Thread: ٢٠٤٠ء میں لکھا گیا ایک کالم

Home Forums Non Siasi ٢٠٤٠ء میں لکھا گیا ایک کالم

This topic contains 0 replies, has 1 voice, and was last updated by  حسن داور 7 months, 3 weeks ago. This post has been viewed 80 times

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3617
    • Posts: 1972
    • Total Posts: 5589
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: ٢٠٤٠ء میں لکھا گیا ایک کالم

    منت سماجت کی مگر زمیندار نہ مانا۔
    گندم پک چکی تھی۔ جب بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔فصل ڈھے گئی جو بچی اس میں دانہ گیلا تھا سکھانے کے لیے کھلیان پر ڈالا تو آندھی آگئی اور رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ اب مالک کو دینے کے لیے کچھ بھی نہ بچا تھا۔ مگر میرا زمیندار چنگ چن چی مُصر تھا کہ گزشتہ برس کی طرح اس برس بھی اسے پورے سو من گندم دوں ۔ کہاں سے لاتا؟ گڑ گڑایا مگر وہ نہ مانا ۔رات کو اس کے کارندے آئے میرا ٹریکٹر اور ٹرک دونوں لے گئے ۔مجھے اور میری بیوی کو دھمکیاں بھی دیں ۔
    مرتا کیا نہ کرتا ،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ راولپنڈی کا سیشن جج چوانگ فاؤ انصاف کے لیے مشہور تھا مگر وہ جو پنجابی کا محاورہ ہے کاں کاواں دے تے بھرا بھراواں دے۔ کوے کوؤں کے طرف دار ہوتے ہیں اور بھائی بھائیوں کے!تو اس نے بھی میرے لینڈ لارڈ چنگ چن چی کے حق ہی میں فیصلہ دیا ۔
    میرے پاس اور کیا چارہ ء کار تھاسوائے اس کے کہ زراعت کے پیشے کو خیر باد کہہ دوں ۔ اب ایک چھوٹی سی دکان آریہ محلے میں چلا کر کنبے کا پیٹ پال رہا ہوں۔
    آہ!کیا دن تھے جب پاکستان پر ہم پاکستانیوں کا راج تھا۔ ہم مزارع تھے یا زمیندار ،مجسٹریٹ تھے یا سیشن جج،سب پاکستانی ہوا کرتے تھے۔ پھر 2018 ء اور 2019 کا زمانہ آیا۔ اندھی بہری لولی لنگڑی حکومت دم سادھے بیٹھی رہی اور جہازوں کے جہاز چینیوں سے بھرے ہوئے ہمارے ہوائی اڈوں پر اترنے لگے۔ کوئی پابندی تھی ان پر نہ کوئی قدغن۔ یہاں تک کہ انہوں نے پاکستان میں زمینیں خریدنا شروع کردیں ۔ چند برسوں میں چینی مالک بن گئے اور ہم پاکستانی ملازم۔ آج عالم یہ ہے کہ کاروبار سے لے کر زراعت تک ،نوکریوں سے لے کر ٹھیکوں تک ،سب کچھ ان کے ہاتھ میں ہے۔ میرے علاقے کا ایم این اے بھی ایک چینی ہے ۔تعداد تو چینیوں کی اس حلقہ انتخاب میں مشکل سے 48 فیصد بنتی ہے مگر جو 52 فیصد پاکستانی ہیں انہیں بھی چینیوں نے نوکریوں کے لالچ دے کر قابو کرلیا۔ اب یہ دوسرا الیکشن ہے جو اس چینی نے جیتا ہے اور ہمارا ایم این اے بنا ہوا ہے۔ اس کے دو بھائی بھی پاکستان آن بسے ہیں۔ ایک جنوبی پنجاب کے کسی حلقے سے صوبائی اسمبلی کا رکن ہے۔ دوسرا لاہور میں ٹھیکیداری کرتا ہے۔ اکثر شاہراہوں کے ٹھیکے اسی کو ملتے ہیں ۔ چالاک اور منصوبہ باز اتنا ہے کہ ایک طرف کراچی میں محل تعمیر کررہا ہے جو بلاول کے صاحبزادے کو تحفے میں دے گا۔ دوسری طرف حمزہ شہباز کے بیٹے کے ساتھ گاڑھے تعلقات بنا رکھے ہیں ۔
    اب تو عملاً یہ ملک چینیوں کا ملک بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا میں چینیوں نے ماضی میں خوب خوب ہجرتیں کی ہیں ۔ ملائشیا ،سنگا پور، اور دوسرے جنوب مشرقی ملکوں میں آج چینی مین لینڈ سے آئے ہوئے ہیں ۔
    کینیڈا اور آسٹریلیا میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔امریکہ میں بھی کم نہیں ۔مگر ان تمام ملکوں اور پاکستان میں فرق یہ ہے کہ وہاں ان چینی مہاجرین کو ملکی قوانین کا تابع بنا کررکھا گیا ہے جبکہ ہمارے ہاں انہیں آقا بنا لیا گیا ہے۔ جس طرح رواں صدی کے اوائل میں امریکی پاکستان میں دندناتے پھرے اور جنرل مشرف سے لے کر پیپلز پارٹی کے منظور نظر حسین حقانی تک سب نے امریکیوں کے لیے دروازے کھول دئیے، بالکل اسی طرح کچھ عرصہ بعد چینیوں کے لیے ملکی قوانین کو کمزور کیا گیا۔ ویزوں کے کاغذات سے لے کر گاڑیوں کے کاغذات تک ،جملہ دستاویزات چیک ہی نہیں کی گئیں ۔
    ملکی سرحدوں کی بے حرمتی ہم پاکستانیوں کی سرشت ہے۔ افغان مہاجرین کی مثال لیجئے۔ یہ مہاجرین ایران میں گئے تو انہیں کیمپوں میں محصور کرکے رکھا گیا۔ کڑی نگرانی کی گئی اور جیسے ہی مناسب موقع آیا ،واپس بھیج کر جان چھڑا لی گئی۔ مگر یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ پاکستان کی سرحدوں کوافغان مہاجرین کے لیے ملیا میٹ کردیا گیا۔ لاکھوں افراد روزانہ سرحد کراس کرکے آتے اور جاتے رہے۔ آتے ہوئے اسلحہ اور منشیات لاتے او ر جاتے ہوئے پاکستانی مصنوعات لے جاتے ۔پھر اسی پر بس نہیں کیا گیا۔ انہیں کاروبار کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔ٹرانسپورٹ کے بزنس پر چھا گئے۔ شہر شہر قصبہ قصبہ بستی بستی گاؤں گاؤں جائیدادیں خریدیں اور دھڑلے سے آباد ہوگئے۔ پھر مقامی تاجروں کو ہراساں کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ قتل کرنے لگ گئے۔ نادرا جیسے حساس ادارے میں افغانی مہاجر باقائدہ ملازمت کرتے پائے گئے۔ لاکھوں کی تعدا د میں جعلی شناختی کارڈ بنا کر انہیں پیش کئے گئے۔ ہمارے اداروں کی بے حصی اور مجرمانہ ذہنیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خوست اور دوسرے افغان شہروں میں مقیم افغان خاندان کبھی پاکستان نہیں آئے مگر پاکستانی پاسپورٹوں پر حج کرتے رہے۔ یہ وہ اطلاعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوئیں ۔ جو رپورٹ نہ ہوسکیں ان کا ندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔
    سی پیک کا غلغلہ برپا ہوا تو جیسےدروازے کھل گئے ۔2017 ء کے بعد چینی بڑے بڑے گروہوں کی صورت میں آئے۔ پہلے یہ افرادی قوت “امدادی” شکل میں براجمان ہوئی پھر اونٹ اور خیمے کی کہانی دہرائی گئی۔ آج 2040ء میں حالت یہ ہے کہ دکانوں کے سائن بورڈ چینی زبان میں ہیں ۔ہر بڑے شہر سے چینی اخبارات شائع ہورہے ہیں ۔ایسے ایسے ٹیلی ویژن چینل ہیں جو چوبیس گھنٹے چینی زبان میں نشریات پیش کررہے ہیں ۔ چینی عورتوں نے بڑی تعداد میں مقامی مردوں سے بیاہ رچا لیے ہیں ۔ بڑے بڑے بڑے شاپنگ مال اور مارکیٹیں چینیوں کے قبضے میں ہیں ۔باغات اور کھیت تک ان کی ملکیت میں چلے گئے ۔سکول اور کالج ایسے کھل گئے جہاں صرف چینی زبان ذریعہ تعلیم ہے۔ جہاں جہاں ان کا بس چلتا ہے پاکستانیوں کو پریشان اور ہراساں کرتے ہیں۔ یہی لیل و نہار رہے تو ایک دن پاکستانیوں کا حال پاکستان میں وہی ہوگا جو کولمبس کی نئی دنیا میں ریڈ انڈین باشندوں کا ہوا تھا۔
    ٢٠١٨ء میں کبیروالا کے مقام پر چینی انجینئروں نے پاکستانی پولیس کے ساتھ جو بدسلوکی کی تھی وہ مستقبل کی ایک ہلکی ہی جھلک تھی۔ ان چینیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ سکیورٹی سٹاف کے بغیر کیمپ سے باہر نہ نکلیں مگر انہوں نے نکلنے پر اصرار کیا۔پاکستان سے باہر کے میڈیا نے یہ اطلاع دی کہ یہ چینی ایک ایسے ممنوعہ علاقے میں جانا چاہتے تھے جو اخلاقی حوالے سے بدنام تھا۔ پولیس نے روکا تو چینیوں نے ان پر حملہ کردیا۔ کوئی گاڑی کے بونٹ پر چڑھ دوڑا اور کسی نے بند گاڑی کے شیشوں پر مکے برسانا شروع کئے۔اسی پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ پولیس کیمپ کی بجلی کاٹ دی۔ انکوائری کرائی گئی تو ثابت یہ ہوا کہ قصور سارے کا سارا چینیوں کا تھا۔ ایسے کئی واقعات اس زمانے میں پیش آئے ۔اگر پاکستان کی حکومت اس وقت دور اندیشی سے کام لیتی اور اگر وژن ہوتا تو ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جاتا مگر آنکھیں بند رہیں ۔ کھلیں تو چہرہ دوسری طرف کرلیا گیا۔ قالین کے نیچے کوڑا کرکٹ جمع ہوتا گیا۔ بیس بائیس برس بعد آج پورا ملک خمیازہ بھگت رہا ہے۔
    ٢٠١٦ میں یہ حال تھا کہ 71 ہزار چینی پاکستان آئے۔تقریباً اٹھائیس ہزار ویزوں میں توسیر کرائی گئی ۔2015ء کی نسبت ان غیر ملکیوں کی تعدا د 41 فیصد زیادہ تھی۔ اس کے بعد کے برسوں میں کئی گنا زیادہ چینی آئے اور طویل عرصہ کے لیے ٹھہر گئے۔کاروبار شروع کر دیا۔ بہت سوں نے سکول کھول لیے۔تاہم پاکستانی حکومت نے کوئی ٹھوس اور واضح پالیسی اس ضمن میں نہ بنائی۔بنائی ہوتی تو آج یہ حال نہ ہوتا۔
    آج کراچی کی بندر گاہ سے لے کر گلگت او رچترال کے مہمان خانوں تک ہر طرف یہی زرد نسل چھائی ہوئی ہے۔ کارخانے ان کی ملکیت ہیں خام مال یہ کسانو ں سے اپنی مرضی کے نرخ پر خریدتے ہیں۔پھر اسی ملک کے خام مال سے تیار کردہ مصنوعات اسی ملک میں اپنی مرضی کی قیمتوں پر بیچتے ہیں ۔ بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں ۔ ان کے باورچی ،ڈرائیور ،باڈی گارڈ، مالی،خاکروب ،سب مقامی افراد ہیں ۔ بدسلوکی کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ مار تے پیٹتے ہیں ۔تعلیمی اداروں میں ان کے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر داخلے دئیے جاتے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی اعلیٰ ملازمتوں میں بھی ان کا کوٹہ ان کی آبادی کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ دہرائی جارہی ہے اس وقت ڈپٹی کمشنر رچرڈ اور ایس پی ہیری تھا۔ آج ڈپٹی کمشنر منگ چین اور ایس پی ہونگ فواؤ ہے۔
    ملک سے کتے ،بلیاں ،سانپ ،گدھے، جنگلی سؤر اور بندر ختم ہوگئے ہیں۔ شراب کشید کرنے کی بھٹیاں گلی گلی لگی ہیں ۔ سر شام بدمست گروہ شاہراہوں پر نکل آتے ہیں ۔ کوئی خواتین کو تاڑتا ہے، کوئی بھرے ہوئے سکریٹ کا سوٹا لگاتا ہے۔کوئی آواز کستا ہے۔ مقامی لوگ ان کے ہاتھ جائیدادیں فروخت کرکے ہاتھ کٹوابیٹھے ہیں حکومت کی اب ہمت نہیں ان کے جرائم کی بیخ کنی کرے۔ جو وقت تھا وہ گزر گیا ۔
    اب میڈیا پر خبریں سن کر حکومت اور عوام دونوں تلملا اور جھلا سکتے ہیں ،کر کچھ نہیں سکتے۔ پاکستانیوں نے موقع تو امریکیوں ،عربوں اور افغانوں کو بھی دیا تھا مگر انہوں نے یہ حال نہیں کیا۔ زرد رنگ کے ان در اندازوں کا تو سٹائل ہی اور نکلا۔ مہمان تھے مالک بن بیٹھے ۔اب ایک کسر رہ گئی ہے کہ پاکستان کا نام بدل کر چینستا ن رکھ دیا جائے۔

    بشکریہ …… محمد اظہار الحق

    https://www.mukaalma.com/27558

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation