Thread: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

Home Forums Siasi Discussion کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

This topic contains 18 replies, has 4 voices, and was last updated by  Awan 6 months ago. This post has been viewed 338 times

Viewing 19 posts - 1 through 19 (of 19 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 112
    • Posts: 2202
    • Total Posts: 2314
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    سلیم صافی
    10 فروری ، 2019

    فریقین ایک دوسرے کے خلاف ہر حد سے گزر چکے تھے۔ مفاہمت اور مصالحت کی ساری کوششیں ناکام ہو چکی تھیں اور کسی بھی فریق کی طرف سے رتی بھر لچک کا مظاہرہ محال ہو گیا تھا۔ چنانچہ فریق اول (شریف برادران) اور ان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے دیگر عناصر اور پوری قوم کو اِس کی قیمت چکانا پڑی۔ اقتدار سے نکل کر جیلوں میں جانا بھی بڑی قیمت تھی لیکن انسانی اور جذباتی حوالوں سے دیکھا جائے تو محترمہ کلثوم نواز کی ایسی صورت میں رحلت کہ شوہر ساتھ تھے اور نہ بیٹی، یقیناً بہت بڑی قیمت تھی۔ انتخابات سے قبل میاں نواز شریف صاحب، مریم نواز اور ان کو اس راستے پر لگانے والے ان کے مشیر یہ تاثر دے رہے تھے کہ اب کی بار وہ کشتیاں جلا چکے ہیں۔ ہم جیسے لوگ جو جمہور کی بالادستی پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اس کے لئے حسبِ استطاعت کوشش کرنے میں بھی لگے رہتے ہیں، بھی اگر چوہدری نثار علی خان اور میاں شہباز شریف کے بیانیے کے حق میں تھے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ ہمارے سامنے شریف خاندان کا ماضی تھا۔ ہم جانتے تھے کہ یہ لوگ بہادر تو ہیں لیکن لمبے عرصے کے لئے سختی برداشت نہیں کر سکتے۔ اب کی بار تو ہمیں خاندان اور پارٹی کے اندر دو آرا کی تقسیم بھی واضح نظر آ رہی تھی۔ ہم جانتے تھے کہ میاں صاحب کی جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ بہرحال بعد از خرابی بسیار انتخابات کے بعد اگر کھلے طور پر نہیں تو جزوی طور پر ضرور، تاریخ اپنے آپ کو دہرانے لگی۔ مسلم لیگ (ن) کی سیاست میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے بیانیے کے مطابق استوار ہونے لگی۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ ترک کر دیا گیا۔ خواجہ آصف اور احسن اقبال وہی رول ادا کرنے لگے جو کسی زمانے میں چوہدری نثار علی خان ادا کیا کرتے تھے چنانچہ اعتماد سازی کے لئے اقدامات (Confidence building measures) کا آغاز ہونے لگا۔ میاں شہباز شریف کے مشورے پر میاں نواز شریف اور مریم نواز نے چپ کا روزہ رکھ لیا۔ ہمہ وقت متحرک ٹویٹر اکائونٹ بھی خاموش ہو گیا۔ پرویز رشید اور مشاہداللہ جیسے انقلابی پسِ منظر میں چلے گئے اور احسن اقبال یا خواجہ محمد آصف جیسے تبدیل ہونے والے لوگ آگے آئے۔ درونِ خانہ کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں دو رائے تو ہو سکتی ہیں لیکن اندھے اور بہرے بھی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کا انقلابی موقف کمزور پڑ گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کو ڈھیل مل گئی ہے اور ڈیل کے لئے کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ ڈیل عمران خان سے مانگی جا رہی ہے اور نہ ڈھیل ان کی طرف سے دی گئی ہے بلکہ اس ڈھیل پر سب سے زیادہ برہم کوئی ہیں تو وہ بھی نیازی صاحب ہیں اور ڈیل کے امکانات سے سب سے زیادہ پریشان اگر کوئی ہیں تو وہ بھی وہی ہیں۔ میاں شہباز شریف کو پروڈکشن آرڈر کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کرنا، ان کو پی اے سی کا چیئرمین بنایا جانا، میاں نواز شریف کو ان کی خواہش کے مطابق لاہور کی جیل میں منتقل کیا جانا ،سلمان شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو بیرونِ ملک جانے کا موقع فراہم کرنا یہ سب اس ڈھیل کے مظاہر ہیں جو سب کے سب وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی مرضی کے بغیر ہوئے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ ڈیل ابھی ہوئی نہیں بلکہ اس کے راستے میں کئی رکاوٹیں ہنوز باقی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ ڈیل مانگنے والوں کی کیا مجبوری ہے اور ڈھیل دے کر ڈیل پر غور کرنے والوں کو کس چیز نے ایسا کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ جہاں تک ڈیل مانگنے والوں کا تعلق ہے تو ان کو احساس ہو گیا ہے کہ سابقہ موقف پر اصرار کر کے ان کے حصے میں مزید اور شاید ناقابلِ برداشت آزمائشیں آئیں گی۔ میاں نواز شریف اپنی حد تک تو ہر آزمائش کا سامنے کرنے کو تیار نظر آتے ہیں لیکن باپ ہونے کے ناتے وہ بچوں کی آزمائش کو ایک خاص حد سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتے۔ بیٹی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خود تو سختی برداشت کر لیں گی لیکن ماں کی رحلت کے بعد اب باپ کی حالت ان سے نہیں دیکھی جاتی۔ اسی طرح ان کو یہ بھی احساس ہو گیا ہے کہ انقلابی موقف پر قائم رہ کر ان کو خاندان سے بھرپور اسپورٹ مل سکتی ہے اور نہ پارٹی انقلابی بن سکتی ہے۔ چنانچہ میاں نواز شریف اور مریم صاحبہ نے میاں شہباز شریف کو اب اپنا طریقہ آزمانے کا پورا موقع دے دیا ہے اور خود پراسرار خاموشی کی رسوائی برداشت کر رہے ہیں۔ ڈیل دینے کی صلاحیت رکھنے والوں کو مسلم لیگ (ن) سے سیاسی طور پر کوئی خاص خطرہ محسوس نہیں ہو رہا اور قانونی محاذ پر بھی واضح طور پر ان کو اپنا پلڑا بھاری نظر آتا ہے لیکن ان کی مجبوری یہ بن گئی ہے کہ وہ الیکشن کے بعد بننے والے نظام سے بری طرح مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی حد تک دوست ممالک کا دبائو بھی ہے۔ ماضی قریب میں جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس کے بعد ان کے لئے آصف علی زرداری کو مزید ریلیف دینا ممکن نہیں تھا اور جب زرداری صاحب سے متعلق بھی سختی کرتے ہیں تو ان کے اور میاں نواز شریف کے ایک ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح انتخابات سے قبل چونکہ زیادہ برہمی میاں نواز شریف سے متعلق تھی تو نتیجے میں آصف علی زرداری کو ریلیف ملتا رہا لیکن اب زرداری صاحب کی دھمکیوں کے بعد زیادہ غصے کا نشانہ وہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے شریفوں کو ڈھیل دینا مجبوری بنتی جا رہی ہے، تاہم ڈھیل کے ڈیل میں بدل جانے کی راہ میں ابھی بہت ساری رکاوٹیں حائل ہیں۔ میاں نواز شریف خود آئوٹ ہو جانے کی قربانی پر تیار بھی ہو جائیں تو بدلے میں وہ بیٹی کے لئے سہولت چاہتے ہیں لیکن ڈیل دینے والوں کی خواہش کچھ اور ہے جس میں میاں شہباز شریف بھی کسی حد تک ان کے ہمنوا نظر آتے ہیں۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے بھی جلد ڈیل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

    https://jang.com.pk/news/607402-saleem-safi-column-10-2-2019

    • This topic was modified 6 months, 1 week ago by  Awan.
    #2
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 112
    • Posts: 2202
    • Total Posts: 2314
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ جس طرح کے حالات چل رہے ہیں دن بدن خان حکومت غیر مقبول ہوتی جاہے گی – اگر تو خان حکومت تھوڑی سمبھل گیی اور بہتر پرفارم کیا تو پانچ سال تو نکال سکتی ہے مگر دوبارہ آنے کے کوئی امکان نہیں ہیں – تحریک انصاف نے جتنے بڑے بڑے خواب دکھاۓ ہیں ان کی تحبیر ممکن نہیں – نچلا طبقہ تو ابھی سے مخالف ہو گیا ہے اور پڑھے لکھے نو جوانوں میں سے اکثریت ابھی بھی خان کے ساتھ ہے لیکن وہ خان سے موھجزوں کی توقو ع لگاہے بیٹھی ہے جو ہونے ممکن نہیں – آ ئستہ آ ئستہ پڑھی لکھی نو جوان نسل سیاست سے لا تہعلق ہوتی جاہے گی جیسے وہ پہلے تھی – اسٹیبلشمنٹ نے پہلے تو سارے انڈے خان کی ٹوکری میں ڈال دہے تھے مگر اب سوچ بدل رہی ہے کہ یہ یہ سیٹ اپ بہت لمبا نہیں چل سکتا -اسٹیبلشمنٹ کو یہ بھی   سمجھ آ رہی ہے کہ خان کا متبادل پیپلز پارٹی نہیں ہو سکتی اور متبادل ایک ہی ہے جسے سب سے بڑا صوبہ قبول کرے گا – ایسے حالات میں جب نواز نے محاذ آرہی چھو ڑہ دی ہے اور میرا خیال ہے پارلیمنٹری سیاست بھی چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے اگر اس کی بیٹی کو پارلیمنٹری سیاست کرنے دی جاۓ –  تو مریم اور شہبا ز میں سے کوئی ایک اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہو سکتا ہے – میرا خیال ہے اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف ہی کو قبولیت کی سند دے گی – ایک بار شہباز کو قبولیت کی سند مل گیی تو مقدموں میں کوئی جان نہیں ہے یہ ختم ہو جاہیں گے – مریم کے خلاف بھی کچھ نہیں رہے گا – یہ سارا تجزیہ پانچ سال بحد کے لئے ہے اگر خان حکومت پانچ سال چلتی رہے – اگر خان حکومت بہت بری رہتی ہے اور مہنگائی اسی طرح بڑھتی رہتی ہے  تو ملک میں بے چینی بھی بڑھتی جاہے گی اور ایسی صورت میں ان ہاؤس تبدیلی ہو سکتی ہے اور اس کے لئے شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار ہونگے مگر اس کے لئے مزید ڈیڑھ سے دو سال کا انتظار کرنا ہو گا –

    میرے اس تجزیے پر آپ سب کی رائے درکار ہے جن کا نام نیچے لکھا ہے یا مجھ سے رہ گیا ہے –

    Bawa

    Atif

    Athar

    Shah G

    GeoG

    Ghost Protocol

    Zed

    • This reply was modified 6 months, 1 week ago by  Awan.
    #3
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میرے خیال میں نواز شریف کو پارٹی ایک شہید بنانے پر تل گئی ہے کہ کسی طرح ان کا پتا صاف ہو اور پھر ہم عوام  میں نواز شہید کے ساتھ جا سکیں

    ۔

    باقی یہ خاندان باتوں کا چیمپئن ہے لیکن ذات کا بزدل اور کمینہ ہے اس لئے ان کے ہر عمل میں تن کے خباثت نظر آتی ہے

    #4
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 96
    • Posts: 1816
    • Total Posts: 1912
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ جس طرح کے حالات چل رہے ہیں دن بدن خان حکومت غیر مقبول ہوتی جاہے گی – اگر تو خان حکومت تھوڑی سمبھل گیی اور بہتر پرفارم کیا تو پانچ سال تو نکال سکتی ہے مگر دوبارہ آنے کے کوئی امکان نہیں ہیں – تحریک انصاف نے جتنے بڑے بڑے خواب دکھاۓ ہیں ان کی تحبیر ممکن نہیں – نچلا طبقہ تو ابھی سے مخالف ہو گیا ہے اور پڑھے لکھے نو جوانوں میں سے اکثریت ابھی بھی خان کے ساتھ ہے لیکن وہ خان سے موھجزوں کی توقو ع لگاہے بیٹھی ہے جو ہونے ممکن نہیں – آ ئستہ آ ئستہ پڑھی لکھی نو جوان نسل سیاست سے لا تہعلق ہوتی جاہے گی جیسے وہ پہلے تھی – اسٹیبلشمنٹ نے پہلے تو سارے انڈے خان کی ٹوکری میں ڈال دہے تھے مگر اب سوچ بدل رہی ہے کہ یہ یہ سیٹ اپ بہت لمبا نہیں چل سکتا -اسٹیبلشمنٹ کو یہ بھی سمجھ آ رہی ہے کہ خان کا متبادل پیپلز پارٹی نہیں ہو سکتی اور متبادل ایک ہی ہے جسے سب سے بڑا صوبہ قبول کرے گا – ایسے حالات میں جب نواز نے محاذ آرہی چھو ڑہ دی ہے اور میرا خیال ہے پارلیمنٹری سیاست بھی چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے اگر اس کی بیٹی کو پارلیمنٹری سیاست کرنے دی جاۓ – تو مریم اور شہبا ز میں سے کوئی ایک اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہو سکتا ہے – میرا خیال ہے اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف ہی کو قبولیت کی سند دے گی – ایک بار شہباز کو قبولیت کی سند مل گیی تو مقدموں میں کوئی جان نہیں ہے یہ ختم ہو جاہیں گے – مریم کے خلاف بھی کچھ نہیں رہے گا – یہ سارا تجزیہ پانچ سال بحد کے لئے ہے اگر خان حکومت پانچ سال چلتی رہے – اگر خان حکومت بہت بری رہتی ہے اور مہنگائی اسی طرح بڑھتی رہتی ہے تو ملک میں بے چینی بھی بڑھتی جاہے گی اور ایسی صورت میں ان ہاؤس تبدیلی ہو سکتی ہے اور اس کے لئے شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار ہونگے مگر اس کے لئے مزید ڈیڑھ سے دو سال کا انتظار کرنا ہو گا – میرے اس تجزیے پر آپ سب کی رائے درکار ہے جن کا نام نیچے لکھا ہے یا مجھ سے رہ گیا ہے – Bawa Atif Athar Shah G GeoG Ghost Protocol Zed

    ہماری بد قسمتی ہے کہ میاں صاحب کا کردار خود ماضی کی محلاتی سازشوں کا حصہ بنا رہا ہے جن سے یہ خود فائدہ اُٹھاتے رہے

    جس وجہ سے خود ان کے انقلابی ہونے یا ابن الوقت ہونے پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگا رہے گا

    ان کے اسی کردار کی بنا پر ان کا سپوٹر بھی سہل پسند بن گیا ،میں خود حقیقت کی نگاہ سے دیکھوں تو سڑکوں پر احتجاج کے لیئے دو دن نہیں تو زیادہ سے زیادہ چار پانچ دن نکل سکتا ہوں پھر اس شعر کی غمازی کرتے ہوئے گھر لوٹ آوں گا کہ

    تلاشِ رزق سے آگے کا سوچنے نہیں دیتیں

    ضرورتیں کہ جو چھالا بنی ہیں پاوں کا

    اس لئے یہ کبھی اُس طرح کی سٹریٹ پاور نہیں بنا سکے جو تن من دھن کی بازی لگا کر ان کے پیچھے چلتے ہوئے کسی طرح کی طویل سٹریٹ سٹرائک کر سکیں

    مجھ جیسے فرد کو بخوبی اندازہ ہے کہ عام عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے گھر میں ان کی مرضی چلنی چاہئے یا ان کے تنخواہ دار چوکیدار کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھ جیسے افراد اس بات پر سٹینڈ لینے کے لیے کہ” تنخواہ دار چوکیدار کون ہوتا ہے میرے بیڈ روم میں گھس جانے والا”ہر اُس فرد کی حمائت کرنا ضروری سمجھتا ہے جو ان بندوق بردار چوکیداروں کے خلاف آواز اُٹھائے اس کے لیئے میں ہر اُس فرد کی حمائت کرنا اپنا شہری حق سمجھتا ہوں چاہے وہ نیازی ہی کیوں نہ ہو جس دن نیازی نے اس چوکیدار سے یہ پوچھ لیا کہ میں اپنے بچوں کے دودھ کی رقم اپنے بچوں کی دوادارو کی رقم اپنے بچوں کی تعلیم کی رقم سے ٹکہ ٹکہ نکال کرتمھیں اسلحے سے لیس کرتا ہوں اور تم یہی اسلحہ  میری کنپٹی پر رکھ کر مجھےاور میرے ہی خاندان کو بلیک میل کس طرح کر سکتے ہو تو یقین جانئے شاید اُس وقت کے لیئے میں یہ بھول جاوں کہ نیازی ایک زانی ہے؟ اور اس کی حمائت میں آواز اُٹھانا شروع کر دوں

    لیکن نیازی کا تو خیر وہ حال ہے کہ

    جنہیں سونے کے پنجرے میں غزا مل جائے چاندی کی

    اُنہیں پھر عمر بھی آزادیاں اچھی نہیں لگتیں۔

    میاں صاحب نے جس طرح اپنی بیوی کی موت کا صدمہ سہا جس طرح بیٹی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا قبول کیا میں زاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں کا کفارہ ادا کر دیاورنہ تو کیا مشکل تھا کہ وہ لندن ہی میں رہائش پزیر رہتے یہ ٹٹو حکومت تو آج تک مشرف سمیت الطاف اور اسحٰق ڈار تک کو فلحال واپس نہیں لاسکی تو اگر میاں صاحب وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دے دیتے تو یہ ٹٹو حکومت کیا گھنٹہ اُکھاڑ لیتی میاں صاحب کا؟؟؟

    میاں صاحب اگر اب بھی ابن الوقت والا ہی کردار ادا کرنے کو تیار ہوتے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہونا تھا صرف پاکستان سے اپنے تمام اثاثے فرورخت کرکے اپنے بال بچوں کو دوسرے ممالک میں سیٹل ہی کرنا تھا ناں پھر آرام سے اپنی زندگی گزارتے رہتے لیکن انہوں نے اس وقت کی سوکالڈ تعلیم یافتہ اور آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ تم تبدیلی آئی ہے تو بس اتنی کہ تم  کل اپنے بستروں میں چوکیداروں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے تم آج ان چوکیداروں کے لونڈوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہو

    میں اب زاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب اپنی زندگی سہل کرنے کے لئے جو کچھ کرنا چاہیں کریں کیونکہ اس عقل کی اندھی عوام کے لیئے بھٹو نے موت لے کر کونسا ان کا رستہ سیدھا کر دیا جو میاں صاحب قربانی دےکر اس عوام کو با غیرت بنا لیں گے

    @Shah G

    @نادان

    میں دعوت ہر اُس پی ٹی آئی کے دوست کو دینا چاہتا تھا جو مجھے نیازی کا مخالف سمجھتا ہے

    #5
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 112
    • Posts: 2202
    • Total Posts: 2314
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میرے خیال میں نواز شریف کو پارٹی ایک شہید بنانے پر تل گئی ہے کہ کسی طرح ان کا پتا صاف ہو اور پھر ہم عوام میں نواز شہید کے ساتھ جا سکیں ۔ باقی یہ خاندان باتوں کا چیمپئن ہے لیکن ذات کا بزدل اور کمینہ ہے اس لئے ان کے ہر عمل میں تن کے خباثت نظر آتی ہے

     شاہ صاحب یہ وقت اور حالات کی بات ہوتی ہے کہ لیڈر کی شہادت پارٹی پر کیا اثر ڈالتی ہے – بھٹو کو پھانسی پر ٹانگا گیا تھا اس لئے اس کی شہادت پارٹی میں نئی روح ڈال گیی مگر نواز کا کیس دوسرا ہے نواز کو پھانسی نہیں ہو سکتی اور کسی بیماری کے ہاتھوں موت کی نسبت زندہ رہنا پارٹی کے لئے فائدے مند ہے – اگر نواز لمبا عرصہ جیل میں رہے گا تو ہمدردی سمیٹے گا اور اگر جیل سے باہر ہو گا تو مضبوط الیکشن مہم چلاہے گا

    #6
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 96
    • Posts: 1816
    • Total Posts: 1912
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میرے خیال میں نواز شریف کو پارٹی ایک شہید بنانے پر تل گئی ہے کہ کسی طرح ان کا پتا صاف ہو اور پھر ہم عوام میں نواز شہید کے ساتھ جا سکیں ۔ باقی یہ خاندان باتوں کا چیمپئن ہے لیکن ذات کا بزدل اور کمینہ ہے اس لئے ان کے ہر عمل میں تن کے خباثت نظر آتی ہے

    یہ پارٹی تو 2000میں بھی اک شہید لینے کے لیے تُلی بیٹھی تھی

    یہی پرویز الہیٰ چوہدری شجاعت شیدا ٹلی جیسے لوگ نجی محفلوں میں تبصرہ کرتے تھے کہ

    ایہہ جنرل میاں نوں پھانسی لا دوے تاں فیر پنجاب کول وی ایک شہید ہوئےےے گا فیر ساڈی پارٹی برس ہا برس حکومت کر سکدی ایہہ

    (یہ جنرل میاں پھانسی لگا دے تو پھر پنجاب کے پاس بھی ایک شہید ہوگا پھر ہماری پارٹی برسوں تک حکومت کر سکتی ہےـ)

    بس شرفو کو جی ایچ کیو سے اجازت نہ ملی کہ سندھ کے وزیر اعظم کے بعد پنجاب کے وزیر اعظم کو پھانسی دینا کا چانس نہیں لیاجاسکتا

    تب پھرشرفو کے گلے کی ہڈی سعودیز کے ہاتھوں نکالی گئی۔

    #7
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 126
    • Posts: 3787
    • Total Posts: 3913
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ جس طرح کے حالات چل رہے ہیں دن بدن خان حکومت غیر مقبول ہوتی جاہے گی – اگر تو خان حکومت تھوڑی سمبھل گیی اور بہتر پرفارم کیا تو پانچ سال تو نکال سکتی ہے مگر دوبارہ آنے کے کوئی امکان نہیں ہیں – تحریک انصاف نے جتنے بڑے بڑے خواب دکھاۓ ہیں ان کی تحبیر ممکن نہیں – نچلا طبقہ تو ابھی سے مخالف ہو گیا ہے اور پڑھے لکھے نو جوانوں میں سے اکثریت ابھی بھی خان کے ساتھ ہے لیکن وہ خان سے موھجزوں کی توقو ع لگاہے بیٹھی ہے جو ہونے ممکن نہیں – آ ئستہ آ ئستہ پڑھی لکھی نو جوان نسل سیاست سے لا تہعلق ہوتی جاہے گی جیسے وہ پہلے تھی – اسٹیبلشمنٹ نے پہلے تو سارے انڈے خان کی ٹوکری میں ڈال دہے تھے مگر اب سوچ بدل رہی ہے کہ یہ یہ سیٹ اپ بہت لمبا نہیں چل سکتا -اسٹیبلشمنٹ کو یہ بھی سمجھ آ رہی ہے کہ خان کا متبادل پیپلز پارٹی نہیں ہو سکتی اور متبادل ایک ہی ہے جسے سب سے بڑا صوبہ قبول کرے گا – ایسے حالات میں جب نواز نے محاذ آرہی چھو ڑہ دی ہے اور میرا خیال ہے پارلیمنٹری سیاست بھی چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے اگر اس کی بیٹی کو پارلیمنٹری سیاست کرنے دی جاۓ – تو مریم اور شہبا ز میں سے کوئی ایک اسٹیبلشمنٹ کو قابل قبول ہو سکتا ہے – میرا خیال ہے اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف ہی کو قبولیت کی سند دے گی – ایک بار شہباز کو قبولیت کی سند مل گیی تو مقدموں میں کوئی جان نہیں ہے یہ ختم ہو جاہیں گے – مریم کے خلاف بھی کچھ نہیں رہے گا – یہ سارا تجزیہ پانچ سال بحد کے لئے ہے اگر خان حکومت پانچ سال چلتی رہے – اگر خان حکومت بہت بری رہتی ہے اور مہنگائی اسی طرح بڑھتی رہتی ہے تو ملک میں بے چینی بھی بڑھتی جاہے گی اور ایسی صورت میں ان ہاؤس تبدیلی ہو سکتی ہے اور اس کے لئے شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار ہونگے مگر اس کے لئے مزید ڈیڑھ سے دو سال کا انتظار کرنا ہو گا – میرے اس تجزیے پر آپ سب کی رائے درکار ہے جن کا نام نیچے لکھا ہے یا مجھ سے رہ گیا ہے – Bawa Atif Athar Shah G GeoG Ghost Protocol Zed

    اعوان بھائی،
    انسان کی نیت درست ہو اور کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو پانچ سال کافی عرصہ ہوتا ہے لوگوں کی راے وقت کے ساتھ بدلتی ہے خان اگر پانچ سال مسلسل حکومت کرلے تو یہ بذات خود ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا اور بھٹو کے بعد دوسرا سیاسی پارٹی کا سربراہ ہوگا جو ایسا کرسکے گا خان نے دو چار ایسے کام کردئیے جو عوام میں قبولیت حاصل کرلیں تو اسکی جگہ بہت مضبوط ہوجاے گی -بد قسمتی سے عوامی حمایت حکمران بننے کی مساوات کا ایک جزوی سا پہلو ہے لہذا اس کے اقتدار کے تسلسل کے لئے اصلی تے وڈے چوہدری صاحب کی اشیر باد جب تک برقرار ہے اسکو کچھ نہیں ہوسکتا
    جو بات خان کے خلاف جاتی ہے وہ اسکی عمر ہے اور کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہئے کہ خان کے بغیر تحریک انصاف کا کچھ مستقبل نہیں ہے
    آثار بتارہے ہیں کہ خان کے متبادل کے طور پر کویی نیا لیڈر جلد یا بدیر تیار کرنا پڑے گا فلحال میری نظر میں جو شخصیات نظر آرہی ہیں یا جنمیں کچھ سرمایہ کاری نظر آرہی ہے وہ ہیں
    ١) اقرار الحسن
    ٢) جواد احمد
    ٣) جبران ناصر

    میاں صاحب کا سورج تو غروب ہو چکا ہے صرف مریم کو قابو کرنا پڑے گا جو بظاہر ایسا مشکل بھی نہیں لگرہا مریم کے بارے میں مقتدرہ حلقے میرے خیال میں کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیں گے اور پاکستانی حسینہ واجد کو وجود میں آنے دینے کی غلطی نہیں کریں گے تو نون لیگ کا سورج بھی غروب ہونے کو ہے
    یہ درست بات ہے کہ نون کی عدم موجودگی میں پنجاب میں بہت بڑا سیاسی خلا جنم لےگا جس کو اگر پر نہیں کیا گیا تو اسکے دور رس اثرات مرتب ہونگے
    معزرت کے ساتھ آپ کے پراجیکٹ مینجر کو میں کسی قسم کی سیاسی اہمیت نہیں دیتا اسکا کام نون کی میت کو احترام کے ساتھ دفنانا ہوسکتا ہے

    #8
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    شاہ صاحب یہ وقت اور حالات کی بات ہوتی ہے کہ لیڈر کی شہادت پارٹی پر کیا اثر ڈالتی ہے – بھٹو کو پھانسی پر ٹانگا گیا تھا اس لئے اس کی شہادت پارٹی میں نئی روح ڈال گیی مگر نواز کا کیس دوسرا ہے نواز کو پھانسی نہیں ہو سکتی اور کسی بیماری کے ہاتھوں موت کی نسبت زندہ رہنا پارٹی کے لئے فائدے مند ہے – اگر نواز لمبا عرصہ جیل میں رہے گا تو ہمدردی سمیٹے گا اور اگر جیل سے باہر ہو گا تو مضبوط الیکشن مہم چلاہے گا

    :lol:

    مظبوط الیکشن مہم ؟

    لیکن کس بنیاد پر ؟

    #9
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    یہ پارٹی تو 2000میں بھی اک شہید لینے کے لیے تُلی بیٹھی تھی یہی پرویز الہیٰ چوہدری شجاعت شیدا ٹلی جیسے لوگ نجی محفلوں میں تبصرہ کرتے تھے کہ ایہہ جنرل میاں نوں پھانسی لا دوے تاں فیر پنجاب کول وی ایک شہید ہوئےےے گا فیر ساڈی پارٹی برس ہا برس حکومت کر سکدی ایہہ (یہ جنرل میاں پھانسی لگا دے تو پھر پنجاب کے پاس بھی ایک شہید ہوگا پھر ہماری پارٹی برسوں تک حکومت کر سکتی ہےـ) بس شرفو کو جی ایچ کیو سے اجازت نہ ملی کہ سندھ کے وزیر اعظم کے بعد پنجاب کے وزیر اعظم کو پھانسی دینا کا چانس نہیں لیاجاسکتا تب پھرشرفو کے گلے کی ہڈی سعودیز کے ہاتھوں نکالی گئی۔

    میں نے اس وقت نواز شریف کو اگلے جہان پوھنچنے کی بات اس کی بیماری  کی وجہ سے کی تھی

    ۔

    آپ کا کیا خیال ہے نواز شریف کے اگلے جہان جانے کو نون لیگ کیش کروا پائے گی ؟

    #10
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 96
    • Posts: 1816
    • Total Posts: 1912
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میں نے اس وقت نواز شریف کو اگلے جہان پوھنچنے کی بات اس کی بیماری کی وجہ سے کی تھی ۔ آپ کا کیا خیال ہے نواز شریف کے اگلے جہان جانے کو نون لیگ کیش کروا پائے گی ؟

    میں نے جہاں آپ کو کوٹ کرنا چاہا پہلے میں اُس بارے میں آپ کی رائے کا منتظر ہوں

    کیونکہ اُس تحریر سے میں اپنی سیاسی سوچ کی کچھ حد تک عکاسی کر سکا ہوں

    آپ چونکہ مجھے خاص الخاص نیازی کا مخالف اور شریفین کا حامی سمجھنے پر تلُے رہتے ہیں اس لیئے آپ کی آراء ضروری سمجھتا ہوں۔

    #11
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    میں نے جہاں آپ کو کوٹ کرنا چاہا پہلے میں اُس بارے میں آپ کی رائے کا منتظر ہوں کیونکہ اُس تحریر سے میں اپنی سیاسی سوچ کی کچھ حد تک عکاسی کر سکا ہوں آپ چونکہ مجھے خاص الخاص نیازی کا مخالف اور شریفین کا حامی سمجھنے پر تلُے رہتے ہیں اس لیئے آپ کی آراء ضروری سمجھتا ہوں۔

    لیکن اس قوت میں سوال کیا تھا

    مجھے تو بس تبصرہ ہی نظر آیا

    ۔

    برائے مہربانی مجھے امتحان میں نہ ڈالا کریں فورم پر پہلے ہی میرے مخالف تیار بیٹھے ہیں

    #12
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 96
    • Posts: 1816
    • Total Posts: 1912
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    لیکن اس قوت میں سوال کیا تھا مجھے تو بس تبصرہ ہی نظر آیا ۔ برائے مہربانی مجھے امتحان میں نہ ڈالا کریں فورم پر پہلے ہی میرے مخالف تیار بیٹھے ہیں

    وہ تحریر آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں ہے بلکہ

    سلیم صافی کے کالم کےمطابق عوان بھائی نےجو تبصرہ کیا ہے اُسی کےپیرائے میں ہے

    آپ چونکہ مجھے نیازی دشمن شریفین دوست کے پلڑے میں رکھتے رہتے ہیں اس لیئے آپ کو کوٹ کر کے آپ تک اپنے خیالات پہنچانا چاہتا تھا کہ آئندہ آپ مجھے کسی خاص فریق کے ساتھ نتھی کرنے سے قبل میری اس تحریر کو یاد کر لیں۔

    آپ کے ہر مخالف کی مخالفت کے لیئے آپ کا بھائی آپ سے قبل اُس کا جواب دے گا گھبرائے گا نہیں اس فورم پر اگر آپ کےدشمن ہیں تو کچھ خود کو عیاں نہ کرنے والے دوست بھی ہیں

    #13
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    وہ تحریر آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں ہے بلکہ سلیم صافی کے کالم کےمطابق عوان بھائی نےجو تبصرہ کیا ہے اُسی کےپیرائے میں ہے آپ چونکہ مجھے نیازی دشمن شریفین دوست کے پلڑے میں رکھتے رہتے ہیں اس لیئے آپ کو کوٹ کر کے آپ تک اپنے خیالات پہنچانا چاہتا تھا کہ آئندہ آپ مجھے کسی خاص فریق کے ساتھ نتھی کرنے سے قبل میری اس تحریر کو یاد کر لیں۔ آپ کے ہر مخالف کی مخالفت کے لیئے آپ کا بھائی آپ سے قبل اُس کا جواب دے گا گھبرائے گا نہیں اس فورم پر اگر آپ کےدشمن ہیں تو کچھ خود کو عیاں نہ کرنے والے دوست بھی ہیں

    محترم اطہر صاحب

    میں آپ کا کمنٹ نمبر چار نہیں پڑھ سکا تھا ۔ میرا پچھلا کمینٹ آپ کے کمینٹ نمبر چھ کے بارے میں تھا

    ۔

    آپ کے کمنٹ نمبر چار کے بارے میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ

    ۔

    اللہ‎

    نے ظالم  کا ہاتھ روکنے کا عہد لے رکھا ہے پھر چاہے آپ اسی ظالم کے تنخوا دار چوکیدار کیوں نہ ہوں

    ۔

    اگر آپ کے مطابق

    میاں صاحب  دو چار مہینے کی پر طیش قید سے اپنے گناہ دھو بیٹھے ہیں تو یقینا آپ کو نا اہل ، بد دیانت ، لالچی حکمران کے ملک پر پڑنے والے برے اثرات کا کوئی علم نہیں

    ۔

    ۔

    ۔

    آپ نے دوست سمجھا اس کے لئے شکریہ

    #14
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 96
    • Posts: 1816
    • Total Posts: 1912
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    محترم اطہر صاحب میں آپ کا کمنٹ نمبر چار نہیں پڑھ سکا تھا ۔ میرا پچھلا کمینٹ آپ کے کمینٹ نمبر چھ کے بارے میں تھا ۔ آپ کے کمنٹ نمبر چار کے بارے میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ ۔ اللہ‎ نے ظالم کا ہاتھ روکنے کا عہد لے رکھا ہے پھر چاہے آپ اسی ظالم کے تنخوا دار چوکیدار کیوں نہ ہوں ۔ اگر آپ کے مطابق میاں صاحب دو چار مہینے کی پر طیش قید سے اپنے گناہ دھو بیٹھے ہیں تو یقینا آپ کو نا اہل ، بد دیانت ، لالچی حکمران کے ملک پر پڑنے والے برے اثرات کا کوئی علم نہیں ۔ ۔ ۔ آپ نے دوست سمجھا اس کے لئے شکریہ

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

    کسی کو زمیں کسی کو آسماں نہیں ملتا۔

    #15
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 112
    • Posts: 2202
    • Total Posts: 2314
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    اعوان بھائی، انسان کی نیت درست ہو اور کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو پانچ سال کافی عرصہ ہوتا ہے لوگوں کی راے وقت کے ساتھ بدلتی ہے خان اگر پانچ سال مسلسل حکومت کرلے تو یہ بذات خود ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا اور بھٹو کے بعد دوسرا سیاسی پارٹی کا سربراہ ہوگا جو ایسا کرسکے گا خان نے دو چار ایسے کام کردئیے جو عوام میں قبولیت حاصل کرلیں تو اسکی جگہ بہت مضبوط ہوجاے گی -بد قسمتی سے عوامی حمایت حکمران بننے کی مساوات کا ایک جزوی سا پہلو ہے لہذا اس کے اقتدار کے تسلسل کے لئے اصلی تے وڈے چوہدری صاحب کی اشیر باد جب تک برقرار ہے اسکو کچھ نہیں ہوسکتا جو بات خان کے خلاف جاتی ہے وہ اسکی عمر ہے اور کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہئے کہ خان کے بغیر تحریک انصاف کا کچھ مستقبل نہیں ہے آثار بتارہے ہیں کہ خان کے متبادل کے طور پر کویی نیا لیڈر جلد یا بدیر تیار کرنا پڑے گا فلحال میری نظر میں جو شخصیات نظر آرہی ہیں یا جنمیں کچھ سرمایہ کاری نظر آرہی ہے وہ ہیں ١) اقرار الحسن ٢) جواد احمد ٣) جبران ناصر میاں صاحب کا سورج تو غروب ہو چکا ہے صرف مریم کو قابو کرنا پڑے گا جو بظاہر ایسا مشکل بھی نہیں لگرہا مریم کے بارے میں مقتدرہ حلقے میرے خیال میں کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیں گے اور پاکستانی حسینہ واجد کو وجود میں آنے دینے کی غلطی نہیں کریں گے تو نون لیگ کا سورج بھی غروب ہونے کو ہے یہ درست بات ہے کہ نون کی عدم موجودگی میں پنجاب میں بہت بڑا سیاسی خلا جنم لےگا جس کو اگر پر نہیں کیا گیا تو اسکے دور رس اثرات مرتب ہونگے معزرت کے ساتھ آپ کے پراجیکٹ مینجر کو میں کسی قسم کی سیاسی اہمیت نہیں دیتا اسکا کام نون کی میت کو احترام کے ساتھ دفنانا ہوسکتا ہے

    گھوسٹ بھاہی نیت اچھی ہونا اچھی بات ہے مگر کچھ کرنے کے لئے قابلیت اور تجربہ دونوں درکار ہوتے ہیں – قابلیت ہو تو تجربہ حاصل ہو ہی جاتا ہے – خان صاحب نے پچھلے چھ مہینے میں قابلیت کی کوئی جھلک نہیں دیکھائ جس کو بنیاد بناتے ہوے آگے کی کوئی بہت روشن منظر کشی کی جا سکے – خان صاحب کا یہ فرض کر لینا کہ ڈیم فنڈ میں اتنے پیسے آئیں گے کہ ملک ان سے چلے گا اور مہیشت کو بھونڈے طریقے سے ہینڈل کرنا جس سے مہنگائی میں چالیس فیصد اضافہ ہوا کچھ اچھی مثالیں ہیں خان صاحب کی قابلیت کو سمجھنے کی – باقی پچھلی دو حکومتیں اگر پانچ سال مکمل کر گیی ہیں تو اگر یہ بھی کر جاہے گی اس پر حیرت نہیں نہیں ہونی چاہہے البتہ وزیر اعظم کا پانچ سال پورے کرنا ایک نئی بات ہو گی مگر جام کے لبوں تک آنےسے پہلے بہت امتحانات ہیں – میں سمجھتا ہوں اسٹیبلشمنٹ اکیلے کسی کو اقتدار تک نہیں پوھنچا سکتی اس کے لئے کافی حد تک عوامی حمایت بھی درکار ہوتی ہے – نو ن لیگ کو پیچھے کرنے میں جہاں اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ہے وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ نون لیگ عام آدمی کی حالت نہیں بدل سکی اور زیادہ لوگوں کو ان سے گلے ہی رہے کہ ان کے لئے کچھ نہیں کیا گیا – مہیشت اتنی ترقی کرے کہ اس کا اثر عام آدمی تک پوھنچ جاہے اتنا آسان نہیں ہے یہ خان حکومت بھی نہیں کر سکے گی – نون لیگ نے اتناضرور کیا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ مداخلت نہ کرتی تو اس کی سیٹیں خان سے زیادہ ہوتیں اور وہ باقی پارٹیوں کے ساتھ مل کر حکومت حکومت بنا لیتی – امن و امان کی بحالی ، لوڈ شیڈنگ میں بہتری اوردوسرے بڑے منصوبے بہت سے لوگوں کے لئے نون لیگ کی بہتر کارکردگی کے لئے کافی تھے مگر بہت سے دوسرے صرف اپنی حالت میں تبدیلی کو دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا کیا – بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگلی بار تحریک انصاف کے پاس نہ بڑے منصوبے ہونگے ، نہ عام آدمی کی بہتر حالت ہو گی ، نہ امن و امان اور لوڈ شیڈنگ کا کریڈٹ ہو گا تو اکیلے اسٹیبلشمنٹ اسے نہیں جیتا سکتی ویسے بھی اسٹیبلشمنٹ پہلے ہی اپنی صف بندی کر چکی ہو گی –

    میرا نہیں خیال کہ فلحال کوئی نئی پارٹی اگلے چند سالوں میں اوپر آ سکتی ہے اور خان صاحب اگلے الیکشن تک تو فٹ ہی رہینگے تو اس لئے میں فلحال انہی دو پارٹیوں کو اگلے الیکشن میں دیکھ رہا ہوں – مریم کا باہر آنا اور خاموش رہنا ایک ابتدا ہے جو آگے جا کر اتنی قبولیت دلا سکتی ہے کہ وہ اسمبلی تک چلی جاہے – خفیہ طاقتوں کو زیادہ مسلہ نواز سے ہے اور نواز کا میرا خیال ہے اتنا ذھن بن چکا ہے کہ اب اسے پارلیمانی سیاست نہیں کرنی ہے – شہباز شریف پبلک فگر نہیں ہے نہ کراوڈ پلر ہے- کراوڈ پلر یا نواز ہے یا مریم لیکن شہباز خفیہ طاقتوں کے لئے قابل قبول ہے – نون کے لئے مستقبل کی گنجائش تبھی بنتی ہے اگر نواز اورمریم ، شہباز کے حق میں مہم چلائیں –

    #16
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 112
    • Posts: 2202
    • Total Posts: 2314
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    ہماری بد قسمتی ہے کہ میاں صاحب کا کردار خود ماضی کی محلاتی سازشوں کا حصہ بنا رہا ہے جن سے یہ خود فائدہ اُٹھاتے رہے جس وجہ سے خود ان کے انقلابی ہونے یا ابن الوقت ہونے پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگا رہے گا ان کے اسی کردار کی بنا پر ان کا سپوٹر بھی سہل پسند بن گیا ،میں خود حقیقت کی نگاہ سے دیکھوں تو سڑکوں پر احتجاج کے لیئے دو دن نہیں تو زیادہ سے زیادہ چار پانچ دن نکل سکتا ہوں پھر اس شعر کی غمازی کرتے ہوئے گھر لوٹ آوں گا کہ تلاشِ رزق سے آگے کا سوچنے نہیں دیتیں ضرورتیں کہ جو چھالا بنی ہیں پاوں کا اس لئے یہ کبھی اُس طرح کی سٹریٹ پاور نہیں بنا سکے جو تن من دھن کی بازی لگا کر ان کے پیچھے چلتے ہوئے کسی طرح کی طویل سٹریٹ سٹرائک کر سکیں مجھ جیسے فرد کو بخوبی اندازہ ہے کہ عام عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے گھر میں ان کی مرضی چلنی چاہئے یا ان کے تنخواہ دار چوکیدار کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ جیسے افراد اس بات پر سٹینڈ لینے کے لیے کہ” تنخواہ دار چوکیدار کون ہوتا ہے میرے بیڈ روم میں گھس جانے والا”ہر اُس فرد کی حمائت کرنا ضروری سمجھتا ہے جو ان بندوق بردار چوکیداروں کے خلاف آواز اُٹھائے اس کے لیئے میں ہر اُس فرد کی حمائت کرنا اپنا شہری حق سمجھتا ہوں چاہے وہ نیازی ہی کیوں نہ ہو جس دن نیازی نے اس چوکیدار سے یہ پوچھ لیا کہ میں اپنے بچوں کے دودھ کی رقم اپنے بچوں کی دوادارو کی رقم اپنے بچوں کی تعلیم کی رقم سے ٹکہ ٹکہ نکال کرتمھیں اسلحے سے لیس کرتا ہوں اور تم یہی اسلحہ میری کنپٹی پر رکھ کر مجھےاور میرے ہی خاندان کو بلیک میل کس طرح کر سکتے ہو تو یقین جانئے شاید اُس وقت کے لیئے میں یہ بھول جاوں کہ نیازی ایک زانی ہے؟ اور اس کی حمائت میں آواز اُٹھانا شروع کر دوں لیکن نیازی کا تو خیر وہ حال ہے کہ جنہیں سونے کے پنجرے میں غزا مل جائے چاندی کی اُنہیں پھر عمر بھی آزادیاں اچھی نہیں لگتیں۔ میاں صاحب نے جس طرح اپنی بیوی کی موت کا صدمہ سہا جس طرح بیٹی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا قبول کیا میں زاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں کا کفارہ ادا کر دیاورنہ تو کیا مشکل تھا کہ وہ لندن ہی میں رہائش پزیر رہتے یہ ٹٹو حکومت تو آج تک مشرف سمیت الطاف اور اسحٰق ڈار تک کو فلحال واپس نہیں لاسکی تو اگر میاں صاحب وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دے دیتے تو یہ ٹٹو حکومت کیا گھنٹہ اُکھاڑ لیتی میاں صاحب کا؟؟؟ میاں صاحب اگر اب بھی ابن الوقت والا ہی کردار ادا کرنے کو تیار ہوتے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہونا تھا صرف پاکستان سے اپنے تمام اثاثے فرورخت کرکے اپنے بال بچوں کو دوسرے ممالک میں سیٹل ہی کرنا تھا ناں پھر آرام سے اپنی زندگی گزارتے رہتے لیکن انہوں نے اس وقت کی سوکالڈ تعلیم یافتہ اور آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ تم تبدیلی آئی ہے تو بس اتنی کہ تم کل اپنے بستروں میں چوکیداروں کو برداشت کرنے پر مجبور تھے تم آج ان چوکیداروں کے لونڈوں کو برداشت کرنے پر مجبور ہو میں اب زاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب اپنی زندگی سہل کرنے کے لئے جو کچھ کرنا چاہیں کریں کیونکہ اس عقل کی اندھی عوام کے لیئے بھٹو نے موت لے کر کونسا ان کا رستہ سیدھا کر دیا جو میاں صاحب قربانی دےکر اس عوام کو با غیرت بنا لیں گے @Shah G @نادان میں دعوت ہر اُس پی ٹی آئی کے دوست کو دینا چاہتا تھا جو مجھے نیازی کا مخالف سمجھتا ہے

     اطہر بھاہی ، نواز نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ اسٹانز لے کر اس ملک کے لوگوں کی سیاسی بصیرت کو آزمایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ عوام ابھی جمہوری سفر میں وہاں تک نہیں پوھنچے ہیں کہ ٹینکوں کے آگے لیٹ جاہیں – اگر ایک جانور طاقت میں آپ سے زیادہ ہے تو اسے آپ عقل سے مات دیتے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں فلحال اس اسٹیبلشمنٹ نامی سا نڈھ کو قابو کرنے کے لئے حکمت اور دانائی کی ضرورت ہے – یہ حکمت اور دانائی شہباز میں پایی جاتی ہے اس لئے مستقبل کے منظر نامے میں ، میں شہباز شریف کی کافی اہمیت دیکھتا ہوں – کچھ عرصہ پہلے تک میں پاکستان میں بنگلہ دیش ماڈل دیکھ رہا تھا اور ایسا ہونے بھی جا رہا تھا کہ صرف تحریک انصاف کو آگے لاؤ اور باقی سب کو کچل دو مگر دو چیزوں نے اس میں تبدیلی کر دی ہے ایک خان حکومت کی نہ اہلی اور دوسرے نواز و مریم کا محاذ آرائی ترک کرنا ہے – راستے ایسے ہی بنتے ہیں ، سیاست میں کوئی مستقل دوست نہیں ہوتا اورنہ کوئی مستقل دشمن ہوتا ہے – خفیہ ادارے بھی سیاست کر رہے ہیں تو یہ بات ان پر بھی صادق ہوتی ہے –

    #17
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 112
    • Posts: 2202
    • Total Posts: 2314
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    :lol: مظبوط الیکشن مہم ؟ لیکن کس بنیاد پر ؟

     مضبوط الیکشن مہم موجودہ حکومت کی نہ اہلی اور عام آدمی کی حالت نہ بدلنے پر – جیسا کہ میں نے دوسری پوسٹ میں لکھا ہے کہ اگلے الیکشن میں خان کے پاس نہ بڑے منصوبے ہونگے ،نہ لوڈ شیڈنگ و امن و امان کا کریڈٹ تو ان کے مخالفوں اور میڈیا کے پاس تقریریں اور تنقید کرنے کے لئے بہت کچھ ہو گا – جس تبدیلی کا نہرہ پچھلی بار ان کے حق میں گیا پھر مخالفت میں جائے گا –

    #18
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    مضبوط الیکشن مہم موجودہ حکومت کی نہ اہلی اور عام آدمی کی حالت نہ بدلنے پر – جیسا کہ میں نے دوسری پوسٹ میں لکھا ہے کہ اگلے الیکشن میں خان کے پاس نہ بڑے منصوبے ہونگے ،نہ لوڈ شیڈنگ و امن و امان کا کریڈٹ تو ان کے مخالفوں اور میڈیا کے پاس تقریریں اور تنقید کرنے کے لئے بہت کچھ ہو گا – جس تبدیلی کا نہرہ پچھلی بار ان کے حق میں گیا پھر مخالفت میں جائے گا –

    مجھے لگا آپ علیما خان یا جنرل مشرف ایشو کا نام لیں گے کہ ووٹ کو عزت دو والا نعرہ تو آپ کے خلاف جاتا ہے اور بری طرح پٹ گیا ہے

    ۔

    عوامی ایشو پر اپوزیشن کرنا آپ کے بس کی بات نہیں

    ابھی دیکھیں اصلاحات ہو رہی ہیں اور ظاہر ہے رزلٹس بعد میں آئیں گے ۔ اصلاحات مکمل طور پر اکمل کامل نہیں ہیں لیکن پھر بھی آپ اس پر بات نہیں کر سکتے کہ اول تو آپ کو سمجھ ہی نہیں آئیں گی دوئم اگر سمجھ آ بھی گئیں تو بھی آپ مجبورا ذکر نہیں کر سکتے

    #19
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 112
    • Posts: 2202
    • Total Posts: 2314
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: کیا ڈھیل، ڈیل میں بدل جائے گی؟

    مجھے لگا آپ علیما خان یا جنرل مشرف ایشو کا نام لیں گے کہ ووٹ کو عزت دو والا نعرہ تو آپ کے خلاف جاتا ہے اور بری طرح پٹ گیا ہے ۔ عوامی ایشو پر اپوزیشن کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ابھی دیکھیں اصلاحات ہو رہی ہیں اور ظاہر ہے رزلٹس بعد میں آئیں گے ۔ اصلاحات مکمل طور پر اکمل کامل نہیں ہیں لیکن پھر بھی آپ اس پر بات نہیں کر سکتے کہ اول تو آپ کو سمجھ ہی نہیں آئیں گی دوئم اگر سمجھ آ بھی گئیں تو بھی آپ مجبورا ذکر نہیں کر سکتے

     “ووٹ کو عزت دو ” کے نام پر نواز نے اپنی سی کوشش کی اس کے لئے لندن سے واپس آ کراپنی بیٹی سمیت جیل بھی قبول کی ورنہ وہ با آسانی بھاگ سکتا تھا لیکن عوام کا سیاسی شعور ابھی وہاں نہیں پوھنچا اور مقتدر قوتیں بھی ابھی مضبوط ہیں – وہ وقت ضرور آہے گا جب اس ملک کے عوام سیاست میں فوجی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے –
    میری ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے کہ میں حکومت کے کسی اچھے کام کی تحریف نہ کروں – جس دن حکومت کی کسی اصلاح کا اچھا نتیجہ آہے گا تو ضرور تحریف کروں گا –

Viewing 19 posts - 1 through 19 (of 19 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation