Thread: ڈیل نہیں ناکامی کا خوف

Home Forums Siasi Discussion ڈیل نہیں ناکامی کا خوف

This topic contains 3 replies, has 2 voices, and was last updated by  Awan 2 months, 1 week ago. This post has been viewed 104 times

Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 290
    • Posts: 6627
    • Total Posts: 6917
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: ڈیل نہیں ناکامی کا خوف

    ڈیل نہیں ناکامی کا خوف

    حامد میر

    وزیراعظم عمران خان کی ناکامی کا خوف اُن کے کچھ پرانے اور وفادار ساتھیوں کو تیزی کے ساتھ گھیر رہا ہے۔ کچھ دن پہلے ایک وفاقی وزیر تشویشناک لہجے میں بتا رہے تھے کہ وہ صبح نو بجے دفتر آتے ہیں اور رات دس گیارہ بجے سے پہلے فارغ نہیں ہوتے۔ سارا دن دفتر میں کام کرنے اور اپنی جیب سے منگوایا ہوا فاسٹ فوڈ کھا کھا کر وزن بڑھتا جا رہا ہے۔ میں نے پوچھا آپ دفتر میں اتنا وقت کیوں گزارتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب میں کہا کہ ہمارا لیڈر اور وزیراعظم بھی دفتر میں اتنا ہی وقت لگاتا ہے۔ سوال کیا کہ اگر وزیراعظم اور ان کی کابینہ روزانہ چودہ پندرہ گھنٹے کام کر رہی ہے تو حکومت کی کارکردگی میں بہتری کیوں نظر نہیں آ رہی؟ وزیر صاحب نے فٹ سے جواب میں کہا ’’حامد بھائی یہی تو مسئلہ ہے۔ ساری کابینہ چودہ پندرہ گھنٹے کام کرے تو کیا نہیں ہو سکتا لیکن ہم صرف پانچ یا چھ وزراء ہیں جو جنون کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ ہم ناکام ہو گئے تو ہمارا خان ناکام ہو جائے گا اور خان ناکام ہو گیا تو پھر ہم گئے کام سے‘‘۔ پوچھا کہ صرف پانچ چھ وزیر صاحبان زیادہ کام کیوں کرتے ہیں؟ ہمارے دوست وزیر صاحب نے محتاط لہجے میں کہا کہ باقی وزراء بھی کام کرتے ہیں لیکن وہ شام چار پانچ بجے کے بعد دفتروں میں نہیں بیٹھتے کیونکہ اُن کی سیاسی بقا عمران خان کی کامیابی سے مشروط نہیں عمران خان ناکام ہو جائیں، فارغ ہو جائیں تو ہمارے کئی ساتھی وزراء کو فرق نہیں پڑتا، وہ پچھلی حکومتوں میں بھی شامل تھے، موجودہ حکومت میں بھی شامل ہیں اور آئندہ جو بھی حکومت ہو گی اُس میں بھی شامل ہو جائیں گے لیکن ہم عمران خان کی وجہ سے حکومت میں آئے ہیں اور اس کے ساتھ چلے جائیں گے اور اسی خوف کی وجہ سے ہم زیادہ کام کرتے ہیں۔ اس گفتگو سے پتہ چلا کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ دو گروپوں میں تقسیم ہے۔ ایک گروپ اُن کے پرانے ساتھیوں پر مشتمل ہے جو 2011ء سے پہلے تحریک انصاف میں آئے تھے۔ ایک گروپ نئے آنے والوں پر مشتمل ہے اور نئے آنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جو تحریک انصاف کی اتحادی جماعتوں کے کوٹے میں سے وزیر بنے ہیں۔ کل رات میں نے ایک اور وفاقی وزیر سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ اپنے وزیر اعظم کی ناکامی کے خوف سے پریشان رہنے لگے ہیں؟ یہ وزیر بھی عمران خان کے پرانے ساتھیوں میں شامل ہیں۔ اُنہوں نے جھٹ سے اس خوف کی تصدیق کی اور کہا کہ کچھ دن پہلے میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپنے ایک ساتھی کو سرگوشی میں کہہ رہا تھا کہ ذرا اپنے دائیں بائیں اور سامنے نظر دوڑائو تمہیں اجنبیت محسوس ہو گی، تحریک انصاف کے پرانے لوگ کم اور نئے آنے والے زیادہ ہیں۔ یہ سُن کر میرے ساتھی نے کہا خاموش ہو جا، یہ جو ہمارے اردگرد لوٹے بیٹھے ہوئے ہیں ان کے بغیر ہم حکومت نہیں بنا سکتے تھے جس پر میں نے اپنے ساتھی کو کہا کہ انہی لوٹوں کی وجہ سے ہم آئندہ کبھی حکومت میں نہیں آئیں گے کیونکہ ان کی شکلیں دیکھ کر میرا دل ڈوبنے لگتا ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں نئے نہیں پرانے پاکستان کی کابینہ میں گھس آیا ہوں۔

    عمران خان کی ناکامی کے خوف سے صرف کچھ حکومتی وزراء نہیں بلکہ اپوزیشن کی اہم شخصیات بھی خوفزدہ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنمائوں کی زبان سے اس خاکسار نے خود سنا کر اگر عمران خان ناکام ہو گیا تو اسے پورے پارلیمانی نظام کی ناکامی قرار دے کر نیا سسٹم لانے کی کوشش کی جائے گی۔ میں نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا اور اپوزیشن کی اہم شخصیات کی خدمت میں عرض کیا کہ آج کے پاکستان میں کوئی نیا نظام اور نیا آئین لانا ممکن نہیں لہٰذا ان نازک حالات میں کوئی محب وطن آئین شکنی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، صدارتی نظام کے باتیں بحث مباحثے کے لئے ٹھیک ہیں لیکن صدارتی نظام لانے کے لئے لاشوں کا ایک سمندر عبور کرنا پڑے گا لہٰذا اس بحث میں الجھنے کے بجائے آپ پارلیمانی نظام کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔ اپوزیشن کی ایک اہم شخصیت نے کہا کہ ہم تو اس نظام کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں اور ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کے ساتھ بیٹھ کر اسٹیڈنگ کمیٹیاں بھی بنا لی ہیں لیکن حکومت کے کچھ وزراء کا کیا کریں جو راستے میں روک روک کر کانوں میں پوچھتے ہیں ’’ہمارا کیا ہو گا؟‘‘۔ جب ان وزراء سے پوچھا جاتا ہے کہ بھائی تم اتنے خوفزدہ کیوں ہو تو وہ کہتے ہیں کہ سانحۂ ساہیوال میں پنجاب حکومت نے جو غفلت اور غیر ذمہ داری دکھائی ہے اُس کے بعد عمران خان کا وسیم اکرم دراصل منصور اختر بن چکا ہے اور منصور اختر کو زبردستی ٹیم میں شامل رکھا گیا تو ہماری ٹیم ہار جائے گی۔

    میں ذاتی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو منصور اختر سے ملانے کے خلاف ہوں کیونکہ منصور اختر ون ڈے میچوں میں زیادہ کامیاب نہ ہوئے لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ایک سنچری تو کر ہی گئے تھے۔ عمران خان کو ان کے کچھ ہمدردوں اور خیرخواہوں نے عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن خان صاحب نے مشورہ نظرانداز کر دیا۔ اُن کا خیال ہے کہ عثمان بزدار بھلے وسیم اکرم نہ بنے لیکن منصور اختر کی طرح آہستہ آہستہ کھیلتے ہوئے ایک دن سنچری ضرور بنا ڈالے گا۔ ہمیں بھی عثمان بزدار سے بڑی توقعات تھیں لیکن ابھی تک یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں اُن کی کارکردگی بہتر ہو جائے لیکن اُن کے پاس وقت کم ہے کیونکہ عمران خان زیادہ عرصہ اُن کا دفاع نہ کر پائیں گے۔ عمران خان کو اپوزیشن سے فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔ انہیں خطرہ اندر سے ہے۔ اپوزیشن والے چھوٹی موٹی شرارتوں پر گزارا کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) والے آج کل غریبوں کو بڑا تنگ کر رہے ہیں۔ یہ شرارتی لوگ غریب مزدوروں کے پاس جا کر عمران خان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں اور جب مہنگائی سے ستائے ہوئے یہ غریب لوگ عمران خان کو برا بھلا کہتے ہیں تو ن لیگیے اپنے موبائل فون کیمروں پر اُن کی غصے بھری باتیں ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہیں۔ ن لیگ والوں نے یہ شرارتیں تحریک انصاف سے سیکھی ہیں۔ جب تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو اسی قسم کی شرارتیں ن لیگ سے کرتی تھی۔ دونوں جماعتوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے ساتھ گالم گلوچ دونوں کو سیاسی طور پر کمزور کرے گی۔

    مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کو ایک نئی ٹینشن یہ دی ہے کہ عدلیہ اور فوج کے ساتھ محاذ آرائی ترک کر دی ہے۔ جب سے ن لیگ نے ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکرائو ختم کیا ہے تحریک انصاف اور خاص طور پر شیخ رشید احمد کو کسی ڈیل کا شک گزرنے لگا ہے اور وہ دن رات ڈیل کی مذمت میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس مبینہ ڈیل میں دوسرا فریق کون ہے؟ سب جانتے ہیں کہ نواز شریف کو کافی عرصے سے دل کی بیماری لاحق ہے۔ اگر لاہور کے سروسز اسپتال کے میڈیکل بورڈ نے یہ قرار دیا ہے کہ نواز شریف کو مستقل طور پر دل کے علاج کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور گردوں کی بھی تکلیف ہے تو اس میں ڈیل کہاں سے آگئی؟ ان بیماریوں کا علاج پاکستان میں ہو سکتا ہے لہٰذا نواز شریف کو پاکستان میں طبی سہولتیں مہیا کرنا حکومت کا فرض ہے۔ اس معاملے میں سے ڈیل تلاش کرنے کا مقصد صرف یہ نظر آتا ہے کہ آپ بڑے غیر محفوظ ہیں، آپ کو یہ پتہ ہے کہ آپ چھ ماہ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکے لہٰذا اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کے بجائے آپ دوسروں کے خلاف شور مچا رہے ہیں اور بھول رہے ہیں کہ ڈیل یا این آر او کی باتیں کر کے آپ پاکستان کے ریاستی اداروں کو متنازع بنا رہے ہیں۔ ناکامی کے خوف سے نکلئے، کارکردگی بہتر بنایئے ورنہ کل کو آپ وہیں ہوں گے جہاں آج نواز شریف ہے۔

    #2
    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 290
    • Posts: 6627
    • Total Posts: 6917
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: ڈیل نہیں ناکامی کا خوف

    ب  تو ایسا بزدل انسان ہے کہ اپنے ہی ماتحت پولیس افسران سے بھی دب کر بات کرتا ہے، جب یہ بنا تھا تو اس وقت بھی میں نے ایک تھریڈ پوسٹ کیا تھا کہ اس کی واحد خصوصیت جس کی بنا پر اسے اتنا بڑا عہدہ دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے گھر بجلی نہیں تھی

    حد ہوگئی بے غیرتی کی، آج تک یہ کھل کرمعصوم بچی کے قاتلوں کی مذمت نہیں کر سکا ، تین معصوم بچوں کے والدین کو ان کے سامنے بربریت سے قتل کیا گیا مگر ب خاموش رہا اور خاموش ہی رہے گا کیونکہ اس کا حال اس فقیر جیسا ہے جسے بادشاہت ملی تو کہنے لگا روٹی پکاو اور جب مخالف فوج نے ملک دبڑدوس کردیا تو سانوں کی کہتا ہوا کشکول اٹھاے یہ جا وہ جا

    یہ اتفاق نہیں کہ ایک ہی دن دو ملتے جالتے کالم شائع ہوے ہیں، نیچے ایک اور کالم بھی پوسٹ کررہا ہوں شائد ب کو تھوڑی سی غیرت آجاے اوراپنی شرمناک کاکردگی پر اپنا گول سا ناک چلو بھر پانی میں ڈبونے کا کچھ انتظام کرے

    وقت گزرتا جارہا ہے مگر حکمران پارٹی ہے کہ اس کی بے ہوشی میں کوی افاقہ ہو ہی نہیں رہا

    ایک پراگریس ضرور ہوی ہے، اخبار کی خبر کے مطابق ب نے مولوی طاہر اشرفی سے ایک ون ٹو ون طویل ملاقات کی ہے، اب دیکھنا کسطرح اس مولوی کی برکت سے ملک کی تقدیر بدلتی ہے

    یہ مولوی بہت عیار بندہ ہے کسی حکمران کو اس وقت ہی ملتاہے جب اس کی لٹیا ڈوبنے والی ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ مال بنا سکے

    :thinking:

    • This reply was modified 2 months, 1 week ago by  Believer12.
    #3
    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 290
    • Posts: 6627
    • Total Posts: 6917
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: ڈیل نہیں ناکامی کا خوف

    عثمان بزدار واقعی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں

    منصور آفاق

    یہ بات افواہ کی طرح پھیل رہی ہے کہ جب آصف علی زرداری سے پوچھا گیا کہ ’’چند ہفتے قبل تو آپ کی گرفتاری کا بہت شور و غوغا تھا پھر کیا ہوا‘‘ تو انہوں نے کہا ’’کسی فقیر کی دعا کام آ گئی‘‘۔ وہ دعا کے لئے جس فقیر کے پاس گئے تھے، میں اس وقت انہی کے گھر موجود ہوں- یہ مکان گوجر خان کے وسط میں ہے۔ چھوٹی چھوٹی چار پانچ گلیوں سے ہوکر آدمی اس گلی تک پہنچتا ہے- بڑی گاڑیوں کا یہاں پہنچنا آسان نہیں، خاص طور پر بڑی لینڈ کروز تو یہاں آنے سے رہی۔ ان کا مکان بھی ایک تنگ سی گلی کے اندر ہے مگر اس مکان کے سامنے گاڑیوں کی پارکنگ کی جگہ موجود ہے، پانچ سات گاڑیاں وہاں کھڑی ہو سکتی ہیں- میرے ساتھ اورنٹیل کالج کے سربراہ ڈاکٹر سلیم مظہر اور اردو صحافت کی ایک بڑی شخصیت بھی تھی۔ چھوٹے سے دروازے سے ہم اندر داخل ہوئے اور دروازے کے بالکل ہی ساتھ بنی ہوئی سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔ سڑھیوں کی پہلی منزل آئی، پھر دوسری منزل، پھر تیسری منزل، پھر چوتھی آئی تو باہر نکلنے کادروازہ دکھائی دیا۔ اس میں داخل ہوئے تو پھر لوہے کی ایک ایسی چھت نظر آئی جس سے چاند کی چاندنی چھن چھن کر نیچے والی منزل کےصحن میں اتر رہی تھی۔ تھورا سا اُس پر چلے تو سامنے کی دیوار میں ایک اور دروازہ دکھائی دیا، جو ایک اور چھت پر کھل رہا تھا۔ ہم اس سے ہوتے ہوئے ایک کمرے میں پہنچے جہاں پروفیسر احمد رفیق اختر کا بستر لگا ہوا تھا۔ ان کے بیڈ کے اوپر کئی شیلف لگی تھیں جن میں کتابیں سجی ہوئی تھیں۔ میں نے کتابوں کو غور سے دیکھا تو مجھے اُن میں ’’دیوانِ منصور‘‘ بھی نظر آئی۔ اپنی شاعری کا دیوان دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔ ایک طرف ایک صوفہ پڑا تھا، اس کے ساتھ ایک سنگھار میز بھی دھری تھی- اس کے سامنے ایک باون انچ کا ٹیلی وژن رکھا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ اس کمرے میں آصف علی زرداری آئے تھے، انہی گلیوں اور سڑھیوں سے گزر کر، پھر خیال آیا کہ یہاں کئی بار فریال تالپور بھی آچکی ہیں، نون لیگ کی لیڈر شپ بھی یہاں آتی رہتی ہے کسی زمانے میں عمران خان بھی آیا کرتے تھے۔ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کئی بار آ چکے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی پروفیسر صاحب سے ملاقات تو کی ہے مگر میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ ملاقات اسی کمرے میں ہوئی تھی یا کہیں اور۔ لیکن میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عسکریت پر اُن کے اثرات بہت گہرے ہیں۔پاکستان اور بیرون ملک سے بڑی بڑی شخصیات پروفیسر صاحب سے ملنے آتی رہتی ہیں۔ صرف انہی پر کیا موقوف، یہاں تو روزانہ دو تین سو لوگ ملنے آتے ہیں۔ اُن سے علم کی باتیں پوچھتے ہیں، رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ بڑے بڑے باریش بزرگ بھی ان سے دعا کی درخواست کرتے ہیں حالانکہ خود پروفیسر صاحب کلین شیو ہیں۔ سوٹ پہنتے ہیں، ٹائی لگاتے ہیں اور انگریزی کے پروفیسر ہیں۔ تاریخ پر بھی ان کی بہت گہری نظر ہے۔ تصوف ان کے ہاں صرف علم الکلام نہیں رہتا، عمل بن جاتا ہے۔ ان کی گفتگو سے حکمت و عرفان کے پھول جھڑتے ہیں۔ علمِ عقائد کے چراغ جل جل جاتے ہیں۔ وہ عالمِ علمِ لدنی بھی لگتے ہیں اورحاملِ علومِ فلسفہ بھی۔ وہ قرآن حکیم کی جب تفسیر کرتے ہیں تو یہ راز کھلنے لگتا ہے کہ ’’قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن‘‘۔ احادیث پر جب بات کرتے ہیں تو محدث لگتے ہیں۔ اسماء کا اُن سے بڑا عالم شاید ہی دنیا میں کوئی ہو۔ کسی کا نام سن کر اُس کی شخصیت کے سارے خدوخال بیان کر دیتے ہیں۔ اسلام اور سائنس اُن کا خاص موضوع ہے۔

    یہ اتنی طویل تمہید کا سبب صرف اتنا ہے کہ جس روز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے میری ملاقات ہوئی تھی، اُس دن دو باتیں طے ہوئی تھیں۔ ایک پروفیسر احمد رفیق اختر کے ساتھ ملاقات، دوسری سرائیکی زبان کے سب سے بڑے شاعر اقبال سوکڑی کے ساتھ لاہور میں ایک شام۔ اقبال سوکڑی عثمان بزدار کے حلقے سے تعلق رکھتے ہیں یعنی اُن کے ووٹر بھی ہیں۔ عثمان بزدار کو اقبال سوکڑی کے کئی اشعار یاد بھی ہیں، جو انہوں نے مجھے سنائے تھے مگر دونوں باتیں ہوا ہو گئیں۔ اقبال سوکڑی کے ساتھ شام سے متعلق شہباز گل کی وساطت سے کئی بار انہیں یاد بھی دلایا ہے کہ وعدے کو پورا کیا جائے مگر جواباً انتظار فرمائیے کا بورڈ آویزاں نظر آیا۔ مجھے ڈر ہے کہ اِسی انتظار میں تونسہ کی حکمرانی ہی ختم نہ ہو جائے۔ راولپنڈی اسپتال کے ڈاکٹر طارق نیازی کی معطلی جیسے حیرت انگیز فیصلے کے نتائج کچھ بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔

    نمل یونیورسٹی میانوالی کے کانووکیشن میں مَیں بھی موجود تھا، جب عمران خان نے ایک بار پھر عثمان بزدار کے حق میں تقریر فرمائی تھی مگر اُس روز اُن کے لہجے میں عثمان بزدار پر پہلے جیسا یقین نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ پچھلے ماہ دو مرتبہ میانوالی گئے۔ وہاں قیام بھی فرمایا مگر خدا گواہ وہاں اُن کے جانے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میانوالی کو اب تک کوئی پیکیج نہیں دیا گیا۔ اگر چھ ماہ میں وزیراعظم کے ضلع کو کچھ نہیں ملا تو کسی اور ضلع کو کیا ملا ہوگا۔

    عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ بننے پر سب سے زیادہ خوشی کا اظہار میں نے کیا تھا۔ میں نے اپنے کالم ’’ساڈا بزدار جیوے‘‘ میں لکھا تھا ’’وزیراعلیٰ کا جہاں گھر ہے۔ وہاں سڑک اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ جیو ٹی وی کی دو گاڑیاں وہاں تک پہنچنے کی کوشش میں پانی میں بہہ گئی تھیں۔ بجلی وہاں نہیں ہے۔ اب تو بڑے بڑے بیورو کریٹس کو وہاں جانا پڑے گا۔ یقیناً اب بجلی بی بی بھی رقص کرتی ہوئی وہاں پہنچے گی۔ روڈ بھائی بھی دھمال ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ کے گائوں میں داخل ہوں گے۔ اب وہاں بھی ’’ماڈل ویلیج‘‘ بنیں گے۔ تونسہ میں ’’سرائیکی یونیورسٹی‘‘ بنے گی۔ واہ واہ۔ آرٹس کونسل بنائی جائے گی۔ وہاں بھی ڈرامے ہوا کریں گے۔ سرائیکی زبان کے سب سے بڑے شاعر اقبال سوکڑی کے ساتھ لاہور میں شامیں منائی جائیں گی اور ڈیرہ غازی خان کی گلی گلی میں لکھا ہو گا ’’ساڈا بزدار جیوے‘‘۔ ایک بزدار یعنی عاشق بزدار نے کہا تھا ’’اساں قیدی تخت لاہور دے‘‘ دوسرےبزدار یعنی عثمان بزدار نے تختِ لاہور کو فتح کر لیا مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ میری توقعات، میری امیدیں مجھے خاک میں ملتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ عثمان بزدار کے پاس اب وقت ہے مگر بہت تھوڑا سا۔ شش و پنج کے ڈپریشن سے نکلیں اور ثابت کریں کہ وہ واقعی پنجاب کے حکمراں ہیں۔

    #4
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 104
    • Posts: 1967
    • Total Posts: 2071
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: ڈیل نہیں ناکامی کا خوف

    منصور آفاق تو پکا درباری قصیدہ گو تھا حیرت ہے اتنی جلدی بد زن ہو گیا – اب ایک اور پکّے درباری قصیدہ گو کی آ و زاری بھی پیش خدمت ہے

    :

    muneer

Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation