Thread: سیاسی کارکن -آخری قسط

Home Forums Hyde Park / گوشہ لفنگاں سیاسی کارکن -آخری قسط

This topic contains 78 replies, has 14 voices, and was last updated by  Zinda Rood 1 year ago. This post has been viewed 2132 times

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 79 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 138
    • Posts: 4372
    • Total Posts: 4510
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    قسط اولدوسری قسط

    چند برس کے بعد
    تھانیدار صاحب میرا بیٹا کہان ہے -رات ہمارے گھر میں سادہ لباس والے آے تھے اور اس کو اٹھا کر لے گئے ہیں -ذیشان کے والد نے نہایت روہانسی آواز میں استسفار کیا
    ارے بزرگو آپ سے کہا نہ ہمارے پاس زیشان نام کا کویی ملزم نہیں ہے آپ ہما را اور اپنا وقت ضایع کررہے ہیں. اتنی فکر تھی تو لونڈے پر نظر رکھنی چاہئے تھی کیا کرتا پھر رہا ہے –تھانیدار نے بےفکری سے جواب دیا
    ارے بیٹا میں ریٹایرڈ استاد ہوں چالیس سال خدمت کی ہے اس ملک کی ہزاروں لاکھوں بچوں کو پڑھا یا ہے یہ صلہ تو مت دو. اس کی بوڑھی ماں کو کیا جواب دوں گا؟ نعمان صاحب نے گڑ گڑاتے ہوے التجا کی
    بزرگو سارے صلے ہم سے ہی لینے ہیں؟ تھانیدار نے ہنستے ہوے کہا جایں ہما را وقت ضایع مت کریں .————————————————————————————————————————————————-
    میرا بیٹا کہاں ہے آپ خالی ہاتھ کیسے آگیے کہاں ہے میرا بیٹا -نعمان صاحب کو تنہا گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر بیگم کا تو جیسے دل بیٹھ گیا
    تھانے میں نہیں ہے –نعمان صاحب نے بے بسی ظاہر کی
    تو پھر کہاں ہے – آخر کیا جن بھوت لے گئے اس کو بیگم صاحبہ نے ہزیانی انداز میں چلاتے ہوے کہا
    یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے تم نے اس کو بگاڑا ہے اس کو سیاسی پارٹی کا حصہ بننے دیا اور اس کو روکا ٹوکا نہیں آج ہم لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے -نعمان صاحب نے روہانسی آواز میں جواب دیا
    میرا بیٹا کسی غلط کام میں نہیں پڑ سکتا اس نے کبھی کویی غلط کام نہیں کیا ہے وہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا اس ملک کی خدمت کرنا چاہتا تھا وہ اس ملک میں انقلاب لانا چاہتا تھا -میرا دل گواہی دیتا ہے وہ صحیح سلامت ہے — آپ جاییں کسی سے بات کریں –بیگم صاحبہ نے حواس پر قابو پاتے ہوا کہا
    ————————————————————————————————————————————————-
    بزرگو ٢٠ لاکھ لگیں گے اگر بیٹا زندہ چاہئے ورنہ دہشت گردی میں ملوث کرکے پار کردیا جائے گا اوپر سے حکم ہے –ایک سپاہی نے نعمان صاحب کے کان میں سرگوشی کی
    کیا کہا ٢٠ لاکھ؟ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے-کہاں سے لاؤں گا اتنی بڑی رقم کیا جرم کیا ہے میرے بیٹے نے – بوڑھے والد نے تقریبا چلاتے ہوے کہا
    بزرگو سنا ہے آپ کا ایک بیٹا باہر ڈاکٹر ہے یہ اتنی بڑی رقم نہیں ہے بیٹے کا سودا برا نہیں ہے –آپ خوش قسمت ہیں کیوں کے بہت سارے لوگ پیسوں کا بندو بست نہیں کرسکتے تو اپنے پیاروں کو اپنے ہاتوں سے دفناتے ہیں — سپاہی نے غیر جذباتی انداز میں سمجھاتے ہوے کہا————————————————————————————————————————————————-
    عدنان بیٹا ٢٠ لاکھ روپوں کی فوری ضرورت پڑھ گئی ہے تمہارا بھائی پولس اٹھا کر لے گئی ہے کہ رہے تھے زندہ چاہئے تو پیسوں کا فوری بندوبست کرو –نعمان صاحب نے عدنان کو صورت حال سمجھاتے ہویے کہا
    ابّو ٢٠ لاکھ بڑی رقم ہوتی ہے پیسے یہاں درختوں پر نہیں نکلتے ہیں پوری پوری رات کال پر ہوتا ہوں بڑی ٹف لائف ہے یہاں کی ٤٠ فی صد ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے ابھی دو مہینہ پہلے آپ کو دس لاکھ بھیجے تھے گھر کی مرمت کرنے کے لئے.– عدنان نے بے رخی سے کہا
    آپ لوگوں نے ذیشان کو اتنی چھوٹ دی تھی اور بگاڑا ہے بڑا سیاسی کارکن بنا پھرتا ہے جلسوں میں کرسیاں لگانے سے انقلاب نہیں آتا اس ملک کا کچھ نہیں ہونے والا – عدنان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوے کہا
    بیٹا کچھ بھی کرو میں اپنا بیٹا نہیں کھو سکتی تمہارے علاوہ ہمارا کویی سہارا نہیں ہے تم ہی کو کچھ کرنا ہوگا اپنے بھائی کے لئے – ایک دفع باہر آگیا تو میرا تم سے وعدہ ہے اس کو سیاست سے دور رکھوں گی – ماں نے التجا کرتے ہوے کہا
    اچھا امی کچھ کرتا ہوں مگر یہ آخری دفع ہوگا اگر اس نے ذمہ داری نہ دکھائی تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں گا————————————————————————————————————————————————-
    کتنا مارا ہے ظالموں نے میرے بیٹے کو -خدا غارت کرے ان ظلم حکمرانوں کو یا الله ہم لوگ کب تک ایسے ہی سسکتے رہیں گے ہمارا موسیٰ کب اے گا -ماں نے اپنے لال کو پٹیوں میں جکڑے ہسپتال کے بیڈ پر پڑے دیکھا تو رہا نہ گیا
    امی ظلم کا یہ نظام بدلے گا ایک روز -اس کے لئے ہی ہم لوگ جدو جہد کررہے ہیں یہاں امن اور روزگار اے گا یہاں بھی مسائل ھل ہونگے مگر اس کے لئے کویی مسیحا الگ سے نہیں اے گا ہم لوگوں نے ہی اپنی تقدیر بدلنی ہے -ذیشان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ماں کو حوصلہ دیا
    خبردار اگر تو نے آیندہ ایسی بات کی تو میں تجھ کو اپنا دودھ نہیں بخشوں گی -ہمیں نہیں چاہئے ایسا انقلاب جس میں میرے لال کی یہ حالت ہوجاے- میرا بیٹا ہی کیوں لیڈر کا بیٹا کیوں نہیں ؟؟ ماں نے چلاتے ہوے کہا
    امی لیڈر کے بچے بھی قربانیاں دیتے ہیں اب دیکھیں نا ان کو اپنی جان بچانے کے لئے زیادہ تر ملک سے باہر رہنا پڑتا ہے – اپنا علاج تک تو وہ سکون سے یہاں کروا نہیں سکتے اس کے لئے بھی ان کو باہر رہ کر قربانیاں دینا پڑتی ہیں مگر آپ فکر نہ کریں ایک مرتبہ ہماری حکومت آگئی تو سب دکھ درد دور ہوجاییں گے مجھے بھی اچھی سی نوکری مل جائے گی اور میں آپ اور ابّو کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا — ذیشان نے ایک امید اور بندھائی ————————————————————————————————————————————————–
    بیٹا منسٹر صاحب سے بات ہوگئی اپنی نوکری کی – ماں نے منہ لٹکے ذیشان کو گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو پوچھا
    امی میری سمجھ نہیں آتا منسٹر صاحب کی انتخابی مہم میں میں نے دن رات کام کیا وہ مجھے اپنا شیر کہتے تھے لوگوں سے مجھے اپنا بیٹا کہہ کر ملواتے تھے مگر جب سے منسٹر بنے ہیں انہوں نے ملنے سے بھی انکار کردیا ہے ان کے گھر کے باہر چاروں طرف سیکورٹی کے لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور ان سے ملنے بھی نہیں دیتے ہیں -ذیشان نے روہانسی آواز میں جواب دیا
    بیٹا میں تو پہلے ہی کہتی تھی یہ انقلاب وغیرہ کچھ نہیں ہوتا تو اپنا وقت ضایع کررہا ہے مگر تو نے ہماری ایک نہیں مانی اور اپنی تعلیم کی قربانی بھی دی -ماں نے سمجھاتے ہوے کہا
    اماں یہ سر زمین ابھی بانجھ نہیں ہویی اس ملک کی تقدیر میں ہمیشہ ایسے ہی رہنا نہیں لکھا- ہم لوگ اس لئے ناکام ہورہے ہیں کہ زیادہ تر لوگ ملکی مفاد سے زیادہ اپنے فائدے پر دھیان دے رہے ہیں ہم نے ہی اس قوم کی تقدیر بدلنی ہے مگر ایسا گھروں میں بیٹھ کر نہیں ہوسکتا- شکایتیں کرنے سے حالت تبدیل نہیں ہوتے ہمیں خود ہی کچھ کرنا ہے —-ذیشان کے عزم میں کویی کمی واقع نہیں ہویی تھی
    بیٹا تو نے کرکے دیکھ تو لیا کونسا انقلاب آگیا تیری قربانیوں سے کونسا نظام بدل گیا تیرے سیاسی ساتھی نے بھی منسٹر بن کر تجھے پہچانے سے انکار کردیا اب تو یہ بھاشن بند کردے – ماں کے پاس الفاظ ختم ہورہے تھے
    اماں آپ سے کس نے کہا کہ یہ جدوجہد دنوں میں یا سالوں میں ختم ہوجاے گی اگر میرے سیاسی لیڈر مخلص نہیں ہیں تو ان کے خلاف بھی جدوجہد کرنی پڑے گی ہمیں اپنی تقدیر خود بدلنی پڑے گی اس ملک کا نظام ایک روز ضرور بدلے گا
    نعمان کی والدہ اور والد نے بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا کہ یہ سدھرنے والا نہیں ہے ————————————————————————————————————————————————
    ہنی جلدی تیار ہوجاؤ ہمیں ایک پارٹی میں جانا ہے -عدنان نے اپنی ایس یو وی گراج میں پارک کرتے ہوے وہیں سے بیگم کو آواز لگائی
    ڈارلنگ ابھی ابھی میں سوئمنگ کرکے آی ہوں تکھن ہورہی ہے آپ اکیلے ہی چلیں جانا پارٹی میں – عدنان کی خوبصورت بیوی نے تھکن کا اظھار کرتے ہوے کہا
    اگر آپ کو کچھ کھانا ہے تو فرج میں سے نکال کر مائکرو ویو کرلیے گا
    .نو وریس ہنی -اگر تم تھکی ہویی ہو تو آج میں بھی پارٹی میں نہیں جاؤں گا میں بھی آرام کروں گا – عدنان نے شرارتی انداز میں بیوی کی طرف دیکھتے ہوے کہا
    اوہ ڈارلنگ آپ بھی نہ بس ———یہ کہتے ہوے بیگم صاحبہ اپنے کمرے میں چلیں گئیں
    -تھوڑی دیر میں عدنان جب کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر کمرے میں پہنچا تو دیکھا بیگم صاحبہ گہری نیند کے مزے لے رہیں تھیں عدنان نے موقع غنیمت جانتے ہوے فورا لیپ ٹاپ کھولا اوراپنے پسندیدہ ہابی مطلب دانش گردی پر لاگ ان ہوکر بھاشن دینا شروع دیا کہ ملک کے کیا مسائل ہیں اور ملک میں انقلاب کسطرح آسکتا ہے

    #2
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    کہانی میں کئی جھول ہیں
    .
    اول : استاد وہی دھکے کھاتا ہے جس نے کچھ برا کیا ہو .. . . . یا وہ بہت ہی نیک ہو . . . . لیکن اگر نیک ہوتا تو اس طرح شکایت نہ کرتا
    .
    دوئم :سیاسی ورکر انقلاب کی رٹ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ، گھر پر نہیں . . .. . . ہاں وزیر صاحب کے جوتے کی نوک پر رکھنے کا رنڈی رونا ٹھیک بیان کیا گیا ہے یہ ہر سیاسی ورکر کا مستقبل ہے ، ماسوائے اس کے جو کرپشن میں وزیر کا حصہ دار ہو

    #3
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2342
    • Total Posts: 2357
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    کہانی میں کئی جھول ہیں . اول : استاد وہی دھکے کھاتا ہے جس نے کچھ برا کیا ہو .. . . . یا وہ بہت ہی نیک ہو . . . . لیکن اگر نیک ہوتا تو اس طرح شکایت نہ کرتا

    شاہ جی۔۔۔۔۔

    جن جگہوں سے آپ فکری رہنمائی لیتے ہیں وہاں سے دیکھا جائے تو آپ نے منطق بڑی کمال کی استعمال کی ہے۔۔۔۔۔

    :clap:   ;-)   :clap:

    #4
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 32
    • Posts: 7191
    • Total Posts: 7223
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    میرا یہ کمنٹ اس آخری قسط کے لئے ہے، غلطی سے پہلی قسط پر لگا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اب یہاں شِفٹ کر رہا ہوں

    .

    یہ نعمان کون ہے۔
    عدنان کی طرح شاید سارے ہی دانش گردی والے بیویوں کے لفٹ نہ کرانے کی وجہ سے یہاں بھاشن دینے آتے ہیں۔
    ماسٹر جی کی پینشن کا کیا بنا۔ ۲۰ فیصد دیا یا ویسے ہی کام بن گیا۔
    ذیشان چاہتا تو انصاف اور انقلاب ہے لیکن نوکری سفارش کی؟ کیا میرٹ پر پورا نہی اترتا یا سسٹم کے سامنے ہتھیار ڈال چکا۔
    ذیشان کے ابا کو اسے بھی جرمنی بھیج دینا چاہیے ورنہ نوکری نہ ملنے کی صورت میں کہیں یہ بھی اپنی بھتے کی دوکان ہی نہ کھول لے

    #5
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    شاہ جی۔۔۔۔۔ جن جگہوں سے آپ فکری رہنمائی لیتے ہیں وہاں سے دیکھا جائے تو آپ نے منطق بڑی کمال کی استعمال کی ہے۔۔۔۔۔ :clap: ;-) :clap:

    وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ فکری رہنمائی کیا ہوتی ہے ؟
    .
    ویسے اگر سیاق و سباق کے لحاظ سے مطلب لوں تو میں فکری رہنمائی دنیا سے لیتا ہوں .. . . . اسلام میں کہتے ہیں کہ عقل مند سر جھکا کر غور و خوص کرتا ہے اور اگر سر اٹھا کر دنیا دیکھے تو عبرت پکڑتا ہے
    .
    نوٹ : اس بات سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں کوئی عقل مند ہوں

    • This reply was modified 1 year ago by  Shah G.
    #6
    EasyGo
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 4
    • Posts: 946
    • Total Posts: 950
    • Join Date:
      5 Nov, 2016
    • Location: -

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    بالکل صحیح بات ہے

    کوئی ٹھنڈے کمروں میں بیٹھا

    اور کوئی سڑکوں پر رلتا انقلاب انقلاب کرے جا رہا ہے

    سب کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں

    #7
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 138
    • Posts: 4372
    • Total Posts: 4510
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    ۔ ذیشان چاہتا تو انصاف اور انقلاب ہے لیکن نوکری سفارش کی؟ کیا میرٹ پر پورا نہی اترتا یا سسٹم کے سامنے ہتھیار ڈال چکا۔

    بلکل یہ کھلا تضاد ہے

    کیا یہ تضاد عام نہیں ہے؟

    ہمارا انقلابی بھی دو نمبری ہے

    ذیشان کے ابا کو اسے بھی جرمنی بھیج دینا چاہیے ورنہ نوکری نہ ملنے کی صورت میں کہیں یہ بھی اپنی بھتے کی دوکان ہی نہ کھول لے

    آپ کی دانشمندانہ تجویز نوٹ کرلی گئی ہے

    #8
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 138
    • Posts: 4372
    • Total Posts: 4510
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    کہانی میں کئی جھول ہیں . اول : استاد وہی دھکے کھاتا ہے جس نے کچھ برا کیا ہو .. . . . یا وہ بہت ہی نیک ہو . . . . لیکن اگر نیک ہوتا تو اس طرح شکایت نہ کرتا . دوئم :سیاسی ورکر انقلاب کی رٹ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ، گھر پر نہیں . . .. . . ہاں وزیر صاحب کے جوتے کی نوک پر رکھنے کا رنڈی رونا ٹھیک بیان کیا گیا ہے یہ ہر سیاسی ورکر کا مستقبل ہے ، ماسوائے اس کے جو کرپشن میں وزیر کا حصہ دار ہو

    بہت سنا اور پڑھا ہے یہ لفظ. اسکے ماخذ اور معنی پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں ؟

    :thinking: :thinking:   :thinking:

    #9
    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 169
    • Posts: 2196
    • Total Posts: 2365
    • Join Date:
      6 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    I have no sympathy with the main character of the story. He is more stupid than idealist. I understand there are some people who are more extrovert than others. They enjoy human interaction. If they help someone people are thankful and that launches their political career. I have few cousins and friends like this. @ghost protocol bhai may describe them as sincere, innocent, idealist. To me all these adjectives are misleading. They are simply stupid with well below par intelligence. I tend to agree with BlackSheep of such people are at helm things would be even more disastrous.

    Politics and public service is serious business. At its pinnacle public servants overrule all sections of society Doctor, Engineers, Lawyers, Businessmen, Military, Clergy, Scientists, Atheletes you name it. They sign off  on policies that define the domains, ethics, protocol for everyone else.

    How is it possible we have dedicated training in formative years for doctors, engineers, lawyers, soldiers, artists but when it comes to politics it all starts and end at some extrovert germs. Obama may have some likability traits that Zeeshan had, can speak well, good listener, feel comfortable in mingling, humble background. But he found out early to be a public servant he needs education first. He went to community college then NYU then Harvard and then started community organization work. Zeeshan started and ended with community organization. No wonder he found himself in missing persons instead of power corridors.

    #10
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 138
    • Posts: 4372
    • Total Posts: 4510
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    I have no sympathy with the main character of the story. He is more stupid than idealist. I understand there are some people who are more extrovert than others. They enjoy human interaction. If they help someone people are thankful and that launches their political career. I have few cousins and friends like this. @ghost protocol bhai may describe them as sincere, innocent, idealist. To me all these adjectives are misleading. They are simply stupid with well below par intelligence. I tend to agree with blacksheep of such people are at helm things would be even more disastrous. Politics and public service is serious business. At its pinnacle public servants overrule all sections of society Doctor, Engineers, Lawyers, Businessmen, Military, Clergy, Scientists, Atheletes you name it. They sign off on policies that define the domains, ethics, protocol for everyone else. How is it possible we have dedicated training in formative years for doctors, engineers, lawyers, soldiers, artists but when it comes to politics it all starts and end at some extrovert germs. Obama may have some likability traits that Zeeshan had, can speak well, good listener, feel comfortable in mingling, humble background. But he found out early to be a public servant he needs education first. He went to community college then NYU then Harvard and then started community organization work. Zeeshan started and ended with community organization. No wonder he found himself in missing persons instead of power corridors.

    Shirazi bhaai,

    Thanks for sharing your thoughts. I tend to agree with most part of it. Why did you feel that Zeeshan was the main character? Was their a little guilt factor writing those comments?

    :bigsmile: :bigsmile:   :bigsmile:

    #11
    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 169
    • Posts: 2196
    • Total Posts: 2365
    • Join Date:
      6 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    @ghost protocol bhai

    There is always a little guilt factor, not because I left the country like Noaman but more I couldn’t channel my limited God gifted political talent. I am dealing with technology but I probably would be better off if I was in public service domain. Unlike Zeeshan I knew very early what it takes to be public servant. Education and money is primary, public service skills help  but definitely are not primary requirements.

    #12
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2342
    • Total Posts: 2357
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    I have no sympathy with the main character of the story. He is more stupid than idealist. I understand there are some people who are more extrovert than others. They enjoy human interaction. If they help someone people are thankful and that launches their political career. I have few cousins and friends like this. @ghost protocol bhai may describe them as sincere, innocent, idealist. To me all these adjectives are misleading. They are simply stupid with well below par intelligence. I tend to agree with blacksheep of such people are at helm things would be even more disastrous.

    شیرازی صاحب۔۔۔۔۔

    انگریزی کا وہ مشہور محاورہ تو آپ نے سُنا ہی ہوگا۔۔۔۔۔

    The road to hell is paved with good intention.

    -Saint Bernard

    #13
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 32
    • Posts: 7191
    • Total Posts: 7223
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    @ghost protocol bhai There is always a little guilt factor, not because I left the country like Noaman but more I couldn’t channel my limited God gifted political talent. I am dealing with technology but I probably would be better off if I was in public service domain. Unlike Zeeshan I knew very early what it takes to be public servant. Education and money is primary, public service skills help but definitely are not primary requirements.

    گِلٹ کی کیا ضرورت ہے، ہم آپ کو فورم کا وزیرِاعظم بنا دیتے ہیں بشرط آپ گھوسٹ اور شامی کا احتساب کرو

    اور ہاں اسلامی قوانیں نافذ کرنے کا وعدہ بھی کرو تو

    :lol: :lol:

    #14
    Shirazi
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 169
    • Posts: 2196
    • Total Posts: 2365
    • Join Date:
      6 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    گِلٹ کی کیا ضرورت ہے، ہم آپ کو فورم کا وزیرِاعظم بنا دیتے ہیں بشرط آپ گھوسٹ اور شامی کا احتساب کرو اور ہاں اسلامی قوانیں نافذ کرنے کا وعدہ بھی کرو تو :lol: :lol:

    How about PM of hearts or that position is already filled 😀😀😀

    #15
    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 629
    • Total Posts: 645
    • Join Date:
      9 Sep, 2018
    • Location: sydney

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    شاہ جی۔۔۔۔۔ جن جگہوں سے آپ فکری رہنمائی لیتے ہیں وہاں سے دیکھا جائے تو آپ نے منطق بڑی کمال کی استعمال کی ہے۔۔۔۔۔ :clap: ;-) :clap:

    یہاں جگہوں سے مراد نظریات و شخصیات ہی ہیں ناں؟؟

    :thinking:

    #16
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 138
    • Posts: 4372
    • Total Posts: 4510
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    @ghost protocol bhai There is always a little guilt factor, not because I left the country like Noaman but more I couldn’t channel my limited God gifted political talent. I am dealing with technology but I probably would be better off if I was in public service domain. Unlike Zeeshan I knew very early what it takes to be public servant. Education and money is primary, public service skills help but definitely are not primary requirements.

    But Why did you think that Zeshan was the main character? why not Adnan?

    #17
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 138
    • Posts: 4372
    • Total Posts: 4510
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    گِلٹ کی کیا ضرورت ہے، ہم آپ کو فورم کا وزیرِاعظم بنا دیتے ہیں بشرط آپ گھوسٹ اور شامی کا احتساب کرو اور ہاں اسلامی قوانیں نافذ کرنے کا وعدہ بھی کرو تو :lol: :lol:

    :clap: :clap:   :clap:   :clap:

    بہت خوب شاہد بھائی،
    میرا تو سمجھ آتا ہے یہ شامی بھائی نے آپ کا کیا بگاڑا ہے جو آپ ایمان کا خطرہ مول لینے پر تیار ہوگئے؟

    shami11

    :bigsmile: :bigsmile:   :bigsmile:

    #18
    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 629
    • Total Posts: 645
    • Join Date:
      9 Sep, 2018
    • Location: sydney

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    ۔۔ البتہ ایک پہلو پر مورخین اور سائنسدان مزید تحقیق کا تقاضہ کرتے ہیں کہ یہ دھرتی سے غداری اور بیرونی حملہ آوروں کی کورنش بجا لانے کا حسین کیمیائی مُرکب اہلِ پنجاب کے خمیر کا حصہ کیسے بنا۔۔۔۔۔ آیا اِس کے پیچھے پنجاب کی مٹی و پانی کی تاثیر تھی یا آب و ہوا کا کمال تھا۔۔۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔۔۔۔

    @ghost protocol bhai There is always a little guilt factor, not because I left the country like Noaman but more I couldn’t channel my limited God gifted political talent. I am dealing with technology but I probably would be better off if I was in public service domain. Unlike Zeeshan I knew very early what it takes to be public servant. Education and money is primary, public service skills help but definitely are not primary requirements.

    جب خدا آپ کی شعوری زندگی میں وجود نہیں رکھتا تو وہ لاشعوری میں یا پیراہائے اظہار میں بھی کیوں ہے؟ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کو اسے وہاں سے بھی نکالنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ایک شعوری کوشش کرنی چاہیے؟ مانتا ہوں کہ سیکھے کو بھلانا مشکل ہے لیکن کسی نظریے سے سچی وابستگی کا ثبوت تو عمل سے ہی ملتا ہے ورنہ یقین اور عمل/اظہار میں ایک بُعد کا تاثر ملتا ہو جو عقل/عقلیت کے بَھگتوں کی بنیاد پر ہی سوال اٹھا دیتا ہے

    شیرازی کو خاص طور پر خیال کرنا چاہیے کہ ان کے سلسلے میں یہ اتنا بھی لاشعوری نہیں تھا کیونکہ گاڈ کے جی کو کیپٹل کرنے کیلئے انہیں شعوری کوشش کرنی پڑی ہوگی

    #19
    اَتھرا
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 16
    • Posts: 629
    • Total Posts: 645
    • Join Date:
      9 Sep, 2018
    • Location: sydney

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    سارا ادب و فنون ذاتی المیوں سے ہی جنم لیتا ہے لیکن یہ بھی ہے جس قدر انسان ذاتی یا گروہی سطح سے اوپر اٹھتا ہے ادب و فن کی سطح/پذیرائی اسی تناسب سے بلند ہوتی جاتی ہے

    #20
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2342
    • Total Posts: 2357
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: سیاسی کارکن -آخری قسط

    یہاں جگہوں سے مراد نظریات و شخصیات ہی ہیں ناں؟؟
    :thinking:

    کم از کم میری حد تک تو یہی مطلب تھا۔۔۔۔۔

    مگر اپنے شاہ جی بھی آخر پکے ٹھکے سید زادے ہیں۔۔۔۔۔

    کیا معلوم رات کے پچھلے پہر کوئی صدا بھی آتی ہو۔۔۔۔۔

    :cwl:   ;-)   :cwl:

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 79 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!