Home Forums Siasi Discussion جو عوام کے ووٹوں کو بوٹوں کے نیچے روندتا ہے ہم اسے سلام نہیں کرتے، مریم نواز

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2847
    • Total Posts: 7157
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: جو عوام کے ووٹوں کو بوٹوں کے نیچے روندتا ہے ہم اسے سلام نہیں کرتے، مریم نواز

    گیارہ جماعتی حکومت مخالف اتحاد، پی ڈی ایم کاجلسہ کراچی کے جناح باغ میں جاری ہے اور اب سے کچھ دیر قبل اپنے خطاب میں مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم حلف کی پاسداری کرنے والے فوجیوں کو سلام کرتے ہیں لیکن جو عوام کے ووٹوں کو بوٹوں کے نیچے روندتا ہے اسے سلام نہیں کرتے۔
    اب تک اس جلسے سے پی ٹی ایم کے محسن داوڑ، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل سمیت دیگر سیاسی رہنما خطاب کر چکے ہیں۔
    پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے گذشتہ روز کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تو ایک ہی جلسہ ہوا اور تم گھبرانا شروع ہو گئے بلکہ اپنے ہوش و ہواس بھی کھو بیٹھے ہو۔
    انھوں نے وزیراعظم کے نام پیغام میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ دباؤ میں ہیں لیکن اگر نہیں جانتے کہ دباؤ اور پریشر میں وقار کیسے برقرار رکھا جاتا ہے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر لیتے۔
    مریم نواز نے کہا کہ فوج ہماری ہے، ہم سب کی ہے۔ لیکن نواز شریف نے یہ ضرور کیا کہ انھوں نے کرداروں اور اداروں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔
    انھوں نے کہا کہ ہم نے شہدا، اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں کو جن کی وردیوں پر خون کے دھبے ہیں انھیں دونوں ہاتھوں سے سلام کیا۔ جھنوں نے اپنے بیٹے قربان کیے ہیں انھیں نواز شریف مریم اور پی ڈی ایم سلام پیش کرتے ہیں۔
    لیکن جو عوام کے ووٹوں کو بوٹوں کے نیچے روندتا ہے ہم اسے سلام نہیں کرتے۔
    مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ ’سیاست میں دخل اندازی مت کرو تو کیا وہ غلط کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کی عزت کرو۔ کیا وہ غلط کہتے ہیں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ حلف کی پاسداری کرو تو اس میں کیا غلط کہتا ہے۔
    مریم نواز نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے ایئرپورٹ سے مزار قائد اور پھر جناح باغ تک کیے جانے والے استقبال پر شکریہ ادا کیا۔
    انھوں نے کہا کہ ’مجھے آج لاہور اور کراچی کی سڑکوں میں کوئی فرق نہیں دکھائی دیا۔ میں پیپلز پارٹی کی حکومت اور مراد علی شاہ کو جس طرح انھوں نے کورونا میں خدمات سرانجام دیں میں انھیں خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔
    مریم نواز سے وزیراعظم کی جانب سے خود کو ’نانی‘ کہنے پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ وہ ایک نہیں دو بچوں کی نانی ہیں اور یہ ایک بہت مقدس اور خوبصورت رشتہ ہے۔ ’آپ نے میری نہیں اس مقدس رشتے کی تذلیل کی ہے۔
    انھوں نے کہا کہ ’بلاول آؤ مل کر یہ وعدہ کریں کہ مخالفت میں اتنے آگے نہیں جائیں گے جتنے عمران خان اور ان کے ترجمان گئے ہیں ۔۔۔۔ ہم ایک دوسرے کی عزت کریں گے۔
    مریم نواز نے عوام سے سوال کیا کہ کیا وعدے کے مطابق پچاس لاکھ گھر بنے۔ انھوں نے کہا کہ کیا نوکریاں روز گار کے مواقع پیدا ہوئے۔ ’کراچی کے بھائیوں کیا ایک اینٹ بھی لگائی ہے ان ایم این ایز نے۔۔۔
    انھوں نے کہا کہ تم کہتے ہیں تم غدار ہو۔ یہ جواب ہے عوام کے سوالوں کا۔ بابائے قوم یہ جن کا مزار ہے۔ فاطمہ جناح جو ان کی بہن تھیں۔ یہ غداری کے جو سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہو یہ تب سے چلے آ رہے ہیں۔
    انھوں نے کہا کہ ’چار سال سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا۔ کتنی دیر میڈیا کو دبا لو گے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے آغاز پر سانحہ کارساز کا ذکر کیا اور جانیں کھونے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنی والدہ بے نظیر کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنی ذات اور اپنی بہادری میں بے نظیر تھیں۔ نہ وہ ڈریں اور نہ انھوں نے عوام کا ساتھ چھوڑا۔
    ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اس غم کو اپنی طاقت میں بدلنا ہے جس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو نے ذولفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کو طاقت میں بدلا۔
    انھوں نے کہا کہ میں ’عوام کے درمیان رہوں گا مجھے دھماکوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔۔۔۔
    ہم پر شہدائے جمہوریت کا قرض ہے اور وہ قرض ہم نے ادا کرنا ہے ۔۔۔ مجھے انقلاب کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔
    انھوں نے کہا کہ ہم تاریخ کے اہم موڑ پر ہیں۔ جو فیصلے پاکستان کے عوام کریں گے وہ مستقبل کی سمیت متیعن کریں گے۔ یہ جنگ تمام جمہوری طاقتوں نے لڑنی ہے۔‘
    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایک ایک کر کے وہ تمام ادارے کھوکھلے کیے جا رہے ہیں جو عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔
    عدالیہ پر دباؤ ہے، میڈیا پر تالا ہے اور پارلیمان میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمیں آج جمہوریت کے فلسفے پر بات کرنی ہے۔ جمہوریت کو سمجھنا ہے۔ جب بھی جمہوریت پر شب خون مارا جاتا ہے تو ملک کا ہر شہری اس کی زد میں آتا ہے۔
    انھوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال غیر محفوظ ہوتی ہے ۔۔۔ آزادیوں کا ضامن جمہوری نظام ہے۔ ہمارے پاس یہ نظام 1973 کے آئین کی صورت میں موجود ہے۔ آئین ریاست اور عوام کے درمیان ایک راستہ ہے۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ جب جمہوریت نہ ہو تو فیصلے عوام کی منشا سے نہیں چند لوگوں کے ہوتے ہیں۔ بلاول زرداری نے نظام حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ صوبوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔
    وزیراعظم کو نہیں پتا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف غداری کے پرچے ہیں۔ آٹے میں کرپشن، چینی میں کرپشن، پٹرول میں کرپشن، اور مخالفین کے لیے نیب ہے۔
    انھوں نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان اور پختونخوا میں ظلم ہو رہا ہے۔ سندھ کو اس سال این ایف سی ایوارڈ کا حصہ نہیں دیا گیا۔
    بلاول نے اپنی تقریر میں جزائر سے متعلق آرڈیننس پر تنقید کی اور کہا کہ ان جزیروں پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
    انھوں نے کہا کہ ‘یہ جزیرے کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے ہم آپ کو اس کا قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔
    انھوں نے وزیراعظم کی کشمیر پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ کشمیر کو بچانے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن یہ کلبھوشن کے وکیل بن گئے ہیں۔
    انھوں نے کہا کہ یہ لڑائی اب فیصلہ کن ہو گی، ہماری جمہوریت کے ساتھ یہ کھلواڑ اب بند ہونا ہو گا۔ ہم نے ضیا الحق کا تاریک دور دیکھا ہے مشرف کا جبر دیکھا ہے جمہوریت کا دفاع اپنے خون سے کیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر نے جان قربان کی ہے مگر عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم جیل کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔
    انھوں نے کہا کہ گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو شوق پورا کریں مگر یہ یاد رکھیں کہ عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
    ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ صرف سیاسی جماعتوں پی ڈی ایم کی نہیں یہ جنگ وکلا، ڈاکٹرز، مزدوروں، طلبا کی ٹیچرز کی اور سرکاری ملازموں کی اور اس ملک میں رہنے والے ہر طبقے کی ہے۔
    اس وزیراعظم کو جانا پڑے گا، یہ تحریک ظلم کے خلاف ہے۔ یہ تحریک عوام کو حق حکمرانی واپس دلانے کی تحریک ہے۔ اس ملک میں نوجوانوں کو بہتر مستقبل دلانے کی تحریک ہے۔
    بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ ہمیں حقیقی جمہوریت دی جائے۔
    انھوں نے کہا کہ ‘پارلیمان میڈیا اور عوام پر تالے ہیں ہر طرف ظلم ہے، ہم نے جمہوریت کو سمجھنا ہے، یہ اقتدار کی لڑائی نہیں۔
    اپنے خطاب میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اس ملک میں آزاد صرف آئین توڑنے والے ہیں۔
    انھوں نے کہا کہ ’ٹریفک سگنل توڑنے پر جرمانہ ہوتا ہے ملک میں کئی مرتبہ آئین توڑا گیا لیکن کبھی کچھ نہیں ہوا۔
    ایوب، مشرف کو غازی کہا جاتا ہے لیکن جنھوں نے خون دیا اس دھرتی کے لیے انھیں غدار کہا جاتا ہے۔ یہ ملک، اس ملک میں بسنے والی عوام کے لیے بنایا گیا ہے یا کنٹونمنٹ کے لیے بنایا گیا ہے۔‘
    انھوں نے کہا کہ ’ہم ساحل کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے اب سندھ کے جزیروں پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ آپ قبضہ گیر ہیں۔ چاہے ساحل کتنا بھی چھوٹا ہو ہم اس پر قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔
    ان کا کہنا تھا کہ ’گوادر کے ماہی گیر بے روز گاری کے عالم میں ہیں۔ وہ سمندر میں میجر صاحب کی پرچی کے ساتھ جا سکتا ہے۔ ہمارا سمندر، ہمارا ساحل، پرتگالیوں سے لڑ کر ساحل کی حفاظت کی۔ ہماری نسل کشی شروع ہو گئی ہے۔
    انھوں نے کہا کہ بلوچستان اس خطے میں وہ بدبخت علاقہ ہے جہاں آپ کو اجتماعی قبریں ملیں گی۔ یہ وہ علاقہ ہے جس میں کراچی یونیورسٹی کے طلبا کے ایف سی کے اہلکار نے ہاتھ پیر باندھ دیے۔ ماں کے سامنے اسے گولیاں مار دی گئیں۔
    یہ ظلم آپ نے کشمیر اور فلسطین میں سنے ہوں گے لیکن میں آپ کو بلوچستان کے قصے سنا رہا ہوں۔ ہماری ماؤں، بہنوں کو پتا چلتا ہے کہ ہسپتال میں ایک مسخ شدہ لاش لائی گئی ہے وہ جب وہاں پہنچتی ہیں تو تشدد زدہ لاشوں کو کپڑوں سے پہچانتی ہیں۔ یہ ہے اسلامی پاکستان ۔۔۔۔ برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔
    اختر مینگل نے کہا ہم جمہوریت کے حامی ہیں۔ ‘میں اس جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں جس میں مجھے یہ بات پتا ہو کہ میری ماں بہنوں کی عزت محفوظ ہو گی، میرے جوانوں کی مسخ شدہ لاشیں نہیں ملیں گی۔
    جس میں مجھے پتا ہو کہ میرے بزرگوں کی پگڑیاں نہیں اچھالی جائیں گی۔ جمہوریت کے لیے جان مال ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔۔۔
    پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جو بھی آئین کو معطل کرتا ہے وہ سزائے موت کا حقدار ہے۔
    انھوں نے پاکستانی ایجنسیوں کے حوالے سے بات کی اور کہا کہ انھیں ہم سے وعدہ کرنا ہو گا کہ وہ آئین کے دائرے میں رہیں گی۔
    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ہمیں کسی نے خیرات میں نہیں دیا ہم سب اس ملک کے رہنے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم پاکستان کی تشکیل نو چاہتی ہے۔ عوام کی طاقت سے پاکستان میں ووٹ کی عزت بحال کریں۔
    انھوں نے بلوچستان، وزیرستان اور سوات میں حالات کی خرابی کا تذکرہ کیا۔
    وزیرستان میں عوام اور افواج میں گڑ بڑ ہے، سوات میں یہی تماشہ چالو ہے، بلوچستان میں ہر جگہ سے غلط خبریں آ رہی ہیں۔ بات یہ ہے کہ وجہ کیا ہے ایسا کیوں ہے نفرت بے انصافی سے پھیلتی ہے۔ حالات کی خرابی کا تذکرہ کیا۔
    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’آئین بالا دست ہو گا داخلہ اور خارجہ پالسیاں وہاں سے نکلیں گی۔ افواج اور جاسوسی ادارے چاہے سویلین ہوں یا ملٹری ایجنسیاں سیاسی امور میں مداخلت نہیں کریں گی۔
    باغ جناح میں جاری اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا کہ گوجرانوالا جلسے میں تقریر کے دوران سابق وزیراعظم نے جو الزامات عائد کیے ان کی تحقیقات ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
    انھوں نے اپنے خطاب میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آج ہی اعلان کریں کہ سنہ 1947 سے اب تک جو ہوا ہے ہم اس کے لیے ایک ٹروتھ کمیشن بناتے ہیں۔ جو آپ نے الزامات لگائے اس کی بھی تحقیقات کریں جو میاں صاحب نے الزامات لگائے ان کی بھی تحقیقات کریں۔
    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے موجودہ آرمی چیف پر لگے الزامات کی تحقیقات کرنے کی بجائے مزید جرنیلوں کو بھی اس میں شامل کر دیا اور یہ وضاحت نہیں کی کہ جو الزامات لگے ان میں کتنی صداقت ہے۔
    محسن داوڑ نے وزیرستان کے علاقے خڑ قمر میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ ’پتا چلایا جائے کہ کون اس جنگ سے مستفید ہوا۔
    انھوں نے جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ فوج کی جانب سے کامیاب آپریشنز کے دعوے تو کیے گئے لیکن اب ایک مرتبہ پھر سے خیبرپختونخوا میں دہشتگرد منظم ہو رہے ہیں۔
    محسن داوڑ کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ اور جھوٹی ایف آئی آر ہمیں ہمارے نظریات سے نہیں ہٹا سکتی ہے۔
    لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ
    ان کے بعد جلسے سے خطاب میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ ایک بار پھر دہرایا۔
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں بلوچ طلبہ کا کوٹہ ختم کر دیا گیا ہے جس ہر ہمارے نوجوان لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچ طلبہ کے ساتھ یہ ناانصافی باعث شرم ہے۔
    باغِ جناح میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے رہنما اویس نورانی نے کہا کہ آنے والا سال الیکشن کا سال ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اتحاد کا ایجنڈا دراصل ووٹ کا تحفظ ہے۔
    انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے گرین لائن منصوبے کو اس لیے روکا گیا کہ اس پر نوازشریف کی تختی لگی تھی۔
    اس سے قبل مریم نواز بذریعہ ہوائی سفر کراچی پہنچی تھیں جہاں انھوں نے مزار قائد پر حاضری بھی دی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر پارٹی رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔
    مریم نواز نے کراچی کے نجی ہوٹل میں میڈیا ےس مختصر گفتگو میں کہا کہ کراچی میں جس طرح استقبال ہوا وہ یاد رکھوں گی۔ انھوں نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں۔
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم عوام کی صحیح طرح ترجمانی نہیں کر سکے۔
    یاد رہے کہ دو روز قبل متحدہ اپوزیشن کا پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں منعقد ہوا تھا جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو رخصت کرنے اور عمران خان کی حکومت کے لیے جوڑ توڑ کرنے کے الزامات لگائے تھے۔
    ادھر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف علی زرداری سے کراچی پہنچ کر ایک نجی ہسپتال میں ملاقات بھی کی۔
    پی ڈی ایم کے جلسے کے آغاز سے پہلے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔
    دوسری جانب وفاقی حکومت کے وزرا کی جانب سے کراچی جلسے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں گیارہ جماعتی اتحاد پر تنقید کی ہے۔
    وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس میں کراچی میں پی ٹی آئی کے ایک بڑے ووٹ بینک کا ذکر کیا، تاہم انھوں نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی تقاریر کو ایک مرتبہ پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ نواز شریف کی لڑائی اداروں سے ہے جمہوریت کے لیے نہیں۔
    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے مریم نواز کی قائد محمد علی جناح کے مزار پر حاضری کے موقع پر سیاسی نعرے بازی کیے جانے پر تنقید کی۔
    خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی 18 اکتوبر کی تاریخ سے جذباتی وابستگی ہے۔ اس روز 13 سال قبل آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے خاتمے کے بعد پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو واپس وطن آئیں تھیں تو ان کے استقبالیہ جلوس پر خودکش حملہ کیا گیا تھا۔
    اس حملے میں پارٹی کے تقریباً 200 کارکن اور ہمدرد ہلاک اور 500 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔ یہ دن اب پیپلز پارٹی کی تاریخ میں اہمیت حاصل کرچکا ہے۔
    پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اس سے قبل 18 اکتوبر کا جلسہ کوئٹہ میں منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے میزبان پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی تھے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کی اور اپوزیشن قیادت کو کراچی کے جلسے میں شرکت کی دعوت دی جہاں بلاول بھٹو، مریم نواز، مولانا فضل الرحمان خطاب کریں گے۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-54593046

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi