Thread: وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا

Home Forums Siasi Discussion وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا

This topic contains 3 replies, has 2 voices, and was last updated by  Believer12 2 months, 2 weeks ago. This post has been viewed 242 times

Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 345
    • Posts: 7862
    • Total Posts: 8207
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا

    کچھ دنوں سے دل کی کیفیت ایسی ہے کہ ہر دم بے چینی و بے کلی سی لگی ہے، کسی کام میں دل نہیں لگتا اور زندگی کے رنگ پھیکے پھیکے سے لگتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ خدانخواستہ مجھے سلیم رضا کی ظرح محبت کا روگ لگ گیا ہے یا شامی کی طرح میری بیوی نے منہ پر کہہ دیا ہے کہ دو بول پڑھا کے مجھے لاے تھے بس وہی ایگریمینٹ نبھا رہی ہوں ، ایسا بھی نہیں کہ محبوب کی بے وفای نے مجھ سے زندگی کی رونقیں چھین لی ہیں یا عاطف بھای کی طرح ماضی کی ناکام محبتیں رات گئے تک میرے جذبات میں مدوجزر پیدا کرتی رہتی ہیں ، دراصل میری سمسیا کچھ اور ہے

    کچھ دنوں سے میرے دیس کی بیٹیاں اغوا اور ریپ ہورہی ہیں مگر کسی حکمران نے ایک ٹائم کی روٹی بھی نہیں چھوڑی ، کسی نے یہ نہیں کہا کہ دعا کو اٹھانے والے عام سے جیلس عاشق نہیں لگتے بلکہ جسطرح انہوں نے ایک کار چھین کر یہ ظالمانہ واوردات کی ہے تو ضرور کوی انتہای خطرناک ترین منظم قاتلوں و چوروں کا گروہ اس میں ملوث ہے، انڈیا میں ایک سٹوڈنٹ جنرلسٹ سے جسے چلتی بس میں ریپ کیا گیا تھا پھر اسے مار کر بس سے بیچے پھینک دیا گیا تھا، یہ اسی قسم کی واردات ہے، یہ جانتے بوجھتے کیا گیا ہے، اللہ جانے دعا ان مجرموں کی پناہ میں کس حال میں ہوگی؟

    منگھو پیر کی سات سالہ رابعہ کو اس کا سگا چچا ریپ کے بعد گلا دبا کر قتل کردیتا ہے تاکہ معصوم بچی بتا نہ پاے کہ کسی اجنبی کا بلکہ خونی رشتوں کا اعتبار بھی اب مت کرنا، بچی کا شادی شدہ چچا آیا ہوا تھا تو اس کے بھای اور بھابھی نے گھر میں ٹھہرایا، کھانا پینا اور عزت دی ، بس وہ دن گیا اور آج کا آیا وہ دونوں میاں بیوی مردوں کی طرح پھرتے ہیں، چچا کہہ رہا ہے کہ غلطی ہوگئی جو سزا دے سکتے ہو دے لو مگر سزا دینے سے رابعہ پر ڈھای گئی ظلم کی داستان تو ریورس نہیں ہو سکتی ؟

    ایسے بہت سارے واقعات اب کثرت سے ہونے لگے ہیں، چالیس بچوں کی زیادتی کی ویڈیوز بلیک ویب پر لائیو چلانے والا کماو پوت سہیل ایاز پولیس کی گاڑی میں بیٹھا وکٹری کا نشان بناتا ہے تو مجھے وہ امریکی ڈاکومینٹری یاد آجاتی ہے جب امریکی پولیس نے ایک میکسیکن ڈرگ گینگ کا رکن پکڑرکھا تھا، اس نے ویڈیو کیمرے کی طرف دیکھ کر ایک دو عجیب سے اشارے کئے، امریکیوں نے ایکسپرٹس سے رابطہ کیا جنہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ مخصوص اشارے گینگ مافیا کے ایجاد کردہ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پکڑا تو گیا ہے مگر باقی لوگ بے فکری سے اپنا دھندہ کرتے رہیں کیونکہ پولیس اس سے کچھ نہیں اگلوا سکی، کہیں سہیل ایاز کی وکٹری کا نشان بھی اس کے باسز کو کوی ایسا ہی اشارہ تو نہیں تھا؟

    یہی تواتر سے پیش آنے والے چند واقعات ہیں جنکی وجہ سے میں اداس ہوں، اوپر سے فورم کا ماحول ایسا کہ ایکدوسرے کے سیاسی رہنماوں کو برے ترین القابات دیئے جارہے ہیں چلو سیاسی لیڈران کی نہیں تو اپنے فورمی دوستوں اور ساتھیوں کی حیا ہی کر لی جاے کہ آپ کی بات سے اس کا دل دکھے گا اور اختلاف بھی کرنا ہو تو مہذب الفاظ کا چناو کیا جاے

    اوپر سے اس فورم پرخواتین کی نمائندگی کرنے والی نادان کو بھی ناراض کردیا گیا ہے، میں کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی کسی کو قائل کرنے کا فن مجھے آتا ہے

    جون ایلیا نے میرے جذبات کی صحیح ترجمانی کی ہے

    وہ جوکہتا تھا کچھ نہیں ہوتا

    اب وہ روتا ہے چپ نہیں ہوتا

    #2
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 701
    • Posts: 7809
    • Total Posts: 8510
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا

    بیلیور بھائی – کچھ ایسی ہی کیفیت سے میں خود گزرتا ہو جب ایسی کوئی خبر نظر سے گزرتی ہے ، میرے دیس کے بچے تک محفوظ نہی ہیں ، ہمارے معاشرے کا یہ ناسور بڑھتا جا رہا ہے – کچھ دن پہلے ایک نو دس سالہ بیٹی کو سنسار کر دیا گیا ، ایک چار سالہ پھول جیسی بیٹی کو مسل کر کنویں میں پھینک دیا گیا

    :cry: :cry:

    #3
    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 345
    • Posts: 7862
    • Total Posts: 8207
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا

    بیلیور بھائی – کچھ ایسی ہی کیفیت سے میں خود گزرتا ہو جب ایسی کوئی خبر نظر سے گزرتی ہے ، میرے دیس کے بچے تک محفوظ نہی ہیں ، ہمارے معاشرے کا یہ ناسور بڑھتا جا رہا ہے – کچھ دن پہلے ایک نو دس سالہ بیٹی کو سنسار کر دیا گیا ، ایک چار سالہ پھول جیسی بیٹی کو مسل کر کنویں میں پھینک دیا گیا :cry: :cry:

    ابھی اسی بچی کی میڈیکل رپورٹ سامنے آی ہے اور میں ڈاکٹرز کی عقل پر ماتم پڑھ رہا ہوں، اس بچی کی پسلیوں ،سر ، جبڑے اور ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوی ہے اور ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ سنگسار کے کوی آثار دکھای نہیں دے رہے، ہاں ریپ چیک کریں گے کہ ہوا یا نہیں، جس معاشرے کا یہ حال ہو اس میں رہنا فضول ہے کسی افریقی ملک کا معاشرہ بھی ان جانوروں سے بہتر ہے جہاں ڈاکٹر بھی اس لیول کے ہوں وہاں بندہ کس سے گلہ کرے

    #4
    Believer12
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 345
    • Posts: 7862
    • Total Posts: 8207
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا

    یہ محض اتفاق نہیں تھا میرا اندازہ تھا کہ دعا کو کسی جیلس عاشق نے نہیں بلکہ بہت خطرناک پروفیشنل گینگ نے اغوا کیا ہے اور یہ بات درست ثابت ہوی کیونکہ جب پورا میڈیا ، پولیس، خفیہ ایجنسیاں حتی کہ فوج کی ایجنسی بھی تحقیق میں لگی ہوی تھیں اس وقت اس گروہ کو کسی کی پرواہ نہیں تھی اور وہ فون کرکے تاوان کی رقم طے کررہے تھے  حتی کہ انہوں نے تاوان لے کر ہی دعا کو چھوڑا اور اس میں پولیس کی بجاے کچھ دوسرے لوگ ملوث کیے گئے تھے جن کے پشاور میں اس گروہ سے مراسم تھے شائد اسی لئے دعا واپس آگئی ورنہ پولیس پر رہتے تو اب تک کچھ بھی نہ ہوا ہوتا

Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!