Thread: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

Home Forums Non Siasi زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

This topic contains 6 replies, has 6 voices, and was last updated by  Zed 1 year, 3 months ago. This post has been viewed 360 times

Viewing 7 posts - 1 through 7 (of 7 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3952
    • Posts: 2160
    • Total Posts: 6112
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد قتل کی جانے والی آٹھ سالہ زینب کے مقدمے کے مجرم عمران علی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے۔
    حکام کا کہنا ہے کہ مجرم عمران علی کو بدھ کی صبح ساڑھے پانچ بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا اور پھانسی دیے جانے کے وقت زینب کے والد امین انصاری بھی موجود تھے۔
    مجرم عمران علی کو مختصر عدالتی کارروائی کے بعد چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
    جیل کے حکام نے مجرم عمران علی کی لاش کو ان کے اہلخانہ کے حوالے کر دیا وہ آخری رسومات کے لیے اسے قصور لے گئے۔ جس موقع پر سکیورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ تھی۔
    زینب کے والد امین انصاری نے جیل کے باہر میڈیا سے مجرم کی پھانسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا انجام انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسے تختہ دار پر لٹکایا گیا اور اسے نصف گھنٹے تک وہاں لٹکائے رکھا گیا۔
    خیال رہے کہ زینب کے والد نے مجرم کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔


    پاکستان میں زینب سے جنسی زیادتی کے واقعے نے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور مجرم عمران علی کی پھانسی کے موقع پر زینب کے قتل کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا۔
     زینب مرڈر کیس اور عمران علی  کا  نام بدھ کی صبح سے ہی ٹرینڈ کرتا رہا اور جہاں زینب کی تصاویر کے ساتھ عمران علی کی پھانسی کی خبر شیئر کی جاتی رہی وہیں پاکستان میں انصاف کے نظام پر بھی بحث ہوتی رہی۔
    سوشل میڈیا پر یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ عمران جیسے کئی کردار اب بھی ہمارے معاشرے میں کھلے عام گھوم رہے ہیں۔
    رفیع اللہ مروت نے ’بالآخر انصاف کا نیا دن‘ کے ساتھ ٹویٹ کی تو اس کے نیچے بلال حیدر نے سوال اٹھایا کہ اس کے برعکس ہم اس بات کو رد نہیں کر سکتے کہ یہ شخص ہمارے معاشرے سے تھا اور اس جیسے کئی موجود ہیں۔
    انھوں نے اس کے ساتھ حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں مجرم کو سرِ عام پھانسی دینے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
    اسی کے بارے میں شہریار نامی صارف نے لکھا کہ کیوں مجرم کو سرعام پھانسی دینے کے بارے میں زینب کے والد کی درخواست کو مسترد کیا گیا۔ ’مجرم کو جنوری میں پکڑا گیا اور اس کے نو ماہ بعد پھانسی دی گئی۔۔۔۔ ہمارے نظام انصاف کو سلام۔۔۔
    فراز خان یوسفزئی نے ٹویٹ کی’ میں سمجھ سکتا ہوں کہ کیوں زینب کے والد سرعام پھانسی چاہتے تھے لیکن اس کے وہ اثرات نہیں ہونے تھے جن کی وہ توقع کر رہے تھے۔ ہمیں اپنے سماج کو مکمل طور بدلنے کی ضرورت ہے۔ تشدد جواب نہیں بلکہ انصاف، اچھی پولیس اور منصفانہ نظام ہے۔ چلیں اب اس پر بات کریں۔‘
    اسی طرح سے کئی صارف مجرم کی پھانسی کا خیرمقدم کر رہے ہیں اور ساتھ میں’ زینب سے معافی‘ کا اظہار بھی کر رہے ہیں کیونکہ وہ انھیں بچا نہیں سکے۔
    علی سلمان راحت نے ٹویٹ کی کہ’ زینب کا قاتل آخرکار اپنے انجام کو پہنچا۔۔۔۔۔اور اب تمام قوم جو زینب کا خاندان بن گئی ہے وہ انصاف ملنے پر خوش ہے۔


    خیال رہے کہ پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کی خبریں اکثر اوقات سامنے آتی رہتی ہیں جس میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ‘ساحل’ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے اغوا، ان پر تشدد اور ریپ سمیت مختلف جرائم کے 2300 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 57 بچوں کو ریپ کے بعد قتل کر دیا گیا۔
    تاہم ملک میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کے مسئلے کو ‘زیادہ اہمیت’ نہیں دی گئی لیکن رواں برس جنوری میں آٹھ سالہ زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں عوامی غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور شاید پہلی بار اس مسئلے پر کھل کر بات کی گئی اور یہ ایسا ہی تھا جب ہمسایہ ملک انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں بس ریپ کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور حکومت کو ریپ کے واقعات کو روکنے کے سخت قانون سازی کرنا پڑی۔
    لیکن اگر پاکستان کی بات کی جائے تو زینب کیس کے بعد حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال یہ وعدے وفا نہیں ہو سکے اور بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف ٹھوس اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے ہیں۔

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-45885936

    #2
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 342
    • Posts: 7769
    • Total Posts: 8111
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

    پھانسی کی سزا بھی اس کے بھیانک جرم کے سامنے معمولی دکھای دیتی ہے

    اس سوور کو تو خیر لٹکا دیا گیا مگر بچوں سے جنسی زیادتی کے معاملے پر ابھی تک کوی قانون سازی نہیں کی گئی، اگر زینب کے مجرم قاتل کو پھانسی پر لٹکاتے نو ماہ لگ سکتے ہیں تو عام سی بچیوں کے ساتھ یہی جرائم کرنے والے تو آزاد گھومتے ہونگے یا پھر جیل میں آرام سے بیٹھ کر کچھ دے دلا کر یا گواہوں کو منحرف کروا کر باہر آجاتے ہونگے

    #3
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 101
    • Posts: 2516
    • Total Posts: 2617
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

    مجرم کو تو پھانسی ہوگئی مگر اچھا ہوتا اگر ساتھ زینب کے باپ کو بھی دو چار چھتر سر عام لگا دیے جاتے. ….اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور سات سالہ بچی کو رشتے داروں کے حوالے کرکے خود عمرہ پر نکل جانے کی بھی کوئی سزا ہے کہ نہیں؟

    کیا مسلمانوں کے لیے سبق نہیں کہ ایک بندا خدا کو خوش کرنے مکہ جا رہا ہے اور خدا جواب میں اس کی بیٹی کو ریپ ہونے دے رہا ہے

    #4
    Democrat
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 46
    • Posts: 1312
    • Total Posts: 1358
    • Join Date:
      17 Oct, 2016

    Re: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

    مجرم کو تو پھانسی ہوگئی مگر اچھا ہوتا اگر ساتھ زینب کے باپ کو بھی دو چار چھتر سر عام لگا دیے جاتے. ….اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور سات سالہ بچی کو رشتے داروں کے حوالے کرکے خود عمرہ پر نکل جانے کی بھی کوئی سزا ہے کہ نہیں؟ کیا مسلمانوں کے لیے سبق نہیں کہ ایک بندا خدا کو خوش کرنے مکہ جا رہا ہے اور خدا جواب میں اس کی بیٹی کو ریپ ہونے دے رہا ہے

    خدا نے دماغ اسی لئے دیا ھوا ھے کہ اسے بر وقت استعمال کیا جائے۔۔۔۔

    اپنی اولاد کی خیر خواھی اور انکی ضروریات پوری کرنا حج سے زیادہ ضروری تھیں جس سے اس نے پہلو تہی برتی اور اسکا بدلہ پا لیا۔۔۔

    آپ بھی اگر خود کو آگ لگا لیں کہ اگر بچ گیا تو خدا کو مان لونگا ورنہ خدا نہیں ھے تو خدارا ایسا مت کیجیئے گا۔۔

    عقل ودانش اور غور وفکر کی دعوت اسلام میں اسی لئے دی گئی ھے۔۔

    جہاں تک اس بابے کو چھتر لگانے کی بات ھے میں اس پر متفق ھوں اگر یہ کسی ترقی یافتہ ملک کا شہری ھوتا تو یہ بھی کسی جیل میں چکی پیس رھا ھوتا۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 3 months ago by  Democrat.
    #5
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2345
    • Total Posts: 2360
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

    مجرم کو تو پھانسی ہوگئی مگر اچھا ہوتا اگر ساتھ زینب کے باپ کو بھی دو چار چھتر سر عام لگا دیے جاتے. ….اپنے فرائض سے غفلت برتنے اور سات سالہ بچی کو رشتے داروں کے حوالے کرکے خود عمرہ پر نکل جانے کی بھی کوئی سزا ہے کہ نہیں؟ کیا مسلمانوں کے لیے سبق نہیں کہ ایک بندا خدا کو خوش کرنے مکہ جا رہا ہے اور خدا جواب میں اس کی بیٹی کو ریپ ہونے دے رہا ہے
    خدا نے دماغ اسی لئے دیا ھوا ھے کہ اسے بر وقت استعمال کیا جائے۔۔۔۔ اپنی اولاد کی خیر خواھی اور انکی ضروریات پوری کرنا حج سے زیادہ ضروری تھیں جس سے اس نے پہلو تہی برتی اور اسکا بدلہ پا لیا۔۔۔ آپ بھی اگر خود کو آگ لگا لیں کہ اگر بچ گیا تو خدا کو مان لونگا ورنہ خدا نہیں ھے تو خدارا ایسا مت کیجیئے گا۔۔ عقل ودانش اور غور وفکر کی دعوت اسلام میں اسی لئے دی گئی ھے۔۔ جہاں تک اس بابے کو چھتر لگانے کی بات ھے میں اس پر متفق ھوں اگر یہ کسی ترقی یافتہ ملک کا شہری ھوتا تو یہ بھی کسی جیل میں چکی پیس رھا ھوتا۔۔۔۔۔۔

    اوپر لگائی گئی خبر جو بات مجھے کافی عجیب لگی وہ زینب کے والد کا پھانسی کے وقت وہاں موجود ہونا ہے۔۔۔۔۔

    زینب کے والد امین انصاری نے جیل کے باہر میڈیا سے مجرم کی پھانسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا انجام انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسے تختہ دار پر لٹکایا گیا اور اسے نصف گھنٹے تک وہاں لٹکائے رکھا گیا۔

    کیا یہ عام معمول کی کاروائی ہے۔۔۔۔۔ یا زیب کے والد کا مجرم کو پھانسی دیتے وقت وہاں موجود ہونا اور پھانسی کے عمل کو دیکھنا خصوصی اجازت کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔

    اگر یہ خصوصی اجازت تھی تو پھر کیا مستقبل میں مظلوم شخص کے لواحقین کو خود پھانسی گھاٹ کا لیور کھینچنے کی اجازت دینے کا بھی امکان ہے۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 1 year, 3 months ago by  BlackSheep.
    #6
    Zed
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 114
    • Posts: 1113
    • Total Posts: 1227
    • Join Date:
      17 Feb, 2017

    Re: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

    مجرم کو تو پھانسی ہوگئی مگر اچھا ہوتا اگر ساتھ زینب کے باپ کو بھی دو چار چھتر سر عام لگا دیے جاتے. ….

    I think you are being too harsh here. Parents did not abandon the child, she was with their relatives, this is a normal practice around the world. Even goray leave their kids with baby sitters etc and go on trips.

    But I do want to thrash her father because he refused an Ahmedi investigator as if Ahmedi investigator will add to his tragedy. Ironically, that pedophile was a big Naat Khawan and probably a supporter of Khatam e Nabuwat.

    #7
    Zed
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 114
    • Posts: 1113
    • Total Posts: 1227
    • Join Date:
      17 Feb, 2017

    Re: زینب قتل کیس کے مجرم عمران علی کو لاہور میں پھانسی دے دی گئی

    اوپر لگائی گئی خبر جو بات مجھے کافی عجیب لگی وہ زینب کے والد کا پھانسی کے وقت وہاں موجود ہونا ہے۔۔۔۔۔ کیا یہ عام معمول کی کاروائی ہے۔۔۔۔۔ یا زیب کے والد کا مجرم کو پھانسی دیتے وقت وہاں موجود ہونا اور پھانسی کے عمل کو دیکھنا خصوصی اجازت کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔ اگر یہ خصوصی اجازت تھی تو پھر کیا مستقبل میں مظلوم شخص کے لواحقین کو خود پھانسی گھاٹ کا لیور کھینچنے کی اجازت دینے کا بھی امکان ہے۔۔۔۔۔

    I am not sure if this is normal in Pakistan but its normal in US to have victims family present during the execution via lethal injection (remember that movie “dead man walking”).

Viewing 7 posts - 1 through 7 (of 7 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!