Thread: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

Home Forums Non Siasi خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

This topic contains 21 replies, has 8 voices, and was last updated by  Guilty 2 months ago. This post has been viewed 484 times

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 22 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3763
    • Posts: 2034
    • Total Posts: 5797
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    آپ میں یا کوئی بھی انسان جو کسی پریشانی میں ہو تو اس کے لئے اسکی زندگی ایک مشکل ترین دور سے گزر رہی ہوتی ہے اس کا بے بس ہونااور مشکل کا ختم نہ ہونا اس وقت اس کے لیے وبال جاں سے کم نہیں ہوتا۔ان سب کیفیات کے ساتھ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے دیکھنا بہت تکلیف دہ یا کہیں کہ ایک مشکل امر ہے۔ جس طرح سے کسی کی تکلیف کو دیکھنا اور اسکو رفع کرنے کی کوشش کرنا انسانیت کا معیار اور مقصد ہے۔ اسی طرح انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تکلیف کو ختم کرنے کی کوشش کرے ۔اور اس میں کامیاب نہ ہو تو ان سب باتوں سے گھبرا کر جو سب سے پہلا احساس ہوتا ہے وہ ہوتا ہے کہ میں کیوں ہوں اور میرا انسان ہونا آسان تھوڑی ہے۔
    اور اس کیفیت میں مجھ جیسے کم ظرف انسان کا اپنے خدا سے برابر گلہ شکوہ جاری رہتا ہے۔
    مگر یہ سب باتیں آپ کی میری اور شاید دنیا میں بسنے والے ہر انسان کی ہو سکتی ہیں ہم صرف انسان نما لوگ ہی چھے ارب سے زیادہ ہیں۔
    باقی چرند پرند جمادات کی کوئی گنتی نہیں، کتنے ہی آنکھوں سے اوجھل اور کتنے ابھی تک زمین یا سمندر کی تہوں میں ہیں ۔ان کا ااندازہ لگانا شاید ابھی ناممکن ہے۔ اور کائنات کی وسعتوں کا تو کوئی اندازہ ہو ہی نہیں سکتا جومسلسل پھیلتی جا رہی ہیں اور کہاں جا کے اس کا رکنا ممکن ہے کوئی علم نہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ہر شہ جس کا وجود ہے ۔
    وہ اپنے رب سے سوال ضرور کرتی ہو گی۔ ہم اس کو صرف انسانوں کی زبان میں ہی سمجھ سکتے ہیں مگر ایک سوال ایک فریاد اپنے ہونے کو لے کر یا نہ ہونے کو لے کر جاری رہتی ہو گی ہزاروں گلے شکوے اپنے خدا سے متواتر رہتے ہوں گے اکیلے اکیلے چپکے چپکے یا کھلم کھلا۔
    سڑک پے پڑے پتھر کوجب ٹھوکر لگتی ہو گی تو وہ بھی ضرور اپنے خدا کو یاد کرتا ہو گا اس سے گلہ کرتا ہو یا شاید شکر ادا کرتا ہو اس بارے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
    پہاڑوں میں آرام وسکون سے خواب میں سوتا ہوا لاوا جب باہرایک چنگھاڑ سے نکلتا ہو گا اور زمینوں کو تہس نہس کرتے آگے بڑھتا ہو گا تو ضرور اپنے خدا سے سوال کرتا ہو گا۔
    سمندر کی موجیں سمندر میں اٹکھیلیاں کرتے جب سونامی کی صورت اپنے مکان سے بے دخل کی جاتی ہوں گی تو اپنی شناخت اپنے وجود کے متعلق ضرور سوال کرتی ہوں گی۔
    آسماں میں جگمگاتا تارا جو اپنے وجود پے اتراتا ہو گا ۔اور پھر ٹوٹ کر کسی بلیک ہول میں اپنے وجود کا انکار کرتے ہوئے وہاں دھکیلا جاتا ہو گا تو اس کی آوازیں شکوے شاید بلیک ہول سے باہر سنائی نہ دیتے ہوں مگر اپنے خدا تک ضرور پہنچتے ہوں گے۔
    کروڑوں سال سے جلتا سورج بھی تو آخر کچھ دیر آرام اور سکون کے مانگتا ہوگا۔ یا ہو سکتا ہو کہ ہر چیز کو جلا کر خاک کرنے کی اجازت مانگتا ہو۔
    کتنے ہی انسان جن کی خبر ہم تک نہیں پہنچتی کتنے ہی عقوبت خانے اور کتنی ہی ان گنت وہ قبریں جن کا کوئی وارث نہیں ۔جن کا کوئی جاننے والا ان کی موت سے با خبرنہیں ہے ۔مگر ایک خدا سب کو دیکھ رہا ہے ۔نا صرف گلے اور شکوے سن رہا ہے بلکہ ان کی ڈھارس بھی باندھ رہا ہے۔ان کی آوازوں پے لبیک بھی کہہ رہا ہے۔
    کتنی ہی ماؤں کے چھلنی کلیجے اور انتظار میں بیٹھی بیٹیوں جن کے باپ سچ بولنے کی پاداش میں اٹھا لئے گئے۔ ان کی فریاد سنتا ہو گا اور خیر و شرکا اختیار انسان کو دینے کے باوجود اپنے جبار و قہار ہونے کی صفت پر اپنے رحمن و رحیم ہونے کی چادر ڈھانپتا ہو گا۔ تو کس قدر رحم کا مظاہرہ کرتا ہو گا۔ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کی وہ ستار و عیوب کس طرح ستر پوشی کرتا ہو گا۔ یہ اسی کی ہمت ہے یہ اسی کو زیب دیتا ہے۔ زمین پر تکبر کرتے انسانوں کو دیکھ کر وہ المتکبر کس طرح ان کے لوٹ آنے کا انتظار کرتا ہو گا۔ ایک طرف مظلوم کی داد رسی اور ظالم کا حساب جو کہ اسی کا بندہ ہے مگر سرکش بھی ہے ۔مظلوم کے لئے ہر اسباب فراہم کرناان سب حالات کے باوجود ہر اختیار رکھتے ہوئے ہر چیز پے عدل قائم کرنا اسی کو زیب دیتا ہے ۔کافر اور اس کے منکر پر بھی رزق کو تنگ نہ کرنا اسے اس کا صلہ عطا کرنا یہ اسی کا ظرف ہے۔ ۔
    اور کتنے ہی دل جلوں کے شکوے اس تک پہنچتے ہوں گے ۔کتنی ہی مرادیں چیختی ہوں گی ۔اور کتنی ہی بددعائیں ڈری سہمی اسکی بارگاہ میں پڑی ہوں گی۔کتنے مسائل کتنی عدالتوں کی فائلیں وہ دیکھتا ہو گا ۔جو ہر وقت مصروف عمل ہے ۔اور “کُن” کے بعد لوگوں کا ردعمل کس محبت سے برداشت کرتا ہو گا۔طعنے سن کر ان کا جواب اپنی “الرحمن و الرحیم” صفت کے ساتھ دیتا ہو گا۔کائنات اور انسان جیسی حسین تخلیق پر المصور کس قدر خوبصورتی سے مسکراتا ہو گا۔ تو مجھے اپنا انسان ہونا بہت آسان لگتا ہے اور بس ایک ہی سوچ ذہن میں آتی ہے کہ خدا ہونا آساں تھوڑی ہے۔

    بشکریہ …… مظفر عباس نقوی

    https://www.mukaalma.com/58971

    #2
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1503
    • Total Posts: 1515
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    جو ہر وقت مصروف عمل ہے ۔اور “کُن” کے بعد لوگوں کا ردعمل کس محبت سے برداشت کرتا ہو گا۔طعنے سن کر ان کا جواب اپنی “الرحمن و الرحیم” صفت کے ساتھ دیتا ہو گا۔کائنات اور انسان جیسی حسین تخلیق پر المصور کس قدر خوبصورتی سے مسکراتا ہو گا۔ تو مجھے اپنا انسان ہونا بہت آسان لگتا ہے اور بس ایک ہی سوچ ذہن میں آتی ہے کہ خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    وہ زمین پر خون خرابا دیکھ کر بھنگڑے لڈیاں ڈالتا ہوگا، وہ انسان کو جنگوں، بیماریوں، وباؤں میں مرتے اور مارتے دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتا ہوگا، وہ یہ کرتا ہوگا وہ وہ کرتا ہوگا ، ارے بھئی وہ کچھ بھی نہیں کرتا ہوگا، ایک واہمہ ، ایک خیال، ایک مفروضہ کیا کرسکتا ہے، جہاں تک میں جانتا ہوں، معلوم انسانی تاریخ میں کسی بھی بیرونی قوت کی دنیا کے دائرہ کار/قوانین قدرت میں مداخلت ثابت نہیں ہے۔۔۔ 

    #3
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 640
    • Posts: 11335
    • Total Posts: 11975
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    وہ زمین پر خون خرابا دیکھ کر بھنگڑے لڈیاں ڈالتا ہوگا، وہ انسان کو جنگوں، بیماریوں، وباؤں میں مرتے اور مارتے دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتا ہوگا، وہ یہ کرتا ہوگا وہ وہ کرتا ہوگا ، ارے بھئی وہ کچھ بھی نہیں کرتا ہوگا، ایک واہمہ ، ایک خیال، ایک مفروضہ کیا کرسکتا ہے، جہاں تک میں جانتا ہوں، معلوم انسانی تاریخ میں کسی بھی بیرونی قوت کی دنیا کے دائرہ کار/قوانین قدرت میں مداخلت ثابت نہیں ہے۔۔۔

    کچھ دن پہلے آپ بھی خدا لگنے لگے تھے ۔اببھی ارداہ پکا ہے ۔یا پروگرام  بدل لیا ہے ۔

    #4
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 133
    • Posts: 6515
    • Total Posts: 6648
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    کچھ دن پہلے آپ بھی خدا لگنے لگے تھے ۔اببھی ارداہ پکا ہے ۔یا پروگرام بدل لیا ہے ۔

    خُدا ہونا آساں تھوڑی ہے :bigsmile: ۔

    #5
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1503
    • Total Posts: 1515
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    کچھ دن پہلے آپ بھی خدا لگنے لگے تھے ۔اببھی ارداہ پکا ہے ۔یا پروگرام بدل لیا ہے ۔

    میں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے، اس دنیا میں ہونے والی واہیاتیاں، بداعمالیاں، وحشت ناکیاں، خون خرابیاں میں اپنے ذمے نہیں لینا چاہتا، انسان دنیا میں پائی جانے والی بدترین، بکواس ترین، خبیث ترین مخلوق ہے اور اگر میں کہتا ہوں کہ انسان کو میں نے تخلیق کیا ہے تو پھر یقیناً مجھے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ میں انسان سے بھی بڑا شرپسند اور ۔۔۔٭٭٭۔۔۔ ہوں۔۔۔ لہذا میں نے خدائی کے دعوے سے دستبردار ہونا بہترجانا۔۔۔۔

    #6
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 104
    • Posts: 1967
    • Total Posts: 2071
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    کل ایک ڈوکو منٹری دیکھ رہا تھا جس میں بتایا گیا کہ کائنات میں اتنی کہکشاں ہیں کہ وہ زمین پر پڑے ریت کے ذروں سے بھی زیادہ ہیں – اتنی کہکشوں میں سے ایک ریت کے ذرے سی اہمیت والی زمین پر اربوں انسانوں میں سے ایک کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اتنی بڑی کائنات کے خالق کے وجود پر تبصرے کرے – اس کنوے کے مینڈک کی عقل بھی بس کنویں تک ہی محدود ہے – اتنی بڑی کائنات کے خالق اور مالک کو کیا فرق پڑتا ہے کوئی اسے مانے یا نہ مانے –

    #7
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 3488
    • Total Posts: 3488
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    وہ زمین پر خون خرابا دیکھ کر بھنگڑے لڈیاں ڈالتا ہوگا، وہ انسان کو جنگوں، بیماریوں، وباؤں میں مرتے اور مارتے دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سماتا ہوگا، وہ یہ کرتا ہوگا وہ وہ کرتا ہوگا ، ارے بھئی وہ کچھ بھی نہیں کرتا ہوگا، ایک واہمہ ، ایک خیال، ایک مفروضہ کیا کرسکتا ہے، جہاں تک میں جانتا ہوں، معلوم انسانی تاریخ میں کسی بھی بیرونی قوت کی دنیا کے دائرہ کار/قوانین قدرت میں مداخلت ثابت نہیں ہے۔۔۔

    تیرا مطلب تھا ۔۔۔۔ جگہ جگہ بار  کھلے ہوتے ہیں ۔۔۔ عورتیں لٹکی ہوئی ہوتیں ۔۔۔ نیچھے ۔۔۔۔  مرغ پلاؤ قورمے کی دیگیں چڑھی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔

    سڑک کے کنارے باغ ہوتے ۔۔۔۔ سو ئمنگ پول ہوتے ۔۔۔۔ تجھے پندرہ بیس کافرنیاں ۔۔۔۔ ما لش کررھی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔

    بیڈ روم میں بڑا سا فریج ہوتا ۔۔۔۔۔۔ روسی امریکن  شراب کی بوتلیں سجی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔

    گھرکے آنگن میں ۔۔۔۔ آم ۔۔۔۔ انگور ۔۔۔۔۔ کے باغ ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔ لڑکیاں فروٹ دھو دھو کر تجھے کھلا رھی ہوتیں ۔۔۔

    تہہ خانے میں  ڈالروں کی مشینیں چل رھی ہوتیں ۔۔۔ ڈالروں کی گڈیاں  ۔۔۔۔۔ تہہ در تہہ ۔۔۔۔۔ بکسوں میں بھری ہوتیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    تب تو کہتا کہ ۔۔۔۔ ھا ں خدا ہے ۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔

    پتر جی ۔۔۔۔ جسطرح ٹرین میں گھر کی مسہری نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اور اماں کے پروٹھے نہیں ہوتے ۔۔۔ عجیب الخلقت مسافر ہوتے ہیں ۔۔۔ اور دھکے ہوتے ہیں ۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔

    اسطرح دنیا کی ٹرین میں بھی ۔۔۔۔ د ھکے ڈیزائن کیے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جب تک زند گی کی  ٹرین میں بیٹھا رھے گا ۔۔۔۔ جنگیں ۔۔۔ بیماریاں ۔۔۔۔ قتل غارت ۔۔۔۔ بد کرداریاں ۔۔۔۔   زندگی کے د ھکے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ بکواسیاست تجھے دیکھنے پڑیں گے ۔۔۔۔۔۔

    اگر نہیں پسند تو زندگی کی ٹرین سے اتر جا ۔۔۔۔۔ اور سکون کر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ زندگی ہے ۔۔۔۔ یہاں با دشاہوں کو  خون میں نہانا پڑ جاتا ہے ۔۔۔ تو کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تجھے پتہ ہی نہیں ہے زند گی ہے کیا ۔۔۔۔۔

    تو کیا ۔۔۔۔۔۔ چار سال کے بچے کی طرح ۔۔۔۔ مزے مزے کی ٹافیاں مانگتا پھرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

    زندگی کیا ہے ۔۔۔۔۔ کیوں ہے ۔۔۔۔ یہ مشکل سبجیکٹ  تیرے جیسوں کے بس کی بات نہیں ۔۔۔۔

    تیرے لیئے آسان راستہ ہے۔۔۔۔ تجھے زندگی سمجھ نہیں آتی ۔۔۔ بہت مشکل کٹھن لگتی ہے ۔۔۔۔ فرار ہوجا مشکلات سے  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ملحد بن جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر  فکر نہ فاقہ عیش کر کا کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 2 months, 1 week ago by  Guilty.
    #8
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    مجھ پر مشکل آئی تو بھی کچھ ایسے ناصر

    کہ ڈائٹ پلان بھی تھا اور ولیمہ بھی بھگتانا تھا

    ۔

    :cry: :cry:   :cry:

    :hilar:

    • This reply was modified 2 months, 1 week ago by  Shah G.
    #9
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    میں اگر اپنی زندگی دیکھوں تو میں دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہوں

    کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ دنیا کا مرکز ہی میں ہوں کہ جو ہو رہا ہے میرے مطابق ہو رہا ہے

    ۔

    اگر میں مسلمان نا ہوتا تو اب تک خدائی کا دعوا کر چکا ہوتا

    #10
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1503
    • Total Posts: 1515
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

     اتنی بڑی کائنات کے خالق اور مالک کو کیا فرق پڑتا ہے کوئی اسے مانے یا نہ مانے –

    اعوان صاحب۔۔ آپ بہت بڑی بات کہہ گئے ہیں جو آپ کے اسلامی عقائد کے خلاف جاتی ہے ، شاید آپ کو اس سے یوٹرن لینا پڑ جائے۔۔ میری خود بھی یہی رائے ہے کہ اگر فرض کرلیں کہ واقعی یہ کائنات کسی خدا نے بنائی ہے تو اس کو اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ انسان جیسی حقیراور کمزور مخلوق اسے مانتی ہے یا نہیں۔۔ لیکن قرآن میں جو خدا کا تصور ہے جس کو آپ مانتے ہیں ، اس میں تو لکھا ہے کہ جو اللہ کو نہیں مانتے، اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے وہ اللہ کو ایذا پہنچاتے ہیں اور اللہ بار بار انہیں آگ میں ڈالنے کی وعیدیں سناتا ہے کہ جس نے مجھے نہ مانا میں اسے ہمیشہ ہمیشہ آگ میں جلاؤں گا، یعنی اسلامی خدا کو تو بہت فرق پڑتا ہے کہ اگر کوئی اسے نہ مانے۔۔ ۔  

    #11
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1503
    • Total Posts: 1515
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    تیرا مطلب تھا ۔۔۔۔ جگہ جگہ بار کھلے ہوتے ہیں ۔۔۔ عورتیں لٹکی ہوئی ہوتیں ۔۔۔ نیچھے ۔۔۔۔ مرغ پلاؤ قورمے کی دیگیں چڑھی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔ سڑک کے کنارے باغ ہوتے ۔۔۔۔ سو ئمنگ پول ہوتے ۔۔۔۔ تجھے پندرہ بیس کافرنیاں ۔۔۔۔ ما لش کررھی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔ بیڈ روم میں بڑا سا فریج ہوتا ۔۔۔۔۔۔ روسی امریکن شراب کی بوتلیں سجی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔ گھرکے آنگن میں ۔۔۔۔ آم ۔۔۔۔ انگور ۔۔۔۔۔ کے باغ ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔ لڑکیاں فروٹ دھو دھو کر تجھے کھلا رھی ہوتیں ۔۔۔ تہہ خانے میں ڈالروں کی مشینیں چل رھی ہوتیں ۔۔۔ ڈالروں کی گڈیاں ۔۔۔۔۔ تہہ در تہہ ۔۔۔۔۔ بکسوں میں بھری ہوتیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ تب تو کہتا کہ ۔۔۔۔ ھا ں خدا ہے ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ پتر جی ۔۔۔۔ جسطرح ٹرین میں گھر کی مسہری نہیں ہوتی ۔۔۔۔ اور اماں کے پروٹھے نہیں ہوتے ۔۔۔ عجیب الخلقت مسافر ہوتے ہیں ۔۔۔ اور دھکے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اسطرح دنیا کی ٹرین میں بھی ۔۔۔۔ د ھکے ڈیزائن کیے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تک زند گی کی ٹرین میں بیٹھا رھے گا ۔۔۔۔ جنگیں ۔۔۔ بیماریاں ۔۔۔۔ قتل غارت ۔۔۔۔ بد کرداریاں ۔۔۔۔ زندگی کے د ھکے ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ بکواسیاست تجھے دیکھنے پڑیں گے ۔۔۔۔۔۔ اگر نہیں پسند تو زندگی کی ٹرین سے اتر جا ۔۔۔۔۔ اور سکون کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ زندگی ہے ۔۔۔۔ یہاں با دشاہوں کو خون میں نہانا پڑ جاتا ہے ۔۔۔ تو کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تجھے پتہ ہی نہیں ہے زند گی ہے کیا ۔۔۔۔۔ تو کیا ۔۔۔۔۔۔ چار سال کے بچے کی طرح ۔۔۔۔ مزے مزے کی ٹافیاں مانگتا پھرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کیا ہے ۔۔۔۔۔ کیوں ہے ۔۔۔۔ یہ مشکل سبجیکٹ تیرے جیسوں کے بس کی بات نہیں ۔۔۔۔ تیرے لیئے آسان راستہ ہے۔۔۔۔ تجھے زندگی سمجھ نہیں آتی ۔۔۔ بہت مشکل کٹھن لگتی ہے ۔۔۔۔ فرار ہوجا مشکلات سے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ملحد بن جا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر فکر نہ فاقہ عیش کر کا کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گلٹی تو خدا کی وکالت کا حق کب کا کھو چکا ہے۔۔ میں نے تمہیں ایک موقع دیا تھا کہ ابراہیمی فارمولے کے تحت اپنے خدا کے وجود کو ثابت کرو، تم نہیں کرپائے، اس کے بعد تمہاری خدا کے حق میں کوئی بھی دلیل صفر سے بھی کم حیثیت رکھتی ہے،  اب تمہاری دلیل ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میری جیب میں ایک لاکھ روپے ہیں، مگر وہ کسی کو نظر نہیں آسکتے۔۔۔ 

    خیر تم پررحم کھا کر میں تمہیں ایک موقع دیتا ہوں، اور کھلے دل سے موقع دیتا ہوں، پندرہ فروری تک تمہارے پاس موقع ہے، اپنے خدا سے کہو کہ صرف ایک بار سورج مغرب سے نکال کر دکھادے، اگر نہ دکھا سکا تو تم جانتے ہی ہو کہ ہم سب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس خدا کے متعلق کیا رائے اختیار کرنی ہے۔ :cwl: :cwl: ۔۔ 

    #12
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 640
    • Posts: 11335
    • Total Posts: 11975
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    میں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے، اس دنیا میں ہونے والی واہیاتیاں، بداعمالیاں، وحشت ناکیاں، خون خرابیاں میں اپنے ذمے نہیں لینا چاہتا، انسان دنیا میں پائی جانے والی بدترین، بکواس ترین، خبیث ترین مخلوق ہے اور اگر میں کہتا ہوں کہ انسان کو میں نے تخلیق کیا ہے تو پھر یقیناً مجھے یہ بھی ماننا پڑے گا کہ میں انسان سے بھی بڑا شرپسند اور ۔۔۔٭٭٭۔۔۔ ہوں۔۔۔ لہذا میں نے خدائی کے دعوے سے دستبردار ہونا بہترجانا۔۔۔۔

    شاواہ ۔ شے ۔۔۔وائی ۔۔

    سرکار میں نے آپکے آسرے پر ادھر کچھ کافر حسینہ کو جنت کے لارے پر ڈیٹ بھی مار لی ۔ہے ۔۔اب میں ان کو کیا جواب دوں گا ۔۔۔یار اگر خدا نہیں لگنا ڈپٹی  خدا ہی  لگ ۔جاہیں  ۔۔۔ساڈی وی ٹور شور  بنے ۔۔

    :bigsmile:

    #13
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1503
    • Total Posts: 1515
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    شاواہ ۔ شے ۔۔۔وائی ۔۔ سرکار میں نے آپکے آسرے پر ادھر کچھ کافر حسینہ کو جنت کے لارے پر ڈیٹ بھی مار لی ۔ہے ۔۔اب میں ان کو کیا جواب دوں گا ۔۔۔یار اگر خدا نہیں لگنا ڈپٹی خدا ہی لگ ۔جاہیں ۔۔۔ساڈی وی ٹور شور بنے ۔۔ :bigsmile:

    ارے یار آپ دنیا کی حسیناؤں کے پیچھے کیوں خجل خراب ہورہے ہیں،  جنت میں ہر مومن مرد کو بہتر حسینائیں ملنی ہیں اور نہ ختم ہونے والی حکیمانہ طاقت۔۔۔ مجھے نہیں لگتا وہاں کوئی بندا یا بندی کھانے پینے کے لئے ٹائم نکال پائیں گے۔۔ سچ پوچھیں تو ایسی جگہوں کے لئے دنیا میں تو بہت برے برے نام استعمال ہوتے ہیں۔ :bigsmile: :bigsmile: ۔۔۔  

    #14
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 104
    • Posts: 1967
    • Total Posts: 2071
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    اعوان صاحب۔۔ آپ بہت بڑی بات کہہ گئے ہیں جو آپ کے اسلامی عقائد کے خلاف جاتی ہے ، شاید آپ کو اس سے یوٹرن لینا پڑ جائے۔۔ میری خود بھی یہی رائے ہے کہ اگر فرض کرلیں کہ واقعی یہ کائنات کسی خدا نے بنائی ہے تو اس کو اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ انسان جیسی حقیراور کمزور مخلوق اسے مانتی ہے یا نہیں۔۔ لیکن قرآن میں جو خدا کا تصور ہے جس کو آپ مانتے ہیں ، اس میں تو لکھا ہے کہ جو اللہ کو نہیں مانتے، اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے وہ اللہ کو ایذا پہنچاتے ہیں اور اللہ بار بار انہیں آگ میں ڈالنے کی وعیدیں سناتا ہے کہ جس نے مجھے نہ مانا میں اسے ہمیشہ ہمیشہ آگ میں جلاؤں گا، یعنی اسلامی خدا کو تو بہت فرق پڑتا ہے کہ اگر کوئی اسے نہ مانے۔۔ ۔

     جی یہ الله کو ماننا اور الله سے ڈرانا انسان کو ظلم سے باز رکھنے کے لئے کیا گیا ہے – آپ نے اقبال کا وہ شعر
    سنا ہو گا
    یہ ایک سجدہ ہے جسے تو گراں سمجھتا ہے
    ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
    اگر انسان ایک خدا کو مانے اور اسی سے ڈرے گا تو زمینی خداؤں سے نجات پا لے گا – میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہیں ، ان کی زندگی دیکھ کر رشک آتا ہے – کسی بات کی فکر نہیں ہے اپنی کوشش کرتے ہیں اور پھر الله پر چھوڑ دیتے ہیں – آپ بھی کبھی خدا کی ذات پر پختہ یقین کر کے دیکھیں ، الله کیسے آپ کو دل کا سکون دے گا آپ حیران ہونگے اور اس آپ سکون کو دنیا کی سب سے قیمتی چیز گنیں گے –

    #15
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 3488
    • Total Posts: 3488
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    گلٹی تو خدا کی وکالت کا حق کب کا کھو چکا ہے۔۔ میں نے تمہیں ایک موقع دیا تھا کہ ابراہیمی فارمولے کے تحت اپنے خدا کے وجود کو ثابت کرو، تم نہیں کرپائے، اس کے بعد تمہاری خدا کے حق میں کوئی بھی دلیل صفر سے بھی کم حیثیت رکھتی ہے، اب تمہاری دلیل ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میری جیب میں ایک لاکھ روپے ہیں، مگر وہ کسی کو نظر نہیں آسکتے۔۔۔

    خیر تم پررحم کھا کر میں تمہیں ایک موقع دیتا ہوں، اور کھلے دل سے موقع دیتا ہوں، پندرہ فروری تک تمہارے پاس موقع ہے، اپنے خدا سے کہو کہ صرف ایک بار سورج مغرب سے نکال کر دکھادے، اگر نہ دکھا سکا تو تم جانتے ہی ہو کہ ہم سب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس خدا کے متعلق کیا رائے اختیار کرنی ہے۔ :cwl: :cwl: ۔۔

    بیٹا جی ۔۔۔۔۔۔

    مجھے کوئی ضرورت نہیں تجھ پر کچھ ثا بت کرنے کی ۔۔۔۔۔ تو خدا کو نہیں ما نتا ۔۔۔۔۔۔ تو جہنم میں جا ۔۔۔۔ ملحد بن کر گھوم رھا ہے  بہت ہی اچھا ہے ۔۔۔۔ تیرے لئے یہی سوٹ کرتا ہے ۔۔

    بنا ملحد رھے اوردورے ھر وقت مذ ھب کے لیتا رھے ۔۔۔۔ تیرے جیسوں کی یہی سزا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے ۔۔

    خدا کی خدا ئی ہے  ۔۔۔۔۔ کوئی سرکس نہیں لگی ہوئی کہ ۔۔۔۔ کبھی سورج کو نکا لیں اور کبھی چاند کو نکا لیں ۔۔۔۔۔

    سرکس دیکھنی ہے تو ملحدوں کے پروفیسروں کے سٹیج سرکس دیکھا کر۔۔۔۔

    کہ ۔۔۔۔۔۔۔ موٹے آدمی کو قتل کیسے کرنا ہے ۔۔۔۔ محلے کے  ایک پڑوسی کے گردے نکال کر ۔۔۔۔ پھو پھا اور پھوپھو کو کیسے لگا نے ہیں ۔۔۔

    • This reply was modified 2 months, 1 week ago by  Guilty.
    #16
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 205
    • Posts: 3696
    • Total Posts: 3901
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    میری ناقص راۓ میں انسان بننا زیادہ مشکل ہے

    اسی لئے اتنے خدا ہیں اور اس سے زیادہ زمینی خدا ہیں

    انسان تو بہت مشکل سے ملتے ہیں

    #17
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1503
    • Total Posts: 1515
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    جی یہ الله کو ماننا اور الله سے ڈرانا انسان کو ظلم سے باز رکھنے کے لئے کیا گیا ہے – آپ نے اقبال کا وہ شعر سنا ہو گا یہ ایک سجدہ ہے جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات اگر انسان ایک خدا کو مانے اور اسی سے ڈرے گا تو زمینی خداؤں سے نجات پا لے گا – میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو خدا پر کامل یقین رکھتے ہیں ، ان کی زندگی دیکھ کر رشک آتا ہے – کسی بات کی فکر نہیں ہے اپنی کوشش کرتے ہیں اور پھر الله پر چھوڑ دیتے ہیں – آپ بھی کبھی خدا کی ذات پر پختہ یقین کر کے دیکھیں ، الله کیسے آپ کو دل کا سکون دے گا آپ حیران ہونگے اور اس آپ سکون کو دنیا کی سب سے قیمتی چیز گنیں گے –

    اعوان صاحب۔۔۔ میں اقبال کی اس فلاسفی کے ساتھ متفق نہیں کہ ایک کے سامنے جھک کر باقیوں کے سامنے جھکنے سے بندہ نجات پاجاتا ہے، عمومی مشاہدہ تو یہ ہے کہ جو ایک کے سامنے جھک گیا اس کی گردن بس پھر جھکتی ہی چلی جاتی ہے ۔۔۔ آزاد بندہ وہ ہے جو کسی کے سامنے گردن نہ جھکائے۔۔۔

      اور جہاں تک آپ کی خدا پر یقین کرکے سکون پانے کی بات کا تعلق ہے تو یہ بہت بڑا واہمہ ہے، ایک وقت تھا جب میں بھی خدا پر یقین رکھتا اور جب بھی میرے ساتھ کچھ اچھا ہوتا تھا تو میں سمجھتا تھا کہ خدا مجھ پر مہربان ہے، لیکن آہستہ آہستہ میں نے مسلسل غور و فکر سے سچ کو پالیا اور اب میں سمجھ گیا ہوں کہ وہ سب میرا وہم تھا۔۔ یقین کیجئے میری زندگی اپنی روانی میں اب بھی ویسے ہی ہے جیسے تب تھی، اب بھی میری زندگی میں اچھے اور برے اتفاقات ہوتے رہتے ہیں، حالانکہ تب میں ان اچھے اتفاقات کو خدا کی مہربانی سمجھتا تھا۔۔۔۔ 

    #18
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1503
    • Total Posts: 1515
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    بیٹا جی ۔۔۔۔۔۔ مجھے کوئی ضرورت نہیں تجھ پر کچھ ثا بت کرنے کی ۔۔۔۔۔ تو خدا کو نہیں ما نتا ۔۔۔۔۔۔ تو جہنم میں جا ۔۔۔۔ ملحد بن کر گھوم رھا ہے بہت ہی اچھا ہے ۔۔۔۔ تیرے لئے یہی سوٹ کرتا ہے ۔۔ بنا ملحد رھے اوردورے ھر وقت مذ ھب کے لیتا رھے ۔۔۔۔ تیرے جیسوں کی یہی سزا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے ۔۔ خدا کی خدا ئی ہے ۔۔۔۔۔ کوئی سرکس نہیں لگی ہوئی کہ ۔۔۔۔ کبھی سورج کو نکا لیں اور کبھی چاند کو نکا لیں ۔۔۔۔۔ سرکس دیکھنی ہے تو ملحدوں کے پروفیسروں کے سٹیج سرکس دیکھا کر۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔۔۔ موٹے آدمی کو قتل کیسے کرنا ہے ۔۔۔۔ محلے کے ایک پڑوسی کے گردے نکال کر ۔۔۔۔ پھو پھا اور پھوپھو کو کیسے لگا نے ہیں ۔۔۔

    گلٹی بغلول۔۔۔۔

    ابھی تو میں نے ابراہیمی فارمولا نمبر ٹو لگایا نہیں اور تو اپنے خدا کو لے کر بھاگ گیا۔۔۔ ایسا کروگے تو کیسا چلے گا، کچھ تو اپنے خدا کا ہی بھرم رکھ لو۔۔۔ حضرت ابراہیم جعلی خداؤں کا پردہ چاک کرنے میں کافی مہارت رکھتے تھے اور انہوں نے اس مدعے پر کافی کام کیا۔۔ ان کا ابراہیمی فارمولا نمبر ون تو ہے ہی زبردست پر ابراہیمی فارمولا نمبر ٹو بھی کم نہیں ہے۔

    جب حضرت ابراہیم نے بت پرستوں کے معبد میں گھس کر ان کے تمام چھوٹے بت توڑ دیئے اور کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا تو وہ لوگ آئے اور حضرت ابرہیم پر غصہ ہونے اور جواب طلب کرنے لگے۔ حضرت ابراہیم نے بڑے اطمینان سے دانتوں میں خلال کرتے ہوئے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا اور ان لوگوں سے کہا، کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر ہے، اس سے پوچھ لو چھوٹے بتوں کو کس نے توڑا۔۔ تب وہ تلملا کر بولے۔۔ یہ تو بول ہی نہیں سکتا، یہ کیسے بتائے گا۔۔ اس پر حضرت ابراہیم نے کہا کہ جو (نام نہاد) خدا بول نہ سکتا ہو، وہ خدا کہلانے کے لائق کیسے ہوسکتا ہے، یہ نہ تو بول سکتا ہے نہ چل پھرسکتا ہے، یہ تو اپنی حفاظت تک نہیں کرسکتا، ابھی میں کلہاڑے سے اس کی گردن اتار دوں تو یہ کیا کرلے گا۔۔ اس پر عقل بند لوگ ہکا بکا رہ گئے مگر ان کی عقلوں سے پردے تب بھی نہ ہٹے۔۔ اس پر حضرت ابراہیم نے فارمولا نمبر ٹو بتایا کہ جو خدائی کا دعویدار بول نہ سکتا ہو، چل پھر نہ سکتا ہو اور اپنی حفاظت نہ کرسکتا ہو، وہ جعلی خدا ہوتا ہے۔۔۔

    ہاں تو گلٹی، ذرا جاکر اپنے خدا سے پوچھ کیا وہ بول سکتا ہے، کیا وہ چل پھر سکتا ہے، کیا وہ اپنی حفاظت کرسکتا ہے (اگر وہ اپنی حفاظت کرسکتا تو مذہبی لوگوں کو اس کی حفاظت کیلئے قوانین نہ بنانے پڑتے اور لوگوں کو جانوں سے نہ مارنا پڑتا)۔۔۔

    • This reply was modified 2 months, 1 week ago by  Zinda Rood.
    #19
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 104
    • Posts: 1967
    • Total Posts: 2071
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    اعوان صاحب۔۔۔ میں اقبال کی اس فلاسفی کے ساتھ متفق نہیں کہ ایک کے سامنے جھک کر باقیوں کے سامنے جھکنے سے بندہ نجات پاجاتا ہے، عمومی مشاہدہ تو یہ ہے کہ جو ایک کے سامنے جھک گیا اس کی گردن بس پھر جھکتی ہی چلی جاتی ہے ۔۔۔ آزاد بندہ وہ ہے جو کسی کے سامنے گردن نہ جھکائے۔۔۔

    اور جہاں تک آپ کی خدا پر یقین کرکے سکون پانے کی بات کا تعلق ہے تو یہ بہت بڑا واہمہ ہے، ایک وقت تھا جب میں بھی خدا پر یقین رکھتا اور جب بھی میرے ساتھ کچھ اچھا ہوتا تھا تو میں سمجھتا تھا کہ خدا مجھ پر مہربان ہے، لیکن آہستہ آہستہ میں نے مسلسل غور و فکر سے سچ کو پالیا اور اب میں سمجھ گیا ہوں کہ وہ سب میرا وہم تھا۔۔ یقین کیجئے میری زندگی اپنی روانی میں اب بھی ویسے ہی ہے جیسے تب تھی، اب بھی میری زندگی میں اچھے اور برے اتفاقات ہوتے رہتے ہیں، حالانکہ تب میں ان اچھے اتفاقات کو خدا کی مہربانی سمجھتا تھا۔۔۔۔

     جی اس فلاسفی کا مطلب ہے کہ انسان کسی انسان کے آگے نہ جھکے اور یہ یقین رکھے کہ سب کچھ الله کی مرضی سے ہوتا ہے -یہ سوچ انسان میں خود اھتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ کسی انسان کے آگے نہیں گڑگڑا تا – جو الله کے آگے جھک گیا وہ کسی اور کہ سامنے کیوں جھکے گا اس کی کیا منتق ہے – ہاں جو ایک بندے کے آگے جھکے گا وہ دوسروں کے آگے بھی جھکے گا -میری دعا ہے الله آپ کو ہدایت دے اور آپ سچ کی روشنی کو دوبارہ پا لیں – جسے آپ وہم کہتے ہیں وہ آپ کی آنکھ اور دل پر پڑا پردہ ہے جو الله کرے ہٹ جاہے –

    #20
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 3488
    • Total Posts: 3488
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: خدا ہونا آساں تھوڑی ہے

    گلٹی بغلول۔۔۔۔

    ابھی تو میں نے ابراہیمی فارمولا نمبر ٹو لگایا نہیں اور تو اپنے خدا کو لے کر بھاگ گیا۔۔۔ ایسا کروگے تو کیسا چلے گا، کچھ تو اپنے خدا کا ہی بھرم رکھ لو۔۔۔ حضرت ابراہیم جعلی خداؤں کا پردہ چاک کرنے میں کافی مہارت رکھتے تھے اور انہوں نے اس مدعے پر کافی کام کیا۔۔ ان کا ابراہیمی فارمولا نمبر ون تو ہے ہی زبردست پر ابراہیمی فارمولا نمبر ٹو بھی کم نہیں ہے۔

    جب حضرت ابراہیم نے بت پرستوں کے معبد میں گھس کر ان کے تمام چھوٹے بت توڑ دیئے اور کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا تو وہ لوگ آئے اور حضرت ابرہیم پر غصہ ہونے اور جواب طلب کرنے لگے۔ حضرت ابراہیم نے بڑے اطمینان سے دانتوں میں خلال کرتے ہوئے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا اور ان لوگوں سے کہا، کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر ہے، اس سے پوچھ لو چھوٹے بتوں کو کس نے توڑا۔۔ تب وہ تلملا کر بولے۔۔ یہ تو بول ہی نہیں سکتا، یہ کیسے بتائے گا۔۔ اس پر حضرت ابراہیم نے کہا کہ جو (نام نہاد) خدا بول نہ سکتا ہو، وہ خدا کہلانے کے لائق کیسے ہوسکتا ہے، یہ نہ تو بول سکتا ہے نہ چل پھرسکتا ہے، یہ تو اپنی حفاظت تک نہیں کرسکتا، ابھی میں کلہاڑے سے اس کی گردن اتار دوں تو یہ کیا کرلے گا۔۔ اس پر عقل بند لوگ ہکا بکا رہ گئے مگر ان کی عقلوں سے پردے تب بھی نہ ہٹے۔۔ اس پر حضرت ابراہیم نے فارمولا نمبر ٹو بتایا کہ جو خدائی کا دعویدار بول نہ سکتا ہو، چل پھر نہ سکتا ہو اور اپنی حفاظت نہ کرسکتا ہو، وہ جعلی خدا ہوتا ہے۔۔۔

    ہاں تو گلٹی، ذرا جاکر اپنے خدا سے پوچھ کیا وہ بول سکتا ہے، کیا وہ چل پھر سکتا ہے، کیا وہ اپنی حفاظت کرسکتا ہے (اگر وہ اپنی حفاظت کرسکتا تو مذہبی لوگوں کو اس کی حفاظت کیلئے قوانین نہ بنانے پڑتے اور لوگوں کو جانوں سے نہ مارنا پڑتا)۔۔۔

    قدرت ہے خدائی ہے ۔۔۔۔۔ کوئی سرکس نہیں لگی ہوئی کہ تجھے چل کر د کھا یا یا بول کر  د کھا یا جائے ۔۔۔۔۔

    چلنا پھرنا  ۔۔۔۔ سرکس دیکھنی ہے تو ۔۔۔۔ اپنے ملحد پروفیسروں کی لیکچر سرکس دیکھا کر ۔۔۔۔۔۔

    جس میں چلنا پھر نا ۔۔۔۔ موٹے آدمی کو قتل کرکے نیچے گرادینا ۔۔۔۔۔ کسی بے گنا ہ کے گردے کپورے ۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کو لگا دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پوری سرکس چلتی ہے ۔۔۔۔۔۔

    ایسی سرکس تم جیسے  پھدو ملحدو ں کے پھدو بنا نے کے لیئے ہی ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ تو ملحد پروفیسروں کی سٹیج سرکس دیکھا کر ۔۔۔

    ھمارے خدا کو ۔۔۔۔۔ ایک زرے کے کروڑویں حصے کو  بھی ثا بت کرنے کی بالکل چنداں ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 2 months, 1 week ago by  Guilty.
Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 22 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation