Home Forums Siasi Discussion داستان حَمار فی کھُوہ

Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)
  • Author
    Posts
  • حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1

    حکایت ہے کہ ایک بوڑھا کسان اور اس کا پِسر ، ایک گدھے کو لئے کہیں جا رہے تھے- منظر کچھ یوں تھا کہ پدر کے ہاتھ میں لگام تھی اور پسر چھمکیاں مارتا پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا
    رستے میں انہیں ایک پٹواری ملا
    اس نے یہ منظر دیکھ کر سینے پہ دوہتڑ مارا اور کہا او پئ جے تبدیلی- میاں صاحب کے دور میں اس کھوتے پر چھ چھ بیٹھتے تھے- آج بمشکل چِھمکیاں کھا کے چل رہا ہے- لعنت ایسی تبدیلی پر
    یہ طعنہ ، بلکہ اولاہما اس بوڑھے کسان پر بہت بھاری گزرا- چنانچہ اس نے یوٹرن لیا- باگ بیٹے کو پکڑائ اور پلاکی مار کے گدھے پہ جا بیٹھا- مخے انج نئیں تے فیر انج سہی
    باپ بیٹے نے ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ ایک سفید ریش جماعتیا مل گیا- اس نے ان دونوں کو بڑے تاسف سے دیکھا پھر داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا بخدا ھم گدھے کی سواری کے منکر نہیں- لیکن کوئ اصول ، کوئ طریقہ سواری کا طے ہونا چاھئے- قومی حمیّت کا جنازہ نکالنے کو یہی کافی ہے کہ ہٹا کٹا باپ تو سواری کے مزے لے اور معصوم بچہ پیدل دھکّے کھاتا پھرے
    کسان شرمسار ہوا اور موقع پر ہی دوسرا یو ٹرن لیا- چناچہ بیٹا گدھے پہ سوار ہوا اور باپ باگ تھامے بڑے فخر سے آگے آگے چلنے لگا
    کچھ اور آگے چلے تو ایک جمیعت والے شِکرے سے ملاقات ہو گئ- اس نے دور سے ہی صدا لگائ لعنت اس اسرائیل نواز پالیسی پر جس کے تناظر میں لفنٹر بیٹا تو دادِ عیش دیتا پھرے اور بوڑھا باپ ، جس میں چلنے کی سکت نہیں ، پیدل خوار ہوتا پھرے
    بوڑھے کسان نے سوچا کہ یوٹرن لینا قائدین کا شیوہ اور دافعء بلاء ہے ، کیوں نہ اس مولوی کے دانت بھی کھٹے کر ہی دئے جائیں- چنانچہ اس نے فورا جست لگائ اور بیٹے کے پیچھے گدھے پر جا بیٹھا
    دو چار کوس چلنے کے بعد ایک خوُنی لبرل سے ملاقات ہو گئ- اس نے ہمیشہ کی طرح اپنا ساڑ پھونکا اور باپ بیٹے کو حقوقِ جانوراں پر لیکچر دینا شروع کر دیا- کہنے لگا بڑے ہی شرم کا مقام ہے کہ ایک نحیف جانور پہ دو ہٹّے کٹّے انسان سوار ہیں
    کسان کے پاس یو ٹرن کا کوٹہ ختم ہو چکا تھا- لے دے کے بس کھوتا ہی بچا تھا- اس نے بیٹے کو اشارہ کیا- دونوں باپ بیٹا اس معصوم جانور پر پل پڑے اور جیک لگا کر کھوتے کو کندھے پہ اٹھا لیا
    گدھا جو بار بار یو ٹرن سے پہلے ہی باولا ہو چکا تھا احتجاجاً زور سے ہینگا ، پھڑکا ، تڑپا اور بھاگتا ہوا ایک کھوہ میں جا گرا- دونوں باپ بیٹا ہاتھ ملتے رہ گئے
    برسوں بعد اس کھوہ سے ایک پٹواری کا گزر ہوا- اس نے دیکھا کہ لوگ کنویں سے پانی کے ڈول بھر بھر کے زمین پر گرا رہے ہیں- اس نے عوام سے اس معاملے کی وضاحت چاھی- لوگوں نے بتایا کہ برسوں پہلے اس کھوہ میں ایک کھوتا گر کر مرا تھا
    پٹواری عوام کی جاھلیت پر نفرین کرتا ہوا بولا میاں صاب کے دور میں جب کوئ کھوتا کھوہ میں گرتا تھا تو پورا لاہور خالی پلیٹیں لئے اس کھوہ کا محاصرہ کر لیتا تھا
    اہلِ یوتھ ، اہل پٹوار ، اہل جماعت ، اہل جمیعت و خونی لبرلز کو عید سعید مبارک

    بشکریہ …… ظفر اقبال محمّد

    https://www.facebook.com/zafar.awan.56211/posts/2681642845427104

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #2

    ۔۔۔۔

    وا ھیا ت تحریر ۔۔۔۔ واھیا ت مصنف ۔۔۔۔۔۔ وا ھیا ت زما نہ ۔۔۔۔۔

    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    #3

    ۔۔۔۔

    وا ھیا ت تحریر ۔۔۔۔ واھیا ت مصنف ۔۔۔۔۔۔ وا ھیا ت زما نہ ۔۔۔۔۔

    او سر جی کبھی کچھ مزاح کے طور پر بھی لے لیا کریں

    کیوں ہر وقت کالی مرچیں چبائے جاتے ہیں۔

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #4
    او سر جی کبھی کچھ مزاح کے طور پر بھی لے لیا کریں کیوں ہر وقت کالی مرچیں چبائے جاتے ہیں۔

    ۔۔

    یار گدھے کو تثنیف کا مکمل حصہ بنا لینا سوائے جہا لت کے کچھ نہیں ہے ۔۔۔

    اگر آپ کو لکھنا ہے تو کسی اچھی چیز پر لکھیں ۔۔۔۔۔ آپ پوری سیا ست سیا ستدا نوں کو بھونڈے انداز میں ۔۔۔ گدھے کی بے ہودگی ۔۔۔  لکھ رھے ہیں

    لاہور میں ایک گد ھے کے گوشت کا ایک واقع کیا پیش آگیا ۔۔۔ لگتا ہے ۔

    ۔۔ پوری قوم ترسی بیٹھی تھی کہ ۔۔۔ گد  ھے  کے زکر نے  ۔۔۔ ان کی شاعری تصا نیف نصاب شوبز ۔۔۔۔ میں شامل ہوکر چار چاند لگا دیے ہیں۔۔۔۔۔۔

    مطلب میں ٹی وی بھی دیکھتا ہون ان گٹھیا لوگوں کے پاس مزاح کے لیئے بھی کوئی ٹاپک نہیں ہے ۔۔۔ ھر پھر کر ۔۔۔۔ گد ھے کے پیچھے آ کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔

Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi