Thread: India's Divider In Chief

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں India's Divider In Chief

This topic contains 32 replies, has 12 voices, and was last updated by  JMP 1 month, 4 weeks ago. This post has been viewed 1118 times

Viewing 13 posts - 21 through 33 (of 33 total)
  • Author
    Posts
  • #21
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 1987
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: India's Divider In Chief

    ایک سوال

    کیا قائد اعظم اپنی شخصیت کے برعکس خود بھی نظام ریاست کے لیے تضادات کا شکار نہیں تھے ، اس نے مولیوں کے لیے بھی کافی سپورٹنگ میٹریل چھوڑا ہے جس پر وہ خلافت کی رٹ لگائے رہتے ہے اور لبرلز کے لیے بھی جس پر وہ ایک سیکولر ریاست کے درپے ہے ؟

    سب سے پہلے تو مَیں یہ کہوں گا کہ مَیں اِس بات پر بالکل یقین نہیں رکھتا جو ریاست کے بانیان کہہ گئے ہیں وہ گوسپیل ٹروتھ ہے اور بطور قوم، وقت کے خاتمہ تک ہمیں وہی کرنا ہے جو ریاست بنانے والے کہہ گئے ہیں۔۔۔۔۔ میرے نزدیک یہ جذباتی بلیک میلنگ ہے۔۔۔۔۔ اگر تو اِس بات پر کوئی یقین رکھتا ہے تو دراصل وہ انسانی ارتقاء پر یقین نہیں کرتا کہ حالات بدلتے ہیں تو ضرورتیں بھی بدلتی ہیں، بیانیے بھی بدلتے ہیں۔۔۔۔۔ جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو وہی نظام ہونا چاہئے جو پاکستان کے لوگ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔

    مذہبی طبقہ(جماعتِ اسلامی و دیگر) اور نیم مذہبی طبقہ(مسلم لیگ ا سے ے) کی بات تو خیر چھوڑ ہی دیں اگر پاکستان کے سیکولرانِ کرام کی بات بھی کی جائے تو مجھے اُن کا پاکستان کا سیکولر بنانے کا مطالبہ کچھ سمجھ نہیں آتا۔۔۔۔۔ اگر تو پاکستان کے لوگ(انتہائی اکثریت) واقعی پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے ہوں تو پھر کسی کو مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہ کام خود ہی ہوجائے گا۔۔۔۔۔ لیکن اگر کوئی یہ خواہش رکھتا ہے کہ کاروبارِ ریاستِ پاکستان کو سیکولرازم کے اُصولوں کے تحت چلایا جائے تو میرے نزدیک یہ صحیح بات ہے۔۔۔۔۔ بات گھوم پھر کر پھر وہیں آجاتی ہے کہ پاکستان کے لوگوں کی مرضی۔۔۔۔۔

    ایک منطقی نکتہِ نظر یہ بھی ہے کہ پاکستان کے حالات جیسے ہیں ایسا ہی عوام چاہتی ہے، آگے بات کرنے کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔

    جہاں تک جناح صاحب کی بات ہے تو شاید میری خوش فہمی ہے یا بچپن سے جناح صاحب کیلئے پسندیدگی، کہ مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ جناح صاحب بھی ویسے ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان تھے جیسے آج کے تعلیم یافتہ مسلمان ہوتے ہیں جو زندگی تو مغربی انداز میں گذارتے ہیں، اپنے تمام افکار بھی وہیں سے کشید کرتے ہیں لیکن عین برحق اسلام کے اُصولوں کو سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ جناح صاحب کو اپنی زندگی میں اسلام کو اچھی طرح سے پرکھنے کا موقع نہیں ملا ورنہ اسلامی تجربہ گاہ اور یا اِس جیسے دیگر بے وقوفانہ بیانات نہ دیتے۔۔۔۔۔

    مَیں یقیناً سمجھتا ہوں کہ جناح صاحب کی گیارہ اگست کی آئین ساز اسمبلی سے تقریر کا موازنہ عوامی جلسوں یا عمارتوں کے افتتاح کے مواقع پر کی گئی تقاریر سے کسی صورت نہیں کیا جاسکتا مگر خیر بہرحال جناح صاحب کو وفات پائے کئی دہائیاں گذر چکی ہیں لہٰذا یہ بحث بالکل بے معنی ہے کہ جناح صاحب کیا چاہتے تھے۔۔۔۔۔ جو نکتہ آج اہمیت رکھتا ہے وہ یہ کہ پاکستان کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔

    یہاں پر ایک ضمنی پہلو اور بھی ہے کہ مختلف قوانین و دیباچے آئین میں ڈالنا تو آسان ہوتا ہے لیکن واپس نکالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔ میاں صاحب سے پوچھ لیں، اخباری اطلاعات کے مطابق انہیں پیپلز پارٹی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ باسٹھ تریسٹھ کی شقیں نکال دیتے ہیں کیونکہ یہ ضیاع الحق شہید نے شامل کی تھیں مگر میاں صاحب(نون لیگ) کا اِصرار تھا کہ پہلے مَیں خود اِن شِقوں کی وجہ سے نااہل ہونا چاہتا ہوں پھر دیکھیں گے۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 2 months ago by  BlackSheep.
    #22
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 13
    • Posts: 1649
    • Total Posts: 1662
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: India's Divider In Chief

    ایک سوال

    کیا قائد اعظم اپنی شخصیت کے برعکس خود بھی نظام ریاست کے لیے تضادات کا شکار نہیں تھے ، اس نے مولیوں کے لیے بھی کافی سپورٹنگ میٹریل چھوڑا ہے جس پر وہ خلافت کی رٹ لگائے رہتے ہے اور لبرلز کے لیے بھی جس پر وہ ایک سیکولر ریاست کے درپے ہے ؟

    میرا خیال ہے جناح صاحب نے زیادہ فیورایبل میٹیریل تو مذہبی حضرات کیلئے چھوڑا ہے، سیکولر حضرات تو بے چارے ایک گیارہ اگست کی تقریر ہی لئے پھرتے ہیں۔ جناح صاحب کے سارے نعرے اسلام سے شروع اور اسلام پر ختم ہوتے تھے۔ جناح اور اقبال نے رہبر کا کردار نہیں نبھایا، اگر جناح کا موازنہ مصطفیٰ کمال سے کیا جائے تو مصطفیٰ کمال اپنی سوچ میں بالکل کلیئر تھے، انہیں پتا تھا کہ مذہب اور ریاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور وہ اپنی سوچ میں بالکل اٹل تھے کہ انہوں نے جو ریاست تشکیل دینی ہے، وہ ایک سیکولر ریاست ہوگی۔ بھلے ان کا انداز آمرانہ تھا اور بھلے انہوں نے ڈنڈے کا استعمال کیا، مگر اپنے قوم اور ملک کو سیدھی راہ پر گامزن کر گئے۔۔ ترک قوم بھی کوئی کم مذہبی قوم نہیں تھی، ایک طویل عرصہ تک خلافتِ عثمانیہ نے پورے عالم اسلام کی رہبری کی تھی۔ ترک قوم بھی عربی مذہب کی چھتری تلے اپنی پہچان بھول گئی تھی، مصطفیٰ کمال نے بڑی مہارت سے عربی ثقافت کو ترک ثقافت سے الگ کیا اور ترکوں پر واضح کیا کہ وہ ایک الگ قوم ہیں۔ آج ترکی ترقی کے جس مقام پر ہے، اس کی بنیاد مصطفیٰ کمال نے ہی رکھی تھی۔۔ دوسری طرف ہمارے جناح صاحب ہیں کہ پوری قوم کو اسلام کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود راہی ملک عدم ہوگئے اور عوام آج تک مذہبی مناظروں میں سرپھٹول پر لگی ہوئی ہے۔۔ 

    #23
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 659
    • Posts: 11758
    • Total Posts: 12417
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: India's Divider In Chief

    میرا خیال ہے جناح صاحب نے زیادہ فیورایبل میٹیریل تو مذہبی حضرات کیلئے چھوڑا ہے، سیکولر حضرات تو بے چارے ایک گیارہ اگست کی تقریر ہی لئے پھرتے ہیں۔ جناح صاحب کے سارے نعرے اسلام سے شروع اور اسلام پر ختم ہوتے تھے۔ جناح اور اقبال نے رہبر کا کردار نہیں نبھایا، اگر جناح کا موازنہ مصطفیٰ کمال سے کیا جائے تو مصطفیٰ کمال اپنی سوچ میں بالکل کلیئر تھے، انہیں پتا تھا کہ مذہب اور ریاست ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور وہ اپنی سوچ میں بالکل اٹل تھے کہ انہوں نے جو ریاست تشکیل دینی ہے، وہ ایک سیکولر ریاست ہوگی۔ بھلے ان کا انداز آمرانہ تھا اور بھلے انہوں نے ڈنڈے کا استعمال کیا، مگر اپنے قوم اور ملک کو سیدھی راہ پر گامزن کر گئے۔۔ ترک قوم بھی کوئی کم مذہبی قوم نہیں تھی، ایک طویل عرصہ تک خلافتِ عثمانیہ نے پورے عالم اسلام کی رہبری کی تھی۔ ترک قوم بھی عربی مذہب کی چھتری تلے اپنی پہچان بھول گئی تھی، مصطفیٰ کمال نے بڑی مہارت سے عربی ثقافت کو ترک ثقافت سے الگ کیا اور ترکوں پر واضح کیا کہ وہ ایک الگ قوم ہیں۔ آج ترکی ترقی کے جس مقام پر ہے، اس کی بنیاد مصطفیٰ کمال نے ہی رکھی تھی۔۔ دوسری طرف ہمارے جناح صاحب ہیں کہ پوری قوم کو اسلام کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر خود راہی ملک عدم ہوگئے اور عوام آج تک مذہبی مناظروں میں سرپھٹول پر لگی ہوئی ہے۔۔

    سر آپ اس مصطفی کمال کی بات کر رہے ہیں جس نے ابھی ابھی ۔۔۔بھتہ خوری ۔۔۔سے ۔چغل خوری کا سفر طے کیا ہے ۔۔۔۔۔

    :jhanda: :jhanda: :jhanda: :jhanda:

    #24
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 13
    • Posts: 1649
    • Total Posts: 1662
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: India's Divider In Chief

    سر آپ اس مصطفی کمال کی بات کر رہے ہیں جس نے ابھی ابھی ۔۔۔بھتہ خوری ۔۔۔سے ۔چغل خوری کا سفر طے کیا ہے ۔۔۔۔۔ :jhanda: :jhanda: :jhanda: :jhanda:

    :cwl: :cwl: :cwl: :cwl:

    #25
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 95
    • Posts: 2227
    • Total Posts: 2322
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: India's Divider In Chief

    پوری دنیا میں اس وقت نسل پرستی اور  مذہبی جنونونیت پر مبنی تحریکیں چل رہی ہیں …یورپ جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مذہب اور نسل سے ماورا معاشرے بن چکے تھے وہ بھی غلط ثابت ہورہا ہے ….ہر الیکشن میں نسل پرست جماعتیں پہلے سے زیادہ ووٹ لے رہی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب نسل پرست جماعتیں حکومت بنے کے قابل ہوجائیں گی .

    امریکا میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد وہ تمام وائٹ سپریمیسٹ کھلے عام شہروں میں مارچ کرنے کا حوصلہ حاصل کرچکے ہیں ورنہ نسل پرستی پر مبنی سوچ اور گفتگو صرف گھر کے اندر ڈرائنگ روم وغیرہ کی پرائیویسی میں ہی کی جاتی تھی لیکن اب کھلے عام مارچ میں یہودیوں اور اقلیتوں کے خلاف سلوگنز لہرائے جانا بھی ممکن ہوچکا ہے

    میرا  ہے کہ سیکولرزم ان معاشروں  میں کامیاب نہیں ہوسکتا جہاں کی عوام انتہائی مذہبی ہو …انڈیا نام کا سیکولر ملک ہے ورنہ وہاں اقلیتوں سے جتنا  فرق روا رکھا جاتا ہے وہ اعداد و شمار سے ظاہر ہے …ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نے مجھے امریکا میں یہ بتایا تھا کہ وہاں ایک مسلمان کے لیے اچھے علاقوں میں کرائے پر گھر لینا مشکل ہے کیونکہ نام پتا چلتے ہی انکار کردیا جاتا ہے
    مودی کا جو بھی نظریہ ہے ..سیاست ہے موقع پرستی ہے یا وہ واقعی ہندوتوا پر یقین رکھتا ہے اسے الزام نہیں دیا جاسکتا …وہ وہی چورن بیچ رہا ہے جس کے خریدار موجود ہیں ..کیا جناح نے اسلامی چورن نہیں بیچا تھا؟ اگر جناح اور مسلم لیگ کے منشور سے “مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ” نکال دیا جاۓ تو باقی کیا بچتا ہے؟ اسلام کے نعرا لگاۓ بغیر کیا پاکستان کا حصول ممکن تھا؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
    مودی کی کامیابی میں مذہب ایک فیکٹر ضرور ہے مگر گجرات میں اس نے ڈیلیور کیا تھا ورنہ مذہب کا نعرا لگا کر ہر دفعہ الیکشن نہیں جیتا جاسکتا …اگرچہ پچھلے پانچ سالوں میں انڈیا نے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دیا مگر کوئی بحران بھی نہیں آیا اور حکومت کا کوئی سکینڈل بھی نہیں ہے …لہٰذا مودی کی کامیابی کا امکان تو ضرور ہے …لیکن بی جے پی کا سب سے بڑا امتحان اتر پردیش ہے جہاں ساٹھ پینسٹھ سیٹیں ہیں اور سماج وادی پارٹی…بہوجن سماج اور گانگریس کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ وہاں بی جے پی کا صفایا کرسکتی ہے …یہ سب جماعتیں پچھلی بار علیحدہ علیحدہ الیکشن لڑیں تھیں اور ان سب کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا تھا

    حیرت مجھے اس وقت ہوتی ہے جب اس فورم کے فنڈو حضرات پاکستان میں اسلامی نظام کا مکمل دفاع کرتے ھوئے اگلی سانس میں انڈیا میں سیکولر نظام کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں

    #26
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 214
    • Posts: 3924
    • Total Posts: 4138
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: India's Divider In Chief

    پوری دنیا میں اس وقت نسل پرستی اور مذہبی جنونونیت پر مبنی تحریکیں چل رہی ہیں …یورپ جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مذہب اور نسل سے ماورا معاشرے بن چکے تھے وہ بھی غلط ثابت ہورہا ہے

    Qararsahib

    اور ایک خام خیالی ہے کے انسان عقل رکھتا ہے، سمجھ بوجھ رکھتا ہے، امن پسند ہے ، تاریخ اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے اور ترقی کر رہا ہے

    روز اول سے چورن کا خریدار رہا ہے اور لگتا ہے ہمیشہ رہے گا

    چورن سانچا نام تیرا

    #27
    Lovelyday
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 2
    • Posts: 352
    • Total Posts: 354
    • Join Date:
      20 Mar, 2017
    • Location: Danishgardi Forum

    Re: India's Divider In Chief

    What a bigot and opportunist this guy Aatish is?  It took this thug end of BJP tenure to ask an obvious question.  But it is the timing of this crap that shows why his journalism was constipated all the while.

    Trump is putting enormous pressure on international community to cut off from Iranian oil supplies.  After getting no clear support or response from India (as usual – keep in mind non-align diplomacy of India) in favor of US oil trade embargo on Iran, his administration has let loose American backed K-9 journalists to help Mayawati’s onslaught on Modi’s aura in UP. All Modi needs to do is invite Kushner who is the public face of Trump’s B-team (Bibi Nýahoo, Bin SMB of Saudi, Bin Makhtoom and Bolton from US) and give him a good wet sucking. For sure these journalist thugs like Aatish will be singing laurels of Modi.

    Anyways, Modi came to Pakistan to visit Nawaz, despite all the terrorist attacks on his country. He created an opportunity for Military thugs to put the animosities on the back burner and work on expanding trade and transit. Had military thugs taken his hand at that time, Pakistan would have not only been saved from begging few billions  from friendly countries but also it had not suffered the humiliation on international forums like FATF and UN Security Council which designating another Pakistani on most wanted terrorist list. Also, we would not have suffered the humiliation of 12 Indian jets crossing not just the disputed LoC but International Border and going back intact after dropping their pay load 60 miles inside Pakistan.

    #28
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 214
    • Posts: 3924
    • Total Posts: 4138
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: India's Divider In Chief

    Lovelydaysahib

    اسلام علیکم

    You have introduced a very interesting perspective.

    On the external front, I am proven wrong by Modi. I never expected that Modi will extend friendship to Pakistan. I full agree with you that Modi and Respected Mian Nawaz Sharif sahib were trekking in the right direction and both of them would have resolved most of our perennial issues. I was and still am supportive of Modi’s visit and Mian Nawaz Sharif sahib’s overtures to extend the hand of friendship and foster neighborly relationships.

    On purely India’s internal front, I would not say that  I am disappointed by Modi as I never had any hope from Modi. I always had a feeling that Modi will lead India to become a fanatic Hindu dominated radicalized country and he has not proven me wrong, so far.

    You always bring a fresh and blunt perspective. I also admire you to stand solidly behind your thoughts and viewpoints.

    #29
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 1987
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: India's Divider In Chief

    پوری دنیا میں اس وقت نسل پرستی اور مذہبی جنونونیت پر مبنی تحریکیں چل رہی ہیں …یورپ جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ مذہب اور نسل سے ماورا معاشرے بن چکے تھے وہ بھی غلط ثابت ہورہا ہے ….ہر الیکشن میں نسل پرست جماعتیں پہلے سے زیادہ ووٹ لے رہی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب نسل پرست جماعتیں حکومت بنے کے قابل ہوجائیں گی . امریکا میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد وہ تمام وائٹ سپریمیسٹ کھلے عام شہروں میں مارچ کرنے کا حوصلہ حاصل کرچکے ہیں ورنہ نسل پرستی پر مبنی سوچ اور گفتگو صرف گھر کے اندر ڈرائنگ روم وغیرہ کی پرائیویسی میں ہی کی جاتی تھی لیکن اب کھلے عام مارچ میں یہودیوں اور اقلیتوں کے خلاف سلوگنز لہرائے جانا بھی ممکن ہوچکا ہے

    قرار صاحب۔۔۔۔۔مَیں اِس حالیہ عمل کا بالواسطہ ذمہ دار سب سے زیادہ لبرل طبقے(یا پولیٹیکل لیفٹ) کو ٹھہراتا ہوں۔۔۔۔۔

    سماجی(اور شاید سیاسی بھی) حوالوں سے ایک موضوع مجھے بہت ہی زیادہ پسند ہے۔۔۔۔۔ پولیٹیکل کریکٹ نیس اور آزادی۔۔۔۔۔

    میرا سمجھنا یہ ہے کہ ہم جو کچھ سوچتے ہیں، اُن کو کسی نہ کسی صورت کہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ مَیں آپ کو اِس فورم کی ہی مثال دیتا ہوں کہ آخر ہم یہاں آ کر کیوں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ دُنیا ختم تو نہیں ہوجائے گی اگر ہم یہاں نہ لکھیں۔۔۔۔۔ لیکن ہم لکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ اپنا وقت جو ہم مالی یا جذباتی حوالوں سے کسی اور بہتر جگہ پر استعمال کرسکتے ہیں، وہ یہاں استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ایک گہری مگر دَبی دَبی سی خواہش بھی ہوتی ہے کہ ہم سب یہاں آکر جو بھی اُلٹا سیدھا لکھتے ہیں، اُس کو پذیرائی بھی ملے۔۔۔۔۔

    لیکن جب معاشرے قانونی و سماجی و سیاسی حوالوں سے لوگوں کی سوچ کے اظہار پر پابندی لگاتے ہیں(پولیٹیکل کریکٹ نیس) تو میرے خیال میں وہ سوچ، وہ باتیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ رہتی ہیں۔۔۔۔۔ اور جب معاشروں میں یہ لاوا پکتا رہتا ہے پھر کچھ عرصہ بعد کوئی نہ کوئی ایسا سیاسی رہنما آجاتا ہے جو لوگوں کی اندرونی سوچ کے آگے سالوں تک جو بند باندھا گیا ہوتا ہے، اُس کو توڑ دیتا ہے اور وہ لوگ جو عرصہ تک چُپ بیٹھے ہوتے ہیں اچانک اُن کو قوتِ گویائی مل جاتی ہے۔۔۔۔۔ بے شک اُس سیاسی رہنما کا اپنا ذاتی مفاد ہوتا ہے اِس سے انکار نہیں، لیکن معاشرے کی ایک اچھی خاصی اکثریت اُس سیاسی رہنما کے پیچھے چل پڑتی ہے۔۔۔۔۔ ٹرمپ کسی صورت بے وقوف شخص نہیں ہے، لیکن جب وہ یہ کہتا ہے کہ اگر مَیں فِفتھ ایوینیو پر سب کے سامنے کسی کو قتل بھی کردوں تب بھی میرا ووٹر مجھے ہی ووٹ دے گا، بلاوجہ نہیں کہتا۔۔۔۔۔ اُس کو اپنے ووٹر کی نفسیات اور کمزوریوں(زبان بندیوں) کا بخوبی احساس ہے، اُس کو اندازہ ہے کہ اپنی سوچ کو کہنے کی جو آزادی مَیں نے اپنے ووٹروں کو فراہم کی ہے وہ کوئی اور مہیا نہیں کررہا۔۔۔۔۔ مَیں یہ مانتا ہوں کہ ٹرمپ کی جیت کے پیچھے اور بھی عُنصر ہیں مگر یہ عُنصر میرے نزدیک بہت اہمیت کا حامل ہے۔۔۔۔۔ آپ دیکھیں امیریکہ میں یہ امیگرینٹس سے نفرت یا دوسری باتیں معاشرے کے کچھ طبقات میں موجود تھی لیکن جیسا کہ آپ نے کہا کہ صرف ڈرائنگ روم تک محدود تھی، لیکن ٹرمپ نے اِس نفرت کو صحیح وقت پر ٹَیپ کیا۔۔۔۔۔۔ ہلیری تو سمجھ ہی نہیں سکی کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا ہے کیونکہ وہ اُسی پولیٹیکل کریکٹ نیس والے طبقے کی نمائندہ تھی اور وہ وہی باتیں بولتی رہی جو اُس سے پچھلے دس ڈیموکریٹک صدارتی اُمیدوار بولتے آئے تھے۔۔۔۔۔ اور سیاست یہ ہی ہوتی ہے کہ صحیح وقت پر عوام کے جذبات جانچ کر اُن کو آواز دے دو۔۔۔۔۔ پاکستان میں بھٹو نے بھی یہی کیا تھا اور اب عمران خان نے کچھ حد تک ایسا ہی کیا ہے۔۔۔۔۔ اب اِس نکتہ پر بات کرتے ہوئے مسئلہ عموماً لوگوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے وہ صحیح غلط کی بحث میں پڑجاتے ہیں کہ ٹرمپ غلط کہتا ہے اور ہلیری صحیح کہتی ہے لیکن یہ نکتہ، صحیح غلط کی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔تو آپ دیکھیں کہ پولیٹیکل کریکٹ نیس اور سماجی آزادی کس قدر آپس میں ملے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ پولیٹیکل لیفٹ یا امیریکہ کے لبرل قوانین یا غیر تحریر شدہ سماجی قوانین کے حامی ہیں کہ یہ بات نہیں کہنی ہے اِس سے فلاں فلاں طبقہ کے جذبات مجروح ہوجائیں گے۔۔۔۔۔

    تو مَیں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ چاہے آپ لوگوں کی اندرونی سوچ کے باہر نہ آنے پر باقاعدہ قوانین نہ بھی بنائیں لیکن اگر سماجی حوالوں سے اِس پر دباؤ برقرار رکھیں، تب بھی یہ لاوا کہیں نہ کہیں پھٹتا ضرور ہے۔۔۔۔۔

    ٹرمپ، بریگزٹ اور مودی کی جیت کا ایک بہت بڑا عُنصر میرے نزدیک یہ ہے۔۔۔۔۔

    کچھ مزید خیالات بھی ہیں وہ بھی وقت ملتے ہی لکھتا ہوں۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 2 months ago by  BlackSheep.
    #30
    Lovelyday
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 2
    • Posts: 352
    • Total Posts: 354
    • Join Date:
      20 Mar, 2017
    • Location: Danishgardi Forum

    Re: India's Divider In Chief

    I was and still am supportive of Modi’s visit and Mian Nawaz Sharif sahib’s overtures to extend the hand of friendship and foster neighborly relationships.

    JMPsahib,

    Facts is that BJP government either under Modi or in coalition (NDA – under Atal Bihari Vajpaee)  has always been reformative towards Pakistan. It was Nawaz when Vajpaee came to Lahore and got the cold shoulder from the GHQ.  It is not hard to imagine what would have been the fate of South East Asia had GHQ let Nawaz entertain peace with India. Even after atrocious gambit of  Kargil, India not only forgo attack on her Parliament but its leaders showed great statesmanship in giving legitimacy to Musharraf by holding his hand in Nepal Saarc meet. Again it was BJP back government which followed through Agra Summit where Musharraf could not mustered the courage to call Kashmir violent attacks as Terrorism.

    If Modi

    a. comes in with Majority government and

    b. cut off its oil imports with Iran (and halt trade activities like Chabahar port) in support for Trump demands then I see debilitating fait-acompli for GHQ midgets. (India has still to pay in same coin to US and EU: specially France and England for their open support after Pulwama and designation of terrorist Azhar Massod on UN terrorist lists by rendering China’s efforts futile.)

    This is why I feel that if anyone, it will be BJP or Indian Govt with BJP, will create another opportunity for peace with Pakistan as it will need the transit routes to Afghanistan and Central Asian states. Israel, GCC and US would not like to see Congress in Majority government which could thwart Iran plans with its Non-Aligned movement style diplomacy.

    #31
    Lovelyday
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 2
    • Posts: 352
    • Total Posts: 354
    • Join Date:
      20 Mar, 2017
    • Location: Danishgardi Forum

    Re: India's Divider In Chief

    I am disappointed by Modi as I never had any hope from Modi.

    Modi has firmly established India as the most cost-effective manufacturing and services industrial place in the world in just one term. Look at the huge gambit it played successfully with demonitization of its currency to counter attack/eradicate black economy and corruption. While Obama had been criminally signing multi-party trade deals with other countries where US businesses could manufacture goods outside the US, there in India, Modi was taking full advantage of this foolishness of US administration. The fact is that India is not only economically interconnected with the Western world but has created its own cultural identity during Modi’s tenure that resonates with the West in harmony. China is another majestic nation with epic civilization and highly modern industrialized platform but one could sense the lack of people to people and govt to govt bond that is lacking warmness as compared to India. I credit Modi for aligning India with the West.

    I always had a feeling that Modi will lead India to become a fanatic Hindu dominated radicalized country and he has not proven me wrong, so far.

    BJP or any other political and social movement can not divorce from its organic make up. If Modi comes back with Majority government then I am sure, it will address human rights issues with much more vigor to please EU to continue to have favorable access to their markets as well as diplomatic support. But then the main issue India is facing like the whole world is wealth creation that results in job creation for the lower middle to lower class citizens. One would hope that addressing joblessness in society would also create more cordial relations between constituents.

    • This reply was modified 1 month, 4 weeks ago by  Lovelyday.
    #32
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 1987
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: India's Divider In Chief

    کچھ عرصے پہلے مجھے شوق ہوا کے میں جانوں کے دنیا میں اوسط آئ قیو لوگوں کا کیا ہوگا تو جو ریسرچ میں کرسکا اسکے مطابق تو لگتا یہی ہے کے دنیا میں اسی سے نوے فیصد لوگوں کا آئ قیو نوے سے نیچے یا اسکے اس پاس ہے، اب ظاہر ہے کے میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں جس پر میں اس بات کو ثابت کرسکوں مگر لگتا کچھ ایسا ہی ہے اور اسکی بہت سی مثالیں ہم اپنے اردگرد بھی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں. بات کچھ یہ ہے کے کچھ عقلمند لوگوں نے سیکھ لیا ہے کے ماسز کو کس طریقہ سے قابو کرنا ہے، اور یہ کوئی بہت مشکل کام بھی نہیں ہے، انسانی نفسیات پر اس قدر کام ہوچکا ہے کے آپ بہت سکون سے اس بات کی پیشن گوئی کرسکتے ہیں کے کسی خاص ماحول میں انسان کس طرح کا رد عمل دیگا اور اگر آپ کو یہ پتا ہو تو آپ پھر اپنی سیاسی، مذہبی، معاشی حکمت عملی اسی ہی طریقہ سے بنا کر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں. اب یہ کامیابی کیا ہوگا یہ آپ کے اپنے مفاد پر اساس کرتا ہے لیکن آپ چاہیں تو لوگوں کو اپنے خیالات سے متاثر کرسکتے ہیں. بدقسمتی سے ہم پچھلے کچھ سالوں سے ہم اس کاری گری، جھوٹے پروپیگنڈہ یا جھوٹ کو جس طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے اسکا مشاہدہ کر رہے ہیں اور خاص طور پر جس طریقہ سے امریکی انتخابات میں اور پھر یورپ میں لوگوں کے خیالات سے چھیڑ خانی کرکے نتائج پر اثر انداز ہوا گیا اسکا رد عمل اب ہمیں بہت لمبے عرصے تک نظر آے گا. بھارت کی اشرافیہ بھی کسی بند خول میں نہیں رہتی، وہاں بھی اس بات کر فورا ادرک ہوگیا تھا آپ کس طریقے سے لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے لڑا کر اپنے فائدے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں. بھارت میں باجپا یا بی جے پی کے پروپیگنڈہ کرنے والوں نے اس بات کو جس خوبصورتی سے اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا تھا اور کر رہے ہیں وہ واقع بہترین تھا اور ہے. میرا کی دفا بھارت سے آنے والوں سے رابطہ ہوتا رھتا ہے اور اپ جب بھی ان سے پوچھیں کے مودی کیا اس دفا انتخابات میں جیت جائے گا تو انکا یہی خیال ہوتا ہے کے ہاں، یہ وہ صرف اس بات کے زیر اثر کہتے ہیں جو انکو اپنے اردگرد ماحول میں، میڈیا پر، سوشیل میڈیا پر جو بنا ہوا ہے نظر آتا ہے. جب آج کل کے دورمیں آپ ہر آدمی تک بذریعہ موبائل فون ڈائریکٹ پہنچ سکتے ہوں تو اگر آپ اس طریقے کی کاری گری نہیں کریں گے تو پھر آپ غلطی ہی کر رہے ہونگے، کیوں کے آپ کے مقابل میں لوگ یقینا اس منیپولشن کا استعمال کرکے آپ کو تباہ کردیں گے. تو بنیادی طور پر ٹیکنولوجی ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جسکی بائی پراڈکٹ شاید یہ جھوٹ بھی ہے جو آج کل دنیا میں بالعموم اور بھارت جیسے ملکوں میں بلخصوص مفادات کے لئے استعمال کیا جارہا ہے. مودی مجھے صرف اگر اس لئے برا لگے کے وہ ہندو ہے یا میری مخالف سیاسی سوچ کا مالک ہے تو اس بات کو میں اپنے حق کیلئے استعمال نہیں کرسکتا، اگر میرے مفادات ہیں تو میں انکو کس بنیاد پر جسٹی فائی کروں گا ؟ صرف اسلئے کے مودی بھارت میں تقسیم کی سیاست کر رہا ہے ؟ میرا نہیں خیال کے اس بات میں کوئی وزن ہوگا، کیوں کے اگر حمام میں سب ہی ننگے ہوں تو پھر آپ کس بنیاد پر لوگوں کو شرم کی اہمیت کا احساس دلائیں گے ؟ میرا ایک ہی اعتراض ہوگا اس آرٹیکل پر اور وہ یہ کے اس کو لکھنا والا ایک انسان ہے جس پر شبہ ہوسکتا ہے کے وہ متعصب ہے کیوں کا خود پاکستان میں اس وقت اس تقسیم کی سیاست چمک رہی ہے، ہم بھی اس پریڈ سے گزر رہے ہیں جہاں ٹیکنولوجی کے اثر کا اور استعمال کا رد عمل نظر آرہا ہے، ہم سیکھ رہے ہیں اور بہتر ہورہے ہیں اور ابھی اس میں کافی وقت لگے گا جب تمام دنیا مجموعی طور پر اس بات کا ادرک کرلے گی کے تقسیم کرکے رہنے میں اور ساتھ رہنے کے کیا فائدے اور نقصان ہیں اور کونسی راہ بتہر ہوگی. فلحال دنیا میں تقسیم کی سیاست عروج پر ہے اور مجھے نہیں لگتا کےہم بہت جلدی اس تقسیم کی سیاست سے نجات حاصل کرسکتے ہیں، ہاں ہم اسی ٹیکنولجی کا استعمال کرکے شاید اس کے اثر کو کم ضرور کرسکتے ہیں.

    مَیں ایک ڈیڑھ سال سے اِسی موضوع، انسانی نفسیات اور ٹیکنالوجی اور اِس کی وجہ سے انتخابی عمل پر اثرات، پر ایک صفحہ بنانے کا سوچ رہا تھا خاص کر کیمبرج اَینالٹیکا کے حوالے سے۔۔۔۔۔

    میری نظر میں جو کیمبرج اَینالٹیکا نے کیا ہے وہ بڑی ہی ذہانت کا کام تھا۔۔۔۔۔ اور یہ ایک طرح سے روایتی سیاست اور انتخابی عمل کو ایک نئے درجہ پر پہنچانا تھا۔۔۔۔۔ روایتی سیاست کے وَین گارڈز نے اِس فرم، کیمبرج اَینالٹیکا، کو دیگر چھوٹے موٹے الزامات(بغیر اجازت ڈیٹا استعمال کرنا وغیرہ وغیرہ) پر کُروسیفائی تو کردیا لیکن جو ماڈل اِس فرم نے دیا ہے یا جو جن بوتل سے باہر آیا ہے وہ مستقبل قریب میں واپس اندر نہیں جانے والا۔۔۔۔۔ اکثر افراد کیمبرج اَینالٹیکا کو بہت بُرا بھلا کہتے ہیں کہ اِس فرم کی وجہ سے بریگزٹ ہوا، ٹرمپ جیتا وغیرہ وغیرہ لیکن اگر اِس فرم کے اُس ماڈل کو بغور دیکھا جائے تو وہ بنیادی روایتی انتخابی عمل سے کوئی اتنا دور نہیں ہے۔۔۔۔۔ عام سیاستدان بھی آبادی کے اُس حصہ کو ٹارگٹ کرتے ہیں جہاں سے انہیں ووٹ ملنے کی اُمید ہو اور ووٹ لینے کیلئے وہ دس ہزار جھوٹے وعدے بھی کرلیں گے۔۔۔۔۔ کیمبرج اَینالٹیکا نے بھی متوقع ووٹروں کی سائیکلوجیکل پروفائل بنا کر، اُن کے ذہن کو سمجھتے ہوئے اُن کو ایسے ٹارگٹ(ایڈز، مٹیریل وغیرہ) کیا کہ اُن کی ہمدردیاں اُس جانب بڑھ گئیں جہاں وہ لے جانا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔ لیکن ایک عام سیاستدان بھی تو یہی کرتا ہے۔۔۔۔۔ ووٹروں کے جذبات سے کھیلتا ہے، اکثر اوقات کبھی نہ پورے ہونے والے وعدے کرتا ہے اور اِس بنیاد پر اُن سے ووٹ لیتا ہے۔۔۔۔۔

    لیکن جب کوئی نئی ریڈیکل ٹیکنالوجی آتی ہے، کوئی نیا اچھوتا طریقہ آتا ہے تو کُفر کے فتوے ضرور لگتے ہیں لیکن بعد میں آخر کار حلال ہو ہی جاتے ہیں۔۔۔۔۔ اور یہ سائیکولوجیکل پروفائل بنا کر ٹارگٹ کرنے طریقہ مستقبل میں بھی استعمال ہوتا رہے گا۔۔۔۔۔

    #33
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 214
    • Posts: 3924
    • Total Posts: 4138
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: India's Divider In Chief

    https://www.bbc.com/news/world-asia-india-48328259

    اس خبر کے مطابق مودی جی کے پھر وزیر اعظم بننے اکے آثار بڑھتے جا رہے ہیں

    ویسے کویہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مودی جی نے بھارت میں تفریق کی جگہہ ہندوستانیوں کو یکجا کیا ہے

    عجیب ستم ہے کے ایک نکتہ نظر سے تفریق کرنا اور دوسرے نکتہ نگاہ سے یکجا کرنا

    • This reply was modified 1 month, 4 weeks ago by  JMP. Reason: کہا جا
Viewing 13 posts - 21 through 33 (of 33 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation