Thread: سانحہ ماڈل ٹاؤن پر کل جماعتی کانفرنس: ’شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ سات جنوری تک

Home Forums Siasi Discussion سانحہ ماڈل ٹاؤن پر کل جماعتی کانفرنس: ’شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ سات جنوری تک

This topic contains 0 replies, has 1 voice, and was last updated by  حسن داور 4 months, 3 weeks ago. This post has been viewed 40 times

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 2747
    • Posts: 1702
    • Total Posts: 4449
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: سانحہ ماڈل ٹاؤن پر کل جماعتی کانفرنس: ’شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ سات جنوری تک

    پاکستان عوامی تحریک کے زیرِ اہتمام حزبِ اختلاف کی بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس میں شرکا نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کو ’سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کے لیے سات جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

    سنیچر کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ق سمیت دیگر جماعتوں نے شرکت کی۔

    کانفرنس کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے رہنما ڈاکٹر طاہر القادری، پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔

    مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’سانحہ ماڈل ٹاؤن‘ کے ذمے داروں کے استعفیٰ کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن تک استعفے نہ آنے پر تمام جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل سٹیرنگ کمیٹی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

    اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری نے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تنبیہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی عدالت بھی لگ سکتی ہے، احتجاج بھی ہو سکتا ہے، دھرنا اور کچھ اور بھی ہو سکتا ہے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔

    یاد رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر اُن کے حامیوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بقول ان کے ختم نبوت سے متعلق انتخابی حلف نامے میں تبدیلی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے۔

    اعلامیے کے مطابق ’جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے تحت شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتلِ عام کے ذمہ دار ہیں اور اے پی سی تمام صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے استعفوں کے مطالبے پر مبنی قرارداد منظور کروائیں۔

    اے پی سی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسی اندرونی بیرونی دباؤ کے تحت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزمان اور’قومی دولت لوٹنے والے‘ شریف خاندان سے کسی قسم کا کوئی این ار او یا مصالحت نہ کی جائے اور وہ کسی بھی ماورائےِ قانون ریلیف کو قبول نہیں کریں گے۔

    کل جماعتی کانفرنس میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر از خود نوٹس لے۔

    خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حکومتِ پنجاب کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا حکم دیا تھا۔

    پاکستان عوامی تحریک کے مطابق اس کانفرنس میں 40 سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کے استعفے کے لیے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھے۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan-42520786

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation