Thread: دفعہ 505 کے تحت پاکستان میں ’ہندوستان زندہ باد‘ لکھنا کب جرم بن جاتا ہے؟

Home Forums Siasi Discussion دفعہ 505 کے تحت پاکستان میں ’ہندوستان زندہ باد‘ لکھنا کب جرم بن جاتا ہے؟

This topic contains 0 replies, has 1 voice, and was last updated by  حسن داور 1 year ago. This post has been viewed 85 times

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3635
    • Posts: 1983
    • Total Posts: 5618
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: دفعہ 505 کے تحت پاکستان میں ’ہندوستان زندہ باد‘ لکھنا کب جرم بن جاتا ہے؟

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور میں پولیس نے ایک شخص کو اپنے گھر کی بیرونی دیوار پر ہندوستان زندہ باد لکھنے پر گرفتار کیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ساجد نامی شخص کے خلاف دفعہ 505 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ پولیس نے اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا تو گھر کی دیوار پر ’ہندوستان زندہ باد‘ لکھا پایا گیا۔ایف آئی آر میں نوجوان ساجد شاہ کی عمر 20 سال کے قریب بتائی گئی ہے۔ تاہم اس نوجوان کی جانب سے ایسی تحریر کی واضح وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل اوکاڑہ میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آ چکا ہے جس میں عمر دراز نامی شخص کو اپنے مکان کی چھت پر انڈین پرچم لہرانے پر حراست میں لیا گیا تھا۔اس تازہ گرفتاری پر یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آخر اس طرح کی گرفتاریاں کس قانون کے تحت عمل میں لائی جاتی ہیں اور دفعہ 505 کہتی کیا ہے؟تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505جو کوئی بھی ایسا بیان، افواہ یا رپورٹ لکھے، شائع کرے یا پھیلائےاے) جس کا مقصد اشتعال دلانا ہو یا جو ممکنہ طور پر اشتعال دلانے کی وجہ بنے، پاکستانی آرمی، نیوی یا ایئر فورس کے کسی بھی افسر، سپاہی، سیلر یا ایئر مین کو بغاوت، ارتکابِ جرم یا کسی بھی طرح سے اپنی ذمہ داریاں انجام دینے سے روکنے کی کوشش کرےیابی) جو عوام یا عوام کے کسی دھڑے میں خوف یا افراتفری پھیلانے کی وجہ بنے یا ممکنہ طور پر وجہ بنے، اور جو کسی کو ریاست کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنے یا عوامی امن کو خراب کرنے پر اکسائےیاسی) کسی بھی طبقے یا برادری کو کسی دوسرے طبقے یا برادری کے لوگوں کے خلاف ارتکاب جرم پر اکسائے یا ممکنہ طور پر اشتعال دلائےایسے کسی بھی شخص کو سات سال تک کی قید اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

    شق نمبر 2ایسے بیان، افواہ یا رپورٹ یا افراتفری پھیلانے والی خبر کو لکھے، شائع کرے یا پھیلائےجس سے اس کی مذہبی، نسلی، جائے پیدائش، رہائش، زبان، ذات یا برادری یا کسی بھی اور بنیاد پر دشمنی کے احساسات، مختلف مذاہب، ذاتوں یا برادری یا علاقائی گروہوں کے درمیان نفرت یا اختلافات پیدا کرنے کی نیت ہو یا ممکنہ طور پر نیت ہو، تو ایسے شخص کو سات سال تک قید اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔یہ تو تھی وہ دفعہ جس کے تحت اس نوجوان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے وکیل ذوالفقار بھٹہ کا کہنا ہے کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس نوجوان نے ایسا کیا کیوں ہے اور ’یہ ثابت کیسے ہوگا کہ اس شخص نے کس نیت سے ایسا کیا؟انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر تو اس نوجوان نے یہ نعرہ کسی دشمن ملک کے کہنے پر، اس سے پیسے لے کر یا کسی کے اکسانے پر لگایا تو یہ جرم ہو سکتا ہے، لیکن اگر کسی نے حالات و واقعات سے تنگ آکر ذہنی الجھنوں کا شکار ہو کر یا ذہنی بیماری کی حالت میں ایسا کیا ہے تو یہ کسی بھی صورت جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan-42223948

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation