Thread: Mirza Sahib

This topic contains 531 replies, has 31 voices, and was last updated by  Shiraz 5 months, 1 week ago. This post has been viewed 14004 times

Viewing 20 posts - 501 through 520 (of 532 total)
  • Author
    Posts
  • #501
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    جناب شیراز صاحب! چونکہ آپ نے مجھے ٹیگ کیا ہے، لہذا میں بھی کچھ پوچھنا چاہتا ہوں، میں نے آج تک جنتے بھی مومنین کے سامنے یہ سوال رکھا، آدم کے بیٹوں کا بہنوں کے ساتھ سیکس کرنے کے متعلق، سبھی نے اس پر نہ تو شرمندگی کا اظہار کیا، نہ کوئی مذمت وغیرہ کی، بہ الفاظ دیگر وہ اس کو بڑے فخر کے ساتھ اون کرتے ہیں ، ایسی صورت میں جب آپ لوگ فخر سے اس چیز کو قبول کرتے ہیں تو بلیک شیپ کے چ۔۔۔ والے طنز پر آپ لوگوں کا بھڑک جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ یہ پھر گالی تو بعد کی بات ہے، پہلے تو یہ حقیقت کو بیان کرتا ہے، حقیقت بھی بالکل مسلمہ، جس کو آپ لوگ بلا چون و چراں تسلیم کرتے ہیں۔

    پہلے تو آپ سے گذارش ہے کہ اپ بی ایس کا کندھا استعمال کرنا اور اپنی شناخت پر شرمانا چھوڑ دیں، اپنے بَل پر کھڑے ہونگے تو آپ کی بات میں وزن آئے گا، یہ ڈھلمل یقین سے باہر آئیں، یا تو کھل کر اقرار کریں یا انکار

    اُس ایمان، نظریے یا غورو فکر کے نتیجے مین بننے والی سوچ/یقین کی حیثیت پرکاہ کی بھی نہیں جو آپ کو اپنے ہونے، اسے اپنانے اور بیان کرنے کی طاقت نہیں دیتی

    باقی جو نکتہ آپ نے اٹھایا ہے میرا خیال ہے کہ اس کے بودے پن کا احساس آپ کو خود بھی ہے شائد یہی وجہ ہے کہ آپ کے بیان وہ کاٹ/زور نہیں ہے جو اپ کی تحریر کی پہچان ہے، اس نکتے کا جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں، تھوڑی وضاحت اور کر دیتا ہوں

    ایک معاملہ جو بدیہی/عقلی حقیقت نظر آتا ہے اسکو تسلیم کرنے پر شرمندگی کیوں؟ شرمندگی تو اس کے انکار پر ہونی چاہیے جیسے شائد ملحدین کو ہے، ہمارے پاس تو موسیٰؐ ہیں، جو انسانی شعوری ارتقاء کا ایک بہت بڑا مظہر اور سنگِ میل ہیں

    #502
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 154
    • Posts: 2977
    • Total Posts: 3131
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: Mirza Sahib

    پہلا پیرا: آپ کے ان تمام اعتراضات کے جواب آپ کے گُرو کے اس سے ملتے جلتے تبصرے کے جواب میں یہاں دیدیئے گئے ہیں دوسرا پیرا: اخلاقیات زندگی کا عطر اور بقا کیلئے ضروری ہیں اسلئے اخلاقیات کا حوالہ تو آتا رہے گا اور سہل، لچکیلی اور کسی خارجی بنیاد (فریمورک) سے عاری اخلاقیات پر سوال بھی اٹھتے رہیں گے، باقی اظہار رائے اور اسکے حق کے بارے میرا موقف بالکل واضح ہے، میں کسی پر بین نہیں چاہتا، میں مکالمے کیلئے صرف مہذب ماحول اور یکسان مواقع کی ضمانت چاہتا ہوں اب آپ کے سوالوں کے جواب: آپکے گُرو بی ایس کی محبوبہ (علمی دیانت) یہ کہتی ہے کہ جس سلسلہء خیلات، جس ماخدومنبع اور جن کتابوں پر آپ یقین ہی نہیں رکھتے، ان پر انکے ماننے والوں سے، ان پر ایمان رکھنے والوں سے ان پر سوال نہ اٹھائیں، اور آپ سے مکالمے کے وقت میری اخلاقیات یہ کہتیں ہیں کہ میں آسمانی کتابوں سے دلیل لا کر آپ سے اسے ماننے پر اصرار نہ کروں، پھر بھی اپنی اخلاقیات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اور آپ لوگوں کے علمی دیانت پر قائم رہنے کے دعوٰی سے صرف نظر کرتے ہوئے، آپ کے سوالاے کے عقلی جوابات حاضر ہیں آدمؑ کے کے بیٹوں نے اپنی بہنوں کے ساتھ مباشرت کی جس سے ہم سب پیدا ہوئے، لیکن موسیٰؑ نے ایمان والوں کو اس سے منع کر دیا اور ہم منع ہو گئے لیکن آپ اور آپ کے گروہ نے جاری رکھا۔ سارا کے ابراہیمؑ کی سوتیلی بہن ہونے کا کوئی مسلّمہ ثبوت نہیں ہے، ابتدائے زندگی (جینیسس) کی جس کتاب میں یہ مکالمہ نقل ہے اس کا تناظر صاف وضاحت کر رہا ہے کہ یہ سب ایک ناخوشگوار صورتحال کو ٹالنے یا اس سے بچنے کیلئے تھا۔ پیشتر اسکے کہ تیسرے سوال کا جواب دوں، آپ یہ فرماؤ حضورؐ نے اپنے منہ بولے بیٹے زیدؒ سے حضرت زینبؒ بنت جحش کی شادی ہی کیوں کی تھی؟ سرخ رنگ میں نشان زد جملہ میرے لئے واقعتاً نئی معلومات ہیں، آپ ان سب ملکوں کے نام اور کوئی مستند حوالہ یہاں درج کر سکو تو مہربانی ہوگی blacksheep JMP Ghost Protocol Zinda Rood You all are copied into this because you all liked this post by Qarar Sb.

    Shiraz sahib

    محترم شیراز صاحب

    شکریہ میں محترم قرار صاحب کی کچھ باتوں سے ابھی بھی اتفاق کرتا ہوں

    Qarar sahib

    #503
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 800
    • Total Posts: 808
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Mirza Sahib

    پہلے تو آپ سے گذارش ہے کہ اپ بی ایس کا کندھا استعمال کرنا اور اپنی شناخت پر شرمانا چھوڑ دیں، اپنے بَل پر کھڑے ہونگے تو آپ کی بات میں وزن آئے گا، یہ ڈھلمل یقین سے باہر آئیں، یا تو کھل کر اقرار کریں یا انکار اُس ایمان، نظریے یا غورو فکر کے نتیجے مین بننے والی سوچ/یقین کی حیثیت پرکاہ کی بھی نہیں جو آپ کو اپنے ہونے، اسے اپنانے اور بیان کرنے کی طاقت نہیں دیتی باقی جو نکتہ آپ نے اٹھایا ہے میرا خیال ہے کہ اس کے بودے پن کا احساس آپ کو خود بھی ہے شائد یہی وجہ ہے کہ آپ کے بیان وہ کاٹ/زور نہیں ہے جو اپ کی تحریر کی پہچان ہے، اس نکتے کا جواب میں پہلے ہی دے چکا ہوں، تھوڑی وضاحت اور کر دیتا ہوں ایک معاملہ جو بدیہی/عقلی حقیقت نظر آتا ہے اسکو تسلیم کرنے پر شرمندگی کیوں؟ شرمندگی تو اس کے انکار پر ہونی چاہیے جیسے شائد ملحدین کو ہے، ہمارے پاس تو موسیٰؐ ہیں، جو انسانی شعوری ارتقاء کا ایک بہت بڑا مظہر اور سنگِ میل ہیں

    آپ سے بھی گزارش ہے کہ آپ میری ذات کو ٹٹولنے کے جذبے پر قابو پانے کی کوشش کریں اور موضوع پر بات کرنے کی کوشش کریں۔ دوسری بات اس تھریڈ پر آدم کے بیٹوں کی بہنوں کے ساتھ مباشرت کرنے کا سوال سب سے پہلے میں نے اٹھایا ۔۔ اور یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ آپ نے ہمت کرکے اس شرمناک حقیقت کو قبول کرلیا تو بات ختم ہوگئی ۔ بات تو شروع ہی تب ہوتی ہے جب آپ قبول کرتے ہیں، کیونکہ یہ اعتراض آدم پر نہیں سیدھا آپ کے خدا پر جاتا ہے، کیونکہ آپ کے بقول آدم خدا کے پیغمبر تھے، شریعت خداوندی ساتھ لائے تھے اور پیغمبر وہی کرتا ہے جو اس کا خدا کہتا ہے۔ یعنی آدم نے اپنے بیٹوں کی ان کی بہنوں کے ساتھ شادی بھی خدا کے کہنے پر کی۔ تو جو خدا آپ کے بقول مستقبل کا حال بھی جانتا ہے اور ساری اخلاقیات کا منبع و مخزن بھی وہی ہے، اس کو کیا اتنا علم نہیں تھا کہ جس کام (بھائی بہنوں کی مباشرت) کو وہ آگے جاکر حرام قرار دینے والا ہے، اسکو وہ نسلِ انسانی کے آغاز میں حلال قرار دے کر آنے والے مومنین کے لئے اتھاہ شرمندگی کا سامان کرنے والا ہے۔

    اور یہ تو ہم یقیناً نہیں کہہ سکتے کہ خدا مجبور تھا ایک حرام کام کے ذریعے نسلِ انسانی کا آغاز کرنے پر۔ وہ تو بہت شکتی شالی ہے، آدم و حوا کے ساتھ ایک اور جوڑا بھی پیدا کرسکتا تھا، پھر خاص اسی حرام کام کو کیوں چنا۔۔۔؟؟

    #504
    blacksheep
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 10
    • Posts: 1030
    • Total Posts: 1040
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: Mirza Sahib

    آدمؑ کے کے بیٹوں نے اپنی بہنوں کے ساتھ مباشرت کی جس سے ہم سب پیدا ہوئے

    شیراز صاحب۔۔۔۔۔۔

    تو پھر کیا مسلمانوں کی اس درخشاں روایت(یا مذہبی حکم)، کہ ہمارے آباؤ اجداد سگی بہنوں کے ساتھ مباشرت کرتے تھے، کو مسلمانوں کا عظیم ثقافتی ورثہ کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  blacksheep.
    #505
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    شیراز صاحب۔۔۔۔۔۔ تو پھر کیا مسلمانوں کی اس درخشاں روایت(یا مذہبی حکم)، کہ ہمارے آباؤ اجداد سگی بہنوں کے ساتھ مباشرت کرتے تھے، کو مسلمانوں کا عظیم ثقافتی ورثہ کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

    مسلمانوں کا ثقافتی ورثہ محمدؐ کے اعلانِ نبوت سے شروع ہوتا ہے، اظہار میں احتیاط کیا کریں اور حقائق کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا کریں

    #506
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    Shiraz sahib محترم شیراز صاحب شکریہ میں محترم قرار صاحب کی کچھ باتوں سے ابھی بھی اتفاق کرتا ہوں Qarar sahib

    کسی سے متفق یا نامتفق ہونا آپ کا پیدائشی حق ہے، کوئی اسے چھین نہیں سکتا اور مجھ سمیت کسی کے پاس بھی اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے

    ہماری پسند ناپسند ہی  “شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے” کے مصداق ہماری شخصیت کی صورتگری کرتی ہیں

    آپ کو اطلاع اسلئے دی کہ ایک متبادل نکتہء نظر پیش کیا گیا تھا تاکہ آپ اس سے آگاہ ہو جاؤ

    :)

    #507
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    آپ سے بھی گزارش ہے کہ آپ میری ذات کو ٹٹولنے کے جذبے پر قابو پانے کی کوشش کریں اور موضوع پر بات کرنے کی کوشش کریں۔ دوسری بات اس تھریڈ پر آدم کے بیٹوں کی بہنوں کے ساتھ مباشرت کرنے کا سوال سب سے پہلے میں نے اٹھایا ۔۔ اور یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ آپ نے ہمت کرکے اس شرمناک حقیقت کو قبول کرلیا تو بات ختم ہوگئی ۔ بات تو شروع ہی تب ہوتی ہے جب آپ قبول کرتے ہیں، کیونکہ یہ اعتراض آدم پر نہیں سیدھا آپ کے خدا پر جاتا ہے، کیونکہ آپ کے بقول آدم خدا کے پیغمبر تھے، شریعت خداوندی ساتھ لائے تھے اور پیغمبر وہی کرتا ہے جو اس کا خدا کہتا ہے۔ یعنی آدم نے اپنے بیٹوں کی ان کی بہنوں کے ساتھ شادی بھی خدا کے کہنے پر کی۔ تو جو خدا آپ کے بقول مستقبل کا حال بھی جانتا ہے اور ساری اخلاقیات کا منبع و مخزن بھی وہی ہے، اس کو کیا اتنا علم نہیں تھا کہ جس کام (بھائی بہنوں کی مباشرت) کو وہ آگے جاکر حرام قرار دینے والا ہے، اسکو وہ نسلِ انسانی کے آغاز میں حلال قرار دے کر آنے والے مومنین کے لئے اتھاہ شرمندگی کا سامان کرنے والا ہے۔ اور یہ تو ہم یقیناً نہیں کہہ سکتے کہ خدا مجبور تھا ایک حرام کام کے ذریعے نسلِ انسانی کا آغاز کرنے پر۔ وہ تو بہت شکتی شالی ہے، آدم و حوا کے ساتھ ایک اور جوڑا بھی پیدا کرسکتا تھا، پھر خاص اسی حرام کام کو کیوں چنا۔۔۔؟؟

    ذات کو ٹٹولنے والی بات اضافی ہے، میرا خیال ہے کہ یہ میرا اخلاقی حق ہے کہ جس بات پر مکالمہ ہو رہا ہے میرا مخاطب اس حوالے سے کہاں کھڑا ہے، اپ اس پر کھلنا (آؤٹ ہونا) نہیں چاہتے تو یہ آپ کا حق ہے لیکن پھر میرے لئے اس بات کو آگے چلانا مشکل ہے خاص طور پر آپ کے طے کردہ  خطوط پر

    باقی مکالمے کو اپنی مرضی سے چلانے اور اور اس کو ادہر اُدہر گھمانے کے حربے دونوں کے وقت کا ضیاع ہونگے، اسلئے میرا مشورہ تو یہی ہے کہ اس سے پرہیز فرمائیں اس سے بھی بات آگے نہیں بڑھ پائے گی

    ایک دفعہ پھر وضاحت کر دوں کہ یہاں اسلام، اسکا بانی یا اسکی تعلیمات زیرِبحث نہیں ہیں، یہاں خدا کے وجود و عدم وجود پر بات ہو رہی ہے، پہلے ہم اس موضوع پر کسی اتفاق یا عدم اتفاق (اور اکے خدوخال) پر متفق ہو جائیں تو آپ کے پسندیدہ مرحلے بھی زیرِ بحث آئیں گے اور آپ کو پورا موقع ملے گا اپنے ارمان نکالنے کا

    :)

    #508
    Moderator
    Keymaster
    Offline
    • Threads: 17
    • Posts: 592
    • Total Posts: 609
    • Join Date:
      9 Aug, 2016
    • Location: تار عنکبوت

    Re: Mirza Sahib

    شیراز صاحب۔۔۔۔۔۔ تو پھر کیا مسلمانوں کی اس درخشاں روایت(یا مذہبی حکم)، کہ ہمارے آباؤ اجداد سگی بہنوں کے ساتھ مباشرت کرتے تھے، کو مسلمانوں کا عظیم ثقافتی ورثہ کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

    بلیک شیپ صاحب! آپکے ذخیرہ الفاظ کی ستائش کے بعد عرض ہے کہ اب آگے بڑھیں، کب تک یہیں جمے رہیں گے؟؟

    #509
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 800
    • Total Posts: 808
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Mirza Sahib

    ذات کو ٹٹولنے والی بات اضافی ہے، میرا خیال ہے کہ یہ میرا اخلاقی حق ہے کہ جس بات پر مکالمہ ہو رہا ہے میرا مخاطب اس حوالے سے کہاں کھڑا ہے، اپ اس پر کھلنا (آؤٹ ہونا) نہیں چاہتے تو یہ آپ کا حق ہے لیکن پھر میرے لئے اس بات کو آگے چلانا مشکل ہے خاص طور پر آپ کے طے کردہ خطوط پر باقی مکالمے کو اپنی مرضی سے چلانے اور اور اس کو ادہر اُدہر گھمانے کے حربے دونوں کے وقت کا ضیاع ہونگے، اسلئے میرا مشورہ تو یہی ہے کہ اس سے پرہیز فرمائیں اس سے بھی بات آگے نہیں بڑھ پائے گی ایک دفعہ پھر وضاحت کر دوں کہ یہاں اسلام، اسکا بانی یا اسکی تعلیمات زیرِبحث نہیں ہیں، یہاں خدا کے وجود و عدم وجود پر بات ہو رہی ہے، پہلے ہم اس موضوع پر کسی اتفاق یا عدم اتفاق (اور اکے خدوخال) پر متفق ہو جائیں تو آپ کے پسندیدہ مرحلے بھی زیرِ بحث آئیں گے اور آپ کو پورا موقع ملے گا اپنے ارمان نکالنے کا :)

    شیراز صاحب! آپ کا اس موضوع سے پہلو تہی کرنا بعیداز قیاس نہیں تھا، کیونکہ یہ وہ موضوع ہے جس کے سامنے بڑے بڑے سورما مومنین چت لیٹے نظر آتے ہیں، کیونکہ بہرحال تمام تر ڈھٹائی کے باوجود اس فعلِ بد پر آخر کب تک فخر کیا جاسکتا ہےکہ جس کو  آج مکروہ ، گھناؤنا اور غلیظ جانتے ہیں اور ماضی میں اس کو مقدس، شاندار اور عظیم المرتبت قرار دیتے ہیں۔ 

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  Zinda Rood.
    #510
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    شیراز صاحب! آپ کا اس موضوع سے پہلو تہی کرنا بعیداز قیاس نہیں تھا، کیونکہ یہ وہ موضوع ہے جس کے سامنے بڑے بڑے سورما مومنین چت لیٹے نظر آتے ہیں، کیونکہ بہرحال تمام تر ڈھٹائی کے باوجود اس فعلِ بد پر آخر کب تک فخر کیا جاسکتا ہےکہ جس کو آج مکروہ ، گھناؤنا اور غلیظ جانتے ہیں اور ماضی میں اس کو مقدس، شاندار اور عظیم المرتبت قرار دیتے ہیں۔

    ، پہلوتہی کیوں کروں گا؟ آپ کی آسانی کیلئے دوہرا دیتا ہوں

    فعلِ بد انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے ایمان والوں نے الوہی ہدایت کے زیرِاثر کوئی 3500-4000 سال پہلے اسے چھوڑ دیا تھا جبکہ بےایمان/ملحد اسے آج بھی مکروہ ، گھناؤنا اور غلیظ نہیں جانتے، بلکہ شائد اس پر فخر کرتے ہیں

    اور کچھ؟؟

    :bigthumb:

    #511
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 800
    • Total Posts: 808
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Mirza Sahib

    ، پہلوتہی کیوں کروں گا؟ آپ کی آسانی کیلئے دوہرا دیتا ہوں فعلِ بد انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے ایمان والوں نے الوہی ہدایت کے زیرِاثر کوئی 3500-4000 سال پہلے اسے چھوڑ دیا تھا جبکہ بےایمان/ملحد اسے آج بھی مکروہ ، گھناؤنا اور غلیظ نہیں جانتے، بلکہ شائد اس پر فخر کرتے ہیں اور کچھ؟؟ :bigthumb:

    ایمان والے آج تک اس بات کا کوئی ثبوت، کوئی حوالہ پیش نہیں کرسکے، جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ایمان والوں نے کسی الوہی ہدایت کے تحت اس فعلِ بد کو چھوڑ دیا ہو۔۔۔

    ہاں  مگر۔۔۔۔۔

    ایمان والے اس بات کا پکا ثبوت، اور گواہی دیتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد اس فعلِ بد کا ارتکاب الوہی ہدایت کے تحت کرتے رہے۔۔۔ 

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  Zinda Rood.
    #512
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 154
    • Posts: 2977
    • Total Posts: 3131
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: Mirza Sahib

    کسی سے متفق یا نامتفق ہونا آپ کا پیدائشی حق ہے، کوئی اسے چھین نہیں سکتا اور مجھ سمیت کسی کے پاس بھی اس پر اعتراض کا کوئی جواز نہیں ہے ہماری پسند ناپسند ہی “شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے” کے مصداق ہماری شخصیت کی صورتگری کرتی ہیں آپ کو اطلاع اسلئے دی کہ ایک متبادل نکتہء نظر پیش کیا گیا تھا تاکہ آپ اس سے آگاہ ہو جاؤ :)

    Shiraz sahib

    محترم شیراز صاحب

    درست فرمایا آپ نے.

    ساتھ ساتھ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کر سکتی ہے کے کوئی کسی ایک سوچ سے وابستہ ہونا چاہتا ہے یا منزل کی جستجو میں سوچ کو بھٹکنے ، کچھ آوارہ گردی، کچھ جدوجہد، کچھ کھوج کی آزادی بھی دینا چاہتا ہے .

    میں ابھی تک اس لمبی بحث میں جو دو جگہہ چل رہی ہے یہ طے نہیں کر پایا کے کسی نے بھی خدا کی موجودگی یا غیر موجودگی کے حوالہ سے کوئی ٹھوس بات کی ہو

    الفاظ کی جادوگری، باتوں کا ہیر پھیر، پہلے آپ پہلے آپ، سوالوں کی ایک دوسرے پر بوچھاڑ ، کچھ طنز تواور ہاں کہیں کہیں کبھی کبھی کچھ سوچنے کی جانب مائل کرنے والی گفتگو تو نظر اتی ہے مگر میری ناقص راۓ میں بحث برائے بحث کا گمان زیادہ لگ رہا ہے مجھے

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  JMP. Reason: fixed typo
    #513
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    ایمان والے آج تک اس بات کا کوئی ثبوت، کوئی حوالہ پیش نہیں کرسکے، جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ایمان والوں نے کسی الوہی ہدایت کے تحت اس فعلِ بد کو چھوڑ دیا ہو۔۔۔ ہاں مگر۔۔۔۔۔ ایمان والے اس بات کا پکا ثبوت، اور گواہی دیتے ہیں کہ ان کے آباؤ اجداد اس فعلِ بد کا ارتکاب الوہی ہدایت کے تحت کرتے رہے۔۔۔

    تالمود، تورات اور موسیٰؑ کی دوسری تعلیمات (یاد رہے میں یہاں کوئی مذہبی حوالہ نہیں لا رہا ہوں، بلکہ موسٰیؑ کو ایک مستند تاریخی شخصیت کی حیثیت سے پیش کر رہا ہوں) آپ کیلئے کوئی ثبوت یا حوالہ نہیں ہیں؟؟

    #514
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 800
    • Total Posts: 808
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Mirza Sahib

    تالمود، تورات اور موسیٰؑ کی دوسری تعلیمات (یاد رہے میں یہاں کوئی مذہبی حوالہ نہیں لا رہا ہوں، بلکہ موسٰیؑ کو ایک مستند تاریخی شخصیت کی حیثیت سے پیش کر رہا ہوں) آپ کیلئے کوئی ثبوت یا حوالہ نہیں ہیں؟؟

    یعنی آپ کے کہنے کا مطلب ہے، موسیٰ سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں رچاتے تھے اور موسیٰ نے آکر روک دیا۔؟

    کہاں ہے یہ حوالہ، ذرا پیش کیجیے۔۔۔ 

    #515
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    Shiraz sahib محترم شیراز صاحب درست فرمایا آپ نے. ساتھ ساتھ یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کر سکتی ہے کے کوئی کسی ایک سوچ سے وابستہ ہونا چاہتا ہے یا منزل کی جستجو میں سوچ کو بھٹکنے ، کچھ آوارہ گردی، کچھ جدوجہد، کچھ کھوج کی آزادی بھی دینا چاہتا ہے . میں ابھی تک اس لمبی بحث میں جو دو جگہہ چل رہی ہے یہ تے نہیں کر پایا کے کسی نے بھی خدا کی موجودگی یا غیر موجودگی کے حوالہ سے کوئی ٹھوس بات کی ہو الفاظ کی جادوگری، باتوں کا ہیر پھیر، پہلے آپ پہلے آپ، سوالوں کی ایک دوسرے پر بوچھاڑ ، کچھ طنز تواور ہاں کہیں کہیں کبھی کبھی کچھ سوچنے کی جانب مائل کرنے والی گفتگو تو نظر اتی ہے مگر میری ناقص راۓ میں بحث برائے بحث کا گمان زیادہ لگ رہا ہے مجھے

    :)  آ جائیے پھر، آپ بھی بسم اللہ کیجئیے، تماشائی کیوں بنے بیٹھے ہیں

    بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ دہریوں یا ایگنوسٹکس کے پاس 10000 سی سی کا دماغ نہیں جس کی بناء پر وہ خدا کا انکار کرتے ہیں اور ایمان والوں کو مطلق بے وقوف جان کر تمسخر، تضحیک اور لعن طعن کا نشانہ بناتے ہیں (گو آپ ایسوں میں شامل نہیں ہیں)، جب دونوں عقلیت کی ایک ہی سطح پر ہیں تو انہیں ایک دوسرے سے مساوات اور شائستگی سے مکالمہ کرنا چاہیے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے

    بحث برائے بحث کا احساس شائد آپ کو اسلئے ہو رہا ہے کہ میرے مخاطب اس نکتے سے آگے بڑھ ہی نہیں رہے، یا تو خاموش ہو چکے ہیں یا پھر بات کو ادہر ادہر گھمانے کی کوشش کر رہے ہیں، یا پھر مکالمے کو مرحلہ وار لیکر چلنے کی بجائے جمپ لگا کر ان کتابوں اور تعلیمات پر حملے کرتے ہیں، جن پر وہ یقین ہی نہیں رکھتے، میں مکالمے کو عقلی، علمی اور سائنسی میدان میں رکھنا چاہتا ہوں جبکہ وہ بارے بار اس کو گھسیٹ کر روحانی اور مذہبی میدان میں  لے جانا چاہتے ہیں، مجھے اس میں بھی کوئی باک نہیں ہے لیکن پہلے کچھ قواعدوضوابط طے ہونے چاہیے، کوئی مشترکہ بنیاد ہونی چاہیے

    اس تناطر میں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بحث کو آگے لے جانے میں آپ کوئی حصہ ڈال سکتے ہیں، آپ کے پاس کوئی تجاویز، نکات یا نظریات/خیالات ہیں تو جشمِ ما روشن، دلِ ما شاد

    :bigthumb:

    #516
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    یعنی آپ کے کہنے کا مطلب ہے، موسیٰ سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں رچاتے تھے اور موسیٰ نے آکر روک دیا۔؟ کہاں ہے یہ حوالہ، ذرا پیش کیجیے۔۔۔

    براہِ مہربانی بیان کو مروڑنے یا سیاق و سباق سے ہٹانے کی کوشش مت کیجیئے گا

    میں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ موسیٰ سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں رچاتے تھے۔ یہ آپ یا آپ جیسوں کا دعویٰ اور موقف ہے

    میں نے صرف یہ کہا کہ “ہمیں موسٰی نئے آ کر روک دیا” اور اس کے حوالے کیلئے وکی پیڈیا قابل قبول ہے یا اساسی حوالہ ڈھونڈ کے دوں?

    Jewish and Christian[edit]
    According to the Torah, per Leviticus 18, “the children of Israel”—Israelite men and women alike—are forbidden from sexual relations between people who are “near of kin” (cf. verse 6), who are defined as:

    Parents and children (cf. verse 7)
    Siblings and half siblings (cf. verses 9 and 11). Relationships between these are particularly singled out for a curse in Deuteronomy 27, and they are of the only two kinds incestuous relationships that are among the particularly-singled-out relationships—with the other particularly-singled-out relationships being ones of non-incestuous family betrayal (cf. verse 20) and bestiality (cf. verse 21)
    Grandparents and grandchildren (cf. verse 10)
    Aunts and nephews, uncles and nieces, etc. (cf. verses 12–14).[136] Relationships between these are the second kind of relationships that are particularly singled out for a curse in Deuteronomy 27, and the explicit examples of children-in-law and mothers-in-law (cf. verse 23) serves to remind the Israelites that the parents-in-law are also (or at least should be also) the children-in-laws’ aunts and uncles:
    And Moses commanded the children of Israel according to the word of the LORD, saying: ‘The tribe of the sons of Joseph speaketh right. This is the thing which the LORD hath commanded concerning the daughters of Zelophehad, saying: Let them be married to whom they think best; only into the family of the tribe of their father shall they be married. So shall no inheritance of the children of Israel remove from tribe to tribe; for the children of Israel shall cleave every one to the inheritance of the tribe of his fathers. And every daughter, that possesseth an inheritance in any tribe of the children of Israel, shall be wife unto one of the family of the tribe of her father, that the children of Israel may possess every man the inheritance of his fathers. So shall no inheritance remove from one tribe to another tribe; for the tribes of the children of Israel shall cleave each one to its own inheritance.’ Even as the LORD commanded Moses, so did the daughters of Zelophehad. For Mahlah, Tirzah, and Hoglah, and Milcah, and Noah, the daughters of Zelophehad, were married unto their father’s brothers’ sons.
    Incestuous relationships are considered so severe among chillulim HaShem as to be, along with the other forbidden relationships that are mentioned in Leviticus 18, punishable by death as specified in Leviticus 20.

    Retrieved on 16/04/2018 from: https://en.wikipedia.org/wiki/Incest

    #517
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 800
    • Total Posts: 808
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Mirza Sahib

    براہِ مہربانی بیان کو مروڑنے یا سیاق و سباق سے ہٹانے کی کوشش مت کیجیئے گا میں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ موسیٰ سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں رچاتے تھے۔ یہ آپ یا آپ جیسوں کا دعویٰ اور موقف ہے میں نے صرف یہ کہا کہ “ہمیں موسٰی نئے آ کر روک دیا” اور اس کے حوالے کیلئے وکی پیڈیا قابل قبول ہے یا اساسی حوالہ ڈھونڈ کے دوں? Jewish and Christian[edit] According to the Torah, per Leviticus 18, “the children of Israel”—Israelite men and women alike—are forbidden from sexual relations between people who are “near of kin” (cf. verse 6), who are defined as: Parents and children (cf. verse 7) Siblings and half siblings (cf. verses 9 and 11). Relationships between these are particularly singled out for a curse in Deuteronomy 27, and they are of the only two kinds incestuous relationships that are among the particularly-singled-out relationships—with the other particularly-singled-out relationships being ones of non-incestuous family betrayal (cf. verse 20) and bestiality (cf. verse 21) Grandparents and grandchildren (cf. verse 10) Aunts and nephews, uncles and nieces, etc. (cf. verses 12–14).[136] Relationships between these are the second kind of relationships that are particularly singled out for a curse in Deuteronomy 27, and the explicit examples of children-in-law and mothers-in-law (cf. verse 23) serves to remind the Israelites that the parents-in-law are also (or at least should be also) the children-in-laws’ aunts and uncles: And Moses commanded the children of Israel according to the word of the LORD, saying: ‘The tribe of the sons of Joseph speaketh right. This is the thing which the LORD hath commanded concerning the daughters of Zelophehad, saying: Let them be married to whom they think best; only into the family of the tribe of their father shall they be married. So shall no inheritance of the children of Israel remove from tribe to tribe; for the children of Israel shall cleave every one to the inheritance of the tribe of his fathers. And every daughter, that possesseth an inheritance in any tribe of the children of Israel, shall be wife unto one of the family of the tribe of her father, that the children of Israel may possess every man the inheritance of his fathers. So shall no inheritance remove from one tribe to another tribe; for the tribes of the children of Israel shall cleave each one to its own inheritance.’ Even as the LORD commanded Moses, so did the daughters of Zelophehad. For Mahlah, Tirzah, and Hoglah, and Milcah, and Noah, the daughters of Zelophehad, were married unto their father’s brothers’ sons. Incestuous relationships are considered so severe among chillulim HaShem as to be, along with the other forbidden relationships that are mentioned in Leviticus 18, punishable by death as specified in Leviticus 20. Retrieved on 16/04/2018 from: https://en.wikipedia.org/wiki/Incest

    اگر آپ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ موسیٰ کے آنے سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں کیا کرتے تھے اور موسیٰ نے آکر روک دیا تو پھر آپ کا یہ حوالہ دینے کا مقصد کیا ہے، اس سے یہ تو کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ لوگ بہنوں سے شادیاں کرنے سے مذہبی حکم کی وجہ سے باز آئے۔۔ اس طرح تو اسلام میں بھی لکھا ہے کہ خونی رشتے سے شادی حرام ہے تو کیا اس بناء پر آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اسلام سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں کیا کرتے تھےاور اسلام کے حکم کی وجہ سے باز آئے۔؟۔

    میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ کوئی بھی مومن یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ لوگ اس فعلِ بد سے باز “الوہی” ہدایت کی وجہ سے آئے۔۔

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  Zinda Rood.
    #518
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    اگر آپ یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ موسیٰ کے آنے سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں کیا کرتے تھے اور موسیٰ نے آکر روک دیا تو پھر آپ کا یہ حوالہ دینے کا مقصد کیا ہے، اس سے یہ تو کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ لوگ بہنوں سے شادیاں کرنے سے مذہبی حکم کی وجہ سے باز آئے۔۔ اس طرح تو اسلام میں بھی لکھا ہے کہ خونی رشتے سے شادی حرام ہے تو کیا اس بناء پر آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اسلام سے پہلے لوگ بہنوں سے شادیاں کیا کرتے تھےاور اسلام کے حکم کی وجہ سے باز آئے۔؟۔ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ کوئی بھی مومن یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ لوگ اس فعلِ بد سے باز “الوہی” ہدایت کی وجہ سے آئے۔۔

    :)  آپ چلتے تو جائیں، دیکھ لیتے ہیں ثابت ہوتا ہے یا نہیں

    ہر الوہی ہدایت بمعہ ایک جلاد کے نہیں اترتی، الوہی ہدایت ایک اخلاقی ا ختیار (چوائس) ہوتا ہے (اور ساتھ ہی زندگی بعد الموت کا تصور) جس کو جزا و سزا کے نظام کے ذریعے زندگی بعد الموت کے خاکے سے  جوڑ دیا گیا ہے، ہے تو کہانی لیکن کمبخت ہے بری منطقی!۔ ۔ ۔ ۔

    ;-)

    تھوپا آپ پر کچھ بھی نہیں گیا، تھوپا جاتا تو آپکا رونا دیکھنے والا ہونا تھا کہ ہم تو پُتلیاں ہیں ہمیں تو کوئی اختیار ہی نہیں ہے، ہاں ایک سماجی نظام اور الوہی ہدایت کو رہنما بنا کر قانون سازی کے ذریعے انسان نے معاشرتی امن کیلئے اتنا ضرور کر لیا کہ کھلے عام غلاظت پھیلانے سے خود کو روک لیا

    #519
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 800
    • Total Posts: 808
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Mirza Sahib

    :) آپ چلتے تو جائیں، دیکھ لیتے ہیں ثابت ہوتا ہے یا نہیں ہر الوہی ہدایت بمعہ ایک جلاد کے نہیں اترتی، الوہی ہدایت ایک اخلاقی ا ختیار (چوائس) ہوتا ہے (اور ساتھ ہی زندگی بعد الموت کا تصور) جس کو جزا و سزا کے نظام کے ذریعے زندگی بعد الموت کے خاکے سے جوڑ دیا گیا ہے، ہے تو کہانی لیکن کمبخت ہے بری منطقی!۔ ۔ ۔ ۔ ;-) تھوپا آپ پر کچھ بھی نہیں گیا، تھوپا جاتا تو آپکا رونا دیکھنے والا ہونا تھا کہ ہم تو پُتلیاں ہیں ہمیں تو کوئی اختیار ہی نہیں ہے، ہاں ایک سماجی نظام اور الوہی ہدایت کو رہنما بنا کر قانون سازی کے ذریعے انسان نے معاشرتی امن کیلئے اتنا ضرور کر لیا کہ کھلے عام غلاظت پھیلانے سے خود کو روک لیا

    آپ خود یہ اقرار کرچکے ہیں کہ آپ یہ نہیں کہتے کہ موسیٰ سے پہلے لوگ بہن بھائی کی شادیاں کیا کرتے تھے، لہذا آپ کا موسیٰ کی تعلیمات کا حوالہ وہیں غیر موثر ثابت ہوگیا، اب آپ کیا یہ الزام موسیٰ سے پچھلے پیغمبر کے سر ڈالیں گے یا پھر اپنے دعوے سے دستبردار ہورہے ہیں۔۔؟۔۔ 

    #520
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: Mirza Sahib

    آپ خود یہ اقرار کرچکے ہیں کہ آپ یہ نہیں کہتے کہ موسیٰ سے پہلے لوگ بہن بھائی کی شادیاں کیا کرتے تھے، لہذا آپ کا موسیٰ کی تعلیمات کا حوالہ وہیں غیر موثر ثابت ہوگیا، اب آپ کیا یہ الزام موسیٰ سے پچھلے پیغمبر کے سر ڈالیں گے یا پھر اپنے دعوے سے دستبردار ہورہے ہیں۔۔؟۔۔

    کیا سیاق و سباق ہے اپ کے اس تبصرے کا؟ کچھ سمجھ نہیں آیا، جس پوسٹ کو آپ نے قوٹ کیا ہے اس میں تو کچھ ایسا نہیں ہے؟؟

    بھائی صاحب مقرر عرض ہے کہ ایک ایمان والا تو ان خرافات میں جاتا ہی نہیں ہے کیونکہ اس کی پچھلے 3000-4000 سال کی زندگی کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہے یہ تو بے ایمان لوگ ان پر حملے کیلئے ایسے نکات گھسیٹ لاتے ہیں

    لہٰذا یہ کوئی دعویٰ سرے سے تھا ہی نہیں تو اس سے دستبرداری کا کیا سوال؟؟ آپ آگے بڑھئے اور فرمائیے کہ خالق نے تخلیق کے بعد ہاتھ دھو لئے یا اس سے کوئی رابطہ رکھا؟

Viewing 20 posts - 501 through 520 (of 532 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation