Home Forums Siasi Discussion سرحد میں طلبہ کے ریکارڈ توڑ نمبرز لینے کی تحقیقات

Viewing 14 posts - 1 through 14 (of 14 total)
  • Author
    Posts
  • Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1
    خیبر پختونخوا بورڈ کے نتائج میں طلبہ کے ریکارڈ توڑ نمبرز کی تحقیقات کا فیصلہ

    خیبرپختونخوا حکومت نے تعلیمی بورڈز کی جانب سے طلباء کے 1090 سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے کے معاملے کی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    محکمہ تعلیم نے معاملے کی تحقیقات کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

    خیبرپختونخوا کے تعلیمی بورڈز نے انٹر اور میٹرک نتائج کا اعلان کیا، جس میں طلباء کو 1100 میں سے 1100 نمبرز بھی دیے گئے، تعلیمی بورڈز کے نتائج سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنے۔

    نجی تعلیمی اداروں کو اے پلس گریڈز دیے گئے جبکہ درجنوں سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے طلباء نے 1100میں سے 400 اور 500 کے درمیان نمبرز حاصل کیے۔

    محکمہ تعلیم کے اعلامیہ کے مطابق میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں 1090 سے زیادہ نمبرز لینے والے طلباء کے پیپرز دوبارہ چیک کیے جائیں گے اور ان طلباء کا موجودہ اور پچھلا مارکس ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا۔

    اعلامیہ کے مطابق کمیٹی تعلیمی بورڈز کی پالیسی کے تحت پیپرز کی چیکنگ کے معیار کا بھی جائزہ لے گی۔

     سورس

    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #2

    مردان بورڈ کی بلڈنگ دیکھو ایسی شاندار بلڈنگ تو کہوٹہ پلانٹ کی بھی نہیں ہے مگر ان کے کرتوت دیکھو؟

    :facepalm:

    • This reply was modified 7 months, 3 weeks ago by Believer12.
    Atif Qazi
    Participant
    Offline
    • Expert
    #3
    مردان بورڈ کی بلڈنگ دیکھو ایسی شاندار بلڈنگ تو کہوٹہ پلانٹ کی بھی نہیں ہے مگر ان کے کرتوت دیکھو؟ :facepalm:

    مجھے یاد ہے میرے بچپن اور اوائل جوانی میں صوبہ سرحد کی ڈگری کی ایک ویلیو مانی جاتی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں بلوچستان بورڈ یا یونیورسٹی کی ڈگری کو انتہائی تھرڈ کلاس مانا جاتا تھا۔ میرے پھوپھا پشاور سے پڑھے تھے اور خاندان میں ان سے زیادہ سلجھا ہوا اور نالج والا کوئی اور نہیں تھا لہذا خاندان کے بزرگوں نے زیادہ تر اپنے بچوں کو پشاور پڑھنے بھیجا۔  اس کے باوجود کہ وہاں سے پڑھے ہمارے کزنز باہر ممالک میں اب اچھی اچھی پوسٹس پر کام کررہے ہیں ایسی نوبت کبھی نہیں آئی کہ ایک ہزار سے زیادہ کسی نے نمبرز لئے ہوں۔ اب تو لگتا ہے کے پی کے نظام تعلیم میں بھی تبدیلی نے اپنے اثرات دکھانے شروع کر دئیے ہیں۔

    پہلے ہمارے پنجاب کے رشتہ دار بلوچستان یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے کر پنجاب بیٹھے بیٹھے یہاں سے ڈگری لے لیا کرتے تھے اب ایسے نکموں کا مسکن کے پی ہوا کرے گا۔ انگلش اور اردو کے مضمون میں ممکن ہی نہیں کہ آپ سو بٹا سو لے سکیں۔

    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #4
    مجھے یاد ہے میرے بچپن اور اوائل جوانی میں صوبہ سرحد کی ڈگری کی ایک ویلیو مانی جاتی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں بلوچستان بورڈ یا یونیورسٹی کی ڈگری کو انتہائی تھرڈ کلاس مانا جاتا تھا۔ میرے پھوپھا پشاور سے پڑھے تھے اور خاندان میں ان سے زیادہ سلجھا ہوا اور نالج والا کوئی اور نہیں تھا لہذا خاندان کے بزرگوں نے زیادہ تر اپنے بچوں کو پشاور پڑھنے بھیجا۔ اس کے باوجود کہ وہاں سے پڑھے ہمارے کزنز باہر ممالک میں اب اچھی اچھی پوسٹس پر کام کررہے ہیں ایسی نوبت کبھی نہیں آئی کہ ایک ہزار سے زیادہ کسی نے نمبرز لئے ہوں۔ اب تو لگتا ہے کے پی کے نظام تعلیم میں بھی تبدیلی نے اپنے اثرات دکھانے شروع کر دئیے ہیں۔ پہلے ہمارے پنجاب کے رشتہ دار بلوچستان یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے کر پنجاب بیٹھے بیٹھے یہاں سے ڈگری لے لیا کرتے تھے اب ایسے نکموں کا مسکن کے پی ہوا کرے گا۔ انگلش اور اردو کے مضمون میں ممکن ہی نہیں کہ آپ سو بٹا سو لے سکیں۔

    میں اب بھی ان کے متعلق حسن ظن رکھتا ہوں کیونکہ سب سے پہلے یہ جہالت پنڈی بورڈ نے کی تھی اور صرف دو نمبرکم کے ساتھ ریکارڈ نمبرز دینے والے بورڈز میں سب سے اوپر آکرایک مقام پیدا کیا، آپ کی بات کا جواب ایک ٹویٹر پر دیا گیا دل جلے ٹویٹر صارف نے بہت حسرت سے کہا کہ  پہلے سٹوڈنٹس کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا اب بورڈز کے درمیان مقابلہ ہوا کرے گا

    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #5
     انگلش اور اردو کے مضمون میں ممکن ہی نہیں کہ آپ سو بٹا سو لے سکیں۔

    یہ دونوں مضامین لٹریچر پر مبنی ہوتے ہیں لہذا سو فیصد نمبر کا مطلب یہ لیا جانا چاہئے کہ یہ لڑکی اردو میں غالب اور انگلش میں شیکسپئیر کے برابر نالج رکھتی ہے

    ان جاہل کلرکوں کو کیا کہیں جنہیں یہ بھی نہیں پتا کہ لٹریچر میں پورے نمبر دینا بھی بہت بڑے بڑے لکھاریوں کے ساتھ بدتمیزی سمجھی جاتی ہے

    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #6
    ریاضی کے مضمون میں سو فی صد نمبروں کا تو سنا تھا مگر دوسرے مضامین میں سو فی صد نمبر ؟ کے پی کے دوسرے صوبوں سے آگے نکل گیا ہے
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #7
    کک باکسر
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #8
    اس پر تو تحقیقات ہوجائے گی لیکن 

    ایک مفرور بھگوڑے کو پنجاب میں کرونا ویکسین ہزاروں میل دور کیسے لگ گئی 

    :hilar:

    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #9
    اس پر تو تحقیقات ہوجائے گی لیکن ایک مفرور بھگوڑے کو پنجاب میں کرونا ویکسین ہزاروں میل دور کیسے لگ گئی :hilar:

    ڈبل ویکسینیٹڈ جعلی سرٹیفیکیٹ بارہ سو کا پورے پاکستان میں مل رہا ہے۔ کس کی نااہلی ہے؟

    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #10
    سنا ہے نواز شریف خود ڈنکی لگا کر ، یورپ ، ترکی ، ایران سے ہوتا ہوا پاکستان آیا ، بلوچستان میں دو دن قیام کے بعد لاہور آیا ، ہسپتال سے ویکسین لگوائی، وہاں سے بٹ کڑاہی پر دیسی مرغ کی کڑاہی بنوائی – چار نان کے ساتھ پوری دو کلو دیسی ککڑ ٹھکانے لگا دیا – ساتھ والی دکان سے اینو کی بوتل خریدی اور ایک جگ میں ڈال کر پی لی – وہاں سے رکشہ لیا اور نادرا کے آفس میں رات گئے داخل ہوا ، چوکیدار کی نظروں بچتا ہواایک روم میں داخل ہوا اور کمپوٹر ہیک کیا اور پھر اپنا شناختی کارڈ ان بلاک کیا اور اپنا ویکسین کا اندراج کر دیا – اسی رات کوئٹہ کی کوچ پکڑ کر دو دن بعد بلوچستان ایران باڈر کراس کر گیا

    پاکستان کو بلوچستان ایران باڈر پر سختی کرنی چاہئیں ، ورنہ نواز شریف پھر پاکستان آ جائے گا

    اس پر تو تحقیقات ہوجائے گی لیکن ایک مفرور بھگوڑے کو پنجاب میں کرونا ویکسین ہزاروں میل دور کیسے لگ گئی

    :hilar:

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    • Professional
    #11
    مجھے یاد ہے میرے بچپن اور اوائل جوانی میں صوبہ سرحد کی ڈگری کی ایک ویلیو مانی جاتی تھی جبکہ اس کے مقابلے میں بلوچستان بورڈ یا یونیورسٹی کی ڈگری کو انتہائی تھرڈ کلاس مانا جاتا تھا۔ میرے پھوپھا پشاور سے پڑھے تھے اور خاندان میں ان سے زیادہ سلجھا ہوا اور نالج والا کوئی اور نہیں تھا لہذا خاندان کے بزرگوں نے زیادہ تر اپنے بچوں کو پشاور پڑھنے بھیجا۔ اس کے باوجود کہ وہاں سے پڑھے ہمارے کزنز باہر ممالک میں اب اچھی اچھی پوسٹس پر کام کررہے ہیں ایسی نوبت کبھی نہیں آئی کہ ایک ہزار سے زیادہ کسی نے نمبرز لئے ہوں۔ اب تو لگتا ہے کے پی کے نظام تعلیم میں بھی تبدیلی نے اپنے اثرات دکھانے شروع کر دئیے ہیں۔ پہلے ہمارے پنجاب کے رشتہ دار بلوچستان یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے کر پنجاب بیٹھے بیٹھے یہاں سے ڈگری لے لیا کرتے تھے اب ایسے نکموں کا مسکن کے پی ہوا کرے گا۔ انگلش اور اردو کے مضمون میں ممکن ہی نہیں کہ آپ سو بٹا سو لے سکیں۔

    اس بار وفاقی حکومت کی ہدایت کے مطابق طلباء کے صرف اختیاری مضامین کا امتحان لیا گیا ، جیسے سائنس کے طلباء سے صرف ریاضی ، فزکس ، کیمسٹری اور بیالوجی کا امتحان لیا گیا ، ان مضامین میں حاصل کردہ نمبروں میں وفاقی حکومت کی ہدایت کے مطابق ہی پانچ فیصد نمبروں کا اضافہ کرکے کل نمبروں کے تناسب سے لازمی مضامین جیسے مطالعہ پاکستان ، اسلامیات ، اردو اور انگریزی کے نمبر فرض کرلئے گئے ، اگر کسی بچے نے 1050 نمبر حاصل کئے ہوں تو فارمولے کے تحت اس کے نمبر 1100 یا کل نمبروں سے زائد ہوں جائیں گے

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    • Professional
    #12
    میں اب بھی ان کے متعلق حسن ظن رکھتا ہوں کیونکہ سب سے پہلے یہ جہالت پنڈی بورڈ نے کی تھی اور صرف دو نمبرکم کے ساتھ ریکارڈ نمبرز دینے والے بورڈز میں سب سے اوپر آکرایک مقام پیدا کیا، آپ کی بات کا جواب ایک ٹویٹر پر دیا گیا دل جلے ٹویٹر صارف نے بہت حسرت سے کہا کہ پہلے سٹوڈنٹس کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا اب بورڈز کے درمیان مقابلہ ہوا کرے گا

    پنڈی بورڈ نے ابھی تک رزلٹ اناؤنس نہیں کیا

    صرف 6 نمبرکم کے ساتھ ریکارڈ نمبرز دینے والے بورڈز میں سب سے اوپر آ کر ایک مقام پیدا کرنے کا کارنامہ پشاور بورڈ نے دیا تھا

    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    • Professional
    #13
    https://pbs.twimg.com/media/FAcpJkIWEAQJBaI?format=jpg&name=medium
    Muhammad Hafeez
    Participant
    Offline
    • Professional
    #14

Viewing 14 posts - 1 through 14 (of 14 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi