Thread: عمران کی سیاست اسٹیبلشمینٹ اور جمہوریت مخالف قوتوں سے جڑی ہوئی ہے

Home Forums Siasi Discussion عمران کی سیاست اسٹیبلشمینٹ اور جمہوریت مخالف قوتوں سے جڑی ہوئی ہے

This topic contains 0 replies, has 1 voice, and was last updated by  حسن داور 10 months, 3 weeks ago. This post has been viewed 99 times

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3485
    • Posts: 1917
    • Total Posts: 5402
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: عمران کی سیاست اسٹیبلشمینٹ اور جمہوریت مخالف قوتوں سے جڑی ہوئی ہے

    پاکستانی سیاست اور معاشرے میں اکثر و بیشتر بحث و مباحثہ دائیں بازو اور بائیں بازو کے خیالات کے گرد گھومتا ہے۔ قدامت پسند قوتوں کو مسلسل یہ خدشہ رہتا ہے کہ پاکستان آزاد خیالی کی جانب گامزن ہے جس سے ملک کی نظریاتی سرحدیں کمزور ہو رہی ہیں۔

    اس بارے میں ملک میں ‘لبرل’ طبقے کو ان کے خیالات کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    بدھ کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے ‘پاکستانی لبرل سے زیادہ خونی لبرل کہیں اور نہیں دیکھا‘۔

    عمران خان کے مطابق مغربی لبرل جنگ کے خلاف اور انسانیت پسند ہوتا ہے لیکن پاکستانی لبرل جنگ کا دلداہ ہے۔

    یہاں پر یہ سوال ہے کہ کیا واقعی پاکستانی لبرل طبقہ مغربی لبرل کے مقابلے میں مختلف ہے؟

    لبرل ازم بذات خوت ایک مغربی سیاسی اصطلاح ہے جو صحیح معنوں میں 17 ویں صدی میں متعارف ہوئی تھی اور اس کا مرکزی خیال انسانی حقوق اور سماجی آزادی سے متعلق تھا۔ لبرل ازم کے تحت آزادی اظہار، آزادی صحافت، بنیادی انسانی حقوق، جنسی برابری اور جمہوری معاشرے کے قیام جیسے خیالات کا پرچار کرنا ہے۔

    ماہر عمرانیات عافیہ شہر بانو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی لبرل ازم کے بارے میں کہا کہ یہاں پر ہر چیز کو مکمل طور پر گڈمڈ کر دیا گیا ہے۔

    ہمارے ملک میں سیکولر خیالات کو لادینیت کہا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ اسی طرح لبرل خیالات کو بھی مذہب پسند اور قدامت پسند قوتوں کے خلاف پیش کیا جاتا ہے۔نہ صرف عمران خان بلکہ ملک میں گنی چنی تعداد میں موجود بائیں بازو کا طبقہ بھی لبرل ازم کا صرف ذاتی حیثیت میں پرچار کرتا ہے جس کا فائدہ قدامت پسند قوتوں کو ہوتا ہے۔

    ماہر عمرانیات ضیغم خان نے بی بی سی کو بتایا ‘پاکستان میں جماعت اسلامی اور اس کی سوچ سے متاثر لوگوں نے کچھ علمی اصطلاحوں کو توڑ موڑ کر ان کے معنی بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان اصطلاحوں میں سیکولرزم اور لبرلزم قابل ذکر ہے۔ انھیں میڈیا اور تعلیمی نظام میں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے کافی کامیابی بھی ہوئی ہے۔

    لیکن کیا ایک مغربی سیاسی اور سماجی اصطلاح کی حیثیت سے لبرل ازم پاکستان میں کوئی اور شکل اختیار کر گئی ہے؟

    اس بارے میں ضیغم خان نے کہا کہ لبرل ازم کی تشریح میں مختلف معاشروں، مختلف سیاستدانوں اور مختلف دانشوروں کے درمیان فرق ضرور پایا جاتا ہے لیکن بنیادی اصولوں پر کوئی بڑا اختلاف نہیں۔

    پاکستان میں ہونے والی جمہوری جدوجہد کو بھی آپ لبرل اصولوں کی جدوجہد کہہ سکتے ہیں۔

    عمران خان کے حالیہ بیان کو عافیہ شہر بانو نے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ‘عمران خان خود سماجی طور پر ایک لبرل ہیں جو لبرل خیالات سے ذاتی زندگی میں فائدے اٹھاتے ہیں لیکن دوسروں کے بارے میں ان کے خیالات قدامت پسند اور تنگ نظری کے حامل ہوتے ہیں۔

    عافیہ شہربانو نے مزید کہا کہ نہ صرف عمران خان بلکہ ملک میں گنی چنی تعداد میں موجود بائیں بازو کا طبقہ بھی لبرل ازم کا صرف ذاتی حیثیت میں پرچار کرتا ہے جس کا فائدہ قدامت پسند قوتوں کو ہوتا ہے۔

    ضیغم خان نے پی ٹی آئی کے سربراہ کے بیان پر کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت سماجی طور پر بڑی حد تک لبرل ہے لیکن وہ سیاسی طور پر لبرل ازم کے خلاف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ‘ان کی سیاست شروع سے اسٹیبلشمینٹ اور جمہوریت مخالف قوتوں سے جڑی ہوئی ہے

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan-42185186

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation