Thread: کیا جہاد مدارس شروع کراتے ہیں ؟

Home Forums Non Siasi کیا جہاد مدارس شروع کراتے ہیں ؟

This topic contains 0 replies, has 1 voice, and was last updated by  حسن داور 5 months, 1 week ago. This post has been viewed 45 times

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 2747
    • Posts: 1702
    • Total Posts: 4449
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: کیا جہاد مدارس شروع کراتے ہیں ؟

    جو حضرات نائن الیون سے قبل بالغ ہوچکے تھے انہیں یاد ہوگا افغانستان پر حملے کے ساتھ ہی پورا بین الاقوامی میڈیا یہ پروپیگنڈہ شروع کرچکا تھا کہ پوری دنیا میں فساد پھیلانے کے ذمہ دار پاکستان کے مدارس اور مفتی ہیں۔ ادھر یہ کسی بھی ملک میں جہاد کا فتویٰ جاری کرتے ہیں ادھر دہشت گردی شروع جاتی ہے۔ اس دعوے کے ساتھ ہی بظاہر معقول یہ بات بھی بتادی جاتی کہ افغان طالبان کی پشت پر پاکستان کے دیوبندی مدارس ہی تو ہیں۔ اور اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ دیوبندی مدارس کا طالبان سے تعلق تھا۔ 2002ء سے 2006ء تک دنیا بھر کے صحافیوں سے اسلام آباد بھرا رہتا اور پاکستانی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے ڈالروں کے عوض ان کی ترجمانی اور دلالی کا فریضہ سنبھالے رکھا۔ اور یہ سب اسی طرح کی بے شمار گمراہ کن رپورٹیں اپنے اخبارات یا ٹی وی چینلز کو بھیجا کرتے۔

    ٢٠٠٣ میں حزب المجاہدین کے ایک سابق ترجمان نے مجھ سے رابطہ کیا کہ کینیڈین صحافی  اسٹیفن مارشل آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نے انکار کیا تو کہنے لگے صرف مل لیں آن دی ریکارڈ بیشک کچھ نہ کہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے آجائیں۔ یہ لوگ آئے تو ا سٹیفن نے جب اپنی اسائنمنٹ بتائی تو وہ وہی “مدارس اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ” تھی۔ میرے دوست جانتے ہیں میرا فیوز اڑنے میں سیکنڈز لگتے ہیں۔ اس دن بھی ایسا ہی ہوا۔ میں نے ا سٹیفن سے کہا

      آپ لوگ اپنی ہی قوم کو کیوں گمراہ کرتے ہیں ؟ اکیسویں صدی کی دہلیز پر کھڑے ہوکر بھی آپ اپنی قوم سے جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں اور خود کو سچائی کا پیمبر بھی کہتے ہیں

    سٹیفن نے کہا

      میں کیمرہ آن کردیتا ہوں آپ سچ بتادیں میں وہی چلادوں گا

    میں نے کہا

      کسی بھی مغربی صحافی پر اعتماد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

    کہنے لگا

      چلیں آپ مجھے مدارس والے مسئلے پر آف دی ریکارڈ ہی سمجھا دیں کہ ہم غلط کیا کرتے ہیں

    میں نے کہا

      اس معاملے میں پہلے اپنا موقف بتائیں

    کہنے لگا

      میں تو تحقیق کے لئے آیا ہوں لیکن مغربی میڈیا کے دعوے کے زیر اثر ہی ہوں کہ جہاد پاکستان کے مدارس شروع کراتے ہیں

    میں نے کہا

      اسٹیفن ! میں سوویت یونین کے خلاف لڑے گئے افغان جہاد کا اپنی بساط کے مطابق حصہ رہا ہوں، آپ مجھ سے یہ سوال کیجئے کہ میں افغان جہاد کا حصہ کیوں بنا ؟ 

    اسٹیفن نے یہ سوال پوچھا تو میں نے کہا

      میں اس لئے گیا تھا کیونکہ جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا کہ وہاں جاؤ اور افغانوں کا ساتھ دو

    اسٹیفن کچھ کنفیوز نظر آیا تو میں نے کہا

      میرے کہنے کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ جنرل ضیاء نے مجھے کال کرکے یہ سب کہا بلکہ یہ ہے کہ یہ اس وقت جنرل ضیاء کی بنائی ہوئی  اسٹیٹ پالیسی تھی

    پھر میں نے  اسٹیفن سے کہا

      آج بھی افغانستان میں ایک جنگ چل رہی ہے، پچھلے افغان جہاد اور اس جنگ میں اگر کوئی فرق ہے تو بس دشمن کا فرق ہے۔ میں آج کی اس جنگ کو بھی جہاد ہی مانتا ہوں لیکن افغانستان کے کسی محاذ کے بجائے اسلام آباد کے ایک دفتر میں بیٹھا آپ سے گپیں لگا رہا ہوں۔ اب آپ مجھ سے پوچھیں کہ تم پچھلے جہاد کا تو حصہ بنے تھے تو آج والے جہاد کا حصہ کیوں نہیں ہو ؟

    اسٹیفن نے یہ سوال دہرایا تو میں کہا

      اس لئے کہ جنرل مشرف کہتا ہے خبردار جو کوئی پاکستانی افغان جنگ میں گیا

    یہ سنتے ہی ا سٹیفن کی شکل پر ایک رنگ آیا اور دوسرا گیا، اب میں نے پوچھا

      سو  اسٹیفن بتاؤ پاکستان میں جہاد کا بٹن کس کے ہاتھ میں ہے ؟

    کہنے لگا

      پاکستانی جنرلز کے ہاتھ میں

    پھر اس نے پوچھا

      لیکن مولوی اور مدرسے کا رول نظر تو آتا ہے، یہ کیا ہے ؟

    عرض کیا

      مولوی کا رول یہ ہے کہ جب جنرل ضیاء نے لڑنے کا کہا تو میں نے مولوی سے پوچھا کہ اس جنگ میں اگر میں مارا گیا تو یہ کتے کی موت تو نہ ہوگی ؟ مولوی نے شرعی اصولوں کی روشنی میں بتا دیا کہ یہ موت کتے کی موت نہ ہوگی بلکہ شہادت ہوگی، شرعی مسئلہ بتانے میں حرج کیا ہے ؟

    اسٹیفن نے کہا

      لیکن مولوی جہادی تنظیموں کے سربراہ بھی تو نظر آتے ہیں

    عرض کیا

      ان مولویوں میں ایک بھی کسی مدرسے کا مہتمم، شیخ الحدیث، مفتی یا مدرس نہیں۔ مدارس میں کسی جہادی چھوڑیں سیاسی تنظیم کو بھی جوائین کرتے ہی آپ نااہل ہوجاتے ہیں، وہاں تنظیموں پر کڑی پابندی ہے۔ پاکستان کے کسی ایک بھی مدرسے کا کوئی ذمہ دار کسی جہادی تنظیم کا عہدیدار نہیں۔ اور مزے کی بات یہ کہ کسی ایک بھی جہادی تنظیم میں کوئی مفتی نہیں جو انہیں جہاد کا فتویٰ گھر بیٹھے دے سکے۔ جہاں تک بڑے مفتیوں کا تعلق ہے تو ان کا تو آج بھی یہی فتویٰ ہے امریکہ کے خلاف لڑی جانے والی افغان جنگ جہاد ہے، آپ کابل جا کر ایساف چیف سے پوچھ کر تو دیکھیں کہ انہوں نے کتنے پاکستانی وہاں مارے یا پکڑے ہیں ؟ فتوی موجود ہے لیکن پاکستانی افغانستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں، کیوں ؟ کیونکہ پاکستانی جرنیل اس بار منع کر رہے ہیں۔ ہم نے پچھلی جنگ بھی جنرل ضیاء کے کہنے پر لڑی اور ہم آج کی جنگ بھی صرف جنرل مشرف کے منع کرنے کی وجہ سے نہں لڑ رہے لھذا مہربانی فرما کر جنگوں کا آغاز ہمارے کھاتے میں مت ڈالیں، ہم مولوی تب ہی لڑتے ہیں جب جرنیل لڑنے کا کہتا ہے

    اسٹیفن حیران و پریشان بیٹھا کچھ دیر میری شکل تکتا رہا، پھر کہنے لگا کہ مجھے کسی مدرسے کی طرف ریفر کردیں تاکہ میں کھل کر پوری تسلی کے ساتھ مدرسہ اندار سے دیکھ سکوں۔ میں نے بہارہ کہو والے مولانا فیض الرحمن صاحب کے پاس بھیج دیا اور انہوں نے پوری طرح اس کی تسلی کرادی تھی۔

    بشکریہ ….. رعایت اللہ فاروقی

    https://www.facebook.com/Riayat.Farooqui/posts/1729753770381944

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation