Home Forums Non Siasi خودکشی کیوں

Viewing 20 posts - 61 through 80 (of 100 total)
  • Author
    Posts
  • Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #61
    جنت میں ایسا کچھ نہیں ہوگا کہ وھاں دنیا کے پرانے کٹھے کھولے جائیں گے وہ جنت ہے وھاں دنیا کے معاملات رشتے موجود نہیں ہونگے۔

    ۔۔۔ اور نہ  ہی جنت میں  پرانے شوھر اور پرانی بیویاں گلے پڑیں گی ۔۔۔۔۔

    جنت میں مردوں کو صرف حوریں ملیں گی ۔۔۔۔ اور عورتوں کو صرف زوج ملیں گے ۔۔۔۔

    تاھم اگر کسی انسان کو دنیا  سے کسی عورت یا مرد کی خواہش ہوگی بیوی یا محبوبہ یا کوئی ایشوریا رائے ۔۔۔۔۔ تو اس کو ۔۔۔۔ اس کی ایک ہوبہو شکل کی حور مہیا کردی جائے گی ۔۔۔

    وہ ہوگی تو دنیا والی عورت کے شکل لیکن حور کی طرح حسین  ہوگی ۔۔۔۔ کیونکہ وہ حور ہوگی ۔۔۔

    دنیا کی بد شکل عورتیں وھاں دیکھنے کو نہیں ملیں گی ۔۔۔۔۔۔۔

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #62
    قطع نظر شخصی پرتَو اور ذاتی حالات، خود کُشی بیک وقت خود غرضی اور بزدلی کی ایک انتہائی شکل اور اس مقصد سے فرار کا اعتراف ہے جس کیلئے انسان پیدا ہوا ہے یعنی ودیعت کی گئی صلاحیتوں کی/کے ساتھ آزمائش۔

    زندہ رہنے کے بظاہر سب مقصد ختم بھی ہو جائیں تو بھی ایک مقصد بچ جااتا ہے: خدمت۔ خود کو دوسرں کیلئے وقف کر دینے کا مقصد

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #63

    جے صاحب۔ بہت اچھے موضوع کو آپ نے منتخب کیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حالات، دکھ ، درد مصائب کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنی مرضی اپنی خواہش سے نہیں آئے، بس یونہی ٹپک پڑے ہیں، جیسے یک دم کسی شخص کی صحرا کے بیچوں بیچ آنکھ کھلے اور اسے سمجھ نہ آئے کہ آخر وہ آیا کہاں سے اور جانا کہاں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے ایک دن مرنا ہی مرنا ہے۔ زندگی میں جو چاہے کرلیں، جتنا چاہے انجوائے کرلیں، جتنی مرضی کامیابیاں / شہرت سمیٹ لیں، آخر ہم نے مر ہی جانا ہے۔ جون ایلیا نے کیا خوب کہا کہ ہم حسین ترین، ذہین ترین، امیر ترین اور زندگی میں ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالاخر مر ہی جائیں گے۔۔ موت ایک یقینی حقیقت ہے جو صرف چند سالوں کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ یہ سب حقیقتیں ہماری زندگی کو کس قدر بے وقعت، بے مقصد اور ہیچ بنا دیتی ہیں۔ آخر ہم کیوں جئے جارہے ہیں خواہ مخواہ ، بلاوجہ، کیا صرف اس لئے کہ ہم کسی اتفاق کا نتیجہ ہیں، بس یونہی دنیا کے کسی خطے میں کسی گھر میں وارد ہوگئے اور لگ پڑے جینے، اور جیے جاتے گئے، بلا کسی وجہ کے۔ میں سمجھتا ہوں ہر شخص کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی وقت خود کشی کرسکے، یہ کوئی منفی چیز نہیں، خودکشی کوئی غلط چیز نہیں، یہ انسان کا بنیادی حق ہے جو اسے ابھی تک تفویض نہیں کیا گیا۔ خودکشی کا قانونی حق نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں کہ انسان کو سہل پسند موت میسر نہیں آتی، کبھی وہ پنکھے سے لٹک جاتا ہے، کبھی زہر پی لیتا ہے ، کبھی دریا میں کود جاتا ہے ، کبھی ٹرین کے آگے لیٹ جاتا ہے، یہ سب موت کی بھیانکر شکلیں ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خودکشی پر مائل انسانوں کو اچھی موت مہیا کی جاسکتی ہے، انہیں انیستھیسزیا دے کر بے ہوش کرکے پرسکون موت دی جاسکتی ہے۔ خودکشی کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے تو جگہ جگہ سوئی سائیڈ سینٹر کھل جائیں گے جو مناسب دام لے کر انسان کو آسان موت دے سکیں گے، یہ بہت سے انسانوں کے مسائل کا حل ہوگا، بے شمار لوگ ان سوئی سائیڈ سینٹرز کا رخ کریں گے اور بلاوجہ کی زندگی سے نجات پائیں گے۔۔

    :clap: :clap:   :clap:

    کیا تخلیقی ا ُپچ ہے ویسے ۔ ۔ ۔ ۔

    ۔ ۔ ۔  ۔ اور آپ کے خیال میں پچھلے 8-10 ہزر سال کی تہذیب و تاریخ اس حق/جہت پر کوئی توجہ یا کام کیوں نہیں ہو سکا ہے؟

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #64

    کیا اس دنیا میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے جس کی زندگی کا کوئی مقصد ہو، اس دنیا میں ایسے موقع بھی آئے جب لاکھوں کروڑوں لوگ تھوڑے ہی عرصے میں مرگئے، کیا دنیا کو کوئی فرق پڑا، جو سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہے، وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہے۔۔۔

    زندگی کا مقصد خارج میں نہیں داخل میں ہوتا ہے اور وحی یعنی پروکرام کیا گیا ہوتا ہے آپ کی روح/فطرت میں

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #65

    آبجیکشن۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری دو حوریں کھا گئیں، ستر نہیں بہتر حوریں ملیں گی اور جو پرانی دنیاوی بیوی ہوگی، وہ صرف بونس کے طور پر دی جائے گی۔۔ اگر بیوی نے میری حوروں کے خلاف کوئی توہین آمیز بات کی تو وہیں اسے تین طلاق دے کر فارغ کردوں گا۔۔۔

    بھائی صااحب آپ بھول رہے ہیں آپ اور شیطان دوزخ کی دیوار پر چڑھے ہو نگے

    :bigsmile:

    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    #66

    دوزخ کی دیوار پہ چڑھ کے

    میں نے اور شیطان نے دیکھا

    سہمی ہوئی حوروں کے پیچھے

    وحشی ملا دوڑ رہے تھے

    آپ سے گزارش ہے کہ دیوار کے دوسری طرف اپنا خیال رکھئے گا۔ :bigsmile: ۔۔

    یہ بھی تو ممکن ہے کہ دیانت داری کے سو فیصد نمبر لے کر قرار صاحب جیب میں امریکن مارکہ پسٹل دباے ایک کالی بھیڑ کو چرارہے ہوں شیرازی صاحب بہتی نہر میں سے ڈونگے بھر بھر پی کر ٹن پڑے ہوں اور آپ حوروں کی گنتی میں مصروف ہوں عاطف صاحب بھی ہوں تو آپ کی ہی اور مگر ہاتھ پیر بندھے ہوے ہوں جبکہ نادان صاحبہ اور ہم جولی خان کا دامن پکڑے دوزخ میں پہنچ کر دیوار سے لگے حیران و پریشان بیٹھے ہوں

    Qarar

    Shirazi

    BlackSheep

    Atif Qazi

    @nadan

    @Imrankhan

    :bigsmile: :bigsmile:   :bigsmile:

    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    #67
    خود کشی اور مذہبی وابستگی / عدم وابستگی میں گہرا تعلق پایا گیا ہے درج میں ایک ٢٠٠٤ میں شایع کی گئی تحقیق پیش خدمت ہے -اس پہلو پر بھی دانش کے موتی بکھیرنے کی گنجائش موجود ہے

    Abstract
    OBJECTIVE: Few studies have investigated the association between religion and suicide either in terms of Durkheim’s social integration hypothesis or the hypothesis of the regulative benefits of religion. The relationship between religion and suicide attempts has received even less attention.

    METHOD: Depressed inpatients (N=371) who reported belonging to one specific religion or described themselves as having no religious affiliation were compared in terms of their demographic and clinical characteristics.

    RESULTS: Religiously unaffiliated subjects had significantly more lifetime suicide attempts and more first-degree relatives who committed suicide than subjects who endorsed a religious affiliation. Unaffiliated subjects were younger, less often married, less often had children, and had less contact with family members. Furthermore, subjects with no religious affiliation perceived fewer reasons for living, particularly fewer moral objections to suicide. In terms of clinical characteristics, religiously unaffiliated subjects had more lifetime impulsivity, aggression, and past substance use disorder. No differences in the level of subjective and objective depression, hopelessness, or stressful life events were found.

    CONCLUSIONS: Religious affiliation is associated with less suicidal behavior in depressed inpatients. After other factors were controlled, it was found that greater moral objections to suicide and lower aggression level in religiously affiliated subjects may function as protective factors against suicide attempts. Further study about the influence of religious affiliation on aggressive behavior and how moral objections can reduce the probability of acting on suicidal thoughts may offer new therapeutic strategies in suicide prevention.

    JMP
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #68
    قطع نظر شخصی پرتَو اور ذاتی حالات، خود کُشی بیک وقت خود غرضی اور بزدلی کی ایک انتہائی شکل اور اس مقصد سے فرار کا اعتراف ہے جس کیلئے انسان پیدا ہوا ہے یعنی ودیعت کی گئی صلاحیتوں کی/کے ساتھ آزمائش۔ زندہ رہنے کے بظاہر سب مقصد ختم بھی ہو جائیں تو بھی ایک مقصد بچ جااتا ہے: خدمت۔ خود کو دوسرں کیلئے وقف کر دینے کا مقصد

    اَتھرا sahib

    محترم اتھرا صاحب

    آپ نے اچھا نکتہ اٹھایا ہے پر سوچ رہا تھا کے خودکشی بزدلی کی علامت ہے یا نہیں

    کسی مشکل صورت حال سے بھاگ جانا بزدلی ہی کہی جا سکتی ہے لیکن زندگی جیسی قیمتی شے کو اپنے ہاتھوں تلف کر دینا بھی ایک مشکل فیصلہ ہے یا شاید نہیں

    جہاں تک خود غرضی کا تعلق ہے اپنے پیچھے دوسروں کو مشکل میں چھوڑ کر جاناخود غرضی کہلائی جا سکتی ہے

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #69
    اَتھرا sahib محترم اتھرا صاحب آپ نے اچھا نکتہ اٹھایا ہے پر سوچ رہا تھا کے خودکشی بزدلی کی علامت ہے یا نہیں کسی مشکل صورت حال سے بھاگ جانا بزدلی ہی کہی جا سکتی ہے لیکن زندگی جیسی قیمتی شے کو اپنے ہاتھوں تلف کر دینا بھی ایک مشکل فیصلہ ہے یا شاید نہیں جہاں تک خود غرضی کا تعلق ہے اپنے پیچھے دوسروں کو مشکل میں چھوڑ کر جاناخود غرضی کہلائی جا سکتی ہے

    یہ لمحاتی بہادری بمقابلہ طویل المدت بزدلی (جو باقی ماندہ زندگی، جس کا کہ خاتمہ کیا جا رہا ہے) پر مشتمل ہے کا مسئلہ ہے اور یہ نکتہءنظر (پرسپیکٹو) کا بھی معاملہ ہے، اگر تو یہ آخر الذکر ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں، پرسپیکٹو ہمیشہ منفرد اور ذاتی ہوتا ہے اور میں اس پر بحث نہیں کرتا

    اوپر پہلا جملہ تھوڑا پیچیدہ ہو گیا ہے لیکن امید ہے آپ بات کو پا لیں گے

    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    #70
    :clap: :clap: :clap: کیا تخلیقی ا ُپچ ہے ویسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آپ کے خیال میں پچھلے 8-10 ہزر سال کی تہذیب و تاریخ اس حق/جہت پر کوئی توجہ یا کام کیوں نہیں ہو سکا ہے؟

    میرے خیال میں دنیا اب آہستہ آہستہ اس طرف بڑھ رہی ہے، آپ کے علم میں ہوگا کہ سویٹزرلینڈ میں انتہائی علیل یا ذہنی و جسمانی طور پر معذور طویل العمر افراد کو خودکشی کا قانونی حق دیا گیا ہے، ابھی کچھ دن قبل آسٹریلیا کے سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال نے سویٹرزلینڈ کے اس قانون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں جاکر ایک کلینک میں پرسکون خودکشی کرلی، انہیں پرسکون موت دے دی گئی۔۔

    یہ انسان کو خودکشی کا قانونی حق دینے کی طرف پہلا قدم ہے، وہ وقت بھی آئے گا جب ایک صحت مند اور زندگی سے بھرپور شخص کو بھی خودکشی کا قانونی حق مل جائے گا۔۔ انسانی آزادیوں کے ارتقا کا عمل جاری ہے۔۔ 

    • This reply was modified 52 years, 5 months ago by .
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    #71
    زندگی کا مقصد خارج میں نہیں داخل میں ہوتا ہے اور وحی یعنی پروکرام کیا گیا ہوتا ہے آپ کی روح/فطرت میں

    آپ جس کو مقصد کہہ رہے ہیں، وہ مقصد نہیں ہوتا، بس ایک بہانہ ہوتا ہے، دل کو ایک طفلانہ تسلی ہوتی ہے، ورنہ کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے دنیا کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔۔۔ 

    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    #72
    قطع نظر شخصی پرتَو اور ذاتی حالات، خود کُشی بیک وقت خود غرضی اور بزدلی کی ایک انتہائی شکل اور اس مقصد سے فرار کا اعتراف ہے جس کیلئے انسان پیدا ہوا ہے یعنی ودیعت کی گئی صلاحیتوں کی/کے ساتھ آزمائش۔ زندہ رہنے کے بظاہر سب مقصد ختم بھی ہو جائیں تو بھی ایک مقصد بچ جااتا ہے: خدمت۔ خود کو دوسرں کیلئے وقف کر دینے کا مقصد

    ہر خود کشی بزدلی نہیں ہوتی، غالباً جون ایلیا نے ہی کہا تھا کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے بہت زیادہ بہادری نہیں بلکہ بہت زیادہ بے حسی چاہیے۔۔ بہت سے ادیب بھی خودکشی کرلیتے ہیں، ارنسٹ ہیمنگوے ، ورجینیا وولف، سلویا پلاتھ، ، ہیرلڈ ہارٹ کرین وغیرہ نے خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا، کیونکہ یہ معاشرے کے حساس لوگ ہوتے ہیں ، اس کو آپ بزدلی نہیں کہہ سکتے۔۔ 

    اور آپ کو کس نے کہہ دیا ہے کہ انسان کسی مقصد کے لئے پیدا ہوا ہے؟

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #73

    میرے خیال میں دنیا اب آہستہ آہستہ اس طرف بڑھ رہی ہے، آپ کے علم میں ہوگا کہ سویٹزرلینڈ میں انتہائی علیل یا ذہنی و جسمانی طور پر معذور طویل العمر افراد کو خودکشی کا قانونی حق دیا گیا ہے، ابھی کچھ دن قبل آسٹریلیا کے سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال نے سویٹرزلینڈ کے اس قانون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں جاکر ایک کلینک میں پرسکون خودکشی کرلی، انہیں پرسکون موت دے دی گئی۔۔

    یہ انسان کو خودکشی کا قانونی حق دینے کی طرف پہلا قدم ہے، وہ وقت بھی آئے گا جب ایک صحت مند اور زندگی سے بھرپور شخص کو بھی خودکشی کا قانونی حق مل جائے گا۔۔ انسانی آزادیوں کے ارتقا کا عمل جاری ہے۔۔

    آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ساری دانشورانہ کلکاریاں ہیں؟ مرکزی نکتہ ارادے کا اختیار (حقِ خود ارادی) ہے اور وہ اسے حاصل ہے جب چاہے عمل کر لے؟

    رہی مرنے کے بعد کی صورتحال، اگر میں مر ہی گیا تھا تو مجھے کیا، میرے بعد جو بھی ہوتا رہے

    ;-)  ارادے ہوں جن کے پختہ، وہ تلاطم خیز موجوں سے گھبرایا نہیں کرتے

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #74

    آپ جس کو مقصد کہہ رہے ہیں، وہ مقصد نہیں ہوتا، بس ایک بہانہ ہوتا ہے، دل کو ایک طفلانہ تسلی ہوتی ہے، ورنہ کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے دنیا کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا۔۔۔

    آپ کے اس بیان کے دو حصے ہیں اور دونوں آر ناٹ دی ون اینڈ دا سیم تھنگ

    جب تک آپ زندہ ہیں جو چیز آپکو چین سے پیٹھنے نہیں دیتی، آپ کے اراادے کی رہنمائی کرتی ہے وہ آپ کا مقصد ہے، اب یہ آپ کی فطرت اور سوچ پر ہے کہ آپ کسے رہنما کرتے ہیں، ویسے آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟

    مفکرین، مصلحین، سائنسدانوں، فنکاروں اور اسی طرح کے دوسروں کی کاوشوں سے آج ہمیں بہت فرق پڑا ہے، ہم نسبتاً زیادہ محفوظ، پر امن، پر یقین اور آرام دہ زندگی میں ہیں،  ہاں جو پیدا ہونے سے پہلے بھی مشتِ خاک تھے اور زندگی میں بھی ویسے ہی رہے اور سوائے دانشورابہ کلکاریوں کے عملی طور پر کچھ نہیں کیا، ان کے ہونے، مر جانے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا اور نہ پڑا

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #75

    ہر خود کشی بزدلی نہیں ہوتی، غالباً جون ایلیا نے ہی کہا تھا کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے بہت زیادہ بہادری نہیں بلکہ بہت زیادہ بے حسی چاہیے۔۔ بہت سے ادیب بھی خودکشی کرلیتے ہیں، ارنسٹ ہیمنگوے ، ورجینیا وولف، سلویا پلاتھ، ، ہیرلڈ ہارٹ کرین وغیرہ نے خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا، کیونکہ یہ معاشرے کے حساس لوگ ہوتے ہیں ، اس کو آپ بزدلی نہیں کہہ سکتے۔۔

    اور آپ کو کس نے کہہ دیا ہے کہ انسان کسی مقصد کے لئے پیدا ہوا ہے؟

    چلیں جو ایک آدھ نہیں ہوتی ہو گی وہ خود غرصی ہوتی ہوگی

    جن ادیبوں کے نام لئے ہیں یا اسی طرح کے اور دوسرے دانشورانہ گم راہی/خود غرضی (ڈائس فنکشنگ) کے شاہکار ہیں

    مقصد بارے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ زندگی کا مقصد خارج میں نہیں داخل میں ہوتا ہے اور وحی یعنی پروکرام کیا گیا ہوتا ہے آپ کی روح/فطرت میں

    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    #76
    وہ انساں نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے

    جس حال میں جینا مشکل ہو اُس حال میں جینا لازم ہے

    ویسے کچھ مفکرین کے نزدیک خودکشی بہادر لوگوں کا کام ہے

    بزدل لوگ تو سسک سسک کے جیتے رہتے ہیں۔

    بہادر لوگ دنیا کو زندگی کو ٹھوکر مار کر چلتے بنتے ہیں۔

    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    #77
    آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ساری دانشورانہ کلکاریاں ہیں؟ مرکزی نکتہ ارادے کا اختیار (حقِ خود ارادی) ہے اور وہ اسے حاصل ہے جب چاہے عمل کر لے؟ رہی مرنے کے بعد کی صورتحال، اگر میں مر ہی گیا تھا تو مجھے کیا، میرے بعد جو بھی ہوتا رہے ;-) ارادے ہوں جن کے پختہ، وہ تلاطم خیز موجوں سے گھبرایا نہیں کرتے

    قانونی حق ملنے سے جو مراعات حاصل ہوں گی وہ آپ کی طفلانہ نگاہی سے اگر ابھی تک اوجھل ہیں تو کیا میں گنوادوں؟۔

    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    #78

    چلیں جو ایک آدھ نہیں ہوتی ہو گی وہ خود غرصی ہوتی ہوگی جن ادیبوں کے نام لئے ہیں یا اسی طرح کے اور دوسرے دانشورانہ گم راہی/خود غرضی (ڈائس فنکشنگ) کے شاہکار ہیں مقصد بارے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ زندگی کا مقصد خارج میں نہیں داخل میں ہوتا ہے اور وحی یعنی پروکرام کیا گیا ہوتا ہے آپ کی روح/فطرت میں

    آپ کے اس بیان کے دو حصے ہیں اور دونوں آر ناٹ دی ون اینڈ دا سیم تھنگ جب تک آپ زندہ ہیں جو چیز آپکو چین سے پیٹھنے نہیں دیتی، آپ کے اراادے کی رہنمائی کرتی ہے وہ آپ کا مقصد ہے، اب یہ آپ کی فطرت اور سوچ پر ہے کہ آپ کسے رہنما کرتے ہیں، ویسے آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے؟ مفکرین، مصلحین، سائنسدانوں، فنکاروں اور اسی طرح کے دوسروں کی کاوشوں سے آج ہمیں بہت فرق پڑا ہے، ہم نسبتاً زیادہ محفوظ، پر امن، پر یقین اور آرام دہ زندگی میں ہیں، ہاں جو پیدا ہونے سے پہلے بھی مشتِ خاک تھے اور زندگی میں بھی ویسے ہی رہے اور سوائے دانشورابہ کلکاریوں کے عملی طور پر کچھ نہیں کیا، ان کے ہونے، مر جانے اور نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا اور نہ پڑا

    ہاں اگر کسی کے عزیز رشتے دار اس سے محبت کرنے والے موجود ہیں، تب اس کی خودکشی کو خودغرضی کہا جاسکتا ہے۔۔

    مقصد کے بارے آپ نے جو فرمایا اس کو پڑھ کر میں آپ سے ایک بات ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ آپ ہر معاملے کو اتنے چھوٹے سپیکٹرم پر کیوں دیکھتے ہیں، اس کی وجہ تو آپ ہی بتاسکتے ہیں، ہوسکتا ہے طویل عرصہ سے چھوٹے سے مذہبی پنجرے میں بند رہنے کا اثر ہو یا شاید کوئی اور وجہ۔۔ بہرحال میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں یہ جن کو آپ مقصد قرار دے رہے ہیں یہ چھوٹے چھوٹے بہانے، طفل تسلیاں ہوتی ہیں، جی کو بہلانے کے واسطے۔۔۔ آپ بتائیے اگر اس دنیا سے سارے انسان مٹ جائیں تب کیا اس دنیا  ، کائنات کو کوئی فرق پڑےگا۔۔ کدھرجائے گی ساری مقصدیت۔۔۔۔؟ کیا انسان اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے؟ یا پھر چاند سورج کی گردش اس کے وجود پر منحصر ہے، کیا ہے انسان۔۔؟ ایک حقیر کیڑا۔۔؟ انسان  اپنے وجود اور مقصدیت کے اعتبار سے اس دھرتی پر رینگنے والے کیڑوں مکوڑوں سے کس طرح مختلف ہے۔۔۔

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #79

    قانونی حق ملنے سے جو مراعات حاصل ہوں گی وہ آپ کی طفلانہ نگاہی سے اگر ابھی تک اوجھل ہیں تو کیا میں گنوادوں؟۔

    جی گنوائیے ۔ ۔ ۔ ۔ اردو میں دیجئے گا، پھر بات کرتے ہیں

    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #80

    ہاں اگر کسی کے عزیز رشتے دار اس سے محبت کرنے والے موجود ہیں، تب اس کی خودکشی کو خودغرضی کہا جاسکتا ہے۔۔

    مقصد کے بارے آپ نے جو فرمایا اس کو پڑھ کر میں آپ سے ایک بات ضرور پوچھنا چاہوں گا کہ آپ ہر معاملے کو اتنے چھوٹے سپیکٹرم پر کیوں دیکھتے ہیں، اس کی وجہ تو آپ ہی بتاسکتے ہیں، ہوسکتا ہے طویل عرصہ سے چھوٹے سے مذہبی پنجرے میں بند رہنے کا اثر ہو یا شاید کوئی اور وجہ۔۔ بہرحال میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں یہ جن کو آپ مقصد قرار دے رہے ہیں یہ چھوٹے چھوٹے بہانے، طفل تسلیاں ہوتی ہیں، جی کو بہلانے کے واسطے۔۔۔ آپ بتائیے اگر اس دنیا سے سارے انسان مٹ جائیں تب کیا اس دنیا ، کائنات کو کوئی فرق پڑےگا۔۔ کدھرجائے گی ساری مقصدیت۔۔۔۔؟ کیا انسان اس کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے؟ یا پھر چاند سورج کی گردش اس کے وجود پر منحصر ہے، کیا ہے انسان۔۔؟ ایک حقیر کیڑا۔۔؟ انسان اپنے وجود اور مقصدیت کے اعتبار سے اس دھرتی پر رینگنے والے کیڑوں مکوڑوں سے کس طرح مختلف ہے۔۔۔

    آپ کی ہبل جب اس کائنات کو دیکھتی ہے تو اسے بڑا بہانہ یا بڑا مقصد کیا لگتا ہے؟

Viewing 20 posts - 61 through 80 (of 100 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi