Thread: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

Home Forums Siasi Discussion جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

This topic contains 46 replies, has 16 voices, and was last updated by  JMP 10 months, 2 weeks ago. This post has been viewed 2154 times

Viewing 7 posts - 41 through 47 (of 47 total)
  • Author
    Posts
  • #41
    Sohail Ejaz Mirza
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 61
    • Posts: 2180
    • Total Posts: 2241
    • Join Date:
      28 Oct, 2017
    • Location: Middle East

    Re: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

    شیراز صاحب کسی لمبی بحث کا آغاز کئے بغیر بھٹو کے غاصبانہ کریکٹر کی ایک چھوٹی سی جھلک باوا جی کی پوسٹ نمبر ۳۲ میں موجود ہے۔ بھٹو صاحب نے ایک فوجی ڈکٹیٹر سے سازباز کر کے پاکستان پر بغیر کوئی الیکشن جیتے حکومت کی، ملک توڑنے میں کسی بھی سویلین کا اتنا بڑا کردار نہیں جتنا کہ اپنے بھٹو صاحب کا تھا۔ بھٹو صاحب نے کشمیر کا ایک بڑا ٹکڑا چین کو تحفے میں دے دیا، اور بھٹو صاحب نے انڈسٹری کو قومیا کر قوم کے مستقبل کو غصب کیا۔ بھٹو پر چارجز کی ایک بہت ہی لمبی لسٹ ہے اور یہاں ایسی کوئی چیز نہیں جو زبانِ زدِ عام نہ ہو اس لئے ان کے غاصبانہ اعمال کو پھر سے لکھنا شاید ضروری نہیں۔ رہی بات ان کے کرپٹ ہونے کی تو صرف ایک مثال دینا ہی فی الحال کافی سمجھتا ہوں۔ بھٹو صاحب نے قومی خزانے سے ساڑھے تین لاکھ سائیکلز دس سے بارہ ہزار موٹر سائیکل اور تین ہزار ٹیوب ویلز خریدے ان سب پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا پینٹ کیا گیا اور انہیں پیپلز پارٹی کے جیالے کارکنوں میں تقسیم کیا گیا۔ آپ تو شاید عمر میں چھوٹے ہیں اور ان چیزوں کے عینی شاہد نہیں لیکن یہاں جو ممبرز پچاس پلس عمر کے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ یہ ٹیوب ویلز، سائیکل اور موٹر سائیکلز صرف اور صرف ڈائی ہارڈ جیالوں ہی کو دئیے گئے۔ اس وقت کی اطلاعات کے مطابق اس کمپیئن پر ۱۲ سے تیرہ کروڑ روپئہ قومی خزانے سے استعمال ہوا۔ بھٹو کو میں نے قاتل بھی کہا جس پر آپ نے سوال نہیں اٹھایا۔ لیکن پنڈی میں ولی خان کے جلسے سے جو بیسیوں شہادتیں ہوئیں، یا ۱۹۷۷ کی بھٹو مخالف پر امن کمپئین پر تقریبا ہر چھوٹے بڑے شہر میں فائرنگ سے اڑھائی سو سے زائد لوگوں کو شہید کیا گیا تو کیا ان کا خون بھٹو کے حساب نہ لکھا جائے۔ میں تو خود اس کا گواہ ہوں کہ میرا ایک انتہائی پیارا دوست اور کلاس فیلو پولیس کی فائرنگ سے اپنا بھیجہ اڑوانے کے بعد میرے ہی ہا تھوں میں دم توڑ گیا تھا اور میں سولہ سال کی عمر میں اس کے قتل کا ملزم ٹھہرائے جانے کے بعد ایک سال تک ۳۰۲ کی پیشیاں بھگتتا رہا تھا۔

    عوام پر جلسوں اور جلوسوں پر فائرنگ کا میں بھی عینی شاہد ہوں۔ ایسا کئ شہروں میں ہوا۔

    پنڈی ویسٹریج کا علاقعہ پنڈی کے رہائشی بہتر بتا سکتے ہیں کِن کے لئے ایک مخصوص رہائشی علاقعہ تھا۔ میں وہاں 416-بی میں مُقیم تھا جب میرے ہمسائے 416-اے میں ایف ایس ایف کی ایک کمپنی کو بیس کیا گیا۔ بھٹو صاحب سِولیئن مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی رہے ہیں۔ سٹیشن کمانڈر کو ضرور دباؤ میں لایا گیا ہو گا ورنہ وہ علاقعہ عسکری افیسران کی فیملی اکاموڈیشن کا علاقعہ ہے۔ ایف ایس ایف خالصاً بھٹو صاحب کی ذاتی فوج ہوا کرتی تھی۔ یہ ایک ایسی انوکھی فوج تھی جِس کو خاص مواقع پر اِستعمال کے لیے دو وردیان اور دو فارمیشن سائن اِشو کیے گئے تھے۔

    ایک وردی رینجرز کی یونیفارم جیسی تھی اور دوسری اِنفنٹری جیسی۔ کہیں رینجرز جیسی وردی پہن کر پبلک پر ڈائریکٹ فائر کیئے گئے یا پھر فوجی یونیفارم جیسی وردی پہن کر۔ ایسا کیوں کیا جاتا تھا آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

    #42
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 101
    • Posts: 2525
    • Total Posts: 2626
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

    قرار جی ایسی جمہوریت آپکو ہی مبارک ہو جس میں پارٹی سربراہ کو پارٹی چلانے کیلیے اپنی بیوی اور بیٹی کے سوا پوری پارٹی میں کوئی دوسرا بندہ نظر نہیں آتا ہے بھٹو کو جمہوریت پسند ثابت کرنے کی کوشش کرکے آپ تاریخی حقائق کو نہیں بدل سکتے ہیں اور تاریخی حقائق یہی ہیں کہ بھٹو کا جمہوریت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا ویسے بھٹو کو پیغمبری دلانے کے مشن میں میں آپکے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوں لیکن مجھے یہ دیکھکر آجکل حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے نواسہ بھٹو کو چھوڑ کر دختر نواز شریف کے ہاتھ پر بیت کر لی ہے کیا یہ “خاندان شہیداں” سے غداری کے مترادف نہیں ہے؟ :bigsmile: :lol: :hilar:

    باوا جی ….آج آپ کو وراثتی اور خاندانی سیاست بری لگ رہی ہے لیکن بیشتر اسلامی خلفاء کیسے بنے تھے ….ایک مسلمان ہو کر وراثتی سیاست پر تنقید چہ معنی دارد

    آپ شاید بھول گئے کہ آپ پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ ….جیوے جیوے پاکستان کی دھن تلے …تادم مرگ ملکہ برطانیہ اور اس کی اولاد کی وفاداری کا حلف اٹھا کر ….آپ کینیڈا کے شہری بن چکے ہیں ….اور بوجھیں تو بھلا اس وقت کینیڈا کا پرائم منسٹر کون ہے؟ …. لبرل پارٹی کا لیڈر بنتے وقت …. اس کی سب سے باڑی قابلیت اس کا سابق پرائم منسٹر پئیر ٹروڈو کا بیٹا ہونا تھا

    :bigsmile:

    #43
    Awan
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 122
    • Posts: 2416
    • Total Posts: 2538
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

    باوا جی ….آج آپ کو وراثتی اور خاندانی سیاست بری لگ رہی ہے لیکن بیشتر اسلامی خلفاء کیسے بنے تھے ….ایک مسلمان ہو کر وراثتی سیاست پر تنقید چہ معنی دارد آپ شاید بھول گئے کہ آپ پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ ….جیوے جیوے پاکستان کی دھن تلے …تادم مرگ ملکہ برطانیہ اور اس کی اولاد کی وفاداری کا حلف اٹھا کر ….آپ کینیڈا کے شہری بن چکے ہیں ….اور بوجھیں تو بھلا اس وقت کینیڈا کا پرائم منسٹر کون ہے؟ …. لبرل پارٹی کا لیڈر بنتے وقت …. اس کی سب سے باڑی قابلیت اس کا سابق پرائم منسٹر پئیر ٹروڈو کا بیٹا ہونا تھا :bigsmile:

    Qarar Bhai, instead of against blood line or family politics I am in favor of that. I don’t feel like many others that politics is an easy job; in fact it takes decades to learn the art of politics. If you have a big resource at your home who have practical experience then it becomes an easy task to become political mature. Although it has more to do with political talent as well; Zardari cannot teach much politics to Bilawal as I don’t think he has much political talent. Rahul Gandhi is also a good example of lack of political talent; PM ship was a piece of cake for him but party was forced to make Manmohan Singh as PM. In new generation Maryam and Hamza both have political talent that is why I don’t see PML(N) future that blank as PPP and PTI’s.

    #44
    Shiraz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 19
    • Posts: 827
    • Total Posts: 846
    • Join Date:
      31 May, 2017
    • Location: شمالی امریکہ

    Re: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

    شیراز صاحب کسی لمبی بحث کا آغاز کئے بغیر بھٹو کے غاصبانہ کریکٹر کی ایک چھوٹی سی جھلک باوا جی کی پوسٹ نمبر ۳۲ میں موجود ہے۔ بھٹو صاحب نے ایک فوجی ڈکٹیٹر سے سازباز کر کے پاکستان پر بغیر کوئی الیکشن جیتے حکومت کی، ملک توڑنے میں کسی بھی سویلین کا اتنا بڑا کردار نہیں جتنا کہ اپنے بھٹو صاحب کا تھا۔ بھٹو صاحب نے کشمیر کا ایک بڑا ٹکڑا چین کو تحفے میں دے دیا، اور بھٹو صاحب نے انڈسٹری کو قومیا کر قوم کے مستقبل کو غصب کیا۔ بھٹو پر چارجز کی ایک بہت ہی لمبی لسٹ ہے اور یہاں ایسی کوئی چیز نہیں جو زبانِ زدِ عام نہ ہو اس لئے ان کے غاصبانہ اعمال کو پھر سے لکھنا شاید ضروری نہیں۔ رہی بات ان کے کرپٹ ہونے کی تو صرف ایک مثال دینا ہی فی الحال کافی سمجھتا ہوں۔ بھٹو صاحب نے قومی خزانے سے ساڑھے تین لاکھ سائیکلز دس سے بارہ ہزار موٹر سائیکل اور تین ہزار ٹیوب ویلز خریدے ان سب پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا پینٹ کیا گیا اور انہیں پیپلز پارٹی کے جیالے کارکنوں میں تقسیم کیا گیا۔ آپ تو شاید عمر میں چھوٹے ہیں اور ان چیزوں کے عینی شاہد نہیں لیکن یہاں جو ممبرز پچاس پلس عمر کے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ یہ ٹیوب ویلز، سائیکل اور موٹر سائیکلز صرف اور صرف ڈائی ہارڈ جیالوں ہی کو دئیے گئے۔ اس وقت کی اطلاعات کے مطابق اس کمپیئن پر ۱۲ سے تیرہ کروڑ روپئہ قومی خزانے سے استعمال ہوا۔ بھٹو کو میں نے قاتل بھی کہا جس پر آپ نے سوال نہیں اٹھایا۔ لیکن پنڈی میں ولی خان کے جلسے سے جو بیسیوں شہادتیں ہوئیں، یا ۱۹۷۷ کی بھٹو مخالف پر امن کمپئین پر تقریبا ہر چھوٹے بڑے شہر میں فائرنگ سے اڑھائی سو سے زائد لوگوں کو شہید کیا گیا تو کیا ان کا خون بھٹو کے حساب نہ لکھا جائے۔ میں تو خود اس کا گواہ ہوں کہ میرا ایک انتہائی پیارا دوست اور کلاس فیلو پولیس کی فائرنگ سے اپنا بھیجہ اڑوانے کے بعد میرے ہی ہا تھوں میں دم توڑ گیا تھا اور میں سولہ سال کی عمر میں اس کے قتل کا ملزم ٹھہرائے جانے کے بعد ایک سال تک ۳۰۲ کی پیشیاں بھگتتا رہا تھا۔

    شکریہ، شاہد

    بھٹو کے غاصب ہونے کے جو حوالے آپ نے دئیے ہیں وہ انفرادی نہیں، اجتماعی سطح پر ہیں اور متنازع ہیں دونوں طرف کچھ حقائق اور کچھ دلائل ہیں، آپ چاہیں تو ان پر بات ہو سکتی ہے، آپکی بات سے مجھے اس کے ذاتی حیثیت میں غاصب ہونے کا شک پڑ گیا تھا

    کرپشن کی جو مثال آپ نے دی ہے وہ واقعتاً میرے لئے نئی معلومات ہیں میرے شعور سنبھالنے سے پہلے کا زمانہ ہے، سکینڈے نیوین معاشرے میں تو اس طرح کی بات کو شائد کبھی بھی جائز قرار نہ دیا جا سکے لیکن کیمونسٹ/سوشلسٹ (جس نظریے پر بھٹو کی اٹھان تھی یا جس کو اس نے طاقت حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا) معاشروں میں اس طرح ریاستی پیسے پر کارکنوں کیلئے عیاشی کا انتظام ایک عام سی بات ہے اسلئے اس کا کسی حد تک جواز بن جاتا ہے، بات پھر وہی ہے کہ یہ کرپشن بھی اجتماعی سطح پر تھی ذاتی منفعت کیلئے نہیں، بھٹو نہ ہی راشد خلیفہ تھا اور نہ ہے نواز شریف/زرداری

    تیسرے نکتے پر مجھے بہت حد تک اپ سے اتفاق ہے لیکن میں پھر بھی بھٹو کو براہ راست قاتل کہنے سے گریز کروں گا وہ ایک منتقم مزاج وڈیرہ تھا۔ خیالِ خاتم میں، جسے اسکی فطرت نے پچھاڑ دیا

    #45
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 147
    • Posts: 13067
    • Total Posts: 13214
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

    باوا جی ….آج آپ کو وراثتی اور خاندانی سیاست بری لگ رہی ہے لیکن بیشتر اسلامی خلفاء کیسے بنے تھے ….ایک مسلمان ہو کر وراثتی سیاست پر تنقید چہ معنی دارد آپ شاید بھول گئے کہ آپ پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ ….جیوے جیوے پاکستان کی دھن تلے …تادم مرگ ملکہ برطانیہ اور اس کی اولاد کی وفاداری کا حلف اٹھا کر ….آپ کینیڈا کے شہری بن چکے ہیں ….اور بوجھیں تو بھلا اس وقت کینیڈا کا پرائم منسٹر کون ہے؟ …. لبرل پارٹی کا لیڈر بنتے وقت …. اس کی سب سے باڑی قابلیت اس کا سابق پرائم منسٹر پئیر ٹروڈو کا بیٹا ہونا تھا :bigsmile:

    :thinking:

    قرار جی

    آپکو اتنی بڑی بڑی چولیں مارنے کی عادت پاکستان میں بھی تھی یا بیرون ملک آ کر رنگ برنگی بتیاں دیکھکر ذہنی توازن برقرار نہ رہ سکنے کی وجہ سے یہ بیماری لگی ہے؟

    :bigsmile: :lol:   :hilar:

    کیا جسٹن ٹروڈو کا باپ بھٹو یا نواز شریف کی طرح اسے بغل میں دبا کر اندرون ملک اور بیرون ملک دورے کیا کرتا تھا؟ کیا جسٹن ٹروڈو کو لبرل پارٹی اپنی ماں کی وصیت میں ملی ہے؟ کیا جسٹس ٹروڈو کے باپ نے زرداری کی طرح اپنے بیٹے کی رسم بوٹ چٹائی کے صلے میں اپنی پارٹی کو ملنے والی سینیٹ کی چیئرمین شپ فوجیوں کے بوٹوں پر قربان کر دی تھی؟

    جسٹن ٹروڈو کے وزیر اعظم بننے میں وراثت کا نہیں، انکی اپنی قابلیت کا عمل دخل ہے. اسکی قیادت میں لبرل پارٹی نے پچھلے الیکشن سے ایک سو پچاس سیٹیں زیادہ حاصل کی ہیں اور دس سال بعد دوبارہ اقتدار میں آئی ہے

    یہ درست ہے کہ اپنے باپ کے کینیڈین پولیٹکس میں ایک تاریخی حیثیت اور نام کی وجہ سے اسے سیاست میں آگے آنے میں مدد ضرور ملی ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اگر اس کے نام کے ساتھ لفظ ٹروڈو نہ جڑا ہوتا تو وہ نہ لبرل پارٹی کا لیڈرشپ الیکشن جیت سکتا تھا اور نہ عام انتخابات جیت کر پرائم منسٹر بن سکتا تھا. پارٹی کی قیادت نہ تو اسے ماں کی کسی جعلی وصیت میں پارٹی اسے سونپنے کی وجہ سے اور نہ ہی اسکے باپ کے اسے اپنی سٹپنی کی طرح ہر جلسے میں ساتھ لیکر جانے کی وجہ سے ملی ہے. وہ براہ راست پارٹی کی قیادت پر براجمان نہیں ہوا ہے بلکہ پارٹی میں اپنا نام بنا کر اور اپنے آپ کو منوا کر پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے اہل ہوا ہے

    جسٹن ٹروڈو چوالیس سال کی عمر میں وزیر اعظم بنا. وزیر اعظم بننے سے پہلے وہ ملکی سیاست سے نابلد نہیں تھا. وہ دو ہزار نو میں مونٹریال سے پارلیمنٹ (ہاؤس آف کامن) کا ممبر منتخب ہوا تھا. لبرل پارٹی کی سربراہی اسے بغیر کسی اہلیت کے وراثت میں نہیں ملی تھی بلکہ اس نے باقائدہ پارٹی سربراہ کا انتخاب جیت کر پارٹی کی سربراہی حاصل کی تھی اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی اپنی پارٹی میں اندرونی اختلافات ختم کروا کر اور اسے منظم کرکے صرف دو سال میں اسے اکثریت دلوا کر بر سر اقتدار آیا ہے

    میرے خیال میں جسٹن ٹروڈو کا پاکستان کے دو نمبری فوجیوں کے بوٹ چاٹنے والے وراثتی سیاست دانوں سے موازنہ کا کوئی جواز نہیں ہے

    کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی
    مِہر تیری قسمت ھے آنہ نہ دھیلی

    :bigthumb:

    #46
    nayab
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 12
    • Posts: 1494
    • Total Posts: 1506
    • Join Date:
      24 Nov, 2016

    Re: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

    اسے خبر تھی کہ تاریخ اس میں زندہ ہےکہ اس کا نام ستاروں میں کب سے لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔نوڈیرو میں گونج لہو کی سن لو اپنے کانوں سےخون ناحق چھپ نہیں سکتا مذہب کے دستانوں سے









    • This reply was modified 10 months, 2 weeks ago by  nayab.
    #47
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 236
    • Posts: 4197
    • Total Posts: 4433
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: جب خوابوں کا قتل ہُوا4 اپریل

    مرحوم بھٹو صاحب کی جماعت کے سینکڑوں کارکنوں نے ہنستے ہوے جان گنوائی، کوڑے کھاۓ ، جیلوں میں بند ہوے مگر مرحوم کے ساتھ عقیدت رکھی

    پنجاب ہو، سرحد ہو، سندھ ہو یا بلوچستان پاکستان پیپلز پارٹی کا جھنڈا ہر جگہہ نظر آتا تھا . یہ جماعت پاکستان کے اکثر علاقوں میں انتخابات میں یا تو جیتتی تھی یا اپنے مخالف سے سخت مقابلہ کر کے ہارتی تھی

    آج یہ نوبت ہے کے جان دینا دور کو بات ، کوڑے کھانا بھی دور کی بات، جیل جانا بھی دور کی بات ، اب کارکن اس جماعت کو ووٹ تک نہیں ڈالتے اور نہ ہی اس جماعت کے نام پر انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں

    عروج اور زوال کی ایک بہترین مثال

    وقتی اور دائمی عزت کی ایک مثال

    رہنماء اور عھدہ کے درمیان فرق کی ایک جیتی جاگتی مثال

Viewing 7 posts - 41 through 47 (of 47 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!