Thread: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

Home Forums Siasi Discussion تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

This topic contains 14 replies, has 9 voices, and was last updated by  Awan 2 months, 2 weeks ago. This post has been viewed 436 times

Viewing 15 posts - 1 through 15 (of 15 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 121
    • Posts: 2401
    • Total Posts: 2522
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    – پاکستان کی سیاست میں دو طویل کردار ادا کرنے والی شخصیا ت کے دو مختلف ماڈل تھے – ذوالفقار علی بھٹو وہ پہلی شخصیت تھی جس کا اپنا اور اس کی اگلی نسل کا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گہرا عمل دخل رہا – بھٹو نے نچلے ، مزدور اور غریب طبقے کا نمائندہ بن کر ان کے حقوق کو اپنی سیاست کا مرکز بنایا -اداروں اور نجی کارخانوں کو سرکاری تحویل میں لینا ، سرکاری اداروں میں یونین قائم کرنا اور مزدور طبقے کے لئے دیگر مراعات اسی طرف اشارہ کرتی ہیں – آپ اسے بھٹو کی سیاست کا ایک ماڈل کہہ سکتے ہیں –
    نواز شریف کا ماڈل اس سے مختلف تھا – نواز شریف نے مختلف ترقیاتی کام کئے جس سے عام آدمی براۓ راست مستفید ہوا – موٹروے ، میٹرو بس ، میٹرو ٹرین ، کھیت سے منڈی کی سڑکیں اور سی پیک سب اسی کی مثالیں ہیں – اپنے گھر کے سامنے گلی یا سڑک سے لے پورے ملک کو ملانے والے موٹر ویز نے عام آدمی دکھایا کہ کام وہ ہے جو نظر آئے –
    اب پاکستان میں ایک تیسری شخصیت ہے جو آگے طویل عرصے تک اپنا نقش پا چھوڑنے والی ہے وہ ہے عمران خان ، وہ اپنی سیاست کا کیا ماڈل بنا رہی ہے-

    خان صاحب نے ایک ماڈل پیش کیا کہ اگر ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے تو ملک فل فور ترقی کرنا شروع ہو جائے گا – یہ ایک نا ممکن حد تک مشکل حل تھا اس میں بھی فرض کر لیا گیا کہ سب سے زیادہ کرپشن سیاست دان کرتے

    ہیں – سیاست دانوں کی کرپشن کافی حد تک رکی مگر چونکے یہ انتہاای غلط اندازہ تھا ملک کو کوئی خاص فائدہ تھا – پھر خان صاحب نے اپنے پرائے کا بھی خیال رکھا جس سے عوام کی نظر میں یہ پٹ گیا اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں خان صاحب بھی پٹ گئے ابھی پلوں کے نتیجے میں بہت سا پانی گزرنا باقی ہیں – کرپشن کے خلاف جنگ نے ہر کرپٹ کو خوفزدہ کیا اور وہ پیسہ گھوٹ کر بیٹھ گیا جس سے مہیشت بھی بیٹھ گئی – مجھے لگتا ہے آھستہ آھستہ مہیشت بہتری کی طرف آئے گی مہنگائی کا طوفان اگلے چھ مہینے کے بحد کچھ کنٹرول میں آ جائے گالوگ بھی کب تک کیش گھروں میںگو ٹین گے – کرپشن کے خلاف جنگ اب خان صاحب کو ڈھیلی کرنی پڑے گی –

    Bawa

    Atif

    Ghost Protocol

    shami11

    Believer12

    • This topic was modified 3 months, 2 weeks ago by  Awan.
    #2
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 698
    • Posts: 7766
    • Total Posts: 8464
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    اعوان صاحب – کرپشن کی داستانیں سنانا اور اپنے پیچھے لوگوں کو لگانا بہت آسان ہے ٠ اب جب کے موجودہ حکومت خود مانتی ہے کے پاکستانیوں کے کوئی دو سو ارب ڈالر باہر نہی پڑے ، پیسہ باہر تو گیا ہے مگر اس میں سے پچاسی فی صد بینکوں کے ذریعے سے گیا ہے تو اس غبارے میں سے بھی ہوا نکل گئی ہے

    حکومت کے پاس سوائے چھوٹے موٹے غیر معمولی منصوبوں اور چند ایک کی افتتاحی تقریبات کرنے کے علاوہ اور کچھ کام نظر نہی آتا ، ان کی پوری توجہ اپنے نیچے سے نکلتی ریت پر ہے جو آہستہ آہستہ کھسک رہی ہے ، اکانومی کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے ، لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں ، دنیا میں تیل کی قیمتیں کم اور پاکستان میں اس کا فائدہ عام عوام کو نہی دیا جا رہا ، حکومت کا جب دل کرتا ہے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں

    آج کی تازہ خبروں کے مطابق گوورنراسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا – مجھے تو عمران خان پر اب ترس آنے لگ گیا ہے

    #3
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 156
    • Posts: 7305
    • Total Posts: 7461
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    دراصل کافی عوام کا خیال یہی ہے کہ عمران خان نے پہلی بار کرپشن کے خاتمے کا ماڈل پیش کیا ہے اور اسے کام کرنے دیا جائے تو وہ کامیاب ہوجائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ماڈل پر پاکستان بننے کے فورا” بعد ہی کام شروع ہوگیا تھا اور جرنیلوں نے ہر سیاستدان کو کرپشن کے نام ہر ہی شکست دینے کا گھسا پٹا سکرپٹ دہرانا ہوتا ہے۔

    خواجہ ناظم الدین کے دور سے بائیس خاندانوں تک اور اب یہ کہ سرے محل، دو سو ارب ڈالر اور لندن فلیٹ وغیرہ، سب وہی ٹوٹکے ہیں جن سے دردِ زہ میں مبتلا جرنیل خود کو سکون دیتے آئے ہیں۔ شائید کچھ عرصہ مزید لگ جائے لیکن انٹرنیٹ اور موبائل کی دنیا میں عوام کو بےوقوف بنائے رکھنا اب آسان نہیں رہے گا۔ جس طرح سوشل میڈیا کو قابو کرنے کیلئے بین الاقوامی طور پر قوانین سازی کی جارہی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ آئیندہ سالوں میں فوجی میڈیا سیلز کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہے گا کہ اپنے مکروہ پروپیگنڈے کو عام عوام تک پہنچا سکیں۔

    عوام پوچھے گی کہ اگر بھٹو نے ملک توڑا تھا تو اسے سزا ایک قتل کے الزام میں کیوں ہوئی ، زرداری نے اگر کروڑوں ڈالر لوٹے تو افواج کا سپریم کمانڈر کیونکر بنا اور نواز شریف نے اگر کرپشن کی تھی تو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں قید کیوں کاٹی۔

    میرے نزدیک اس تھیوری میں کوئی وزن ہی نہیں کہ عمران خان اگر مبینہ طور پر پہلی مرتبہ کرپشن کے خاتمے کا کوئی ایجنڈا لے کر آیا ہے تو عوام کی طرف سے کوئی پذیرائی بھی ملے گی۔ عوام کو اپنے مسائل کے حل سے سروکار ہے کسی کرپشن کے من گھڑت قصے سے نہیں۔

    #4
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 121
    • Posts: 2401
    • Total Posts: 2522
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    عاطف اور شامی بھائی میں آپ دونوں سے متفق ہوں کہ یہ نیا نعرہ نہیں ہے مگر دوسری دونوں پارٹیوں کے منشور بھی ایسے ہی تھے – بھٹو غریب کو ان کے حقوق دلانے کی بات کرتا تھا جو ہر پارٹی کرتی ہے مگر اس نے کچھ عملی اقدامات کئے جس سے غریب کو لگا کہ واقعی اس کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے – اگرچے یہ بھٹو کا سیاسی گر تھا غریب کو آگے لگا کر وہ ووٹ بٹورنا چاہتا تھا – یہ مخالفین کہتے تھے اور حامی اسے حقیقی غریب کا نمائندہ سمجھ کریا حمایت لے کر جیسے تیسے ثابت کرتے تھے کہ بھٹو غریب عوام کی جنگ لڑ رہا ہے – بلکل ایسے ہی نواز کے حامی اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں اور مخالفین اسے کرپٹ اور سب کچھ اپنے ووٹ لینے کے لئے جھوٹ موٹ کا انقلابی گنتے ہیں – خان تو اقتدار میں آنے اور فوجیوں کو گلے لگانے سے پہلے سے یہی بات کرتا ہے – ہم سب خان سے کسی نہ کسی دور میں اس خیال کے حامی رہے ہیں – یہ درست ہے کہ خان اپنے اس ایجنڈے کے ساتھ کبھی اقتدار میں نہ آ سکتا اگر فوجی اس کی حمایت نہ کرتے – فوجیوں نے نواز کی طاقت کا توڑ خان کی باتوں کو بھونپو لے کر پھیلایا تھا -میڈیا کے تھرو اسے خوب اچھال کر یہ نعرہ بیچا اور کچھ دوسرے ہتھکنڈے استعمال کئے – فوج میں یہ تاثیر عام پایا جاتا تھا کہ اگر اب نواز کا ہاتھ نہ پکڑا گیا تو پھر یہ اتنا مضبوط ہو جائے گا کہ پورا سسٹم اس کا حامی بن جائے گا – یہ حقیقت ہے کہ پانامہ کے ہوتے بھی میاں صاحب چوتھی بار وزیر اعظم بن جاتے اگر زبردستی اسے اتارا نہ جاتا -اصل چیز اختلافات نہیں وہ خوف تھا جو بھٹو کے ھوتے ھوۓ بھی تھا اور اسے کیسے چلتا کیا عدالتوں کو استعمال کر کے اور یہاں بھی عدالتوں کو استعمال کیا گیا – گر وہی ہیں -سیف کا یہ کہنا کسی حد تک درست ہے –
    سیف بات بدل دیتا ہے انداز بیان
    ورنہ کوئی بات نئی بات نہیں ہے
    فوجیوں نے اسے اپنے مقاصد اور خان نے اقتدار میں آنے کے لئے سیڑھی کے طور پر چنا -ایسا ہی کوئی سہارہ بھٹو اور نواز بھی کبھی اسٹیبلشمنٹ کا کندھا استعمال کر کے لیا کرتے تھے – فوجیوں نے تینوں کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور استعمال کر کے چھو ڑ دیا – خان جو بھی ہے اب ایک مضبوط طاقت بن چکا ہے کیوں کہ اب اس کے حامی کام کر رہے ہیں –
    آگے جا کر خان کے حامی کچھ کم ہونگے کچھ ساتھ رہینگے مگر اب پنجاب میں یہ پہلی نہیں تو دوسری قوت ہے – نون اور انصافی ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں اس بات پر – ہم لوگ تو پھر اسے ذاتی جنگ بنا لیتے ہیں –
    اگر خان پانچ سال گزار گیا تو اگلی بار حمایتی تو کہیںگے جو اب بھی کہتے ہیں اور مخالفین خان کے ساتھ ڈٹے رہینگے -یوں نون اور انصاف کا بیر رہے گا –

    Atif

    shami11

    Bawa

    • This reply was modified 3 months, 2 weeks ago by  Awan.
    #5
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 138
    • Posts: 4379
    • Total Posts: 4517
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    Awan   bhaai,

    لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کجیے

    :bigsmile: :bigsmile: :bigsmile:

    Nawaz sharif model

    #6
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 121
    • Posts: 2401
    • Total Posts: 2522
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    گھوسٹ بھائی ہمارے سیاست دانوں میں سب فیز آتے ہے خان کو اب سمجھ آ رہی ہے مجھے اپنے کئے کی ادائیگی کرنی پڑے گی جتنی جلدی سمجھ جائے گا اچھا ہے پھر بھی نہیں سمجھے گا تو دوبارہ اپوزیشن میں جا کر سمجھے گا – نواز بھی جوانی میں وہ سب کرتا رہا ہے جو اب خان کو بھی کرنا پڑے گا – مزے کی بات ہے جب نواز اوپر خطاب کر رہا تھا تو خان بیچ پر لیٹ کر گوریوں کالی ، دیسی سب کے ساتھ مزے کرتا تھا – جسمانی اور اخلاقی کرپشن اور وہ بھی کتنے مزے کی –

    Ghost Protocol

    Bawa

    #7
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 4429
    • Total Posts: 4429
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    اعوان جی ۔۔۔۔۔

    پا کستان  سیاست میں کردار ادا کرنے وا لی شخصیا ت کے دو بڑے ما ڈل تھے ۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن آپ نے یہ نہیں فرما یا ۔۔۔۔۔ پا کستان کا بیٹر ہ غرق کرنے والی ۔۔۔۔۔۔ عوام۔۔۔۔۔۔ کے کتنے ما ڈل ملک کے اندر موجود ہیں ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔  بھٹوکے جیالے ۔۔۔۔۔۔ نوا ز شریف کے متوالے ۔۔۔۔۔ ما ڈل عوام تو آپ نے سنیں ہونگے ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن اس ملک پر جو ستم ۔۔۔۔۔۔۔خیا لی آسما نی جنت کے خوابوں پر یقین کرنے والی عوام نے ڈھا یا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس کی کوئی مثال نہیں ۔۔۔۔۔

    آسما نی تخیلا تی خوابوں پر یقین کرکے ملک کا بیڑہ غرق کرنے والی ۔۔۔۔ ماڈل عوام ۔۔۔۔۔۔۔

    پہلے کراچی میں نمودار ہوئی جس نے ۔۔۔۔۔ خیالی حق پرست ۔۔۔۔۔ کے خواب کی تعبیر میں خون اور بوریوں کی ند یاں بہا دیں ۔۔۔۔۔

    دوسرے ۔۔۔۔۔ آسمانی تخیلا تی خوابی ماڈل ۔۔۔۔۔۔ عوام ۔۔۔۔۔۔۔ دھرنے میں نمودار ہوئی ۔۔۔۔۔۔ جو بہتانوں سے ۔۔۔۔۔۔ خیالی  تبد یلی و انقلاب ۔۔۔۔۔ برپا کرنے چلی تھی ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    ان دو آسما نی تخیلات پر یقین کرنے والی ماڈل عوام کے بارے ۔۔۔۔۔ کچھ بتا ئیے ۔۔۔۔۔ ان کی کیا سزا ہونی چا ھیے ۔۔۔۔۔۔۔

    #8
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 235
    • Posts: 4196
    • Total Posts: 4431
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    ویسے تو ان تینوں “بڑی” جماعتوں میں مجھ کند ذہن کو کوئی زیادہ فرق نظر نہیں آتا گو میرے خیال میں

    ایک جماعت کا طریقہ ہے کے سب مل کر کھیلو
    دوسری جماعت کا وطیرہ ہے کے صرف میں کھیلوں کہ میرا بلا میری گیند، میرا میدان ، میرے امپائر ، پہلی باری میری اور دوسری بھی .
    تیسری جماعت کا طریقہ کار ہے کہ نہ خود کھیلوں گا نہ کسی اور کو کھیلنے دوں گا

    اب کون سی جماعت پہلی ہے ، دوسری اور تیسری ، آپ تعیین کر لیں

    کھیلنے کی جگہہ پر انہی حروف تہجی کا ہیر پھیر کر کے اور ایک آدتھ حرف بڑھا یا گھٹا کر کچھ اور لفظ بھی بنا سکتے ہیں یا کھیلنے پر ہی اکتفا کر سکتے ہیں

    #9
    Gulab Khan
    Participant
    Offline
    • Member
    • Threads: 0
    • Posts: 62
    • Total Posts: 62
    • Join Date:
      24 Sep, 2019
    • Location: مریخ

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    سب سے بڑی ، منظم اور مسلح سیاسی جماعت کا ذکر ہی نہیں جو ہر چند سال بعد ان تینوں جماعت کا دن دھاڑے بلت کار کرتی ہے

    جس کے در پر اقتدارِ کے لنگر :o :o

    ڈیل ، پوجا پاٹ

    :hilar: :hilar:

    ان کے ڈنڈے کا ماڈل اور سائز بھی بڑھ رہا ہے

    :yapping:

    #10
    نادان
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 93
    • Posts: 14273
    • Total Posts: 14366
    • Join Date:
      31 Aug, 2016

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    Awan bhaai, لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کجیے :bigsmile: :bigsmile: :bigsmile:

    Nawaz sharif model

    ایسا مذاق نہیں کرنے کا .

    :lol: :lol: :lol:

    #11
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 121
    • Posts: 2401
    • Total Posts: 2522
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    اعوان صاحب – کرپشن کی داستانیں سنانا اور اپنے پیچھے لوگوں کو لگانا بہت آسان ہے ٠ اب جب کے موجودہ حکومت خود مانتی ہے کے پاکستانیوں کے کوئی دو سو ارب ڈالر باہر نہی پڑے ، پیسہ باہر تو گیا ہے مگر اس میں سے پچاسی فی صد بینکوں کے ذریعے سے گیا ہے تو اس غبارے میں سے بھی ہوا نکل گئی ہے حکومت کے پاس سوائے چھوٹے موٹے غیر معمولی منصوبوں اور چند ایک کی افتتاحی تقریبات کرنے کے علاوہ اور کچھ کام نظر نہی آتا ، ان کی پوری توجہ اپنے نیچے سے نکلتی ریت پر ہے جو آہستہ آہستہ کھسک رہی ہے ، اکانومی کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے ، لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں ، دنیا میں تیل کی قیمتیں کم اور پاکستان میں اس کا فائدہ عام عوام کو نہی دیا جا رہا ، حکومت کا جب دل کرتا ہے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں آج کی تازہ خبروں کے مطابق گوورنراسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا – مجھے تو عمران خان پر اب ترس آنے لگ گیا ہے

    شامی بھائی ان سب باتوں کے باوجود تحریک انصاف دوسری سب سے بڑی قوت بن چکی ہے پہلے سال کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے مگر اب آگے جا کر مہیشت کچھ سمبھل جائے گی – ڈولر پچھلے چار مہینے سے ایک جگہ کھڑا ہے اسٹاک مارکیٹ بھی قدرے بہتر ہو جائے گی -زر مبادلہ کے ذخائر اب کافی ہیں – مہنگائی ابھی سال تک ایسے ہی رہے گی ایک اور سال پھر قدرے کم ہو گی – ٹریڈ خسارہ کم ہونے کے بات حکومت ڈیوٹی کم کر کے اور کچھ ڈیمانڈ بننے سے امپورٹ پھر زیادہ ہو جائے گی اور دو چار فیصد ایکسپورٹ بھی بڑھ جائے گی – خان صاحب کہیں نہیں جا رہے پانچ سال یہاں پر ہی ہیں حالات کی وجہ سے تو بلکل بھی نہیں جا رہے البتہ نواز کی طرح فوجیوں سے پنگا لیا تو پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی آ سکتی ہے جیسے نواز کے بحد آئی تھی – نہ مارشل لاء اور نہ نئے الیکشن ان دونوں کا کوئی امکان نہیں ہے – یاد رہے یہ سب میں شارٹ ٹرم نہیں اگلے کئی سالوں کے تناظر میں دیکھ رہا ہوں –

    Bawa

    Ghost Protocol

    Atif

    #12
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 147
    • Posts: 13003
    • Total Posts: 13150
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    شامی بھائی ان سب باتوں کے باوجود تحریک انصاف دوسری سب سے بڑی قوت بن چکی ہے پہلے سال کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے مگر اب آگے جا کر مہیشت کچھ سمبھل جائے گی – ڈولر پچھلے چار مہینے سے ایک جگہ کھڑا ہے اسٹاک مارکیٹ بھی قدرے بہتر ہو جائے گی -زر مبادلہ کے ذخائر اب کافی ہیں – مہنگائی ابھی سال تک ایسے ہی رہے گی ایک اور سال پھر قدرے کم ہو گی – ٹریڈ خسارہ کم ہونے کے بات حکومت ڈیوٹی کم کر کے اور کچھ ڈیمانڈ بننے سے امپورٹ پھر زیادہ ہو جائے گی اور دو چار فیصد ایکسپورٹ بھی بڑھ جائے گی – خان صاحب کہیں نہیں جا رہے پانچ سال یہاں پر ہی ہیں حالات کی وجہ سے تو بلکل بھی نہیں جا رہے البتہ نواز کی طرح فوجیوں سے پنگا لیا تو پارلیمنٹ کے اندر سے تبدیلی آ سکتی ہے جیسے نواز کے بحد آئی تھی – نہ مارشل لاء اور نہ نئے الیکشن ان دونوں کا کوئی امکان نہیں ہے – یاد رہے یہ سب میں شارٹ ٹرم نہیں اگلے کئی سالوں کے تناظر میں دیکھ رہا ہوں – Bawa Ghost Protocol Atif

    کسی پارٹی کو فوجی انگلی دے کر کھڑی کرنے سے وہ قوت نہیں بن جاتی ہے. ایک سیاسی پارٹی کے قوت بننے کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب اس کے پیچھے سے فوجی انگلی نکل چکی ہوتی ہے

    اس وقت تحریک انصاف کے پیچھے سے فوجی انگلی نکال دیں تو وہ وہی بیس سال میں ایک سیٹ والی پارٹی رہ جاتی ہے جسے اس کی واحد سیٹ بھی جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم کے صلے میں ہی نصیب ہوئی تھی

    جب فوجی انگلی کے بغیر تحریک انصاف الیکشن لڑے گی اور سیٹیں لے گی تو اس کی سیاسی قوت کا پتہ چلے گا فی الحال اسے دوسری سیاسی قوت تو کیا ایک سیاسی قوت کہنا بھی مناسب نہیں ہے

    ابھی کل ہی کی بات ہے کہ فوجیوں نے مسلم لیگ قاف کو انگلی دے کر سیاسی وقت بنایا تھا لیکن جیسے ہی فوجیوں نے انگلی باہر نکالی تو مسلم لیگ قاف الٹے منہ زمین پر گر گئی. یہی حال تحریک انصاف کا ہے. ابھی اسے دوسری بڑی سیاسی قوت کہنے سے پہلے اس کے پیچھے سے فوجی انگلی نکلنے کا انتظار کریں

    #13
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 121
    • Posts: 2401
    • Total Posts: 2522
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    اس تھریڈ کو زندہ کرنے کی ایک کوشش کر رہا ہوں – تینوں بڑی پارٹیوں کے ماڈل اس طرح ہیں :
    ذولفقار علی بھٹو – غریب اور نچلے طبقے کو حقوق دینا
    نواز شریف – تحمیراتی منصوبوں سے عوام کو دکھانا کہ کام وہ ہوتا ہے جو نظر آئے
    عمران خان – ملک کی ترقی صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو

    بھٹو اور نواز کے ماڈل کو نافذ کرنا نسبتاً آسان تھا – بھٹو نے اداروں کو قومی تحویل میں لیا اور نچلے طبقے کے لئے بہت سی مرا عات کا اعلان کر کے نچلے طبقے کے دل جیت لئے اگرچے یہ فیصلے ملکی مہیشت کے لئے زہر قاتل ثابت ہوۓ – میاں صاحب نے اپنے ووٹر کو دکھایا کہ جیسے ہی وہ گھر سے باہر قدم رکھے گا اسے حکومت کے کام اپنی آنکھوں سے نظر آئنگے یہ کام بھی نسبتاً آسان تھا – خان صاحب کے ماڈل کو عملی جامہ پہنانا بہت مشکل تھا – کرپشن صرف سیاست دانوں میں ہی نہیں ہے سرکاری اہلکاروں ، بیورو کریسی ، عدلیہ ، فوج سمیت ہر جگہ ہے – خان صاحب نے صرف سیاست دانوں کی کرپشن کو ٹارگٹ کیا -خان صاحب کے کرپشن ختم کرنے کے ماڈل میں ایک بنیادی خامی ہے جس کی وجہ سے اسے تنقید کا سامنا ہے اور وہ ہے بلا تفریق سب کا اعتساب نہ کرنا اگر خان صاحب حکومت کے آتے ہیں بلا تفریق سب کا احتساب کرتے بلکے نیب سے مل کر اپنے لوگوں کے خلاف کیس خود کھلواتے تو ان کی نیک نامی میں اضافہ ہوتا – اگرچے ایسا کرنے سے ان کی حکومت گرنے کا شدید خطرہ پیدا ہو جاتا – اگر خان صاحب بلا تفریق اعتساب اور جنوبی پنجاب بنانے کے منصوبے کا آغاز کر دیتے تو بھلے الیکشن دوبارہ ہو جاتا خان صاحب کے دوبارہ جیتنے کے چانس تھے ایسی صورت میں کہ اسٹیبلشمنٹ بھی ساتھ تھی ، ساری اپوزیشن جیل میں تھی اور مہیشت کے منفی اثرات ابھی پوری طرح پھیلے نہیں تھے – ابھی کرپٹ لوگوں سے پیسے وصول کرنے کی آس بھی زندہ تھی باہر بیٹھے پاکستانیوں سے انویسٹ کا لولی پاپ بھی موجود تھا – ایک سال سے زیادہ گزرنے کے بحد خان خان صاحب اپنی بندوق سے ایک ایک کر کے سبھی گولیاں ضائع کر چکے ہیں – لوگ یقین کر چکے ہیں جنوبی پنجاب علحدہ صوبہ نہیں بننا – کرپٹ لوگوں سے پیسے نکلوانے کا موقع گیا – باہر سے پاکستانیوں کی انویسٹمنٹ اور لوٹے گئے پیسے کی اب کوئی امید نہیں ہے – مہیشت کے منفی اثرات اب اتنے واضح ہیں کہ اگر آج الیکشن ہو جائے اور اسٹیبلشمنٹ خان صاحب کے ساتھ بھی ہو تو اب اتنی سیٹیں ملنا نہ ممکن حد تک مشکل ہے – خان صاحب کے پاس اب اپنی مقبولیت بچانے یا واپس لانے کا ایک ہی راستہ ہے – وہ اپوزیشن کے خلاف بھڑکیں مارنا چھوڑ کر ملک میں سیاسی استحکام بحال کریں کاروباری طبقے اور بیورو کریسی کو نیب اور سی بی آر کی بدمعاشی سے آزاد کریں – ٹیکس کے لئے ڈائریکٹ ٹیکس کا نظام نافذ کریں جس سے زیادہ آمدنی والے لوگ متاثر ہوں یوں ساری توجہ عام آدمی کی بہتری پر صرف کرنے سے ہی وہ اپنا ووٹ بینک بچا سکتے ہیں –

    ا –

    Bawa

    Atif

    JMP

    shami11

    Ghost Protocol

    • This reply was modified 2 months, 2 weeks ago by  Awan.
    #14
    JMP
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 235
    • Posts: 4196
    • Total Posts: 4431
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    Awan sahib

    محترم اعوان صاحب

    بہت شکریہ . مجھے سیاست کی کوئی خاص خبر نہیں اور جو میری حقیر راۓ ہے وہ میں کبھی بھی درست طریقہ سے بیان نہیں کر سکتا لہٰذا ہمیشہ ہی یہ منفی اور سیاست دانوں کے خلاف نظر آتی ہے.

    اب کی بچی کھچی پیپلز پارٹی ، اپنا محور ڈھونڈتی مسلم لیگ اور ادھر ادھر سے جوڑ توڑ کر بنی ہوئی تحریک انصاف میں کیا موزانہ کریں اور اگر کریں بھی تو فرق کم نظر آتا ہے.

    اقتدار کی خواہش، عوام سے کئے دلفریب وعدے ، وہی چہرے ، وہی سازشیں .

    اگر کچھ فرق ہے تو یہ کہ پپلز پارٹی کچھ نہ کچھ قانون سازی پر غور دیتی ہے. مسلم لیگ قانون سازی اور پارلیامنٹ کو اتنا اہم نہیں سمجھتی . تحریک انصاف چونکہ دھر ادھر سے مل ملا کر بنی ہے لہٰذا اس کو ابھی بھی مشکل پیش آ رہی ہے اپنا نظریہ یا فوقیت طے کرنے میں .

    وفاقی حکومت کی ترجیحات صوبائی حکومت سے اور صوبائی حکومت کی ترجیحات مونسپل سطح سے مختلف ہونی چاہییں میری نظر میں مگر یہاں تو وفاقی سطح سے لیکر نچلی ساتھ تک روڈ ، بجلی، گیس ، پانی کے نلکے وغیرہ ترجیحات ہیں.

    پارلیمنٹ کی بالادستی ، ملک کے معاشی استحکام ، بیرونی پالیسیاں وغیرہ تو شاید ہی وفاقی سطح پر ترجیحات ہیں . پارلیامنٹ میں کبھی کبھار ہی کوئی سیر حاصل بات ہوتی ہے

    صدر، وزیر اعظم ، وزیر اعلیٰ ، گورنر وغیرہ سب ایک شہزادے اور شہزادی سے ملنے کو اہم سمجھتے رہے . گئے وقتوں کے صدر خواتین سے گلے ملنے کی خواہش کرتے رہے تو کوئی وزیر اعظم آئ فون کا تحفہ دینے کی بات کرتے رہے .

    اس ملک کے رہنماؤں کو اس ملک کے عوام کی عزت کرنی چاہیے نہ کے عوام کو ان رہنماؤں سے ڈر کر جی حضوری .

    اب آپ بتائیں کے کون سی جماعت دوسری جماعتوں سے الگ ہے

    #15
    Awan
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 121
    • Posts: 2401
    • Total Posts: 2522
    • Join Date:
      10 Jun, 2017

    Re: تین بڑی پارٹیوں کے سیاسی ماڈل

    شکریہ جے بھائی – آپ کی بات درست ہے باد ی النظر میں تینوں پارٹیاں ایک ہی سی نظر آتی ہیں انیس سو نوے کے الیکشن میں سب کو جوڑ توڑ کر کے ایک اتحاد بنایا گیا وہی کھیل دو ہزار اٹھارہ میں کھیلا گیا اور دوبارہ ایک آئی جے آئی تشکیل دی گئی – سیاست دانوں کو اگر پتا ہوتا کہ وہ واقعی عوام کے ووٹ سے متخب ہو کر آتے ہیں تو وہ بھی سب کچھ صرف عوام کے لئے کرتے لیکن ان کے زہن میں تو یہ بات پختہ ہو گئی کہ طاقت کا محور کچھ اور ہے اس لئے وہ ان کی جی حضوری میں لگے رہے اور بوٹ پالش کرنے میں مقابلہ بازی کرنے لگے – ایک چھوٹی سی مارکیٹ میں بھی وہاں کی انجمن تاجران بن جاتی ہے جو تاجروں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے مگر ستر سال میں کبھی بھی سیاست دان اکٹھے ہو کر اپنے مفادات کا تحفظ نہ کر سکے اور وقتی فائدے دیکھتے رہے -جب بھٹو انیس سو ستہتر کا الیکشن جیت گیا تھا تو چاہہے تو یہ تھا کہ سیاست کے دور رست مفاد میں اپوزیشن بھٹو کو حکومت بنانے دیتی مگر انہوں نے ضیاء کے ساتھ مل کر مارشل لاء کے نفاذ کا راستہ ہموار کیا – اسی طرح انیس سو نوے میں پیپلز پارٹی کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے نواز شریف اور ضیاء کی باقیات کو فوج کا آلہ کار نہیں بننا چاہہے تھا – پھر ابھی جب نواز شریف کے خلاف فوج ایک منظم سازش کر رہی تھی تو عمران خان کو فوج کا آلہ کار نہیں بننا چاہہے تھا – سیاست دان ہر موقع پر اپنے تھوڑے سے مفاد کو سیاست کے وسیح تر مفاد پر ترجیح دیتے رہے – پارٹیاں بنتی اور ٹوٹتی رہیں مگر ہم جمہوری سفر میں آگے نہ بڑھ سکے –
    منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

    JMP

    • This reply was modified 2 months, 2 weeks ago by  Awan.
Viewing 15 posts - 1 through 15 (of 15 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation

Do NOT follow this link or you will be banned from the site!