Home Forums Siasi Discussion تین نومبر، ملک میں ایمرجنسی اور کھینچا تانی

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 4310
    • Posts: 2846
    • Total Posts: 7156
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: تین نومبر، ملک میں ایمرجنسی اور کھینچا تانی

    ایسا نہیں تھا کہ تین نومبر سنہ 2007 کا دن آیا اور اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کو اچانک خیال آیا کہ کوئی ماورائے آئین کام کیا جائے اور اُنھوں نے اپنے اس خواب کو پورا کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہو بلکہ اس کے پیچھے بہت سے محرکات تھے جن میں سے چند کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت میں تیزی

    لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کی کوریج کے دوران میں نے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی آنکھوں سے باقاعدہ آنسو چھلکتے ہوئے دیکھے جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اُنھیں حکم دیا تھا کہ اگر لاپتہ افراد بازیاب نہ کیے گئے تو وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے اور اُنھیں جیل بھیج دیا جائے گا۔
    چونکہ زیادہ تر لاپتہ ہونے والے افراد کا تعلق صوبہ بلوچستان سے تھا اس لیے اس صوبے میں کام کرنے والی فرنٹئیر کور کے سربراہ کو نوٹس جاری کرنا کسی حد تک معمول بن چکا تھا، جو بعد میں کسی نہ کسی صورت جاری رہا۔
    ایک وقت ایسا تھا کہ ایف سی کی سربراہی میجر جنرل عبیداللہ خٹک کر رہے تھے جو بعد میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے لیفٹیٹننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ انھوں نے عدالت سے ایسے نوٹس پر شکوہ بھی کیا۔
    عبیداللہ خٹک کو عدالت میں ججز کے سخت ریمارکس کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور وہ میڈیا سے بغیر بات کیے احاطہ عدالت سے سخت غصے میں باہر چلے جاتے تھے۔
    یہ وہی لیفٹیننٹ جنرل عبیداللہ خٹک تھے جن پر بدعنوانی کے مقدمات ثابت ہوئے تو فوج ان کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی۔

    نواز شریف کی سزا ختم، وطن واپسی کی راہ ہموار

    پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف سے اقتدار چھین کر ملک کے باوردی حکمران بن گئے۔ انھوں نے ایک متنازع ریفرنڈم کے انعقاد سے اپنے آپ کو صدر منتخب کرایا اور پھر بعد میں اسمبلیوں سے اس فیصلے کی توثیق کرا لی۔
    پرویز مشرف نے نواز شریف کو جلا وطن کر دیا اور پھر چند برس بعد جب معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تو عدالت نے نواز شریف پر وطن واپسی سے متعلق عائد پابندی ختم کردی اور ان کو طیارہ ہائی جیک کیس میں سنائی گئی سزا کو بھی ختم کر دیا۔
    پرویز مشرف عدالت کے اس فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ جب نواز شریف نے ملک واپس آنے کی کوشش کی تو ان کو دوبارہ راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس (بے نظیر بھٹو ایئرپورٹ) سے ہی بیرون ملک واپس بھیج دیا گیا۔
    افتخار چوہدری نے لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت تیزی سے کی تو پرویز مشرف کی حکومت ان سے ناراض ہو گئی
    اسٹیل ملز کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم کا چیف جسٹس کے نام خط
    ملک کے باوردی صدر جنرل مشرف اور آئین کے تحت حلف اٹھا کر چیف جسٹس بننے والے افتخار محمد چوہدری میں پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کو روکنے پر ٹھن گئی تھی تو پرویز مشرف نے افتخار محمد چوہدری کو معطل کر کے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس بھیج دیا۔
    اس صدارتی ریفرنس کے نتائج پرویز مشرف کے لیے حوصلہ افزا نہیں تھے مگر انھوں نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
    اس واقعے کے بعد وکلا، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنان کی فوجی صدر اور ان کی نگرانی میں قائم حکومت کے خلاف خلیج مزید گہری ہو گئی اور ملک پر ایک بار پھر بے یقینی کے بادل منڈلانے لگے۔
    لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے پاکستان اسٹیل ملز کے چیئرمین کی حیثیت سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ایک تفصیلی خط لکھا تھا جس میں انھوں نے واضح کیا کہ اس مل کی نجکاری سے ملکی مفاد کو زچ پہنچے گی۔ اس خط کو بنیاد بنا کر اس وقت کی سپریم کورٹ نے اس نجکاری کو رکوا دیا تھا۔
    جنرل قیوم کے مطابق اس نجکاری کے پیچھے کچھ انڈین کمپنیاں بھی سرگرم تھیں اور یہ معاملہ قومی مفاد کا بن چکا تھا۔ ان کے مطابق شوکت عزیز نے پرویز مشرف کو اسٹیل ملز کی نجکاری پر آمادہ کیا تھا۔
    پرویز مشرف کی جماعت کے رہنما اب بھی یہ شکوہ کرتے ہیں کہ دراصل اس سب کے پیچھے اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی تھے جو بعد میں آرمی چیف بھی بنے۔
    جنرل کیانی کے بطور آرمی چیف جب نواز شریف دور حکومت میں مشرف کے خلاف سنگین غداری کا ٹرائل شروع ہوا تو عسکری حلقوں میں بھی جنرل کیانی پر تنقید شروع ہو گئی کہ انھوں نے اس ٹرائل کو رکوانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
    بات چل رہی تھی پرویز مشرف اور افتخار چوہدری کے درمیان نفسیاتی جنگ کی۔
    وکیل نعیم بخاری کے اس وقت کے ایک خط کو بنیاد بنا کر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے معطل کیا تھا۔
    بعد میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پانامہ مقدمے میں وکیل نعیم بخاری سے ایک بار صحافیوں نے پوچھا تھا کہ کیا وہ یہ مقدمہ جیت جائیں گے تو ان کا جواب تھا کہ وکیل تھوڑا ہی مقدمہ ہارتا ہے، وہ تو موکل ہارتا ہے۔
    پرویز مشرف کی ابھی عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ لال مسجد کی انتظامیہ اور وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کے درمیان تنازع نے سر اٹھا لیا۔ اب میڈیا پر ہر طرف حکومت اور ریاست کی رٹ چیلنج ہونے کی بات ہو رہی تھی۔
    وکیل نعیم بخاری کے اس وقت کے ایک خط کو بنیاد بنا کر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے معطل کیا تھا
    جولائی سنہ 2007 میں لال مسجد پر فوجی آپریشن ہوا اور یوں یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ جا پہنچا۔ ایسے میں صدارتی الیکشن بھی سر پر تھے اور پرویز مشرف بطور آرمی چیف ان انتخابات میں حصہ لینے پر بضد تھے۔
    صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا کہ کیسے ایک سرکاری ملازم انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے۔
    سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف کو وردی میں صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی مشروط اجازت دی اور اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کو یہ بھی ہدایت کر دی کہ اس وقت تک کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جائے جب تک ان کی اہلیت کے خلاف درخواست کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔
    اس درخواست میں دو بنیادی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا پرویز مشرف وردی میں صدارتی انتخاب لڑ سکتے ہیں جبکہ دوسرا سوال تھا کہ یہی اسمبلیاں جنھوں نے پہلے ان کی صدارت کی توثیق کی تھی وہی دوبارہ ان کو صدر منتخب کر سکتی ہیں؟
    جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز میں شامل تھے جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پہلے عبوری آئنی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا
    پرویز مشرف کو انتخاب میں حصہ لینے کی مشروط اجازت کے باوجود ایمرجنسی کو نہ روکا جا سکا۔
    سپریم کورٹ کے جس بینچ نے آرمی چیف کو دوسری مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تو اس کی سربراہی جسٹس جاوید اقبال کر رہے تھے، جو اس وقت قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین ہیں۔
    عدالت کی طرف سے اس نرمی کے باوجود تناؤ کے اس ماحول میں خفیہ اداروں نے جنرل پرویز مشرف کو رپورٹ دی تھی کہ ایسے حالات میں اقتدار کی پرامن منتقلی ممکن نہیں ہے۔
    اور پھر تین نومبر کا دن آ ہی گیا جب اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا۔
    تین نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی لگنے کے محرکات میں مفاد عامہ کا تعلق نہیں تھا بلکہ یہ لڑائی دو ریاستی ستونوں یعنی مقننہ اور عدلیہ کے درمیان تھی۔
    پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے اعلان کے بعد ججز کو ان کے گھروں پر نظر بند کر دیا۔
    اسلام آباد میں پر فضا مقام پر واقع ججز کالونی میں پولیس ہر جج کے گھر کے باہر پہرے دے رہی تھی۔ یہ وہ مقدمہ ہے جو ججز نظر بندی کیس سے بھی جانا جاتا ہے جس کے ذریعے پرویز مشرف نے پوری عدلیہ کو اپنے خلاف کر لیا تھا۔
    بعد میں آنے والے دنوں نے بھی اسے سچ ثابت کیا۔
    یہ وہی ججز نظر بندی مقدمہ ہے جس کے تحت بعد میں پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی قائم کردہ ایک خصوصی عدالت میں سنگین غداری کا مقدمہ چلا اور چھ سال بعد عدالت نے انھیں ایمرجنسی کے نفاذ پر سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا۔
    سینئیر صحافی فیاض راجا کے مطابق وہ اس وقت نجی ٹی وی جیو سے وابستہ تھے اور انھیں اس ایمرجنسی سے دو دن قبل وکیل رہنما اعتزاز احسن نے بتا دیا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا جائے گا۔ فیاض راجا نے اس حالات کو رپورٹ بھی کیا تھا۔ ان کے بقول کئی اور سیاستدان بھی ان حالات سے بخوبی واقف تھے۔
    اس وقت پرویز مشرف کے سیاسی گرو چوہدری شجاعت نے ان حالات کے بارے میں اپنی خود نوشت میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے پرویز مشرف کو ججز سے معاملات ٹھیک کرنے کا مشورہ دیا تھا جو انھوں نے تسلیم نہیں کیا۔
    پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے ان سے حلف لیا۔ پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے اس 13 رکنی بینچ سے اپنے ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کے حق میں فیصلہ حاصل کیا۔ اس بینچ کی سربراہی جسٹس عبدالحمید ڈوگر کر رہے تھے جنھیں پرویز مشرف نے چیف جسٹس کے عہدے پر ترقی دے دی تھی۔

    فوجی افسران نے ایمرجنسی کی مخالفت کی تھی’

    فوج میں اسسٹنٹ جج ایڈووکیٹ جنرل کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے والے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ فوج کے افسران کو پہلے سے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ملک میں سپر ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرچکے ہیں جو کہ اس وقت کی عدلیہ کے بارے میں تھی۔
    اُنھوں نے کہا کہ اس سے پہلے 22 اکتوبر کو ایک پلس رپورٹ جاری ہوئی تھی۔
    واضح رہے کہ پلس رپورٹ ایک زبانی رپورٹ کے طور پر تصور کی جاتی ہے جس میں ہر کور میں موجود افسران سے کسی بھی اقدام کے بارے میں رائے طلب کی جاتی ہے۔
    انعام الرحیم کے مطابق جس وقت یہ رپورٹ مانگی گئی وہ کراچی میں اس وقت کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل احسن اظہر حیات کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ فوج میں ہر ایک کور میں ایک لیفٹیننٹ کرنل رینک کے افسر کو اسسٹنٹ جج ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا جاتا ہے جو قانونی معاملات پر کور کمانڈر کو رائے دیتا ہے۔
    اُنھوں نے کہا کہ ان سمیت بہت سے افسران نے اس کی مخالفت کی تھی کیونکہ اس سے پہلے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے صدارتی ریفرنس دائر کرنے پر جو لوگوں اور بالخصوص وکلا کا ردعمل سامنے آیا تھا، اس سے فوج کا تشخص خراب ہوا تھا۔
    اس بارے میں فوجی افسران نے یہ رائے بھی دی تھی کہ اس وقت تو ایک جج کو کنٹرول نہیں کیا جاسکا اور اگر اب ساری عدلیہ کے خلاف کارروائی ہو گی تو اس کے نتائج فوج کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے۔

    پرویز مشرف نے فوجی افسران کو عوامی مقامات پر وردی نہ پہننے کا مشورہ دیا تھا

    انعام الرحیم کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے ملک میں سپر ایمرجنسی بطور آرمی چیف نافذ کی تھی اس لیے اس اقدام سے پہلے فوجی افسران کو ہدایت کی گئی تھی کہ کوئی بھی یونیفارم پہن کر پبلک میں نہیں جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ فوجی افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کے نمبر بھی تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
    جس روز ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا گیا، اس روز اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کی ضلعی عدالتوں میں صبح کے وقت تو کچھ عدالتی کام ہوا لیکن اس کے بعد دوپہر کے وقت سکیورٹی کے اہلکاروں نے ان عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے لیے آنے والے افراد کو کچہری کے احاطے سے باہر نکال دیا تھا۔
    اس کے بعد کسی کو بھی دوبارہ کچہری کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
    اس کے علاوہ جڑواں شہروں میں واقع تھانوں میں یہ ہدایات پہنچا دی گئی تھیں کہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے لے کر ڈی ایس پی رینک تک کا کوئی بھی افسر اطلاع دیے بغیر شہر سے باہر نہیں جائے گا۔

    تین نومبر کو سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟

    جب سپریم کورٹ کو ایمرجنسی کے بارے میں اطلاع ملی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے از خود نوٹس لے کر معاملے کی سماعت کے لیے سات رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔ عدالت کے اس بینچ نے سول بیوروکریسی کو حکم جاری کیا کہ وہ فوجی صدر پرویز مشرف کے غیر قانونی احکامات کی بجا آوری نہ کریں۔
    اس عدالتی حکم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو بھی پابند کیا گیا تھا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھائیں گے۔
    عدالت جب اس از خود نوٹس پر کارروائی کر رہی تھی تو اس وقت رینجرز کے اہلکاروں نے عدالت عظمیٰ کے باہر اپنی پوزیشنیں سنبھال لی تھیں اور کسی کو بھی سپریم کورٹ کے احاطے میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔
    یہ سب ایسے وقت پر ہو رہا تھا جب ملک میں وکلا کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا تھا۔
    اٹک کے قریب سے افتخار محمد چوہدری کے قریب سمجھے جانے والے وکیل رہنما شیخ احسن الدین کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں جیل لے جایا جا رہا تھا کہ راولپنڈی کے قریب وہ پہنچے تو ان کی طبعیت خراب ہو گئی اور پھر انھیں رہا کر دیا گیا۔
    پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز رہنے والے عرفان قادر اور ان کے متعدد ساتھی اس ایمرجنسی کے حق میں تھے اور انھوں نے ججز کا حلف بھی اٹھا لیا۔
    سینیئر صحافی عبدالقیوم صدیقی نے اس دن کیا دیکھا اور پھر انھوں نے لندن کی راہ کیوں لی؟
    دو دہائیوں سے زائد سپریم کورٹ میں مختلف نوعیت کے مقدمات کی کوریج کرنے والے صحافی عبدالقیوم صدیقی اس دن کی عدالتی کارروائی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس روز وہ اپنے کسی عزیز کی شادی پر تھے کہ اُنھیں معلوم ہوا کہ سپریم کورٹ میں کسی اہم معاملے پر سات رکنی بینچ کسی از خود نوٹس کی سماعت کرنے جارہا ہے۔
    عبدالقیوم صدیقی نے شادی کی تقریب کو وہیں چھوڑا اور سپریم کورٹ کا رخ کرلیا۔
    اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی حالانکہ وہاں پر تعینات سکیورٹی کا عملہ اُنھیں بہت اچھی طرح جانتا تھا۔
    سکیورٹی اہلکاروں کے انکار کے بعد وہ ایک اور مقامی صحافی راشد حبیب کے ساتھ وزیر اعظم سیکریٹیریٹ سے ملحقہ عمارت نیشنل لائبریری کی طرف چلے گئے جہاں پر خار دار تاریں لگائی گئیں تھیں جن کو عبور کرنے کر کے وہ سپریم کورٹ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
    اُنھوں نے کہا کہ اس از خود ٹوٹس کی سماعت کسی عدالت میں نہیں ہوئی بلکہ کمیٹی روم میں ہی ان سات ججز نے سماعت کی اور اس کے فیصلے کی مصدقہ کاپی جسٹس راجہ فیاض کے حوالے کردی گئی جو اس سات رکنی بینچ کا حصہ تھے۔
    قیوم صدیقی کے مطابق یہ اقدام شاید اس لیے کیا گیا کہ اگر ججز کی نقل و حرکت کو محدود کردیا جاتا ہے یا انھیں حراست میں لے لیا جاتا ہے تو کم از کم اس فیصلے کی کاپی تو حکام تک پہنچ جائے گی۔
    اُنھوں نے کہا کہ وہ اور راشد حبیب سپریم کورٹ کے ججز کی گاڑیوں کی آڑھ میں سپریم کورٹ کے احاطے سے باہر نکلے تھے۔
    قیوم صدیقی نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے جب اس سات رکنی بینچ کے فیصلے کی خبر اپنے چینل پر چلائی تو اس کے بعد سکیورٹی ادارے کا ایک افسر ان کے پاس آیا اور کہا کہ ’اعلیٰ حکام کی طرف سے ان کی گرفتاری کے احکامات ملے ہیں‘ لہٰذا وہ ’روپوش ہو جائیں‘۔
    اُنھوں نے کہا کہ اگلے ہی روز وہ لندن روانہ ہو گئے اور ان کی عدم موجودگی میں ان کے اہلخانہ کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا رہا۔
    اس سات رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد ججز کالونی میں مقیم سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو گھروں میں ہی نظربند کردیا گیا اور افتخار محمد چوہدری سمیت ان میں سے زیادہ یر ججز کو اس وقت تک گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی جب تک سنہ 2008 کے انتخابات کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ججز کالونی کے اردگرد لگائے گئے سکیورٹی حصار کو ختم کرنے کا اعلان نہیں کردیا۔

    اسلام آباد کی پولیس بغیر کمانڈ کے تھی

    اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی کے محکمے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تین نومبر کی شام کو جب فوج اور رینجرز کو اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا تو اس دوران پولیس کو ڈی چوک پہنچنے کا حکم موصول ہوا۔
    سکیورٹی اہلکار کے مطابق اسلام آباد کے جتنے بھی زون ہیں ان کے ایس پی صاحبان کو حکم دیا گیا کہ وہ ڈی چوک پہنچیں تو سب نے اپنی پوزیشنیں مختلف مقامات پر بیان کیں اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ سکیورٹی کے لیے پولیس نفری کے ساتھ موجود ہیں۔
    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس افسران کی طرف سے اعلیٰ حکام کے احکامات کی تعمیل شاید اس لیے نہیں کی جارہی تھی کیونکہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے فیصلے کے بارے میں اُنھیں معلوم ہو چکا تھا۔
    اُنھوں نے کہا کہ ان حالات میں اس وقت کے سیکریٹری داخلہ کمال شاہ ڈی چوک پہنچے اور رینجرز کے کمانڈر کے ساتھ سکیورٹی کے امور کا جائزہ لیا۔
    اس صورت حال کو دیکھ کر ایس ایس پی اسلام آباد تیمور خان کو تبدیل کردیا گیا اور ان کی جگہ کلیم امام کو ایس ایس پی اسلام آباد مقرر کیا گیا۔
    اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی پر ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان سے پہلے نہ صرف اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ان کے گھروں میں نظربند کردیا گیا تھا بلکہ اس موقع پر ’صرف اسلام آباد میں رینجرز کے ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا‘۔
    عدلیہ بحالی کی تحریک کے بعد اپنے عہدے پر بحال ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 31 جولائی کو ایک فیصلہ سنایا، جو مشرف کی رخصتی کی وجہ بن گیا۔ فل کورٹ نے پرویز مشرف کے تین نومبر کے فیصلے کو نہ صرف غیر آئینی قرار دیا بلکہ فوجی صدر کے دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے اس وقت کے پاکستان کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت ایک سو سے زائد اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔
    اگرچہ عبدالحمید ڈوگر اپنی مدت ملازمت پوری کر کے ریٹائرڈ ہوئے مگر اس فیصلے کے بعد انھیں چیف جسٹس کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔
    سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ
    تین نومبر کے اقدام کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو گھروں میں نظربند کرنے کے اقدام کے خلاف سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تاہم اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ اس وقت کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے حکم پر کیا گیا۔
    اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف کے تین نومبر کے اس اقدام کے خلاف سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کروایا اور خصوصی عدالت نے اس مقدمے میں پرویز مشرف کو موت کی سزا سنائی تھی۔
    اس سزا پر عمل ہونے سے پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا۔
    لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف کسی سیاسی جماعت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر نہیں کی اور یہاں پر بھی وکلا ہی سامنے آئے اور اُنھوں نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو چار ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔
    وکلا کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ ’جس عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلا نے تحریک چلائی وہ ابھی تک آزاد نہیں ہوئی اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سابق فوجی صدر کے تین نومبر کے اقدام کے بعد جو تحریک شروع کی گئی اس نے ابھی اپنا سفر بھی شروع نہیں کیا‘۔
    ان کے مطابق ایک آمر قابل غور ہے کہ کے جس اقدام کو عدلیہ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو موت کی سزا سنائی تو اسی عدلیہ کے ایک بینچ نے فیصلہ سنانے والے بینچ کی تشکیل کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا۔
    دلچسپ امر یہ ہے کہ خصوصی بینچ کی تشکیل کو مجرم پرویز مشرف نے چیلنج نہیں کیا تھا بلکہ لاہور ہائی کورٹ میں یہ درخواست ان کے ‘چاہنے’ والوں کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-54795569

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi