Thread: حمزہ شہباز احاطہ عدالت سے گرفتار

Home Forums Siasi Discussion حمزہ شہباز احاطہ عدالت سے گرفتار

This topic contains 2 replies, has 3 voices, and was last updated by  Athar 2 months, 1 week ago. This post has been viewed 136 times

Viewing 3 posts - 1 through 3 (of 3 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3865
    • Posts: 2074
    • Total Posts: 5939
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: حمزہ شہباز احاطہ عدالت سے گرفتار

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے گرفتار کرلیا۔
    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
    سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز شریف کے 38 کروڑ 80 لاکھ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔
    انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2018 تک حمزہ شہباز نے اثاثے ظاہر نہیں کیے اچانک حمزہ شہباز نے 2019 میں کہا کہ انکے اثاثے 5 کروڑ سے 20 کروڑ ہو گئے ہیں۔
    نیب وکیل نے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز سے پوچھا گیا کہ بیرون ملک سے جو پیسے آتے ہیں ان کا زریعہ بتا دیں لیکن حمزہ شہباز نہیں بتا سکے۔
    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا حمزہ شہباز عدالت میں موجود ہیں، جس پر ان کے وکیل سلمان بٹ نے بتایا کہ جی حمزہ شہباز کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔
    حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے صرف گرفتاری کی وجوہات اور انکوائری اور تفتیش سے متعلق دستاویزات دیں۔
    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کے وارنٹ گرفتاری چیئرمین نیب نے جاری کیے ہیں جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ چیئرمین نیب نے ان کے موکل کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
    جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیے کہ ہم جو بھی فیصلہ کریں گے بالکل قانون کے مطابق کریں گے۔
    پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز نے متعدد بینک اکاونٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنز کیں اور ان کے خلاف درخواست بھی موصول ہوئی۔
    انہوں نے بتایا کہ حمزہ شہباز سے آف شور کمپنیوں کے بارے میں پوچھا گیا جس کے وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔
    حمزہ شہباز نے اپنی درخواستیں ضمانت واپس لے لیں جس کے بعد نیب حکام نے حمزہ شہباز کو کمرہ عدالت سے گرفتار کیا جنہیں حراست میں لینے کے بعد نیب دفتر ٹھوکر نیاز بیگ منتقل کیا جائے گا۔

    حمزہ شہباز کی گرفتاری کیلئے نیب کے چھاپے
    واضح رہے کہ 5 اپریل 2019 کو پھر آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کی ٹیم نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا، تاہم وہ انہیں گرفتار نہیں کرسکی تھی۔
    اس واقعے کے اگلے روز 6 اپریل کو ایک مرتبہ نیب کی ٹیم مذکورہ کیسز میں حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ماڈل ٹاؤن کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی اور گھر کا محاصرہ کرلیا تھا۔
    لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ 96 ایچ میں موجود حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے نیب کا یہ دوسرا چھاپہ تھا۔
    تاہم نیب کی یہ کارروائی ڈرامائی صورتحال اختیار کر گئی تھی اور تقریباً 4 گھنٹے کے طویل محاصرے کے باوجود نیب ٹیم کے اہلکار رہائش گاہ کے اندر داخل نہیں ہوسکے تھے۔
    حمزہ شہباز کے قانونی مشیر نے نیب کے وارنٹ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری سے 10 روز قبل انہیں آگاہ کرنا ہوگا۔
    بعد ازاں اسی روز لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار شمیم نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے نیب کو 8 اپریل تک حمزہ شہباز کی گرفتاری سے روک دیا تھا۔
    جس کے بعد 8 اپریل کو حمزہ شہباز لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے اور ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد انہیں 17 اپریل تک ضمانت دے دی گئی تھی، جس میں بعد میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔

    https://www.dawnnews.tv/news/1104927/

    #2
    shahidabassi
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 31
    • Posts: 6991
    • Total Posts: 7022
    • Join Date:
      5 Apr, 2017

    Re: حمزہ شہباز احاطہ عدالت سے گرفتار

    ایسا بجٹ تو پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہی دیکھا تھا۔

    شام تک پرویز خٹک کی باری بھی آنے والی ہے

    #3
    Athar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 96
    • Posts: 1816
    • Total Posts: 1912
    • Join Date:
      21 Nov, 2016

    Re: حمزہ شہباز احاطہ عدالت سے گرفتار

    مخالفت اپنی جگہ

    لیکن حکومت کی ٹائمنگ پر داد دینا بنتا ہے باس

    کیا بات ہے اسے کہتے ہیں پڑھے لکھوں کی چالبازیاں واہ واہ واہ واہ ۔

Viewing 3 posts - 1 through 3 (of 3 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation