Thread: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Home Forums Siasi Discussion آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

Viewing 20 posts - 41 through 60 (of 64 total)
  • Author
    Posts
  • #41
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 772
    • Total Posts: 788
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    ہم ڈھونڈتے ہیں ان کو جو مل کے نہیں ملتے

    کون ؟

    #42
    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 38
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 2010
    • Join Date:
      2 Mar, 2017
    • Location: Kala Shah kaku

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    کون ؟

    Keep Digging!

    #43
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 772
    • Total Posts: 788
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    Keep Digging!

    Where ? exact location ,please .

    #44
    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 38
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 2010
    • Join Date:
      2 Mar, 2017
    • Location: Kala Shah kaku

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    Where ? exact location ,please .

    I thought you had identified the location in your post 39!

    #45
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 161
    • Posts: 5344
    • Total Posts: 5505
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    یہ مہاجر قیادت مہاجروں کے ہاتھ میں کب آی ؟ مہاجروں کو اپنی تحداد کے لحاظ سے پورا پاکستان نہیں مل سکتا تھا وہ نوے کی دہائی سے قومی اور صوبائی سطح پر وقتا فوقتا حکومت کے اتحادی رہے ہیں اور آج بھی ہیں مگر ان کی پرفارمنس کیا ہے سوائے ہر حکومت میں علحدگی کی دھمکیاں اور حکومت کو چھوڑ کر جانے کی بلیک میلنگ کے علاوہ -مشرف کے طویل دور میں تو وہ مکمل پاور میں رہے ہیں تھوڑا سا وقت مصطفیٰ کمال کا نکال لیں تو پیچھے کیا بچتا ہے- مصطفیٰ کمال بھی لوکل گورنمنٹ میں تھا صوبائی اور وفاقی لیول پر ایم قیو ایم کی کارکردگی پھر بھی صفر ہی رہتی ہے – مہاجروں کے لئے مہاجر قیادت نے کیا کیا ؟ اسکا فیصلہ کرنے کا اختیار کنکے پاس ہے اور اسکا طریقہ کار کیا ہے مہاجروں کو مہاجر پیپلز پارٹی کو سندھی اور عمران خان کو پٹھان کار کردگی کی وجہ سے ووٹ نہیں دیتے بلکے تینوں لسانی یا قوم پرست جماعتیں ہیں جو اپنی کارکردگی سے ہٹ کر صرف زبان یا قوم کی بنیاد پر ووٹ لیتی ہیں – آپ اس لوجیک کو چھوڑ دیں کہ مہاجر چونکے مہاجروں کو ووٹ دیتے ہیں تو مہاجر قیادت کی پرفارمنس اچھی ہے – ایک کراچی کے پانی کا مسلہ تو مہاجر قیادت حل کر نہیں سکی چالیس سال میں – کراچی کے پانی کا مسلہ حل کرنے میں سب سے بڑی ذمے داری مہاجر قیادت کی بنتی ہے کیونکے وہ ہمیشہ وہاں سے منتخب ہوتے ہیں – کیا کراچی کے پانی کے مسلے پر کبھی ایم قیو ایم نے کسی صوبائی یا وفاقی اتحاد سے علحدہ ہونے کی دھمکی دی ؟ ساری دھمکیاں اور بلیک میلنگ ایک اور وزارت ملنے سے ختم ہو جاتی ہیں جو ذاتی خود غرضی ہے اس میں کراچی کی کوئی بہتری نہیں ہے

    اعوان بھائی،
    آپ کی خوبی شہباز شریف کے شیدائی ہونے کے علاوہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ اور کامیاب پروفیشنل ہونے کے ساتھ دردمند دل رکھنے والے تعصبات سے پاک انسان کی بھی ہے جسکی میرا نگاہ میں بڑی قدر بھی ہے. آپ کے بڑے مقدمہ سے کہ مہاجر قیادت اپنے ووٹرز کو ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں میرے خیال میں یہ مستقبل میں بھی ناکام رہے گی( ایسا کیوں ہوا اور کیوں ہوگ یہعلحیدہ بحث ہے )ا مہاجر اور دیگر قومیتوں (چونکہ آپ نے پنجابیوں کا ذکر نہیں کیا تو میں بھی انکو استثنیٰ دیتا ہوں) کے لوگ لسانی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں .
    آپ نے اپنے معیشت والے دھاگہ میں وزن پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اعدادوشمار کا سہارہ لیا ہے جو کہ آپ کی ڈیٹا کو اہمیت دینے کی نشاندھی کرتا ہے تو سوچا کراچی اور سندھ پر حکمرانی کے حوالے سے عموما یہ تاثر ہے کہ پچھلے تیس سالوں سے ایم قیو ایم حکمران رہی ہے حقیقت اور ڈیٹا مگر کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں زیل میں کچھ چارٹوں کی مدد سے اس عرصہ حکمرانی کا دورانیہ دیکھتے ہیں

    پہلا چارٹ کراچی کی بلدیہ عظمی کے نظامت کا دورانیہ ١٩٧٩ سے دکھاتا ہے
    اس کے مطابق پچھلے چالیس سال میں سب سے زیادہ بلدیہ پر حکمرانی جو کہ تقریبا چالیس فی صدی بنتی ہے وہ پی پی اور پی ایم ایل این کے ادوار میں ایڈمنسٹریٹروں کی رہی ہے دوسرے نمبر پر تین مختلف ادوار پر مشتمل ایم قیو ایم کی نظامت کی رہی ہے جو کہ تقریبا ٣٣% بنتی ہے اور تیسرے نمبر جماعت اسلامی کا دورانیہ ہے جو کہ تقرینا ٢٧% بنتا ہے

    دوسرا چارٹ مر حلہ وار بلدیہ کی نظامت کو ظاہر کرتا ہے اسمیں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ضیاء اور مشرف جیسے ڈکٹیٹروں نے کم سے کم بلدیاتی سطح تک تو ووٹ کو عزت دینے کی سعی فرمائی تھی اور بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی قیادت مقامی قیادت کو سونپی تھی بد قسمتی سے نام نہاد جمہوری ادوار میں اپنے علاوہ کسی دوسرے کے ووٹ کو عزت دینے کی روایت نہیں پڑ سکی تھی نتیجتا کام زیادہ تر سرکاری تعینات کردہ منتظمین کو سونپ دیا جاتا تھا وہ تو شکر ہے کہ ٢٠١٥ میں سپریم کورٹ کے ووٹرز کو عزت دو کے نعرے کی بدولت بلدیاتی انتخابات ہو گئے تھے  تو تاریخ میں اس نعرے کی کچھ عزت باقی رہ گئی ہے

    تیسرا چارٹ قیام پاکستان سے سندھ پر حکمرانی کا چارٹ پیش کرتا ہے

    جب آپ ان تمام اعدادو شمار کا جائزہ لیتے ہیں تو تصویر کا نسبتا بڑا رخ سامنے آتا ہے مگر پوری تصور پھر بھی سامنے نہیں آتی ہے مگر پھر بھی یہ تصویر ان تمام تصاویر سے بڑی ہے جو اس حوالے سے آپ کو ہمیشہ دکھائی گئیں ہیں یا آپ دیکھتے آئے ہیں یا آپ خود دیکھنا چاہتے ہیں

    #46
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 772
    • Total Posts: 788
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    I thought you had identified the location in your post 39!

    I said I would come and help….  

    #47
    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 38
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 2010
    • Join Date:
      2 Mar, 2017
    • Location: Kala Shah kaku

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    I said I would come and help….

    But where will you come?

    You don’t know what and where it is hidden

    And I am not telling you.

    #48
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 772
    • Total Posts: 788
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    But where will you come?

    You don’t know what and where it is hidden

    And I am not telling you.

    تیرے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں
    ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں ۔

    #49
    Anjaan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 38
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 2010
    • Join Date:
      2 Mar, 2017
    • Location: Kala Shah kaku

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    تیرے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں ۔

    کوئی پیچھے ہمارے اے تو
    راستہ ہم اپنا بدل ہی لیتے ہیں 

    #50
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 147
    • Posts: 2882
    • Total Posts: 3029
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    اعوان بھائی، آپ کی خوبی شہباز شریف کے شیدائی ہونے کے علاوہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ اور کامیاب پروفیشنل ہونے کے ساتھ دردمند دل رکھنے والے تعصبات سے پاک انسان کی بھی ہے جسکی میرا نگاہ میں بڑی قدر بھی ہے. آپ کے بڑے مقدمہ سے کہ مہاجر قیادت اپنے ووٹرز کو ڈیلیور کرنے میں ناکام رہی ہے سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں میرے خیال میں یہ مستقبل میں بھی ناکام رہے گی( ایسا کیوں ہوا اور کیوں ہوگ یہعلحیدہ بحث ہے )ا مہاجر اور دیگر قومیتوں (چونکہ آپ نے پنجابیوں کا ذکر نہیں کیا تو میں بھی انکو استثنیٰ دیتا ہوں) کے لوگ لسانی بنیادوں پر ووٹ دیتے ہیں اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں . آپ نے اپنے معیشت والے دھاگہ میں وزن پیدا کرنے کے لئے ٹھوس اعدادوشمار کا سہارہ لیا ہے جو کہ آپ کی ڈیٹا کو اہمیت دینے کی نشاندھی کرتا ہے تو سوچا کراچی اور سندھ پر حکمرانی کے حوالے سے عموما یہ تاثر ہے کہ پچھلے تیس سالوں سے ایم قیو ایم حکمران رہی ہے حقیقت اور ڈیٹا مگر کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں زیل میں کچھ چارٹوں کی مدد سے اس عرصہ حکمرانی کا دورانیہ دیکھتے ہیں پہلا چارٹ کراچی کی بلدیہ عظمی کے نظامت کا دورانیہ ١٩٧٩ سے دکھاتا ہے اس کے مطابق پچھلے چالیس سال میں سب سے زیادہ بلدیہ پر حکمرانی جو کہ تقریبا چالیس فی صدی بنتی ہے وہ پی پی اور پی ایم ایل این کے ادوار میں ایڈمنسٹریٹروں کی رہی ہے دوسرے نمبر پر تین مختلف ادوار پر مشتمل ایم قیو ایم کی نظامت کی رہی ہے جو کہ تقریبا ٣٣% بنتی ہے اور تیسرے نمبر جماعت اسلامی کا دورانیہ ہے جو کہ تقرینا ٢٧% بنتا ہے دوسرا چارٹ مر حلہ وار بلدیہ کی نظامت کو ظاہر کرتا ہے اسمیں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ضیاء اور مشرف جیسے ڈکٹیٹروں نے کم سے کم بلدیاتی سطح تک تو ووٹ کو عزت دینے کی سعی فرمائی تھی اور بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی قیادت مقامی قیادت کو سونپی تھی بد قسمتی سے نام نہاد جمہوری ادوار میں اپنے علاوہ کسی دوسرے کے ووٹ کو عزت دینے کی روایت نہیں پڑ سکی تھی نتیجتا کام زیادہ تر سرکاری تعینات کردہ منتظمین کو سونپ دیا جاتا تھا وہ تو شکر ہے کہ ٢٠١٥ میں سپریم کورٹ کے ووٹرز کو عزت دو کے نعرے کی بدولت بلدیاتی انتخابات ہو گئے تھے تو تاریخ میں اس نعرے کی کچھ عزت باقی رہ گئی ہے تیسرا چارٹ قیام پاکستان سے سندھ پر حکمرانی کا چارٹ پیش کرتا ہے جب آپ ان تمام اعدادو شمار کا جائزہ لیتے ہیں تو تصویر کا نسبتا بڑا رخ سامنے آتا ہے مگر پوری تصور پھر بھی سامنے نہیں آتی ہے مگر پھر بھی یہ تصویر ان تمام تصاویر سے بڑی ہے جو اس حوالے سے آپ کو ہمیشہ دکھائی گئیں ہیں یا آپ دیکھتے آئے ہیں یا آپ خود دیکھنا چاہتے ہیں

    گھوسٹ بھائی آپ کے اعتراف نے دل جیت لیا – یہ بڑے ظرف کی بات ہوتی ہے کہ کوئی آدمی ایک گرم بحث میں کسی دوسرے کے نقطے سے مکمل اتفاق کرے – میں کم از کم اتنا اعلی ظرف نہیں – اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں بہت سے باریک چیزیں چھپ جاتی ہیں – آپ نے غالبا سٹیٹس میں کوئی ڈگری لی ہے آپ کی شماریات بہت مظبوط ہیں – میں نے سٹیٹس کبھی پڑھی ہی نہیں میتھ البتہ بہت پڑھا ہے – ایم قیو ایم کے موضوع پر فلحال اتنا ہی پھر کبھی کسی اور دھاگے پر بات آگے بڑھائیں گے -شکریہ

    #51
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 53
    • Posts: 934
    • Total Posts: 987
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    انسیف صاحب ، جن لوگوں نے پیچھے رہ کے جو ام چوپ لیے اس کا ذکر بھی کرتے جائیں کہ اس کے بغیر یہ کہانی مکمل نہیں ہوتی ۔ شاید بھارت میں اکثیریت کے ھاتھوں سے اقلیت پر ہونے والے روزمرہ کے تشدد کی وہ وڈیو آپ کی نظر سے نہیں گزرنا چاہتیں جہاں صرف مذھب کی ظاہرانہ شناخت کے نتیجے میں انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے ۔ لہذا یہ مرض مذھبی نہیں علاقائ ہے اور دونوں جانب سے کوئ فرق نہیں ہے ۔

    زیدی صاحب … وہاں پہ جو لوگ پس رہے ہیں وہ اسی تقسیم کی وجہ سے پس رہے ہیں … ورنہ تقسیم ہند سے پہلے علامہ اقبال صاحب کو بھی وظیفہ ملتا تھا جس پر وہ گھر بیٹھ کر شاعری کرتے اور دوسری اقوام کے لٹیروں کے قصیدے پڑھتے کسی ہندو نے ان کی وظیفہ کھانے کی بات نہیں … اور دوسری بات اپ سے پوچھ سکتا ہوں مجھے یہ بتائیں کہ یہ آزادی لے کے آپ نے کون سا تیر مار لیا ؟ آج آپ کی دنیا میں پہچان کیا ہے ؟ ریاست نے ایک عام آدمی کو دیا کیا ہے ؟ کون سی آزادی خود مختاری کی آپ بات کر رہے ہیں ؟ آپ کی خود مختاری اتنی سی ہے کہ آپ اپنے خیالات کو فیس بک پہ پوسٹ نہیں کر سکتے… اپنی اصلی تصویر لگا کر کوئی بات نہیں کر سکتے .. کہ فوجی غنڈے آپ کو اٹھا نہ لیں … اپ کا لیڈر لندن میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور ایک کتپُتلی پوری قوم کو تنگنی کا ناچ نچوا رہا ہے …. یہ آزادی ہے ؟ انڈیا کا آج پوری دنیا میں نام علم و ٹیکنالوجی اور کلچر کی وجہ سے ہے . آپ کا نام کس وجہ سے ہے ؟؟؟؟ آپ کو کوئی آزادی خود مختاری نہیں ملی . آپ سینتالیس سے پہلے پھر بھی آزاد تھے . اب تو آپ بدترین غلام ہیں …. جگہ جگہ فوجی چھوونیاں ہیں … یہاں تک کی شہری آبادی میں اپ کو جی ایچ قو ہے .. جہاں اپ جا نہی سکتے ..

    #52
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 743
    • Posts: 8820
    • Total Posts: 9563
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    آپ کا کہنے کا مطلب ہے جب تک ایم کیو ایم کو صوبے میں حکومت نہی ملتی ، ان سے کراچی میں ترقیاتی کاموں کا نہی پوچھا جا سکتا ؟

    #53
    GeoG
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 83
    • Posts: 5559
    • Total Posts: 5642
    • Join Date:
      12 Oct, 2016

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    آپ کا کہنے کا مطلب ہے جب تک ایم کیو ایم کو صوبے میں حکومت نہی ملتی ، ان سے کراچی میں ترقیاتی کاموں کا نہی پوچھا جا سکتا ؟

    جی نہیں – جب تک پاکستان کی

    :bigsmile:

    جی جی – تسی صحیح سمجھے او – اینوں نہ ای سمجھو

    #54
    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 186
    • Posts: 2445
    • Total Posts: 2631
    • Join Date:
      6 Jan, 2017

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    Awan Sahib

    PM’s office biggest requirement is the person should have political capital, he should have toots in masses. He doesn’t need to have any special degree or experience. He will have tons of technocrats on his disposal to get the job done. He should have political capital to push back state above the state. Imran Khan’s biggest failure, like all his predecessors, is not to stand up against mighty establishment for the broader good of people of Pakistan. Shahbaz Sharif will be bigger puppet and failure than him.

    Maryam Nawaz, if ever elected on her own terms, will be able to change the course of decision making. There will not be two Pakistan’s one for civilians and other for uniforms. Customs will have check-post at border not 16 km inlands. There will be no military courts, police won’t hesitate applying law on men in uniform, no safe houses, no tax free military economy. Soldiers will be in there barracks. Atif Qazi bhai gave that date little too early, perhaps 2233 or couple of centuries later.

    #55
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 147
    • Posts: 2882
    • Total Posts: 3029
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    Awan Sahib PM’s office biggest requirement is the person should have political capital, he should have toots in masses. He doesn’t need to have any special degree or experience. He will have tons of technocrats on his disposal to get the job done. He should have political capital to push back state above the state. Imran Khan’s biggest failure, like all his predecessors, is not to stand up against mighty establishment for the broader good of people of Pakistan. Shahbaz Sharif will be bigger puppet and failure than him. Maryam Nawaz, if ever elected on her own terms, will be able to change the course of decision making. There will not be two Pakistan’s one for civilians and other for uniforms. Customs will have check-post at border not 16 km inlands. There will be no military courts, police won’t hesitate applying law on men in uniform, no safe houses, no tax free military economy. Soldiers will be in there barracks. Atif Qazi bhai gave that date little too early, perhaps 2233 or couple of centuries later.

    PM Khan has two criteria for a successful man in his cabinet. He/she should be army puppet and have great skills to make statements to kill opposition every day (in talks only though). Maryam’s anti-establishment stance is temporary, the day her dad asked her to become pro she will not take a minute to change stance. Shahbaz Sharif may be an army puppet too but at least capable of running the country way better than current Khan government. Shahbaz being PM is the best interest of the country otherwise everyone becomes pro-establishment to take government within a minute in this country. If you change Khan with Maryam or Bilwal then I don’t think there is much difference in all three of them. All of these three bonge, chawal and u-turm masters.

    #56
    Zaidi
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 772
    • Total Posts: 788
    • Join Date:
      30 May, 2020
    • Location: دل کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    زیدی صاحب … وہاں پہ جو لوگ پس رہے ہیں وہ اسی تقسیم کی وجہ سے پس رہے ہیں … ورنہ تقسیم ہند سے پہلے علامہ اقبال صاحب کو بھی وظیفہ ملتا تھا جس پر وہ گھر بیٹھ کر شاعری کرتے اور دوسری اقوام کے لٹیروں کے قصیدے پڑھتے کسی ہندو نے ان کی وظیفہ کھانے کی بات نہیں … اور دوسری بات اپ سے پوچھ سکتا ہوں مجھے یہ بتائیں کہ یہ آزادی لے کے آپ نے کون سا تیر مار لیا ؟ آج آپ کی دنیا میں پہچان کیا ہے ؟ ریاست نے ایک عام آدمی کو دیا کیا ہے ؟ کون سی آزادی خود مختاری کی آپ بات کر رہے ہیں ؟ آپ کی خود مختاری اتنی سی ہے کہ آپ اپنے خیالات کو فیس بک پہ پوسٹ نہیں کر سکتے… اپنی اصلی تصویر لگا کر کوئی بات نہیں کر سکتے .. کہ فوجی غنڈے آپ کو اٹھا نہ لیں … اپ کا لیڈر لندن میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور ایک کتپُتلی پوری قوم کو تنگنی کا ناچ نچوا رہا ہے …. یہ آزادی ہے ؟ انڈیا کا آج پوری دنیا میں نام علم و ٹیکنالوجی اور کلچر کی وجہ سے ہے . آپ کا نام کس وجہ سے ہے ؟؟؟؟ آپ کو کوئی آزادی خود مختاری نہیں ملی . آپ سینتالیس سے پہلے پھر بھی آزاد تھے . اب تو آپ بدترین غلام ہیں …. جگہ جگہ فوجی چھوونیاں ہیں … یہاں تک کی شہری آبادی میں اپ کو جی ایچ قو ہے .. جہاں اپ جا نہی سکتے ..

    آپ کے پہلے جملے سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آپ میرے موقف سے اتفاق کرتے ہیں ۔اگر آپ کے نزدیک خوشحالی اور عزت کا مطلب وظیفہ کھانا اور شعر لکھنا ہی ہے تو آج سب سے زیادہ باعزت اور خوشحال تو نیٹیو انڈین ہیں جنہیں ریزرو پہ کھانے کے لیے پیسہ بھی ملتا ہے اور پینے کے لیے بوز بھی اور کام کےبغیر تنخواہ بھی۔

    آپ نے ھندووانا سماج کی چکی میں پسنے والے ، مسلمان ، عیسائ اور دوسری اقلیتوں کا ذکر آغاز میں ہی کردیا اور اسکی ساری ذمہ داری تشکیل پاکستان پر ڈال دی، عیسائ بھی سوچ رہے ہونگے کہ مسلمان ہندؤں کی غلامی میں رہتے تو پھر ہمارے بھی ہندوستان میں وارے نیارے ہوتے ۔ ان کے دکھوں کا ذمہ دار بھی پاکستان کا وجود ہے ۔

    بحرحال ، آپ کے دوسرے سوال واقعی قابل غور اور جائز ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ میرے جوابات آپ کو مطمئین نہ کر سکیں لیکن کوشش میں کوئ ہرج نہیں ۔

    مجھے آپ کی اس بات سے قطعی اتفاق نہیں کہ آج بھارت کی وجہ شہرت اس کی ٹیکنالوجی میں برتری، اور معاشرت میں انصاف اور بلا امتیاز سلوک ہے ۔ میں آئ ٹی کی ٹیکنالوجی سے وابستہ ہوں اور ہر دن کئ مرتبہ انڈین سے رابطہ کرنا پڑنا پڑتا ہے چونکہ ہر کمپنی نے سستے لیبرز کے لیے اپنے ورک کو آف شور آؤٹ سورس کیا ہوا ہے ۔ یقین جانیں کہ اتنی کوفت ، شرمندگی اور ندامت مجھے ہوتی ہے جب میری ان سے کسی بھی تکنیکی مسئلہ پر گفتگو ہوتی ہے ۔ جس قدر ” سلف آف” انڈین ٹیکنیشن کرتا ہے ، اتنا تو برازیل میں بیٹھا ایک ہیلپ ڈسک کا رکن نہیں کرتا ۔ میرا مصر میں الیگزینڈرا میں بیٹھے ٹیکنیشن سے بھی رابطہ رہتا ہے اور فلیپائین میں کام کرنے والے دفتر کے ارکان سے بھی ۔ نہ تو اب تک میں انڈینز میں کسی قابلیت کا ثبوت دیکھ چکا ہوں ، نہ ڈھنگ سے گفتگو کا سلیقہ ، ھاں چور بازاری، سینیرز کو ٹھگنا ، جھوٹ سے بھری کالز کرکے امپر سو نیٹ کرنے میں ان کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ۔ کچھ بد بخت پاکستان سے بھی اس قسم کے فراڈ کالوں میں ملوث ہیں ، تاہم ان کی تعداد بہت کم ہے ۔

    اب یہ سب چیزیں آپ کو بتانا کیوں مقصود تھیں اور کیا ان انڈینزکی خرابیوں سے پاکستان کا تصور دنیا میں بہتر ہوتا ہے ؟ ۔ہر گز نہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ بات اپنے پراسپیکٹیو میں کی جائے ۔
    ھندوستان کے سماج کے اندر پلنے والے مسائل اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں ، انسانوں کی فرقوں میں تقسیم در تقسیم جتنی ھندوستانی معاشرے میں ہے شاید ہی دنیا میں کہیں اور پائ جاتی ہو ۔ معاشرے میں ” ہر رینگنے والی چیز ” سے ریپ، ھندوستان کی نشانی بن چکا ہے ۔ دنیا میں ھندوستان کو ٹکنالوجی میں ترقی سے زیادہ ورلڈ ریپ کیپیٹل کی وجہ سے  پہچانا جاتا ہے ۔

    ان 72 سالوں میں ہم پاکستانیوں کے طور پر کیا کر سکے ؟ ہم بھی کوئ چاند توڑ کر نہ لا سکے اور نہ ہی اپنے معاشرے میں اس نظام کو رائج کر سکے ، جس کے خواب ہم نے 72 سال بیشتر دیکھے تھے ، آج ہمارے معاشرے سے بھی رواداری ، حسن سلوک اور سچ کا اتنا ہی فقدان ہے جتنا بھارتی معاشرے میں ۔ لیکن ہم میں اور ہمارے ہمسائے میں ایک بنیادی فرق ہے ، ہم خواب دیکھتے ہیں اور ہماری جدوجہد انہیں حقیقت میں بدلنے پر ہوتی ہے ، ہم امید کی شمع گل نہیں ہونے دیتے اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ سارے مسائل کے باوجود ہم اپنے مستقبل کے بارے میں پر امید ہیں ۔ ہم نے ھار نہیں مانی اور زندگی کے مسائل سے سمجھوتہ نہیں کیا ۔ آج بھی ہمارے درمیان آپ جیسے لوگ موجود ہیں جو کھل کر ہم پر تنقید کرتے ہیں اور ہمیں غلط ثابت کرتے ہیں ، ہم آج بھی آپ کی تنقید خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں ، یہی زندہ قوم کی نشانیاں ہیں ، ہم پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے ، بلکہ آگے بڑھتے رہتے ہیں ۔

    ہم آج بھی ظلم اور استبداد کے خلاف اسی طرح لڑتے ہیں جیسے 72 سال پہلے لڑے تھے ۔

    #57
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 161
    • Posts: 5344
    • Total Posts: 5505
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    گھوسٹ بھائی آپ کے اعتراف نے دل جیت لیا – یہ بڑے ظرف کی بات ہوتی ہے کہ کوئی آدمی ایک گرم بحث میں کسی دوسرے کے نقطے سے مکمل اتفاق کرے – میں کم از کم اتنا اعلی ظرف نہیں – اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں بہت سے باریک چیزیں چھپ جاتی ہیں – آپ نے غالبا سٹیٹس میں کوئی ڈگری لی ہے آپ کی شماریات بہت مظبوط ہیں – میں نے سٹیٹس کبھی پڑھی ہی نہیں میتھ البتہ بہت پڑھا ہے – ایم قیو ایم کے موضوع پر فلحال اتنا ہی پھر کبھی کسی اور دھاگے پر بات آگے بڑھائیں گے -شکریہ

    اعوان بھائی،
    یہاں میں نے ایسی کویی بات نہیں کی جو میرا سوچا سمجھا موقف نہیں رہا ہے ، ٢٠١٣ میں کسی بحث کے دوران میں نے یہاں تک لکھا تھا کہ چونکہ اپنے قیام کے تمام اغراض و مقاصد کی طرف واضح پیش قدمی میں ایم قیو ایم مکمل ناکام رہی ہے خصوصا ٢٠٠٨ سے ٢٠١٢ میں جسطرح زرداری کے ہاتھوں کھلونہ بنی ہے اسکے بعد تو اسکو تحلیل کر دینا چاہئے
    باقی شماریات میں میرے پاس کویی ڈگری نہیں ہے اللہ کا شکر ہے کہ کینیڈا میں پان گٹکے کا کھوکھا اچھا چل رہا ہے اپنے جے بھیا بھی عمدہ پان بنانے کی ترکیب شیر کرتے رہتے ہیں میری امید ہے کہ اک روز میرا پان کا کھوکھا بھی جے بھیا کی دکان جتنا بڑا ہو جائے گا.
    ایک بات ضرور کہوں گا کہ جس جس نے اوپر والے چارٹ دیکھے ہیں اور انکو سمجھ آگئے ہیں آج کے بعد بھی اگر وہ تیس سال والا جھوٹ بولیں گے تو یقینا انکا (زندہ) ضمیر انکو اندر سے شرمندہ ضرور کرے گا

    #58
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 161
    • Posts: 5344
    • Total Posts: 5505
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    Shahbaz Sharif may be an army puppet too but at least capable of running the country way better than current Khan government. Shahbaz being PM is the best interest of the country otherwise everyone becomes pro-establishment to take government within a minute in this country.

    اعوان بھائی،
    بلا شبہ شہباز شریف کی پراجیکٹ ڈیلیوری کا ریکارڈ انتہائی متاثر کن ہے افسر شاہی کے گورکھ دھندوں سے فائل آگے بڑھواکر کر عملی کام کرنے میں شہباز شریف کا ٹیلنٹ ثابت شدہ ہے جیلوں میں موجود ملزمان کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے فلسفے کے تحت ماورا عدالت جہنم رسید کرنے کی پالیسی بھی قابل قدر تھی . سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بڑے میاں صاحب کی چھتر چھایا کے بغیر وہ اسی قسم کی کارکردگی پورے ملک میں دھراسکتا ہے؟ میاں صاحب کو میں فنکاری کے اوپری درجہ میں اس لئے رکھتا ہوں کہ یہ ٹھیک ہے کہ ایون فیلڈ کے اپارٹمنٹ کی منی ٹریل “حضور یہ ہیں وہ ذرائع ” والی تقریر کے باوجود میاں صاحب نہیں دے سکے ہیں مگر نیب نے ایڑی چوٹی کے زور کے بعد بھی یہ ثابت نہیں کیا ہے کہ وہ ذرائع غیر قانونی تھے . اپنے شہباز نے تو اس معاملہ میں بہت مایوس کیا ہے اربوں روپوں کی ٹٹیاں اکاونٹ میں آتی رہیں اور وہ یہ سمجھتا رہا کہ پکڑائی نہیں ہوگی . امید ہے وزارت عظمی کے بعد کچھ بہتر انتظام کرے گا

    #59
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 53
    • Posts: 934
    • Total Posts: 987
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    زیدی صاحب ہر آدمی اپنی سوجھ بھوج اور عقل سے حساب سے ہر چیز کا ھل دیتا ہے … جناح نے یہ جھوٹ بول کر پاکستان کے قیام میں ہندو مسلم تنازعہ کا حل موجود ہے تاریخ نے اس کے جھوٹ کو بری طرح ایکسپوز کردیا ہے۔ یہ تنازعہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہو گیا ..
    نفرت کے بیج وہی بوتے ہیں جن کے مفادات نفرتوں میں ہی پنہاں ہوتے ہیں۔ نفرت سے نفرت ملتی ہے اور پیار سے پیار پروان چڑھتا ہے۔۔ آج تک عام عوام کو ان نفرتوں سے کیا ملا ہے۔ سوائے مزید غربت اور خون خرابے کے ۔ جو طبقہ فوائد حاصل کر رہا ہے ۔وہ اس نفرت کو کبھی ختم نہیں ہونے دیں گے۔ نفرت کو بیچنا اور مال بنانا بھی ایک بزنس ہے۔ کون اپنے بزنس کو خراب کرنا چاہے گا ۔ ؟ ہم سب انڈین ہے کوئی بھی عربی یا انگریز نہیں ہے …

    باقی اپ سب کی کہانیاں ہیں وہ پبلک ڈیلنگ میں اچھا ہے وہ خراب ہے … اپ چھوٹے اور محدود پیمانے پر سوچ رہے ہیں جب کہ میں دونوں طرف ظلم کی چکی میں پستی اور عوام کی بات کر رہے ہیں … تقسیم ہند سے زیادہ نقصان غریب اور عام عوام کا ہوا ہے ..

    دراصل جناح اور انگریز اس ہندو مسلم تنازعہ کو اس خطے کی بربادی بنانے کے جو خواب دیکھ رہے تو یہ اس خواب کی حقیقت ہے یہ بہت بڑا جھوٹ بول کر جناح نے مسلمانوں کو ایک گھڑھے میں گرا دیا جو پتہ کب نکلیں گے ۔

    #60
    unsafe
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 53
    • Posts: 934
    • Total Posts: 987
    • Join Date:
      8 Jun, 2020
    • Location: چولوں کی بستی

    Re: آغاز جوانی میں ہم ذرا جھوم کے چلتے ہیں

    Partition was, unfortunately , not the right solution. It resulted in the promotion of more hate against each other. Pakistani ruling  and Indian oligarchy (Army) promoted sense of hate and insecurity for their own motives and results are obvious. We are becoming poorer, intolerant and fundamentalist with each passing day.

Viewing 20 posts - 41 through 60 (of 64 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

DanishGardi