Home Forums Siasi Discussion بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

  • This topic has 29 replies, 11 voices, and was last updated 1 year ago by Bawa. This post has been viewed 1279 times
Viewing 10 posts - 21 through 30 (of 30 total)
  • Author
    Posts
  • #21
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    Do we know each other?

    Perhaps since pirates of Caribbean

    #22
    SAIT
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1876
    • Total Posts: 1888
    • Join Date:
      25 Oct, 2016

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    ایک اہم تحقیق طلب پہلو یہ ہے کہ حقیقی بانی پاکستان کون تھا؟ اور قیام پاکستان کے اصل اغراض و مقاصد کیا تھے؟

    اس موضوع پر غور و فکر بحث کو عمداً غداری اور شجر ممنوعہ بنا دیا گیا

    سچ نہیں ہوتا جس کی عوام الناس میں تشہیر کی جاتی ہے . کچھ راز ایسے ہوتے ہیں جن کو قبر میں دفن کرنا بہتر ہوتا ہے

    مرے نزدیک حقیقی بانی پاکستان اس وقت کے حالات تھے – انگریز ہندوستان سے نکلنا چاھتے تھے – اور اپنا دو سو سالہ میس مقامی لوگوں کے سر منڈھ کر بھاگنے کے چکر میں تھے – ایک وقت میں انگریزوں کی جانشینی کا ایک ہی فریق تھا – لیکن مسلمانوں کے اپنے تحفظات کی بنا پر یہ معاملہ دو فریقی بن گیا – اور قائد اعظم کا کردار مسلمانوں کے ایماء پر مصالحت کار کا تھا -ویسے بھی جس قسم کی وہ تحریک تھی اس میں کسی بھی لیڈر کا کردار مصالحت کار سے اوپر کا نہیں تھا – اور تمام لیڈر اپنے اس کردار کے زیر اثر رهتے ہوے اپنے اپنے گروہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے – اور آ خر میں مذاکرات کے بعد جو بھی ڈیل انگریزوں نے ٹیبل پے رکھی وہ دونوں فریقوں نے قبول کی – پاکستانی لوگوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ انکو شائد بہتر ڈیل ملی تھی-اس لئے قائد اعظم کو یہاں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے – لیکن انڈیا میں اس چیز کو ذرا مختلف طریقے سے لیا گیا-اور گاندھی کے قتل میں ایک محرک یہ بھی ہے کہ اس نے انڈیا کی تقسیم میں کردار ادا کیا تھا– اور اب بھی وہاں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو گاندھی اور نہرو کو تقسیم کی وجہ سے گالیاں تک دیتے ہوں – اور گاندھی کے قاتل کو ہیرو مانتے ہیں

    #23
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    قائد عظم سنگل پسلی انسان تھے اور جوانی سے ہی سگریٹ دبا کر پیتے تھے . برانڈ پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔اس دور کا مہنگا ترین برانڈ جو اشرافیہ میں مقبول تھا وہ پیتے تھے ۔ دن میں پچاس ڈبی پی جاتے تھے .. جانے ان کو کیا غم تھا کہ اتنے سگریٹ مبارک چھک دیتے تھے …. جس کی وجہ سے ان کو ٹی بی ہو گیا تھا … ڈاکٹروں نے بہت سمجایا کہ دیوداس نہ پیو لیکن پھر بھی ساری عمر سگریٹ نہیں چھوڑے . کبھی ایک نماز بھی نہیں پڑھی زندگی میں .. ساری عمر شکسپیر پڑھتے رہے … نہ ان کو سورہ اخلاص آتی تھی نہ سورہ فاتحہ.. نہ کبھی حج کیا .. نہ کعبہ دیکھا … کٹی عمر ہوٹلوں میں .. ازدواجی زندگی میں ناکام ہو چکے تھے … کیوں کہ جو آدمی گھر نہ بسا سکا وہ ملک کیسے بساۓ گا … ان کے اپنے ہی اتنے غم تھے تو وہ چول قوم کے غم کس کے شانے پر سر رکھ کر سوورانتے … زنانی کوئی ساتھ ٹکی نہیں ….. بہن نے ہی سہارا دیا ….. بس چول قوم جس کا پی ایچ ڈی سے ایک عام آدمی تک دماغ سے فارغ تھا ان خوش کرنے کے لئے کہ ہمارا آئیں چودہ سو سال پہلا بنا ہوا ہے ….. بس یہ قوم کسی طرح خوش ہو جاے

    سادہ لوح مومنین قرآن شریف کی طرح چوتھی جماعت کی معاشرتی علوم کو بھی تاریخ کا حرفِ آخر مانتے ہیں اور اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ بھولے مومنین سمجھتے ہیں کہ محمد علی جناح بہت ہی باشرع، صوم و صلاۃ کے پابند، مومن قسم کے مسلمان تھے۔ جبکہ تاریخی حقائق اس کے بالکل برعکس بتاتے ہیں۔ محمد علی جناح صرف نام کے مسلمان تھے، وہ پوری طرح مغربی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ شراب پیتے تھے، سور کا گوشت کھاتے تھے۔ نماز چھوڑیں انہیں شاید کلمہ بھی نہیں آتا ہوگا جیسے عمران خان دن رات ریاستِ مدینہ کی تکرار کرتا رہتا ہے جبکہ خاتم النبین کہنا اسے آتا نہیں۔ ایسے ہی محمد علی جناح نے بھی احمق مومنین کی دل پشوری کیلئے چند ایک بار نماز  کی ایکٹنگ ضرور کی، کئی بار  شاید مصلے پر بیٹھ کر فوٹو شوٹ بھی کروایا، مگر عملی طور پر انہوں نے اپنی زندگی پر اسلام کا چھینٹا تک نہ پڑنے دیا۔۔۔

    سٹینلے والپرٹ اپنی کتاب “جناح آف پاکستان” میں ایم سی چھاگلہ کو کوٹ کرتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ لکھتے ہیں۔۔

    As we were drinking our coffee and enjoying our sausages, in came an old, bearded Muslim with a young boy of about ten years of age, probably his grandson. They came and sat down near Jinnah. It was obvious that they were directed from Town Hall… I then saw the boy’s hand reaching out slowly but irresistibly towards the plate of pork sausages. After some hesitation, he picked up one, put it in his mouth, munched it and seem to enjoy it tremendously. I watched this uneasily… After sometime they left and Jinnah turned to me, and said angrily: “Chagla you should be ashamed of yourself.” I said: “What did I do?” Jinnah asked: “How dare you allow the young boy to eat pork sausages?” I said: “Look, Jinnah, I had to use all my mental faculties to come to a quick decision. The question was: should I let Jinnah lose his election or should I let the boy go to eternal damnation? I chose in your favour”.

    دلچسپ بات یہ ہے کہ جناح صاحب نے خود بھی لڑکے کو نہیں روکا اور اپنی اخلاقی پوزیشن بلند رکھنے کیلئے  غصہ چھاگلہ پر کرنے لگے۔۔

    جہاں تک میں نے جناح صاحب کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ اسلام کو صرف بطور نعرہ لگا کر ایک الگ ملک حاصل کرلیں، اس کے بعد اسلام کو خدا حافظ کہہ دیں۔ مجھے جناح صاحب سے ایک قسم کا حسنِ ظن ہے کہ اگر وہ کچھ سال اور زندہ رہتے اور صحت مند ہوتے تو شاید پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کرتے ۔ جیسا کہ مصطفیٰ کمال نے کئی بار جنگ میں اپنے فوجیوں کو جوش دلانے کیلئے اسلام اور جہاد کا نعرہ استعمال کیا، مگر جب انہوں نے جدید ترکی کی بنیاد رکھی تو اسلام کو گردن سے پکڑ کر دریا برد کردیا اور ترکی کو خالصتاً سیکولر بنیادوں پر تشکیل دیا۔ ایسے ہی مجھے لگتا ہے کہ اگر جناح صاحب کو موقع اور پاور ملتی اور پاکستان کے دس بارہ سال بعد تک زندہ رہتے تو شاید پاکستان سے بھی ترکی کی طرح اسلام کا قلع قمع کرجاتے۔ کیونکہ پاکستان بننے کے بعد معلوم نہیں پڑتا کہ انہوں نے کہیں اسلامی نعرے لگائے ہوں۔۔ اسکندر مرزا کے مطابق جناح صاحب نے اسلامی ریاست کو “نان سینس” قرار دیا تھا۔۔

    Before Jinnah left India for Pakistan Iskandar Mirza recalls that he asked him in Delhi, ”Sir we are all agreed to leave for Pakistan; but what kind of polity are you going to have? Are you going to have an Islamic state?” and Jinnah replied. ”Nonsense, I am going to have a modern state”

    • This reply was modified 1 year ago by Zinda Rood.
    #24
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    آپ نے بلکل درست باتیں کی ہیں . جناح صاحب ایک سیکولر ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے لیکن ساتھ ساتھ عوام کو خوش کرنے کے لئے اسلام اسلام بھی کرتے رہتے تھے .. انہوں عید کی نماز پڑھی جو پاکستان بننے کے بعد پہلی عید تھی تا کہ موسلے خوش ہو جایں . لیکن گھر میں اپنی بھن کو قران پاک اور نماز پڑھنے کی جگہ شکسپیر پڑھنے کی تلقین کرتے رہتے تھے .. ا

    باقی ہماری معاشرتی علوم میں جو جھوٹ پڑھایا جاتا ہے وہ سب کو پتا ہے … حکومت مولوی سے ڈر کر ایسی کتابیں چھاپتی ہے … ایک مولوی صاحب نے تو اتنا بھی کہ دیا کہ رسول اللہ نے خواب میں آ کر جناح کو پاکستان بنانے کا مشورہ دیا …. ایسی کتابیں پڑھ کر جب بچے پی ایچ ڈی کرتے ہیں تو ان کو جب سچ بتایا جاتا ہے تو اپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور قبول نہیں کرتے اور منافقت سے کام لیتے ہیں ….

    #25
    SAIT
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1876
    • Total Posts: 1888
    • Join Date:
      25 Oct, 2016

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    :hilar: :hilar: :hilar:

    مجھے پتا تھا لے دے کر دہریوں کے پاس سٹینلےولپرٹ کی کتاب کا حوالہ رہ جانا ہے
    ایک طرف قائد اعظم اتنے پکے مسلمان تھے کہ اپنی اکلوتی اولاد سے اس وجہ سے قطع تعلق کر لیتے ہیں کہ اس نے ایک پارسی سے شادی کی ہے – دوسری طرف دہریے کہ رہے ہیں قائد اعظم سور کا گوشت کھاتے تھے – گل کوئی بن نئی رہی –
    وسے اگر قائد اعظم سور کا گوشت کھاتے تھے اور شراب پیتے تھے تو پھر ایم سی چھاگلہ کے علاوہ کسی اور نے بھی انھیں ایسا کرتے دیکھا ہو گا – لیکن کسی اور کتاب میں ایسا ذکر نہیں ملتا – جبکہ انکا مسلمان عقیدے پر ایمان کے ہزاروں گواہ ہیں -قائد اعظم کوئی مولوی نہیں تھے ہمارے جیسے عام سے مسلمان تھے

    • This reply was modified 1 year ago by SAIT.
    #26
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 22
    • Posts: 2485
    • Total Posts: 2507
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    آپ نے بلکل درست باتیں کی ہیں . جناح صاحب ایک سیکولر ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے لیکن ساتھ ساتھ عوام کو خوش کرنے کے لئے اسلام اسلام بھی کرتے رہتے تھے .. انہوں عید کی نماز پڑھی جو پاکستان بننے کے بعد پہلی عید تھی تا کہ موسلے خوش ہو جایں . لیکن گھر میں اپنی بھن کو قران پاک اور نماز پڑھنے کی جگہ شکسپیر پڑھنے کی تلقین کرتے رہتے تھے .. ا باقی ہماری معاشرتی علوم میں جو جھوٹ پڑھایا جاتا ہے وہ سب کو پتا ہے … حکومت مولوی سے ڈر کر ایسی کتابیں چھاپتی ہے … ایک مولوی صاحب نے تو اتنا بھی کہ دیا کہ رسول اللہ نے خواب میں آ کر جناح کو پاکستان بنانے کا مشورہ دیا …. ایسی کتابیں پڑھ کر جب بچے پی ایچ ڈی کرتے ہیں تو ان کو جب سچ بتایا جاتا ہے تو اپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور قبول نہیں کرتے اور منافقت سے کام لیتے ہیں ….

    جناح صاحب کی نیت سے میں حسنِ ظن رکھتا ہوں، لیکن ان کے طریقہ کار کی میں نے ہمیشہ مخالفت کی۔۔ جس طرح جناح نے حد سے زیادہ اسلام اسلام کی تکرار کی، اس کا عملاً نتیجہ ایسے ہی پاکستان کی صورت میں نکلنا تھا جو آج ہے۔ اتنا عرصہ تک لوگوں کو اسلام کی پھکی دینے کے بعد اچانک یوٹرن کیسے لیا جاسکتا تھا۔ آج عمران خان بھی بالکل وہی غلطی دہرا رہا ہے۔ ریاستِ مدینہ کی تکرار کرکے احمق مسلمانوں میں مقبول ہونا چاہ رہا ہے، مگر اس کے نتیجے میں پاکستان مزید مذہبی دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔۔

    چوتھی جماعت کی معاشرتی علوم میں جو کچھ پڑھایا جاتا  ہے، اس کےبعد پی ایچ ڈی جیسے بچوں کی ذہنی گروتھ وہیں رک جاتی ہے۔ اس کے بعد کی تعلیم ان پر بے اثر رہتی ہے اور عملاً وہ چوتھی جماعت میں ہی رہ جاتے ہیں۔ ویسے جناح کو یہ ایج حاصل تھا کہ وہ مسلمانوں جیسی احمق قوم کے لیڈر تھے جنہیں بیوقوف بنانا بہت آسان ہے۔ مثلاً خود انہوں نے پارسی لڑکی سے شادی کی اور جب بیٹی نے پارسی لڑکے سے شادی کی تو یہ کہانی چلا دی کہ وہ تو اس پر بہت ناراض ہیں۔ اس کی سیدھی سیدھی صاف وجہ تھی کہ ان کی بیٹی کا پارسی لڑکے سے شادی کرنے کا عمل ان کا سیاسی کیرئیر اور ان کی لیڈری بالکل ختم کرسکتا تھا کیونکہ مسلمان عقلی طور پر بالکل پیدل ہونے کی وجہ سے مذہبی معاملات میں شدید قسم کی عدم برداشت کا شکار تھے اور یہ قبول کرنا تو ان کیلئے کسی طور پر ممکن نہ تھا کہ ان کے “باشرع، اسلام پسند،نمازی پرہیزی، عاشقِ رسول” قسم کے رہنما کی بیٹی کسی پارسی سے شادی کرلے ۔جناح کو ذاتی طور پر تو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ مغربی طرزِ فکر کی وجہ سے لبرل اور شخصی آزادیوں پر یقین رکھنے والے آدمی تھے۔لیکن سیاسی طور پر ان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اس لئے جناح نے سیاسی چال چلتے ہوئے پبلک میں یہ تاثر پھیلا دیا جیسے وہ تو اس شادی کی وجہ سے اپنی بیٹی سے بہت ناراض ہیں۔ قطع تعلق پھر بھی نہیں کیا۔۔۔

    یوں انہوں نے بیوقوف قوم کو آسانی سے مزید بیوقوف بنالیا۔ ۔۔ پی ایچ ڈی جیسے مسلمانوں کا اس پر بھنگڑے ڈالنا ایسے ہی ہے جیسے آج عمران خان اعلان کردے کہ میں اپنی بیٹی کو اس لئے قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ ناجائز ہے اور اس پر پی ٹی آئی سپورٹرز بھنگڑے ڈالنا شروع کردیں۔۔۔ جناح نے بالکل یہی ہاتھ احمق قوم کے ساتھ کیا اور وہ آسانی سے اس چکر میں آگئی۔۔۔  باقی کام پی ایچ ڈی جیسے موٹے دماغوں نے خود کرلیا کہ قطع تعلق کی کہانیاں گھڑ لیں،اگر کہیں جناح کی بیٹی کا قتل ہوجاتا تو پی ایچ ڈی جیسے مومنین نے یہ  کہانی پھیلا دینی تھی کہ جناح پارسی لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی پر اس قدر برہم تھے کہ رات کے وقت انہوں نے علم الدین کی طرح چھرا نکالا، اللہ اکبر اور یا رسول اللہ کا نعرہ لگایا اور بیٹی کا گلہ کاٹ دیا۔۔۔ یوں انہوں نے ایک سچے پکے غیرت مند مسلمان ہونے کا ثبوت دیا۔۔۔۔۔

    ویسے جناح کے بارے میں ایک کہانی اوریا مقبول جان نے بھی پھیلارکھی ہے کہ ایک بار رات کے شاید قریباً تین بجے کوئی شخص ان کے کمرے کے قریب سے گزرا، کیا دیکھتا ہے کہ ان کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا ہے، اس شخص نے تجسس کے مارے اندر جھانکا تو جناح صاحب قبلہ رُخ مصلے پر بیٹھے ہیں، آنکھیں اور داڑھی آنسوؤں سے تر ہے (حیران نہ ہوں اس کہانی میں جناح کی داڑھی وجود رکھتی ہے) ہاتھ میں قرآن پکڑا ہوا ہے، تلاوت کرتے جاتے ہیں اور روتے جاتے ہیں، روتے روتے پورا قرآن بھگودیتے ہیں، اسی طرح پوری رات وہ عبادت میں گزار دیتے ہیں۔۔۔ 

    جناح کو مختلف کہانیوں میں اس طرح کا شب بیدار مومن بنا کر پیش کرنے کی وجہ سے ہی مومنین کے دماغ میں جناح کا ایسا تصور چپک گیا ہے کہ وہ بیچارے یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ ان کا محبوب قائد ایک سیکولر، دین بیزار شخص تھا جو حماقت بھری مذہبی کہانیوں پر یقین ہی نہیں رکھتا تھا اور صرف انہیں الو بنانے کیلئے استعمال کرتا تھا۔۔ 

    #27
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    جناح صاحب کی نیت سے میں حسنِ ظن رکھتا ہوں، لیکن ان کے طریقہ کار کی میں نے ہمیشہ مخالفت کی۔۔ جس طرح جناح نے حد سے زیادہ اسلام اسلام کی تکرار کی، اس کا عملاً نتیجہ ایسے ہی پاکستان کی صورت میں نکلنا تھا جو آج ہے۔ اتنا عرصہ تک لوگوں کو اسلام کی پھکی دینے کے بعد اچانک یوٹرن کیسے لیا جاسکتا تھا۔ آج عمران خان بھی بالکل وہی غلطی دہرا رہا ہے۔ ریاستِ مدینہ کی تکرار کرکے احمق مسلمانوں میں مقبول ہونا چاہ رہا ہے، مگر اس کے نتیجے میں پاکستان مزید مذہبی دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔۔

    چوتھی جماعت کی معاشرتی علوم میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے، اس کےبعد پی ایچ ڈی جیسے بچوں کی ذہنی گروتھ وہیں رک جاتی ہے۔ اس کے بعد کی تعلیم ان پر بے اثر رہتی ہے اور عملاً وہ چوتھی جماعت میں ہی رہ جاتے ہیں۔ ویسے جناح کو یہ ایج حاصل تھا کہ وہ مسلمانوں جیسی احمق قوم کے لیڈر تھے جنہیں بیوقوف بنانا بہت آسان ہے۔ مثلاً خود انہوں نے پارسی لڑکی سے شادی کی اور جب بیٹی نے پارسی لڑکے سے شادی کی تو یہ کہانی چلا دی کہ وہ تو اس پر بہت ناراض ہیں۔ اس کی سیدھی سیدھی صاف وجہ تھی کہ ان کی بیٹی کا پارسی لڑکے سے شادی کرنے کا عمل ان کا سیاسی کیرئیر اور ان کی لیڈری بالکل ختم کرسکتا تھا کیونکہ مسلمان عقلی طور پر بالکل پیدل ہونے کی وجہ سے مذہبی معاملات میں شدید قسم کی عدم برداشت کا شکار تھے اور یہ قبول کرنا تو ان کیلئے کسی طور پر ممکن نہ تھا کہ ان کے “باشرع، اسلام پسند،نمازی پرہیزی، عاشقِ رسول” قسم کے رہنما کی بیٹی کسی پارسی سے شادی کرلے ۔جناح کو ذاتی طور پر تو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ مغربی طرزِ فکر کی وجہ سے لبرل اور شخصی آزادیوں پر یقین رکھنے والے آدمی تھے۔لیکن سیاسی طور پر ان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ اس لئے جناح نے سیاسی چال چلتے ہوئے پبلک میں یہ تاثر پھیلا دیا جیسے وہ تو اس شادی کی وجہ سے اپنی بیٹی سے بہت ناراض ہیں۔ قطع تعلق پھر بھی نہیں کیا۔۔۔

    یوں انہوں نے بیوقوف قوم کو آسانی سے مزید بیوقوف بنالیا۔ ۔۔ پی ایچ ڈی جیسے مسلمانوں کا اس پر بھنگڑے ڈالنا ایسے ہی ہے جیسے آج عمران خان اعلان کردے کہ میں اپنی بیٹی کو اس لئے قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ ناجائز ہے اور اس پر پی ٹی آئی سپورٹرز بھنگڑے ڈالنا شروع کردیں۔۔۔ جناح نے بالکل یہی ہاتھ احمق قوم کے ساتھ کیا اور وہ آسانی سے اس چکر میں آگئی۔۔۔ باقی کام پی ایچ ڈی جیسے موٹے دماغوں نے خود کرلیا کہ قطع تعلق کی کہانیاں گھڑ لیں،اگر کہیں جناح کی بیٹی کا قتل ہوجاتا تو پی ایچ ڈی جیسے مومنین نے یہ کہانی پھیلا دینی تھی کہ جناح پارسی لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی پر اس قدر برہم تھے کہ رات کے وقت انہوں نے علم الدین کی طرح چھرا نکالا، اللہ اکبر اور یا رسول اللہ کا نعرہ لگایا اور بیٹی کا گلہ کاٹ دیا۔۔۔ یوں انہوں نے ایک سچے پکے غیرت مند مسلمان ہونے کا ثبوت دیا۔۔۔۔۔

    ویسے جناح کے بارے میں ایک کہانی اوریا مقبول جان نے بھی پھیلارکھی ہے کہ ایک بار رات کے شاید قریباً تین بجے کوئی شخص ان کے کمرے کے قریب سے گزرا، کیا دیکھتا ہے کہ ان کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا ہے، اس شخص نے تجسس کے مارے اندر جھانکا تو جناح صاحب قبلہ رُخ مصلے پر بیٹھے ہیں، آنکھیں اور داڑھی آنسوؤں سے تر ہے (حیران نہ ہوں اس کہانی میں جناح کی داڑھی وجود رکھتی ہے) ہاتھ میں قرآن پکڑا ہوا ہے، تلاوت کرتے جاتے ہیں اور روتے جاتے ہیں، روتے روتے پورا قرآن بھگودیتے ہیں، اسی طرح پوری رات وہ عبادت میں گزار دیتے ہیں۔۔۔

    جناح کو مختلف کہانیوں میں اس طرح کا شب بیدار مومن بنا کر پیش کرنے کی وجہ سے ہی مومنین کے دماغ میں جناح کا ایسا تصور چپک گیا ہے کہ وہ بیچارے یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ ان کا محبوب قائد ایک سیکولر، دین بیزار شخص تھا جو حماقت بھری مذہبی کہانیوں پر یقین ہی نہیں رکھتا تھا اور صرف انہیں الو بنانے کیلئے استعمال کرتا تھا۔۔

    قائد کے حالات و واقعات سے پتا چلتا ہے اسلام والا مجن انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دس سالوں میں شروع کیا جب ڈوکتروں نے ان کو بتایا کہ آپ کو ٹی بی ہے …… شاید بیماری کی وجہ سے جلدی جلدی ملک بنانا چاہتے تھے … اور عوام کو بیوقوف کو جذباتی کرنے کے لئے اسلام کا نام لیا تا کہ ہندگامے ہوں اور ملک جلدی بن جاے …

    اپ کو چودری رحمت علی خان کے بارے میں پتا ہو گا .. پاکستان بننے کے بعد انہوں نے قائد پر بہت تنقید کی تھی یہ قائد نے کیا کیا .. کیوں کہ جو پاکستان کا نقشہ چودھری رحمت نے تجویز کیا تھا .. یہ اس کے مطابق نہیں تھا…… جس کی وجہ سے اس کو ملک بدر کر دیا گیا .. پھر دوبارہ اس کو ملک نہیں انے دیا گیا …اور وہ یو کے میں کہیں دفن ہے …

    آج ہماری معاشرتی علوم میں صرف یہ لکھا ہے کہ چودری صاحب نے پاکستان کا نام تجویز کیا لیکن یہ نہیں بتایا جاتا اس غریب کا انجام کیا ہوا تھا

    #28
    SAIT
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1876
    • Total Posts: 1888
    • Join Date:
      25 Oct, 2016

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    :hilar: :hilar: :hilar:

    شکر ہے قائد اعظم مسلمانوں کے لیڈر تھے – دہریوں کے لیڈر نہیں تھے جو جھوٹ بولتے پکڑے جائیں تو بلکل شرمندہ نہیں ہوتے- قائد اعظم کی بیوی پارسی تھیں لیکن شادی سے پہلے اس نے اسلام قبول کر لیا تھا- قائد اعظم نے پارسی عورت سے شادی نہیں کی تھی – ہور کنے جھوٹ بولو گے او ڈنگرو
    اچھا اب ٹوئسٹ یہ ہے کہ قائد اعظم اپنی بیٹی سے اوپر اوپر سے لا تعلق تھے -اگر ایسا ہے تو انہوں نے ضرور اپنی جائیداد کی وصیت میں اپنی بیٹی کے نام کچھ نا کچھ تو چھوڑا ہو گا – لیکن ان کی وصیت میں انکی بیٹی کا ذکر تک نہیں

    It was his legal training, a habit more than premonition that directed him to prepare a will in which he recorded the distribution of his assets between his immediate family. After making bequests to his three sisters and brother Ahmed, he left to Fatima his “house and all that land with appurtenances, outhouses etc. situated at Mount Pleasant Road, Malabar Hill, Bombay, including all the furniture, plates, silver and Motor Cars in its entirety as it stands absolutely.” His daughter received not even a mention in the will.

    Source

    لیکن آپ سب لوگوں کو چھوڑیں – اس فورم کے سرٹیفائد جھوٹے دہریوں کی باتوں کو ہی درست سمجھیں – کیونکہ انکے اندر بھی ایک اوریہ مقبول جان بیٹھا ہوا ہے – جسے جھوٹ بولنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں

    اوے ڈنگرو نا تم لوگوں کو مذہب کی سمجھ ہے . نا سائنس کی اور نا ہی تاریخ کی – شائد اسی لئے دہرئے ہو

    :hilar: :hilar: :hilar:

    • This reply was modified 1 year ago by SAIT.
    #29
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    پی ایچ ڈی نے ووہی چھوتی کی معاشرتی علوم والا سبق پڑھنا شروع کر دیا اب اتنا دماغ کس پاس ہے اس کو بات سمجھانے
    #30
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 154
    • Posts: 15514
    • Total Posts: 15668
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: بانیِ پاکستان کو زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا؟

    باوا جی خدمت خلق یعنی دہریوں کےلیے انسداد بے رحمی حیوانات کے جذبے تحت کچھ تو مدد کریں -ویسے آپکو انکی ٹانگیں اٹھانے کی ضرورت نہیں یہ عادت کے ہاتھوں مجبور ہیں اور اس معاملے میں خود کفیل ہیں – بس دریاں کرائے پر ہی لے کر دے دیں. مجھ سے تو انکا رنڈی رونا برداشت نہیں ہوتا

    سائیٹ بھائی

    اب آپ نے دوبارہ سفارش کر دی ہے تو فکری بیواؤں کے رنڈی رونا رونے کیلیے دریوں کا انتظام کرنا ہی ہوگا

    کرائے کی خیر ہے لیکن اگر فکری بیواؤں سے شام غریباں چالیس دن سے زیادہ لمبی کی تو پھر میں دریاں ان کے نیچےسے کھینچ کر لے جاؤں گا

Viewing 10 posts - 21 through 30 (of 30 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi