری تحریر کا جواب نہیں

    برداشت اور عدم برداشت کی اصل وجہ کو نظر انداز کر کے آپ ادھ ادھوری کہانیاں قصے بیان کر کے فلاسفر کے درجے پر فائز ہونے کی کوشش کرتے رہیں ہو نہیں سکیں گے

    عدم برداشت یہ نہیں کہ خود پرتو کوئی مصیبت نازل ہوئی نہیں اور دوسرے کی دستار کو پیروں میں روند کر اُسے عدم برداشت کا طعنہ دیا جائے

    مجھے شوق نہیں کہ میں صفحے کالے کرتا رہوں دو ٹوک موقف چند سطروں میں بیان کر دیا اب آپ چاہے جتنے مرضی صفحۓ کالے کرتے رہیں لیکن اصل بات وہی رہے گی کہ جب تک خود پر مصیبت نازل نہ ہوئی ہے خود اُن حالات سے نہ گزرا گیا ہو جیسے حالات دوسروں کے لیئے بنائے گئے ہوں تب تک “برداشت اور عدم برداشت”کا ڈھکوسلہ انصاف کے میعار پرپورا نہیں اتر سکتا۔

    #6
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 73
    • Posts: 7014
    • Total Posts: 7087
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    آپ حضرات نے میرے موقف کی تائید ہی کی ہے، تردید نہیں ۔ میری نظر میں اس وقت دو قسم کی قابلِ ذکر تہذیبیں ہیں جو تصادم کے کنار پر ہیں، ان میں سے ایک تہذیب وہ ہے جو صدیوں پرانے فکری ورثے کی مالک ہے، ان کے نزدیک کاغذ کی کتابیں، پتھروں کی عمارتیں (مساجد) ، پرانے زمانوں کے فوتشدگان زندہ انسانوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان کیلئے یہ اپنی جان دینا اور دوسروں کی جان لینا باعثِ فخر جانتے ہیں، آزادی فکر ان کے نزدیک ابلیس کی ایجاد ہے، دوسری قوموں کو تو درکنار، یہ خود ایک دوسرے کو بہت مشکل سے برداشت کرتے ہیں۔

    دوسری تہذیب وہ ہے جس سے وابستہ افراد انسانی جان کو کسی بھی کاغذ پتھر سے زیادہ مقدم سمجھتے ہیں، جو آزادی فکر پر یقین رکھتے ہیں اور باہم گفت و شنید میں جوتم پیزار ہونا ان کی روایت نہیں ہے، یہ اختلافِ رائے کو بھرپور سپیس دینے کے قائل ہیں۔ میری رائے میں ان دو تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں بہت زیادہ فرق ہے، ان کی سوچ میں ہزاروں سال کا فاصلہ ہے اور ان کا ایک ساتھ رہنا معاشرتی امن کیلئے تباہ کن ہے۔ یورپی معاشرے چونکہ موخر التہذیب سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی برداشت کے دامن کو حد سے زیادہ وسعت دے کر ہزاروں سال پرانی تہذیب کے فکری وارثان کو اپنے اندر پناہ دینے کی بھیانک غلطی کی ہے اور اس کا خمیازہ انہیں آنے والے وقت میں مزید بھگتنا ہوگا۔ ٹرمپ نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا اور اس کے ساتھ بہت سے امریکیوں نے بھی فرسودہ تہذیب کے وارثان سے جان چھڑانے کیلئے ٹرمپ کو ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کیا، ٹرمپ فی الحال اپنے معاشرے کی تلخیص کے عمل میں ناکام نظر آتا ہے۔ ۔ سویڈن والے کیس نے بہت سے لوگوں کو جھنجھوڑا ہے اور اب لوگوں کو احساس ہورہا ہے کہ کس قسم کے مذہبی جنونی ان کے درمیان رہ رہے ہیں، ابھی تو اقلیت میں ہیں تو یہ حال ہے، کل کو ان کی تعداد ذرا بڑھ گئی تو یہ ان معاشروں کا کیا حال کریں گے۔

    پہلے تو آپ یہ کلیئر کریں برداشت کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے یا ڈائریکٹ فرما دیں کہ اگر قران جلایا جائے تو برداشت کرنا چاہیے ٹائر جلایا جائے تو ہرگز نہیں ، یہ کس قسم کا انصاف ہے

    #7
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 53
    • Posts: 934
    • Total Posts: 987
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    عامر اینڈ اطہر
    بات یہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے جس گروپ کے اراکان نے یہ بیحرمتی کی ہے اس پر حکومت کی طرف سے پابندی تھی … اب مسلہ یہ ہے کہ اگر حکومت اس کام میں شامل ہوتی تو بھی بات تھی .. جب حکومت اس کام میں ملوث ہی نہیں پھر مسلمانوں کا سرکاری تنصیبات ، توڑ پھوڑ کرنےکا کوئی جواز ہی نہیں بنتا …. اپ دونوں اشخاص کی اس طرح کی بیوقوفانہ باتیں آپ کی پارٹی کے سیاسی کرئیر کے لئے بہت خطرناک ہیں ….. …. کل سویڈن کے واقعہ کی وجہ سے یہاں پاکستان میں لوگ توڑ پہوڑ شروع کر دیں گے آپ اور اپ کے لیڈر بھی ان کے ساتھ مل جایں گے …..

    مسلمانوں کی ایسی حرکات کی وجہ سے ہی وہ لوگ اپنے ملکوں میں بڑھتے ہوے اسلام کے پھیلاؤ کے خلاف ہیں ….. مسلمان مذھب کی وجہ سے اپنے ملک تباہ و برباد کر چکے ہیں اور یوروپی ملکوں کا سکون بھی برباد کر ہیں …. اس احساس کمتری کی وجہ بھی مسلمانوں کی بہت زیادہ مذھب اور سخصیت پرستی ہے … جیسے کہ مولا مشرق ، سرکار لاہور ، شاعر شرق ہو غرب ، عزت مآب … نہایت ہی قابل احترام ، حضرت اقبال نے مغبربی معاشرے کا ٹاور کیا تو اندر سے جل سڑ گے اور پیشن کوئی کی ..

    دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
    کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
    تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
    جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا

    آج ایک صدی ہو چکی ہے مغبربی تہذیب پھل پھول رہی ہے اور مسلمان تہذیب گل سڑ رہی ہے

    • This reply was modified 6 months ago by unsafe.
    #8
    Judge
    Moderator
    Offline
    • Threads: 2
    • Posts: 354
    • Total Posts: 356
    • Join Date:
      20 Mar, 2020

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    ے موسلے جو کچھ کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں .. جب حکومت اس کام میںہی پھر موصلوں ہے

    Can’t you debate decently? What is moslay?

    Becareful and be nice next time.

    #9
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 16
    • Posts: 2739
    • Total Posts: 2755
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    جیسے کہ مولا مشرق ، سرکار لاہور ، شاعر شرق ہو غرب ، عزت مآب … نہایت ہی قابل احترام ، حضرت اقبال

    :cwl: :cwl: :cwl: ™©

    #10
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 53
    • Posts: 934
    • Total Posts: 987
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    Can’t you debate decently? What is moslay? Becareful and be nice next time.

    جج صاحب اگلی دفعہ آپ کو شکایات کا موقع نہیں ملے گا .. موسلے پیار سے مسلمانوں کا نک نیم ہے .. پر یہ لفظ بھی استعمال نہیں کیا جاے گا … میں نے اپنی پوسٹ بھی ایڈٹ کر دی ہے

    #11
    casanova
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 0
    • Posts: 571
    • Total Posts: 571
    • Join Date:
      4 Sep, 2018
    • Location: گلشن گلشن

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    مغربی معاشرہ ایک طویل ارتقائی سفر طے کرکے نفاست، شائستگی اور برداشت کی اعلی اقدار کا سمبل بن چکا ہے؟؟؟؟؟؟

    اے میرے پیارے پیارے ملحدی بقراطوں۔۔۔ ویسے تو میں ان بحثوں میں کبھی نہیں الجھتا۔۔ کیونکہ اس فورم کے ملحد اعظم، ڈارونئین آستانہ کے چمکتے ستارے،سائنسی و فلسفیاتی علوم کےابلتے فوارے، بین المذاہب حوالہ جات کے دفتری استعارے ، اقبالیات کی ٹنگ کھینچنے والے ہتھیارے، جناب زندہ رود کے ساتھ لمبی لمبی تحریروں کی ریس لگانا اپن کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔ لیکن جسٹ فار دا سیک آف این آرگومنٹ۔۔۔۔ ابھی چند دن پہلے امریکہ میں ایک متعصب گورے نے ایک کالے کی اپنی ٹانگ کے نیچے گِچّی دبا کر مغربی تہذیب کی شائستگی اور رواداری کو فلمبند کروایا تھا۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں پورے امریکہ میں توڑ پھوڑ اور تشدد کا بوال مچ گیا تھا۔۔۔ جس کے شعلے ابھی بھی تڑکھ تڑکھ کرکے مغربی تہذیب کو ہالووین چمک بخش رہے ہیں۔۔۔۔اس سے بھی تھوڑا اور پیچھے جائیں ۔۔۔ تو مغربی تہذیب کی شائستگی اور انسان دوستی کے مزید ٹھمکے دیکھے جا سکتے  ہیں۔۔۔۔ جب کرونا لاکڈ ڈاؤن کے ابتدائی دنوں میں گروسری سٹورز پر کھانے پینے کی اشیاء جمع کرنے پر باہم دست و گریبان ہو کر اپنے فائیو سٹارز کچنز کو راشن کا گودام بنانے کی جنگ جاری تھی۔۔۔سوشل میڈیا پر ایسی سینکڑوں ویڈیوز مل جائیں گی۔۔۔۔

    لیکن ولائتی مال کی طرف تنقیدی اکھ چُکنے کی بجائے۔۔۔۔ ہمارے الٹرا لیفٹسٹ ملحدی سجن  دیسی مرعوبیت کا سُوٹہ لگا کر نیوے تھاں ای کیہڑیاں کڈناں شروع کر دیندے نیں۔۔۔۔ ۔۔۔

    #12
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 53
    • Posts: 934
    • Total Posts: 987
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    مغربی معاشرہ ایک طویل ارتقائی سفر طے کرکے نفاست، شائستگی اور برداشت کی اعلی اقدار کا سمبل بن چکا ہے؟؟؟؟؟؟ اے میرے پیارے پیارے ملحدی بقراطوں۔۔۔ ویسے تو میں ان بحثوں میں کبھی نہیں الجھتا۔۔ کیونکہ اس فورم کے ملحد اعظم، ڈارونئین آستانہ کے چمکتے ستارے،سائنسی و فلسفیاتی علوم کےابلتے فوارے، بین المذاہب حوالہ جات کے دفتری استعارے ، اقبالیات کی ٹنگ کھینچنے والے ہتھیارے، جناب زندہ رود کے ساتھ لمبی لمبی تحریروں کی ریس لگانا اپن کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔ لیکن جسٹ فار دا سیک آف این آرگومنٹ۔۔۔۔ ابھی چند دن پہلے امریکہ میں ایک متعصب گورے نے ایک کالے کی اپنی ٹانگ کے نیچے گِچّی دبا کر مغربی تہذیب کی شائستگی اور رواداری کو فلمبند کروایا تھا۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں پورے امریکہ میں توڑ پھوڑ اور تشدد کا بوال مچ گیا تھا۔۔۔ جس کے شعلے ابھی بھی تڑکھ تڑکھ کرکے مغربی تہذیب کو ہالووین چمک بخش رہے ہیں۔۔۔۔اس سے بھی تھوڑا اور پیچھے جائیں ۔۔۔ تو مغربی تہذیب کی شائستگی اور انسان دوستی کے مزید ٹھمکے دیکھے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ جب کرونا لاکڈ ڈاؤن کے ابتدائی دنوں میں گروسری سٹورز پر کھانے پینے کی اشیاء جمع کرنے پر باہم دست و گریبان ہو کر اپنے فائیو سٹارز کچنز کو راشن کا گودام بنانے کی جنگ جاری تھی۔۔۔سوشل میڈیا پر ایسی سینکڑوں ویڈیوز مل جائیں گی۔۔۔۔ لیکن ولائتی مال کی طرف تنقیدی اکھ چُکنے کی بجائے۔۔۔۔ ہمارے الٹرا لیفٹسٹ ملحدی سجن دیسی مرعوبیت کا سُوٹہ لگا کر نیوے تھاں ای کیہڑیاں کڈناں شروع کر دیندے نیں۔۔۔۔ ۔۔۔

    کاسا نوا ،اے تاجدار خوبصورتی  

    کہتے ہیں ظلم کی حد ہوتی ہے اور اس حد سے جب پار ہوتا ہے تو مہذب قوم کی برداشت بھی ختم ہو جاتی حی … پولسیہ کا  گھٹنا صرف جارج فلائڈ کی گردن پر نہیں تھا  بلکہ آپ سمیت  دنیا کے اکثر ممالک میں روزانہ لوگوں کی گردن پر ظلم،بھوک،بربریت،انتہاپسندی،قوم پرستی یا سیکورٹی کے نام پر رکھا گیا تھا  …

    ایسی صورتحال میں صرف ایک واقعے سے امریکہ کی عوام نے جس مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور ایک کرپٹ محکمے کے خلاف اکھٹے ہو گے  یہ انتہائی خوش آئند بات ہے … آپ کی اس واقعہ سے مذھبی واقعات جس کا کوئی سر ہے نہ پیر اس  کو جسٹیفائی کرنے پر اکیس توپوں کی سلامی …. پس ثابت ہوا جو قومیں مذھب کو اپنے اوپر سوار کر لیتی ہیں بس ان کے سارے جذبات مذھب سے لگ جاتے ہیں اور معاشرے میں پھیلتی ہوے ظلم ، غربت ،   مظلوم و محکوم محنت کش طبقے سے حمایت کرنے کی بجاے وہ فضول چیزوں پر لوگوں کو پھینٹی لگاتے رہتے ہیں  ….

    #13
    casanova
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 0
    • Posts: 571
    • Total Posts: 571
    • Join Date:
      4 Sep, 2018
    • Location: گلشن گلشن

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    کاسا نوا ،اے تاجدار خوبصورتی

    کہتے ہیں ظلم کی حد ہوتی ہے اور اس حد سے جب پار ہوتا ہے تو مہذب قوم کی برداشت بھی ختم ہو جاتی حی … پولسیہ کا گھٹنا صرف جارج فلائڈ کی گردن پر نہیں تھا بلکہ آپ سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں روزانہ لوگوں کی گردن پر ظلم،بھوک،بربریت،انتہاپسندی،قوم پرستی یا سیکورٹی کے نام پر رکھا گیا تھا …

    ایسی صورتحال میں صرف ایک واقعے سے امریکہ کی عوام نے جس مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور ایک کرپٹ محکمے کے خلاف اکھٹے ہو گے یہ انتہائی خوش آئند بات ہے … آپ کی اس واقعہ سے مذھبی واقعات جس کا کوئی سر ہے نہ پیر اس کو جسٹیفائی کرنے پر اکیس توپوں کی سلامی …. پس ثابت ہوا جو قومیں مذھب کو اپنے اوپر سوار کر لیتی ہیں بس ان کے سارے جذبات مذھب سے لگ جاتے ہیں اور معاشرے میں پھیلتی ہوے ظلم ، غربت ، مظلوم و محکوم محنت کش طبقے سے حمایت کرنے کی بجاے وہ فضول چیزوں پر لوگوں کو پھینٹی لگاتے رہتے ہیں ….

    :bigsmile: :bigsmile: :bigsmile:

    اوہ۔۔۔ کرپٹ محکمے کے خلاف مزاحمت کا مظاہرہ۔۔۔۔ ڈھشوں ڈھشوں ڈھشوں

    یار! آپ تو مغرب میں رہتے ہو(ایز مینشنڈ اِن یور پروفائل)۔۔۔ آپ بہتر گیان رکھتے ہو۔۔۔۔شمعا کر دیجئے گا مہاراج

    #14
    نادان
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 108
    • Posts: 15127
    • Total Posts: 15235
    • Join Date:
      31 Aug, 2016

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    کاسا نوا ،اے تاجدار خوبصورتی

    کہتے ہیں ظلم کی حد ہوتی ہے اور اس حد سے جب پار ہوتا ہے تو مہذب قوم کی برداشت بھی ختم ہو جاتی حی … پولسیہ کا گھٹنا صرف جارج فلائڈ کی گردن پر نہیں تھا بلکہ آپ سمیت دنیا کے اکثر ممالک میں روزانہ لوگوں کی گردن پر ظلم،بھوک،بربریت،انتہاپسندی،قوم پرستی یا سیکورٹی کے نام پر رکھا گیا تھا …

    ایسی صورتحال میں صرف ایک واقعے سے امریکہ کی عوام نے جس مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور ایک کرپٹ محکمے کے خلاف اکھٹے ہو گے یہ انتہائی خوش آئند بات ہے … آپ کی اس واقعہ سے مذھبی واقعات جس کا کوئی سر ہے نہ پیر اس کو جسٹیفائی کرنے پر اکیس توپوں کی سلامی …. پس ثابت ہوا جو قومیں مذھب کو اپنے اوپر سوار کر لیتی ہیں بس ان کے سارے جذبات مذھب سے لگ جاتے ہیں اور معاشرے میں پھیلتی ہوے ظلم ، غربت ، مظلوم و محکوم محنت کش طبقے سے حمایت کرنے کی بجاے وہ فضول چیزوں پر لوگوں کو پھینٹی لگاتے رہتے ہیں ….

    بات برداشت اور عدم برداشت کی ہو رہی ہے ..محض مذھب کی نہیں ..

    #15
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 73
    • Posts: 7014
    • Total Posts: 7087
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    عامر اینڈ اطہر بات یہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے جس گروپ کے اراکان نے یہ بیحرمتی کی ہے اس پر حکومت کی طرف سے پابندی تھی … اب مسلہ یہ ہے کہ اگر حکومت اس کام میں شامل ہوتی تو بھی بات تھی .. جب حکومت اس کام میں ملوث ہی نہیں پھر مسلمانوں کا سرکاری تنصیبات ، توڑ پھوڑ کرنےکا کوئی جواز ہی نہیں بنتا …. اپ دونوں اشخاص کی اس طرح کی بیوقوفانہ باتیں آپ کی پارٹی کے سیاسی کرئیر کے لئے بہت خطرناک ہیں ….. …. کل سویڈن کے واقعہ کی وجہ سے یہاں پاکستان میں لوگ توڑ پہوڑ شروع کر دیں گے آپ اور اپ کے لیڈر بھی ان کے ساتھ مل جایں گے …..

    مسلمانوں کی ایسی حرکات کی وجہ سے ہی وہ لوگ اپنے ملکوں میں بڑھتے ہوے اسلام کے پھیلاؤ کے خلاف ہیں ….. مسلمان مذھب کی وجہ سے اپنے ملک تباہ و برباد کر چکے ہیں اور یوروپی ملکوں کا سکون بھی برباد کر ہیں …. اس احساس کمتری کی وجہ بھی مسلمانوں کی بہت زیادہ مذھب اور سخصیت پرستی ہے … جیسے کہ مولا مشرق ، سرکار لاہور ، شاعر شرق ہو غرب ، عزت مآب … نہایت ہی قابل احترام ، حضرت اقبال نے مغبربی معاشرے کا ٹاور کیا تو اندر سے جل سڑ گے اور پیشن کوئی کی ..

    دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا

    آج ایک صدی ہو چکی ہے مغبربی تہذیب پھل پھول رہی ہے اور مسلمان تہذیب گل سڑ رہی ہے

    حضور والا ، کیا آپ بتانا پسند کریں گے حکومت نے انتہائی دائیں بازو کی اس حرکت پے کیا ایکشن لیا ؟؟

    #16
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    پہلے تو آپ یہ کلیئر کریں برداشت کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے یا ڈائریکٹ فرما دیں کہ اگر قران جلایا جائے تو برداشت کرنا چاہیے ٹائر جلایا جائے تو ہرگز نہیں ، یہ کس قسم کا انصاف ہے

    عامر صدیق۔۔۔ پرانے زمانوں میں لوگ مختلف دیوی دیوتاؤں کو پوجتے تھے، ہر علاقے اور ہرقبیلے کا اپنا اپنا دیوتا ہوتا تھا، ایک قبیلے کے خدا کو دوسرے قبیلے کے لوگ  نہیں مانتے تھے اور وہ لوگ ایک دوسرے کے دیوی دیوتاؤں کو گالیاں تک دے لیتے تھے،  مگر کبھی اس پر سرپھٹول نہیں کرتے تھے، کیونکہ ان میں بھی اتنا شعور تھا کہ جو ان کا خدا ہے، وہ صرف ان کا ہے، دوسروں کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ مسلمان اکیسویں صدی میں پہنچ گئے ہیں، مگر ابھی تک یہ بات  نہیں سمجھ سکے کہ جو چیز ان کیلئے مقدس ہے، وہ صرف ان کیلئے مقدس ہے اور وہ زبردستی دوسروں سے اس کا احترام نہیں کرواسکتے۔ ہاں مسلمان اپنے رویے سے دوسروں کو اپنے عقائد کا احترام کرنے پر ضرور مجبور کرسکتے ہیں۔ 

    جہاں تک قرآن کے احترام کا مطالبہ ہے تو معاملہ صرف اسی تقاضے تک محدود نہیں، مسلمانوں کے مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے جو وہ زبردستی منوانا چاہتے ہیں۔ مسلمان چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے نبی کے کارٹون نہ بنائے جبکہ ان معاشروں میں عیسائیوں کی اکثریت ہونے کے باوجود عیسیٰ کے کارٹون بنتے ہیں۔ مسلمان چاہتے ہیں کہ کوئی فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب یا انٹرنیٹ کے کسی بھی کونے کھدرے پر ان کی کسی مقدس مذہبی شخصیت کے خلاف کچھ نہ بولے۔ کچھ روز قبل بنگلور میں فیس بک پر ایک مسلمان نے ہندوؤں کے کسی بھگوان پر مزاحیہ کارٹون شیئر کیا، جواب میں کسی ہندو نے سرکارِ دو عالم کا کارٹون شیئر کردیا، ہندوؤں نے تو اپنے بھگوان کی توہین پر کوئی ری ایکشن نہ دیا، مگر  مسلمانوں نے اس جوابی پوسٹ پر پورے بنگلور میں کئی دن تک بوال مچائے رکھا۔ اس وقت تیرہ اسلامی ممالک میں توہینِ اسلام کی سزا موت ہے اور بے شمار لوگ محض توہینِ مذہب کا الزام لگنے پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں آسیہ مسیح نے اپنی عمر کا بڑا حصہ اپنے بچوں اور خاندان سے دور رہ کر جیل میں گنوا دیا، پروفیسر جنید جیسا سکالر کئی سالوں سے جیل میں سڑرہا ہے،  طاہر نسیم نامی معصوم نفسیاتی مریض کو عدالت کے اندر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، گورنر تک مسلمانوں کی بڑھی ہوئی مذہبی حساسیت سے بچ نہیں پاتا۔ یہ زہر مسلمانوں میں اس قدر سرایت کرگیا ہے کہ ہر بندہ اب دوسروں کو توہینِ مذہب کے نام پر مار کر ہیرو بننا چاہتا ہے، کچھ روز قبل پارلیمنٹ کے سامنے سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جو ختم نبوت کے نعرے لگاتے ہوئے پستول سے فائرنگ کررہا تھا۔ 

    مسلمانوں کی اپنے عقائد اور مذہبی شخصیات کے بارے میں حساسیت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ پاکستان میں سنی اور شیعہ  کی سرپھٹول ہر وقت جاری رہتی ہے، ایک مولوی آصف جلالی کو صرف اس لئے اندر کردیا گیا کہ اس نے صرف اتنا کہہ دیا کہ حضرت فاطمہ باغِ فدک مانگنے کے معاملے میں خطا پر تھیں۔ گویا حد سے بڑھی ہوئی مذہبی حساسیت کے شکار وہ مولوی بھی ہونے لگے ہیں جن کا کاروبار ہی توہین اور گستاخی کے فتوے لگانا ہے۔ اب تو سنی حضرات اس مشن پر ہیں کہ پاکستان میں توہینِ صحابہ کا قانون بنوا کر اہلِ تشیع کا بھی ناطقہ بند کردیا جائے۔ شیعوں کیلئے بھی سبق ہے کہ جس طرح انہوں نے احمدیوں کے خلاف قانون سازی میں سنیوں کا ساتھ دیا، اب خود بھی بھگتیں، اگر آپ دوسروں پر پابندیوں کے حق میں ہیں تو ایک دن آپ خود بھی پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔

      میری نظر میں یہ جو قرآن جلانے کے واقعات ہیں، یہ نہایت خوش آئند ہیں اور میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔ اس سے وقتی طور پر مسلمانوں کو تکلیف تو ہورہی ہے، لیکن لانگ ٹرم میں یہ مسلمانوں کےلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ مسلمانوں کی مذہبی حساسیت کو نارملائز کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے واقعات زیادہ سے زیادہ ہوں تاکہ ان کیلئے یہ چیز معمول کی چیز بن جائے ۔ جیسے کینسر کے مریض کو کیموتھراپی کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے، مگر ہوتی وہ کینسر کے مریض کے بھلے کیلئے ہے۔ ایسے ہی میں قرآن جلانے، سرکارِ دو عالم کے خاکے بنانے والے واقعات میں مسلمانوں کا ہی فائدہ دیکھ رہا ہوں۔ جب مسلمانوں کی مذہبی حساسیت ختم ہوجائے گی، اور وہ ایسے واقعات پر ری ایکٹ کرنا چھوڑ دیں گے، تب وہ ایک مہذب اور برداشت کی حامل قوم کہلائے جانے کے حقدار ہوں گے اور بہتر طور پر دوسری اقوام میں ضم ہوسکیں گے۔۔

    • This reply was modified 6 months ago by Zinda Rood.
    #17
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    ۔۔ ہمارے الٹرا لیفٹسٹ ملحدی سجن دیسی مرعوبیت کا سُوٹہ لگا کر نیوے تھاں ای کیہڑیاں کڈناں شروع کر دیندے نیں۔۔۔۔ ۔۔۔

    حضورِ والا۔۔۔ نیویں تھاں کیڑیاں کڈھاں گے تے لوگ تھاں اُچی کرن ورے سوچن گے۔۔۔

    #18
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 73
    • Posts: 7014
    • Total Posts: 7087
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    عامر صدیق۔۔۔ پرانے زمانوں میں لوگ مختلف دیوی دیوتاؤں کو پوجتے تھے، ہر علاقے اور ہرقبیلے کا اپنا اپنا دیوتا ہوتا تھا، ایک قبیلے کے خدا کو دوسرے قبیلے کے لوگ نہیں مانتے تھے اور وہ لوگ ایک دوسرے کے دیوی دیوتاؤں کو گالیاں تک دے لیتے تھے، مگر کبھی اس پر سرپھٹول نہیں کرتے تھے، کیونکہ ان میں بھی اتنا شعور تھا کہ جو ان کا خدا ہے، وہ صرف ان کا ہے، دوسروں کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ مسلمان اکیسویں صدی میں پہنچ گئے ہیں، مگر ابھی تک یہ بات نہیں سمجھ سکے کہ جو چیز ان کیلئے مقدس ہے، وہ صرف ان کیلئے مقدس ہے اور وہ زبردستی دوسروں سے اس کا احترام نہیں کرواسکتے۔ ہاں مسلمان اپنے رویے سے دوسروں کو اپنے عقائد کا احترام کرنے پر ضرور مجبور کرسکتے ہیں۔

    جہاں تک قرآن کے احترام کا مطالبہ ہے تو معاملہ صرف اسی تقاضے تک محدود نہیں، مسلمانوں کے مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے جو وہ زبردستی منوانا چاہتے ہیں۔ مسلمان چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے نبی کے کارٹون نہ بنائے جبکہ ان معاشروں میں عیسائیوں کی اکثریت ہونے کے باوجود عیسیٰ کے کارٹون بنتے ہیں۔ مسلمان چاہتے ہیں کہ کوئی فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب یا انٹرنیٹ کے کسی بھی کونے کھدرے پر ان کی کسی مقدس مذہبی شخصیت کے خلاف کچھ نہ بولے۔ کچھ روز قبل بنگلور میں فیس بک پر ایک مسلمان نے ہندوؤں کے کسی بھگوان پر مزاحیہ کارٹون شیئر کیا، جواب میں کسی ہندو نے سرکارِ دو عالم کا کارٹون شیئر کردیا، ہندوؤں نے تو اپنے بھگوان کی توہین پر کوئی ری ایکشن نہ دیا، مگر مسلمانوں نے اس جوابی پوسٹ پر پورے بنگلور میں کئی دن تک بوال مچائے رکھا۔ اس وقت تیرہ اسلامی ممالک میں توہینِ اسلام کی سزا موت ہے اور بے شمار لوگ محض توہینِ مذہب کا الزام لگنے پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں آسیہ مسیح نے اپنی عمر کا بڑا حصہ اپنے بچوں اور خاندان سے دور رہ کر جیل میں گنوا دیا، پروفیسر جنید جیسا سکالر کئی سالوں سے جیل میں سڑرہا ہے، طاہر نسیم نامی معصوم نفسیاتی مریض کو عدالت کے اندر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، گورنر تک مسلمانوں کی بڑھی ہوئی مذہبی حساسیت سے بچ نہیں پاتا۔ یہ زہر مسلمانوں میں اس قدر سرایت کرگیا ہے کہ ہر بندہ اب دوسروں کو توہینِ مذہب کے نام پر مار کر ہیرو بننا چاہتا ہے، کچھ روز قبل پارلیمنٹ کے سامنے سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جو ختم نبوت کے نعرے لگاتے ہوئے پستول سے فائرنگ کررہا تھا۔

    مسلمانوں کی اپنے عقائد اور مذہبی شخصیات کے بارے میں حساسیت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ پاکستان میں سنی اور شیعہ کی سرپھٹول ہر وقت جاری رہتی ہے، ایک مولوی آصف جلالی کو صرف اس لئے اندر کردیا گیا کہ اس نے صرف اتنا کہہ دیا کہ حضرت فاطمہ باغِ فدک مانگنے کے معاملے میں خطا پر تھیں۔ گویا حد سے بڑھی ہوئی مذہبی حساسیت کے شکار وہ مولوی بھی ہونے لگے ہیں جن کا کاروبار ہی توہین اور گستاخی کے فتوے لگانا ہے۔ اب تو سنی حضرات اس مشن پر ہیں کہ پاکستان میں توہینِ صحابہ کا قانون بنوا کر اہلِ تشیع کا بھی ناطقہ بند کردیا جائے۔ شیعوں کیلئے بھی سبق ہے کہ جس طرح انہوں نے احمدیوں کے خلاف قانون سازی میں سنیوں کا ساتھ دیا، اب خود بھی بھگتیں، اگر آپ دوسروں پر پابندیوں کے حق میں ہیں تو ایک دن آپ خود بھی پابندیوں کی زد میں آئیں گے۔

    میری نظر میں یہ جو قرآن جلانے کے واقعات ہیں، یہ نہایت خوش آئند ہیں اور میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔ اس سے وقتی طور پر مسلمانوں کو تکلیف تو ہورہی ہے، لیکن لانگ ٹرم میں یہ مسلمانوں کےلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ مسلمانوں کی مذہبی حساسیت کو نارملائز کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے واقعات زیادہ سے زیادہ ہوں تاکہ ان کیلئے یہ چیز معمول کی چیز بن جائے ۔ جیسے کینسر کے مریض کو کیموتھراپی کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے، مگر ہوتی وہ کینسر کے مریض کے بھلے کیلئے ہے۔ ایسے ہی میں قرآن جلانے، سرکارِ دو عالم کے خاکے بنانے والے واقعات میں مسلمانوں کا ہی فائدہ دیکھ رہا ہوں۔ جب مسلمانوں کی مذہبی حساسیت ختم ہوجائے گی، اور وہ ایسے واقعات پر ری ایکٹ کرنا چھوڑ دیں گے، تب وہ ایک مہذب اور برداشت کی حامل قوم کہلائے جانے کے حقدار ہوں گے اور بہتر طور پر دوسری اقوام میں ضم ہوسکیں گے۔۔

    :lol: :lol: :lol:

    یہ بھی خوب رہی ، اس طرح تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں روزانہ ملحدین کو باجماعت گالیاں دینی چاہئیں تا کہ انہیں عادت ہو جائے وہ عدم برداشت کو برداشت کرنے لائق ہو جائیں

    جب آپ کسی ملک میں رہائش اختیار کرتے ہیں ، وہاں کا قانون آپ کو پسند ہو یا نا ہو ، اس کا احترام آپ پے ہر صورت لازم ہوتا ہے ، جب آپ کو پتہ ہے کہ یہ الیگل ہے تو آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں

    قران کا احترام نہیں کرنا نا کرو ، اس کی تعلیمات سے اختلاف ہے، کرو لیکن بے حرمتی کا بھی آپ کو کوئی حق نہیں ، حجاب نہیں پہننا نا پہنو لیکن جو پہننا چاہتی ہے اسے روکنے کا کیا تک بنتا ہے ، یہ شخصی آزادی کے خلاف نہیں ؟؟؟

    #19
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    عامر اینڈ اطہر بات یہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے جس گروپ کے اراکان نے یہ بیحرمتی کی ہے اس پر حکومت کی طرف سے پابندی تھی … اب مسلہ یہ ہے کہ اگر حکومت اس کام میں شامل ہوتی تو بھی بات تھی .. جب حکومت اس کام میں ملوث ہی نہیں پھر مسلمانوں کا سرکاری تنصیبات ، توڑ پھوڑ کرنےکا کوئی جواز ہی نہیں بنتا …. اپ دونوں اشخاص کی اس طرح کی بیوقوفانہ باتیں آپ کی پارٹی کے سیاسی کرئیر کے لئے بہت خطرناک ہیں ….. …. کل سویڈن کے واقعہ کی وجہ سے یہاں پاکستان میں لوگ توڑ پہوڑ شروع کر دیں گے آپ اور اپ کے لیڈر بھی ان کے ساتھ مل جایں گے …..

    مسلمانوں کی ایسی حرکات کی وجہ سے ہی وہ لوگ اپنے ملکوں میں بڑھتے ہوے اسلام کے پھیلاؤ کے خلاف ہیں ….. مسلمان مذھب کی وجہ سے اپنے ملک تباہ و برباد کر چکے ہیں اور یوروپی ملکوں کا سکون بھی برباد کر ہیں …. اس احساس کمتری کی وجہ بھی مسلمانوں کی بہت زیادہ مذھب اور سخصیت پرستی ہے … جیسے کہ مولا مشرق ، سرکار لاہور ، شاعر شرق ہو غرب ، عزت مآب … نہایت ہی قابل احترام ، حضرت اقبال نے مغبربی معاشرے کا ٹاور کیا تو اندر سے جل سڑ گے اور پیشن کوئی کی ..

    دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہو گا تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا

    آج ایک صدی ہو چکی ہے مغبربی تہذیب پھل پھول رہی ہے اور مسلمان تہذیب گل سڑ رہی ہے

    اقبال نے مومنین کو جس قدر بیوقوف بنایا، اس کی نظیر نہیں ملتی۔۔ خود تو انگلستان اور جرمنی سے تعلیم حاصل کرآئے، اور مسلمانوں کو کہنے لگے

    خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ

    سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

    بندہ پوچھے کہ پھر سرمہ لگانے حجاز و عراق جانا تھا، مغرب کیا امب لینے گئے تھے۔ :cwl: :cwl: :cwl: ۔۔۔

    • This reply was modified 6 months ago by Zinda Rood.
    #20
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عدم برداشت کو برداشت کرنے کا نتیجہ

    :lol: :lol: :lol: یہ بھی خوب رہی ، اس طرح تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں روزانہ ملحدین کو باجماعت گالیاں دینی چاہئیں تا کہ انہیں عادت ہو جائے وہ عدم برداشت کو برداشت کرنے لائق ہو جائیں جب آپ کسی ملک میں رہائش اختیار کرتے ہیں ، وہاں کا قانون آپ کو پسند ہو یا نا ہو ، اس کا احترام آپ پے ہر صورت لازم ہوتا ہے ، جب آپ کو پتہ ہے کہ یہ الیگل ہے تو آپ کیوں ایسی باتیں کرتے ہیں قران کا احترام نہیں کرنا نا کرو ، اس کی تعلیمات سے اختلاف ہے، کرو لیکن بے حرمتی کا بھی آپ کو کوئی حق نہیں ، حجاب نہیں پہننا نا پہنو لیکن جو پہننا چاہتی ہے اسے روکنے کا کیا تک بنتا ہے ، یہ شخصی آزادی کے خلاف نہیں ؟؟؟

    ملحدین کو تو مومنین پہلے ہی باجماعت گالیاں دیتے ہیں، ہم نے کبھی منع کیا۔۔؟ یہ بچگانہ باتیں ہیں، مسلمان جو یہ گالی پر مرنے مارنے پر آجاتے ہیں، یہ کوئی قابلِ فخر بات نہیں، ایک مرض ہے، اس کی تشہیر سے گریز کریں۔۔۔

    یہ شخصی آزادی والی بھی خوب رہی، مسلمان جو اپنے ممالک میں دوسروں کی تمام آزادیاں سلب کرنے پر یقین رکھتے ہیں، وہ شخصی آزادی کی بات کرتے ہیں۔۔ اب آپ نے شخصی آزادی کی آڑ لینے کی کوشش کی ہے تو ذرا آپ پر عیاں کردوں کہ شخصی آزادی ہے کیا۔ شخصی آزادی تو یہ ہے کہ آپ کا عقیدہ آپ کی ذات تک ہے، آپ اس کو مجھ پر لاگو کرنے کا حق نہیں رکھتے، یہ میری شخصی آزادی کے خلاف ہے۔ اگر آپ کسی کاغذ کی کتاب، یا اینٹ پتھر کو مقدس مانتے ہیں  تو یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے، آپ مجھ سے تقاضا نہیں کرسکتے کہ میں بھی اس کاغذ کی کتاب یا اینٹ پتھر کا احترام کروں، میں اس کو جلاؤں، کاٹوں یا پھاڑوں یہ میری شخصی آزادی ہے۔۔

    جہاں تک حجاب کی بات ہے، تو میں نے کبھی حجاب پر پابندی کی بات نہیں کی۔ وہ نظریہ جو ایک آزاد عورت کو حجاب پہننے پر مجبور  کرتا ہے، ہمیشہ اس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔۔ جب عورت کو اللہ کے غیض و غضب اور جہنم کا ڈر دکھا کر حجاب پر مجبور  کیا جائے گا تو میری نظر میں یہ عورت کی آزادی چھیننے کے مترادف ہے۔۔ 

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 27 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

DanishGardi