Thread: عنوانِ انجان

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں عنوانِ انجان

This topic contains 65 replies, has 15 voices, and was last updated by  Qarar 1 year, 10 months ago. This post has been viewed 3478 times

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 66 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    جے ایم پی،  ڈیموکریٹ، زِندہ رُود، شیراز، قرار، انجان اور گھوسٹ پروٹوکول صاحبان۔۔۔۔۔

    نوٹ۔۔۔۔۔ اس تحریر کو لکھتے ہوئے سَبز چائے کی کافی سے زیادہ مقدار، سیاہ کافی کی دو پیالیاں، سَماعتی و ذہنی سکون  کیلئے اَمیر خُسرو کا کلام، مَن کُنتُ مولا فھذا علی مولا، کئی دفعہ سُنا گیا ہے۔۔۔۔۔ ناپسندیدگی کا بٹن دبانے سے پہلے زیادہ قصوروار اِن سارے عوامل کو جانئے گا۔۔۔۔۔

    ۔۔ اس قسم کی گفتگو اکثر سُنی جاتی ہے کہ پہیہ کو واپس ایجاد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔ وہ ایجاد ہوچکا ہے تو اُس سے آگے بڑھ کر کچھ اور ایجاد کیا جائے۔۔۔۔۔

    ۔۔ میری ماں کھانے پکانے کے حوالے سے عموماً پریشر کُکر کے استعمال کے سخت خلاف ہے۔۔۔۔۔ میری ماں اکثر ایک بات کہتی ہے کہ دِھیمی آنچ میں جو پکتا ہے وہ اچھا پکتا ہے اور مزا دیتا ہے۔۔۔۔۔ وہ ایک بات اور بھی کہتی ہیں کہ اگر کسی عورت کو کھانا اچھا پکانا ہو تو پوری توجہ اور لگن کے ساتھ پکانا چاہئے(میری ماں نے یہ بات پاکستان اور عمومی مشرقی گھرانوں کے تناظر میں کہی ہے لہٰذا صِنفی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے والوں سے رَحم اور رِعایت کی درخواست ہے)۔۔۔۔۔

    ۔۔ عموماً اِنقلاب کو اِرتقاء(بتدریجی عمل) کے مخالف(ریوولوشن بمقابلہ ایوولوشن) تصور کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔

    ۔۔ دو ہزار بارہ میں جب پاکستان کے قاضی القضاء حضرت افتخار چوہدری مد ظللہ المعروف ارسلان کے ابو، مسلم لیگ نون، دائمی و مقتدر ادارے اور برادر ججز کے ساتھ مل کر جمہوریت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کررہے تھے تو ایک ٹی وی پروگرام  میں مشہور صحافی افتخار احمد نے ایک بات کہی تھی کہ یہ جو بھی ہورہا ہے صحیح ہورہا ہے۔۔۔۔۔ مجھے اُس وقت افتخار احمد کی بات پسند نہیں آئی تھی یا یوں کہیں کہ سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔

    ۔۔ میرے مرحوم نانا ایک بات اکثر کہتے تھے کہ اگر مَیں بَرتن نہیں توڑتا تو تیری نانی کو کبھی پکانا ہی نہیں آتا۔۔۔۔۔

    ۔۔ ابھی حالیہ ہی عاطف صاحب کے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل کا حادثہ ہوا۔۔۔۔۔ اُس کو کچھ چوٹیں وغیرہ آئیں۔۔۔۔۔

    ۔۔ کسی کو بھی کبھی نصیحت نہیں کرنی چاہئے(ویسے اب یہ مسئلہ ہے کہ یہ بات خود اپنی اَصل میں ہی ایک نصیحت ہے۔۔۔۔ نظریاتی محدودیت کہوں یا پیراڈوکس)۔۔۔۔۔ یا یوں کہیں کہ کسی کو کبھی کوئی کام کرنے کیلئے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔۔۔۔۔

    یہ انتہائی بے رَبط تمہید ہے مگر میری ذاتی رائے میں قوموں یا انسانوں کی زندگی یا اگر کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر کہا جائے تو تہاذیب کی بقاءوفنا کے حوالے سے یہ تمام باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔۔۔۔۔ اوپر بیان کردہ تمام نقاط کے حوالے سے وسیع تناظر میں ایک مشترکہ بات ضرور موجود ہے۔۔۔۔۔

    ابھی کچھ دنوں پہلے ہی کی بات ہے کہ میری سائیکاٹرسٹ(مخالفین خوش نہ ہوں کہ ابھی پُورا پاگل نہیں ہوا ہوں۔۔۔۔۔ البتہ کوشش جاری ہے) سے گفتگو ہورہی تھی اور کہیں سے بے یقینی کی کیفیت کا موضوع آگیا۔۔۔۔۔ خیر جاتے ہوئے اُس نے کاغذ پر اوپر اگلی دفعہ ملنے کا وقت اور مقام لکھا اور نیچے بڑے بڑے حروف میں لکھا۔۔۔۔۔ بے یقینی کی صورتحال میں رہنا(لِونگ وِد اَن سَرٹینٹی)۔۔۔۔۔ میری حسِ مزاح اور چتر زبانی(ٹنگ اِن چیک) سے میرے تمام جاننے والے اچھی طرح واقف ہیں۔۔۔۔۔ چھوٹتے ہی مَیں نے سائیکاٹرسٹ سے پوچھا کہ اوپر جو اگلی دفعہ ملنے کے بارے میں جو جُزئیات لکھی ہیں اُن کو میں بے یقینی کے کھاتے میں ڈالوں یا یقینیت کے زُمرے میں۔۔۔۔۔ خیر جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ ہم سب ہی تمام معاملات میں ایک یقین کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ  میری نظر میں یقین حاصل کرنا ایک طرح کا اختتام ہوتا ہے اور میری نظر میں  سیکھنے کا عمل کبھی اختتام پذیر نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔ اِس سے بھی بڑھ کر میں یہ کہتا ہوں کہ نظریات ہوں یا کوئی بھی معاملہ وہ کبھی بھی مکمل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ یہ یقین حاصل کرنے کی جستجو ہم سے بہت کچھ کرواتی ہے۔۔۔۔۔ بہت سی پابندیاں۔۔۔۔۔ بہت سے قوانین ۔۔۔۔۔ بہت سارے وعدے۔۔۔۔۔ بَرٹرینڈ رَسل کا ایک جملہ میری ذاتی لوحِ محفوظ ہے۔۔۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ کبھی کسی بھی بات پر مکمل یقین یا ایمان نہ لاؤ۔۔۔۔۔

    یہی وجہ ہے کہ میری نظر میں  بحث و مباحثہ میں نظریاتی معاملات کو طے کرنا درست عمل نہیں ہے۔۔۔۔۔ اسی لئے کچھ دِنوں پہلے قدیم ٹیکسلایونیورسٹی میں مباحثوں کی روایت کے بارے میں جو لکھا تھا کہ وہاں علمی معاملات کو طے کر کے ڈبے میں بند نہیں کیا جاتا تھا۔۔۔۔۔ آپ سب لوگ میری مذہبی حیثیت کے بارے میں جانتے ہیں کہ میں ایک ایگنوسٹک ہوں۔۔۔۔۔ اور میں سچ کہوں تو مَیں مذہب کے دائرے سے باہر اِس وجہ سے نہیں نکلا کہ مذہبِ اسلام کی کیا حدود و قیود ہیں، یا دیگر معاملاتِ زندگی پر مذہبِ اسلام کے کیا احکامات ہیں۔۔۔۔ میری نظر میں یہ باتیں تو انتہائی سطحی ہیں۔۔۔۔۔ میری مذہب سے باہر نکلنے کی وجوہات کہیں زیادہ گہری ہیں۔۔۔۔۔ ویسے شیراز صاحب میرے مذہب سے نکلنے  کی وجہ سہل و لچکیلی اخلاقیات کا طعنہ دے کر مجھے مسکرانے پر ضرور مجبور کردیتے ہیں۔۔۔۔۔

    مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم انسانی زندگی کے معاملات میں یقین کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ میری نظر میں اِس کی وجہ کچھ انسانی جذبات ہیں جن پر کبھی موقع ملا تو لکھوں گا۔۔۔۔۔

    دو ہزار سولہ کے وسط میں میری نصرت جاوید سے فون پر بات ہوئی تھی۔۔۔۔۔ وجہ اُس کی یہ تھی کہ اُس وقت نصرت صاحب کی تحاریر ڈونلڈ ٹرمپ کے امیریکہ میں صدر بن جانا، برطانیہ کا یورپی یونین سے نکل جانا اور اسی حوالے سے  پاکستان کی صورتحال پر مبنی تھیں اور اُن تمام تحاریر میں ایک قدر مشترک تھی۔۔۔۔۔ اضطرابی صورتحال یا ہیجان۔۔۔۔۔ وہ اِس اضطراب سے خوفزدہ تھے یا نتائج کے حوالے سے فکرمند تھے۔۔۔۔۔ مَیں اُن سے بات کر کے اُن کے سامنے صرف یہ نقطہ رکھنا چاہ رہا تھا کہ ایسی ہیجان سے پھرپور صورتحال سے گھبرانا کیا معنی رکھتا ہے۔۔۔۔۔ یہ تو ایک اچھا عمل ہے کہ اقوام یا گروہوں کو جو اَسباق ایسی صورتحال میں اٹھائے گئے اقدامات سے ملتے ہیں وہ کہیں اور سے حاصل نہیں ہوسکتے۔۔۔۔۔ کسی کتاب سے نہیں، کسی رہنما یا شخصیت کی نصیحتوں سے نہیں۔۔۔۔۔ اقوام و گروہوں کی ایک عدد اجتماعی یادداشت ہوتی ہے اور اُس یادداشت میں سب سے زیادہ دَیرپا عُنصر ٹھوکر ہوتا ہے۔۔۔۔۔ نصرت صاحب نے اس گفتگو پر ایک کالم بھی لکھ دیا۔۔۔۔۔

    اقوام کی اجتماعی یادداشت کی صِفت کو پاکستان کی حالیہ سیاسی صورحال پر نافذ کریں تو آج آپ کو بہت سارے لوگ پوری دیانتداری کے ساتھ یہ کہتے ہوئے مِل جائیں گے کہ بات صرف مسلم لیگ نون کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے لوگوں کے ذاتی حقِ رائے دہی پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔۔۔۔۔ ارسلان کے ابو کے وقت کتنے لوگ تھے جو ایسی باتیں کہتے تھے۔۔۔۔۔ کافی کم تھے۔۔۔۔۔

    نواز شریف کے ساتھ دو عدد دائمی(ایک زیادہ دائمی ہے۔۔۔۔۔ شکریہ جارج اَوروَیل) اداروں نے مِل کر جو حال کیا ہے کیا اُس درگت کے بغیر ایسا ہوسکتا تھا کہ نواز شریف صاحب کھل کر عوام کے سامنے میمو گیٹ اسکینڈل میں اپنے ملوث ہونے پر معذرت کرتے۔۔۔۔۔ میں نہیں سمجھتا۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے یہ سیاسی معذرت ہو یا پھر سچائی ہو۔۔۔۔۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ اگر نواز شریف کیلئے حالات اچھی طرح سے رواں دواں(اِسموتھ سَیلنگ) ہوتے تو وہ کبھی یہ بات عوام میں کرتے۔۔۔۔۔

    اگر لینن کا انقلاب نہیں آتا اور اُس کے بعد کمیونسٹ پارٹی اپنا طرزِ حکومت نہ دکھاتی تو کیا روس اور دیگر مشرقی یورپ کی ریاستوں کے رہنے والے کبھی سمجھ پاتے کہ بورژوازی مخالف نعرہ لگانے والا ہر شخص پرولتاری خیرخواہ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔

    اسی طرح ایرانیوں کی اجتماعی یادداشت میں بھی مذہبی مُلائیت کے حوالے سے اَسباق درج ہوتے جارہے ہیں۔۔۔۔۔ میرے خیال میں آئندہ وہ بھی مستقبل کے کسی خمینی کے اِستقبال کیلئے مَہرآباد کے ہوائی اڈے پر ٹوٹے نہیں پڑے ہوں گے۔۔۔۔۔

    میں اِس طرح کی ہزاروں مثالیں دے سکتا ہوں لیکن کہنے کامقصد یہ ہے کہ  اجتماعی یادداشت غیر محسوس طریقے سے مستقبل کے فیصلوں پر اثرپذیر ہوتی رہتی آئی  ہے اور ہوتی رہے گی۔۔۔۔۔ لیکن اس کا مطلب یہ قطعاً نہ لیا جائے کہ ایک دفعہ ٹھوکر کھانے کے بعد جو سبق مِلتا ہے وہ کافی ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔ کچھ اقوام اپنی ترکیب میں خاص ہوتی ہیں اور انتہائی ڈھیٹ ہونا وہ اعلیٰ صِفت ہے جو قسمت والوں کو ملتی ہے۔۔۔۔۔

    پہیہ کو واپس ایجاد کرنے والی بات اسی لئے کی گئی تھی کہ سائنسی علوم میں تو پہیہ کو واپس ایجاد کرنے ہر صورت حوصلہ شکنی ہوگی لیکن زیستِ اقوام میں پہیہ کو واپس ایجاد کرنا اکثر اوقات بہت ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوتا کہ یہ سبق صرف دوسروں کو دیکھ کر ہی حاصل کرلیا جائے۔۔۔۔۔

    اگر عاطف صاحب کے بیٹے کے ساتھ حادثہ نہیں ہوتا تو کیا وہ تیزرفتاری سے موٹر سائیکل چلانے کے نقصانات کو سمجھ پاتا چاہے لاکھ اُس کے ماں باپ کہتے رہتے۔۔۔۔۔ اِس حادثے نے اُس بچے کو غیر مجازی طور پر ضرور ایک دماغی چوٹ بھی پہنچائی ہوگی جو اُس کیلئے آئندہ بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔

    اسی طرح میں ایک فرضی صورتحال(اب اتنی بھی فرضی نہیں ہے) سامنے رکھتا ہوں کہ مملکتِ پاکستان میں مارشل لاء(جوڈیشئل ہی سہی) لگ جاتا ہے تو کیا یہ بُری بات ہوگی۔۔۔۔۔ بہت سارے جمہوریت پسند یہ کہیں گے کہ یہ بہت برا ہوا ہے مگر اِس کو ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ کیوں نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سبق سیکھنے کی جانب ایک اور عمل ہے۔۔۔۔۔ مزید بہتری کی طرف ایک اور عمل۔۔۔۔۔ کُندن بننے میں وقت لگتا ہے اور اُس کے بعد بھی مزید کُندن بننے کے لامُتناہی مراحل ہمیشہ موجود رہیں گے۔۔۔۔۔ اب یہاں پر افتخار احمد صاحب کی دو ہزار بارہ میں کہی گئی بات کی سچائی سامنے آتی ہے۔۔۔۔۔ اُس وقت مجھے اُن کی کہی گئی بات سمجھ تو خیر آئی ہی نہیں تھی مگر پسند بھی نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔ مگر آج سوچتا ہوں تو انتہائی واضح طریقے سے سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔ اگر پاکستان کے ساتھ سیاسی لحاظ سے کچھ بُرا ہوتا ہے تو اِس کا مطلب میرے خیال میں یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اتنے جمہوریت پسند نہیں ہیں ورنہ پاکستان میں اتنے مارشل لاء لگتے ہی نہیں یا پسِ پردہ رہ کر ڈوریاں نہیں ہلائی جارہی ہوتیں۔۔۔۔۔ جو اقوام انتہائی  جمہوریت پسند ہوتی ہیں وہ کسی صورت غیر جمہوری عمل کو برداشت نہیں کرتیں۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کوئی یہ گھسا پِٹا جملہ کہے کہ فوج کے پاس ہتھیار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر میں پھر کہوں گا کہ جن اقوام میں آزادی حاصل کرنے انتہائی لگن ہو وہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش میں مَر جاتی ہیں لیکن سمجھوتہ نہیں کرتیں(یہ الفاظ لکھتے ہوئےمجھے صرف ایک شخصیت ذہن میں آرہی ہے۔۔۔۔۔ عاصمہ جہانگیر)۔۔۔۔۔

    جذبات کا خالص ہونا۔۔۔۔۔ یہ میرے دل کے انتہائی قریب ایک موضوع ہے۔۔۔۔۔   شیراز صاحب نے کچھ دنوں پہلے عقائد کے خالص ہونے کی بات کی تھی۔۔۔۔۔ میں اتفاق نہیں کرتا کیونکہ میری نظر میں عقائد خالص نہیں ہوتے البتہ اُن عقائد کیلئے جذبات ضرور خالص ہوسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے میری بات اُن لوگوں کو پسند نہ آئے جو سوشلزم کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ وجہ یہ کہ سوشلسٹ حضرات کی سوچ کی بُنیاد میں ایک انتہائی عجیب و غریب عُنصر ہے کہ انسان اپنی بنیادی سَرشت میں انتہائی معصوم ہے۔۔۔۔۔ اور میری نظر میں یہ وہ عقیدہ ہے جو مسائل ِ سوشلزم کی جڑ ہے۔۔۔۔۔ چونکہ میں اپنے آپ کو سیاسی لحاظ سے لِبرٹیرئنزم سے قریب پاتا ہوں تو ہوسکتا ہے کہ غلط دیکھ رہا ہوں مگر بہرحال یہ میری رائے ہے۔۔۔۔۔ کہنا یہی ہے کہ جن اقوام کی جمہوریت سے محبت خالص شکل میں ہوتی ہے وہ جمہوریت کی خاطر سب کچھ کر گذرتی ہیں۔۔۔۔۔

    اسی طرح لوگ انقلاب کی بھی بہت بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔ انتہائی سیاسی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد تو خاص طور پر۔۔۔۔۔ مگر میرے خیال میں انقلاب بھی شاید ایک طرح کی اوورٹیکنگ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ جس طرح اوور ٹیک کرنے کیلئے آپ کو اپنی گاڑی کی رفتار بڑھانی پڑتی ہے اور پھر اوورٹیک کرنے کے بعد آپ واپس پرانی رفتار میں آجاتے ہو۔۔۔۔۔ لیکن ارتقاء تو پورا سفر ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اوورٹیکنگ اُس پورے سفر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اسی لئے میرا سمجھنا یہ ہے کہ انقلاب بھی تدریجی عمل کا ہی حصہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ریاضی کی اِصطلاح میں کہوں تو انقلاب بھی اِرتقاء کا سَب سَیٹ ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔

    ۔(اوور ٹیکنگ اور پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک مشاہدہ میں کبھی نہیں بھول پاتا۔۔۔۔۔ جنرل مشرف کے مارشل لاء کے کچھ عرصہ ہی بعد کی بات ہے، مَیں  اُس وقت پاکستان میں تھا۔۔۔۔۔ وہاں پر اُس زمانے میں کاروں کے پچھلے شیشوں پر مختلف اسٹکرز لگانے کا رِواج تھا جو کہ زیادہ تر مشہور جامعات اور کالج کے ہوتے تھے۔۔۔۔۔ ایک کار کے پیچھے جو اسٹکر لگا ہوا تھا اُس  پر انتہائی کمال کی عبارت لکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ وِی ڈونٹ اوورٹیک، وِی ٹیک اوور۔۔ پاکستان آرمی)۔

    اب ہوسکتا ہے کہ آپ لوگ یہ کہیں کہ اگر پاکستان کے دائمی اداروں کی جانب سے کئے جارہے اِن ڈھکے چھپے غیر جمہوری اقدامات کو نہ روکا جائے تو مُلک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔۔۔۔۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑجاتی ہے۔۔۔۔۔ تو میں صرف دو الفاظ میں جواب دوں گا جو بظاہر تو آپس میں غیر متعلقہ لگتے ہیں مگر اِس معاملے میں بہت متعلقہ ہیں ۔۔۔۔۔ اِنصاف اورخواہش۔۔۔۔۔ اِن دونوں الفاظ پر غور کرلیں، آپ کو جواب مِل جائے گا۔۔۔۔۔

    مندرجہ بالا بیکار سی تحریر لکھنے کا خیال مجھے یوں آیا کہ لوگوں کا سیاسی حرکیات کے حوالوں سے پریشان ہوجانا اور کچھ عرصہ پہلے قرار صاحب کی جانب سے ابراہام لِنکن کا ایک قول لگانا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ کسی بھی بُرے قانون کو ختم کرنے کا سب سے بہترین طریقہ اُس قانون کو سو فیصد نافذ کرنا ہے۔۔۔۔۔

    کچھ بارے انجان کے۔۔۔۔۔

    ہوسکتا ہے بہت سوں کو یہ بات عجیب لگے کہ اِس لڑی کی ابتداء میں جن سات احباب کا نام لکھا گیا ہے اُن میں کَم بَخت انجان یہاں کررہا ہے جب کہ باقی چھ کا شمار تو محلہِ دانشگردی کے زُود وزنی پہلوانوں(ہیوی ویٹ) میں ہوتا ہے مگر میرا یقین کیجئے کہ میری نظر میں انجان صاحب کے پاس جو بَرمحل تخیلاتی قوت، معلومات اور حسِ مزاح ہے اس کا تقابل تو اِس بیٹھک میں  مجھ سمیت کسی اور لکھنے والے سے ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔ بس سمجھ لیں کہ ہیرے کی قدر جوہری ہی پہچانتا ہے۔۔۔۔۔

    کچھ بارے عُنوانِ انجان کے۔۔۔۔۔

    اِس لڑی کا عنوان مجھے واقعی سمجھ نہیں آرہا تھایا یوں کہہ لیں کہ علم نہیں ہو پا رہا تھا مگر ایک دو دن پہلے انجان صاحب  نے ایک نقطہ اٹھایا تھا کہ انجان کا مطلب عِلم کا نہ ہونا ہے،  اور الفاظ سے کھیلنا میرے لئے زندگی کی بہترین نعمتوں میں سے ایک ہے، لہٰذا اِس لڑی کا عُنوان ، انجان کے علاوہ اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔ سو فیصد ایمان کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔

    پسِ تحریر۔۔۔۔۔

    شروع میں جن احباب کے نام لکھے گئے ہیں وہ ذرا بھی علمی فضیلت کے معیار سے نہیں لکھے گئے ہیں اور یہ قطعاً قطعاً نہ سمجھا جائے کہ گھوسٹ پروٹوکول صاحب نکمے پن میں انجان سے بھی ایک درجہ نیچے ہیں۔۔۔۔۔

    مزید پسِ تحریر۔۔۔۔۔

    میری اس تحریر میں ایک بہت واضح سنجیدہ و علمی تضاد ہے جو ڈھونڈ لے گا اُس کو دانشگردی نِیلام گھر کے طارق عزیز(سیٹھ عاطف) کی جانب سے سوزوکی ایف ایکس کی چابی دی جائے گی۔۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔۔

    • This topic was modified 1 year, 11 months ago by  BlackSheep.
    #2
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    میری مودبانہ درخواست ہے کہ اِس تھریڈ میں مذہبی بحث نہ کیجئے۔۔۔۔۔ مزید یہ کہ  اس لڑی پر غیر متعلقہ یَک سَطری تبصروں مثلاً ہائے اللہ آج مَیں نے کھانا زیادہ ٹھونس لیا۔۔۔۔۔ مِرزا جی جلدی سے کوئی دوائی بتائیں(مادام مَیں آپ کے بارے میں ہی سوچ رہا ہوں)، سے پرہیز کرلیا جائے تو مَیں تمام عُمر کے قرض میں ہوں گا۔۔۔۔۔

    :)   ;-)   :)

    • This reply was modified 1 year, 11 months ago by  BlackSheep.
    #3
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: عنوانِ انجان

    پہلے سوال کروں یا تبصرہ درکار ہے؟

    BlackSheep

    • This reply was modified 1 year, 11 months ago by  Shiraz.
    #4
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    پہلے سوال کروں یا تبصرہ درکار ہے؟

    سرِ تسلیمِ خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔۔۔۔۔

    #5
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: عنوانِ انجان

    سرِ تسلیمِ خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔۔۔۔۔

    زیست کی تکوین اور ماہیت بارے اب تک کا گمان صرف اتنا ہے کہ

    نامعلوم معلوم میں بدل کر بھی نامعلوم رہتا ہے

    خیال ہمیشہ علم سے ایک قدم آگے رہتا ہے

    (یعنی خیال علم کا پیش رَو)

    دیوتاؤں کی پھر سے خوشنودی حاصل کرنا

    اور زندگی کی اُدھڑی بکھری ترتیب پھر سے استوار کرنا

    ناممکنات میں سے ہے

    ٹینی سن کی لوٹس ایٹرز پڑھ چکے ہو تو ایک بار پھر سے پڑھو، اوپر والی تین سطور اسی نظم کے ایک شعر کا ایک واجبی سا ترجمہ ہے

    اب سوال: انسان کے ساتھ یہ جو ایک متعیّن وقت کی مجبوری ہے اسے کسی لنگر، کسی کھونٹے کی ضرورت ہے یا نہیں؟

    (جواب دیتے وقت ذہن میں رہے کہ ریلیٹوٹی کے پیچھے آئن سٹائن کی گواہی ہے)

    مجھے بھی احساس ہے کہ درج بالا لفظوں میں بہہت سی تجرید ہے لیکن اس لڑی کا مزاج طے کرنے کے سزاوار بھی آپ ہی ہو

    #6
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    اب سوال: انسان کے ساتھ یہ جو ایک متعیّن وقت کی مجبوری ہے اسے کسی لنگر، کسی کھونٹے کی ضرورت ہے یا نہیں؟

    (جواب دیتے وقت ذہن میں رہے کہ ریلیٹوٹی کے پیچھے آئن سٹائن کی گواہی ہے)

    شیراز صاحب۔۔۔۔۔

    میں نے لوٹوس اِیٹرز نہیں پڑھی۔۔۔۔۔ آپ کہتے ہیں تو پڑھتا ہوں۔۔۔۔۔ ویسے اگر مجھے پڑھا لکھا سمجھتے ہیں تو غلط سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔ میں بالکل بھی پڑھا لکھا نہیں ہوں۔۔۔۔۔

    جب مَیں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو مجھے اندازہ تھا کہ میں اِس تحریر میں ایک انتہائی اہم عُنصر، وقت، پر بات نہیں کررہا ہوں۔۔۔۔۔ میں نے سوچا تھا کہ بہت بعد میں جا کر تبصروں میں اِس پہلو پر توجہ دوں گا۔۔۔۔۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عُنصرِ وقت کا تعلق جو میرے ذہن میں بَن رہا تھا اُس کا بہت قریبی تعلق کچھ انسانی جذبات سے ہورہا تھا۔۔۔۔۔ اور اُن انسانی جذبات کے متعلق میں بعد میں لکھوں گا۔۔۔۔۔

    جہاں تک آپ نے آئن اسٹائن کی گواہی کے بارے میں بات کی تو صرف اِتنا کہوں گا کہ آپ مجھے ابھی تک ذرا بھی جانتے نہیں ہیں۔۔۔۔۔ یہ پَرتیں بھی وقت کے ساتھ ہی کُھلیں گی۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 11 months ago by  BlackSheep.
    #7
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 140
    • Posts: 4508
    • Total Posts: 4648
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: عنوانِ انجان

    بلیک شیپ صاحب،
    آپ کو بھی یہ دھاگہ پیر کو ہی شروع کرنا تھا . آج آڈیٹرز نے پہلے ہی کافی دماغ کھایا تھا فورم کا رخ کیا تاکہ کچھ تفریح ہوجاے قسم سے میرا تو دماغ ہی گھوم گیا

    #8
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 126
    • Posts: 2482
    • Total Posts: 2608
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: عنوانِ انجان

    بلیک شیپ صاحب

    شاید آپ نے سنا ہو ” انسان کی زندگی میں ناکامی نام کی کوئی چیز نہیں صرف سبق ہیں جو اگر انسان نہیں سیکھتا تو تاریخ انہیں دوہراتی رہتی ہے ”
    مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈستا- اب وقت اہ گیا ہے کہ قوم فیصلہ کر لہ کے اس نے غیر سیاسی قوتوں کو اگلے الیکشن میں ناک اوٹ کرنا ہے ورنہ ایک ہی عمل بار بار کر کے مختلف نتیجے کی امید بیوقوفی ہے – نواز نظریاتی نہیں مگر اب ایک نظریہ پر کھڑا ہے اور وو ہے سول سپرمیسی – کٹھ پتلیوں کا کھل اب ختم ہونا چاہے – اگلا الیکشن اہم ہے کے عوام کے اجتماہی شھور کا پتا چلے گا – انفرادی کوشش کے انقلاب کے بغیر مجموہی قومی شھور ایک ٹیسٹ کیس ہو گا ہماری آگے کی جمہوری سمت کے تیہاں کے لیے – محزرت آپ کے ٹوپک کو کسی اور سمت لے گیا مگر یہ آپ کےٹوپک کا ایک نقطہ تھا –

    #9
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 16
    • Posts: 2060
    • Total Posts: 2076
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: عنوانِ انجان

    مجموعی طور پر آپ کی تحریر کے مرکزی خیال سے کافی حد تک متفق ہوں، قوموں کا سیکھنا ایک ارتقائی عمل ہے، قومیں اپنے ذاتی تجربات سے ہی سیکھ سکتی ہیں، دوسروں کے ارتقائی عمل سے سیکھے گئے سبق کو کاپی پیسٹ کرکے شارٹ کٹ نہیں مار سکتیں، انہیں اپنا ارتقائی سفر خود ہی طے کرنا ہوتا ہے،  گرنا، ٹھوکر کھانا بھی ضروری بلکہ ناگزیر ہے کہ گریں  نہیں تو سنبھلنا کیسے سیکھیں، مگر بہت سے نکات غور طلب ہیں۔ گرنا کیا ہے؟ کسی قوم کے لئے کونسی ٹھوکر، کس حد تک کارگر ہے؟ کیا پچھلے تین چار مارشل لاء قوم کے لئے ٹھوکر کی حیثیت رکھتے بھی ہیں یانہیں؟ کیا ان کو گرنے کے معنوں میں لیا جاسکتا ہے؟ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، پاکستان میں جمہوریت ہو یا آمریت ایک عام آدمی کے لئے ان کا فرق واضح نہیں ہے، یا یوں کہہ لیجیے کہ ایک عام آدمی ہر دو صورتوں میں اپنی زندگی پر کوئی خاص فرق محسوس نہیں کرتا۔۔جب مارشل لاء لگتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے، شاید تبدیلی کی وجہ سے یا پھر اپنے حالات بدلنے کی موہوم سی امید کی بنا پر، پھر مارشل لاء ختم ہونے کی تحریک چلتی ہے، تب بھی وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، اس لئے نہیں کہ اس کو آمریت اور جمہوریت کا فرق سمجھ آگیا، بلکہ وہی پرانی خواہش کی بنا پر، تبدیلی کی خواہش، اپنے حالات بہتر ہونے کی امید وغیرہ وغیرہ۔۔۔  

    اقوام کی اجتماعی یادداشت کی صِفت کو پاکستان کی حالیہ سیاسی صورحال پر نافذ کریں تو آج آپ کو بہت سارے لوگ پوری دیانتداری کے ساتھ یہ کہتے ہوئے مِل جائیں گے کہ بات صرف مسلم لیگ نون کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے لوگوں کے ذاتی حقِ رائے دہی پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔۔۔۔۔ ارسلان کے ابو کے وقت کتنے لوگ تھے جو ایسی باتیں کہتے تھے۔۔۔۔۔ کافی کم تھے۔۔۔۔۔

    فرض کریں نواز شریف کی جگہ زرداری ہو، اور حالات بھی وہی ہوں جو زرداری کے دور میں تھے کیا تب بھی لوگ یہی دیانتدارانہ رائے دیں گے کہ بات صرف پیپلز پارٹی تک محدود نہیں، لوگوں کے ذاتی حق رائے پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔۔ ؟

    پاکستان جیسے معاشروں میں جہاں لوگوں کی اکثریت ساری زندگی خطِ غربت سے اوپر نیچے اور درمیان ہوتے گزار دیتی ہے، وہاں اجتماعی سوچ کا جنم لینا بہت مشکل ہے، لوگ ساری زندگی بنیادی مسائل سے ہی باہر نہیں نکل پاتے۔ ان کو کیا کہ ملک میں جمہوریت ہے یا آمریت، اقتدار فوج کے ہاتھ میں ہے یا سیاستدانوں کے ہاتھ میں۔۔ یہ غورو فکر، سیاسی ، عسکری، معاشی، سماجی معاملات کی گتھیاں سلجھانا تو آسودہ حال لوگوں کا کام ہے، اپنی زندگی کے بنیادی حقوق کے لئے نبرد آزما لوگوں سے اس بار اٹھانے کی توقع رکھنا عبث ہے۔  ذرا ایمانداری سے جائزہ لیجیے، آج بھی اگر مارشل لاء لگ جائے تو کتنے لوگ اس کی مخالفت کرنے کے لئے باہر نکلیں گے، یا کتنے لوگ سمجھیں گے کہ ان کی زندگی پر کوئی فرق پڑا ہے۔۔ ہم لاکھ جمہوریت پسند ہوں، آمریت مخالف ہوں، لیکن زمینی حقیقت تو یہی ہے۔۔۔ تیسری دنیا کے غربت زدہ ممالک کا یہی المیہ ہوتا ہے، کہ بدحال اور بے حال عوام اپنے انفرادی مسائل میں غرقاب رہتی ہے اور ایک شاطر طبقہ ان کے استحصال میں مصروف رہتا ہے۔

    میرے خیال میں کسی بھی معاشرے کے فکری ارتقائی سفر کی رفتار اس کی معاشی آسودہ حالی سے جڑی ہوئی ہے، معاشی آسودگی ہی انسان کو صحیح اور غلط کی پہچان پر غور کرنے کا وقت دیتی ہے۔ ایک عسرت زدہ معاشرے کے  یہ موضوع ہیں ہی نہیں۔

    میری رائے میں انسان کے لئے آزادی اظہار رائے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ہوا، پانی اور خوراک۔۔ جس معاشرے میں اظہارِ رائے کی آزادی نہ ہو، اس میں انسان گھٹ کر مرجاتا ہے۔ آمریت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کی آواز بند کی جاتی ہے، گلہ دبایا جاتا ہے۔ لیکن ذرا پاکستانی عوام میں جا کر پوچھیں کہ کتنے لوگوں کے لئے آزادی اظہار رائے اہم ہے یا یہ کوئی چیز بھی ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کے لئے یہ کوئی قابلِ ذکر چیز ہی نہیں ہے۔ پھر ان کے لئے آمریت اور جمہوریت کا فرق کیا واضح ہوگا۔۔

     تو ایک اچھا عمل ہے کہ اقوام یا گروہوں کو جو اَسباق ایسی صورتحال میں اٹھائے گئے اقدامات سے ملتے ہیں وہ کہیں اور سے حاصل نہیں ہوسکتے۔۔۔۔۔ کسی کتاب سے نہیں، کسی رہنما یا شخصیت کی نصیحتوں سے نہیں۔۔۔۔۔ اقوام و گروہوں کی ایک عدد اجتماعی یادداشت ہوتی ہے اور اُس یادداشت میں سب سے زیادہ دَیرپا عُنصر ٹھوکر ہوتا ہے

    بدقسمتی سے ہماری قوم کی اجتماعی یادداشت میں کنفیوژن بہت ہے، کلیئرٹی کے لئے ایک جاندار قسم کی ٹھوکر چاہیے۔۔ وگرنہ یہ مارشل لائی ادوار اس قوم کے لئے چھوٹی موٹی ٹھوکروں (یا شاید اس سے بھی کم تر) سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔۔۔ 

    • This reply was modified 1 year, 11 months ago by  Zinda Rood.
    #10
    Jack Sparrow
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 12
    • Posts: 585
    • Total Posts: 597
    • Join Date:
      3 Dec, 2016

    Re: عنوانِ انجان

    يہ اگنوسٹک ابھی ناتمام ہے شايد
    کہ آرہی ہے دما دم صدائے ‘کن فيکوں’

    #11
    Democrat
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 47
    • Posts: 1312
    • Total Posts: 1359
    • Join Date:
      17 Oct, 2016

    Re: عنوانِ انجان

    اتنے پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان اپنی منتشر سوچ کو الفاظ میں ترتیب  دے دینا سہل نہیں لیکن پھر بھی کوشش کرتا ھوں کمی کوتاھی ھو تو اسے میری لاعلمی ھی تصور کیا جائے جو بالکل حقیقت ھے

    میری رائے میں تو ارتقاء کا عمل ھمیشہ سے جاری ھے اور میں اسے متفق ھوں کہ ھر گزرا لمحہ آپکو منزل کے قریب تو کرتا ھے لیکن کیا اس منزل کا تعین ھونا پہلے سے ضروری نہیں

    کیا ھماری قوم ان گزری دھائیوں میں اپنی منزل کا تعین کر سکی ھے اور اگر کر لیا ھے تو اسکے حصول کیلئے انہیں مزید کتنی ٹھوکریں درکار ھیں

    ترکی کی مثال ھمارے سامنے ھے انکی اور ھماری سیاسی تاریخ اور جدوجہد میں کچھ زیادہ فرق نہیں لیکن آج وہ کم از کم اپنی منزل کا تعین کر چکے ھیں اور اب انکا سفر اسی منزل کی طرف جاری وساری ھے

    اور اگر ابھی تک ھماری قوم شش وپنج میں مبتلا ھے جو کہ حقیقت کے زیادہ قریب ھے تو یہ ارتقائی سفر اپنی منزل کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ھو سکے گا،سفر رکے گا تو نہیں یہ تو یقین ھے لیکن اسکی منزل نامعلوم ھو گی

    اسکے علاوہ بہت سے دوسرے عوامل جیسے میڈیا ،تعلیم اور معاشی حالت اھم کردار ادا کرتے ھیں اور میری رائے میں میڈیا زھن سازی تو کرتا ھے ،منزل کا تعین کرنے میں مددگار بھی ھوتا ھے لیکن قوم کی معاشی حالت سب سے اھم کردار ادا کرتی ھے

    جس کے پاس کھانے پینے کو اشیاء نہ ھوں اسکی بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ھورھی ھوں اسکی سوچ کا محور اور ارتقائی سفر اپنے پیٹ کے اردگرد ھی ھوتا رھتا ھے وہ ان سے جان چھڑائے تو پھر انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف سفر کرے

    کیا ھمیں اپنی قوم میں کہیں اجتماعیت نظر اتی ھے

    اب بات یہ ھے کہ معاشی خود کفیلی علم وھنر سے جڑی ھے اور علم وھنر حاصل کرنے کو وسائل نہیں اور ریاست اپنی بنیادی زمہ داریوں سے ھٹ چکی ھے ،رہنما جس منزل کی طرف اشارہ کرتے ھیں اس بارے انہیں خود بھی یقین نہیں تو جو موجودہ حالات ھیں ستر سال تو کچھ بھی نہیں ھو سکتا ھے اگلے سو سال بھی یہ سفر ایسے ھی جاری رھے اور منزل نامعلوم۔۔۔۔۔۔

    #12
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    يہ اگنوسٹک ابھی ناتمام ہے شايد

    کہ آرہی ہے دما دم صدائے ‘کن فيکوں’

    مسٹر جیک اسپیرو۔۔۔۔۔

    بہت عمدہ۔۔۔۔۔ بہت ہی عمدہ۔۔۔۔۔

    یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

    کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون

    میرا ایک انتہائی پسندیدہ شعر۔۔۔۔۔

    اقبال کی شاعری پر بَس سَر دُھنتے رہو۔۔۔۔۔ ایسا تخیل اور ایسی ہم آہنگی۔۔۔۔۔ بہت ہی کم نظر آتی ہے۔۔۔۔۔

    شاعری کا اچھا ہونا اور شاعری کا پیغام دو قطعاً مختلف پہلو ہیں۔۔۔۔۔ عموماً مذہب دشمن حضرات اس باریک سے فرق کو بالکل ہی نظرانداز کربیٹھتے ہیں اور اقبال کیلئے بطور شاعر بھی طعن فرما ئی کرتے ہیں۔۔۔۔۔ لیکن دوسری طرف عموماً مذہب پرست حضرات بھی اشعارِ اقبال کے پیغام کو الوہی ہدایت سَمجھ کر نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کاشغر کے درمیان گھوڑے دوڑانے کے خواب دیکھ کر رات دن تمام کرتے ہیں۔۔۔۔۔

    اُردو زبان میں غالب کے بعد اگر کوئی شاعر آتا ہے تو وہ اقبال ہے۔۔۔۔۔

    میرے خیال میں اقبال کی شاعری، غالب کی شاعری سے ایک جہت زیادہ لئے ہوئے ہے کہ اقبال کا پیغام بہت نمایاں و واضح ہے جبکہ غالب کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔

    میری رائے میں اقبال ایک بڑا پرندہ تھے اور پنجرہ انہوں نے چھوٹا منتخب کیا۔۔۔۔۔ یا یوں کہہ لیں کہ فقط مَیں نے چاہا تھا کہ یُوں ہوجائے۔۔۔۔۔

    مگر جو ہوتا ہے صحیح ہوتا ہے۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 11 months ago by  BlackSheep.
    #13
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 157
    • Posts: 7439
    • Total Posts: 7596
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: عنوانِ انجان

    میرے خیال میں ارتقاء کے عمل کیلئے آس پاس کا ماحول اور ایک ہی نقطے تک اجتماعی یکسوئی بہت اہم ہے۔ آپ کی تمام تر پیش کی گئی مثالیں انفرادی یا یوں کہہ لیں کہ ان لوگوں سے متعلق ہیں جو کسی ایک نقطے پر متفق ہیں لیکن (برائے مثال) پاکستان میں ارتقا کا عمل جامد ہے۔ یہاں کسی بھی معاملے میں رائے عامہ کو تقسیم کرنے کیلئے باقاعدہ پروپیگنڈہ فیکٹریاں تشکیل دی جاتی ہیں تاکہ قوم یکسو نہ ہوسکے۔ ملالہ کا معاملہ ہو۔ عافیہ صدیقی، ڈرون حملے، افغانستان میں مداخلت، ہمسائیوں سے اچھے تعلقات وغیرہ ان سب کو متنازعہ بنانے کیلئے باقاعدہ جدوجہد کی جاتی ہے۔ ہینگ پارلیمنٹ والا حساب ہےاور شائید یہی وجہ شارٹ کٹ یعنی انقلاب کیلئے کوئی جذبہ پیدا نہ ہوسکنے کی بھی ہے۔

    ایک بات اور بھی ذہن میں آئی کہ ارتقاء بلاشبہ ایک طویل عمل ہے لیکن اگر اوور ٹیکنگ نہ کی جائے یا فوری قدم نہ اٹھایا جائے تو مشرقی پاکستان کے سقوط جیسے سانحات جنم لیتے ہیں جن کا مداوا ممکن نہیں۔ پاکستانی قوم اگر کبھی مستقبل میں جمہوریت کیلئے جان کی بازی لگادینے والی (ناممکن) اہلیت پیدا کربھی لے تب بھی اس سفر میں ہوئے نقصان کا ازالہ کبھی نہیں کرپائے گی۔۔

    #14
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    مشرقی پاکستان کے سقوط جیسے سانحات

    یہ سانحہ کیسے ہے۔۔۔۔۔

    #15
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 157
    • Posts: 7439
    • Total Posts: 7596
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: عنوانِ انجان

    یہ سانحہ کیسے ہے۔۔۔۔۔

    سانحہ تو ہر وہ ناکامی ہے جو آپ نہیں چاہتے لیکن وقوع پذیر ہوجاتی ہے۔ اسی تناظر میں لیں تو بات واضح ہو۔

    #16
    Democrat
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 47
    • Posts: 1312
    • Total Posts: 1359
    • Join Date:
      17 Oct, 2016

    Re: عنوانِ انجان

    • میرے خیال میں ارتقاء کے عمل کیلئے آس پاس کا ماحول اور ایک ہی نقطے تک اجتماعی یکسوئی بہت اہم ہے۔ آپ کی تمام تر پیش کی گئی مثالیں انفرادی یا یوں کہہ لیں کہ ان لوگوں سے متعلق ہیں جو کسی ایک نقطے پر متفق ہیں لیکن (برائے مثال) پاکستان میں ارتقا کا عمل جامد ہے۔ یہاں کسی بھی معاملے میں رائے عامہ کو تقسیم کرنے کیلئے باقاعدہ پروپیگنڈہ فیکٹریاں تشکیل دی جاتی ہیں تاکہ قوم یکسو نہ ہوسکے۔ ملالہ کا معاملہ ہو۔ عافیہ صدیقی، ڈرون حملے، افغانستان میں مداخلت، ہمسائیوں سے اچھے تعلقات وغیرہ ان سب کو متنازعہ بنانے کیلئے باقاعدہ جدوجہد کی جاتی ہے۔ ہینگ پارلیمنٹ والا حساب ہےاور شائید یہی وجہ شارٹ کٹ یعنی انقلاب کیلئے کوئی جذبہ پیدا نہ ہوسکنے کی بھی ہے۔ ایک بات اور بھی ذہن میں آئی کہ ارتقاء بلاشبہ ایک طویل عمل ہے لیکن اگر اوور ٹیکنگ نہ کی جائے یا فوری قدم نہ اٹھایا جائے تو مشرقی پاکستان کے سقوط جیسے سانحات جنم لیتے ہیں جن کا مداوا ممکن نہیں۔ پاکستانی قوم اگر کبھی مستقبل میں جمہوریت کیلئے جان کی بازی لگادینے والی (ناممکن) اہلیت پیدا کربھی لے تب بھی اس سفر میں ہوئے نقصان کا ازالہ کبھی نہیں کرپائے گی۔۔

      ارتقاء کا عمل تو کوئی نکتہ مشترکہ ملے یا نہ ملے چلتا ھی رھے گا نقصان اتنا ھو گا کہ جب تک کسی ایک نقطے یا اصول پر متفق نہ ھوئے اس عمل کو سمت نہیں ملی گی اور قوم یا افراد مزید تقسیم در تقسیم ھوتے چلے جائیں گے

    جہاں تک انقلاب کی بات ھے اسکے لئے جو بنیادی اجزاء درکار ھوتے ھیں وہ پاکستانی معاشرے میں بحیثیت قوم ناپید ھیں یا دوسرے الفاظ میں اسے اسطرح بھی کہا جا سکتا ھے کہ کوئی ایسی تحریک جو ظلم وجبر وناانصافئ کے خلاف کھڑی ھونے کی کوشش کرے اسے طاقتور حلقے جوان ھونے سے قبل ھی دبوچ کر اسکی ھیئت تبدیل کر کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لیتے ھیں اور اگر ایسا ممکن نہ ھو تو اقتدار واختیار مختصر عرصے کیلئے قوم کے حوالے کرکے اپنی مستقبل کی چالوں کیلئے سر جوڑ کے بیٹھ جاتے ھیں

    اب ایسے ماحول میں ایک حقیقی انقلاب کیسے برپا ھو

    ارتقاء کے اس سفر کا اتنا تو فائدہ ھوا کہ قوم کا ایک طبقہ  آخرکار یہ جان گیا کہ انکے مسائل کا اصل زمہ دار کون ھے لیکن ابھی تک کوئی ایسا رھبر نہیں ملا جو قوم کو اصل آزادی کے مفہوم سے آشنا کروا سکے اور ارتقاء کے اس عمل کو اسکے اگلے درجے تک بغیر کوئی سمجھوتہ کیئے پہنچا سکے

    #17
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    ایزی گو صاحب۔۔۔۔۔

    معذرت کہ مجھے آپ کا نام اِس لڑی میں لکھنا یاد نہیں رہا۔۔۔۔۔

    اِسی لئے کہتا ہوں کہ آنکھ سے دور نہ ہوا کریں، کہیں دِل سے ہی نہ اُتر جائیں۔۔۔۔۔۔

    ;-)

    #18
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2360
    • Total Posts: 2375
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: عنوانِ انجان

    ارتقاء کے اس سفر کا اتنا تو فائدہ ھوا کہ قوم کا ایک طبقہ آخرکار یہ جان گیا کہ انکے مسائل کا اصل زمہ دار کون ھے لیکن ابھی تک کوئی ایسا رھبر نہیں ملا جو قوم کو اصل آزادی کے مفہوم سے آشنا کروا سکے اور ارتقاء کے اس عمل کو اسکے اگلے درجے تک بغیر کوئی سمجھوتہ کیئے پہنچا سکے

    ڈیموکریٹ صاحب۔۔۔۔۔

    کیا آپ کی نظر میں عوام کے اوپر بھی کسی قسم کی ذمہ داری آتی ہے۔۔۔۔۔

    #19
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: عنوانِ انجان

    بات پاکستانی معاشرے (اگر ایسی کوئی اکائی  وجود رکھتی ہے تو) کے سیاسی شعور اور جمہوری ارتقا کی طرف مڑ گئی ہے

    میں شعوری کوشش سے اس موضوع سے بچتا ہوں ایسا نہیں ہے کہ اس موضوع کی اہمیت نہیں ہے، بالکل ہے، معاشرے کی اصلاح و فلاح کیلئے اس سے بہتر وظیفہ و عمل کوئی نہیں ہے اور پھر تمام انبیاء اور مصلحین کا یہ پیشہ اور میراث رہی ہے، لیکن ہمارے ملک کے تناظر میں معدودے چند استثنیات کے ساتھ معاشرے کے اسفل و ارذل لوگ اسے کاروبار سمجھ کر اس کام میں لگے ہوئے اور انہوں نے اس پیشے کو ہی گالی بنا دیا ہے اسلئے اس موضوع پر آجکل کے سیاستدانوں کے حوالے سے کسی بھی تناظر میں ایک عمومی بات کرنا بےفائدہ، وقت کا زیاں اور ایک لایعنی مشق بن کر رہ گیا ہے اور اس کی وجوہات ہیں

    زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے، ماضی قریب کو ہی دیکھ لیتے ہیں، ماضی کو بھلا کر میثاقِ جمہوریت پر دستخط ہوئے تھے، شریف برادران پر خلوص وعدوں اور نعروں کے  ساتھ ایک نئی ابتدا کرنے آئے تھے، احمقِ اعظم نے اکتوبر 2011 کے جلسے سے  1967 ایک بعد ایک نئی امید دلائی تھی، لیکن زردای کے لالچ، شریفوں کا جاگیر چھن جانے کا خوف، احمق کی جلد بازیوں غرضیکہ ہر بڑے کردار کی نفسا نفسی (کل سے/مستقبل سے نا امیدی) نے ہمیں 7-8 سال میں ہی سیاسی و جمہوری حوالے سے پہلے سے بھی بد تر صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے اور جی ایچ کیو کی گرفت مضبوط تر۔

    اس حقیقت نما تجزیے سے دو بڑے اور اہم سبق بڑی آسانی سے اخذ کئے جا سکتے ہیں، ایک: رہنمائی کے دعویداروں کی نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی ایسا کچھ ان کے کردار میں نظر آتا ہے سب کے سب موقع پرست اور ذاتی/خاندانی/گروہی اور وقتی مفادات کے  اسیر ہیں۔ دو: درج بالا شخصی و ذاتی برائیوں سے بڑھکر جو چیز قتلِ امید کا باعث بنتی ہے وہ شخصی آزادی اور خوداری کی کمی ہے، سب کے سب غلام، سب کے سب پُتلیاں۔ کوئی کل پُتلی تھا تو کوئی آج پُتلی پے، اور آپ میں سے کون ہے جو اپنے بیان/بات کا پاس کرنے والا ہے اور پورے شرحِ صدر کے ساتھ ان میں سے کسی ایک سیاستدان کے گارنٹی دے سکے کہ وہ اپنے ماضی کو نہیں دہرائے گا اور وقت پڑنے پر دوبارہ پُتلی نہیں بنے گا؟

    اور اسکی بھی وجوہات ہیں، جی ایچ کیو کے جرنیلوں کا ریاست ہی نہیں ریاست کی سیاست پر بھی اجارہ ہے، ایک ادارے کی حیثیت اور اس ریاست کے مالک کی حیثیت سے ان کے پاس بے پناہ وسائل ہیں وہ منظم اور پیشہ ور (اپنے اصلی کام کا ان کو ککھ پتا نہیں ہے اور اس میں انکی ناکامی مطلق ہے) ہیں، ان کی ہر سیاسی حکمتِ عملی کے پیچھے تحقیق اور غوروفکر ہوتے ہیں اور سب سے بڑھکر وہ موجودہ سیاستدانوں کی اوقات (اخلاق، کردار، نفسیات اور قیمت) اچھی طرح جانتے ہیں

    ایک اور پہلو بھی پیشِ نظر ہے، جو طرز اور انداز جی ایچ کیو کی موجودہ حکمتِ عملی کا پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے نظر آ رہا ہے وہ کسی بڑے منصوبے اور مقصد کا پتا دے رہا ہے (الطاف کی ایک تقریر کو بنیاد بنا کر انہوں نے کس آسانی، مہارت اور چابکدستی (کلینیکل پریسیژن) سے ایم کیو ایم کو مکمل بے شناخت کر دیا ہے اور وہی تجربہ اب ن لیگ کے ساتھ دوہرا رہے ہیں) یہ ایک بڑے پیمانے اور سطح کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور نئی صف بندی (پولیٹیکل ری انجنیئرنگ) ہے اس کے باوجود بھی آپ سب دانشمند بلوان واقعات و شخصیات پر بحث کر کے اپنے تئیں جمہوری و سیاسی ارتقاء کی دانشورانہ خود لذتی سے محظوظ ہونا چاہتے ہیں تو بہت اچھی بات ہے

    ایسا نہیں ہے کہ صرف سیاسی جماعتوں کے مالکان (جن پر رہمنا کی تہمت ہم بڑے شوق سے لگاتے ہیں) پر ہی اس کی ذمہ داری ہے، لیکن بڑی اور بنیادی ذمہ داری انہی کی ہے، سماج کے دانشور اور دوسرے طبقات، سیاسی کارکنوں اور عوام کی بھی درجہ بدرجہ ذم داری ہے (لیکن اسی معاشرے کا فرد ہونے کی وجہ سے اوپر بیان کردہ دونوں وجوہات کا اطلاق ان پر بھی ہوتا ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے) لیکن رہنمائی کے دعویدار اپنی شخصی اخلاقی ساکھ کی طاقت سے ان طبقات اور گروہوں کو تنظیم میں پرو کر ایک سمت مہیا کرتے ہیں، جو سیاسی جماعتوں کے مالکان کی طاقت وکرپشن کی ہوس اور ناپنسک پن اور معاشرے کی مجموعی صورتحال کی وجہ سے مستقبل قریب میں تو کارِ محال ہی نہیں ناممکن نظر آتا ہے

    تو صاحبان جادو نگری میں ارتقاء نہیں ہوتا

    جہاں آسیب کا سایہ ہو وقت وہاں بھی ٹھہر جاتا ہے

    ہماری جادو نگری پر تو آسیب کا سایہ بھی ہے اور وہ بھی بہت گہرا، اور  اس کے منیر شامی (یہ اپنے شامی صاحب کا ذکرِ خیر نہیں ہے بلکہ دیو مالائی کہانیوں کے شہزادے ہیں) کسی ارفع مقصد سے کورے اور  اخلاقیات میں نامرد۔ اور جاہل رعایا کو اپنی معاشی مجبوریوں کے باعث جمہوریت نامی شہزادی کے خد و خال و خطوط جنہوں نے میرے دانشور دوستوں کا چین و قرار لوٹ کر انہیں حواس باختہ کر رکھا ہے، میں کوئی کشش نہیں، بلکہ وہ انہیں اپنی جہالت اور غربت کے باعث بوڑھی چڑیل لگتی ہے کیونکہ اپنے میاں صاحب کے حرم میں آ کر اس کی حالت واقعتاً ایسی ہی ہو گئی ہے، صرف نواز کے شخصی وفاداروں کو ہی وہ میاں کی شہزادی لگتی ہے

    :) ;-)   :)

    درج بالا ساری دانشوری میں منیر نیازی کے ذیل کے ایک شعر میں بھی سمیٹ سکتا تھا لیکن پھر اپنے اندر کے غبار کا کیا کرتا؟

    منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

    ملکی سیاست، سیاستدانوں، انکے چاہنے والوں اور ان سارے موضوعات پر بات کرنے والوں کی بھی عکاسی کر رکھی ہے منیر صاحب نے

    سارے منظر ایک جیسے، ساری باتیں ایک سی
    سارے دن ہیں ایک سے اور ساری راتیں ایک سی

    بے نتیجہ، بے ژمر، جنگ و جدل سود و زیاں
    ساری جیتیں ایک سی اور ساری ماتیں ایک سی

    سب ملاقاتوں کا مقصد کاروبارِ زر گری
    سب کی دہشت ایک جیسی، سب کی گھاتیں ایک سی

    اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
    سب قبیلے ایک سے ہیں ساری ذاتیں ایک سی

    ہوں اگر زیرِ زمیں تو فائدہ ہونے کا کیا
    سنگ و گوہر ایک ہیں پھر ساری دھاتیں ایک سی

    ایک ہی رخ کی اسیری خواب ہے شہروں کا اب
    ان کے ماتم ایک سے، ان کی براتیں ایک سی

    اے منیرؔ آزاد ہو اس سحرِ یک رنگی سے دور
    ہو گئے سب رنگ یکساں، سب نباتیں ایک سی

    @Shami 11

    • This reply was modified 1 year, 11 months ago by  Shiraz.
    #20
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 4718
    • Total Posts: 4718
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: عنوانِ انجان

    جہاں  تک انقلاب کی بات ھے اسکے لئے جو بنیادی اجزاء درکار ھوتے ھیں وہ پاکستانی معاشرے میں بحیثیت قوم ناپید ھیں 
     کیا کوئی بندہ بتا سکتا ہے ۔۔۔۔ اس وقت ۔۔۔ دنیا کی وہ کونسی ۔۔۔  عظیم پھدو قوم ۔۔۔۔۔ ہے جس کے اندر ۔۔۔۔ انقلاب لانے والے ۔۔۔ بنیادی اجزا ۔۔۔۔ موجود ۔۔۔۔ پائے جاتے ہوں ۔
    مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گورے ۔۔۔ کالے ۔۔ چینے ۔۔۔ پھینے ۔۔۔ عربی  ۔۔۔ روسی جاپانی بھارتی ۔۔۔۔
     لیکن ابھی تک کوئی ایسا رھبر نہیں ملا جو قوم کو اصل آزادی کے مفہوم سے آشنا کروا سکے اور ارتقاء کے اس عمل کو اسکے اگلے درجے تک بغیر کوئی سمجھوتہ کیئے پہنچا  سکے 
     کیا کوئی بندہ بتا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اسوقت دنیا میں وہ کونسی ۔۔۔۔ عظیم پھدو قوم ۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔ جس کے پاس ۔۔۔ کوئی رھبر ۔۔۔۔ موجود ہو ۔۔۔۔ اور وہ رھبر ۔۔۔ قوم کو ۔۔۔ اصل آزادی کے مفہوم سے آشنا کرسکتا ہو ۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 11 months ago by  Guilty.
Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 66 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!