Home Forums Non Siasi خودکشی کیوں

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 100 total)
  • Author
    Posts
  • JMP
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #1
    ابھی کچھ دن پہلے جس شہر میں آجکل میں رہاش پذیر ہوں، ایک شخص جسکی عمر کوئی تیس سال کے قریب ہوگی ٹرین کے سامنے آکر زندگی گنوا بیٹھا . لوگوں کا کہنا ہے کے اس شخص نے خودکشی کی ہے

    جتنا میرا مشاہدہ ہے، اس میں دیکھا ہے کے ہر کوئی زندگی سے پیار کرتا ہے، موت کی سوچ اور موت کا خیال اکثر لوگوں کے ذہن میں نہیںآتا ہے اور اگر آتا ہے تو تکلیف دہ ہوتا ہے. لمبی زندگی کی خواہش اکثر لوگوں کے دل میں مچلتی رہتی ہے . زندگی کے رنگ ہر دل کو اپنی جانب مائل کئے ہوتے ہیں اور پھر کبھی کبھار پڑھنے، دیکھنے یا سننے کو ملتا ہے کے کسی نے اپنی جان لے لی

    لوگ ایسی کیوں کرتے ہیں . وہ کیا تکلیف ہیں، وہ کیا درد ہیں، وہ کیا پشیمنیاں ہیں، وہ کیا راز ہیں جو کسی شخص کو ایسا اقدام اڑھانے پر مجبور کر دیتے ہیں

    جاپان میں پشیمانی خودکشی کا ایک بڑا سبب ہیں. پڑھنے کو آیا ہے کے امریکہ کے وہ فوجی جنہوں نے عراق اور افغانستان کی جنگوں میں حصہ لیا ان میں بھی خودکشی کا رجحان زیادہ ہے. اور پھر عام آدمی کی زندگی میں کیا کیا گزرتا ہے کے وہ زندگی کے تھپیڑوں کو نہیں سہہ پاتا

    میری زندگی کوئی کامیاب زندگی تو نہیں مگر بلکل ناکام بھی نہیں پھر بھی گزشتہ چند سالوں میں بارہا زندگی گزرنا دشوار لگنے لگا. اکثر ذہن میں خیال آیا کے بہت ہو چکا اور کسی حد تک ذہن کو آمادہ بھی کر لیا مگر کبھی قدم آگے اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئیاور ایک دو بار ہوئی بھی تو واپس لوٹ آیا

    کیا زدنگی اتنی دشوار ہو سکتی ہے کے انسان زندگی کی جنگ ہار جاۓ . کیا دوست احباب، معاشرہ، حکومت کچھ کر سکتے ہیں کے انسان اپنی زندگی کو گنوانے کے فیصلے سے واپس لوٹ آے . کیا ہم اپنے اردگرد کوئی ایسی علامت نہیں دیکھتے ہیں جو ہمیں چوکنا کر دیں اور کسی کی جان بچانے کے قبل کر سکیں . کیا ہمارا اپنا رویہ کسی کو مایوسی ، پشیمانی، تکلیف کی جانب دھکیلتا ہے .

    نادان
    Keymaster
    Offline
      #2
      جب کوئی ” کہتا ” ہے کہ وہ مرنا چاہتا ہے ..خود کشی کر لے گا ..تو اسے سیریس لینا چاہئے ..یہ اصل میں مدد کے لئے پکار ہوتی ہے …ہر انسان کی قوت برداشت الگ ہوتی ہے …بعض  بڑے  سے بڑے  غم ہنس کر سہہ  لیتے ہیں .کسی کے لئے  بہت چھوٹی  سی بات بھی اس کی برداشت سے باہر ہوتی ہے …

      زیادہ تر خود کشی کسی بہت کمزور لمحے کا فیصلہ ہوتا ہے ..وہ لمحہ گزر جائے تو انسان اس سوچ سے باہر نکل آتا ہے ..

      بہت سے لوگ جو مسلسل   مرنے کے بارے میں سوچتے ہیں .یہ ایسی کیفیت ہے جس کا علاج ضروری ہے ..ہر نفسیاتی مسلے کا علاج موجود ہے ..بس اسے ریکگنایز  کرنے کی ضرورت ہوتی ہے

      صحرائی
      Participant
      Offline
      • Advanced
      #3

      شائد کچھ احساسات/خیالات کو اپنے اوپر حاوی کرنا اور پھر اپنی سوچ کو ایک دائرے میں قید کرنا خودکشی کی جانب گامزن کرتا ہے …ایک نفسیاتی بیماری ہے

      کچھ ہم جیسے ہے جن کے لئے لدھیانوی صاحب نے کہا ہے

                                                                                                                                                         خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم

      کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

      • This reply was modified 52 years, 1 month ago by .
      Anjaan
      Participant
      Offline
      • Professional
      #4

      JMPآپ کے سوال کا جواب مرے پاس صرف یہ ہے

      • This reply was modified 52 years, 1 month ago by .
      نادان
      Keymaster
      Offline
        #5

        شائد کچھ احساسات/خیالات کو اپنے اوپر حاوی کرنا اور پھر اپنی سوچ کو ایک دائرے میں قید کرنا خودکشی کی جانب گامزن کرتا ہے …ایک نفسیاتی بیماری ہے

        کچھ ہم جیسے ہے جن کے لئے لدھیانوی صاحب نے کہا ہے

        خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم

        کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

        یہ نفسیاتی مسلہ  ہے …اور اسے ایسے ہی لینا چاہئے جیسے کسی بھی بیماری کو لے  کر علاج کرواتے ہیں ..کچھ لوگ پیدائشی کیمیکلی  امبیلینس  ہوتے ہیں ..انکو لازمی علاج کروانا چاہئے

        اس میں وہ کیس شامل نہیں ہیں جو کسی بے عزتی کے خوف سے بڑی  شخصیات کر لیتی ہیں

        Jack Sparrow
        Participant
        Offline
        • Advanced
        #6

        ہر غم ، الم اور مایوسی کا بہترین علاج خود خوشی ہے

        خود خوشی کئے جاؤ ، وقت خود بدل جائے گا

        صحرائی
        Participant
        Offline
        • Advanced
        #7
        کچھ لوگ یہ کیفیت ظاہر نہیں کر پاتے اور اندر اندر سے اس کا شکار ہو جاتے ہے

        یہ نفسیاتی مسلہ ہے …اور اسے ایسے ہی لینا چاہئے جیسے کسی بھی بیماری کو لے کر علاج کرواتے ہیں ..کچھ لوگ پیدائشی کیمیکلی امبیلینس ہوتے ہیں ..انکو لازمی علاج کروانا چاہئے اس میں وہ کیس شامل نہیں ہیں جو کسی بے عزتی کے خوف سے بڑی شخصیات کر لیتی ہیں
        نادان
        Keymaster
        Offline
          #8

          ہر غم ، الم اور مایوسی کا بہترین علاج خود خوشی ہے

          خود خوشی کئے جاؤ ، وقت خود بدل جائے گا

          یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں

          پاکستان جیسے ملک میں اس مسلے کی اہمیت نہیں سمجھتے ..اور شاید ابھی بھی وہاں خود کشی یا اس کی کوشش جرم ہے اور پولیس کیس بن جاتا ہے ..جبکہ یہ سراسر نفسیاتی مسلہ  ہے اور یہاں ایسی کسی بھی کوشش پر ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے ..ون  ایٹ  ہنڈرڈ نمبر موجود ہیں ..جس پر آپ کال کر سکتے ہیں …جس وقت آپ ان سوچوں میں گھرے ہوں ..وہ آپ کی ہر طرح مدد کرتے ہیں

          ہمارے ہاں لوگ اپنے نفسیاتی مسائل ڈسکس کرتے گھبراتے ہیں ..سیدھا سیدھا پاگل ہونے کا سرٹیفکیٹ عطا  کر دیا جاتا ہے ..نفسیات معالج کے پاس اسی ڈر  سے جاتے بھی نہیں ..اور ایک مزریبل  زندگی گزارنے  پر مجبور ہوتے ہیں ..جبکہ حل موجود ہوتا ہے ..اویرنس کی ضرورت ہے

          Atif Qazi
          Participant
          Offline
          • Expert
          #9
          کسی فلم میں لافٹر تھیراپی کا ذکر تھا، میں نے اس تھراپی کو بہت مفید پایا۔ 2013 وہ سال تھا جب میں زندگی سے مایوس تھا اور بچوں سمیت اللہ کو پیارا ہوجانے کی ٹھان لی۔ لیکن پھر سوچا کہ مشکل وقت ہے گذر ہی جائے گا اور ہوسکتا ہے مستقبل میں آسانیاں پیدا ہوجائیں۔

          اللہ کے کرم سے اس وقت کے چھ ماہ کے اندر اندر میری زندگی کی ہر تکلیف ختم ہوگئی اور اب الحمداللہ کسی چیز کی کمی نہیں۔

          بات یہ ہے کہ آپ اس افسردگی، اس تکلیف اور ڈپریشن کو کس طرح جھیلتے ہیں؟؟ میں نے اس کا علاج خود کو خوش رکھنے میں ڈھونڈا۔ کافی حد تک لبرل ہونے کے باوجود آج تک یہ معمہ سمجھ نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے فورا” ہی بعد حالات کیسے تبدیل ہونا شروع ہوگئے۔

          میرا ایمان ہے کہ کوئی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اپنے خدا، بھگوان یا گاڈ سے تعلق بنانے کی کوشش کرے۔ اگر تو اس ذات کو پیار آگیا تو زندگی بہت آرام دہ ہوجاتی ہے اگر پیار نہ آیا تو اسکا مطلب آپ کے یقین میں کوئی آنچ  کی کمی ہے ابھی تک۔

          نادان
          Keymaster
          Offline
            #10
            کچھ لوگ یہ کیفیت ظاہر نہیں کر پاتے اور اندر اندر سے اس کا شکار ہو جاتے ہے

            اس لئے کہ وہ خود بھی نہیں جانتے کہ وہ نفسیاتی مسلے کا شکار ہیں اور علاج اویلابیل ہے .

            اس کے لئے ضروری ہے کہ اویر نس پیدا کی جائے

            Atif Qazi
            Participant
            Offline
            • Expert
            #11
            جب کوئی ” کہتا ” ہے کہ وہ مرنا چاہتا ہے ..خود کشی کر لے گا ..تو اسے سیریس لینا چاہئے ..

            میں نے کئی خواتین کو کہا کہ میں آپ پر مرنا چاہتا ہوں لیکن انہوں نے میری بات کو سیریس نہیں لیا اور کہا کہ دفع ہو پراں مر :( ۔

            کاش ہر خاتون آپ جتنی رحمدل ہوسکے۔

            Zinda Rood
            Participant
            Offline
            • Professional
            #12

            جے صاحب۔ بہت اچھے موضوع کو آپ نے منتخب کیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حالات، دکھ ، درد مصائب کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنی مرضی اپنی خواہش سے نہیں آئے، بس یونہی ٹپک پڑے ہیں، جیسے یک دم کسی شخص کی صحرا کے بیچوں بیچ آنکھ کھلے اور اسے سمجھ نہ آئے کہ آخر وہ آیا کہاں سے اور جانا کہاں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے ایک دن مرنا ہی مرنا ہے۔ زندگی میں جو چاہے کرلیں، جتنا چاہے انجوائے کرلیں، جتنی مرضی کامیابیاں / شہرت سمیٹ لیں، آخر ہم نے مر ہی جانا ہے۔ جون ایلیا نے کیا خوب کہا کہ ہم حسین ترین، ذہین ترین، امیر ترین اور زندگی میں ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالاخر مر ہی جائیں گے۔۔ موت ایک یقینی حقیقت ہے جو صرف چند سالوں کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ یہ سب حقیقتیں ہماری زندگی کو کس قدر بے وقعت، بے مقصد اور ہیچ بنا دیتی ہیں۔ آخر ہم کیوں جئے جارہے ہیں خواہ مخواہ ، بلاوجہ، کیا صرف اس لئے کہ ہم کسی اتفاق کا نتیجہ ہیں، بس یونہی دنیا کے کسی خطے میں کسی گھر میں وارد ہوگئے اور لگ پڑے جینے، اور جیے جاتے گئے، بلا کسی وجہ کے۔ میں سمجھتا ہوں ہر شخص کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی وقت خود کشی کرسکے، یہ کوئی منفی چیز نہیں، خودکشی کوئی غلط چیز نہیں، یہ انسان کا بنیادی حق ہے جو اسے ابھی تک تفویض نہیں کیا گیا۔ خودکشی کا قانونی حق نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں کہ انسان کو سہل پسند موت میسر نہیں آتی، کبھی وہ پنکھے سے لٹک جاتا ہے، کبھی زہر پی لیتا ہے ، کبھی دریا میں کود جاتا ہے ، کبھی ٹرین کے آگے لیٹ جاتا ہے، یہ سب موت کی بھیانکر شکلیں ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خودکشی پر مائل انسانوں کو اچھی موت مہیا کی جاسکتی ہے، انہیں انیستھیسزیا دے کر بے ہوش کرکے پرسکون موت دی جاسکتی ہے۔ خودکشی کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے تو جگہ جگہ سوئی سائیڈ سینٹر کھل جائیں گے جو مناسب دام لے کر انسان کو آسان موت دے سکیں گے، یہ بہت سے انسانوں کے مسائل کا حل ہوگا، بے شمار لوگ ان سوئی سائیڈ سینٹرز کا رخ کریں گے اور بلاوجہ کی زندگی سے نجات پائیں گے۔۔ 

            نادان
            Keymaster
            Offline
              #13
              کسی فلم میں لافٹر تھیراپی کا ذکر تھا، میں نے اس تھراپی کو بہت مفید پایا۔ 2013 وہ سال تھا جب میں زندگی سے مایوس تھا اور بچوں سمیت اللہ کو پیارا ہوجانے کی ٹھان لی۔ لیکن پھر سوچا کہ مشکل وقت ہے گذر ہی جائے گا اور ہوسکتا ہے مستقبل میں آسانیاں پیدا ہوجائیں۔ اللہ کے کرم سے اس وقت کے چھ ماہ کے اندر اندر میری زندگی کی ہر تکلیف ختم ہوگئی اور اب الحمداللہ کسی چیز کی کمی نہیں۔ بات یہ ہے کہ آپ اس افسردگی، اس تکلیف اور ڈپریشن کو کس طرح جھیلتے ہیں؟؟ میں نے اس کا علاج خود کو خوش رکھنے میں ڈھونڈا۔ کافی حد تک لبرل ہونے کے باوجود آج تک یہ معمہ سمجھ نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے فورا” ہی بعد حالات کیسے تبدیل ہونا شروع ہوگئے۔ میرا ایمان ہے کہ کوئی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اپنے خدا، بھگوان یا گاڈ سے تعلق بنانے کی کوشش کرے۔ اگر تو اس ذات کو پیار آگیا تو زندگی بہت آرام دہ ہوجاتی ہے اگر پیار نہ آیا تو اسکا مطلب آپ کے یقین میں کوئی آنچ کی کمی ہے ابھی تک۔

              ہر مرض کا علاج لافٹر  تھراپی میں نہیں

              رہی دوسری بات ..یہ ایسے ہے کہ میں کہوں  مجھے بخار ہے اور آپ کہیں نماز پڑھ لو ..ٹھیک ہو جاؤ گی ..

              پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈپریشن سچوشنل ہے یا کلینکل ..

              پہلی صورت میں تو آپ کی بات درست ہے ..دعا بھی کام ائے گی اور گزرتا وقت بھی …

              لیکن اگر دوسری صورت ہے تو لازمی علاج کرانا پڑے  گا

              نادان
              Keymaster
              Offline
                #14
                میں نے کئی خواتین کو کہا کہ میں آپ پر مرنا چاہتا ہوں لیکن انہوں نے میری بات کو سیریس نہیں لیا اور کہا کہ دفع ہو پراں مر :( ۔ کاش ہر خاتون آپ جتنی رحمدل ہوسکے۔

                ایسے مریضوں کے لئے خواتین کے پاس بہترین علاج ان کی سینڈل کی صورت میں موجود ہوتا ہے

                :bigthumb:

                JMP
                Participant
                Offline
                Thread Starter
                • Professional
                #15
                میں نے کئی خواتین کو کہا کہ میں آپ پر مرنا چاہتا ہوں لیکن انہوں نے میری بات کو سیریس نہیں لیا اور کہا کہ دفع ہو پراں مر :( ۔ کاش ہر خاتون آپ جتنی رحمدل ہوسکے۔

                Atif Qazi sahib

                محترم عاطف صاحب

                کبھی ایسا ہوا ہے کے کسی خاتون نے کہا ہو کے وہ آپ پر مرنا چاہتی ہیں ؟

                JMP
                Participant
                Offline
                Thread Starter
                • Professional
                #16

                میرے خیال میں اکثر لوگ اپنی کیفیت بیان کرتے ہوے جھجھکتے ہیں یا پھر ایسا ماحول یا غمگسار نہیں ہوتا ہے کے جو کسی کی بات کو سننے کی ضرورت کو محسوس کرتا ہو

                اکثر ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کے اس کیفیت کو کمزوری سمجھا جاتا ہے ، طعنے ملتے ہیں ، یا پھر لوگ وقت ہی نہیں دے پتے کے کسی کو توجہ دے سکیں

                Anjaan
                Participant
                Offline
                • Professional
                #17

                Atif sahib محترم عاطف صاحب کبھی ایسا ہوا ہے کے کسی خاتون نے کہا ہو کے وہ آپ پر مرنا چاہتی ہیں ؟

                [/quote

                خواتین مردوں سے عقلمند ہوتی ہیں

                نادان
                Keymaster
                Offline
                  #18

                  جے صاحب۔ بہت اچھے موضوع کو آپ نے منتخب کیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حالات، دکھ ، درد مصائب کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنی مرضی اپنی خواہش سے نہیں آئے، بس یونہی ٹپک پڑے ہیں، جیسے یک دم کسی شخص کی صحرا کے بیچوں بیچ آنکھ کھلے اور اسے سمجھ نہ آئے کہ آخر وہ آیا کہاں سے اور جانا کہاں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے ایک دن مرنا ہی مرنا ہے۔ زندگی میں جو چاہے کرلیں، جتنا چاہے انجوائے کرلیں، جتنی مرضی کامیابیاں / شہرت سمیٹ لیں، آخر ہم نے مر ہی جانا ہے۔ جون ایلیا نے کیا خوب کہا کہ ہم حسین ترین، ذہین ترین، امیر ترین اور زندگی میں ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالاخر مر ہی جائیں گے۔۔ موت ایک یقینی حقیقت ہے جو صرف چند سالوں کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ یہ سب حقیقتیں ہماری زندگی کو کس قدر بے وقعت، بے مقصد اور ہیچ بنا دیتی ہیں۔ آخر ہم کیوں جئے جارہے ہیں خواہ مخواہ ، بلاوجہ، کیا صرف اس لئے کہ ہم کسی اتفاق کا نتیجہ ہیں، بس یونہی دنیا کے کسی خطے میں کسی گھر میں وارد ہوگئے اور لگ پڑے جینے، اور جیے جاتے گئے، بلا کسی وجہ کے۔ میں سمجھتا ہوں ہر شخص کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی وقت خود کشی کرسکے، یہ کوئی منفی چیز نہیں، خودکشی کوئی غلط چیز نہیں، یہ انسان کا بنیادی حق ہے جو اسے ابھی تک تفویض نہیں کیا گیا۔ خودکشی کا قانونی حق نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں کہ انسان کو سہل پسند موت میسر نہیں آتی، کبھی وہ پنکھے سے لٹک جاتا ہے، کبھی زہر پی لیتا ہے ، کبھی دریا میں کود جاتا ہے ، کبھی ٹرین کے آگے لیٹ جاتا ہے، یہ سب موت کی بھیانکر شکلیں ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خودکشی پر مائل انسانوں کو اچھی موت مہیا کی جاسکتی ہے، انہیں انیستھیسزیا دے کر بے ہوش کرکے پرسکون موت دی جاسکتی ہے۔ خودکشی کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے تو جگہ جگہ سوئی سائیڈ سینٹر کھل جائیں گے جو مناسب دام لے کر انسان کو آسان موت دے سکیں گے، یہ بہت سے انسانوں کے مسائل کا حل ہوگا، بے شمار لوگ ان سوئی سائیڈ سینٹرز کا رخ کریں گے اور بلاوجہ کی زندگی سے نجات پائیں گے۔۔

                  آپ نے میری بات شاید  پڑھی نہیں ..خودکشی کا خیال ایک لمحہ کو ہوتا ہے ..جب اگر وہ لمحہ گزر جائے تو خیال بھی گزر جاتا ہے ..میں اس لمحے کی بات کر رہی ہوں جس میں ننانوے فیصد چانسز ہوتے ہیں کہ وہ خود کشی کر لے گا ….

                  آپ نے بھی مشائدہ کیا ہو گا کہ انسان جتنی مرضی تکلیفوں سے گزرے ،..جتنا مرضی بیمار ہو ..مرنا پھر بھی نہیں چاہتا ..میں ان انسانوں کی بات کر رہی ہوں جو سوئ سائ ڈل نہں ہوتے ..کسی حادثے سے بچ نکلیں تو اس بات پر غمگین نہیں ہوتے کہ کیوں بچ نکلے ..بلکہ شکر ادا کرتے ہیں کہ جان بچ گئی …

                  اگر آپ کی تجویز پر عمل کیا جائے تو بہت سے  لوگ تو بے موت مارے جائیں گے ..جو وہ لمحہ گزرنے کے بعد مرنے کے خیال سے بھی نکل جاتے ہیں

                  JMP
                  Participant
                  Offline
                  Thread Starter
                  • Professional
                  #19

                  جے صاحب۔ بہت اچھے موضوع کو آپ نے منتخب کیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حالات، دکھ ، درد مصائب کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنی مرضی اپنی خواہش سے نہیں آئے، بس یونہی ٹپک پڑے ہیں، جیسے یک دم کسی شخص کی صحرا کے بیچوں بیچ آنکھ کھلے اور اسے سمجھ نہ آئے کہ آخر وہ آیا کہاں سے اور جانا کہاں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے ایک دن مرنا ہی مرنا ہے۔ زندگی میں جو چاہے کرلیں، جتنا چاہے انجوائے کرلیں، جتنی مرضی کامیابیاں / شہرت سمیٹ لیں، آخر ہم نے مر ہی جانا ہے۔ جون ایلیا نے کیا خوب کہا کہ ہم حسین ترین، ذہین ترین، امیر ترین اور زندگی میں ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالاخر مر ہی جائیں گے۔۔ موت ایک یقینی حقیقت ہے جو صرف چند سالوں کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ یہ سب حقیقتیں ہماری زندگی کو کس قدر بے وقعت، بے مقصد اور ہیچ بنا دیتی ہیں۔ آخر ہم کیوں جئے جارہے ہیں خواہ مخواہ ، بلاوجہ، کیا صرف اس لئے کہ ہم کسی اتفاق کا نتیجہ ہیں، بس یونہی دنیا کے کسی خطے میں کسی گھر میں وارد ہوگئے اور لگ پڑے جینے، اور جیے جاتے گئے، بلا کسی وجہ کے۔ میں سمجھتا ہوں ہر شخص کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی وقت خود کشی کرسکے، یہ کوئی منفی چیز نہیں، خودکشی کوئی غلط چیز نہیں، یہ انسان کا بنیادی حق ہے جو اسے ابھی تک تفویض نہیں کیا گیا۔ خودکشی کا قانونی حق نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں کہ انسان کو سہل پسند موت میسر نہیں آتی، کبھی وہ پنکھے سے لٹک جاتا ہے، کبھی زہر پی لیتا ہے ، کبھی دریا میں کود جاتا ہے ، کبھی ٹرین کے آگے لیٹ جاتا ہے، یہ سب موت کی بھیانکر شکلیں ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خودکشی پر مائل انسانوں کو اچھی موت مہیا کی جاسکتی ہے، انہیں انیستھیسزیا دے کر بے ہوش کرکے پرسکون موت دی جاسکتی ہے۔ خودکشی کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے تو جگہ جگہ سوئی سائیڈ سینٹر کھل جائیں گے جو مناسب دام لے کر انسان کو آسان موت دے سکیں گے، یہ بہت سے انسانوں کے مسائل کا حل ہوگا، بے شمار لوگ ان سوئی سائیڈ سینٹرز کا رخ کریں گے اور بلاوجہ کی زندگی سے نجات پائیں گے۔۔

                  Zinda Rood sahib

                  محترم

                  کافی عمدہ نکات اٹھاۓ ہیںآپ نے . زندگی کے مقصد یا بے مقصد ہونے پر پہلے بھی کہیں کچھ بات ہوئی تھی اپ سے اور میرے ذہن میں اس موضوع پر بھی گفتگو شروع کرنے کا ارادہ ہے . مرے نزدیک یہ موضوع بہت اہم ہے اور میں آپکے خیالات سے مستفید ہونا چاہوں گا

                  ویسے اگر کسی اتفاق ، حادثے، ہوس ، ارادے، قوت کے تحت دنیا میں وارد ہو ہی گئے ہیں تو کیا بہتر نہیں ہے کے جو قلیل مدت یہاں ہیں اسکو گزار لیں

                  shahidabassi
                  Participant
                  Offline
                  • Expert
                  #20

                  جے صاحب۔ بہت اچھے موضوع کو آپ نے منتخب کیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے حالات، دکھ ، درد مصائب کی وجہ سے خودکشی کرلیتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنی مرضی اپنی خواہش سے نہیں آئے، بس یونہی ٹپک پڑے ہیں، جیسے یک دم کسی شخص کی صحرا کے بیچوں بیچ آنکھ کھلے اور اسے سمجھ نہ آئے کہ آخر وہ آیا کہاں سے اور جانا کہاں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے ایک دن مرنا ہی مرنا ہے۔ زندگی میں جو چاہے کرلیں، جتنا چاہے انجوائے کرلیں، جتنی مرضی کامیابیاں / شہرت سمیٹ لیں، آخر ہم نے مر ہی جانا ہے۔ جون ایلیا نے کیا خوب کہا کہ ہم حسین ترین، ذہین ترین، امیر ترین اور زندگی میں ہر حوالے سے بہترین ہو کر بھی بالاخر مر ہی جائیں گے۔۔ موت ایک یقینی حقیقت ہے جو صرف چند سالوں کے فاصلے پر کھڑی ہے۔ یہ سب حقیقتیں ہماری زندگی کو کس قدر بے وقعت، بے مقصد اور ہیچ بنا دیتی ہیں۔ آخر ہم کیوں جئے جارہے ہیں خواہ مخواہ ، بلاوجہ، کیا صرف اس لئے کہ ہم کسی اتفاق کا نتیجہ ہیں، بس یونہی دنیا کے کسی خطے میں کسی گھر میں وارد ہوگئے اور لگ پڑے جینے، اور جیے جاتے گئے، بلا کسی وجہ کے۔ میں سمجھتا ہوں ہر شخص کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ کسی بھی وقت خود کشی کرسکے، یہ کوئی منفی چیز نہیں، خودکشی کوئی غلط چیز نہیں، یہ انسان کا بنیادی حق ہے جو اسے ابھی تک تفویض نہیں کیا گیا۔ خودکشی کا قانونی حق نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے ہیں کہ انسان کو سہل پسند موت میسر نہیں آتی، کبھی وہ پنکھے سے لٹک جاتا ہے، کبھی زہر پی لیتا ہے ، کبھی دریا میں کود جاتا ہے ، کبھی ٹرین کے آگے لیٹ جاتا ہے، یہ سب موت کی بھیانکر شکلیں ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں خودکشی پر مائل انسانوں کو اچھی موت مہیا کی جاسکتی ہے، انہیں انیستھیسزیا دے کر بے ہوش کرکے پرسکون موت دی جاسکتی ہے۔ خودکشی کو قانونی تحفظ حاصل ہوجائے تو جگہ جگہ سوئی سائیڈ سینٹر کھل جائیں گے جو مناسب دام لے کر انسان کو آسان موت دے سکیں گے، یہ بہت سے انسانوں کے مسائل کا حل ہوگا، بے شمار لوگ ان سوئی سائیڈ سینٹرز کا رخ کریں گے اور بلاوجہ کی زندگی سے نجات پائیں گے۔۔

                  خودکشی ایک سچوئشنل مسئلہ ہے۔ وہی شخص جو خود کشی پر آمادہ ہو کچھ ہی عرصے بعد زندگی کی خوشیاں سمیٹ رہا ہوتا ہے۔ اوپر عاطف صاحب کی پوسٹ اس کی مثال ہے۔ ایسے میں خودکشی کی اجازت دے کر اس کی کوئی مدد نہیں کر رہے ہونگے۔

                Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 100 total)

                You must be logged in to reply to this topic.

                ×
                arrow_upward DanishGardi