Home Forums Non Siasi جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 35 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    shami11
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 752
    • Posts: 8937
    • Total Posts: 9689
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    Source

    اس کی ماں کی۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں کیسے کام کرتی ہے۔‘
    بات ماں کی گالی کی نہ ہوتی تو شاید اس دن بھی تحریم ان جملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے سٹوڈیو میں جاتیں اور پروگرام ریکارڈ کرواتیں۔ ان کا پانچ سال سے یہی معمول تھا مگر آج جب انھوں نے اپنے کانوں سے یہ گالی سنی تو فیصلہ کیا کہ اب وہ خاموش نہیں بیٹھیں گی۔
    چند ماہ بعد تحریم کراچی کے ایک متمول علاقے میں موجود عدالت کے کمرے کے باہر بیٹھی تھیں۔ اُن کے مقدمے کو کئی مہینے گزر چکے تھے اور ان کے پاس دستاویزات کا ایک پلندہ تھا۔
    ’میڈم آپ کے وکیل آج نہیں آ رہے۔‘ تحریم منیبہ نے حیرت سے دوسری پارٹی کے وکیل کو یہ کہتے سُنا اور اس وقت انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنا مقدمہ خود لڑیں گی۔
    یوں ان کی زندگی کا ایک ایسا کٹھن سفر شروع ہوا جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ’میں آج وہ نہیں رہی جو دو سال پہلے تھی۔ اس مقدمے نے میری زندگی اور میرا کریئر دونوں ہی بدل دیے ہیں۔‘
    ’بھائی کل بارش ہوئی۔ تحریم ٹائٹس پہن کر آئی ہوئی تھی۔ یہاں ٹیرس پر کھڑے ہو کر چائے پی رہی تھی۔ میں بھی یہیں کھڑا تھا۔ بلال مجھے ڈھونڈتا ہوا آیا۔ وہ آواز لگانے لگا۔ میں نے اسے اشارہ کیا ’چپ کر، اِدھر آ۔۔۔ وہ خاموش ہو گیا، میرے پاس آیا۔ پھر ہم دونوں نے مل کر چائے کے ساتھ جو مزے لیے۔ بھائی وائٹ کلر کی ٹائٹس اور یہاں بالکونی میں تیز ہوا چل رہی تھی۔ اب تو خود سوچ لے، کیا کیا نظر آ رہا ہو گا۔‘
    یہ الفاظ تحریم کے ساتھ دفتر میں کام کرنے والے عدیل نامی شخص کے تھے جو عدالت میں اس مقدمے کے واحد گواہ دانش نے بیان کیے ہیں۔ دانش نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ دفتر کے ایک ساتھی اور سپروائزر ایاز ابڑو نے دفتری ماحول خواتین کے لیے نہایت مشکل بنا دیا تھا۔

    خود تحریم کے عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق ایک دن جب وہ سٹوڈیو جا رہی تھیں تو ان کے ایک ساتھی ان کے پیچھے چل رہے تھے، جس پر ایاز ابڑو نے بلند آواز میں کہا ’او بھائی، تو اِدھر آ جا۔۔۔ تجھے چُوس لے گی۔‘
    تحریم نے مڑ کر انھیں دیکھا، سر جھکایا اور اپنے کام میں مگن ہو گئیں۔
    ایک دن جب وہ دفتر میں کوریڈور سے گزر رہی تھیں، ملزمان میں شامل زنیر شاہ نے انھیں دیکھا اور کہا: ’تربوز کا موسم تو نہیں آیا ابھی، لیکن آفس میں کیوں نظر آ رہے ہیں؟‘
    تحریم نے یہ الفاظ سنے اور سوچا کہ ان جملوں کا جواب دینے کی بجائے کام پر توجہ دینا زیادہ مناسب ہے اور وہ خاموشی سے کوریڈور سے گزر گئیں۔ مگر یہ سلسلہ نہ رکنا تھا اور نہ ہی رکا۔
    ان کی سوچ کا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب انھیں عدالت کے ایک اہلکار نے آئندہ سماعت کی تاریخ بتائی۔
    کمرہ عدالت کے باہر اب بھی چہل پہل تھی۔ کئی خواتین آتی ہیں، ہاتھوں میں فائلیں تھامے وہ اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں۔ یہاں آنے والی خواتین کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے۔ کچھ خواتین اپنے وکیل کے ہمراہ ہوتی ہیں اور کچھ خود ہی اپنا مقدمہ لڑنے آ جاتی ہیں۔
    ایسے میں انتظار گاہ میں وہ ملزمان بھی موجود ہوتے تھے جن پر ان خواتین نے ہراساں کرنے کے الزامات لگائے ہوں۔ تحریم نے ان چند مہینوں میں یہ مشاہدہ کیا تھا کہ ہراسانی کے مقدمات میں ملزمان تنہا نہیں ہوتے، عام طور پر ان کے ساتھ ایک مجمع ہوتا ہے۔ یہ ان کے ساتھی ہوتے ہیں، ان کے وکلا اور ان کے دوست بھی ساتھ آتے ہیں۔ ادارے کے دیگر اہم عہدیدار بھی آتے ہیں۔
    یہ سب شکایت درج کرانے والی خاتون کے لیے اعصابی تناؤ کا سبب تو بنتا ہی ہے مگر اس کمرۂ عدالت تک آنے والی خواتین پہلے ہی بہت کچھ سہہ کر آتی ہیں۔
    ’میں خود بھی تو انھی میں سے ایک ہوں۔‘ یہ سوچتے ہوئے تحریم نے ثبوتوں کی فائل کو مضبوطی سے تھاما اور گھر کے لیے روانہ ہو گئیں۔
    عدالت کی سیڑھیاں اترتے ہوئے بھی ہراسانی ہی کے کسی مقدمے میں فریق ایک مرد کے ساتھ ہجوم سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ ’شاید جج صاحب کے پاس اگلا نمبر ان کا ہے۔ مردوں کی اکثریت عام طور پر ہجوم میں ہی کیوں ہراساں کرتی ہے، کیا سب کی سوچ ایک سی ہے؟‘
    خود سے یہ سوال کرتے ہی انھیں وہ دن یاد آیا جب دفتر میں ان کے دو ساتھی عدیل اور نعمان بٹ کوریڈور میں کھڑے تھے جہاں انھوں نے تحریم کو روک کر کہا ’یہ خواتین کے مزاج کے مسائل کیوں ہوتے ہیں؟‘ تحریم نے انھیں جواب دیا، ’میں نہیں جانتی لیکن مجھے یہ علم ہے کہ خواتین بہتر مزاج رکھتی ہیں۔‘

    اس پر نعمان بٹ نے جواب دیا ’جنت تو عورت کے قدموں کے نیچے نہیں بلکہ۔۔۔ بیچ میں ہوتی ہے۔‘ جب نعمان بٹ یہ جملہ کہہ رہے تھے تو ان کے ساتھ کھڑے ساتھی نے اسے مکمل کرنے میں مدد دی۔
    تحریم کا سر شرم سے جھک گیا، وہ بنا کچھ کہے تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے چلی گئیں مگر ان دونوں کا بلند قہقہہ دیر تک انھیں سنائی دیتا رہا۔
    اسی طرح ایک روز جب تحریم ایک ٹی وی انٹرویو کے بعد دفتر پہنچیں تو ملزم زنیر شاہ نے انھیں دیکھ کر ذومعنی انداز میں کہا، ’آپ کیا چاہتی ہیں ہم آج گھر نہ جائیں؟‘
    یہ گذشتہ پانچ برس کے دوران تحریم کے ساتھ پیش آنے والے درجنوں واقعات میں سے چند ایک ہیں اور انھیں مقدمے کی فائل میں درج کرنا بھی آسان نہیں تھا۔
    یہ ان کے لیے اس قدر مشکل تھا کہ ان کے مقدمے کے گواہ سے جب انھوں نے درخواست کی کہ وہ کچھ واقعات شیئر کریں تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی کہ وہ سب کچھ لکھ کر عدالت میں تو جمع کروا سکتے ہیں مگر ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ الفاظ اپنی زبان پر لا سکیں۔
    جو واقعہ یہ مقدمہ لڑنے کی وجہ بنا وہ اگست 2018 کا ہے جب پروگرام کی ریکارڈنگ سے قبل ان کے سٹوڈیو میں بدبودار جوتے رکھے گئے۔ جب انھوں نے اس بارے میں متعلقہ عملے سے سوال پوچھے تو کسی نے جواب نہ دیا تاہم انھوں نے اس وقت ان کی بات سن لی جب وہ سٹوڈیو کے دروازے کے قریب تھیں۔
    ان میں سے ایک کہہ رہا تھا ’اس کی ماں کی۔۔۔ تُو دیکھ میں کرتا کیا ہوں اِس کے ساتھ۔۔۔ ہے کیا یہ۔۔۔ ابھی ای میل کرتا ہوں، شو (پروگرام) کرتی ہے نا یہ؟ اِس کی اوقات کیا ہے؟ اس کی ماں کی۔۔۔ تین گھنٹے کا شو ہے نا؟‘
    تحریم نے اس واقعے کے بعد دفتر میں ہی شکایت درج کرائی مگر واقعے میں ملوث تمام افراد کو کلین چٹ دے دی گئی۔ ثبوت مٹانے کے لیے اس دن کی سٹوڈیو کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ڈیلیٹ کر دی گئی تھی۔
    تحریم کے ادارے نے ماضی میں ان پر نازیبا جملے کسنے کے معاملے کو اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ خاتون نے اس سے پہلے کبھی شکایت نہیں کی اور نہ ہی ان کے پاس ثبوت ہیں جبکہ جن پر نازیبا جملے کسنے کا الزام ہے ان کے ساتھی کارکنوں نے ایسے کسی رویے کی تردید کی ہے۔

    ان کے دفتر نے یہ بھی کہا کہ ’گالی دینا ہراساں کرنے کے مترادف ہی نہیں ہے۔‘
    اس واقعے کے بعد تحریم کو احساس ہوا کہ وہ اب اس ماحول میں مزید کام نہیں کر سکتی ہیں۔ لہٰذا انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس استعفے اور ادارے میں خواتین کے لیے سازگار ماحول نہ ہونے سے متعلق ٹویٹ بھی کی۔
    ان کی ٹویٹ کو بنیاد بنا کر دفتر کے حکام نے ٹھیک دو روز بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا اور انھیں 50 کروڑ روپے کا ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔ یہ مقدمہ تادمِ تحریر سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
    تحریم کہتی ہیں ’یہ بہت بڑا امتحان تھا۔ میں ایک مہینہ اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلی۔ میں نفسیاتی مریض بن گئی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر میں نے کیا کیا ہے۔ میں سوچتی تھی کہ میں اتنی بڑی رقم کیسے دوں گی اور یہ کہ میں اس قدر مضبوط گروپ کا مقابلہ کیسے کروں گی۔‘
    انھیں لگنے لگا کہ ان کی زندگی اور ان کا کریئر سب ختم ہو گیا ہے مگر ایک ماہ بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہراساں کیے جانے کے خلاف مقدمہ دائر کریں گی اور ان تمام افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لائیں گی جو ان کی اس قدر تذلیل کرتے رہے کہ وہ نفسیاتی مریض بن رہی تھیں۔
    انھوں نے سما ایف ایم نامی نجی ریڈیو ادارے میں کام کرنے والے سات افراد محمد شعیب، محمد نوید، نعمان بٹ، عدیل اختر، رضوان چودھری، ایاز ابڑو اور زنیر شاہ کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ درج کروا دیا اور اس میں سما ایف ایم کے چیف آپریٹنگ افسر کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
    واضح رہے کہ سما ایف ایم کے چیف آپریٹنگ آفیسر فہد ہارون اس وقت وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے اطلاعات تعینات ہیں۔ وہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے رکن بھی ہیں۔ ان پر جنسی ہراسانی میں ملوث ہونے کا ذاتی طور پر الزام نہیں ہے لیکن وہ اس مقدمے میں کمپنی کے نمائندے اور اہم گواہ کے طور پر پیش بھی ہوئے اور جرح کا سامنا بھی کیا۔
    یہ شکایت کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف ایکٹ 2010 کے تحت صوبائی محتسب کی عدالت میں درج کی گئی اور یوں دو سال کا ایک کٹھن سفر شروع ہوا۔
    ’چکنی لگ رہی ہو‘، ’آج تو غالب کا پاجامہ پہن کے آئی ہو‘، ’آج تو کالج کی بچی لگ رہی ہو‘، ’ارے دیکھو، جیکولن فرنینڈس کو، یہ فرنینڈس جیسی لگتی ہے نا‘، ’ارے یہ تو وہی پاجامہ ہے نا جو تم نے پرسوں پہنا تھا؟‘

    اس سفر کے دوران انھیں کئی بار یہ سب اور بہت کچھ کمرۂ عدالت میں دہرانا پڑا۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا مگر بالآخر اس سفر نے ختم ہونا تھا۔
    تین ماہ میں مکمل ہونے والے مقدمے نے وکلا کی بار بار عدم حاضری کے باعث اس قدر طول پکڑا کہ آخرکار انھیں مقدمہ خود اپنے ہاتھ میں لینا پڑا۔
    تحریم کے لیے اس مقدمے کی سماعتوں کے دوران ایک مشکل دن وہ تھا جب انھیں علم ہوا کہ انھی کے دفتر کی دو خواتین ان کے خلاف گواہی دیں گی۔
    ان میں سے ایک ثنا فاطمہ نے عدالت کو ملزمان کے حوالے سے بتایا کہ وہ ’میرے ساتھ نہایت عزت و احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں اور کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا‘ اور یہ کہ انھوں نے ’دو مختلف مواقع پر شکایت کنندہ (تحریم) کو ملزمان کے ساتھ دیکھا اور انھیں قطعاً ایسا نہیں لگا کہ ان میں عزت و احترام کا تعلق نہیں ہے۔‘
    جب وہ یہ بیان دے رہی تھیں تحریم کو انگریزی فلم ’اینیمی آف دی سٹیٹ‘ یاد آئی جس میں مرکزی کردار کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے شکوک و شبہات پیدا کیے گئے تھے۔
    تاہم وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ ہراسانی کے کسی بھی مقدمے میں شکایت کنندہ کی کردار کشی ایک عام سی بات ہے اور ہراساں کرنے والے شخص کے کردار کی گواہی دینے والے ساتھیوں کا سامنے آنا بھی ہرگز غیر معمولی نہیں۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ عدالت بھی ایسے ہتھکنڈوں کو سمجھتی ہے اور عام طور پر جھوٹی گواہیاں اور کردار کشی جرح کے وقت خاک میں مل جاتی ہیں۔
    انھیں اپنی ساتھی خواتین کے بیانات پر افسوس تو تھا مگر یہ تسلی تھی کہ عدالت میں یہ قابلِ قبول نہیں ہوں گی اور ایسا ہی ہوا۔
    عدالت میں جرح کے دوران ان خواتین گواہان نے تسلیم کیا کہ انھوں نے جس گواہی کی دستاویز پر دستخط کیے وہ انھوں نے خود نہیں لکھی تھی بلکہ دفتر کی جانب سے ان کے گھر دستخط کے لیے بھیجی گئی تھی۔ یوں عدالت نے ان کی گواہی کو رد کر دیا۔
    ملزمان کی جانب سے سماعت کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ گالی دینا یا جملے کسنا جنسی ہراس کے زمرے میں نہیں آتا اور یہ بھی کہ تحریم اس سے قبل ایسے تمام واقعات پر خاموش رہی ہیں اور کبھی شکایت درج نہیں کرائی، اس لیے یہ کیس خارج کیا جائے۔

    تاہم ملزمان اپنی صفائی میں نہ تو کوئی ٹھوس ثبوت اور نہ ہی ایسے دلائل پیش کر کے جس سے ان کی بے گناہی ثابت ہو سکے۔ ان کی گواہیاں عدالت نے رد کر دیں، جبکہ ایک ملزم کی مختلف مواقع پر غلط بیانی بھی سامنے لائی گئی۔
    سی سی ٹی وی کیمرے کے حوالے سے عدالت میں ادارے کے سی او او فہد ہارون نے بیان حلفی میں سی سی ٹی وی کیمرے کی موجودگی سے ہی انکار کر دیا تھا، تاہم جرح کے دوران انھوں نے اعتراف کیا کہ ان کا بیان غلط تھا کیونکہ سٹوڈیو میں کیمرہ موجود ہے۔
    انتظامیہ کے سربراہ علی احترام نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے واقعے کی صبح سٹوڈیو میں نصب کیمرے چیک کیے تھے جو بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے تاہم یہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا جب انھوں نے یہ دیکھا کہ واقعے کے دن سمیت نو دن کی فوٹیج غائب ہے۔
    علی احترام نے تردید کی کہ انھوں نے شکایت کنندہ کو واقعے کے چند روز بعد فون پر یہ بتایا تھا کہ پاس ورڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر دی گئی ہے تاہم تحریم کی جانب سے فون کالز کی ریکارڈنگ بطور ثبوت پیش کیے جانے کے بعد انھوں نے ان تمام الزامات کو تسلیم کر لیا۔
    عدالت میں دیگر تمام ملزمان نے بھی بالآخر اعترافِ جرم کیا۔
    مقدمے کے فیصلے کی دستاویز میں دیگر اہم نکات میں سے ایک اہم وضاحت کی گئی ہے کہ ہراسانی کا مقدمہ دائر کرنے میں تاخیر کو وجہ بنا کر کسی کو ہراساں کرنے والے شحص کو بری نہیں کیا جا سکتا۔
    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’مظلوم کی خاموشی اُسے اس کے حق سے دستبردار کرتی ہے نہ ہی مجرم کو اس کے جرم سے آزاد کر سکتی ہے اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم کے اس حق کا تحفظ یقینی بنائے۔‘
    عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ تحریم کو ناسازگار ماحول میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کے ان ذہنی صحت اور شخصیت ہر سنجیدہ اثرات مرتب ہوئے۔
    عدالت نے ملزمان کی جانب سے استعمال کیے تمام الفاظ اور جملوں کو متعصبانہ، غیر اخلاقی، گالی اور جنسی بنیادوں پر ادا کیے گئے جملے قرار دیا۔

    عدالت نے کہا کہ ان جملوں نے شکایت کنندہ کی عزت نفس اور ان کے وقار کو مجروح کیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ الزامات مکمل طور پر سچ نہ ہوں تو کسی بھی خوددار اور عزت دار خاتون کے یہ تصور بھی محال ہے کہ وہ اپنی ذات سے جڑے ایسے جملے عدالت کے سامنے دہرائے۔
    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ خواتین کے خلاف معاشرے میں موجود تعصب انھیں مقدمہ درج کرنے سے روکتا ہے، یہ تعصب کہ خاتون خود اپنے رویے، لباس، حتیٰ کہ محض اپنی موجودگی سے ہی ہراساں کیے جانے کی دعوت دیتی ہے۔ اس لیے خواتین خاموشی اختیار کرتی ہیں کہ کہیں ان کی عزت، نوکری اور مستقبل ہی داؤ پر نہ لگ جائیں۔
    دو سال بعد بالآخر تحریم کا مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے ان کا موقف تسلیم کرتے ہوئے تمام ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
    تحریم چاہتی تھیں کہ جب یہ تھکا دینے والی جنگ ختم ہو تو ان کے پاس ان کے اپنے موجود ہوں، اس لیے وہ فیصلہ سننے کے لیے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عدالت آئی تھیں۔ فیصلہ سنتے وقت ان کی انکھوں میں آنسو تھے اور وہ سوچ رہی ہیں کہ ان دو برس نے ان کی زندگی کیسے بدل دی۔
    تحریم اب بے روزگار ہیں لیکن فی الحال ان کی زندگی میں عدالت کے چکر ختم نہیں ہوئے کیونکہ اب وہ سندھ ہائی کورٹ میں ہتک عزت کے اس مقدمے کی سماعت میں دلائل کی تیاری کر رہی ہیں جو سما ایف ایم نے ان کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔

    #2
    Talat
    Blocked
    Offline
    • Threads: 0
    • Posts: 5
    • Total Posts: 5
    • Join Date:
      3 Aug, 2020
    • Location: Oslo

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    جن لوگوں نے اپنے قصور کا اعتراف کیا -ان کو کوئی سزا ملی؟

    #3
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 0
    • Posts: 5390
    • Total Posts: 5390
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    تحریم نے مقدمہ تو شاید جیت لیا ۔۔۔۔ لیکن آ ئیندہ اس کو جاب کوئی نہیں  دے گا ۔۔۔۔۔

    گھر بیٹھے گی یا شوھر پر مقد مے کرے گی ۔۔۔۔۔

    تحریم کو اگر ۔۔ ادارے میں لوگ آوازیں کس رھے تھے ۔۔۔۔ اس کا بہترین حل یہ تھا ۔۔۔۔۔ وہ ان کو منہ توڑ جواب دیتی ۔۔۔

    لاہور سٹیج کی عورتیں جب کسی مرد کو گالی دیتی ہیں ۔۔۔ وہ مرد چار پا نچ دن دوستوں تک کو منہ دکھا نے کے قابل نہیں رھتا ۔۔۔۔

    تحریم جیسی عورتوں کو چاھیے ۔۔۔۔ عدالت کے جج کے پا س جا نے کے بجائے ۔۔۔۔ لاہور سٹیج کی کسی عورت سے ۔۔۔۔ ایک دن کا کورس سیکھ لیتی ۔۔۔

    کہ ۔۔۔ آوازیں کسنے والوں کی بولتی بند کیسے کی جا تی ہے ۔۔۔۔ یہ کام عدالتوں کا نہیں ۔۔۔۔ جن کا ہے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا ۔۔۔۔۔

    یا پھر بھری سڑک پر ایک دفعہ ان کےمتھے لگ جا تی ۔۔۔ پبلک سے ان لوگوں کو اتنی کٹ پڑتی کہ ۔۔۔ دما غ ٹھکا نے لگ جاتا ۔۔۔

    عدالتی حکم وہ بھی پا کستان میں ۔۔۔۔ کوئی حا ل نہیں سالوں ۔۔۔ بندہ خوار ہو پھر ۔۔۔۔۔جعلی قسم کا فیصلہ آجا تا ہے ۔۔۔۔

    تحریم کو چاھیے تھا ۔۔۔۔ اپنے اندر ھمت پیدا کرتی اور ۔۔۔۔ ان مردوں کے ڈائریکٹ متھے لگ  جاتی ۔۔۔ وہ زیادہ مزے دار ہوتا ۔۔۔

    اور فوری رزلٹ بھی مل جاتا ۔۔۔۔۔۔

    میرا خیال بہترین حل یہ تھا کہ ۔۔۔۔ سڑک پر سرعام ان مردوں کے متھے لگ کر ۔۔۔ پبلک سے پٹوائی کروادیتی

    اور خود بھی ایک آدھی چماٹ دھر دیتی ۔۔۔۔

    تحریم کو معلوم نہیں ۔۔۔۔ عدالتیں کچہریاں ۔۔۔۔  ان کا مو ں پر معمور نہیں  ہوتیں ۔۔۔۔ جو آئین میں لکھے ہیں وہ کچھ اور کررھی ہوتی ہیں ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    میرے زاتی خیال کے مطا بق ۔۔۔   اگر کبھی  کسی دوسری دنیا کے لوگ جب ھماری دنیا کا تجزیہ  کریں گے تو ۔۔۔ اس دنیا کا ایک بڑا  .سعکیم  ۔۔۔   اور ۔۔۔ ناسور ۔۔۔ آج کی عدا لتوں کو ۔۔۔ گردانہ جا ئے گا ۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 11 months, 3 weeks ago by Guilty.
    #4
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 935
    • Total Posts: 954
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    جن لوگوں نے اپنے قصور کا اعتراف کیا -ان کو کوئی سزا ملی؟

    اس حرامی نسل عدالت نے ان کے اس طرح ھراس کرنے کی قیمت صرف ایک لاکھ روپے مقرر کی حالانکہ میرےے نزدیک ، انکے خصوں سے جڑے بالوں کی رسی بنا کر ان کی گردن میں ڈال دینی چاہیے تھی اور اس حالت میں انہیں صبح اور شام دفتر میں حاضری لگوانی چاہیے تھی ۔ یہ حرام النسل وہ ہیں جو اپنی ماں اور بہن کو بھی اسی ذھنیت سے دیکھتے ہیں ۔

    #5
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 682
    • Posts: 12404
    • Total Posts: 13086
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    تحریم نے مقدمہ تو شاید جیت لیا ۔۔۔۔ لیکن آ ئیندہ اس کو جاب کوئی نہیں دے گا ۔۔۔۔۔ گھر بیٹھے گی یا شوھر پر مقد مے کرے گی ۔۔۔۔۔ تحریم کو اگر ۔۔ ادارے میں لوگ آوازیں کس رھے تھے ۔۔۔۔ اس کا بہترین حل یہ تھا ۔۔۔۔۔ وہ ان کو منہ توڑ جواب دیتی ۔۔۔ لاہور سٹیج کی عورتیں جب کسی مرد کو گالی دیتی ہیں ۔۔۔ وہ مرد چار پا نچ دن دوستوں تک کو منہ دکھا نے کے قابل نہیں رھتا ۔۔۔۔ تحریم جیسی عورتوں کو چاھیے ۔۔۔۔ عدالت کے جج کے پا س جا نے کے بجائے ۔۔۔۔ لاہور سٹیج کی کسی عورت سے ۔۔۔۔ ایک دن کا کورس سیکھ لیتی ۔۔۔ کہ ۔۔۔ آوازیں کسنے والوں کی بولتی بند کیسے کی جا تی ہے ۔۔۔۔ یہ کام عدالتوں کا نہیں ۔۔۔۔ جن کا ہے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا ۔۔۔۔۔ یا پھر بھری سڑک پر ایک دفعہ ان کےمتھے لگ جا تی ۔۔۔ پبلک سے ان لوگوں کو اتنی کٹ پڑتی کہ ۔۔۔ دما غ ٹھکا نے لگ جاتا ۔۔۔ عدالتی حکم وہ بھی پا کستان میں ۔۔۔۔ کوئی حا ل نہیں سالوں ۔۔۔ بندہ خوار ہو پھر ۔۔۔۔۔جعلی قسم کا فیصلہ آجا تا ہے ۔۔۔۔ تحریم کو چاھیے تھا ۔۔۔۔ اپنے اندر ھمت پیدا کرتی اور ۔۔۔۔ ان مردوں کے ڈائریکٹ متھے لگ جاتی ۔۔۔ وہ زیادہ مزے دار ہوتا ۔۔۔ اور فوری رزلٹ بھی مل جاتا ۔۔۔۔۔۔ میرا خیال بہترین حل یہ تھا کہ ۔۔۔۔ سڑک پر سرعام ان مردوں کے متھے لگ کر ۔۔۔ پبلک سے پٹوائی کروادیتی اور خود بھی ایک آدھی چماٹ دھر دیتی ۔۔۔۔ تحریم کو معلوم نہیں ۔۔۔۔ عدالتیں کچہریاں ۔۔۔۔ ان کا مو ں پر معمور نہیں ہوتیں ۔۔۔۔ جو آئین میں لکھے ہیں وہ کچھ اور کررھی ہوتی ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ میرے زاتی خیال کے مطا بق ۔۔۔ اگر کبھی کسی دوسری دنیا کے لوگ جب ھماری دنیا کا تجزیہ کریں گے تو ۔۔۔ اس دنیا کا ایک بڑا .سعکیم ۔۔۔ اور ۔۔۔ ناسور ۔۔۔ آج کی عدا لتوں کو ۔۔۔ گردانہ جا ئے گا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گلٹی بھائی ۔۔

    ساری زندگی ہم نے بھی لڑکیوں کے ساتھ کام کیا ہے ہنسی مذاق بھی چلتا رہتا ہے ۔۔۔لیکن یہ تو دنیا کے وکھری قسم کے شودے کیمنے تھے ۔۔۔۔پتہ نہیں لوگوں کو یہ گمان کیوں یوتا ہے کہہ جملے کسنے سے آپ ایک لڑکی کے قریب ہوجاتے ہیں ۔۔ ۔اور مجھے لگ رہا ہے یہ خود بھی کوئی آفت کی  پرکالہ قسم کی خاتون ہیں ۔۔اس لیے سارے شیطان اس کے پیچھے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کی بات درست ہے پہلے دن ہی اگر اس کی طرف سے سخت جواب آتا تو اج حالات مختلف ہوتے۔ ۔۔فقرے سن کر خاموشی سے نکل جانے اس کی کمزوری سمجھ لیا گیا تھا اور اس قسم کی بزدلی کا نتجہ کچھ ایسے ہی نکلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔اب اس کو کسی افس میں نوکری بڑی مشکل سے ملے گی کیونکہ ان کو ڈر رے گا کہہ شائید ہم بھی ایک دن رگڑے جائیں گے ۔۔۔اگر یہ سیانی ہوتی ۔۔چپ کرکے استفہ دے کر گھر چلی جاتی اور آرام سے کسی اور جگہ نوکری ڈھونڈ لیتی۔  ۔۔۔۔

    اب کھایا پیا کچھ نہیں ۔گلاس توڑا ۔بارا آنے ۔۔۔۔والا حساب ہوگیا ہے اس کے ساتھ ۔۔

    #6
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1032
    • Total Posts: 1086
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘مذہبی افراد وملایادرکھیں کہ کہ جنسی استحصال اور ہراسانی کا تعلق لباس، جسم ڈھانپنے یا مخلوط اجتماعات سے نہیں بلکہ اس کی عمومی وجوہ نفسیاتی بیماریاں، جنسی گھٹن اور پدرسری روایات ہیں… جب تک یہ جنسی گھٹن ختم نہیں ہو گی ایک صحت مند معاشرہ پیدا نہیں ہو سکتا اور ایسے جنسی ہراسگی کے واقعہ ہوتے راہیں گے

    پاکستان میں جنسی گھٹن کا یہ عالم ہے ایک کالج سٹوڈنٹ کے لیے کونڈوم خریدنا تو دور کی بات شادی شدہ لوگ بھی میڈیکل اسٹور سے کونڈوم لیتے ہوے شرماتے ہیں – فارمیسی والے سے لبریکنٹ کا پوچھو تو وہ بولتا ہے کہ بھائی یہ تو آٹو اسٹور سے ملے گا
    -سرکاری کالج اور یونیورسٹی کا ماحول دیکھ لیں اور پرائیویٹ اداروں کا، زمین آسمان کا فرق ہے – سرکاری اداروں میں تو لڑکے لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی ہے جبکہ پرائیویٹ یونیورسٹی میں کوئی روک ٹوک نہیں –
    اسی طرح لباس میں بھی روک ٹوک صرف زیادہ تر سرکاری اداروں میں کی جاتی ہے اب تو کئی کالجز نے عبایا کو یونیفارم کا لازمی حصہ قرار دے دیا ہے –
    شادی تو پچیس سے تیس سال سے پہلے ہو ہونے سے رہی – اب یہ نوجوان نسل جس پر ہم لوگ فخر کرتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے وہ پلیئنگ یور سلف میں مشغول ہے

    • This reply was modified 11 months, 3 weeks ago by unsafe.
    #7
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 0
    • Posts: 5390
    • Total Posts: 5390
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘مذہبی افراد وملایادرکھیں کہ کہ جنسی استحصال اور ہراسانی کا تعلق لباس، جسم ڈھانپنے یا مخلوط اجتماعات سے نہیں بلکہ اس کی عمومی وجوہ نفسیاتی بیماریاں، جنسی گھٹن اور پدرسری روایات ہیں… جب تک یہ جنسی گھٹن ختم نہیں ہو گی ایک صحت مند معاشرہ پیدا نہیں ہو سکتا اور ایسے جنسی ہراسگی کے واقعہ ہوتے راہیں گے

    پاکستان میں جنسی گھٹن کا یہ عالم ہے ایک کالج سٹوڈنٹ کے لیے کونڈوم خریدنا تو دور کی بات شادی شدہ لوگ بھی میڈیکل اسٹور سے کونڈوم لیتے ہوے شرماتے ہیں – فارمیسی والے سے لبریکنٹ کا پوچھو تو وہ بولتا ہے کہ بھائی یہ تو آٹو اسٹور سے ملے گا -سرکاری کالج اور یونیورسٹی کا ماحول دیکھ لیں اور پرائیویٹ اداروں کا، زمین آسمان کا فرق ہے – سرکاری اداروں میں تو لڑکے لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی ہے جبکہ پرائیویٹ یونیورسٹی میں کوئی روک ٹوک نہیں – اسی طرح لباس میں بھی روک ٹوک صرف زیادہ تر سرکاری اداروں میں کی جاتی ہے اب تو کئی کالجز نے عبایا کو یونیفارم کا لازمی حصہ قرار دے دیا ہے – شادی تو پچیس سے تیس سال سے پہلے ہو ہونے سے رہی – اب یہ نوجوان نسل جس پر ہم لوگ فخر کرتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے وہ پلیئنگ یور سلف میں مشغول ہے

    ۔

    اور خاص کر وہ معاشرے  جو ۔۔۔ خاکی وردی کے دم سے پروان چڑھا ئے گئے  ہوں ۔۔۔۔۔۔ اس کے بارے  ۔۔۔۔ سگمنڈ فرائیڈ ے ۔۔۔  نے فرمایا کہ ۔۔۔۔ ایسے معاشرے ۔۔۔ غازیوں ۔۔۔ قادریوں بھر دیئے جا ئیں گے ۔۔۔

    اور ایسے معاشروں کے تما م گناہ ۔۔۔۔۔ سرکاری وردیوں ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ سرکار کا فری مفت والینٹئیر  دودھ پینے  والے ۔۔۔ ملحد ین  ۔۔۔۔ کے سر ۔۔۔۔ ہوں گے ۔۔۔۔

    • This reply was modified 11 months, 3 weeks ago by Guilty.
    #8
    Mujahid
    Blocked
    Offline
    • Threads: 11
    • Posts: 840
    • Total Posts: 851
    • Join Date:
      10 Oct, 2018
    • Location: Scotland

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    Well Done Tehreem
    #9
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 74
    • Posts: 7039
    • Total Posts: 7113
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    اس حرامی نسل عدالت نے ان کے اس طرح ھراس کرنے کی قیمت صرف ایک لاکھ روپے مقرر کی حالانکہ میرےے نزدیک ، انکے خصوں سے جڑے بالوں کی رسی بنا کر ان کی گردن میں ڈال دینی چاہیے تھی اور اس حالت میں انہیں صبح اور شام دفتر میں حاضری لگوانی چاہیے تھی ۔ یہ حرام النسل وہ ہیں جو اپنی ماں اور بہن کو بھی اسی ذھنیت سے دیکھتے ہیں ۔

    زیدی صاحب آپ اتنے مہذب ہیں ، پتہ نہیں سیاست پی کے نے آپ کو بین کیوں کر دیا

    :lol:

    #10
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 935
    • Total Posts: 954
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    زیدی صاحب آپ اتنے مہذب ہیں ، پتہ نہیں سیاست پی کے نے آپ کو بین کیوں کر دیا :lol:

    مجھ سے زیادہ مہذب تو وہ عدلیہ ہے جو خواتین کی مردانہ جامہ تلاشی کی قیمت ایک لاکھ روپے مقرر کرتی ہے ، شاید آپ جوش انصاف تنقید میں اصل بات یاد نہ رکھ سکے ۔ عموما” جلدی میں ایسے ہی ہوتا ہے ۔

    #11
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘مذہبی افراد وملایادرکھیں کہ کہ جنسی استحصال اور ہراسانی کا تعلق لباس، جسم ڈھانپنے یا مخلوط اجتماعات سے نہیں بلکہ اس کی عمومی وجوہ نفسیاتی بیماریاں، جنسی گھٹن اور پدرسری روایات ہیں… جب تک یہ جنسی گھٹن ختم نہیں ہو گی ایک صحت مند معاشرہ پیدا نہیں ہو سکتا اور ایسے جنسی ہراسگی کے واقعہ ہوتے راہیں گے

    پاکستان میں جنسی گھٹن کا یہ عالم ہے ایک کالج سٹوڈنٹ کے لیے کونڈوم خریدنا تو دور کی بات شادی شدہ لوگ بھی میڈیکل اسٹور سے کونڈوم لیتے ہوے شرماتے ہیں – فارمیسی والے سے لبریکنٹ کا پوچھو تو وہ بولتا ہے کہ بھائی یہ تو آٹو اسٹور سے ملے گا -سرکاری کالج اور یونیورسٹی کا ماحول دیکھ لیں اور پرائیویٹ اداروں کا، زمین آسمان کا فرق ہے – سرکاری اداروں میں تو لڑکے لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی ہے جبکہ پرائیویٹ یونیورسٹی میں کوئی روک ٹوک نہیں – اسی طرح لباس میں بھی روک ٹوک صرف زیادہ تر سرکاری اداروں میں کی جاتی ہے اب تو کئی کالجز نے عبایا کو یونیفارم کا لازمی حصہ قرار دے دیا ہے – شادی تو پچیس سے تیس سال سے پہلے ہو ہونے سے رہی – اب یہ نوجوان نسل جس پر ہم لوگ فخر کرتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے وہ پلیئنگ یور سلف میں مشغول ہے

    سنا ہے ایک فکری بیوہ میڈیکل سٹور سے کونڈوم لینے گئی تو اسے اسٹور والے نے کہا کہ تمہیں کونڈوم کی نہیں بلکہ ڈینٹل ڈیم کی ضرورت ہے

    فکری بیوہ شرماتی ہوئی بولی کہ یہ زمہ داری چیف جسٹس ثاقب نثار نے لے رکھی ہے

    :bigsmile: :lol: :hilar:

    • This reply was modified 11 months, 3 weeks ago by Bawa.
    #12
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 74
    • Posts: 7039
    • Total Posts: 7113
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    مجھ سے زیادہ مہذب تو وہ عدلیہ ہے جو خواتین کی مردانہ جامہ تلاشی کی قیمت ایک لاکھ روپے مقرر کرتی ہے ، شاید آپ جوش انصاف تنقید میں اصل بات یاد نہ رکھ سکے ۔ عموما” جلدی میں ایسے ہی ہوتا ہے ۔

    زیدی صاحب میں تو حیران ہی اتنا ہو گیا اور کسی طرف خیال ہی نہیں گیا

    :bigthumb:

    #13
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 935
    • Total Posts: 954
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    زیدی صاحب میں تو حیران ہی اتنا ہو گیا اور کسی طرف خیال ہی نہیں گیا :bigthumb:

    جی ،مجھے آپکی بے فکری خیال کا اندازہ ہے ۔ اب طبیعت کیسی ہے ؟

    #14
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 74
    • Posts: 7039
    • Total Posts: 7113
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    جی ،مجھے آپکی بے فکری خیال کا اندازہ ہے ۔ اب طبیعت کیسی ہے ؟

    بس کیا بتاؤں جب سے ایک معصوم کے بین کی خبر سنی ہے بہت بوجھل رہتی ہے

    :lol:

    #15
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 397
    • Posts: 9082
    • Total Posts: 9479
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    زیدی صاحب میں تو حیران ہی اتنا ہو گیا اور کسی طرف خیال ہی نہیں گیا :bigthumb:

    عدالت میں ان لعنتیوں کا دفاع کرنے والا  اب عمران کا مشیر بنا ہوا ہے،،، یہ پارٹی ہے کہ فارٹی؟؟؟

    :thinking:

    #16
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 935
    • Total Posts: 954
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    بس کیا بتاؤں جب سے ایک معصوم کے بین کی خبر سنی ہے بہت بوجھل رہتی ہے :lol:

    کچھ صدقہ و خیرات دیا کریں ، کسی آستاں پہ سجدہ ، کسی درگاہ پہ چادر ۔
    آنکھیں تیری جادو ہیں نظر پیر گری ہے :serious: ۔

    #17
    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 47
    • Posts: 2192
    • Total Posts: 2239
    • Join Date:
      2 Mar, 2017
    • Location: Kala Shah kaku

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    عدالت میں ان لعنتیوں کا دفاع کرنے والا اب عمران کا مشیر بنا ہوا ہے،،، یہ پارٹی ہے کہ فارٹی؟؟؟ :thinking:

    And the Topic Is??????????????????????

    #18
    Aamir Siddique
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 74
    • Posts: 7039
    • Total Posts: 7113
    • Join Date:
      7 Oct, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    کچھ صدقہ و خیرات دیا کریں ، کسی آستاں پہ سجدہ ، کسی درگاہ پہ چادر ۔ آنکھیں تیری جادو ہیں نظر پیر گری ہے :serious: ۔

    اب تو کرنا پڑے گا

    :lol:

    #19
    Judge
    Moderator
    Offline
    • Threads: 2
    • Posts: 391
    • Total Posts: 393
    • Join Date:
      20 Mar, 2020

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    And the Topic Is??????????????????????

    where is your comment about topic on this thread.

    I don’t know why I have a feeling that you want to be moderator. Since you are not, so always participate rathar than lecturing.

    #20
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 0
    • Posts: 5390
    • Total Posts: 5390
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: جنسی ہراس کے خلاف ڈٹ جانے والی پاکستانی لڑکی کی کہانی جس نے عدالت میں اپنا کیس خود لڑا

    where is your comment about topic on this thread. I don’t know why I have a feeling that you want to be moderator. Since you are not, so always participate rathar than lecturing.

    .

    now I  really realize that he has some mental health issues………

    • This reply was modified 11 months, 2 weeks ago by Guilty.
Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 35 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi