Thread: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

Home Forums Non Siasi Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

This topic contains 176 replies, has 18 voices, and was last updated by  Mujahid 4 months, 3 weeks ago. This post has been viewed 4252 times

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 177 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Shirazi
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 170
    • Posts: 2218
    • Total Posts: 2388
    • Join Date:
      6 Jan, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    • This topic was modified 5 months, 1 week ago by  الشرطہ.
    #2
    Zed
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 124
    • Posts: 1315
    • Total Posts: 1439
    • Join Date:
      17 Feb, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    He was in Canada recently.

    #3
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    بہت عمدہ۔۔۔۔۔

    ہود بھائی نے اقبال کی ذہنی نفسیات کی بہت ہی اچھی ڈائی سیکشن کی ہے۔۔۔۔۔

    #4
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 4707
    • Total Posts: 4707
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    چار ٹکے کا ملحد ۔۔۔۔۔۔ لیکچر دے رھا ہے ۔۔۔۔۔۔ ایک معروف شا عر کی غیبت اور برا ئی کرنے میں مصروف ہے ۔۔۔

    ھال میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو بزرگ شا عر کی برا ئیاں سننے آئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غیبت سے بھرے  اس لیکچرار ۔۔۔۔ پھود بھا ئی ۔۔۔۔۔ کو کچھ لوگ ۔۔۔۔ فلاسفر بھی  کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    #5
    Shirazi
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 170
    • Posts: 2218
    • Total Posts: 2388
    • Join Date:
      6 Jan, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    چار ٹکے کا ملحد ۔۔۔۔۔۔ لیکچر دے رھا ہے ۔۔۔۔۔۔ ایک معروف شا عر کی غیبت اور برا ئی کرنے میں مصروف ہے ۔۔۔ ھال میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو بزرگ شا عر کی برا ئیاں سننے آئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غیبت سے بھرے اس لیکچرار ۔۔۔۔ پھود بھا ئی ۔۔۔۔۔ کو کچھ لوگ ۔۔۔۔ فلاسفر بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    Hahahaha ….

    Then history is nothing but ghibat? Typical Guilty style rebuttal

    😀😀

    #6
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 147
    • Posts: 13357
    • Total Posts: 13504
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    چار ٹکے کا ملحد ۔۔۔۔۔۔ لیکچر دے رھا ہے ۔۔۔۔۔۔ ایک معروف شا عر کی غیبت اور برا ئی کرنے میں مصروف ہے ۔۔۔ ھال میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو بزرگ شا عر کی برا ئیاں سننے آئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غیبت سے بھرے اس لیکچرار ۔۔۔۔ پھود بھا ئی ۔۔۔۔۔ کو کچھ لوگ ۔۔۔۔ فلاسفر بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

    گلٹی بھائی

    دیسی لبرل بھی فوجیوں کی طرح پھدو لوگ ہوتے ہیں

    جس طرح فوجی ملک کی سرحدوں کا دفاع چھوڑ کر سیاست میں مداخلت کرکے اپنا منہ کالا کرواتے ہیں اسی طرح اسی طرح دیسی لبرل اپنا اصل فیلڈ چھوڑ کر مذھب کے معاملات میں مداخلت کرکے چھتر کھاتے ہیں

    #7
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 140
    • Posts: 4506
    • Total Posts: 4646
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    اقبال نے فلسفہ میں گریجویشن کیمبرج یو نیورسٹی سے کی . جرمنی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ھود بھائی کی اپنی فلسفہ اور نفسیات میں کیا اسناد ہیں جو وہ اقبال کے بطور فلسفی اور انکے مقالہ پر سوال کھڑا کررہے ہیں یا انکا نفسیاتی تجزیہ کررہے ہیں؟

    :thinking: :thinking: :thinking:

    #8
    Zed
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 124
    • Posts: 1315
    • Total Posts: 1439
    • Join Date:
      17 Feb, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    Here is the question and answer session. He surely ruffled some feathers.

    #9
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 703
    • Posts: 7949
    • Total Posts: 8652
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    کہاں علامہ اقبال اورکہاں پرویز هود بھائی

    فورم پر کچھ کچھ عرصے بعد کسی کو زور سے هود بھائی آتا ہے اور پھر سڑانڈ اٹھتی رہتی ہے

    #10
    Shirazi
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 170
    • Posts: 2218
    • Total Posts: 2388
    • Join Date:
      6 Jan, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    Came across this beautiful spiritual piece this morning

    #11
    Mujahid
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 680
    • Total Posts: 688
    • Join Date:
      10 Oct, 2018
    • Location: Scotland

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    Came across this beautiful spiritual piece this morning

    Should have posted in Islamic Corner.

    You are likely to be banned for breaking Forum Rules.

    #12
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 4707
    • Total Posts: 4707
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    پہلے لیکچر ہوتے تھے جن میں علم و ا د ب  کے متعلق ۔۔۔ گفتگو۔۔۔۔۔ کی جا تی تھیں ۔۔۔۔۔

    پرویز۔۔۔۔  پھدو ۔۔۔ پھود ۔۔۔۔ بھا ئی ۔۔۔۔۔  نے غیبت و برائی کرنے کے لیئے ۔۔۔۔۔۔ محفل لگا ئی ہے ۔۔۔۔ پھدو پھود بھائی ۔۔۔۔ معروف شاعر کی غیبت اور عیب جوئی کے لیئے ۔۔۔۔۔ لیکچردے رھا ہے ۔۔۔

    اور دلچسپ بات یہ ہے ۔۔۔۔۔ ھال میں بیٹھے ہوئے پڑھے لکھے لوگ  ۔۔۔۔۔ معروف بزرگ شا عر ۔۔۔۔ کی غیت اور برائیاں  ۔۔۔۔۔ سننے کے لیئے ۔۔۔۔ تشریف لائے ہیں ۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  Guilty.
    #13
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 4707
    • Total Posts: 4707
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    اقبال نے فلسفہ میں گریجویشن کیمبرج یو نیورسٹی سے کی . جرمنی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ھود بھائی کی اپنی فلسفہ اور نفسیات میں کیا اسناد ہیں جو وہ اقبال کے بطور فلسفی اور انکے مقالہ پر سوال کھڑا کررہے ہیں یا انکا نفسیاتی تجزیہ کررہے ہیں؟ :thinking: :thinking: :thinking:

    پھود بھائی کہتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ سائینس میرا شعبہ ہے ۔۔۔۔۔۔

    اور لیکچر دے رھاہے ۔۔۔۔۔ غیبت و برائیاں کرکے ۔۔۔۔۔۔۔

    #14
    Mujahid
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 8
    • Posts: 680
    • Total Posts: 688
    • Join Date:
      10 Oct, 2018
    • Location: Scotland

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    Clean up your language

    #15
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 156
    • Posts: 7433
    • Total Posts: 7589
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    Came across this beautiful spiritual piece this morning

    شیرازی بھائی! سمجھ نہیں آئی کہ اس ویڈیو کو یہاں لگانے سے آپکی نیت ہود بھائی کو نہ ماننے والوں کو لعنتی قرار دینے کی ہے یا پھر علامہ اقبال کو؟؟

    #16
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 16
    • Posts: 2053
    • Total Posts: 2069
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    اقبال کو پاکستان میں تقریباً پیغمبروں کے برابر ہی درجہ دیا جاتا ہے، اس لئے اقبال پر جب بھی کوئی تنقید کرتا ہے تو اس طرح کا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے جیسے کوئی انہونی بات ہوگئی ہو، اور کانٹینٹ پر بات کرنے یا اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے معترض کی شخصیت پر سنگ باری شروع کردی جاتی ہے۔ اقبال کو تو گویا ہر قسم کی تنقید سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ پرویز ہودبھائی نے اقبال کی شخصیت کے بارے میں اہم نکات اٹھائے، لیکن ایک کمی رہ گئی۔ اسی ویڈیو کے دوسرے پارٹ میں انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ اقبال کی شاعری کے بارے میں ان کا دامن کافی تنگ ہے۔ میرے خیال میں اقبال کی اصل پہچان اور عوام تک اس کے پیغام پہچانے کا اصل ذریعہ اس کی شاعری ہے۔ یہ درست ہے کہ اقبال کے پی ایچ ڈی کے مقالہ اور اسکے خطوط وغیرہ سے اس کی سوچ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، مگر وہی کچھ جو پرویز ہود بھائی اس کے پی ایچ ڈی کے مقالہ یا خطوط سے ڈھونڈ کر بیان کررہا ہے اور بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی بہت پوشیدہ قسم کی باتیں اقبال کی شخصیت کے بارے میں ہیں ، وہی سب کچھ تو اس کی شاعری چیخ چیخ کر ببانگ دہل بیان کرتی ہے۔۔ اقبال کی پوری شاعری کا نچوڑ اگر آج مجسم شکل میں دیکھنا ہو تو مولوی خادم رضوی کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔۔ اور یہ میں بالکل مبالغہ نہیں کررہا ۔۔ اقبال نے ہر قسم کی قدامت پرستی کو تقویت دی۔ پرویز ہودبھائی کو چاہیے تھا کہ چلو فارسی کے نہ سہی اردو شاعری کے چیدہ چیدہ اشعار نکال لاتا اور اس تقریب میں پڑھتا۔ اقبال ایک کٹڑ ملا کی طرح عورت کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایک جگہ یوں طنز فرماتے ہیں۔

    لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی

    ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ

    یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین

    پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

    چلو یہ تو اقبال کے ابتدائی دور، دورِ نوعمری کی شاعری تھی، مگر میچور ہونے کے بعد بھی موصوف کی سوچ وہی  رہی۔ ان کے نزدیک عورت کی نگہبانی صرف مرد ہی کرسکتا ہے (وہی فرسودہ اسلامی سوچ)۔۔

    نَے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی

    نسوانیت زَن کا نگہباں ہے فقط مرد 

    اقبال نے مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی کے قصوں میں الجھائے رکھا، ان کو جدید تعلیم، جدید زمانے کے تقاضوں سے روشناس ہی نہ ہونے دیا۔ خود یورپ گھوم آئے اور آکر فرماتے ہیں

    خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگ

    سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

    دانشِ فرنگ کیا ہے۔۔؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم۔۔اقبال کے نزدیک جدید سائنسی علوم کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے، ان کے نزدیک انسان کے لئے سب سے بالا و برتر مذہب ہونا چاہیے اور اس کا ذکر جابجا ان کی شاعری میں ملتا ہے۔ اقبال کو جو چیز خادم رضویت کے سب سے قریب کرتی ہے وہ ہے جو مذہبی منافرت انہوں نے پھیلائی۔ ان کی شاعری میں مومن و کافر کی اتنی تکرار ہے کہ لگتا ہے وہ پوری دنیا کے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، ایک مسلمان اور دوسرے غیر مسلم۔ شکوہ، جواب شکوہ ہو، نوجوانانِ اسلام سے خطاب ہو، ترانہ ملی ہو، یا دیگر نظمیں، وہ مذہب کی بنیاد پر انسانی تفریق کو مزید گہرا کرتے اور مذہبی منافرت کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں۔ وہ قوم جو پہلے ہی مذہب کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں مشکلات محسوس ہوکرتی ہو، ان کو اقبال جیسا فکری رہنما نصیب ہوجائے تو سونے پر سہاگا۔۔۔

    اسی منافرت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو جدید علوم کی طرف راغب کرنے کی بجائے تلوار کی طرف راغب کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور ان کی پوری شاعری کا یہی مغز ہے کہ وہ مولوی خادم رضوی کی طرح نہایت کرب میں مبتلا ہوکر قوم سے التجائیں اور اپیلیں کرتے ہیں کہ اٹھو، تلوار اٹھاؤ، کافروں کی گردنیں کاٹ دو، اپنا ماضی کا کھویا ہوااقتدار دوبارہ حاصل کرو، کبھی وہ قرطبہ و غرناطہ کی گلیوں میں نوحہ کناں ہیں، کبھی مسجدِ قرطبہ کے صحن میں آنسو بہاتے ہیں ،

    ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

    کند ہوکر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

    ایک اور جگہ تڑپتے ہوئے فرماتے ہیں

    فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

    دُنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

    لیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟

    مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثر

    تیغ و تُفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں

    ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذّت سے بے خبر

     کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل

    کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر

    اقبال کی نظر میں مسلمانوں کا اقتدار میں رہنا ہی سب سے بڑی بات ہے، وہ دنیا میں اور کسی قوم کو حقِ اقتدار دینے کے قائل ہی نہیں۔  ان کی شاعری اٹھا کر دیکھ لیں، ہر جگہ مسلمانوں کو گردن سے پکڑ کر ماضی کے تالاب میں غوطے پر غوطے دیئے جارہے ہیں کہ کسی طرح وہ پھر سے دوبارہ سے اقتدار حاصل کریں۔۔۔ 

    اب ذرا موضوع کے اصل نکتے پر کہ اقبال کو فلسفی کہا جاسکتا ہے یا نہیں۔۔ میرے خیال میں ایک فلسفی کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ آزاد ذہن کا مالک ہو اور خود کو اور اپنی سوچ کو کسی خاص سانچے میں نہ ڈھالے نہ کسی خاص گروہ تک محدود کرے۔  نتیجے کی پروا کئے بغیر، سچائی اور حقیقت کی تلاش میں اس کی سوچ کی تانیں آزاد ہونی چاہئیں۔ اور یہاں اپنے اقبال صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا ذہن اسلامی پنجرے میں قید ہے، انہوں نے خود کو اور اپنی سوچ کو مسلمانوں تک ، اسلام تک محدود کیا ہوا ہے اور سچائی اور حقیقت ان کی نظر میں وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے عرب کے صحراؤں میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے غاروں میں کھوج نکالی تھی۔۔ بس یہ ہے ان کا کل فلسفہ۔۔ ایسے شخص کو فلسفی کہنا بھی میری نظر میں فلسفے کی توہین ہے۔  میری نظر میں صرف ایک ہی شعبہ ہے جس میں ان کا قد بہت بڑا ہے اور وہ ہے شاعری۔ شعری محاسن کے اعتبار سے وہ بہت، بہت،بہت،بہت ہی بڑے شاعر ہیں اور میں ذاتی طور پر ان کی شاعری کا نہ صرف مداح ہوں، بلکہ انکی شاعری پڑھ کر لطف بھی محسوس کرتا ہوں۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ترنم کے ساتھ کوئی گیت گایا جارہا ہو۔ اور میرے خیال میں اقبال کو صرف ایک شاعر کے طور پر ہی لینا چاہیے کیونکہ شاعر مبالغہ بھی کرتا ہے، سہانے خواب بھی دکھاتا ہے، الفاظ کی جادونگری میں بھی گھماتا ہے، کیونکہ یہی اس کا کام ہے۔ مگر اقبال کو ایک مفکر کے طور پر یا ایک فلسفی کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔۔

    جہاں تک میں اقبال کو سمجھا ہوں، اقبال برصغیر کے دیسی مسلمانوں کی طرح کے کنفیوژ مسلمان ہیں، کبھی کبھی وہ جدت کی طرف مائل ہوتے نظر آتے ہیں، مگر پھر مذہب کی روایتی قدامت پسندی میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی بلکہ تمام انسانوں کی نجات مذہب میں ہے،۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ اقبال جیسا شخص جو مغربی فلسفہ بھی پڑھ چکا ہے، وہ کیسے مذہب کے ساتھ چپکا رہا۔۔ یہ شاید سچ ہے کہ بچپن میں انسان کو جو کچھ پڑھایا، سکھایا اور رٹایا جاتا ہے اس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے، مگر کیا اتنا مشکل ہوتا ہے کہ اقبال جیسا شخص بھی نہ چھڑا سکا۔۔ ویسے کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عمران خان اقتدار کے حصول اور اس کو مضبوط کرنے کیلئے ہر وقت عوام کو مذہبی پھکی چٹاتا رہتا ہے، ویسے ہی شاید اقبال نے بھی یہ سوچا ہو کہ اگر سیکولر قسم کی شاعری کی تو عوام مجھے شاید قتل ہی کردے، بہتر ہے عوام کو مذہبی چونا لگاتا رہوں، کیونکہ یہ تو بہرحال سچ ہے کہ مذہب ایک بہت ، بہت، بہت ہی مفید آلہ بھی ہے جس کے ذریعے پہلے سے ہی بے وقوف لوگوں کو مزید بے وقوف بنا کر اپنا کام بھرپور طریقے سے چلایا جاسکتا ہے۔  نہایت نفع بخش دھندا۔۔۔

    #17
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 103
    • Posts: 2545
    • Total Posts: 2648
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    اقبال کو پاکستان میں تقریباً پیغمبروں کے برابر ہی درجہ دیا جاتا ہے، اس لئے اقبال پر جب بھی کوئی تنقید کرتا ہے تو اس طرح کا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے جیسے کوئی انہونی بات ہوگئی ہو، اور کانٹینٹ پر بات کرنے یا اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے معترض کی شخصیت پر سنگ باری شروع کردی جاتی ہے۔ اقبال کو تو گویا ہر قسم کی تنقید سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ پرویز ہودبھائی نے اقبال کی شخصیت کے بارے میں اہم نکات اٹھائے، لیکن ایک کمی رہ گئی۔ اسی ویڈیو کے دوسرے پارٹ میں انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ اقبال کی شاعری کے بارے میں ان کا دامن کافی تنگ ہے۔ میرے خیال میں اقبال کی اصل پہچان اور عوام تک اس کے پیغام پہچانے کا اصل ذریعہ اس کی شاعری ہے۔ یہ درست ہے کہ اقبال کے پی ایچ ڈی کے مقالہ اور اسکے خطوط وغیرہ سے اس کی سوچ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، مگر وہی کچھ جو پرویز ہود بھائی اس کے پی ایچ ڈی کے مقالہ یا خطوط سے ڈھونڈ کر بیان کررہا ہے اور بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی بہت پوشیدہ قسم کی باتیں اقبال کی شخصیت کے بارے میں ہیں ، وہی سب کچھ تو اس کی شاعری چیخ چیخ کر ببانگ دہل بیان کرتی ہے۔۔ اقبال کی پوری شاعری کا نچوڑ اگر آج مجسم شکل میں دیکھنا ہو تو مولوی خادم رضوی کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔۔ اور یہ میں بالکل مبالغہ نہیں کررہا ۔۔ اقبال نے ہر قسم کی قدامت پرستی کو تقویت دی۔ پرویز ہودبھائی کو چاہیے تھا کہ چلو فارسی کے نہ سہی اردو شاعری کے چیدہ چیدہ اشعار نکال لاتا اور اس تقریب میں پڑھتا۔ اقبال ایک کٹڑ ملا کی طرح عورت کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایک جگہ یوں طنز فرماتے ہیں۔

    لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی

    ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ

    یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین

    پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

    چلو یہ تو اقبال کے ابتدائی دور، دورِ نوعمری کی شاعری تھی، مگر میچور ہونے کے بعد بھی موصوف کی سوچ وہی رہی۔ ان کے نزدیک عورت کی نگہبانی صرف مرد ہی کرسکتا ہے (وہی فرسودہ اسلامی سوچ)۔۔

    نَے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی

    نسوانیت زَن کا نگہباں ہے فقط مرد

    اقبال نے مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی کے قصوں میں الجھائے رکھا، ان کو جدید تعلیم، جدید زمانے کے تقاضوں سے روشناس ہی نہ ہونے دیا۔ خود یورپ گھوم آئے اور آکر فرماتے ہیں

    خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگ

    سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

    دانشِ فرنگ کیا ہے۔۔؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم۔۔اقبال کے نزدیک جدید سائنسی علوم کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے، ان کے نزدیک انسان کے لئے سب سے بالا و برتر مذہب ہونا چاہیے اور اس کا ذکر جابجا ان کی شاعری میں ملتا ہے۔ اقبال کو جو چیز خادم رضویت کے سب سے قریب کرتی ہے وہ ہے جو مذہبی منافرت انہوں نے پھیلائی۔ ان کی شاعری میں مومن و کافر کی اتنی تکرار ہے کہ لگتا ہے وہ پوری دنیا کے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، ایک مسلمان اور دوسرے غیر مسلم۔ شکوہ، جواب شکوہ ہو، نوجوانانِ اسلام سے خطاب ہو، ترانہ ملی ہو، یا دیگر نظمیں، وہ مذہب کی بنیاد پر انسانی تفریق کو مزید گہرا کرتے اور مذہبی منافرت کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں۔ وہ قوم جو پہلے ہی مذہب کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں مشکلات محسوس ہوکرتی ہو، ان کو اقبال جیسا فکری رہنما نصیب ہوجائے تو سونے پر سہاگا۔۔۔

    اسی منافرت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو جدید علوم کی طرف راغب کرنے کی بجائے تلوار کی طرف راغب کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور ان کی پوری شاعری کا یہی مغز ہے کہ وہ مولوی خادم رضوی کی طرح نہایت کرب میں مبتلا ہوکر قوم سے التجائیں اور اپیلیں کرتے ہیں کہ اٹھو، تلوار اٹھاؤ، کافروں کی گردنیں کاٹ دو، اپنا ماضی کا کھویا ہوااقتدار دوبارہ حاصل کرو، کبھی وہ قرطبہ و غرناطہ کی گلیوں میں نوحہ کناں ہیں، کبھی مسجدِ قرطبہ کے صحن میں آنسو بہاتے ہیں ،

    ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

    کند ہوکر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

    ایک اور جگہ تڑپتے ہوئے فرماتے ہیں

    فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

    دُنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

    لیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟

    مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثر

    تیغ و تُفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں

    ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذّت سے بے خبر

    کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل

    کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر

    اقبال کی نظر میں مسلمانوں کا اقتدار میں رہنا ہی سب سے بڑی بات ہے، وہ دنیا میں اور کسی قوم کو حقِ اقتدار دینے کے قائل ہی نہیں۔ ان کی شاعری اٹھا کر دیکھ لیں، ہر جگہ مسلمانوں کو گردن سے پکڑ کر ماضی کے تالاب میں غوطے پر غوطے دیئے جارہے ہیں کہ کسی طرح وہ پھر سے دوبارہ سے اقتدار حاصل کریں۔۔۔

    اب ذرا موضوع کے اصل نکتے پر کہ اقبال کو فلسفی کہا جاسکتا ہے یا نہیں۔۔ میرے خیال میں ایک فلسفی کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ آزاد ذہن کا مالک ہو اور خود کو اور اپنی سوچ کو کسی خاص سانچے میں نہ ڈھالے نہ کسی خاص گروہ تک محدود کرے۔ نتیجے کی پروا کئے بغیر، سچائی اور حقیقت کی تلاش میں اس کی سوچ کی تانیں آزاد ہونی چاہئیں۔ اور یہاں اپنے اقبال صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا ذہن اسلامی پنجرے میں قید ہے، انہوں نے خود کو اور اپنی سوچ کو مسلمانوں تک ، اسلام تک محدود کیا ہوا ہے اور سچائی اور حقیقت ان کی نظر میں وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے عرب کے صحراؤں میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے غاروں میں کھوج نکالی تھی۔۔ بس یہ ہے ان کا کل فلسفہ۔۔ ایسے شخص کو فلسفی کہنا بھی میری نظر میں فلسفے کی توہین ہے۔ میری نظر میں صرف ایک ہی شعبہ ہے جس میں ان کا قد بہت بڑا ہے اور وہ ہے شاعری۔ شعری محاسن کے اعتبار سے وہ بہت، بہت،بہت،بہت ہی بڑے شاعر ہیں اور میں ذاتی طور پر ان کی شاعری کا نہ صرف مداح ہوں، بلکہ انکی شاعری پڑھ کر لطف بھی محسوس کرتا ہوں۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ترنم کے ساتھ کوئی گیت گایا جارہا ہو۔ اور میرے خیال میں اقبال کو صرف ایک شاعر کے طور پر ہی لینا چاہیے کیونکہ شاعر مبالغہ بھی کرتا ہے، سہانے خواب بھی دکھاتا ہے، الفاظ کی جادونگری میں بھی گھماتا ہے، کیونکہ یہی اس کا کام ہے۔ مگر اقبال کو ایک مفکر کے طور پر یا ایک فلسفی کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔۔

    جہاں تک میں اقبال کو سمجھا ہوں، اقبال برصغیر کے دیسی مسلمانوں کی طرح کے کنفیوژ مسلمان ہیں، کبھی کبھی وہ جدت کی طرف مائل ہوتے نظر آتے ہیں، مگر پھر مذہب کی روایتی قدامت پسندی میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی بلکہ تمام انسانوں کی نجات مذہب میں ہے،۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ اقبال جیسا شخص جو مغربی فلسفہ بھی پڑھ چکا ہے، وہ کیسے مذہب کے ساتھ چپکا رہا۔۔ یہ شاید سچ ہے کہ بچپن میں انسان کو جو کچھ پڑھایا، سکھایا اور رٹایا جاتا ہے اس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے، مگر کیا اتنا مشکل ہوتا ہے کہ اقبال جیسا شخص بھی نہ چھڑا سکا۔۔ ویسے کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عمران خان اقتدار کے حصول اور اس کو مضبوط کرنے کیلئے ہر وقت عوام کو مذہبی پھکی چٹاتا رہتا ہے، ویسے ہی شاید اقبال نے بھی یہ سوچا ہو کہ اگر سیکولر قسم کی شاعری کی تو عوام مجھے شاید قتل ہی کردے، بہتر ہے عوام کو مذہبی چونا لگاتا رہوں، کیونکہ یہ تو بہرحال سچ ہے کہ مذہب ایک بہت ، بہت، بہت ہی مفید آلہ بھی ہے جس کے ذریعے پہلے سے ہی بے وقوف لوگوں کو مزید بے وقوف بنا کر اپنا کام بھرپور طریقے سے چلایا جاسکتا ہے۔ نہایت نفع بخش دھندا۔۔۔

    زبردست

    #18
    Zed
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 124
    • Posts: 1315
    • Total Posts: 1439
    • Join Date:
      17 Feb, 2017

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    اقبال کو پاکستان میں تقریباً پیغمبروں کے برابر ہی درجہ دیا جاتا ہے، اس لئے اقبال پر جب بھی کوئی تنقید کرتا ہے تو اس طرح کا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے جیسے کوئی انہونی بات ہوگئی ہو، اور کانٹینٹ پر بات کرنے یا اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے معترض کی شخصیت پر سنگ باری شروع کردی جاتی ہے۔ اقبال کو تو گویا ہر قسم کی تنقید سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ پرویز ہودبھائی نے اقبال کی شخصیت کے بارے میں اہم نکات اٹھائے، لیکن ایک کمی رہ گئی۔ اسی ویڈیو کے دوسرے پارٹ میں انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ اقبال کی شاعری کے بارے میں ان کا دامن کافی تنگ ہے۔ میرے خیال میں اقبال کی اصل پہچان اور عوام تک اس کے پیغام پہچانے کا اصل ذریعہ اس کی شاعری ہے۔ یہ درست ہے کہ اقبال کے پی ایچ ڈی کے مقالہ اور اسکے خطوط وغیرہ سے اس کی سوچ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، مگر وہی کچھ جو پرویز ہود بھائی اس کے پی ایچ ڈی کے مقالہ یا خطوط سے ڈھونڈ کر بیان کررہا ہے اور بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ کوئی بہت پوشیدہ قسم کی باتیں اقبال کی شخصیت کے بارے میں ہیں ، وہی سب کچھ تو اس کی شاعری چیخ چیخ کر ببانگ دہل بیان کرتی ہے۔۔ اقبال کی پوری شاعری کا نچوڑ اگر آج مجسم شکل میں دیکھنا ہو تو مولوی خادم رضوی کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔۔ اور یہ میں بالکل مبالغہ نہیں کررہا ۔۔ اقبال نے ہر قسم کی قدامت پرستی کو تقویت دی۔ پرویز ہودبھائی کو چاہیے تھا کہ چلو فارسی کے نہ سہی اردو شاعری کے چیدہ چیدہ اشعار نکال لاتا اور اس تقریب میں پڑھتا۔ اقبال ایک کٹڑ ملا کی طرح عورت کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ ایک جگہ یوں طنز فرماتے ہیں۔

    لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی

    ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ

    یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین

    پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

    چلو یہ تو اقبال کے ابتدائی دور، دورِ نوعمری کی شاعری تھی، مگر میچور ہونے کے بعد بھی موصوف کی سوچ وہی رہی۔ ان کے نزدیک عورت کی نگہبانی صرف مرد ہی کرسکتا ہے (وہی فرسودہ اسلامی سوچ)۔۔

    نَے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی

    نسوانیت زَن کا نگہباں ہے فقط مرد

    اقبال نے مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی کے قصوں میں الجھائے رکھا، ان کو جدید تعلیم، جدید زمانے کے تقاضوں سے روشناس ہی نہ ہونے دیا۔ خود یورپ گھوم آئے اور آکر فرماتے ہیں

    خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگ

    سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

    دانشِ فرنگ کیا ہے۔۔؟ سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم۔۔اقبال کے نزدیک جدید سائنسی علوم کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے، ان کے نزدیک انسان کے لئے سب سے بالا و برتر مذہب ہونا چاہیے اور اس کا ذکر جابجا ان کی شاعری میں ملتا ہے۔ اقبال کو جو چیز خادم رضویت کے سب سے قریب کرتی ہے وہ ہے جو مذہبی منافرت انہوں نے پھیلائی۔ ان کی شاعری میں مومن و کافر کی اتنی تکرار ہے کہ لگتا ہے وہ پوری دنیا کے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، ایک مسلمان اور دوسرے غیر مسلم۔ شکوہ، جواب شکوہ ہو، نوجوانانِ اسلام سے خطاب ہو، ترانہ ملی ہو، یا دیگر نظمیں، وہ مذہب کی بنیاد پر انسانی تفریق کو مزید گہرا کرتے اور مذہبی منافرت کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں۔ وہ قوم جو پہلے ہی مذہب کی بنیاد پر دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں مشکلات محسوس ہوکرتی ہو، ان کو اقبال جیسا فکری رہنما نصیب ہوجائے تو سونے پر سہاگا۔۔۔

    اسی منافرت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو جدید علوم کی طرف راغب کرنے کی بجائے تلوار کی طرف راغب کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اور ان کی پوری شاعری کا یہی مغز ہے کہ وہ مولوی خادم رضوی کی طرح نہایت کرب میں مبتلا ہوکر قوم سے التجائیں اور اپیلیں کرتے ہیں کہ اٹھو، تلوار اٹھاؤ، کافروں کی گردنیں کاٹ دو، اپنا ماضی کا کھویا ہوااقتدار دوبارہ حاصل کرو، کبھی وہ قرطبہ و غرناطہ کی گلیوں میں نوحہ کناں ہیں، کبھی مسجدِ قرطبہ کے صحن میں آنسو بہاتے ہیں ،

    ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

    کند ہوکر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

    ایک اور جگہ تڑپتے ہوئے فرماتے ہیں

    فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

    دُنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

    لیکن جنابِ شیخ کو معلوم کیا نہیں؟

    مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سُود و بے اثر

    تیغ و تُفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں

    ہو بھی، تو دل ہیں موت کی لذّت سے بے خبر

    کافر کی موت سے بھی لَرزتا ہو جس کا دل

    کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر

    اقبال کی نظر میں مسلمانوں کا اقتدار میں رہنا ہی سب سے بڑی بات ہے، وہ دنیا میں اور کسی قوم کو حقِ اقتدار دینے کے قائل ہی نہیں۔ ان کی شاعری اٹھا کر دیکھ لیں، ہر جگہ مسلمانوں کو گردن سے پکڑ کر ماضی کے تالاب میں غوطے پر غوطے دیئے جارہے ہیں کہ کسی طرح وہ پھر سے دوبارہ سے اقتدار حاصل کریں۔۔۔

    اب ذرا موضوع کے اصل نکتے پر کہ اقبال کو فلسفی کہا جاسکتا ہے یا نہیں۔۔ میرے خیال میں ایک فلسفی کیلئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ آزاد ذہن کا مالک ہو اور خود کو اور اپنی سوچ کو کسی خاص سانچے میں نہ ڈھالے نہ کسی خاص گروہ تک محدود کرے۔ نتیجے کی پروا کئے بغیر، سچائی اور حقیقت کی تلاش میں اس کی سوچ کی تانیں آزاد ہونی چاہئیں۔ اور یہاں اپنے اقبال صاحب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا ذہن اسلامی پنجرے میں قید ہے، انہوں نے خود کو اور اپنی سوچ کو مسلمانوں تک ، اسلام تک محدود کیا ہوا ہے اور سچائی اور حقیقت ان کی نظر میں وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے عرب کے صحراؤں میں بیٹھے ہوئے ایک شخص نے غاروں میں کھوج نکالی تھی۔۔ بس یہ ہے ان کا کل فلسفہ۔۔ ایسے شخص کو فلسفی کہنا بھی میری نظر میں فلسفے کی توہین ہے۔ میری نظر میں صرف ایک ہی شعبہ ہے جس میں ان کا قد بہت بڑا ہے اور وہ ہے شاعری۔ شعری محاسن کے اعتبار سے وہ بہت، بہت،بہت،بہت ہی بڑے شاعر ہیں اور میں ذاتی طور پر ان کی شاعری کا نہ صرف مداح ہوں، بلکہ انکی شاعری پڑھ کر لطف بھی محسوس کرتا ہوں۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ترنم کے ساتھ کوئی گیت گایا جارہا ہو۔ اور میرے خیال میں اقبال کو صرف ایک شاعر کے طور پر ہی لینا چاہیے کیونکہ شاعر مبالغہ بھی کرتا ہے، سہانے خواب بھی دکھاتا ہے، الفاظ کی جادونگری میں بھی گھماتا ہے، کیونکہ یہی اس کا کام ہے۔ مگر اقبال کو ایک مفکر کے طور پر یا ایک فلسفی کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔۔

    جہاں تک میں اقبال کو سمجھا ہوں، اقبال برصغیر کے دیسی مسلمانوں کی طرح کے کنفیوژ مسلمان ہیں، کبھی کبھی وہ جدت کی طرف مائل ہوتے نظر آتے ہیں، مگر پھر مذہب کی روایتی قدامت پسندی میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی بلکہ تمام انسانوں کی نجات مذہب میں ہے،۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ اقبال جیسا شخص جو مغربی فلسفہ بھی پڑھ چکا ہے، وہ کیسے مذہب کے ساتھ چپکا رہا۔۔ یہ شاید سچ ہے کہ بچپن میں انسان کو جو کچھ پڑھایا، سکھایا اور رٹایا جاتا ہے اس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے، مگر کیا اتنا مشکل ہوتا ہے کہ اقبال جیسا شخص بھی نہ چھڑا سکا۔۔ ویسے کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے عمران خان اقتدار کے حصول اور اس کو مضبوط کرنے کیلئے ہر وقت عوام کو مذہبی پھکی چٹاتا رہتا ہے، ویسے ہی شاید اقبال نے بھی یہ سوچا ہو کہ اگر سیکولر قسم کی شاعری کی تو عوام مجھے شاید قتل ہی کردے، بہتر ہے عوام کو مذہبی چونا لگاتا رہوں، کیونکہ یہ تو بہرحال سچ ہے کہ مذہب ایک بہت ، بہت، بہت ہی مفید آلہ بھی ہے جس کے ذریعے پہلے سے ہی بے وقوف لوگوں کو مزید بے وقوف بنا کر اپنا کام بھرپور طریقے سے چلایا جاسکتا ہے۔ نہایت نفع بخش دھندا۔۔۔

    میرے خیال میں خادم رضوی علامہ کا نچوڑ نہیں بلکے حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے،علامہ بذات خود خادم رضوی جیسے لوگوں سے متاثر تھے اور ان کے تمام فلسفے کا سر چشمہ گاؤں کے ایک مولوی کی سوچ ہے. 

    اسی ویکھدے رے، اے ترخانا دا منڈا بازی لے گیا

    غازی علم دین”شہید” کے کارنامے  کے بعد علامہ کا یہ بیان ان کے اصل فلسفے اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے . 

    علامہ نے مولوی کی سوچ کو فلسفے کا غلاف پہنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اپنی ساری زندگی صرف کر دی تھی . اسلئے آج جب غلاف اترتا ہے تو اندر سے ایک خادم رضوی نکلتا ہے . اور غلاف اتارنے سے بہت سے لوگوں کے “جذبات ” بھی مجروح ہوتے ہیں.

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  Zed.
    #19
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 16
    • Posts: 2053
    • Total Posts: 2069
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    میرے خیال میں خادم رضوی علامہ کا نچوڑ نہیں بلکے حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے،علامہ بذات خود خادم رضوی جیسے لوگوں سے متاثر تھے اور ان کے تمام تمام فلسفے کا سر چشمہ گاؤں کے ایک مولوی کی سوچ ہے. اسی ویکھدے رے، اے ترخانان دا منڈا بازی لے گیا”، “غازی” علم دین “شہید” کے کارنامے کے بعد علامہ کا یہ بیان ان کے اصل فلسفے اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے . علامہ نے مولوی کی سوچ کو فلسفے کا غلاف پہنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں اپنی ساری زندگی صرف کر دی تھی . اسلئے آج جب غلاف اترتا ہے تو اندر سے ایک خادم رضوی نکلتا ہے . اور غلاف اتارنے سے بہت سے لوگوں کے “جذبات ” مجروح ہوتے ہیں.

    اقبال ایسے ہی مسلمانوں کا ہیرو نہیں بن گیا، قاتل علم دین کے ہاتھ پاؤں اور نہ جانے کیا کیا چومتے رہے، مسلمانوں کو اپنی شاعری اور اپنے عمل دونوں سے شدت پسندی کی طرف راغب کیا۔ جدت سے دور رکھنے کیلئے ہر جتن کیا، دورِ جدید کے آلات کے خلاف کبھی فرماتے ہیں کہ ” ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت، احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات” اور کبھی فرماتے ہیں کہ “تاریک ہے افرنگ مشینوں کے دھویں سے” جمہوریت سے متنفر کرنے کیلئے فرماتے ہیں ” جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں ۔۔ بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے”۔۔ مذہب کو سیاست میں دخیل کرنے کیلئے فرماتے ہیں “جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی” یہ مصرعہ آج بھی بھاری پتھر کی طرح الباکستانی مسلمانوں کے پاؤں کے ساتھ بندھا ہے ، آزادئ افکار کے خلاف فرماتے ہیں،”آزادئ افکار ہے ابلیس کی ایجاد” ،مسلمانوں کو عملیت اور حقیقت پسندی کی دنیا سے دور رہنے کا درس دیتے ہیں،”کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا، مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” غرضیکہ ہر جگہ، ہر طریقے سے مسلمانوں کو دورِ موجود کے ساتھ ہم آہنگ ہونے سے روکنے کا پورا بندوبست کرتے ہیں۔۔ اقبال کی سوچ ایک مولوی کی سوچ سے مختلف نہیں ہے۔۔ اگر اقبال کی تلوار بازی اور تیغ و تفنگ سے خون خرابے ، جہاد و فساد کی شاعری کو یہاں کوٹ کیا جائے تو صفحات کے صفحات بھر جائیں۔۔

    ویسے تو اقبال اپنے مومن یا شاہین مسلمان کو ہر دم گھوڑے پر سوار کرکے، ہاتھ میں تلوار پکڑا کر کوئی نہ کوئی کافرانہ ریاست فتح کرتے دیکھتے ہیں اور کسی نہ کسی کافر کی گردن کاٹنا چاہتے ہیں، پر اپنی حقیقی زندگی میں بہادری کا یہ عالم تھا کہ جاوید اقبال اپنی کتاب “اپنا گریباں چاک” میں لکھتے ہیں کہ ایک بار جب میں دس بارہ سال کا تھا اور کھیلتے کھیلتے گرپڑا، سر چوکھٹ سے ٹکرایا ، تھوڑی سی چوٹ آئی اور ہلکا سا خون نکلا، والد (اقبال) دوڑتے آئے، خون دیکھا تو بے ہوش ہوکر گرپڑے۔ :cwl: ۔۔۔ 

    #20
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: Dr. Hoodbhoy dissecting Allama Iqbal

    ایک پہلو اور بھی ہے۔۔۔۔۔

    کہ اقبال کو کس نظر سے دیکھا جائے۔۔۔۔۔ میرے خیال میں اقبال کی شخصیت کو کم از کم تین شکلوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔

    پہلا شاعر، دوسرا فلسفی اور تیسرا مفکر۔۔۔۔۔

    اب جہاں تک شاعری کی بات ہے تو میرے خیال میں یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کے کہی جاسکتی ہے کہ اگر اُردو میں غالب کے بعد، یا غالب کے برابر کا کوئی شاعر ہے تو وہ اقبال ہی ہے۔۔۔۔۔ جیسا وزن اور ہم آہنگی اقبال کی شاعری میں ہے ویسی شاید ہی کسی اور شاعر میں ہو۔۔۔۔۔ حتیٰ کہ فیض احمد فیض جیسا عظیم شاعر بھی اقبال کی شاعری کا گرویدہ تھا۔۔۔۔۔ ویسے ہود بھائی نے بھی اِس تراشے میں اقبال کی شاعری کی خوبصورتی کو کھل کر تسلیم کیا ہے۔۔۔۔۔

    جہاں تک فلسفہ کی بات ہے تو مجھے نہیں علم کہ اقبال نے فلسفہ کے میدان میں کون سی نئی طرز تخلیق کی ہے۔۔۔۔۔ اور میرے خیال میں اقبال کا شاہین(مردِ مومن) بھی فریڈرک نیچے کے اُوبرمنش کا چربہ ہی معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔۔

    میرے خیال میں یہ بات بہت آرام سے کہی جاسکتی ہے کہ فلسفہ کے میدان میں اقبال کا کوئی قابلِ ذکر حصہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ جیسا کہ پرویز ہود بھائی نے بہت زبردست کہا کہ ایک فلسفی کیلئے ضروری ہے کہ وہ کھلا دماغ رکھتا ہو۔۔۔۔۔

    صحیح غلط و اچھائی برائی کے تصورات سے بالاتر ہو کر دیکھ سکے۔۔۔۔۔

    مگر اقبال کے ساتھ ایسا معاملہ بالکل نہیں تھا۔۔۔۔۔

    اور پھر جب اقبال کو بطور مفکر دیکھا جاتا ہے تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ اقبال کی فکر، جو درحقیقت اُن کی شاعری کا پیغام ہے، وہ ایک کافی تنگ ذہن کی پیداوار ہے۔۔۔۔۔ خالصتاً ایک مُلا کی سوچ ہے۔۔۔۔۔ جو ماضی کے سچے جھوٹے سُہانے خوابوں میں زندہ ہے اور اُنہی میں ہی زندہ رہنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔

    اب مَیں یہ بات مانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص یا قوم زوال میں ہو اور شکست کے احساس میں ہو تو کچھ لمحوں کیلئے آپ اُس شخص کی یا اُس قوم کی دلجوئی کرنے کی کوشش کرتے ہو لیکن پھر آپ اُس کو تلخ حقیقتوں سے روشناس کرانے کے بعد ایک حکمتِ عملی بھی دیتے ہو کہ اِس زوال سے باہر کیسے نکلنا ہے۔۔۔۔۔

    اُس حکمتِ عملی کے معاملے میں یا اُس فکر کے معاملے میں بھی میری ذاتی رائے میں اقبال نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔۔۔۔۔

    پسِ تحریر۔۔۔۔۔

    زندہ رُود۔۔۔۔۔ مَیں نے آپ کی پہلی تحریر بعد میں پڑھی۔۔۔۔۔ اور کم و بیش وہی لکھ دیا جو آپ پہلے ہی لکھ چکے تھے۔۔۔۔۔

    Zinda Rood

    • This reply was modified 5 months, 1 week ago by  BlackSheep.
Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 177 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!