Home Forums Siasi Discussion اگر میں اقتدار سے باہر نکل گیا تو آپ کے لیے زیادہ خطرناک ہوں: عمران خان

Viewing 8 posts - 1 through 8 (of 8 total)
  • Author
    Posts
  • حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اتوار کو عوام کے سوالات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے ملک کی حزب اختلاف کی جماعتوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار سے باہر نکل کر سڑکوں پر آ گئے تو وہ اپوزیشن جماعتوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔
    ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والے اس سیشن کے دوران عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ابھی تک تو میں چپ کر کے دفتر میں بیٹھا ہوتا ہوں، یا تماشے دیکھ رہا ہوتا ہوں، میں اگر سڑکوں پر نکل آیا تو آپ لوگوں کے لیے چھپنے کی جگہ نہیں ہو گی، کیونکہ لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں۔
    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ وہ نہ صرف یہ مدت پوری کریں گے بلکہ آئندہ مدت بھی پوری کریں گے۔
    عمران خان سے عوام کے سوالات اور جوابات یہ پروگرام ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ماہ پارٹی اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور عمران خان کی نوک جھوک کی خبریں منظرعام پر آئی ہیں جبکہ دوسری جانب حزبِ اختلاف پارلیمان میں ان ہاؤس چینج اور لانگ مارچ کی تیاریوں کا عندیہ دے رہی ہے۔
    آپ کا وزیرِاعظم آپ کے ساتھ‘ کے نام سے عوام سے براہ راست گفتگو کرنے کا یہ معمول نیا نہیں ہے تاہم اس مرتبہ یہ نشست ایک عرصے کے بعد لگائی گئی تھی جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ سوالات کے جواب پارلیمان میں دینا چاہتے ہیں لیکن انھیں حزبِ اختلاف کی جانب سے بولنے نہیں دیا جاتا۔
    ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے عمران خان کو ایک ٹویٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ‘آپ کی دھمکیاں کہ اقتدار سے نکالا گیا تو مزید خطرناک ہو جاؤں گا گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہیں۔
    جس دن آپ اقتدار سے نکلے عوام شکرانے کے نفل پڑھیں گے۔ نہ آپ نواز شریف ہیں جس کے پیچھے عوام کھڑی تھی نہ ہی آپ بیچارے اور مظلوم ہیں۔ آپ سازشی ہیں اور مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں۔

    ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ لندن سے واپس آ جائے، وہ واپس نہیں آنے لگا

    عمران خان نے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘اگر میں اقتدار سے باہر نکل گیا تو میں آپ کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔
    فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے شہری کی طرف سے سوال پوچھا گیا تھا کہ اپوزیشن لانگ مارچ کا منصوبہ رکھتی ہے، تو کیا حکومت اس بارے میں پریشان ہے؟
    عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘جب سے میں اقتدار میں آیا ہوں تو کبھی ایک سیاست دان کہتا ہے کہ اب گئی حکومت اور کبھی دوسرا۔۔۔ اور یہ پبلک کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کو یا تو ذوالفقار علی بھٹو نے نکالا، یا وہ میرے ساتھ نکلے۔ وہ انگریزی کا محاورا ہے کہ اب ہر وقت تمام لوگوں کو بیوقوف نہیں بنا سکتے۔
    ہاں مہنگائی ہے، عوام تنگ ہیں لیکن وہ آپ کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔ کیونکہ میرے ساتھ وہ اس لیے نکلے تھے کیونکہ میں ان کی چوری بچانا چاہتا تھا اور آپ اپنی چوری بچانے کے لیے نکل رہے ہیں۔
    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت یہ مدت بھی پوری کرے گی اور اگلی بھی مدت کر ے گی۔ ہم اتنے مشکل وقت سے نکلے ہیں، کسی حکومت کو وہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو ہمیں کرنا پڑا ہے۔
    عمران خان کا اس سوال کے جواب میں مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہماری جماعت نہ صرف یہ مدت پوری کرے گی بلکہ آئندہ مدت بھی پوری کرے گی اور میں خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میں اقتدار سے باہر نکل گیا تو میں آپ کے لیے زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔
    ابھی تک تو میں چپ کر کے دفتر میں بیٹھا ہوتا ہوں، یا تماشے دیکھ رہا ہوتا ہوں، میں اگر سڑکوں پر نکل آیا تو آپ لوگوں کے لیے چھپنے کی جگہ نہیں ہو گی، کیونکہ لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں۔ اور جو آپ نے اس ملک کے ساتھ 30 سالوں میں کیا ہے، جو لوگوں میں لاوا پک رہا ہے آپ کے خلاف، لوگوں کو صرف آپ کی طرف دکھانا ہے، اور پھر کوئی لندن بھاگ رہا ہو گا۔
    عمران خان کا نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ وہ لندن سے آج آ جائے گا، کل آ جائے گا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ لندن سے واپس آ جائے، وہ واپس نہیں آنے لگا۔ اس کو پیسے سے پیار ہے، جو پیسے کی پوجا کرتا ہے، وہ کبھی بھی اسے گنوانا نہیں چاہتا۔
    یہاں شوشے چھوڑتے رہتے کہ آج ڈیل ہو گئی، کل ڈیل ہو گئی۔۔۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کا وقت ختم ہو چکا ہے۔

    ملک بہت اچھے صحافی بھی ہیں، لیکن ایسے بھی ہیں جو ہر وقت مایوسی پھیلاتے ہیں‘

    ایک خاتون کالر نے راولپنڈی سے کال کر کے وزیرِ اعظم عمران خان سے پوچھا کہ ’پچھلے سال اسی پروگرام میں مہنگائی کے سوال پر آپ نے کہا تھا کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیا جائے گا، اب مہنگائی دگنی ہونے کو ہے، شاید آپ کو مکمل صورتحال نہیں بتائی جاتی، آپ اور کچھ نہیں کر سکتے تو آن لائن جا کر آٹے اور دال کی قیمتیں دیکھ لیں اور ہمیں بتا دیں کہ اب گھبرا لیں۔
    عمران خان نے جواب میں کہا کہ ’مجھے ایک گھنٹے میں پتا چل جاتا ہے، کہ کہاں کتنی مہنگائی ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو مجھے راتوں کو جگاتی ہے۔
    تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اس ملک بہت اچھے صحافی بھی موجود ہیں، جو لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایسے بھی ہیں جو سارا وقت مایوسی پھیلا دیتے ہیں۔ مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔
    عمران خان کا ایک اور سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’پاکستان میں سرمایہ دار اور کارپوریٹ کمپنیوں کو ریکارڈ منافع ہو رہا ہے لیکن وہ مزدور طبقے کی تنخواہیں نہیں بڑھا رہے، میں نے ان سے اپیل بھی کی ہے، اور میں انھیں اپنے پاس بلا کر بھی یہ بات کہوں گا۔
    ان کا کہنا تھا کہ ’کورونا وبا کی وجہ سے سپلائی میں کمی کے باعث پوری دنیا میں مہنگائی ہوئی، مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے، دنیا کے کئی امیر ترین ممالک میں بھی مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔
    خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین ایک طبقہ پاکستان میں صدارتی نظام حکومت رائج کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
    عمران خان کی جانب سے صدارتی نظام کے حوالے سے بھی سوال پوچھا گیا ان کا کہنا تھا کہ ‘میں جب وزیرِ اعظم بنا تو میں نے قوم سے خطاب کیا تو میں نے قوم سے ایک بات کہی تھی کہ آپ کو بڑا شور ملے گا، اور ساری جگہ سے آوازیں آئیں گی کہ نااہل ہے یہ، ملک تباہ کر دیا، اور میں نے تب ہی کہا تھا کہ ہم کوئی مفاہمت نہیں کرنی۔
    یہ مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ میں بھی جنرل مشرف کی طرح انھیں این آر او دے دوں گا، لیکن میرے نزدیک یہ ملک کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ملک تباہ ہو گیا ہے تو معیشت کی شرح نمو پانچ اعشاریہ تین فیصد کیوں ہے۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-60103364

    Jack Sparrow
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #2
    ایک بات طے ہے خان جرنیلوں کے تمام سوراخوں سے دھواں نکال کر چھوڑے گا

    میچ  ففتھیوں اور یوتھیوں کے بیچ پڑ گیا ہے

    Sohraab
    Participant
    Offline
    • Expert
    #3
    kal se imran khan khoob zaleel ho raha hai
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #4
    عمران خان بھی ۔۔۔۔ بجا ئے ۔۔۔ شرمندہ  ۔۔۔ نا دم ۔۔۔۔ ہونے کے ۔۔۔۔۔ مری ۔۔۔۔ والوں کی طرح ۔۔۔۔ غنڈ ہ گردی سے جواب دے رھا ہے ۔۔۔۔۔

    دنیا میں تعلیم کے فروغ ۔۔۔ یو نیورسٹیوں کی بہتا ت ۔۔۔ ٹیکنا لوجی کی ایجا دات و ڈ سکوریز کا یہ فا ئدہ ہوا ہے کہ ۔۔۔۔

    ۔۔ پا کستان میں ۔۔۔۔۔ لیڈروں  ۔۔۔ سمیت ۔۔۔ پوری ۔۔۔ قوم ۔۔۔۔ پورا ملک ۔۔۔۔ غنڈ ستان ۔۔۔ دھمکیستان ۔۔۔۔ بن چکا ہے  ۔۔۔۔۔۔

    پا کستان میں وہ وقت آچکا ہے جہا ں ۔۔۔۔۔ وزیراعظم ۔۔۔۔ سے لیکر ۔۔۔ چیف آف سٹاف ۔۔۔ تک ۔۔۔۔۔۔۔ بغیر د لیل ۔۔۔۔ کے ۔۔۔۔ غنڈ  ہ گردی ۔۔۔۔ بد معاشی ۔۔۔۔ زور ۔۔۔ دھکمی ۔۔۔۔ سے معملا ت چلا نے کو ترجیع دیتے ہیں ۔۔۔

    یونیورسٹیوں اور ٹیکنا لوجی سے پہلے ۔۔۔۔ سڑکوں پر ۔۔۔۔  بد معاش ۔۔۔ دھمکیاں ۔۔۔ غنڈہ گردی کرتے تھے ۔۔۔۔۔

    یونیورسٹیوں ۔۔۔ ٹیکنا لوجی ۔۔۔۔ ورلڈ کپ ۔۔۔۔ جیتنے کے بعد ۔۔۔ اب ۔۔۔۔ پا کستان میں ۔۔۔ وزیراعظم ۔۔۔۔ ٹی وی پر بیٹھ کر ۔۔۔ پوری قوم کے سا منے ۔۔۔۔۔ غنڈ ہ گردی دھکمیوں سے حکومت چلا تا ہے ۔۔۔۔

    اس سے اچھا نہیں تھا کسی طوائف  یا ۔۔۔۔  نا ئکہ ۔۔۔۔ کو وزیر اعظم بنا دیا جا تا ۔۔۔۔ سنا ہے ۔۔۔۔ طوائف ۔۔۔ اور نا ئکہ ۔۔۔۔ بہت تہذ یب سے پیش اتی ہیں اپنے بزنس میں ۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 3 months, 3 weeks ago by Guilty.
    کک باکسر
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #5
     اس سے اچھا نہیں تھا کسی طوائف یا ۔۔۔۔ نا ئکہ ۔۔۔۔ کو وزیر اعظم بنا دیا جا تا ۔۔۔۔ سنا ہے ۔۔۔۔ طوائف ۔۔۔ اور نا ئکہ ۔۔۔۔ بہت تہذ یب سے پیش اتی ہیں اپنے بزنس میں ۔۔۔۔۔

    چلو پھر مریم نواز کو وزیر اعظم بنا دیتے ہیں۔ تیرے بھی پیسے پورے ہو جائیں گے

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #6
    چلو پھر مریم نواز کو وزیر اعظم بنا دیتے ہیں۔ تیرے بھی پیسے پورے ہو جائیں گے

    مریم نواز تو ابھی بھی وزیراعظم کے لیول پر ہی سیا ست کررھی ہے ۔۔۔۔۔ عمران خان کو فوج کو ۔۔۔۔ للکار کر ۔۔۔۔ بے عزت کرتی ہے ۔۔۔۔

    ا تنی بہادر عورت نہ دیکھی نہ سنی ۔۔۔۔ جو ۔۔۔۔ پا ک فوج ۔۔۔۔ کے متھے لگ سکتی ہو ۔۔۔۔ اکیلی ۔۔۔۔

    ورنہ پا کستان میں تو پورا شہر ۔۔۔۔۔ ایک ۔۔۔۔ ڈی ایس پی ۔۔۔۔۔ کے متھے نہیں لگ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔

    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #7

    اس طرح کے بیان سے عمران خان کی بچگانہ سوچ کا پتا چلتا ہے کہ اس بندے کو ملک و عوام سے کو دلچپسی نہیں ہے بلکے یہ لوگوں کو نیچا دیکھانا چاہتا ہے … ایک انتہائی کم انٹلیککٹ والا بندا اس طرح کے سیاسی بیان دے سکتا ہے .. ایک حقیقی لیڈر اس طرح کی چولیں مارنے سے گریز کرتا ہے …. …..

Viewing 8 posts - 1 through 8 (of 8 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi