Home Forums Siasi Discussion الیکشن ہوں تو کشمیر جیسے

Viewing 5 posts - 1 through 5 (of 5 total)
  • Author
    Posts
  • حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    #1

    الیکشن تو یہاں پہلے بھی بارہا ہو چکے ہیں مگر اس بار کا گیارہواں الیکشن پچھلے دس پر بھاری ہے۔
    پانچ اگست سنہ 2019 کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ساتھ جو ہوا اس کے بعد سخت ضرورت تھی کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں مثالی الیکشن ہوتے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سینہ ٹھوک کے کہتی کہ اے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب رہنے والے کشمیریو ایسے ہوتے ہیں پاک صاف انتخابات اور یہ ہوتی ہے لوٹا ازم سے پاک شفاف جمہوریت۔
    مگر پہلے گلگت بلتستان اور اب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جو الیکشن ہوئے وہ ’مثالی‘ ضرور ہیں مگر اس مثال سے دوسری جانب یہ پیغام گیا ہے کہ کل کلاں قدرت نے آپ کو ہمارے ساتھ ملنے کا کبھی موقع دیا تو فیصلہ اپنی ذمہ داری پر کرنا، جاگدے رہنا ساڈے اتے نہ رہنا۔
    اچھی بات یہ ہوئی کہ اس الیکشن مہم میں کسی جماعت کے کسی رہنما نے کسی سیاسی ملمع کاری و ظاہر داری سے کام نہیں لیا اور اپنا اصل دکھا دیا۔ اس اصل کو دکھانے میں مقامی الیکشن کمیشن نے بھی درگزر کا مثالی مظاہرہ کرتے ہوئے زبردست تعاون کیا۔
    اگر ہم اپنی سیاسی قسمت پر قابض رہنماؤں کی انتخابی تقاریر کے ایک ایک جملے پر یقین کر لیں تو پھر ماننا ہی پڑے گا کہ آج کے انتخابات میں غداروں، کشمیر کا سودا کرنے والوں، را کے ایجنٹوں، یہودیوں کے کاسہ لیسوں، لٹیروں، چوروں، ڈاکوؤں، دو نمبروں، عورت دشمنوں، سیاسی نابالغوں نے جتنی بڑی تعداد میں حصہ لیا، پہلے کسی الیکشن میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
    اس الیکشن میں نہ صرف سیاسی مردوں کی قبر کشائی کی گئی بلکہ بیٹوں، پوتوں، نواسوں کی بھی شامت آئی۔
    مجھے نہیں معلوم کہ امیدوار کے صادق اور امین ہونے کی شرط والا آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ نہیں۔ اگر لاگو ہوتا ہے تو پھر نو منتخب اسمبلی کو کم ازکم دس برس کے لیے نا اہل قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن کے روبرو عمران خان، علی امین گنڈا پور، مراد سعید، بلاول بھٹو اور مریم نواز کی گواہی کافی ہو گی۔
    اس الیکشن مہم میں مقامی، معاشی، سیاسی، سماجی مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے سوا ہر موضوع پر کھل کھلا کے بات ہوئی۔ مسئلہ کشمیر کو ہر سرکردہ رہنما نے ستلی بم بنا کر بس فریقِ مخالف کا منہ کالا کرنے کے لے استعمال کیا۔
    عمران خان نے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب رہنے والوں کو پیشکش کی کہ آپ پہلے ہمارے ساتھ شمولیت کا فیصلہ کریں اس کے بعد ہم آپ کو ایک آزاد و خود مختار کشمیر نامی ملک بنانے کے لیے ریفرنڈم کا بھی آپشن دیں گے۔
    اس فراخدلانہ پیشکش پر نہ صرف میرے کچھ بلوچ دوست زیرِ لب مسکرائے بلکہ شہباز شریف نے فوراً تصیحح کی کہ خان صاحب کا بیان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تاریخی مؤقف سے غداری ہے۔
    میں نہیں جانتا کہ لائن کے اس پار حالتِ سرورِ انتخاب سے سرشار خان صاحب کے اس بیان کو کتنی سنجیدگی سے لیا جائے گا مگر ایک کشمیری دوست نے یہ ضرور کہا کہ اتنا کشٹ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے کہ پہلے کشمیر پاکستان کا حصہ بنے اور پھر پاکستان اسے ایک آزاد مملکت بننے کا آپشن دے، خان صاحب یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ جب بھی رائے شماری کروائے اس میں کشمیریوں کو انڈیا یا پاکستان میں شمولیت کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ کرنے کی بھی آزادی دے کہ وہ دونوں ممالک سے الگ آزاد رہنا چاہتے ہیں؟
    اب میں اس کشمیری دوست کو کیا سمجھاؤں کہ ’آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں‘ کا نئے پاکستان میں کیا مطلب ہے، جہاں غیب اور غائب میں محض بال برابر فرق ہے۔

    بشکریہ …… وسعت اللہ خان

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-57961598

    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    #2
    What a useless article by Wasat Illah Khan, he used to write better. What was wrong in elections in AJK. PTI won fair and square like PMLN did last time and PPP prior to that. People genuinely tend to vote for party that’s at helm in Islamabad. And frankly I don’t see much wrong with it.

    I thought Wasat Ullah Khan would go into specifics while applauding or criticizing the elections but seems like he doesn’t know much and just had his rants from 30 thousand feet

    Guilty
    Participant
    Offline
    • Expert
    #3
    حالات جاتے ہیں پورب کی طرف اور وسعت اللہ خان جیسے جرنا لسٹ ۔۔۔۔ خبر ۔۔ موڑ دیتے ۔۔۔ پچھم کی طرف ۔۔۔۔۔

    یہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے یہ شخص ۔۔۔۔۔۔۔ جی ایچ کیو ۔۔۔۔ سے پیسے لیتا ہوگا ۔۔۔۔ ۔۔۔

    • This reply was modified 9 months, 3 weeks ago by Guilty.
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    #4
    What a useless article by Wasat Illah Khan, he used to write better. What was wrong in elections in AJK. PTI won fair and square like PMLN did last time and PPP prior to that. People genuinely tend to vote for party that’s at helm in Islamabad. And frankly I don’t see much wrong with it. I thought Wasat Ullah Khan would go into specifics while applauding or criticizing the elections but seems like he doesn’t know much and just had his rants from 30 thousand feet

    His topic is neither results nor Dhandali; he is criticising on the language each party has used during election campaign.

    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    #5
    First of all he is upset beyond language. Secondly, even on language we are over reacting. Election rallies are globally like this even in the most civilized democracy. Election rhetoric is part of democracy. These zingers don’t mean much.
Viewing 5 posts - 1 through 5 (of 5 total)

You must be logged in to reply to this topic.

×
arrow_upward DanishGardi