Home Forums Siasi Discussion ریاست مدینہ کے دعوہ دار

Viewing 20 posts - 21 through 40 (of 77 total)
  • Author
    Posts
  • #21
    Zaidi
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 938
    • Total Posts: 957
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    جیو جانی جرنل سوال سے پرسونل سوال کر رہے ہو .. میں نے اگر کیا تو مرچیں لگ جایں گی .. اپ کوئی پرانی پیڑ نکالنے کے …چکر میں ہو اس لئے آپ کو جواب دینا ضروری نہیں سمجتا …

    بڑے مکار ہو ، :)   ہمارے جیوجی کا جواب بھی اپنی مرضی سے دینا چاہتے ہو ۔ھیں! ۔ وہ کیوں بھئ ؟

    #22
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    بڑے مکار ہو ، :) ہمارے جیوجی کا جواب بھی اپنی مرضی سے دینا چاہتے ہو ۔ھیں! ۔ وہ کیوں بھئ ؟

    تالی دونوں ہاتھوں بجتی ہے زیدی صاحب پہلے جیو جانی مرے پرسونل سوال کا جواب دے پھر میں ان کے پرسونل سوال کا جواب دے دوں گا.. باقی آپ پہ ہے… آپ اب جیو جانی کو راضی کر لو .. میری طرف سے بےفکر رہیں . البتہ یہ سوچ لیں کہ میں کسی نوعیت کا ذاتی سوال کر سکتا ہوں

    #23
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 16
    • Posts: 2748
    • Total Posts: 2764
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    زیدی صاحب۔۔۔۔۔

    اَن سیف کے چکر میں نہ آئیے گا۔۔۔۔۔

    یہ بندہ صرف ایک بابرکت و مقدس فریضے کی خاطر اِس فورم پر لانچ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ پٹواریانِ کرام کی فورم شگاف چیخیں نکلوانا۔۔۔۔۔

    کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام پٹواری حضرات باجماعت جج صاحب جج صاحب کی بانگیں دیتے پھریں۔۔۔۔۔

    باقی تُسی خود سمجھدار او۔۔۔۔۔

    :cwl: ;-) :cwl: ™©

    • This reply was modified 10 months, 2 weeks ago by BlackSheep.
    #24
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    زندہ ہود صاحب، آپ کی پوسٹ اصل واقعے کے محرکات اور اس کے پیچھے چھپے معاشرتی مسائل سے زیادہ مذھبی حملہ آوری لگتی ہے ، اگر یہ محض ایک مذھبی مسئلہ ہی ہوتا تو آپ کے پسندیدہ ہمسایہ ملک کو عالمی زنا کا دارلحکومت نہ کہا جاتا ۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ جیسا سمجھ دار اور بظاہر پڑھا لکھا بندہ بھی اپنی مستقل مذھب دشمنی کی شدت سے باہر نہیں نکل سکا ۔ یہاں مغربی دنیا میں ہر روز کئ زنا کے واقعات ہوتے ہیں ، کچھ جبر اور کچھ رضا پر ، لیکن یہاں اسے کبھی بھی مذھبی افیلیشن سے جوڑا نہیں جاتا کیونکہ مجرم کا کوئ مذھب نہیں ہوتا ۔ کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو سزا اسلام زنا کے مجرم کو دیتا ہے ، اس سے زیادہ سخت سزا دنیا میں کہیں اور بھی رائج ہے ؟ آپ اسلام سے منسوب ان احادیث اور واقعات کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر بیان کرتے ہیں جن سے کئ مقامات پہ ہر فقہ متفق نہیں اور نہ ہی ان کا کوئ حکم قرآن سے ثابت ہے ۔

    اگر آپ مذھبی تقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر اورنج اور ایپل کو مکس نہ کریں ۔ آپ کو اپنی رائے کا حق بحرحال اسی طرح حاصل ہے جس طرح مجھے اس سے اختلاف کا حق ہے ۔

    آپ کے تھریڈ کے عنوان اور متن میں چونکہ ریاستِ مدینہ کا ذکر ہے، اس لئے میرا فرض تھا کہ میں آپ کا ریاستِ مدینہ کے حوالے سے مغالطہ دور کروں۔ اگر میں نے تاریخی حقائق کے خلاف کوئی بات کی ہے تو آپ نشاندہی کرسکتے ہیں۔ 

     کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو سزا اسلام زنا کے مجرم کو دیتا ہے ، اس سے زیادہ سخت سزا دنیا میں کہیں اور بھی رائج ہے ؟ آپ اسلام سے منسوب ان احادیث اور واقعات کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر بیان کرتے ہیں جن سے کئ مقامات پہ ہر فقہ متفق نہیں اور نہ ہی ان کا کوئ حکم قرآن سے ثابت ہے ۔

    اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے کچھ مبالغہ آرائی کی ہے تو آپ قرآن و حدیث سے ریپ کی سزا پیش کرکے مجھے غلط ثابت کرسکتے ہیں۔ 

    جہاں تک موضوعِ ہذا کی بات ہے تو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان جنس کے حوالے سے جن مسائل سے دو چار ہے، وہ میری نظر میں جنسی گھٹن کی وجہ سے ہیں۔ جنسی فعل کو شادی کے ساتھ نتھی کرنے اور لڑکا لڑکی، مرد عورت کے آپس میں باہمی رضامندی سے قائم جسمانی تعلقات کو گناہ اور جرم قرار دینے سے معاشرے کے لوگ اپنی فطری ضرورت پوری کرنے سے محروم رہتے ہیں اور اس کا تعلق بھی سیدھا سیدھا مذہب سے ہے، ساتویں صدی کے اجڈ اور غیر انسانی معاشرے سے قوانین کشید کرکے جب اکیسویں صدی میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ایسے نتائج تو لامحالہ نکلیں گے۔۔ 

    • This reply was modified 10 months, 2 weeks ago by Zinda Rood.
    #25
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 289
    • Posts: 4613
    • Total Posts: 4902
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    سب کچھ کھا پی سکتے ہیں سوائے جوتوں میں بٹتی دال کے :bigsmile: :bigsmile:

    EasyGo sahib

    محترم

    مسلہء دال سے ہے یا جوتوں سے یا جوتے کب ، کہاں اور کس نے پہنے ہیں

    اگر دال سے مسلہء ہے تو مجھ سبزی خور کا دل توڑ دیا آپ نے

    #26
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 289
    • Posts: 4613
    • Total Posts: 4902
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    سنگین واقعہ ہے اور جس کے ساتھ گزرا چاہے اس کا تعلق مغربی معاشرے سے ہو یا مشرقی، مذہبی یا غیر مذہبی اسکے لئے زندگی بھر کے لئے ایک تکلیف دہ یاد بن گئی . ایسا زخم جو کبھی بھی بھر نہیں سکتا

    اس پر جس طرح کی سیاست ہو رہی ، جس طرح کے بیانات حکومتی اداروں اور حکومتی شخصیات کی طرف سے آے ہیں اور جس طرح سے حزب اختلاف سیاست چمکا رہی ہے ،میرے نزدیک  افسوس ناک ہے

    #27
    GeoG
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 83
    • Posts: 5574
    • Total Posts: 5657
    • Join Date:
      12 Oct, 2016

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    بڑے مکار ہو ، :) ہمارے جیوجی کا جواب بھی اپنی مرضی سے دینا چاہتے ہو ۔ھیں! ۔ وہ کیوں بھئ ؟

    زیدی بھائی اس کی مکاری یہ کہ اس نے اپنی پوری پوسٹ کو ایڈٹ کر دیا ہے

    #28
    GeoG
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 83
    • Posts: 5574
    • Total Posts: 5657
    • Join Date:
      12 Oct, 2016

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    تالی دونوں ہاتھوں بجتی ہے زیدی صاحب پہلے جیو جانی مرے پرسونل سوال کا جواب دے پھر میں ان کے پرسونل سوال کا جواب دے دوں گا.. باقی آپ پہ ہے… آپ اب جیو جانی کو راضی کر لو .. میری طرف سے بےفکر رہیں . البتہ یہ سوچ لیں کہ میں کسی نوعیت کا ذاتی سوال کر سکتا ہوں

    میں ہر پیشے میں کسی بھی طرح کی زبردستی کا مخالف ہوں اگر کچھ خواتین اپنی مرضی سے چاہے ان کا تعلق ملحد خاندان سے

    this is what you wrote and you have edited your whole post now, this is your opinion about the profession, I copied it from your post, nothing added noting deleted. I am only asking if you will apply this rule to your personal family too,

    and this is just one question, there are two other questions too.

    Judge

    Can you please reinstate his post original post as he has edited all his post and my questions are relevant to his original post.

    With edited version it seems odd what i am asking him

    • This reply was modified 10 months, 2 weeks ago by GeoG.
    #29
    GeoG
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 83
    • Posts: 5574
    • Total Posts: 5657
    • Join Date:
      12 Oct, 2016

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    زیدی صاحب۔۔۔۔۔ اَن سیف کے چکر میں نہ آئیے گا۔۔۔۔۔ یہ بندہ صرف ایک بابرکت و مقدس فریضے کی خاطر اِس فورم پر لانچ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ پٹواریانِ کرام کی فورم شگاف چیخیں نکلوانا۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام پٹواری حضرات باجماعت جج صاحب جج صاحب کی بانگیں دیتے پھریں۔۔۔۔۔ باقی تُسی خود سمجھدار او۔۔۔۔۔ :cwl: ;-) :cwl: ™©

    کاکا وہ تم لوگوں کو ننگا کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے

    جس کے پیچھے تو دن رات تالیاں پیٹتا ہے وہ کہ رہا ہے کہ ہر عورت کو پیشے کی اجازت ہونی چاہیے خواہ وہ جسم فروشی کیوں نہ ہو

    اگر اس نے کوئی صحیح بات کی ہوتی تو اپنی پوری پوسٹ کو ایڈٹ نہ کرتا

    #30
    casanova
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 0
    • Posts: 571
    • Total Posts: 571
    • Join Date:
      4 Sep, 2018
    • Location: گلشن گلشن

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    بہت پہلے میرے ایک مِتر نے قلمی کلاکاری کے غرور میں ڈوبے ہوئےکتبے دیکھ کر ایک بات کہی تھی” ہر سیر کیلئے ایک سوا سیر ہوتا ہے”۔۔۔۔۔میں جب بھی ان ڈیجیٹل فورمز کی براؤزنگ لگامیں تھام کر ایپل گشت کرنے نکلتا ہوں تو اکثر اس مقولے کی نشانیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔

    ابھی انسیف صاحب کی قلمی دہشت گردی بھی ایک مخصوص گھوڑے پر سوار ہر کر  تنگ نظری کے دائرے میں مسلسل گھومے جا رہی ہے۔۔۔ دیکھتے ہیں کہ کب کوئی رفاحی مددگار ان کے دائرے سے نکال کر نارمل راستوں پر چلنے کی مدد دیتا ہے۔۔ میرے اندر ایک خوبی یا خامی کہہ لیں کہ میں جس کے انداز تحریر کو تخلیقی کسوٹی پر منفرد پاتا ہوں تو اس پر فریفتہ ہو کر اپنے قلم کو اُس کیلئے  خصی کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔اسی خصیصی کفییت میں رہتے ہوئے  زیدی صاحب کے اس دھاگے میں کچھ پُورنے پرو دیتا ہوں۔۔۔۔

    اب اس فورم پر اکثر ملحدین کا انداز تحریر بہت منفرد ہے اور میں انکے تخلیقی ذوق کا قدردان بھی ہوں۔۔۔۔ لیکن ہیونگ سیڈ دیٹ۔۔۔۔ انسانی نفسیات کا ارتقائی سفر اس بات کی خبر دیتا ہے کہ جب انسان اپنے تئیں کسی پست دور سے نکل کر بلندی پر فائز ہوتا ہے تو وہ عموما اپنی پستی سے کنارہ کرتے ہوئے اپنی  حاصل شدہ علمی، شعوری، روحانی اور جسمانی ترقی کی ہائی لائیٹس دیکھانے میں زیادہ انٹرسٹڈ ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن اس فورم پر عموما ملحدین انہی گلیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں جن کو آؤٹ ڈیٹڈ اور ان سائیٹیفک کہہ کر وہ چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔۔۔ اب یہ لوگ بجائے اس کے ہمیں اس سوچ و تہذیب کے درشن کروانے کی طرف راغب کریں جسے پاکر انکے دل و دماغ میں سیرتِ زیست کے نقش ونگار جگمگانے لگ گئے یہ ہمارے ہی قلبی آبگینوں پر حرف باری کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔بقول عظیم ملحدی گرو جناب زندہ رود جب اقبال صاحب نے اپنی قلبی عقیدتوں کا ہی ترانہ گنگنانا تھا وہ مغربی تہذیب کی درسگاہوں میں “امب” لینے گئے تھے۔۔۔۔۔ اب ایسا ہی سوال یہاں بھی اٹھتا ہے کہ جب آپ مغربی اور سائنٹیفک آشیانوں کے اتنے  ہی گرویدہ اور شیدائی ہیں تو اس “دو ٹکّے کے فورم” (تھینکس ٹو شاہد عباسی صاحب) پر کھیرے کھانے آتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف۔۔۔۔ایسا کیوں ہے؟؟؟

    اس نقطے پر میں ایک دیسی تھیسسس لکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اگلی نششت پر اس کا فیتہ کاٹوں گا۔۔۔

    :serious: :17: :serious:

    • This reply was modified 10 months, 2 weeks ago by casanova.
    #31
    GeoG
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 83
    • Posts: 5574
    • Total Posts: 5657
    • Join Date:
      12 Oct, 2016

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    .. پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات ضیاء ال حق کی حکومت کے بعد زیادہ ہونا شروع ہوے …. دنیا کا سب سے پرانا پیشہ طوائف ہے اور وحشی ترین جبلت سیکس ہے جس کی راہ میں کوئی حکومت ، کوئی حکمران حائل نہیں ہو سکتا … ہم نے دو نمبری ، منافقت اور مذھبی ڈھٹائی کی وجہ سے اس پیشے پر ناجائز پابندی لگا کر ہر گلی موھلے میں ایک طوائف اور خانے کی جگہ ایک مولوی اور مسجد بنا کر ہر جگہ جنسی مریض پال لئے ہیں .. اور ان جنسی مریضوں سے گلیوں محلوں اور …..مسجدوں میں انسان تو کیا معصوم جانور مرغی ، بلی کے بچوں اور انسانی بچوں سمیت کوئی چیز محفوظ نہیں

    انتہائی شرم کا مقام ہے …

    This is the original post before unsafe edited his whole post.

     جہاں پہ یہ لیگل نہیں … مثال کے طور پر نیوزیلینڈ ، اوستریلیا ، کنیڈا وغیرہ …..
    میں ہر پیشے میں کسی بھی طرح کی زبردستی کا مخالف ہوں اگر کچھ خواتین اپنی مرضی سے چاہے ان کا تعلق ملحد خاندان سے یا مذھبی خاندان سے اپنی مرضی سے یہ کام کرنا چاہتی تو اس کوئی مسلہ نہیں … البتہ مسلہ تب خراب ہوتا ہے ..جب کسی چیز میں زبردستی شامل ہو …
    پوری انسانی تاریخی تہذیبوں میں اس پر پابندی عائد کرنے کی کوشکی گئی  لیکن اس کو مکمل بین نہیں کیا جا سکا ..آج بھی بنیاد پرست اسلامی ممالک پاکستان ، سعودیہ عربیہ میں یہ کسی نہ کسی صورت مجود ہے

    پاکستان معاشرے کی جنسی گھٹن کو کم کرنے کے لئے ریگولٹڈ سیکس شاپ کی اشد ضرورت ہے

    غیر رجسٹرڈ طوائف خانے آج بھی پاکستان میں مجود ہیں اگر ان کو قانونی  کر دیا جاے تو تو حکوکومت کو ٹیکس کے ساتھ ساتھ درج زائل فائدے ہو سکتے

    . جنسی مایوسی کے شکار افراد کے لئے وہ مسیح ثابت ہو سکتی ہیں
    سڑک کنارے مائیں محفوظ رہ سکتی ہیں
    ہمسایوں کی مرغی ، بلی کے بچے اور انسان کے بچے محفوظ ہو سکتے ہیں

    لوگوں میں رشتوں کو احترام بڑھے گا … کیوں کہ بھوکے شکس کو رشتوں کی احترام نہیں ہوتا
    ,,,,,,,,,,,,,,آبادی میں کمی …. ویغیرا ویغرا

    #32
    Zaidi
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 938
    • Total Posts: 957
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    تالی دونوں ہاتھوں بجتی ہے زیدی صاحب پہلے جیو جانی مرے پرسونل سوال کا جواب دے پھر میں ان کے پرسونل سوال کا جواب دے دوں گا.. باقی آپ پہ ہے… آپ اب جیو جانی کو راضی کر لو .. میری طرف سے بےفکر رہیں . البتہ یہ سوچ لیں کہ میں کسی نوعیت کا ذاتی سوال کر سکتا ہوں

    غیر محفوظ بھائ ، یار یہ نام ذرا کھٹکتا نہیں ہے لگتا ہے کہ اگر سارے سمندر سیاھی اور ساری کائنات کاغذ کی بنادی جائے تب بھی ہم سارے قلمکار آپ کی غیر محفوظگی کو ختم نہیں کر سکتے ۔ اگر جیو صاحب ، بالغی میں بچہ نہیں بننا چاہتے تو آپ بچہ پن سے بالغ بن جائیں ۔ ھاں احترام کا رشتہ نہیں ٹوٹنا چاہیے ۔

    #33
    Zaidi
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 938
    • Total Posts: 957
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    زیدی صاحب۔۔۔۔۔ اَن سیف کے چکر میں نہ آئیے گا۔۔۔۔۔ یہ بندہ صرف ایک بابرکت و مقدس فریضے کی خاطر اِس فورم پر لانچ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ پٹواریانِ کرام کی فورم شگاف چیخیں نکلوانا۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمام پٹواری حضرات باجماعت جج صاحب جج صاحب کی بانگیں دیتے پھریں۔۔۔۔۔ باقی تُسی خود سمجھدار او۔۔۔۔۔ :cwl: ;-) :cwl: ™©

    Joke beside, I never kissed anyone’s ass all my life and  I am not about to do it either. I think Unsafe is a real nice person and I don’t think he is carrying any agenda . I think we should all grow up and act as adults , otherwise, the members like Nadaan will have real questions about our activities…  Sumajh tey Gya howain ga  ;-) ….

    #34
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    بہت پہلے میرے ایک مِتر نے قلمی کلاکاری کے غرور میں ڈوبے ہوئےکتبے دیکھ کر ایک بات کہی تھی” ہر سیر کیلئے ایک سوا سیر ہوتا ہے”۔۔۔۔۔میں جب بھی ان ڈیجیٹل فورمز کی براؤزنگ لگامیں تھام کر ایپل گشت کرنے نکلتا ہوں تو اکثر اس مقولے کی نشانیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ابھی انسیف صاحب کی قلمی دہشت گردی بھی ایک مخصوص گھوڑے پر سوار ہر کر تنگ نظری کے دائرے میں مسلسل گھومے جا رہی ہے۔۔۔ دیکھتے ہیں کہ کب کوئی رفاحی مددگار ان کے دائرے سے نکال کر نارمل راستوں پر چلنے کی مدد دیتا ہے۔۔ میرے اندر ایک خوبی یا خامی کہہ لیں کہ میں جس کے انداز تحریر کو تخلیقی کسوٹی پر منفرد پاتا ہوں تو اس پر فریفتہ ہو کر اپنے قلم کو اُس کیلئے خصی کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔اسی خصیصی کفییت میں رہتے ہوئے زیدی صاحب کے اس دھاگے میں کچھ پُورنے پرو دیتا ہوں۔۔۔۔ اب اس فورم پر اکثر ملحدین کا انداز تحریر بہت منفرد ہے اور میں انکے تخلیقی ذوق کا قدردان بھی ہوں۔۔۔۔ لیکن ہیونگ سیڈ دیٹ۔۔۔۔ انسانی نفسیات کا ارتقائی سفر اس بات کی خبر دیتا ہے کہ جب انسان اپنے تئیں کسی پست دور سے نکل کر بلندی پر فائز ہوتا ہے تو وہ عموما اپنی پستی سے کنارہ کرتے ہوئے اپنی حاصل شدہ علمی، شعوری، روحانی اور جسمانی ترقی کی ہائی لائیٹس دیکھانے میں زیادہ انٹرسٹڈ ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن اس فورم پر عموما ملحدین انہی گلیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں جن کو آؤٹ ڈیٹڈ اور ان سائیٹیفک کہہ کر وہ چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔۔۔ اب یہ لوگ بجائے اس کے ہمیں اس سوچ و تہذیب کے درشن کروانے کی طرف راغب کریں جسے پاکر انکے دل و دماغ میں سیرتِ زیست کے نقش ونگار جگمگانے لگ گئے یہ ہمارے ہی قلبی آبگینوں پر حرف باری کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔بقول عظیم ملحدی گرو جناب زندہ رود جب اقبال صاحب نے اپنی قلبی عقیدتوں کا ہی ترانہ گنگنانا تھا وہ مغربی تہذیب کی درسگاہوں میں “امب” لینے گئے تھے۔۔۔۔۔ اب ایسا ہی سوال یہاں بھی اٹھتا ہے کہ جب آپ مغربی اور سائنٹیفک آشیانوں کے اتنے ہی گرویدہ اور شیدائی ہیں تو اس “دو ٹکّے کے فورم” (تھینکس ٹو شاہد عباسی صاحب) پر کھیرے کھانے آتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف۔۔۔۔ایسا کیوں ہے؟؟؟ اس نقطے پر میں ایک دیسی تھیسسس لکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اگلی نششت پر اس کا فیتہ کاٹوں گا۔۔۔ :serious: :17: :serious:

    کیسانووا صاحب۔۔ آپ نے ابراہم موسلو کی ضروریات کی درجہ بندی تو ملاحظہ کی ہوگی، انسان جب تک کچھ بنیادی مسائل سے چھٹکارا نہیں پالیتا تب تک وہ صحیح معنوں میں تخلیق کے روزن نہیں کھول پاتا، اور ان بنیادی مسائل میں خوراک و تحفظ سب سے ضروری ہیں۔ اسلام فی زمانہ ایسا نظریہ ہے جو دوسروں پر زبردستی اپنے اصول، قوانین اور ضابطے تھوپنے کی ترغیب دیتا ہے اور بذریعہ جبر لوگوں کی آواز بند کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ دورِ حاضر میں اختلافی رائے رکھنے والوں کی سلامتی کیلئے نظریہ اسلام سمِ قاتل کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ بے شمار لوگ جیلوں میں صرف اس لئے سڑرہے ہیں کہ ان پر اسلام کی توہین کا الزام لگا کر کسی مومن نے اپنے تئیں اسلام کا بول بالا کردیا۔ پشاور کورٹ میں ایک معصوم نفسیاتی مریض کو اسلام کے ایک سچے پیروکار نے گولیوں کا نشانہ بنا کر ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے دل جیت لئے اور پشاور میں اس کے حق میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ریلیاں نکالیں۔ دو دن قبل لاہور کی ایک عدالت نے ایک مسیحی کو توہینِ اسلام کے “جرم” میں سزائے موت سنادی ہے۔  تیرہ اسلامی ممالک میں اس وقت توہینِ اسلام / توہینِ رسالت کی سزا موت ہے۔  آپ کا خیال ہے ہم اسلام کی اس غارتگری سے لا تعلق رہ سکتے ہیں؟ جس دن اسلام کے پیروکار دوسروں کی زندگیوں میں دخل دینا بند کردیں گے، اپنا نظریہ زبردستی دوسروں پر مسلط کرنا بند کردیں گے، آپ ہماری زبانوں سے اسلام کا نام بھی نہیں سنیں گے۔ یوں سمجھ لیں ہم اسلام سے نہیں، اسلام ہم سے چمٹا ہوا ہے۔ :) ;-) ۔۔۔

    #35
    Zaidi
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 938
    • Total Posts: 957
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    آپ کے تھریڈ کے عنوان اور متن میں چونکہ ریاستِ مدینہ کا ذکر ہے، اس لئے میرا فرض تھا کہ میں آپ کا ریاستِ مدینہ کے حوالے سے مغالطہ دور کروں۔ اگر میں نے تاریخی حقائق کے خلاف کوئی بات کی ہے تو آپ نشاندہی کرسکتے ہیں۔

    اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں نے کچھ مبالغہ آرائی کی ہے تو آپ قرآن و حدیث سے ریپ کی سزا پیش کرکے مجھے غلط ثابت کرسکتے ہیں۔

    جہاں تک موضوعِ ہذا کی بات ہے تو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان جنس کے حوالے سے جن مسائل سے دو چار ہے، وہ میری نظر میں جنسی گھٹن کی وجہ سے ہیں۔ جنسی فعل کو شادی کے ساتھ نتھی کرنے اور لڑکا لڑکی، مرد عورت کے آپس میں باہمی رضامندی سے قائم جسمانی تعلقات کو گناہ اور جرم قرار دینے سے معاشرے کے لوگ اپنی فطری ضرورت پوری کرنے سے محروم رہتے ہیں اور اس کا تعلق بھی سیدھا سیدھا مذہب سے ہے، ساتویں صدی کے اجڈ اور غیر انسانی معاشرے سے قوانین کشید کرکے جب اکیسویں صدی میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ایسے نتائج تو لامحالہ نکلیں گے۔۔

    جناب، اس تھریڈ میں ان لوگوں سے خطاب کیا گیا ہے جو ایک ایسی ریاست کے حصول کا وعدہ کرکے بر سر اقتدار آئے تھے جو اپنے وجود میں معاشی، معاشرتی اور عمرانیت کے تحت وضح کردہ ، غیر مبہم قانون کا نفاد کسی تفریق کے بغیر ، قانون کی بنیادی روح کے مطابق انجام دینے میں ایک مثالی ریاست کا نمونہ ہے ۔
    آپ کے نقطہ نظر سے بھی اگر ہم کم سے کم سطح پر بھی اس کی افادیت کا ذکر کریں ، اور مذہبی پہلواور مذہبی قوانین کو کو ایک طرف بھی رکھ دیں ، تب بھی متعین اور نافذ قوانین کے اطلاق میں اس سے بہتر مثال ممکن نہیں ۔
    ہر چند کہ سعودی عریبیہ ، ایک حقیقی اسلامی ریاست کے اصولوں سے کوسوں دور ہے ، مگر معاشرے میں نافذ قوانین کے اطلاق میں دنیا بھر میں بہت موثر ہے ۔ آپ قوانین سے اختلاف کر سکتے ہیں ،ان کی اکیڈیوک ماہیت پر سوال اٹھا سکتے ہیں مگر ان کے نفاذ پر موثرعملدرامد پر کوئ انگلی نہیں اٹھا سکتے ۔
    اگر موجودہ حکمران ریاست مدینہ کے نام پر اس حد تک ہی عمل پیرا ہوجائیں کہ موجودہ قوانین کا بغیر کسی تفریق کے نفاذ پورے ملک میں کردیں تب بھی یہ ان کی بہت بڑی کامیابی تصور کی جاسکتی ہے ۔

    #36
    GeoG
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 83
    • Posts: 5574
    • Total Posts: 5657
    • Join Date:
      12 Oct, 2016

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    Joke beside, I never kissed anyone’s ass all my life and I am not about to do it either. I think Unsafe is a real nice person and I don’t think he is carrying any agenda . I think we should all grow up and act as adults , otherwise, the members like Nadaan will have real questions about our activities… Sumajh tey Gya howain ga ;-) ….

    زیدی بھائی ایجنڈا تو کالی بھیڑ کا بھی نہیں ہے بس یہ دوسروں کی اوڑھ سے اپنی ذہنی پستی کو عروج کا بہلاوا دیتے ہیں

    اکثر یہ آپ کو پیر کینڈوی اکی کچھر چڑھا نظرآیا کرتے تھے

    کہاں وہ دین کی فنکاری اور کہاں یہ خدا سے بھی انکاری – پر سب چلتا ہے

    ستیا ناس ہو ضدی گجر کا اتنا عرصۂ کچھر ہی چھین لی

    اوپر سے قرار صاحب نے کانسٹنٹ شریف پر فوجی بوٹ دے مارا

    محترم لڑھکتے لرھکتے غیر محفوظ کے نا ڑ ے میں اٹکے تھے اب آپ یہ آسرا بھی چھیننا چاہتے ہیں

    جائیں تو جائیں کہاں

    —–

    او سوری – ٹریڈ مارک تو بھول ہی گیا

    کانسٹنٹ شریف پر فوجی بوٹ

    :cwl: :cwl: :cwl: :cwl: :cwl:

    • This reply was modified 10 months, 2 weeks ago by GeoG.
    #37
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    بہت پہلے میرے ایک مِتر نے قلمی کلاکاری کے غرور میں ڈوبے ہوئےکتبے دیکھ کر ایک بات کہی تھی” ہر سیر کیلئے ایک سوا سیر ہوتا ہے”۔۔۔۔۔میں جب بھی ان ڈیجیٹل فورمز کی براؤزنگ لگامیں تھام کر ایپل گشت کرنے نکلتا ہوں تو اکثر اس مقولے کی نشانیاں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ابھی انسیف صاحب کی قلمی دہشت گردی بھی ایک مخصوص گھوڑے پر سوار ہر کر تنگ نظری کے دائرے میں مسلسل گھومے جا رہی ہے۔۔۔ دیکھتے ہیں کہ کب کوئی رفاحی مددگار ان کے دائرے سے نکال کر نارمل راستوں پر چلنے کی مدد دیتا ہے۔۔ میرے اندر ایک خوبی یا خامی کہہ لیں کہ میں جس کے انداز تحریر کو تخلیقی کسوٹی پر منفرد پاتا ہوں تو اس پر فریفتہ ہو کر اپنے قلم کو اُس کیلئے خصی کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔اسی خصیصی کفییت میں رہتے ہوئے زیدی صاحب کے اس دھاگے میں کچھ پُورنے پرو دیتا ہوں۔۔۔۔ اب اس فورم پر اکثر ملحدین کا انداز تحریر بہت منفرد ہے اور میں انکے تخلیقی ذوق کا قدردان بھی ہوں۔۔۔۔ لیکن ہیونگ سیڈ دیٹ۔۔۔۔ انسانی نفسیات کا ارتقائی سفر اس بات کی خبر دیتا ہے کہ جب انسان اپنے تئیں کسی پست دور سے نکل کر بلندی پر فائز ہوتا ہے تو وہ عموما اپنی پستی سے کنارہ کرتے ہوئے اپنی حاصل شدہ علمی، شعوری، روحانی اور جسمانی ترقی کی ہائی لائیٹس دیکھانے میں زیادہ انٹرسٹڈ ہوتا ہے۔۔۔۔ لیکن اس فورم پر عموما ملحدین انہی گلیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں جن کو آؤٹ ڈیٹڈ اور ان سائیٹیفک کہہ کر وہ چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔۔۔ اب یہ لوگ بجائے اس کے ہمیں اس سوچ و تہذیب کے درشن کروانے کی طرف راغب کریں جسے پاکر انکے دل و دماغ میں سیرتِ زیست کے نقش ونگار جگمگانے لگ گئے یہ ہمارے ہی قلبی آبگینوں پر حرف باری کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔بقول عظیم ملحدی گرو جناب زندہ رود جب اقبال صاحب نے اپنی قلبی عقیدتوں کا ہی ترانہ گنگنانا تھا وہ مغربی تہذیب کی درسگاہوں میں “امب” لینے گئے تھے۔۔۔۔۔ اب ایسا ہی سوال یہاں بھی اٹھتا ہے کہ جب آپ مغربی اور سائنٹیفک آشیانوں کے اتنے ہی گرویدہ اور شیدائی ہیں تو اس “دو ٹکّے کے فورم” (تھینکس ٹو شاہد عباسی صاحب) پر کھیرے کھانے آتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف۔۔۔۔ایسا کیوں ہے؟؟؟ اس نقطے پر میں ایک دیسی تھیسسس لکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ اگلی نششت پر اس کا فیتہ کاٹوں گا۔۔۔ :serious: :17: :serious:

    ادراک سوچنے سمجھنے فیصلہ کرنے کے مجموعی عمل کو کہتے ہیں۔ حیوان بھی ایسا کرتے ہیں لیکن ان کے ادراک کا انحصار جبلت اور فوری رد عمل پر ہوتا ہے جبکہ انسان کا ادراک سابقہ تجربات، مشاہدات، اور اچھے برے نتائج جو اس نے اپنی زندگی میں دیکھے ہوتے ہیں ان کی پشن گوئی پر ہوتا ہے… اپ جس کو ہماری حاصل شدہ علمی، شعوری، روحانی اور جسمانی ترقی کی ہائی لائیٹس سمجھ رہے ہیں وہ اصل میں ہماری زندگی میں مجود سابقہ تجربات، مشاہدات، اور اچھے برے نتائج کا خلاصہ ہے . جو بحثیت مجموعی ہم عوام ناس تک پونچا کر ان کو خبردار کر رہے ہیں کہ آگے ڈیڈ اینڈ ہے… اور ان کو بتا رہے ہیں کہ تم قدامت پرستی کی لعنت سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا غلام اور جاہل سمجنے کی بجاے ایک عقلمند انسان سمجھو ۔ اور خود پر اعتماد کرو .. اپنے دماغ سے قدرت اور فطرت کو سمجھو پرانی کتابیں ترک کر دو … لعنتی اسلاف کی عقیدت ختم کر دو کیوں کہ اس سے بڑی چیز انسانی ترقی میں کوئی حائل نہیں ہو سکتی اور اپنی اولاد کی تربیت کرنے میں کوشش کرو کہ ان کی عقلی آزادی سلب نہ ہو اور ان کو پرانی قبروں سے تقدس کے مردے نکال نکال کر نہ دکھاؤ… ایسے میں اگر پاکستانی کی ایک نسل سنور گئی تو تمام نسلیں سنور سکتی ہیں ورنہ تم سے پہلے ہزاروں قومیں ایسے ہی تباہ ہو چکی ہیں … اور اپ کو ہماری یہ باتیں تنگ نظری لگ رہی ہے   دال میں کچھ کالا ہے

    #38
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 164
    • Posts: 5438
    • Total Posts: 5602
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    لاھور-سیالکوٹ روڈ پر پیش آنے والے واقع پر چند گزارشات
    میری حفاظت کی سب سے اولین ذمہ داری کس کی ہے؟ کیا میری اپنی نہیں ہے؟ کیا میرے گھر میں اونچی اونچی دیواریں نہیں ہیں؟ کیا میرے گھر میں آمدودرفت کے لئے آہنی دروازہ نہیں ہے؟ کیا آتے جاتے میں اپنے گھر میں تالہ نہیں لگاتا ہوں کیا میں اپنی گاڑی اور موٹر سائکل کو پارک کرنے کے بعد لاک نہیں کرتا ہوں؟ میں آخر ایسا کیوں کرتا ہوں؟ جبکہ آئینی اور قانونی لحاظ سے ریاست میرے تحفظ کی ذمہ دار ہے ؟؟؟
    اگر میرے گھر میں چار دیواری نہیں ہوگی ، دروازے پر تالا نہیں ہوگا ، گاڑی لاک نہیں ہوگی تو کیا میں اپنے ساتھ ممکنہ طور پر پیش آنے والے کسی جرم کے خطرہ کو بڑھاوا دینے کا مرتکب نہیں پایا جاؤں گا؟ دنیا میں کونسی پولیس کے فرائض میں یہ بات آتی ہے کہ اگر میں اپنی گاڑی کی گیس کا خیال رکھے بغیر باہر نکلوں تو میرے طلب کرنے پر وہ جیری کین لئے حاضر ہو جائے ؟ یاد رہے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ اگر میں گھر کو تالا نہ لگاؤں تو میرے گھر پر چوری ہونا فرض ہو جائے گا مگر خطرہ کے امکانات ضرور بڑھ جایں گے اور ان امکانات کو کم کرنے کی ذمہ داری سب سے پہلے میری اپنی ہی ہے
    سی سی پی او نے اگر کہا تو درست ہی کہا کہ آپ کو دیکھنا چاہئے تھا کہ آپ فرانس میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہیں یہ اور بات ہے کہ شاید فرانس میں بھی خاتون تنہا ہو اور رات کا پچھلا پہر ہو تو شاید وہ مکمل طور پر محفوظ محسوس نہ کرسکے .میرے تجربہ میں یو اے ای ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کویی بھی خاتون دن رات کے کسی بھی پہر میں تحفظ محسوس کرسکتی ہے مگر سو فیصدی گارنٹی تو کہیں بھی نہیں دی جاسکتی .
    باقی جو کچھ خاتون کے ساتھ ہوا دنیا میں کویی زی روح اس قسم کے سلوک کی مستحق نہیں ہے اسکے ساتھ انصاف کی تمنا ضرور ہے مگر انصاف ہوگا اس پر شکوک و شبہات اپنی جگہ ہیں محسوس ہوتا ہے جن کو محافظ سمجھ کر خاتون نے کال کی تھی وہی لٹیرے بن گئے اور اس جرم پر پردہ ڈالنے کے لئے کویی نہ کویی پولیس مقابلہ بھی متوقع ہو سکتا ہے
    اس معاملہ کا جہاں تک سیاسی پہلو ہے ایزی گو بھائی کی بات بلکل درست محسوس ہوتی ہے نون لیگ اس واقعہ کی آڑ میں اس سی سی پی او کو ہٹھانا چاہتی ہے اگر سی سی پی او کے خلاف مالی اور اخلاقی جرائم کی رپورٹ تھی تو وہ اب تک پولیس فورس میں کیا کررہا تھا؟ کیا نون کی ذمہ داری نہیں تھی کہ پولیس میں موجود کرپٹ افسران سے جان چھڑوائی جاتی .ایک منٹ مگر یہاں ٹہریں !!!!! اگر مالی اور اخلاقی کرپشن میں لوگوں کو نکالنا شروع کردیا تو پھر یہاں بچے گا کون ؟؟؟
    #39
    casanova
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 0
    • Posts: 571
    • Total Posts: 571
    • Join Date:
      4 Sep, 2018
    • Location: گلشن گلشن

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    کیسانووا صاحب۔۔ آپ نے ابراہم موسلو کی ضروریات کی درجہ بندی تو ملاحظہ کی ہوگی، انسان جب تک کچھ بنیادی مسائل سے چھٹکارا نہیں پالیتا تب تک وہ صحیح معنوں میں تخلیق کے روزن نہیں کھول پاتا، اور ان بنیادی مسائل میں خوراک و تحفظ سب سے ضروری ہیں۔ اسلام فی زمانہ ایسا نظریہ ہے جو دوسروں پر زبردستی اپنے اصول، قوانین اور ضابطے تھوپنے کی ترغیب دیتا ہے اور بذریعہ جبر لوگوں کی آواز بند کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ دورِ حاضر میں اختلافی رائے رکھنے والوں کی سلامتی کیلئے نظریہ اسلام سمِ قاتل کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ بے شمار لوگ جیلوں میں صرف اس لئے سڑرہے ہیں کہ ان پر اسلام کی توہین کا الزام لگا کر کسی مومن نے اپنے تئیں اسلام کا بول بالا کردیا۔ پشاور کورٹ میں ایک معصوم نفسیاتی مریض کو اسلام کے ایک سچے پیروکار نے گولیوں کا نشانہ بنا کر ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کے دل جیت لئے اور پشاور میں اس کے حق میں مسلمانوں نے بڑی بڑی ریلیاں نکالیں۔ دو دن قبل لاہور کی ایک عدالت نے ایک مسیحی کو توہینِ اسلام کے “جرم” میں سزائے موت سنادی ہے۔ تیرہ اسلامی ممالک میں اس وقت توہینِ اسلام / توہینِ رسالت کی سزا موت ہے۔ آپ کا خیال ہے ہم اسلام کی اس غارتگری سے لا تعلق رہ سکتے ہیں؟ جس دن اسلام کے پیروکار دوسروں کی زندگیوں میں دخل دینا بند کردیں گے، اپنا نظریہ زبردستی دوسروں پر مسلط کرنا بند کردیں گے، آپ ہماری زبانوں سے اسلام کا نام بھی نہیں سنیں گے۔ یوں سمجھ لیں ہم اسلام سے نہیں، اسلام ہم سے چمٹا ہوا ہے۔ :) ;-) ۔۔۔

    ادراک سوچنے سمجھنے فیصلہ کرنے کے مجموعی عمل کو کہتے ہیں۔ حیوان بھی ایسا کرتے ہیں لیکن ان کے ادراک کا انحصار جبلت اور فوری رد عمل پر ہوتا ہے جبکہ انسان کا ادراک سابقہ تجربات، مشاہدات، اور اچھے برے نتائج جو اس نے اپنی زندگی میں دیکھے ہوتے ہیں ان کی پشن گوئی پر ہوتا ہے… اپ جس کو ہماری حاصل شدہ علمی، شعوری، روحانی اور جسمانی ترقی کی ہائی لائیٹس سمجھ رہے ہیں وہ اصل میں ہماری زندگی میں مجود سابقہ تجربات، مشاہدات، اور اچھے برے نتائج کا خلاصہ ہے . جو بحثیت مجموعی ہم عوام ناس تک پونچا کر ان کو خبردار کر رہے ہیں کہ آگے ڈیڈ اینڈ ہے… اور ان کو بتا رہے ہیں کہ تم قدامت پرستی کی لعنت سے آزاد ہونا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو کسی دوسری قوم کا غلام اور جاہل سمجنے کی بجاے ایک عقلمند انسان سمجھو ۔ اور خود پر اعتماد کرو .. اپنے دماغ سے قدرت اور فطرت کو سمجھو پرانی کتابیں ترک کر دو … لعنتی اسلاف کی عقیدت ختم کر دو کیوں کہ اس سے بڑی چیز انسانی ترقی میں کوئی حائل نہیں ہو سکتی اور اپنی اولاد کی تربیت کرنے میں کوشش کرو کہ ان کی عقلی آزادی سلب نہ ہو اور ان کو پرانی قبروں سے تقدس کے مردے نکال نکال کر نہ دکھاؤ… ایسے میں اگر پاکستانی کی ایک نسل سنور گئی تو تمام نسلیں سنور سکتی ہیں ورنہ تم سے پہلے ہزاروں قومیں ایسے ہی تباہ ہو چکی ہیں … اور اپ کو ہماری یہ باتیں تنگ نظری لگ رہی ہے دال میں کچھ کالا ہے

    زندہ رود صاحب اور انسیف صاحب۔۔۔۔۔۔ میں قطعا بھی آپ کی عقلی فرسٹریشن میں مزید ہوا بھرنے کی تمنا نہیں رکھتا۔۔۔۔ سادی سی بات ہےکہ ہر معاشرے میں کچھ شدت پسند عناصر ہوتے ہیں جن کو دوسرے کے ختنے اور ارتقائی نتھنے چیک کرنے کا شوق ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگ تو ان عناصر سے الگ تھلگ ہو کر اپنی ایک معتدل پہچان بنانے کا ہنر رکھتے ہیں تو پھر یہ روزانہ انہی جبری واعظین کی طرح دوسروں کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے کا درس کیوں دینا شروع کر دیتے ہو۔۔۔۔۔۔

    آپ کے اکثردھاگے اسلام کو ٹارگٹ کرکے عجیب سا کُڑمس مچانے کی کوشش نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ آپ لوگوں کوکیا واقعتا لگتا ہے کہ یہ فورم آپ لوگوں کے تنقیدی سوالوں کا موثر جواب دینی والی علمی ہستیوں سے آراستہ ہے؟؟؟؟؟

    لے دے کہ ایک بلیور صاحب ہیں جن کی اپنی علمی بنیادوں میں گیارہ پٹھانوں کا رائتہ بھرا ہوا ہے۔۔۔۔۔دوسرے لنڈن کے مشہور زمانہ تیلی صاحب اور انکے ابیوزنگ متر بڈاوہ جی ہیں ۔۔۔جو کبھی ضدی گجر کے گنڈاسے پر بیٹھ کر اور کبھی ظالم صوبیدار کے خاکی جہاز پر بیٹھ کر عالمِ حیض میں اپنے مخالفین کو تڑیاں لگاتے نظر آتے ہیں۔۔اگرآپ ان ست ربٹی نمونوں سے اپنی علمی پیاس بجھانے کی تمنا رکھتے ہیں تو میرے ناقص رائے میں آپ کی عقل دانیوں کو نیا سافٹ وئیر اپڈیٹ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔۔۔۔

    ۔سو میرے خیال سے اتنے دانشمند تو آپ لوگ ہو۔۔۔۔۔ کہ آپ لوگ بھی بخوبی جانتے ہو کہ اس دانشگردی کے خزینے میں آپ کے سوالوں کی تشنگی دور کرنے والے علمی سفینے نہیں ہیں۔۔۔۔۔پھر آپ لوگ جان بوجھ کر ایسے دھاگے اور نفرت انگیز مواد پوسٹاتے ہیں تاکہ انہیں پڑھ کر عام ماتڑ اور سطحی سا مذہبی علم رکھنے والے ممبرز تلملاتے پھریں۔۔۔۔۔۔اور آپ کے من کے اندر پائے جانے والے اس غیض و غضب کو شانتی مل سکے جوکبھی آپکے ذہن میں اٹھنے والوں سوالوں کے ردعمل میں آپکی فیملی، رشتہ داروں اور سماج  کی طرف سے ، آپ لوگوں کو ذہنی اور جسمانی پھینٹی لگا کر دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس انسیف بیچارے کو تو لگتا ہے کچھ زیادہ ہی پھینٹی پڑی تھی۔۔۔۔۔۔

    بھائی لوگو! میں آپ کی پرسنل چائسز کا احترام کرتا ہوں آپ کے قلبی احساسات ااور ان سے جُڑے رشتے بھی سر ماتھے پر۔۔۔۔ لیکن آپ لوگ بھی اپنی مشین گنوں کا رُخ موڑ کر دیگر اہداف کی لِینگراں اڑانے پر دیہان دیجئے۔۔۔۔ تاکہ آپ لوگوں کی آنے والی نسلیں بھی فخر کریں کہ ہمارے الحادی آباء میں برداشت و احترام کا کتنا وسیع مادہ تھا۔۔۔۔۔۔ہوپ فار بیسٹ۔۔۔۔

    #40
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: ریاست مدینہ کے دعوہ دار

    زندہ رود صاحب اور انسیف صاحب۔۔۔۔۔۔ میں قطعا بھی آپ کی عقلی فرسٹریشن میں مزید ہوا بھرنے کی تمنا نہیں رکھتا۔۔۔۔ سادی سی بات ہےکہ ہر معاشرے میں کچھ شدت پسند عناصر ہوتے ہیں جن کو دوسرے کے ختنے اور ارتقائی نتھنے چیک کرنے کا شوق ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ لوگ تو ان عناصر سے الگ تھلگ ہو کر اپنی ایک معتدل پہچان بنانے کا ہنر رکھتے ہیں تو پھر یہ روزانہ انہی جبری واعظین کی طرح دوسروں کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھانے کا درس کیوں دینا شروع کر دیتے ہو۔۔۔۔۔۔ آپ کے اکثردھاگے اسلام کو ٹارگٹ کرکے عجیب سا کُڑمس مچانے کی کوشش نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ آپ لوگوں کوکیا واقعتا لگتا ہے کہ یہ فورم آپ لوگوں کے تنقیدی سوالوں کا موثر جواب دینی والی علمی ہستیوں سے آراستہ ہے؟؟؟؟؟ لے دے کہ ایک بلیور صاحب ہیں جن کی اپنی علمی بنیادوں میں گیارہ پٹھانوں کا رائتہ بھرا ہوا ہے۔۔۔۔۔دوسرے لنڈن کے مشہور زمانہ تیلی صاحب اور انکے ابیوزنگ متر بڈاوہ جی ہیں ۔۔۔جو کبھی ضدی گجر کے گنڈاسے پر بیٹھ کر اور کبھی ظالم صوبیدار کے خاکی جہاز پر بیٹھ کر عالمِ حیض میں اپنے مخالفین کو تڑیاں لگاتے نظر آتے ہیں۔۔اگرآپ ان ست ربٹی نمونوں سے اپنی علمی پیاس بجھانے کی تمنا رکھتے ہیں تو میرے ناقص رائے میں آپ کی عقل دانیوں کو نیا سافٹ وئیر اپڈیٹ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔۔۔۔ ۔سو میرے خیال سے اتنے دانشمند تو آپ لوگ ہو۔۔۔۔۔ کہ آپ لوگ بھی بخوبی جانتے ہو کہ اس دانشگردی کے خزینے میں آپ کے سوالوں کی تشنگی دور کرنے والے علمی سفینے نہیں ہیں۔۔۔۔۔پھر آپ لوگ جان بوجھ کر ایسے دھاگے اور نفرت انگیز مواد پوسٹاتے ہیں تاکہ انہیں پڑھ کر عام ماتڑ اور سطحی سا مذہبی علم رکھنے والے ممبرز تلملاتے پھریں۔۔۔۔۔۔اور آپ کے من کے اندر پائے جانے والے اس غیض و غضب کو شانتی مل سکے جوکبھی آپکے ذہن میں اٹھنے والوں سوالوں کے ردعمل میں آپکی فیملی، رشتہ داروں اور سماج کی طرف سے ، آپ لوگوں کو ذہنی اور جسمانی پھینٹی لگا کر دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس انسیف بیچارے کو تو لگتا ہے کچھ زیادہ ہی پھینٹی پڑی تھی۔۔۔۔۔۔ بھائی لوگو! میں آپ کی پرسنل چائسز کا احترام کرتا ہوں آپ کے قلبی احساسات ااور ان سے جُڑے رشتے بھی سر ماتھے پر۔۔۔۔ لیکن آپ لوگ بھی اپنی مشین گنوں کا رُخ موڑ کر دیگر اہداف کی لِینگراں اڑانے پر دیہان دیجئے۔۔۔۔ تاکہ آپ لوگوں کی آنے والی نسلیں بھی فخر کریں کہ ہمارے الحادی آباء میں برداشت و احترام کا کتنا وسیع مادہ تھا۔۔۔۔۔۔ہوپ فار بیسٹ۔۔۔۔

    کسا نوا …

    بات یہ ہے جو شائد آپ سمجھنے سے قاصرہیں یا سمجنا نہیں چاہتے . کہ پبلک فورمز ایک کھلے اخبار کی طرح ہوتے ہیں . یہاں پہ آدمی اپنے خیالات کی تشہیر کے لئے پوسٹ کرتا ہے یا کسی بھی پہلو پر کوئی آرٹیکل لکھتا یا تھریڈ کھولتا ہے تو اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی سے بحث لگانا چاہتا ہے …. . سیدھی سی بات ہے اگر کچھ مسلمانوں کو وہ آرٹیکل یا تھریڈ پسند نہیں آتا تو وہ اس کو اگنور کر دیں …. بات ختم … اپ کی یہ سوچ کہ یہاں پہ اسلام کو ٹارگٹ کیوں کرتے ہو…. … اس میں اور یہاں پہ کچھ معزز بلاگر کی سوچ میں کوئی خاص فرق نہیں جو بقول اپ کے کہ مجھے پھینٹی لگا رہے ہوتے ہیں … وہ اصل میں مجھے پھینٹی نہیں لگا رہے ہوتے خود کو لگا رہے ہوتے ہیں دلیل کا جواب بد زبانی سے دے کر…. آپ ہمیں سمجھانے کے لئے تو بڑے لمبے چوڑنے فلسفیانہ لیکچر ریکارڈ کرواتے ہیں . کبھی کسی ایسے ہی تھریڈ میں جہاں پہ مجھے پھینٹی لگ رہی ہوتی ہے اور میری عقلی پھینٹی کے جواب میں ان کو عقلی قبض ہو جاتی ہے اور پھر فکری دست لگ جاتے ہیں . کبھی کسی ایسے تھریڈ میں آ کر آپ ان معزز بلاگر کو اپنا لمبا چوڑا بیان ریکارڈ کرواتے ہوے نظر نہیں اے … اس بات سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا کہ جیسے آپ ان کی پشت پناہی کر رہے ان اہنوں نے اپ کی پشت پر ہاتھ رکھا ہے .

    اور دوسری بات جو آپ کہنا چاہتے ہیں کہ  اس فورم پہ صرف  مسلمانوں کو حق حاصل ہے، کہ وہ ساری دنیا کے مذاہب، عقائد پر تنقید کریں ۔مغرب کے ہر ملک میں ‘شریعت’  کی بات کریں کریں   … جسکو چاہیں مرضی پھنٹی لگائیں اور پھر کاسا نوا کو مرہم رکھنے کے لئے بیجھ  دیں … اور ملحدوں کو تو بلکل حق نہیں اس فورم پہ اسلام کو ٹارگٹ کرنے کا … اور   مسلمان اپنے مذہب کے معاملے چاہے جس طرح کا مرضی  جارحانہ رویہ رکھیں کسنووا کی ساری تقریریں فلسفے صرف ملحد حضرات کے لئے ہیں  وہ کسنووا کی طرح  اپنے مذہب اور اپنے خدا کو دوسروں پرزبردستی ٹھونستے رہیں ۔ ان کی اور کاسنووا کی اسلامی دنیا میں کسی دوسری اقلیت یا ریشنل آواز کی  زرا بھر جگہ نہیں ہے ۔۔ جب کہ غیرمسلم ممالک میں جاکر جارحیت سے اپنی جگہ کلیم کرتے ہیں ۔۔ یہاں پہ بہت سے معزز بلاگر یورپین ملکوں میں رہائش پذیر ہیں … وہاں کافروں اور مشرکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور  ہر طرح کی سہولت سے لطف اندوز ہونے کے بعد جب فورم پہ آتے ہیں تو ان کو آپ کی طرح اسلام کی فکر لاحق ہو جاتی ہیں ابھی یہ مسلمان یوروپ میں دس دس مسجدیں بنوانے کے چکر میں ہیں  وہ مغرب کے برابری کے حقوق کے فلسفوں سے تو فائدہ اٹھا لیتے ہیں ان کی ثقافت، طرز زندگی، اقدار میں مداخلت کررہے ہیں لیکن اپنوں فورموں پر جب آتے ہیں تو آپ کی طرح ان کو اسلام خطرے میں نظر آنا شروع ہو جاتا ہے  ۔ مغرب کے خیمے میں گھستے ہوئے مسلم اونٹ پر اگر ان مسلمانوں کے نظریات اور عقائد پر تنقید کی جاے تو کسنووا کو برا لگ جاتا ہے ۔ 

    جب کہ مسلمانوں اور کاسا نوا   کی نرگسیت کا تقاضہ ہے، کہ یک طرفہ ٹریفک ہو۔ مسلمان جس کو مرضی گالی دیں … جس کو مرضی پھیتنی لگائیں لیکن اگر مٹھی بھر ملحد  ان کو برا کہیں، ان پر کوئی تنقید نہ کرے …. دیکھ کاسا نوا جانی یہ مسلمان اپنے خدا کی اور تیری  لاڈلی امت ہوسکتے ہیں، انسانیت کی نہیں۔  جدید انسانی تہذیب کو انہوں نے ایک کالی کھوٹری کے گرد چکر لگوانے کے کچھ نہیں دیا …. دنیا گولوبل وللیج بن چکی ہے اس میں ایک دوسرے کو تسلیم کر کہ رہنا پڑھتا ہے … اس لئے آپ کو اور ..مسلمانوں کو اپنی سوچ بدنلے کی اشد ضرورت ہے 

    • This reply was modified 10 months, 2 weeks ago by unsafe.
Viewing 20 posts - 21 through 40 (of 77 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi