Home Forums Siasi Discussion ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

  • This topic has 6 replies, 4 voices, and was last updated 2 weeks, 1 day ago by unsafe. This post has been viewed 253 times
Viewing 7 posts - 1 through 7 (of 7 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Ghazali Farooq
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Newbie
    • Threads: 2
    • Posts: 2
    • Total Posts: 4
    • Join Date:
      3 Jul, 2021

    Re: ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

    (Axios) پر ایکسی او ز (HBO)  ٢٠ جون ٢٠٢١ کو ایچ بی او

    کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے   کہا کہ “جیسے ہی کشمیر کا تصفیہ ہوجاتاہے دونوں پڑوسی ممالک ( یعنی بھارت اور پاکستان) مہذب لوگوں کی طرح رہنے لگیں گے۔ اس کے بعد ہمیں ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہوگی”۔ وزیر اعظم عمران خان  کی جانب سے اس  نوعیت کا یہ کوئی پہلا  بیان نہیں۔اس سے پہلے  24 جولائی 2019 کو فوکس نیوز کی اینکر پرسن برٹ بائر نے جب عمران خان صاحب  سے دریافت کیا تھا   کہ “اگر بھارت یہ کہہ دے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہوجائے گا تو کیا پاکستان بھی ایسا کرے گا؟” ،تو  خان صاحب  نےبغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ جواب دیا تھا  کہ، “جی ہاں، کیونکہ ایٹمی جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اور پاکستان اور بھارت کےدرمیان ایٹمی جنگ خود کو تباہ کرنا ہے”۔ ایسے ہی  پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے متعلق امریکی خدشات پر خان صاحب  نے  امریکا کو یہ کہہ کر یقین دہانی کرائی تھی  کہ، “ہم اپنے ایٹمی پروگرام کے حفاظتی اقدامات کے حوالےسے امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کرتے  رہتےہیں”۔

    بجائے اس کے کہ حکومت دنیا  کو یہ پیغام دے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام کس قدر مضبوط اور طاقتور ہے تا کہ پاکستان یا امت مسلمہ کی جانب کوئی میلی آنکھ سے  دیکھنے کی جسارت بھی نہ کر پائے ، حکومت  بار بار  یہ  اعلان کر رہی  ہےکہ وہ  خود ایٹمی ہتھیاروں   سے دستبردار ہونے  کے لیے  مکمل تیار ہے ۔جبکہ اس کے بالکل  برعکس   پوری دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں  کو  جدید سے جدید  تر بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔

    اسی طرح ہم نے دیکھا تھا  کہ ا س سال 28 مئی کو ، پاکستان کے ایٹمی تجربات کی یادگار کے موقع پر، بجائے اس  کے کہ حکومت کی جانب سے  ایک طاقتور پیغام جاری کیا جاتا جس میں پاکستان کے یوم تکبیر پر، “قابل اعتبار ڈیٹرینس”(Credible deterrence) یا “ہمہ جہتی  ڈیٹیرینس “(Full spectrum deterrence)کے مضبوط موقف کا اعادہ کیا جاتا،  حکومت نے ایک نہایت   کمزور موقف اپنایا۔ لہٰذا   29 مئی،2021 کو عمران خان صاحب کے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا دورہ کرنے کے بعد  وزیر اعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے   فقط ایک کمزور سی پریس ریلیز جاری  کی گئی  ۔  پھر  اس سلسلے میں حکومت کی  جانب سے اس سے بڑھ کر لاپرواہی اور غفلت  اور کیا  برتی جا  سکتی ہے کہ خان صاحب، جو نیوکلئیر کمانڈ اتھارٹی کے سربراہ بھی  ہیں، 2018 میں وزیراعظم بننے کے بعد یہ ان کا  کسی  جوہری مقام کا پہلا   دورہ  تھا  اور اس میں انہوں نے  پہلی بار اس اتھارٹی کے اجلاس کی صدارت کی، حالانکہ یہ ہتھیار پاکستانی سائنسدانوں، انجینئروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی دہائیوں کی  انتھک اجتمائی  کاوشوں  کا ثمر ہیں۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پاکستان کی موجودہ اور گزشتہ  حکومتوں  کی  لاپرواہی جوہری میزائلوں کے تجربات کی خطرناک حد تک کم تعداد سے بھی عیاں ہے جبکہ مضبوط ڈیٹیرنس کیلئے مسلسل تجربات اور بھرپور سائنسی تحقیق و ترقی کلیدی نوعیت کی حامل ہے۔

     پاکستان کی  حکومت کی  ان سنگین غفلتوں  کے برعکس  مودی کی قیادت تلے   بھارت کی ہندو ریاست، امریکہ، فرانس اور روس سے جدید ترین  ہتھیاروں کی مسلسل خریداری کر رہی ہے، جبکہ بار بار اور بڑے پیمانے پر میزائل تجربات کے ذریعے پاکستان اور چین دونوں کو دھمکی آمیز ایٹمی ڈیٹیرینس کے مضبوط سگنل بھی  بھیج رہی ہے۔لہٰذا ان سنجیدہ  حالات میں   امریکہ میں  وزیر اعظم عمران خان صاحب   کی جانب سے    پاکستان کے  ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق  دیا گیا بیان انتہائی خطرناک    ہے۔  درحقیقت یہ بیان پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر کمپرومائز  سے متعلق  عوام کے جذبات کو پرکھنے   کی ایک کوشش ہے۔ اس لیے اس  کی بھرپور مذمت  کی ضرورت ہے تاکہ ایسے کسی امکان کو ہی  خارج از بحث  قرار   دے دیا جائے، بالکل  ویسے جس طرح   ماضی میں سابق صدر  زرداری نے”  ایٹمی ہتھیار کے  استعمال میں پہل  نہ کرنے” (No First Strike Agreement) کی بات کی تھی اور جس پر شدید ردعمل نے انہیں  اپنی بات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔

    پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کا دعوی  رکھنے  والے  وزیر اعظم عمران خان صاحب کی  جانب سے اس قسم کا بیان افسوس ناک ہونے کے ساتھ اسلام کے خلاف  اور  اس دنیا کی روایات سے بھی ناواقفیت کا ثبوت بھی ہے۔ کمزوری ہمیشہ ظالم کو مزید ظلم کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ طاقت  ظلم کو روکنے میں مدد گار ثابت ہوتی  ہے۔ کیا  بھارت  نے 1971  کی جنگ میں پاکستان کو دولخت نہیں کر دیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ کشمیر کا  حل نکلنے کے بعد ایٹمی ہتھیاروں  کی ضرورت نہ ہو گی؟ کیا اس  جنگ کا تعلق کشمیر سے تھا؟ کیا بھارت  نے سیاچن پر قبضہ نہیں کیا؟ کیا  پاکستان کے تین دریا بھارت سے گزر کر نہیں آتے  جس پر پاکستان آئے دن بھارت سے بلیک میل ہوتا رہتا ہے ؟  کیا اس  کا تعلق بھی محض  کشمیر سے  ہے؟ کیا بھارت ہمیشہ   پاکستان کو نیچا دکھانے  یا کمزور سے کمزور تر  کرنے کے مواقع  تلاش  نہیں کرتا رہتا ؟ یہ ہندو ریاست تو ہندوستان کے ان مسلمانوں کو برداشت نہیں کرتی جو اس کے اپنے شہری ہیں۔پھر  پاکستان کے ایٹمی ہتھیار رکھنے  کے باوجود بھارت کولڈ اسٹارٹ(Cold Start) اور اس جیسے دیگر جارحانہ جنگی منصوبے(ملٹری ڈاکٹرائین)  تشکیل  دینے سے باز نہیں آیا۔ او ر  بھارت اپنے اسلحے کے ذخائر میں زبردست اضافہ امریکا کی مکمل آشیر باد سے کررہا  ہے کیونکہ اس طرح بھارت خطے میں چین کی مخالفت کرنے  اور مسلمانوں کو کچلنے میں امریکا کا معاون ومددگار بن  سکے گا۔ تو آخر خان صاحب کس  بنیاد  پر اس قسم کے  بیانات  دے رہے ہیں؟!!

    جہاں تک امریکا کے ساتھ ہمارے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے  انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کی بات ہے تو یہ  یقیناً اسلام، پاکستان اور خطے کے مسلمانوں کے ساتھ وفاداری نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

    وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ 

    اور جہاں تک ہوسکے  بھرپور قوت اور گھوڑوں کو تیار کرنے کے ذریعے  ان کے مقابلے کی تیاری کرو جس کے ذریعے تم  اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں اور ان کے علاوہ اور لوگوں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے  اللہ جانتا ہے، خوفزدہ کرسکو “(الانفال 8:60)۔

     ہمارا عظیم دین ہم پر لازم کرتا ہے کہ ہم جدید ترین فوجی صلاحیت حاصل کریں جس میں ایٹمی ہتھیار، سٹیلتھ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلائی  ٹیکنالوجی کی صلاحیت بھی شامل ہے تا کہ ہمارے دشمن ہم سے خوفزدہ رہیں۔ ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کا  مقصد صرف ہندو ریاست  ہی کو خوفزدہ رکھنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پروگرام کا مقصد امریکا اور اسرائیل  سمیت تمام  اسلام دشمنوں کو خوفزدہ کرناہونا چاہیے۔ ہماری فوجی برتری کا مقصد صرف ایک دشمن کا مقابلہ کرنانہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا مقصد دنیا میں ظلم کی بالادستی کو ختم کر کے اسلام کی بالادستی کا قیام  ہونا چاہیے۔ آج ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری  کی بات کرنے کی بجائے  ہمیں ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے  جو ہماری زبردست فوجی صلاحیتوں کوامریکی راج  سے چھٹکارا حاصل کرنے،  مسلمانوں کے مقبوضہ علاقوں  کو آزاد کرنے،امت کو یکجا کرنے اور اس ریاست کودنیا کی صف اول کی ریاست بنانےکے لیے استعمال کرے ۔   

    بلاگ سائٹ: http://ghazalifarooq.blogspot.com

    • This topic was modified 2 weeks, 2 days ago by Ghazali Farooq. Reason: arabic font changed to arial
    #2
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 0
    • Posts: 5404
    • Total Posts: 5404
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

    میرے خیال میں عمران خان نے بہت اچھا جواب دیا کہ ھمیں ایٹمی ھتھیاروں کی ضرورت نہیں ۔

    بحیثیت انسان ھم سب کو اپنے ارد گرد کا علم حاصل کرنا چاھیے ۔۔۔ اور کسی بھی قسم کی جنگ و جدل سے باز رھنا چاھیے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اوپر کالم میں ٹی پی کل پا کستانی بڑھکوں والے جذ بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ۔۔۔

    ھمارا دین ھم پر لازم کرتا ہے کہ ھم جدید ترین فوجی صلاحیت حاصل کریں ۔۔۔ اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کریں ۔۔۔ مقبوضہ علاقوں کا آزاد کرائیں دنیا کی صف اول کی ریاست بنا دیں ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں ان جذ باتی بڑھکوں  کے جواب میں  یہ کہنا چاھتا ہوں کہ ھمارا دین سب سے پہلے ھم پر یہ لازم کرتا ہے کہ

    ھم علم حاصل کرلیں وہ علم کہ کون ھمارا دشمن ہے اور کونسی فوج کس دشمن کے پے رول پر کام کرتی ہے

    اس کے بعد فوجی صلاحیت سے دشمن کو خوفزدہ کرنے کا شوق فوری ختم ہو جائے گا ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بھا ئی جان ۔۔۔ فوجی صلاحیت حاصل کرنے سے پہلے علم تو حاصل کرلو ۔۔۔۔ کہ فوجی صلاحیت تمہارے لیئے کا م کرے گی یا کسی اور  کے لیئے ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پا کستانی قوم ابھی ماضی قریب میں اپنی فوجی بالادستی فوجی صلاحیت ۔۔۔ کشمیر ۔۔ کابل ۔۔۔ قندھار ۔۔۔ میں آزما کر ۔۔۔ نا کام و نامراد جھنڈے گاڑ چکی ہے

    پا کستان کے دو تاریخی فوجی جرنیل ۔۔۔۔۔ جرنل ضیاء  اور جرنل مشرف ۔۔۔ جس طرح ۔۔۔فوجی صلا حیتیں دکھا نے کے لیے ۔۔۔ فوجی جنگوں میں کودے اور جس طرح

    ملک کو اندھیروں میں لے گئے ۔۔۔ وہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جا چکا ہے ۔۔۔۔۔۔

    جرنل ضیاٰء اور جرنل مشرف کی فوجی بلا دستی  کے ٹورنامنٹس نے  جس طرح پا کستان کو کمزور لاغر بنا دیا ملک کب کا  کیلا ریپبلک بن چکا ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کابل کشمیر میں  دو تین دھائیوں کے فوجی ٹورنا منٹس کے بعد پا کستان کے ھاتھ نہ صرف خالی رھے ہیں الٹا ملک کھوکھلا کمزور ہوگیا ہے ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس حالیہ فوجی پنگوں سے قوم کو سبق حاصل کرنا چاھیے کہ ۔۔۔ آزمائے کو کیا آزما نا ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوسرے جہاں تک بہت سے پا کستانی بہا دروں  کو ایٹمی ھھتیاروں کے دورے پڑتے رھتے ہیں

    ان کے لیئے عرض ہے کہ ۔۔۔ جنگل میں  ۔۔۔ شیر ۔۔۔چیتے ۔۔۔ ریچھ ۔۔۔ گینڈے ۔۔۔ ھا تھی ۔۔۔ کے ہوتے ہوئے ۔۔۔

    کوئی سینگوں والا ۔۔۔ بیل ۔۔۔۔  کسی حال میں بھی  برتری کا خواب نہیں دیکھ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

    انسان کو اپنے گریبان کا علم حاصل کرتے رھنے چاھیے کہ ۔۔۔ ھم کس قابل کیا کرسکتے ہیں

    کیا نہیں کرسکتے ۔۔۔۔

    ھمارا ملک ۔۔۔  ابھی نندن ۔۔۔ جیسے پا ئلٹ کو ۔۔۔ گرفتار کرکے کورٹ مارشل کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتا ہے  فوری پا ئلٹ چھوڑنا پڑتا ہے ۔۔

    دشمن کو چائے بھی پلا نی پڑتی ہے عزت سے بارڈر تک چھوڑ کر بھی آنا پڑتا ہے ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ھر بندے ھر قوم ھر ملک کو اپنی اوقات کا علم سب سے پہلے حاصل کرنا چاھیے اس کے بعد ۔۔۔ خوا ہشات کے پل با ندھنے چاھیں ۔۔۔

    جنگل   میں شیر ۔۔۔ چیتے ۔۔ ریچھ ۔۔۔ گینڈے ۔۔ ھاتھی کے ہوتے ہوئے ۔۔۔ ایک معمولی بیل کی کوئی اوقات نہیں ہوتی چاھے جتنے بھی بڑے سینگ کرلے ۔۔

    ۔۔۔۔ پا کستانی فوج جتنی مرضی نشان حیدر اکٹھے کرلے ۔۔۔ دنیا کی طاقتوں کے میزائلوں کے دو تین برسٹ ۔۔۔۔ فوجی صلاحیت ٹھنڈی کرسکتے ہیں ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جنگل میں شیر  ۔۔ چیتے ۔۔۔ ریچھ ۔۔۔ گینڈے ۔۔ ھاتھی ۔۔۔ دند نا رھے ہوں تو ۔۔۔ سینگوں والے بیل کو کون پوچھتا ہے ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے حساب سے عمران خان کا ایٹمی ھتھیاروں سے جان چھڑانے کی سوچ بہت اچھی ہے بلکہ

    میرا تو خیال ہے ۔۔۔۔ پا کستان کو ایٹمی ھتھیاروں پر اربوں ڈالر ضا ئیع کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے فوری طور ایٹمی اسلحہ سازی بند کرنی چاھیے  ۔۔۔۔۔

    کون چلانے دے گا ان کو ایٹمی ھتھیار ۔۔۔۔۔ ایک فون پر لیٹتا ہے جن کا سپہ سالار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 2 weeks, 5 days ago by Guilty.
    #3
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

    بھائی جان عمران خان کے بیان پہ کیوں پریشان ہو رہے ہو اس کو پتا ہے کہ کشمیر کا مسلہ انڈیا کے ساتھ ھل نہیں ہو سکتا اور انڈیا ان کی بات کبھی نہیں مانے گا ویسے بھی عمران خان ووہی کچھ کہتا جو اس کو جی ایچ قو کہتا ہے … اور جی ایچ قو کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہو گا … ان کا تو دانا پانی ایٹم بم سے لگا ہوا ہے … میڈیا میں انڈیا پاکستان دشمنی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں … پوری قوم بھوکی مر رہی ہے … تو جناب ٹینشن نہ لو .. کٹپلتی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …

    #4
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 398
    • Posts: 9093
    • Total Posts: 9491
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

    ستر کی دہای میں ایک گاے نے کہا تھا کہ گھاس کھا لوں گی مگر ونڈا نہیں کھاوں  گی اس وقت سے آج تک پاکستانی قوم کامیابی سے گھاس کھا رہی ہے
    #5
    Ghazali Farooq
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Newbie
    • Threads: 2
    • Posts: 2
    • Total Posts: 4
    • Join Date:
      3 Jul, 2021

    Re: ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

    میرے خیال میں عمران خان نے بہت اچھا جواب دیا کہ ھمیں ایٹمی ھتھیاروں کی ضرورت نہیں ۔ بحیثیت انسان ھم سب کو اپنے ارد گرد کا علم حاصل کرنا چاھیے ۔۔۔ اور کسی بھی قسم کی جنگ و جدل سے باز رھنا چاھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوپر کالم میں ٹی پی کل پا کستانی بڑھکوں والے جذ بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ۔۔۔ ھمارا دین ھم پر لازم کرتا ہے کہ ھم جدید ترین فوجی صلاحیت حاصل کریں ۔۔۔ اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کریں ۔۔۔ مقبوضہ علاقوں کا آزاد کرائیں دنیا کی صف اول کی ریاست بنا دیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ان جذ باتی بڑھکوں کے جواب میں یہ کہنا چاھتا ہوں کہ ھمارا دین سب سے پہلے ھم پر یہ لازم کرتا ہے کہ ھم علم حاصل کرلیں وہ علم کہ کون ھمارا دشمن ہے اور کونسی فوج کس دشمن کے پے رول پر کام کرتی ہے اس کے بعد فوجی صلاحیت سے دشمن کو خوفزدہ کرنے کا شوق فوری ختم ہو جائے گا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھا ئی جان ۔۔۔ فوجی صلاحیت حاصل کرنے سے پہلے علم تو حاصل کرلو ۔۔۔۔ کہ فوجی صلاحیت تمہارے لیئے کا م کرے گی یا کسی اور کے لیئے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پا کستانی قوم ابھی ماضی قریب میں اپنی فوجی بالادستی فوجی صلاحیت ۔۔۔ کشمیر ۔۔ کابل ۔۔۔ قندھار ۔۔۔ میں آزما کر ۔۔۔ نا کام و نامراد جھنڈے گاڑ چکی ہے پا کستان کے دو تاریخی فوجی جرنیل ۔۔۔۔۔ جرنل ضیاء اور جرنل مشرف ۔۔۔ جس طرح ۔۔۔فوجی صلا حیتیں دکھا نے کے لیے ۔۔۔ فوجی جنگوں میں کودے اور جس طرح ملک کو اندھیروں میں لے گئے ۔۔۔ وہ تاریخ میں سیاہ حروف سے لکھا جا چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ جرنل ضیاٰء اور جرنل مشرف کی فوجی بلا دستی کے ٹورنامنٹس نے جس طرح پا کستان کو کمزور لاغر بنا دیا ملک کب کا کیلا ریپبلک بن چکا ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کابل کشمیر میں دو تین دھائیوں کے فوجی ٹورنا منٹس کے بعد پا کستان کے ھاتھ نہ صرف خالی رھے ہیں الٹا ملک کھوکھلا کمزور ہوگیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس حالیہ فوجی پنگوں سے قوم کو سبق حاصل کرنا چاھیے کہ ۔۔۔ آزمائے کو کیا آزما نا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے جہاں تک بہت سے پا کستانی بہا دروں کو ایٹمی ھھتیاروں کے دورے پڑتے رھتے ہیں ان کے لیئے عرض ہے کہ ۔۔۔ جنگل میں ۔۔۔ شیر ۔۔۔چیتے ۔۔۔ ریچھ ۔۔۔ گینڈے ۔۔۔ ھا تھی ۔۔۔ کے ہوتے ہوئے ۔۔۔ کوئی سینگوں والا ۔۔۔ بیل ۔۔۔۔ کسی حال میں بھی برتری کا خواب نہیں دیکھ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ انسان کو اپنے گریبان کا علم حاصل کرتے رھنے چاھیے کہ ۔۔۔ ھم کس قابل کیا کرسکتے ہیں کیا نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ ھمارا ملک ۔۔۔ ابھی نندن ۔۔۔ جیسے پا ئلٹ کو ۔۔۔ گرفتار کرکے کورٹ مارشل کرنے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتا ہے فوری پا ئلٹ چھوڑنا پڑتا ہے ۔۔ دشمن کو چائے بھی پلا نی پڑتی ہے عزت سے بارڈر تک چھوڑ کر بھی آنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھر بندے ھر قوم ھر ملک کو اپنی اوقات کا علم سب سے پہلے حاصل کرنا چاھیے اس کے بعد ۔۔۔ خوا ہشات کے پل با ندھنے چاھیں ۔۔۔ جنگل میں شیر ۔۔۔ چیتے ۔۔ ریچھ ۔۔۔ گینڈے ۔۔ ھاتھی کے ہوتے ہوئے ۔۔۔ ایک معمولی بیل کی کوئی اوقات نہیں ہوتی چاھے جتنے بھی بڑے سینگ کرلے ۔۔ ۔۔۔۔ پا کستانی فوج جتنی مرضی نشان حیدر اکٹھے کرلے ۔۔۔ دنیا کی طاقتوں کے میزائلوں کے دو تین برسٹ ۔۔۔۔ فوجی صلاحیت ٹھنڈی کرسکتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگل میں شیر ۔۔ چیتے ۔۔۔ ریچھ ۔۔۔ گینڈے ۔۔ ھاتھی ۔۔۔ دند نا رھے ہوں تو ۔۔۔ سینگوں والے بیل کو کون پوچھتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے حساب سے عمران خان کا ایٹمی ھتھیاروں سے جان چھڑانے کی سوچ بہت اچھی ہے بلکہ میرا تو خیال ہے ۔۔۔۔ پا کستان کو ایٹمی ھتھیاروں پر اربوں ڈالر ضا ئیع کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے فوری طور ایٹمی اسلحہ سازی بند کرنی چاھیے ۔۔۔۔۔ کون چلانے دے گا ان کو ایٹمی ھتھیار ۔۔۔۔۔ ایک فون پر لیٹتا ہے جن کا سپہ سالار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ کی قیمتی آراء کے لیے نہایت مشکور ہوں۔ آپ نے درست فرمایا کہ اس بات کا علم ہونا چاہیئے کہ جس ادارے کی مضبوطی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ کس کے لیئے کام کر رہا ہے۔ یہ بات بدقسمتی سے درست ہے کہ اس ادارے کی قیادت اس وقت اس ادارے کو  استعمار کی پالیسی کے مطابق لے کر چل رہی ہے۔ یہ قیادت ہماری افواج سے  امریکہ کی “دہشت گردی کے خلاف جنگ” اور اقوام متحدہ کے استعماری مشنز کی جنگیں تو لڑوا سکتی ہے لیکن کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے انہیں روانہ نہیں کر سکتی یا اس مقدس مقصد کے لیے مسلم افواج کا کوئی اتحاد قائم کرنے کی سعی نہیں کر سکتی۔

    لیکن یہ مطالبہ کی پاکستان کو ایٹمی طاقت سے دستبردار نہیں ہونا چاہیئے ، درست قیادت کے مطالبے سے خالی نہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادتیں بھی ایسی ہوں جو اس ایٹمی طاقت کوصحیح معنوں میں  ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کر سکیں تا کہ بھارت کو کشمیر کا الحاق کرنا تو دور کی بات اس کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی بھی جرأت نہ ہو سکے۔  

    باقی پاکستانی فوج کی کشمیر میں  کامیاب مزاحمت قائم رکھنے   میں  ناکامی یا ابھی نندن کی فوری واپسی وغیرہ کی وجہ پاکستانی فوج کی قابلیت میں کمی نہیں بلکہ فوجی قیادت کی جانب سے امریکہ کی غلامی اور اس خطے کے لیے امریکی  پالیسی پر عمل درآمد کا ہونا ہے۔اگر فوجیاور سیاسی  قیادت کسی بیرونی اثر و رسوخ میں آئے بغیر خود مختارانہ طور پر پاکستان اور مسلمانوں کے حق میں فیصلے لے تو پاکستان بہت سے محاذوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

             

    #6
    Ghazali Farooq
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Newbie
    • Threads: 2
    • Posts: 2
    • Total Posts: 4
    • Join Date:
      3 Jul, 2021

    Re: ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

    بھائی جان عمران خان کے بیان پہ کیوں پریشان ہو رہے ہو اس کو پتا ہے کہ کشمیر کا مسلہ انڈیا کے ساتھ ھل نہیں ہو سکتا اور انڈیا ان کی بات کبھی نہیں مانے گا ویسے بھی عمران خان ووہی کچھ کہتا جو اس کو جی ایچ قو کہتا ہے … اور جی ایچ قو کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہو گا … ان کا تو دانا پانی ایٹم بم سے لگا ہوا ہے … میڈیا میں انڈیا پاکستان دشمنی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں … پوری قوم بھوکی مر رہی ہے … تو جناب ٹینشن نہ لو .. کٹپلتی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا …

    دراصل جب سیاسی قیادت کی جانب سے کسی بات کا بار بار اظہار ہو اور فوجی قیادت کی جانب سے اس کی تصحیح  نہ کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں سیاسی اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہیں۔ وزیر اعظم صاحب نے ایک سے زیادہ مرتبہ اور مختلف مواقع پر یہ بات کی ہے اور اس کی کہیں سے کوئی تصحیح نہیں آئی۔

    باقی کہا تو یہ بھی جاتا تھا کہ پاکستان بھارت کو کبھی کشمیر کا الحاق نہیں کرنے دے گا کیونکہ کشمیر کے نام سے ہی تواس ادارے کا دانہ پانی چلتا ہے اور بجٹ میں اس کے لیے فنڈز مختض ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کا سودا کر دیا گیا۔ بلکہ اس کو پکا کرنے کے لیے گلگت بلتستان کو بھی صوبے کا درجہ دے دیا گیا اور اس صوبہ کو بنانے کے لیے فوجی قیادت کی جانب سے تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کی ہنگامی طور پر خفیہ میٹنگ بلائی گئی جس کی خبر بعد میں لیک ہوئی۔ یہ سب امریکی ایماء پر ہوا کیونکہ امریکہ کشمیر کا مسٔلہ بھارت کے حق میں حل کر کے بھارت کی توجہ مکمل طور پر  چین کی جانب مرکوز کروانا چاہتا ہے۔ 

    تو اسی طرح امریکی ایماء پر  ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری بھی کوئی بعید نہیں۔ اور جب بار بار اس سلسلہ میں عوامی سطح پر بیانات دیے جا رہے ہوں تو اس سے معلوم یہ  ہوتا ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت امریکی غلامی میں اس حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ لیکن صرف عوام کا دباؤ اور رد عمل انہیں شاید ایسا کرنے سے روکے رکھے۔ لہٰذا اس بات کی کھل کر تردید کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی عوام ایسا بالکل بھی ہونے نہیں دینا چاہتی۔         

    • This reply was modified 2 weeks, 2 days ago by Developer.
    #7
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 54
    • Posts: 1035
    • Total Posts: 1089
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری؟

    دراصل جب سیاسی قیادت کی جانب سے کسی بات کا بار بار اظہار ہو اور فوجی قیادت کی جانب سے اس کی تصحیح نہ کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں سیاسی اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہیں۔ وزیر اعظم صاحب نے ایک سے زیادہ مرتبہ اور مختلف مواقع پر یہ بات کی ہے اور اس کی کہیں سے کوئی تصحیح نہیں آئی۔

    باقی کہا تو یہ بھی جاتا تھا کہ پاکستان بھارت کو کبھی کشمیر کا الحاق نہیں کرنے دے گا کیونکہ کشمیر کے نام سے ہی تواس ادارے کا دانہ پانی چلتا ہے اور بجٹ میں اس کے لیے فنڈز مختض ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کشمیر کا سودا کر دیا گیا۔ بلکہ اس کو پکا کرنے کے لیے گلگت بلتستان کو بھی صوبے کا درجہ دے دیا گیا اور اس صوبہ کو بنانے کے لیے فوجی قیادت کی جانب سے تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کی ہنگامی طور پر خفیہ میٹنگ بلائی گئی جس کی خبر بعد میں لیک ہوئی۔ یہ سب امریکی ایماء پر ہوا کیونکہ امریکہ کشمیر کا مسٔلہ بھارت کے حق میں حل کر کے بھارت کی توجہ مکمل طور پر چین کی جانب مرکوز کروانا چاہتا ہے۔

    تو اسی طرح امریکی ایماء پر ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری بھی کوئی بعید نہیں۔ اور جب بار بار اس سلسلہ میں عوامی سطح پر بیانات دیے جا رہے ہوں تو اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت امریکی غلامی میں اس حد تک جانے کے لیے بھی تیار ہے۔ لیکن صرف عوام کا دباؤ اور رد عمل انہیں شاید ایسا کرنے سے روکے رکھے۔ لہٰذا اس بات کی کھل کر تردید کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی عوام ایسا بالکل بھی ہونے نہیں دینا چاہتی۔

    بھائی جان ،،، انٹرنشنل اور لوکل سیاست میں فرق ہوتا ہے … مرے خیال میں عمران خان صاحب نے ایک سیاسی بیان دیا ہے … تا کہ امریکا کشمیری مسلے کا کوئی ھل نکالے .. اس بات میں پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہے … آپ کو ایٹمی ہتھیاروں کی فکر لگ گئی ہے اور کشمیریوں کی کوئی فکر نہیں ہے … کیا دین یہی کہتا ہے … آپ کے پاس ہتھیار مجود ہیں ،، تو کشمیر کو آزاد کیوں نہیں کروا رہے ہو ،، ایسے ہتھیاروں کو کیا انڈے دینے کے لئے رکھا ہے ،،، اگر دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو جایں تو اس میں عوام کا ہی فائدہ ہے .. جن کے خون پسینے سے ان ہتھیاروں کا ایندھن بنتا ہے

    باقی آپ کو ایک بات کی یقین دہانی کروں یہ ہتھیار صرف نماش کے لئے رکھے ہوے …. کیوں کہ پاکستان کے اصل دشمن تو اس کے اندر ہیں … جو ہر سال کٹ پلتی لے کر اتے ہیں …. جن کی وجہ سے پہلے مشرقی پاکستان جا چکا ہے

    • This reply was modified 2 weeks, 1 day ago by unsafe.
Viewing 7 posts - 1 through 7 (of 7 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi