Home Forums Siasi Discussion اپوزیشن اتنی با اھتماد کیوں نظر آ رہی ہے ؟

Viewing 16 posts - 1 through 16 (of 16 total)
  • Author
    Posts
  • Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #1
    پہلے تو بات جلسے جلسوں کی تھی – مگر آج اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ دسمبر اکتیس تک سب جماھتیں اپنے استعفے مولانا فضل ار رحمٰن کے پاس جمع کرا دیں – خبر کے مطابق یہ تجویز لندن سے میاں صاحب نے دی ہے – اس فیصلے تک پوھنچنے کے پیچھے دو تھیوریز ہو سکتی ہیں – ایک تو یہ کہ اپوزیشن کو اب باجوہ صاحب کی طرف سے بھی اشارہ مل گیا ہے اور اب دباؤ باجوہ صاحب پر نہیں خان صاحب پر ڈالنا مقصود ہے – خان صاحب نے ایک سیکنڈ کا وقفہ کئے بغیر فرما دیا کہ ہم ضمنی الیکشن کروا دیں گے مگر کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہے – اگر استعفے آ گئے خاص کر سندھ میں سے بھی جہاں پیپلز پارٹی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے تو سینٹ کے الیکشن نہیں ہو سکیں گے – سینیٹ کے الیکشن کا نہ ہونا بحران کو مزید گہرا کرے گا مگر یہ تو دور کی بات ہے فلحال تو لاہور کے جلسے کے بھد اپوزیشن اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی اور دھرنا دے گی – اگر تو میری پہلی تھیوری درست ہے تو اسٹیبلشمنٹ اس میں رخنہ نہیں ڈالے گی اور خان حکومت پر دباؤ بڑھنے دے گی یہاں تک کہ خان استعفیٰ دینے کے لئے راضی ہو جائے – اگر میری پہلی تھیوری درست نہیں ہے تو دوسری تو لازمی درست ہے وہ یہ ہے کہ اپوزیشن نے آگے کے لئے اپنا پورا روڈ میپ تیار کر لیا ہے بغیر اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے اور اس روڈ میپ میں دھرنا ہڑتالیں اور آخر میں اسمبلیوں سے استعفیٰ ہے جو ممکنہ طور پر سینیٹ الیکشن سے تھوڑا سا پہلے ہو گا تا کہ سینیٹ الیکشن نہ ہو سکیں اور خان دباؤ میں آ گیا تو ٹھیک ہے ورنہ اسٹیبلشمنٹ ضرور آئے گی -میری پہلی تھیوری درست ہو یا دوسری لیکن مجھے ایک بات کا یقین ہے کہ خان استعفیٰ نہیں دے گا بھلے اسٹیبلشمنٹ اس کے خلاف تن کر کھڑی ہو جائے – یہ ساری فرما برداری اقتدار تک ہے جب اقتدار ہی جاتا نظر آیا تو خان بھی طاقت وروں کے آگے کھڑا ہو جائے گا یہ الگ بات ہے کہ اس طرح وہ اپنی حکومت نہیں بچا پائے گا – اگر خان نے استعفیٰ نہ دیا تو اسٹیبلشمنٹ تحریک عدم اھتماد لا کر کسی اور کو لے آئے گی جو اسمبلیاں توڑ دے گا – اس بات پر دوستوں کی رائے چاھوں گا

    Bawa

    Atif Qazi

    Zaidi

    Anjaan

    JMP

    Ghost Protocol

    SaleemRaza

    BlackSheep

    Amir Ali

    Believer12

    @صحرائی 

    • This topic was modified 2 years ago by Awan.
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    #2
    Awan sahib

    محترم اعوان صاحب

    بہت شکریہ

    میں اس بات پر یقین کم رکھتا ہوں کے احتجاج عوام یا حزب اختلاف کا دیرینہ حق ہے . میں اس بات سے بھی نہ متفق ہوں نہ حمایت کرتا ہوں کے ہر حزب اختلاف ، حکومت کے خلف ہر دم احتجاج کرتی رہے، ساز باز کرتی رہے . حزب اختلاف کو احتجاج کا حق ہے اور اس کے لئے ایک ایوان موجود ہے. ہاں اگر حکومت غیر قانونی اقدام کرے، اپنے شہریوں کی جان اور مال اور عزت پر حملہ کرے تو احتجاج باہر کرنا میرے خیال میں مناسب ہے.

    میرے خیال میں موجودہ حکومت کو پانچ سال حکومت کرنی چاہیے اگر وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتی اور نہ اپنے عوام کی جان ، مال ، عزت کو خطرے میں ڈالتی ہے

    میرے نزدیک مسلم لیگ نون یا محترم نواز شریف صاحب یا محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی اس محفل یا کئی اور جگہوں پر حمایت کے پیچھے مختلف عوامل ہو سکتے ہیں مگر اس میں ایک عنصر غالب ہے بلکہ بہت ہی غالب ہے اور اس موجودہ حمایت کا تعلق شاید عوامی حقوق، جمہوریت کی بالادستی ، ووٹ کو عزت وغیرہ سے ہو سکتا ہے مگر اتنا نہیں جتنا کے ظاہر کیا جاتا ہے . وہ ایک غالب عنصر کیا ہے اس کو آپ سب خود سوچ سکتے ہیں

    میرے نزدیک موجودہ حکومت کا خاتمہ اگر احتجاج یا کسی پس پردہ طاقت کی حمایت یا خرید و فروخت یا لالچ سے کیا جاۓ تو انتہائی افسوس اور شرمندگی کا سبب ہو گا

    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #3

    Awan sahib

    محترم اعوان صاحب

    بہت شکریہ

    میں اس بات پر یقین کم رکھتا ہوں کے احتجاج عوام یا حزب اختلاف کا دیرینہ حق ہے . میں اس بات سے بھی نہ متفق ہوں نہ حمایت کرتا ہوں کے ہر حزب اختلاف ، حکومت کے خلف ہر دم احتجاج کرتی رہے، ساز باز کرتی رہے . حزب اختلاف کو احتجاج کا حق ہے اور اس کے لئے ایک ایوان موجود ہے. ہاں اگر حکومت غیر قانونی اقدام کرے، اپنے شہریوں کی جان اور مال اور عزت پر حملہ کرے تو احتجاج باہر کرنا میرے خیال میں مناسب ہے.

    میرے خیال میں موجودہ حکومت کو پانچ سال حکومت کرنی چاہیے اگر وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتی اور نہ اپنے عوام کی جان ، مال ، عزت کو خطرے میں ڈالتی ہے

    میرے نزدیک مسلم لیگ نون یا محترم نواز شریف صاحب یا محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی اس محفل یا کئی اور جگہوں پر حمایت کے پیچھے مختلف عوامل ہو سکتے ہیں مگر اس میں ایک عنصر غالب ہے بلکہ بہت ہی غالب ہے اور اس موجودہ حمایت کا تعلق شاید عوامی حقوق، جمہوریت کی بالادستی ، ووٹ کو عزت وغیرہ سے ہو سکتا ہے مگر اتنا نہیں جتنا کے ظاہر کیا جاتا ہے . وہ ایک غالب عنصر کیا ہے اس کو آپ سب خود سوچ سکتے ہیں

    میرے نزدیک موجودہ حکومت کا خاتمہ اگر احتجاج یا کسی پس پردہ طاقت کی حمایت یا خرید و فروخت یا لالچ سے کیا جاۓ تو انتہائی افسوس اور شرمندگی کا سبب ہو گا

    جے بھائی مسلہ یہ نہیں ہے کہ اپوزیشن خان حکومت کو پانچ سال پورے نہیں کرنے دینا چاہتی مسلہ کچھ ہے – موجودہ سیٹ اپ خان اور طاقت ور دونوں کو سوٹ کرتا ہے کیونکے بھلے کٹ پتھلی ہی سہی خان خوش ہے کہ وہ وزیر اعظم تو ہے اور اب فوج بھی خوش ہے کہ کابینہ میں کوئی ایسی سیٹ نہیں جہاں فوجی مشیر بن کر اس وزارت کو کنٹرول نہ کر رہا ہو اسی طرح تمام اداروں کے سربراہ بھی فوجی ہیں یوں فوج مزے میں ہے اور اب تک اس سیٹ اپ کو لمبے عرصے کے لئے رکھنے کی بحث بھی شروع ہو چکی تھی – اپوزیشن کو اس کی بھنک پڑھ گئی – پیپلز پارٹی تو سندھ میں دو تہائی اکثریت لئے ہوئے ہے اس سے زیادہ انہیں کچھ مل نہیں سکتا اور آگے جا کر سندھ سے بھی پیپلز پارٹی کا بھٹا گول کر کے اپنے پٹھو لانا ہے کیونکے کچھ بھی ہے پیپلز پارٹی کی جڑیں سندھ میں مظبوط ہیں اور وہ وہ کسی عوامی قوت کو برداشت کرنے کو تیار نہیں – یہی وجہ ہے پیپلز پارٹی بھی احتجاج میں پوری طرح شامل ہے – اگر استعفے دینے کی باری آئی تو پیپلز پارٹی کے لئے یہ بہت مشکل فیصلہ ہو گا کیونکے اپوزیشن اتحاد میں وہ واحد پارٹی ہے جس کے پاس ایک بڑے صوبے کی مظبوط دو تہائی اکثریت والی حکومت ہے – خان اور فوج نہ صرف لمبے عرصے کے لئے رہنا چاہتے ہیں بلکے نون اور پیپلز پارٹی کو ختم کر کے ان کی قیادت کو جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں خاص کر خان ایسا چاہتا ہے – ان حالات میں اپوزیشن کے پاس خان حکومت گرانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں – اگر خان چپ کر کے اپنی حکومت کی کارکردگی پر دھان دیتا اور اپوزیشن کے لوگوں کو جیل میں نہ ڈالتا تو شاید اپوزیشن  اعتجاج تو کرتی مگر اس کی حکومت گرانے کی کوشش نہ کرتی – آگے کنواں دیکھ کر آدمی پیچھے لگے دشمن سے ہی مقابلہ کرتا ہے چاہے وہ دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو کیونکے وہاں سے شاید بچت ہو جائے مگر کنویں میں کوئی بچت نہیں – یہ آگے کا کنواں تھا جسے دیکھ کر اپوزیشن خان اور فوج کے مظبوط اتحاد کے خلاف لڑنے کے لئے تیار ہوئی ہے –

    • This reply was modified 2 years ago by Awan.
    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #4

    لیکن اس سبھ گٹھ جوڑ میں یا ذاتی یا پارٹی مفادات کا ہی سوچا جا رہا ہے –
    کاش ملک کی بہتری کا بھی سوچا جائے – کاش

    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #5

    اعوان صاحب ، آپ کی تحریر کردہ پوسٹز ہمیشہ شوق سے پڑھتا ہوں ، میرے نزدیک موجودہ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی عوامی ردعمل کا صحیح احساس نہ ہونا ہے ، عوام کو درپیش مشکلات کا رونا تو تقریبا ھر تقریر میں دیکھا جاسکتا ہے ، لیکن اس کےتدارک کے لیے مستحکم حکمت عملی کہیں دکھائ نہیں دیتی ۔یہ درست ہے کہ خوشحالی اور ترقی کے لیے ہماری معاشی پالیسز کے بنیادی نقائص کو دور کرنا اوراسکی سمت ٹھیک کرنا انتہائ ضروری ہے ( ان نقائص کے ذمہ داروں میں موجودہ حکومت کے پیشہ وارانہ لوٹوں کا بڑا ھاتھ رہا ہے جو اپنی ناہلی کی وجہ سے صرف ڈھائ سالوں ہی میں شرح نمود کو منفی اعداد میں لے آئے ہیں) ، لیکن اس بہتر سے بہتر بنانے کی بے ھنگم دوڑ میں عوام بنیادی ضروریات کی اشیاء کی آسمانوں سے چھوتی قیمتوں نے عوام کی چیخیں نکلوادی ہیں ۔ اور اس پر بے حسی کا عالم یہ ہے کہ چند مسخرے ہر صبح نیشنل ٹی وی پر آکر اپنے مزاح پن سے بھوکی قوم کو لطیفے سناتے ہیں ۔

    عمران کی دماغی حالت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ایک نہایت بدتمیز ، جاھل اور بے ربط خاتون فردوس اعوان کو ایک دفعہ مرکز سے نکالنے کے بعد پنجاب میں تعینات کردیا ہے جو سارا دن سوائے بھونڈی چغد بازی کے اور کچھ کرنا نہیں جانتی ۔ یہ ایک ایسے شخص نے کیا ہے جو آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہے اور پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعوہ کرتا ہے ۔

    باقی اپوزیشن بھی اگر واقعی کچھ شعور ، علم اور بصیرت رکھتی تو اس موڑ پر تاریخ ساز فیصلے کرتی اور عوام کے مسائل پر ، ایک حقیقی ، علمی اور جامع پروگرام وضع کرکے بتاتی کہ کسطرح ان کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور ان کی پالیسیز کسطرح اس ملک میں نہ صرف ایک حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں بلکہ اس ملک کو قانونی اور آئینی راستے پر واپس لا سکتی ہیں ۔ صرف منہ سے ، تقریروں کے ذریعے بڑھکیں مارنے کا وقت گزر چکا ہے ۔

    ان کی لا پرواہی اور لاعلمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہانزیب نے اپنے پروگرام میں بڑی محنت کے ساتھ ، اعداد و شمار اور فیکٹز کی روشنی میں ثابت کیا کہ کس طرح انرجی کنٹریکٹز میں جان بوجھ کر کوتاہی برتی گئ اور وقت پر معائدے نہ کرکے ، نہ صرف ملک کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا بلکہ پیٹرولیم کے کاروبار میں ملوث اپنے دوستوں کو فائدہ پہنچایا گیا ۔
    یہ کام جہانزیب کا نہیں بلکہ اپوزیشن کی جماعتوں کا تھا ۔ اب یہ جہانزیب کے حقائق لیکر جگہ جگہ شور مچارہے ہیں جنکو بے نقاب کرنے میں انکا خود کا کردار صفر ہے ۔

    اب ایسی شکستہ کشتی پر ، ساحل کی تمنا کون کرے ۔

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #6

    ایک شکستہ کشتی کا مسافر ہی بری شدت سے ساحل کا طلبگار ہوتا ہے

    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    #7

    اعوان صاحب ، آپ کی تحریر کردہ پوسٹز ہمیشہ شوق سے پڑھتا ہوں ، میرے نزدیک موجودہ حکومت کی سب سے بڑی ناکامی عوامی ردعمل کا صحیح احساس نہ ہونا ہے ، عوام کو درپیش مشکلات کا رونا تو تقریبا ھر تقریر میں دیکھا جاسکتا ہے ، لیکن اس کےتدارک کے لیے مستحکم حکمت عملی کہیں دکھائ نہیں دیتی ۔یہ درست ہے کہ خوشحالی اور ترقی کے لیے ہماری معاشی پالیسز کے بنیادی نقائص کو دور کرنا اوراسکی سمت ٹھیک کرنا انتہائ ضروری ہے ( ان نقائص کے ذمہ داروں میں موجودہ حکومت کے پیشہ وارانہ لوٹوں کا بڑا ھاتھ رہا ہے جو اپنی ناہلی کی وجہ سے صرف ڈھائ سالوں ہی میں شرح نمود کو منفی اعداد میں لے آئے ہیں) ، لیکن اس بہتر سے بہتر بنانے کی بے ھنگم دوڑ میں عوام بنیادی ضروریات کی اشیاء کی آسمانوں سے چھوتی قیمتوں نے عوام کی چیخیں نکلوادی ہیں ۔ اور اس پر بے حسی کا عالم یہ ہے کہ چند مسخرے ہر صبح نیشنل ٹی وی پر آکر اپنے مزاح پن سے بھوکی قوم کو لطیفے سناتے ہیں ۔

    عمران کی دماغی حالت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ایک نہایت بدتمیز ، جاھل اور بے ربط خاتون فردوس اعوان کو ایک دفعہ مرکز سے نکالنے کے بعد پنجاب میں تعینات کردیا ہے جو سارا دن سوائے بھونڈی چغد بازی کے اور کچھ کرنا نہیں جانتی ۔ یہ ایک ایسے شخص نے کیا ہے جو آکسفورڈ کا تعلیم یافتہ ہے اور پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعوہ کرتا ہے ۔

    باقی اپوزیشن بھی اگر واقعی کچھ شعور ، علم اور بصیرت رکھتی تو اس موڑ پر تاریخ ساز فیصلے کرتی اور عوام کے مسائل پر ، ایک حقیقی ، علمی اور جامع پروگرام وضع کرکے بتاتی کہ کسطرح ان کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور ان کی پالیسیز کسطرح اس ملک میں نہ صرف ایک حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں بلکہ اس ملک کو قانونی اور آئینی راستے پر واپس لا سکتی ہیں ۔ صرف منہ سے ، تقریروں کے ذریعے بڑھکیں مارنے کا وقت گزر چکا ہے ۔

    ان کی لا پرواہی اور لاعلمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہانزیب نے اپنے پروگرام میں بڑی محنت کے ساتھ ، اعداد و شمار اور فیکٹز کی روشنی میں ثابت کیا کہ کس طرح انرجی کنٹریکٹز میں جان بوجھ کر کوتاہی برتی گئ اور وقت پر معائدے نہ کرکے ، نہ صرف ملک کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا بلکہ پیٹرولیم کے کاروبار میں ملوث اپنے دوستوں کو فائدہ پہنچایا گیا ۔ یہ کام جہانزیب کا نہیں بلکہ اپوزیشن کی جماعتوں کا تھا ۔ اب یہ جہانزیب کے حقائق لیکر جگہ جگہ شور مچارہے ہیں جنکو بے نقاب کرنے میں انکا خود کا کردار صفر ہے ۔

    اب ایسی شکستہ کشتی پر ، ساحل کی تمنا کون کرے ۔

    زیدی صاحب میری پوسٹوں میں دلچسبی لینے کا بہت شکریہ – خان کے کیس میں دو باتیں بہت اہم ہیں پہلی ہے مردم شناسی ، خان میں مردم شناسی نام کی کوئی چیز نہیں ہے ورنہ بزدار اور فردوس عاشق اعوان جیسے لوگوں کو اہم عہدے نہ دیتا – رونالڈ ریگن کی بات یاد آ رہی ہے – کہا جاتا ہے رونالڈ ریگن اداکاری سے سیاست میں آیا اور خوش قسمتی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا امریکی صدر بن گیا – جب وہ صدر بنا تو اسے احساس ہوا کہ اس میں صدر جیسی قابلیت نہیں ہے لیکن اس میں ایک خوبی یہ تھی کہ وہ مردم شناس تھا – پورے ملک سے ٹاپ کے لوگ لے کر اس نے اپنی ٹیم بنائی – روس کے ٹکرے کرنے میں کلیدی کردار اس کا بھی تھا اور اس کے علاوہ بھی اسے امریکہ کے بہترین صدور میں شامل کرتے ہوئے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے –
    دوسری بات خان کی پارٹی ایک پارٹی نہیں بھانت بھانت کا کنبہ ہے جس میں ایک سے ایک عجیب و غریب کردار پایا جاتا ہے – اس سے برعکس نون لیگ تیس چالیس سال میں ایک میچور پارٹی بن چکی ہے – اگر آپ نواز کی پچھلی کابینہ دیکھیں تو آپ کو زیادہ تر وزارتوں پر قابل اور تجربے کار لوگ ملیں گے – دو بار کا تجربہ رکھنے والا وزیر اعظم نواز خود – دو ہی بار کی پنجاب کی وزارت اعلی والا شہباز شریف پنجاب کا وزیر عالی – اس وقت کی بہت اہم وزارت ، وزارت داخلہ پر چودھری نثار ، وزیر خزانہ پر تجربے کار اسحٰق ڈار ، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی ، وزیر ریلوے سعد رفیق ، وزیر اطلاحات پرویز رشید اور وزیر دفاع خواجہ آصف ( نواز کی نا اھلی سے پہلے کی کابینہ ) یہی کابینہ اور ٹیم آج ہوتی جب نہ امن و امان کا مسلہ ہے نہ لوڈ شیڈنگ کا تو میں سمجھتا ہوں حالات آج سے کہیں بہتر ہوتے – بھرحال میرے تھریڈ کے موضوع کے اعتبار سے آپ نے میری دو تھیوریز پر کوممنٹ نہیں کیا مجھے اس کا انتظار رہے گا –

    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #8
    میرے ذہن میں بہت ہی عمدہ جواب تھا ، مگر چونکے آپ نے مجھے اس تھریڈ پر ٹیگ نہی کیا ، اور نہ شاہد عباسی بھائی کو اس لئے میں جواب اب عاطف کو وہاٹس ایپ کر دونگا

    shahidabassi Atif Qazi

    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #9
    یار تمہاری فضول سی ویب سائٹ ، ایرر شو کر رہی ہے

    :serious:

    Atif Qazi

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #10
    میرے ذہن میں بہت ہی عمدہ جواب تھا ، مگر چونکے آپ نے مجھے اس تھریڈ پر ٹیگ نہی کیا ، اور نہ شاہد عباسی بھائی کو اس لئے میں جواب اب عاطف کو وہاٹس ایپ کر دونگا shahidabassi Atif Qazi

    You are a very very good deputy indeed.

    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    #11
    ملک کے بارے میں تو سب سوچ رہے ہیں ، عظیم قومی مفاد میں لانگ مارچ ہو گا ، عظیم قومی مفاد میں کریک ڈاؤن ہو گا ، عظیم قومی مفاد میں. میرے عزیز ہم وطنوں ہو گا

    اب اور کتنا سوچیں ؟

    لیکن اس سبھ گٹھ جوڑ میں یا ذاتی یا پارٹی مفادات کا ہی سوچا جا رہا ہے – کاش ملک کی بہتری کا بھی سوچا جائے – کاش

    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #12
    ملک کے بارے میں تو سب سوچ رہے ہیں ، عظیم قومی مفاد میں لانگ مارچ ہو گا ، عظیم قومی مفاد میں کریک ڈاؤن ہو گا ، عظیم قومی مفاد میں. میرے عزیز ہم وطنوں ہو گا اب اور کتنا سوچیں ؟

    Who is this Azeem Qaumi Mufaad? A new politician or a new Ghazal singer?

    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    #13
    Awan sahib

    محترم اعوان صاحب

    بہت شکریہ

    میں اس بات پر یقین کم رکھتا ہوں کے احتجاج عوام یا حزب اختلاف کا دیرینہ حق ہے . میں اس بات سے بھی نہ متفق ہوں نہ حمایت کرتا ہوں کے ہر حزب اختلاف ، حکومت کے خلف ہر دم احتجاج کرتی رہے، ساز باز کرتی رہے . حزب اختلاف کو احتجاج کا حق ہے اور اس کے لئے ایک ایوان موجود ہے. ہاں اگر حکومت غیر قانونی اقدام کرے، اپنے شہریوں کی جان اور مال اور عزت پر حملہ کرے تو احتجاج باہر کرنا میرے خیال میں مناسب ہے.

    میرے خیال میں موجودہ حکومت کو پانچ سال حکومت کرنی چاہیے اگر وہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کرتی اور نہ اپنے عوام کی جان ، مال ، عزت کو خطرے میں ڈالتی ہے

    میرے نزدیک مسلم لیگ نون یا محترم نواز شریف صاحب یا محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی اس محفل یا کئی اور جگہوں پر حمایت کے پیچھے مختلف عوامل ہو سکتے ہیں مگر اس میں ایک عنصر غالب ہے بلکہ بہت ہی غالب ہے اور اس موجودہ حمایت کا تعلق شاید عوامی حقوق، جمہوریت کی بالادستی ، ووٹ کو عزت وغیرہ سے ہو سکتا ہے مگر اتنا نہیں جتنا کے ظاہر کیا جاتا ہے . وہ ایک غالب عنصر کیا ہے اس کو آپ سب خود سوچ سکتے ہیں

    میرے نزدیک موجودہ حکومت کا خاتمہ اگر احتجاج یا کسی پس پردہ طاقت کی حمایت یا خرید و فروخت یا لالچ سے کیا جاۓ تو انتہائی افسوس اور شرمندگی کا سبب ہو گا

    جے بھای یہ حکومت ایک دو سال مزید رہ گئی تو ملک ڈبو دے گی جو پہلے ہی کندھوں تک ڈوب چکا ہے ایک منڈی باہر تھی مگر آپ کی انصاف پسندی وہ بھی ڈوبا دے گی، اپوزیشن کبھی کسی حکومت کو گرا نہیں سکتی یہ ان کے پیچھے طاقتوں کی کارستانی ہوتی ہے ۔ آج اپوزیشن آج گھروں میں بھی چلی جاے تب بھی اس حکومت نے اپنے ہی گناہوں کے بوجھ تلے دب کر گر جانا ہے کیونکہ پرفارمنس زیرو اور قرضے تاریخ کے سب سے زیادہ، مہنگای ستر سالہ ریکارڈ توڑ چکی اور ڈالر بھی ستر سالہ ریکارڈ ہای قیمت پر ہے

    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    #14
    ملک کے بارے میں تو سب سوچ رہے ہیں ، عظیم قومی مفاد میں لانگ مارچ ہو گا ، عظیم قومی مفاد میں کریک ڈاؤن ہو گا ، عظیم قومی مفاد میں. میرے عزیز ہم وطنوں ہو گا اب اور کتنا سوچیں ؟

    اب تو جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرن ہوگا دھرنا ہوگا کا نعرہ مستانہ بلند ہوگا، دما دم مست قلندر اسلام آباد میں اور لنگر کی مساویانہ تقسیم لاہور سے شروع ہوجاےگی، جس نے آنا ہے آے نہیں آنا تو نہ آے اب حکومت کے خلاف نکلنے والے خوشخبری کے بغیر نہیں لوٹیں گے، عمران خان نے کیوں کہا تھا کہ کوی مجھے کہے کہ استعفی دو تو میں اسے تن کے رکھ دوں گا؟؟

    :serious:

    صحرائی
    Participant
    Offline
    • Advanced
    #15

    اس نظام میں باجوہ اینڈ کمپنی کا سٹیک خان صاحب سے زیادہ ہے

    خان نے کوئی ٹینشن نہیں لینی لانگ مارچ ، جلسوں کی- جگت ، مذاق ، کرپشن اور این آر او کے چند بیان داغ دینے ہے

    خان کو بچانا اسٹیبلشمنٹ کی مجبوری ہے ، پھر ہم کہتے ہے اس کو سیاست نہیں آتی

    :)

    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    #16
    When was the last time govt was booted out because of protests. Many say even in 2007 Gen. Kiyani was behind so called lawyers movement. As long as govt enjoys the confidence of Generals they will be fine, and if they don’t who cares if one boot licker is replaced by another. If this mass mobilization during pandemic can’t put Generals on back seat it’s a failure. Replacing Imran Khan with Shahbaz Sharif, for instance, is business as usual. Generals are ruining Pakistan not toothless politicians. The only change that matters is civilians calling the shots.

    In USA Biden picked Gen. Lloyd Austin as Secretary of Defense, if confirmed he will be first black heading DoD. He is facing resistance from his fellow Democrats despite historic nature of appointment. Many Democrats in Senate are saying historically Secretary of Defense is civilian but for Gen. Austin they will also have to give him waiver, like Gen. Mattis Trump’s first Secretary Defense, since he left army 4 years ago not 7 years per law. His contacts with defense industrial complex is concerning for many progressives especially when many on left want to cut the size of white elephant called DoD.

    Even in established democracy like USA that had never seen martial law civilian supremacy is core principle of democracy and is huge concern. Pakistan is just gaining some momentum by Respect the Vote movement. This will be one step forward and 10 steps backward if opposition sell short and agrees to play ball with GHQ in return of IK’s ouster.

Viewing 16 posts - 1 through 16 (of 16 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi