Thread: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

Home Forums Siasi Discussion اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

This topic contains 43 replies, has 12 voices, and was last updated by  Bawa 6 months ago. This post has been viewed 1297 times

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 44 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3865
    • Posts: 2074
    • Total Posts: 5939
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    ایک سال قبل پشتون نوجوانوں پر مشتمل ایک قافلہ لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے کراچی میں پشتون نوجوان نقیب اللہ محسود کے مبینہ پولیس مقابلے میں قتل پر احتجاج کرنے جمع ہوا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ اگلے 12 ماہ کے دوران یہ تحریک کیا رنگ لائے گی۔
    اسلام آباد پریس کلب پر دھرنے کے ٹھیک ایک سال بعد، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے نام سے معروف ہونے والی تحریک کو بلوچستان کے علاقے لورا لائی میں 35 سالہ ارمان لونی کی شکل میں اپنے پہلا سیاسی شہید ملا جو دو فروری کو مبینہ پولیس تشدد کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔
    ان کی ہلاکت کے بعد صوبہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں ہڑتال کی گئی اور پانچ فروری کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی جس میں کئی پشتون نوجوانوں کو زیر حراست لیا گیا۔
    اس موقع پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں حالات اس نہج پر کیسے پہنچے کہ نہ صرف تحریک کو ان کا پہلا ’شہید‘ ملا، بلکہ اس کے علاوہ ان کے ہزاروں کارکنوں کو ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا، ان کے رہنماؤں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی۔
    نہ ان کے جلسے میڈیا پر دکھائے گئے نہ ان کے رہنماؤں کو ٹاک شوز پر اپنی رائے دینے کی جگہ میسر ہوئی۔ اخباروں میں ان کی خبروں کا بلیک آؤٹ کیا گیا اور سوشل میڈیا پر اس تحریک کے خلاف انتہائی پرزور مہم چلتی رہی جس میں انھیں ملک دشمن اور غدار قرار دیا گیا۔
    لیکن شاید اس سے بھی بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلسل عدم تشدد کا پرچار کرنے اور پر امن احتجاج کرنے والی اس تحریک میں ایسی کیا بات ہے جس نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کو مجبور کیا کہ وہ متعدد مواقعوں پر، چاہے وہ آن دا ریکارڈ پریس کانفرنس اور میڈیا انٹرویوز ہوں یا آف دا ریکارڈ گفتگو، پی ٹی ایم کے بارے میں کسی نہ کسی نوعیت کا بیان دیتے رہے اور کبھی انھوں نے تحریک کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کر کے انھیں تنبیہ کی اور کبھی ان کے موقف کو جائز قرار دیا۔
    ان جوابات کے حصول کے لیے اس تحریک کے جنم لینے کے عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
    پاکستان کے سیاسی افق پر جنوری 2018 میں ابھرنے والی یہ تحریک جنوبی وزیرستان سے 2014 میں محسود تحفظ مومنٹ کے نام سے شروع ہوئی تھی اور ان کے مرکزی مطالبات وزیرستان کے علاقے میں جبری گمشدگیوں، بارودی سرنگوں کی موجودگی اور وہاں متعین فوجیوں کے رویے سمیت دیگر شکایات کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔
    جنوری 2018 میں دھرنے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ میں بدل جانے والی اس تحریک نے گذشتہ بارہ ماہ کے دوران ملک کے طول و عرض میں اپنے مطالبات کے حصول کے لیے متعدد جلسے منعقد کیے جہاں پی ٹی ایم کے نوجوان سربراہ، 26 سالہ منظور پشتین اور ان کے دیگر ساتھیوں نے بالخصوص پاکستانی فوج پر کڑی تنقید کی اور اپنی شکایات کے سد باب کے لیے جنوبی افریقہ کی طرز پر ‘حقائق اور مفاہمتی کمیشن’ کے قیام کا مطالبہ کیا۔
    لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں فوج کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں تقریباً نصف عرصہ حکومت فوجی آمروں کے پاس رہی ہے اور قومی بیانیے میں فوج پر براہ راست تنقید کرنے کے بجائے اکثر اوقات اسٹیبلیشمنٹ، خلائی مخلوق اور فرشتے جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
    لیکن پی ٹی ایم نے اس روایت کو تبدیل کرتے ہوئے جہاں اپنے جلسوں میں مسلسل ریاستی حکام سے اپنے مطالبات کے حل کے لیے مذاکرات کرنے کی اپیل کی ہے، وہیں انھوں نے جس کھلے انداز اور سخت لہجے میں فوج کی پالیسیوں اور جرنیلوں پر تنقید کی ہے وہ اس سے پہلے عوامی طور پر کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
    فوج کی جانب سے ’آئیں بات کریں‘ کی پیشکش تو کی جاتی ہے لیکن یہ بات چیت تاحال اس پیشکش سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔
    ان حالات و واقعات کے تناظر میں پی ٹی ایم کے ایک سالہ سفر کا قریب سے مشاہدہ کرنے والوں کا خیال ہے کہ فوج کا ان کی جانب رویہ مصالحتی نہیں لگتا اور خدشہ ہے کہ آنے والا وقت تحریک کے لیے کانٹوں کی سیج بن سکتا ہے۔
    اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محقق رفیع اللہ کاکڑ نے کہا کہ فوجی حکام عندیہ دیتے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ان کے عملی رویے سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ وہ اس کے لیے سنجیدہ ہیں۔
    پی ٹی ایم کے جو مطالبات ہیں وہ فوج کی طاقت کو براہ راست چیلنج کرتے ہیں۔ حقائق اور مفاہمتی کمیشن درحقیقت گذشتہ 17 سالوں سے قبائلی علاقوں میں ہونے والے واقعات اور ‘وار آن ٹیرر’ کے ذمہ داران کا تعین کرنے کا ذریعہ ہے اور ہماری فوج نہ اس طرح کے احتساب کی عادی ہے اور نہ ہی وہ سمجھتی ہے کہ کوئی آکر ان سے حساب مانگے۔ وہ کبھی یہ مطالبہ ماننے پر راضی ہوں گے، وہ تو ہمیشہ اپنی شرائط پر مذاکرات کریں گے۔
    لاہور میں مقیم محقق رضا وزیر سے جب بی بی سی نے اسی بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی حکام چیزوں کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور اسی وجہ سے فریقین میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے۔
    ہم ماضی میں بارہا دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح فوج ملک میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو بیرون ملک کے زاویے سے دیکھتی ہے۔ بنگلہ دیش کی مثال موجود ہے کہ واضح ترین اکثریت حاصل کرنے والے شخص کو غیرملکی ایجنٹ قرار دے دیا۔ آپس میں اعتماد کی کمی کی اصل وجہ ہی یہی ہے کہ فوجی حکام پی ٹی ایم جیسی تحریکوں کو تھکا دینے کی اور وقت گزاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور شاید اسی لیے پی ٹی ایم کو لگتا ہے کہ ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوں گے۔
    پی ٹی ایم کی جانب سے کیے گئے مطالبات اور الزامات کے بارے میں بی بی سی نے جب فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ سے ردعمل لینے کی کوشش کی تو یہ کہہ کر بات کرنے سے معذرت کر لی گئی کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اس معاملے پر میڈیا پر کھل کر واضح موقف دیا جا چکا ہے۔
    تاہم گذشتہ ایک سال میں فوج کی جانب سے پی ٹی ایم کے بارے میں تبصروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں ابہام اور تضاد نظر آتا ہے۔
    مارچ 2018 میں دیے گئے ایک بیان میں فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات پورے ہونے کے باوجود انھیں اور جگہوں اور ملک کے باہر سے بھی حمایت حاصل ہونا شروع ہو گئی اور افغانستان سے بھی ان کی حمایت کی گئی۔
    اپریل 2018 میں برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے پی ٹی ایم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں امن آیا تو لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے۔
    تاہم اسی ماہ پشاور کے اُس وقت کے کورکمانڈر لیفٹننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا کہ ‘منظور پشتین ہمارا اپنا بچہ ہے’ اور تحریک کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘اگر وہ غصے میں بھی ہے تو ہم انھیں سنیں گے۔
    جون 2018 میں فوجی ترجمان آصف غفور کے طرف سے ایک اہم بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے پہلی بار پی ٹی ایم کے بارے میں باضابطہ طور پر بات کی اور الزام لگایا کہ بہت سے شواہد ہیں کہ کیسے دشمن قوتیں پی ٹی ایم کو استعمال کر رہی ہیں، اور وہ استعمال ہو رہے ہیں۔
    اسی طرح سال کے آخر میں دسمبر 2018 میں آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ ‘پی ٹی ایم جس راستے پر گامزن ہے وہاں حد عبور کرنے کی صورت میں فوج اپنے اختیارات استعمال کرسکتی ہے۔
    لیکن اس پریس کانفرنس کے ایک ماہ بعد ہی جنوری 2019 میں نجی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فوجی ترجمان نے نرمی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ‘جو لوگ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے اپنے جائز مطالبات کی بات کر رہے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے اور وہ تو عدم تشدد کے فلسفے پر مبنی تحریک ہے۔
    فوج کی جانب سے اس متضاد بیانیے کے حوالے سے سابق بریگیڈئیر اور مشرف دور میں قبائلی علاقوں کے ایڈیشنل سیکریٹری محمود شاہ سے سوال کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج منظم طریقے سے کام کرتی ہے اور وہ موقع شناسی سے کام لیتے ہوئے پی ٹی ایم کے بارے میں بیانات دے رہی ہے۔
    گذشتہ سال اپریل میں کئی اور سابق فوجی افسران کے ہمراہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے پی ٹی ایم کے حوالے سے ملاقات کرنے والے بریگیڈئیر محمود شاہ مزید کہتے ہیں: پی ٹی ایم ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہے حالانکہ انھیں ملک میں انتشار پھیلانے کی ذمہ داری ملی ہے اور وہ لوگوں سے زبردستی ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو زیادہ اہمیت دینے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے اور بہت ممکن ہے کہ عنقریب ریاست ان کے خلاف عملی اقدام کا فیصلہ کرے۔
    دوسری جانب جب پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین سے فوج کے متضاد بیانات اور فریقین میں اعتماد کے فقدان کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اصولاً جس سے گلہ ہو وہ آتا ہے ملنے کے لیے اور وہ جو صاحب اقتدار ہوں یہ ان کا کام ہے کہ مظلوم کے پاس جائیں۔
    ہم نے تو بارہا کوشش کی ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں لیکن ہمیں تو میڈیا پر بات کرنے کی اجازت نہیں ملتی، اعتماد کا فقدان کیسے ختم ہو گا اگر ہمارا موقف سامنے نہ پیش کیا جائے۔
    منظور پشتین کے مطابق فوج ان کی تحریک کو مختلف اشارے دے رہی ہے اور اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس پی ٹی ایم کے لیے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔
    انھوں نے کہا: ان سے سوال کیا جانا چاہیے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ یہ کیسی آزادی ہے؟ یہ کیسا اعتماد ہے؟ ہماری آواز کو کیوں روکا جا رہا ہے؟
    فوجی حکام اور پی ٹی ایم کے درمیان اس بے اعتمادی اور بے یقینی کی فضا میں اگلے چند ماہ کے بارے میں سوال پر بریگیڈیئر محمود شاہ نے کہا کہ لوگوں کو پی ٹی ایم کی حقیقت پتہ چل گئی ہے اور وہ ملک کے لیے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہیں۔
    ان کے مطالبات حل بھی ہو جائیں تو بھی یہ اپنی فرمائشیں بڑھاتے رہیں گے۔ حکومت صرف وقت گزاری کر رہی ہے۔ اگر وہ حد عبور کر لیں تو ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو حال ہی میں (مذہبی جماعت) تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ہوا تھا۔
    البتہ جب تحریک کے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں جب منظور پشتین سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ ریاست پر منحصر ہے کہ وہ کیا قدم اٹھاتی ہے کیونکہ ان کی تحریک اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹنے والی۔
    ہم نے تو سب کھو دیا ہے اور اب مزید کچھ کھونے کے لیے باقی نہیں ہے۔ ہم نے ہی اب تک ساری مشکلات سہی ہیں لیکن یہ ہمارا عہد ہے کہ ہم تمام تر مظالم کے باوجود صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور اپنے مطالبات کی خاطر پر امن رہتے ہوئے عدم تشدد کے فلسفے پر چلیں گے۔

    بشکریہ …….. عابد حسین

    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-47129998

    #2
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 320
    • Posts: 7260
    • Total Posts: 7580
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    میرا اپنا اندازہ ہے کہ پی ٹی ایم لبیک سے زیادہ بہتر انداز میں مزاحمتی سیاست کی علامت بن سکتی ہے، لبیک کا وقتی استعمال تھا جس دوران اس کے کارکن جو بھی سیاہ کارنامے کرتے رہے کسی نے ان کو چھوا تک نہیں مگر جونہی پہلی بار ریاست  نے تھوڑی سی طاقت دکھای یہ جماعت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ، پی ٹی ایم ایک زیادہ پاپولراور منطم جماعت ہے جسے پی ٹی آی کے بہت سارے کارکنوں کی حمایت بھی مل چکی ہے اسی طرح دیگر سوبوں میں بھی پشتون حمایت اسے مل رہی ہے جس کے بعد یہ ایک ملکی لیول کی پارٹی بن جاے گی، کبھی بھٹو بھی مزاحمتی سیاست کی علامت تھا تو عوام اس کے ساتھ تھی مگر اسکی موت کے بعد جب اس کی پارٹی پرو اسٹیبلشمینٹ ہوگئی اور بابے اسحاق کی نگران حکومت میں بیٹھ گئی تو وہی بھٹو کی پارٹی کا نقطہ زوال ثابت ہوا، اس کے بعد زرداری نے تو اسٹیبلشمینٹ سے باقاعدہ بارگیننگ کرتے ہوے بے نظیر قتل کی تحقیق نہ کروانے کے بدلے مکمل اقتدار لے لیا

    پی ٹی ایم کو ہلکا نہ لیا جاے اور کوشش کی جاے کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کروا دیا جاے کیونکہ یہ پارٹی زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کی پارٹی ہے

    #3
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 146
    • Posts: 7011
    • Total Posts: 7157
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    پی ٹی ایم بلاشبہ ایک بہت بڑی تحریک ہے اور اس کے مطالبات جائز بھی ہیں لیکن جس طرح یہ پنجابیوں کے خلاف نفرت ابھار رہے ہیں اس سے شبہ ہوتا ہے کہ اس تحریک کا مرکز جی ایچ کیو ہی ہے۔ کیونکہ دنیا کی کوئی بھی عدم تشدد پر مبنی تحریک کبھی کسی دوسری محکوم قوم سے نفرت بڑھانے کو قابل ترجیح نہیں سمجھتی۔

    پی ٹی ایم کے جلسوں میں پاکستان کا جھنڈا نہ لانے دینے کی شکائیت ہو یا پھر فوج کے خلاف نعرے ، یہ سب قابل برداشت ہے لیکن پاکستان کی سب سے بڑی اکائی یعنی پنجاب کے خلاف ان کی استعمال کی جانے والی زبان کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ غلطی بلوچ علیحدگی پسندوں نے کی تھی یعنی پنجابیوں کو ٹارگٹ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ عام عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھے ورنہ وہ بھی بگٹی کی شہادت کے بعد بہت مضبوط گروہ کی صورت سامنے آئے تھے اور ریاست ایک حد تک ان کے سامنے بےبس بھی ہو گئی تھی ۔ اسی طرح پی ٹی ایم کے پنجاب/پنجابی مخالف نعرے سُن کر پتہ چلتا ہے کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہوئی(جیسا کہ نظر آرہا ہے) تو پنجاب اور پنجابیوں کے حق میں بہت برا ہوگا۔

    #4
    صحرائی
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 7
    • Posts: 472
    • Total Posts: 479
    • Join Date:
      27 Oct, 2018
    • Location: Bermuda

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    پی ٹی ایم گراس روٹ مومنٹ ہے اور یہ پنجاب کے عوام کے خلاف نہیں

    لیکن ان کو اپنے سلوگنز پر نظر ثانی کرنی چاہئیے اور پنجاب کے عوام اور اسٹیبلشمنٹ میں فرق واضخ کرنا چاہئیے

    پی ایم ایل ن ارمان لونی کی موت پر ایک بیان تک نہ دے سکی ، نہ مسلم لیگ ن کے حامی ٹویٹر اکاونٹس سے کوئی ہمدردی ظاہر کی گئی

    #5
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 320
    • Posts: 7260
    • Total Posts: 7580
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    پی ٹی ایم بلاشبہ ایک بہت بڑی تحریک ہے اور اس کے مطالبات جائز بھی ہیں لیکن جس طرح یہ پنجابیوں کے خلاف نفرت ابھار رہے ہیں اس سے شبہ ہوتا ہے کہ اس تحریک کا مرکز جی ایچ کیو ہی ہے۔ کیونکہ دنیا کی کوئی بھی عدم تشدد پر مبنی تحریک کبھی کسی دوسری محکوم قوم سے نفرت بڑھانے کو قابل ترجیح نہیں سمجھتی۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں پاکستان کا جھنڈا نہ لانے دینے کی شکائیت ہو یا پھر فوج کے خلاف نعرے ، یہ سب قابل برداشت ہے لیکن پاکستان کی سب سے بڑی اکائی یعنی پنجاب کے خلاف ان کی استعمال کی جانے والی زبان کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ غلطی بلوچ علیحدگی پسندوں نے کی تھی یعنی پنجابیوں کو ٹارگٹ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ عام عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھے ورنہ وہ بھی بگٹی کی شہادت کے بعد بہت مضبوط گروہ کی صورت سامنے آئے تھے اور ریاست ایک حد تک ان کے سامنے بےبس بھی ہو گئی تھی ۔ اسی طرح پی ٹی ایم کے پنجاب/پنجابی مخالف نعرے سُن کر پتہ چلتا ہے کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہوئی(جیسا کہ نظر آرہا ہے) تو پنجاب اور پنجابیوں کے حق میں بہت برا ہوگا۔

    عاطف بھای مجھے بہت دکھ ہوا کہ پی ٹی ایم لسانیت کو ابھار رہی ہے،خاص کر پنجاب کے خلاف نفرت ابھار کر یہ خود بھی نہیں بچیں گے بلکہ الفاظ تو تلخ ہیں مگر یہ کہنا بجا ہوگا کہ پنجاب کے خلاف جو جماعت بھی اٹھی مٹ گئی جیسے کبھی سندھ علیحدگی پسند جی ایم سید تھا پھر اے این پی نے بھی کافی لسانیت ابھاری

    یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ سب نہ بھی ہوں تو پنجاب کو کوی فرق نہیں پڑے گا مگر پنجاب کے بغیر انکی اوقات کتے جتنی بھی نہیں رہے گی

    #6
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 665
    • Posts: 11882
    • Total Posts: 12547
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    عاطف بھای مجھے بہت دکھ ہوا کہ پی ٹی ایم لسانیت کو ابھار رہی ہے،خاص کر پنجاب کے خلاف نفرت ابھار کر یہ خود بھی نہیں بچیں گے بلکہ الفاظ تو تلخ ہیں مگر یہ کہنا بجا ہوگا کہ پنجاب کے خلاف جو جماعت بھی اٹھی مٹ گئی جیسے کبھی سندھ علیحدگی پسند جی ایم سید تھا پھر اے این پی نے بھی کافی لسانیت ابھاری یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ سب نہ بھی ہوں تو پنجاب کو کوی فرق نہیں پڑے گا مگر پنجاب کے بغیر انکی اوقات کتے جتنی بھی نہیں رہے گی

    پاکستان میں جو بھی تحریک  اٹھتی ہے اس کو بے زور طاقت کچل دینا چاہئے ۔۔۔لوگوں نے سڑکوں پر تماشہ لگا رکھا ہے ہم کو حقوق نہیں ملے ہم کو فلاں نہیں ملا ۔۔جس کا دل کرتا ہے چار مشنڈے لیکر سڑکوں پر ۔لور ۔لور کرنا شروع کر دیتا ہے آئے دن ایک نیا تماشہ بنایا ہوا ہے ۔ان کو جو بھی تکلیف ہے وہ پراپر طریقے  سے اسمبلیوں میں لیکر آئیں قانون سازی کروائیں ۔۔۔اج یہ پرامن ہیں کل کو یہ بھی اسحلہ لیکر  ایم کیو ایم کی طرح بندے بھوننے شروع یوجائیں گے پہلے ایک شہر کی فضا سے خون کی بو  تو آنی ختم یو ۔۔پھر دوسرے کو بھی مقتل گاہ میں تبدیل  کر لیں گے ۔۔

    #7
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 320
    • Posts: 7260
    • Total Posts: 7580
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    پاکستان میں جو بھی تحریک اٹھتی ہے اس کو بے زور طاقت کچل دینا چاہئے ۔۔۔لوگوں نے سڑکوں پر تماشہ لگا رکھا ہے ہم کو حقوق نہیں ملے ہم کو فلاں نہیں ملا ۔۔جس کا دل کرتا ہے چار مشنڈے لیکر سڑکوں پر ۔لور ۔لور کرنا شروع کر دیتا ہے آئے دن ایک نیا تماشہ بنایا ہوا ہے ۔ان کو جو بھی تکلیف ہے وہ پراپر طریقے سے اسمبلیوں میں لیکر آئیں قانون سازی کروائیں ۔۔۔اج یہ پرامن ہیں کل کو یہ بھی اسحلہ لیکر ایم کیو ایم کی طرح بندے بھوننے شروع یوجائیں گے پہلے ایک شہر کی فضا سے خون کی بو تو آنی ختم یو ۔۔پھر دوسرے کو بھی مقتل گاہ میں تبدیل کر لیں گے ۔۔

    آپ نے سنا ہوگا کہ معمولی سے پٹاخے بناتے ہوے ایک پٹاخہ سلگ کرپھٹ گیا مگر نتیجے میں پورا گھر بلکہ آس پاس کے دس بارہ گھر بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے

    یہی حال ان جماعتوں کا ہے جو اسٹیبلشمینٹ کبھی اپنے مقاصد کیلئے کھڑی کرتی ہے

    #8
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 665
    • Posts: 11882
    • Total Posts: 12547
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    آپ نے سنا ہوگا کہ معمولی سے پٹاخے بناتے ہوے ایک پٹاخہ سلگ کرپھٹ گیا مگر نتیجے میں پورا گھر بلکہ آس پاس کے دس بارہ گھر بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے یہی حال ان جماعتوں کا ہے جو اسٹیبلشمینٹ کبھی اپنے مقاصد کیلئے کھڑی کرتی ہے

    وہ تو میں نے عرض کی ہے ۔۔چن میرے مکھیان ۔۔۔کہہ یہ جس کا دل کرتا ہے ۔۔چار مشنڈے لیکر  لور لور شروع کر دیتا ہے ٹائر جلائے  جا رے ہیں پولیس والوں کو تھپڑ مارے جارے ہیں ۔۔۔۔ان بے غیرتوں نے الگ سے قیامت برپا کر رکھی ہے ۔۔۔

    ان سب کو پھڑ کے اندر کریں ۔۔۔تاکہ دوجی عوام تو سکون کا سانس لے ۔۔۔۔۔۔

    :jhanda: :jhanda:   :jhanda:   :jhanda:

    #9
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 3924
    • Total Posts: 3924
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    تم لوگ جو مرضی ہے کہہ لو ۔۔۔۔۔۔

    لیکن تا ریخ اور حالات کا رخ یہی بتا  تے ہیں  کہ ۔۔۔۔۔ جن علاقوں میں ۔۔۔۔ فوج گھس گئی ۔۔۔۔۔۔ آپریشن شروع ہوگئے ۔۔۔۔ وھاں ۔۔۔۔ نئے نئے آزاد بلونگڑے  پیدا ہوتے گئے  ۔۔۔۔

    فوج چاھے ۔۔۔۔۔۔ کشمیر میں گھسے ۔۔۔۔ وزیرستان میں گھسے ۔۔۔۔ بلوچستان میں گھسے ۔۔۔۔ بنگلہ دیش میں گھسے ۔۔۔۔۔ کراچی میں گھسے ۔۔۔۔ ڈیرہ غازی خان میں گھسے ۔۔۔۔۔ یا افغانستان میں گھسے ۔۔۔۔۔۔

    آزادی حاملہ ہوجاتی ہے اور پھر آزادی کے پیٹ سے ایک نئی آزادی نکل آتی ہے ۔۔۔۔۔

    پہلے  ھندوستان پا کستان کی آزادی کو حمل ہوا ۔۔۔۔ اس کے بعد ۔۔۔ بنگلہ دیش کی آزادی کو حمل ہوگیا ۔۔۔

    ۔ پھر ۔۔۔ خا لصتان کی آزادی کو حمل ہوگیا ۔۔۔۔ اسوقت ۔۔۔۔۔ تامل ناڈو ۔۔۔۔۔ نا گا لینڈ ۔۔۔ کشمیر ۔۔۔ کابل ۔۔۔۔ کوئٹہ ۔۔۔۔ کراچی ۔۔۔۔ سب آزادیاں ۔۔۔ حمل سے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہی سیاست کی کہانی ہے اور یہی تاریخ کا بیان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جسے نہ پنجابی بدل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ نہ بلوچی نہ سندھی ۔۔۔۔۔۔

    ھا ں البتہ بہت بعد میں یہ ہوگا کہ ۔۔۔۔۔ سب صوبے آزاد ہو ہو کر ۔۔۔۔ ایک ایک کرے الگ ہوتے چلے جائیں گے ۔۔۔۔۔۔ اور پنجاب اکیلا رہ جائے گا ۔۔۔۔۔

    پھر یہ ہوگا کہ ۔۔۔۔۔ بھارتی پنجاب بھی خالصتان کے نام پر بھارت سے الگ آزاد ہوجائے گا۔۔۔۔

    او ر پھر یہ ہوگا کہ ۔۔۔۔ انڈین پنجاب اور پا کستانی پنجاب ۔۔۔۔ دونوں بھا ئی بھائی بن جائیں گے ۔۔۔۔ اور دونوں پنجابوں کو ملا کر ۔۔۔۔

    ایک ۔۔۔ یو نا ئٹڈ سٹیٹس آف پنجا ب قسم کا ملک وجود پا لے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور پھراس کے بعد ایک فا ئنل کا روائی ڈالی جائے گی ۔۔۔ جو میں نہ ہی لکھوں تو بہتر ہے  ۔۔۔

    یہ سب ہونا شروع ہوچکا ہوا ہے ۔۔۔میرا قیاس ہے پچاس لگ سکتے ہیں ہوسکتا ہے ستر سال لگ جائیں ۔۔۔۔

    لیکن بھا ئی لوگوں کی کرامات کا کچھ پتہ بھی نہیں یہ نہ ہو ۔۔۔۔ سب کچھ ھماری زندگی میں ہی ہوجائے ۔۔۔۔۔ لیکن چانس ھماری زندگی کے بعد کا ہی ہے ۔۔۔۔

    ۔۔ لیکن کیا ہے کہ ۔۔۔ چونکہ  اکثر عوام کی دور کی نظر کمزور ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اس لیئے ان کو ۔۔۔۔ سیاست میں ۔۔۔۔ گنجی ٹنڈ ۔۔۔۔  کھوتے جیسا منہ تک جیسی چیزیں نطر آ پا تی ہیں ۔۔۔

    ۔۔۔۔ لطیفوں جگتوں سے آگے کے اصلی مستقبل کا منطر ان کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔

    یہ میں  اپنے پلے سے نہیں کہہ رھا ۔۔۔۔۔ یہ سکرپٹ کا لکھا پڑھ کر بتا رھا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔

    • This reply was modified 6 months, 1 week ago by  Guilty.
    #10
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 146
    • Posts: 7011
    • Total Posts: 7157
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    پی ٹی ایم گراس روٹ مومنٹ ہے اور یہ پنجاب کے عوام کے خلاف نہیں

    لیکن ان کو اپنے سلوگنز پر نظر ثانی کرنی چاہئیے اور پنجاب کے عوام اور اسٹیبلشمنٹ میں فرق واضخ کرنا چاہئیے

    پی ایم ایل ن ارمان لونی کی موت پر ایک بیان تک نہ دے سکی ، نہ مسلم لیگ ن کے حامی ٹویٹر اکاونٹس سے کوئی ہمدردی ظاہر کی گئی

    صحرائی بھائی! بلوچستان میں رہنے اور پشتون کلچر سے تعلق ہونے کی بنا پر میں آپ کو بہت واضح طور پر بتا دوں کہ اس وقت پی ٹی ایم والے خود کو یہی کہہ کر فیس سیونگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو گالی دی جارہی ہے اور عوام سے اسکا کوئی تعلق نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری گالیاں گالیاں ایسے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہیں” تمہارے پنجابیوں کی ماں۔۔۔ تمہارے پنجاب کی بہن، تم پنجابیوں کی ایک لاکھ کی ماں۔۔۔۔ وغیرہ۔

    دکھ یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے سٹیکج سے بھی کبھی اپنے ہمدردوں کو ایسی زبان استعمال کرنے سے روکا نہیں جاتا ، علی وزیر اور محسن داوڑ کے ٹوئیٹ پر نظر رکھا کریں، جلد ہی یہ غلط فہمی ختم ہوجائے گی کہ یہ لوگ عام پنجابی کے خلاف نہیں۔ منظور پُشتین نے البتہ آج تک خود کو بہت محتاط رکھا ہوا ہے اور اس کی زبان سے ایسے الفاظ سننے کو نہیں ملے۔ میری خود بھی اس سے ملاقات ہوئی اور اس معاملے پر اس کا نقطہ نظر مجھے مطمئن نہیں کرسکا۔ اگرچہ وہ خود ایسی آوازوں سے برات کا اظہار کرتا ہے لیکن اس کی باڈی لینگوئج اسکا ساتھ نہیں دیتی۔

    مزید یہ کہ کسی بھی سانحے پر اگر آپ نے پی ٹی ایم کے رہنماوں کا کوئی بیان سُنا ہو تو ضرور بتائیں، ان کا ہر بیان صرف پشتون معاملات کے اردگرد ہی گھومتا ہے لیکن یہ چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی ان کے معاملات پر ان کے ساتھ ہو، ان کیلئے آواز اٹھائے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پشتونوں کے علاوہ اگر کسی اورقوم کے ساتھ کوئی سانحہ پیش آئے جیسا کہ ساہیوال معاملہ یا پھر زینب کیس وغیرہ، آپ کبھی بھی ان کی مذمت نہیں سنیں گے بلکہ مذمت کے برعکس ان کے ہمدرد مذاق اڑائیں گے کہ پنجاب اب بھگت رہا ہے جو ہم ہممیشہ سے بھگتتے آرہے ہیں۔

    #11
    Sohraab
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 439
    • Posts: 3809
    • Total Posts: 4248
    • Join Date:
      23 Aug, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    صحرائی بھائی! بلوچستان میں رہنے اور پشتون کلچر سے تعلق ہونے کی بنا پر میں آپ کو بہت واضح طور پر بتا دوں کہ اس وقت پی ٹی ایم والے خود کو یہی کہہ کر فیس سیونگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو گالی دی جارہی ہے اور عوام سے اسکا کوئی تعلق نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری گالیاں گالیاں ایسے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہیں” تمہارے پنجابیوں کی ماں۔۔۔ تمہارے پنجاب کی بہن، تم پنجابیوں کی ایک لاکھ کی ماں۔۔۔۔ وغیرہ۔ دکھ یہ ہے کہ پی ٹی ایم کے سٹیکج سے بھی کبھی اپنے ہمدردوں کو ایسی زبان استعمال کرنے سے روکا نہیں جاتا ، علی وزیر اور محسن داوڑ کے ٹوئیٹ پر نظر رکھا کریں، جلد ہی یہ غلط فہمی ختم ہوجائے گی کہ یہ لوگ عام پنجابی کے خلاف نہیں۔ منظور پُشتین نے البتہ آج تک خود کو بہت محتاط رکھا ہوا ہے اور اس کی زبان سے ایسے الفاظ سننے کو نہیں ملے۔ میری خود بھی اس سے ملاقات ہوئی اور اس معاملے پر اس کا نقطہ نظر مجھے مطمئن نہیں کرسکا۔ اگرچہ وہ خود ایسی آوازوں سے برات کا اظہار کرتا ہے لیکن اس کی باڈی لینگوئج اسکا ساتھ نہیں دیتی۔ مزید یہ کہ کسی بھی سانحے پر اگر آپ نے پی ٹی ایم کے رہنماوں کا کوئی بیان سُنا ہو تو ضرور بتائیں، ان کا ہر بیان صرف پشتون معاملات کے اردگرد ہی گھومتا ہے لیکن یہ چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی ان کے معاملات پر ان کے ساتھ ہو، ان کیلئے آواز اٹھائے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پشتونوں کے علاوہ اگر کسی اورقوم کے ساتھ کوئی سانحہ پیش آئے جیسا کہ ساہیوال معاملہ یا پھر زینب کیس وغیرہ، آپ کبھی بھی ان کی مذمت نہیں سنیں گے بلکہ مذمت کے برعکس ان کے ہمدرد مذاق اڑائیں گے کہ پنجاب اب بھگت رہا ہے جو ہم ہممیشہ سے بھگتتے آرہے ہیں۔

    mere hisaab se to PTM kahin na kahin indians aur afghanon ke haathon main highjacked hai

    Yaad karo Lahore main PTM ka aik jalsa hua tha

    us jalsay main bohut naami garami Punjabiyon ne shirkat ki thi

    us jalsay main civil society ke bohut se punjabi PTM walon ki support main niklay the

    Lekin in PTM ke haraamiyon ne wahan bhi jab punjabiyon ke khilaf naare lagai to achanak urdu se pashtoo zuban bolne shroo ho gayee

    PTM ki saari baatain jhoot nahi hain

    Army ne bohut zulm kia hai

    Lekin haqeeqat yehi hai ke PTM afghaniyon aur indians ke haathon Highjacked ho chuki hai

    #12
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 3924
    • Total Posts: 3924
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    بنگا لی پنجاب سے نالاں

    سندھی پنجاب سے نالاں

    مہاجر پنجاب سے نالاں

    بلوچ پنجاب سے نالاں

    پٹھان پنجاب سے نالاں

    بڑے میاں تو بڑے میاں ۔۔۔۔۔۔ چھوٹے ۔۔۔۔ سرائیکی ۔۔۔۔۔ بھی ۔۔۔۔۔ پنجاب سے نالاں ۔۔۔۔۔ الگ صوبہ چا ھیے ۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔

    اور یہ کوئی لطیفہ یا جگت نہیں ہے ۔۔۔۔ ستر سال کی ھسٹری اور زمینی حقا ئق ہیں ۔۔۔۔۔

    یا یوں کہہ لیں کہ ۔۔۔۔۔۔ یہ سب  ۔۔۔۔۔ سکرپٹ کا ۔۔۔۔۔ با قا عدہ منظم حصہ ہیں ۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔ جو دھا ئیوں سے ۔۔۔۔ ہوتا رھا ہے ۔۔۔۔ ہو رھا ہے ۔۔۔۔ ہوتا رھے گا ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔ لیکن لوگ اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ۔۔۔۔ اگر پشتون جماعت یہ کہہ دیتی تو بہت اچھا ہوجاتا ۔۔۔۔۔ حالات بدل جاتے

    اگر ۔۔۔۔ فلاں بلوچی لیڈر۔۔۔۔ یہ نہ کہتا تو ۔۔۔۔ جنت کی نہریں بہنے لگتیں ۔۔۔۔۔

    اگر ۔۔۔۔ وہ بات یوں نہ ہوئی ہوتی تو ۔۔۔۔ یوں نہ ہوا ہوتا ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔

    لیکن کوئی بھی  مہمان کرداروں  سے با ھر نکل کر ۔۔۔۔ اصل سکرپٹ ۔۔۔۔۔ کو بیان نہیں کرتا کہ ۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ سکرپٹڈ ہے ۔۔۔۔۔

    ایسا ہی لکھا گیا ہے ۔۔۔۔ ایسا ہی ہورھا ہے ۔۔۔ ایسا ہہی ہوتا رھے گا ۔۔۔۔ تا حد ۔۔۔ کہ سکرپٹ ۔۔۔۔ کی فلم مکمل نہ ہوجائے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 6 months, 1 week ago by  Guilty.
    #13
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 3924
    • Total Posts: 3924
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    کان پک گئےمیرے سن کر سن کر ۔۔۔۔ سرا ئیکی صوبہ  بننا چاھیے ۔۔۔ سرائیکی صوبہ بننا چاھیے ۔۔۔۔۔۔

    بڑی بڑی ۔۔۔۔ مسیحا پارٹیاں ۔۔۔۔۔۔ سینے پر ھاتھ مار مار کر کہتی ہیں کہ ھم ۔۔۔۔۔ سرائیکی صوبہ بنائیں ۔۔۔۔

    بڑے بڑے فلاسفر ۔۔۔۔  ٹی وی پر بیٹھ کر بتا تے ہیں ۔۔۔۔ کہ سرائیکی صوبہ ۔۔۔ بننا چاھیے ۔۔۔۔ سرائکیوں کو اس کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔

    بڑے بڑے جگادری ۔۔۔ دلیلیں دیتے ۔۔۔ مبا حثے کرتے نظر آئیں گے ۔۔۔۔۔  سرائکی صوبے کی افا دیت بتا تے پھریں گے ۔۔۔۔

    ھر دوسرا ۔۔۔ صا فی ۔۔۔ اینکر ۔۔۔۔ با نچھیں چیر چیر کر ۔۔۔۔سننے والے پر احسان کرے گا کہ ۔۔۔۔ ھاں ھم بھی سرائکی بننے کے حق میں ہیں ۔۔۔

    اور با لکل ۔۔۔۔ سرائکی صوبہ بننا چاھیے ۔۔۔۔ اور پسماندہ علاقے کے لوگوں کو حق ۔۔۔۔ ملنا چاھیے ۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن میرا زاتی خیال ہے ۔۔۔۔۔ جتنے لوگ بھی سرائکی صوبے کی باتیں کرتے ہیں  یہ سب  نفاق کے  گندے وا ئر س  ہیں ۔۔۔۔۔۔

    جو سب اپنی اپنی کپیسٹی میں   نفا ق ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ بٹوارے ۔۔۔۔ کے پھیلاو کو فروغ دے رھے ہیں  ۔۔۔

    سرائیکی صوبے کے نام پر ۔۔۔۔ پنجاب کا بٹوارہ کرنے والوں پر ۔۔۔۔۔ میری طرف لکھ لکھ ۔۔۔۔ کروڑ ۔۔۔ کروڑ ۔۔۔ لعنت قبول ہو ۔۔۔۔

    خدا نیست و نا بود کرے ان تمام کو ۔۔۔۔۔۔۔۔  جو انسانوں میں قوموں میں نفا ق و نفرت ۔۔۔۔۔ پیدا کرتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    #14
    Ghost Protocol
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 126
    • Posts: 3786
    • Total Posts: 3912
    • Join Date:
      7 Jan, 2017

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    پی ٹی ایم بلاشبہ ایک بہت بڑی تحریک ہے اور اس کے مطالبات جائز بھی ہیں لیکن جس طرح یہ پنجابیوں کے خلاف نفرت ابھار رہے ہیں اس سے شبہ ہوتا ہے کہ اس تحریک کا مرکز جی ایچ کیو ہی ہے۔ کیونکہ دنیا کی کوئی بھی عدم تشدد پر مبنی تحریک کبھی کسی دوسری محکوم قوم سے نفرت بڑھانے کو قابل ترجیح نہیں سمجھتی۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں پاکستان کا جھنڈا نہ لانے دینے کی شکائیت ہو یا پھر فوج کے خلاف نعرے ، یہ سب قابل برداشت ہے لیکن پاکستان کی سب سے بڑی اکائی یعنی پنجاب کے خلاف ان کی استعمال کی جانے والی زبان کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ غلطی بلوچ علیحدگی پسندوں نے کی تھی یعنی پنجابیوں کو ٹارگٹ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ عام عوام میں اپنی مقبولیت کھو بیٹھے ورنہ وہ بھی بگٹی کی شہادت کے بعد بہت مضبوط گروہ کی صورت سامنے آئے تھے اور ریاست ایک حد تک ان کے سامنے بےبس بھی ہو گئی تھی ۔ اسی طرح پی ٹی ایم کے پنجاب/پنجابی مخالف نعرے سُن کر پتہ چلتا ہے کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہوئی(جیسا کہ نظر آرہا ہے) تو پنجاب اور پنجابیوں کے حق میں بہت برا ہوگا۔

    یہ باریک نکتہ ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب میں فرق کرنا چاہئے اور یہ فرق سب سے زیادہ اہل پنجاب پر فرض ہے کہ چونکہ آپ کے بھائی ، چچا ، کزن وغیرہ فوج میں نوکری کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کی ہر ناجائز بات کے پیچھے کھڑے ہوکر دیگر گروہوں میں غداری یا حب الوطنی کی اسناد بانٹنے کی جو قدرتی کھرک پائی جاتی ہے اس پر کچھ قابو پایا جائے.
    مگر جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ملٹری کی ہر جائز اور ناجائز واردات کی سب سے زیادہ غیر مشروط حمایت اہل پنجاب کی طرف سے آتی ہے تو انکے لئے آسان ہوجاتا ہے کہ ہر دو گروہوں کو گڈ مڈ کردیا جائے.
    اس دھاگہ کو دیکھ لیں اسلام اور پاکستانیت کا چوغہ اتار کر پھینکنے میں دوستوں نے ذرا بھی دیر نہیں لگائی

    #15
    muhammad moazzam niaz
    Participant
    Offline
    • Member
    • Threads: 1
    • Posts: 56
    • Total Posts: 57
    • Join Date:
      12 Feb, 2017

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    کیا کسی کو علم ہے کہ جس جرم کے ارتکاب کا الزام پشتون سمیت ہر پاکستانی اقلیتی اکائی ، پنجابیوں پر لگاتے ہیں(اکثریت کی بنیاد پر اقربا پروری ، دھونس، حکمرانی، فوج میں اکثریت اور اقلیتی قوموں کے علاقوں کو جنگ کی جہنم میں دھکیلنا) ؛ وہی الزامات افغانستان کی اقلیتی اکائیاں وہاں کے پشتون حکمرانوں اور افغانی مقتدرہ پر لگاتے ہیں. وہاں تاجک، ہزارہ، ازبک، ترکمان بلکل ہمارے سندھیوں، بلوچوں، سرائیکیوں، پشتونوں، مہاجروں، کشمیریوں اور گلگتیوں-بلتیوں کی طرح وہاں کی اکثریتی پشتون مقتدرہ، حکمرانوں سے تنگ ہیں. اور افغانستان میں تو یہ جرائم بھی ایسے کہ چھپانے کی بھی ذرا کوشش نہیں جاتی. اشرف غنی کے ہر روز سرکاری خفیہ دستاویزات سوشل میڈیا پر لیک ہوتے ہیں کیسے اقلیتی اکائیوں کے آئینی حقوق کو اکثریتی پشتون اکائی پر قربان کرنا ہے. کسی بھی سرکاری محکمے میں تقرری ہو؛ ملازمین کی ترقیاں ہوں، این جی اوز کی فنڈنگ، پانی بجلی تک رسائی، ڈویلپمنٹ فنڈز ہوں الغرض ہر شعبے میں دھڑلے سے اکثریت پروری

    مسلہ صرف حقوق کا نہیں؛ مسلہ پاکستان اور افغانستان کے جغرافیے کا ہے. افغانستان کو ہمسائیوں کی ہر وقت کی بلیک میلنگ اور جی حضوری سے بچنے کیلیے سمندر تک رسائی چاہیے؛ پشتونوں کو پاکستانی اقلیت اکائی کے بدلے افغانی اکثریتی اکائی پرکشش نظر آتی ہے کہ شاید اس طرح وہ اس امتیازی سلوک سے بچ سکیں . ایک انتہائی باغیرت، معزز، دلیر، پرکشش، دراز قد ، گوشت خور اور سرخ و سفید قوم کو کالے، پستہ قد اور دال کھانے والے بے غیرت پنجابی ڈھگوں نے کس طرح ذلیل و رسوا کر کے ناک سے لکیریں نکلوائی ہیں

    بچپن میں جب یہ سنتا تھا کہ ہر قاتل علاقہ غیر فرار ہو گیا جہاں وہ علاقہ مشران کو پیسے دے کر جب تک چاہے محفوظ رہ سکتا ہے؛ چوری ہونے والی کسی بھی گاڑی کا مالک مشران کو ایک چوتھائی قیمت ادا کر کے گاڑی واپس لا سکتا ہے؛ ہر قسم کا نشہ و اسلحہ علاقہ مشران کے   محبوب  ڈرگ و اسلحہ ڈیلروں سے خرید سکتا ہے؛ افغانستان کے راستے ایران اور رشیا سے اسمگل شدہ ہر غیر ملکی شے سستے داموں خریدی جا سکتی ہے، مفت بجلی کی ہمہ وقت سہولت موجود ہے ؛؛تو یقین کریں پنجاب پولیس جیسے خداؤں سے ہمہ وقت سہمے رہنے والے پنجابی/سرائیکی اور اندرون سندھ کے لوگ ایسی ہی آزاد جنت کے خواب دیکھتے تھے. اور یہ جنت سن سنتالیس سے دو ہزار ایک تک قائم رہی

    علاقہ غیر کی معیشیت  کی شرح نمو میں سب سے زیادہ اضافہ سن اسی کی دہائی کے بعد شروع ہوا جب سارا مغرب اپنے خزانوں کا منہ کھول کر روس کو شکست دینے کیلیے فاٹا میں آ بیٹھا. صرف چلغوزے کے درختوں اور معدنیات سے گزارا ہوتا تو آج گلگت بلتستان کے لوگ بھی غربت کی چکی میں پسنے کی بجاے فاٹا کی طرح قلعہ نما مکانوں میں رہائش پزیر ہوتے(ہر گھر قلعہ) ؛ جبکہ گلگت بلتستان تو سیاحت سے بھی بہت کچھ کماتا ہے. مگر غربت ایسی کہ وہاں کی خواتین کو  بھی کلچر پر چار حرف بھیجتے ہوے چار پیسے کمانے کیلیے بالاخر گھر سے نکلنا ہی پڑا

    اب ذرا آج کی بات کی جاے تو جنگ زدہ علاقہ ہونے کی وجہ سے طالبان اور فوج دونوں کے ہاتھوں لوگ مارے گئے؛ چاہے طالبان بھی مرے تو وہ بھی کسی کا بھائی،بیٹا،باپ اور شوہر ہی مارا گیا . لوگوں کو انکے گھروں سے بے گھر کر کے کیمپوں اور شہروں میں جی بھر کر ذلیل کیا گیا.آزاد منش لوگوں کو چیک پوسٹوں پر پنجابی اور سندھی پینڈوں کی طرح رسوا کیا گیا (ایک پنجابی لائنس نائیک قطار میں کھڑے کسی ایک وزیرستانی کی طرف اشارہ کر کے کان پکڑنے کا حکم دے تو اسکے اس پاس کے دس پندرہ بھی فورا مرغا بن جاتے ہیں)؛ صرف ایک شارٹ ٹرم فائدے(افغان حکومت کا ناطقہ بند کرنے کیلیے)  سرحد پر با ڑ اور خندقیں بنا  دی گیں؛ ہزاروں قلعہ نما چیک پوسٹس سرحد پر بنا دی گئیں. یہ سوچے سمجھے بغیر کہ فاٹا کی معیشیت کیسے چلے گی؟؟؟ اسلحہ فیکٹریاں بند، نشہ  اور مغربی اشیاۓ  تعیش کی اسمگلنگ  طالبان  اور انکے مالکان کے مکمل کنٹرول میں؛ بجلی بیس بیس گھنٹے بند؛ رشتہ داروں سے ملنے کیلیے ایک گھنٹے  کے بجاے ویزہ کی خواری کے علاوہ چالیس گھنٹے کا سفر؛ قاتلوں/گاڑیوں  کیلیے محفوظ پناہ گاہیں اور ملنے والا پیسہ ختم، بارودی سرنگوں کی وجہ سے نہ انسانو ں /جانوروں کی جانیں محفوظ  اور نہ ہی  انکے ہاتھ/پر/ٹانگیں/بازو؛ اوپر سے پنجاب/سندھ کی طرح مجرم  کو توڑنے کیلیے انکے رشتہ داروں اور خواتین کو ہراساں کرنا ؛؛ قصہ مختصر یہ بھیانک داستان ہے ظلم وجبر   اور ننگے استبداد کی کیسے ایک مخصوص علاقے کے لوگوں پر جینا مشکل اور مرنا آسان کر دیا گیا. جان سے مارا گیا، بے گھر کیا گیا، ہر جگہ رسوا کیا گیا، آمدنی کے تمام ذرائع ختم کر دیے گئے . اپنے گھروں میں دس بیس بچے پیدا کر کے  ہر دنیاوی مسلے سے  بے نیاز  ہو کر شان کے ساتھ رہنے والوں  کا اس طرح ناطقہ بند کیا گیا. 

    اسلیے اپنے اپنے گھروں میں بند ہو کر مرنے اور خودکشیاں کرنے کی بجاے اب یہ لوگ سڑکوں پر ہیں  

    #16
    GeoG
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 51
    • Posts: 4346
    • Total Posts: 4397
    • Join Date:
      12 Oct, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    یہ باریک نکتہ ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب میں فرق کرنا چاہئے اور یہ فرق سب سے زیادہ اہل پنجاب پر فرض ہے کہ چونکہ آپ کے بھائی ، چچا ، کزن وغیرہ فوج میں نوکری کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کی ہر ناجائز بات کے پیچھے کھڑے ہوکر دیگر گروہوں میں غداری یا حب الوطنی کی اسناد بانٹنے کی جو قدرتی کھرک پائی جاتی ہے اس پر کچھ قابو پایا جائے. مگر جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ملٹری کی ہر جائز اور ناجائز واردات کی سب سے زیادہ غیر مشروط حمایت اہل پنجاب کی طرف سے آتی ہے تو انکے لئے آسان ہوجاتا ہے کہ ہر دو گروہوں کو گڈ مڈ کردیا جائے. اس دھاگہ کو دیکھ لیں اسلام اور پاکستانیت کا چوغہ اتار کر پھینکنے میں دوستوں نے ذرا بھی دیر نہیں لگائی

    جی پی بھائی صاحب یہ غداری اور حب الوطنی کی اسناد والا کام سب سے زیادہ جرنل ضیاء اور جرنل مشرف نے کیا ہے – یہ دونوں پنجابی ہی تھے نا ؟؟؟

    #17
    muhammad moazzam niaz
    Participant
    Offline
    • Member
    • Threads: 1
    • Posts: 56
    • Total Posts: 57
    • Join Date:
      12 Feb, 2017

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    افغانستان کی سمندر تک رسائی اور پشتونوں کی پاکستانی اقلیتی اکائی کے بجاے افغانی اکثریتی اکائی بن کر جینے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہو سکتی؛ ظاہر ہے ہر طرح سے   فائدہ مند نظر آتی ہے. ویسے بھی اپنا جتنا مرضی مارے وہ اتنا  برا نہیں لگتا ؛ پرایا مارے تو بے بسی، لاچاری اور غلامانہ محکومیت کا عالم ہی کچھ اور ہوتا ہے

    میری انفرادی حد تک کسی پر ظلم و جبر نہیں ہونا چاہیے ؛ جو فرد  یا طبقہ/علاقہ کسی ملک میں نہیں رہنا چاہتا یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ رہنا چاہتا ہے اسکی مکمل آزادی ہونی چاہیے . مجھے کوئی مسلہ نہیں ، میں ویزہ لے کر سوات، شانگلہ، چترال اور کوہستان وغیرہ گھوم پھر آؤں گا. اس زمین نے یہیں رہنا ہے، مالک، ملک، نام، زبان، مذھب، کلچر، لوگ، نسل، قبیلے ازل سے بدلتے رہے ہیں اور ہمیشہ بدلتے رہیں گے 

    مگر ریاست  کے سینے میں دل نہیں ہوتا . نیشن سٹیٹ نے مذھب، نسل، زبان، قبیلہ وغیرہ کی بنیاد پر ایک ساتھ رہنے والوں کا ساتھ بڑا بھیانک بلاتکار کیا ہے . آج بلوچ تین ملکوں، کشمیری دو ملکوں، کرد نصف درجن ملکوں  میں اور دنیا بھر کی سینکڑوں سے زائد نسلیں /قبیلے    ایک سے زائد ممالک یا نیشن سٹیٹس  میں تقسیم ہیں اور کوئی شنوائی نہیں. یہ ہے حقیقی دنیا کی تلخ حقیقت

    کاش ہر مشہور پاکستانی ڈسکشن فورم کے برعکس یھاں پنجابیوں کے بجاے قوم پرست پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی اور بلتی بھائی بھی موجود ہوتے اور انکا نقطہ نظر پڑھنے ،سمجھنے  اور ڈسکس  کرنے کا موقعہ ملتا. نجانے وہ سارا پاکستان کہاں ہے؟؟؟

    #18
    Guilty
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 0
    • Posts: 3924
    • Total Posts: 3924
    • Join Date:
      6 Nov, 2016

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    یہ باریک نکتہ ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب میں فرق کرنا چاہئے اور یہ فرق سب سے زیادہ اہل پنجاب پر فرض ہے کہ چونکہ آپ کے بھائی ، چچا ، کزن وغیرہ فوج میں نوکری کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کی ہر ناجائز بات کے پیچھے کھڑے ہوکر دیگر گروہوں میں غداری یا حب الوطنی کی اسناد بانٹنے کی جو قدرتی کھرک پائی جاتی ہے اس پر کچھ قابو پایا جائے. مگر جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ملٹری کی ہر جائز اور ناجائز واردات کی سب سے زیادہ غیر مشروط حمایت اہل پنجاب کی طرف سے آتی ہے تو انکے لئے آسان ہوجاتا ہے کہ ہر دو گروہوں کو گڈ مڈ کردیا جائے. اس دھاگہ کو دیکھ لیں اسلام اور پاکستانیت کا چوغہ اتار کر پھینکنے میں دوستوں نے ذرا بھی دیر نہیں لگائی

    پروٹوکول ۔۔۔۔۔۔

    یہ بات آپ کی درست ہے کہ ۔۔۔۔۔ پنجاب کے لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ اگر انہوں نے پاک فوج پر تنقید کردی تو ۔۔۔۔ خدا نخواستہ ۔۔۔۔ پا ک فوج ۔۔۔۔ نمک کی ڈلی کی طرح کھر ہی نہ جائے ۔۔

    یہ بے چارے ھر وقت فوج کے  پچھا ئے پر ھاتھ رکھے  پردہ  پوشویوں میں  مصروف رھتے ہیں ۔۔۔۔۔

    لیکن پنجاب کے لوگوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ ۔۔۔۔ و ہ جس سرکاری ایجنڈ ے کو ۔۔۔۔ سپورٹ کرکر ھلکان ہورھے ہیں

    وہی سرکاری ایجنڈا ان کو بنگا لیوں سے لیکر بلوچوں تک ۔۔۔۔۔ ولن ۔۔۔۔۔ کے طور نہ صرف پیش کررھی ہے بلکہ ۔۔۔۔ گراونڈ پر بھی ان کے مفا دات کو ضربات لگا رھی ہے ۔۔۔

    لیکن بات یہ ہے کہ سب انسان ہیں  اور ظا ھر ہے آج کے انسان  اپنے  دل اور زبان اور علاقے کے ریموٹ سے ہی چلتے ہیں ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔

    لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔ میں نے کراچی کے بے شمار مہا جروں  کو بھی سنا ہے کہ وہ بھی  پا ک فوج کو ایسے سمجتھے ہیں ۔۔۔۔

    شا ید پا ک فوج نہ ہوتی تو اب تک ان سب کا انتقال ہوچکا ہوتا ۔۔۔۔۔

    کراچی کے چوبیس سالہ مہاجر نوجوان  سے میری بات ہورھی تھی  جس نے ابھی تک پنجاب دیکھا ہی نہیں ہے اس نے صرف کراچی دیکھا ہے  میں اس کے سامنے  پا ک فوج کی برا ئیاں کررھا تھا ۔۔۔۔

    نوجوان کو بہت برا لگا کہنے لگا بھائی جان ۔۔۔۔۔ فوج کی ہی وجہ سے تو ھم لوگ زندہ ہیں ۔۔۔۔ آپ کیسی باتیں کررھے ہیں ۔۔۔۔۔۔

    میرے کہنے کا مقصد یہ بات ٹھیک ہے کہ پنجاب میں فوج کے حما یتی ننا نوے فیصد ہونگے ۔۔۔۔ لیکن بقیہ ملک بھی اس حمایت میں پنجاب سے پیچھے نہیں ہے ۔۔۔

    کراچی والوں کے سامنے بھی جب فوج کو لتاڑا جا ئے تو ایسے منہ لٹکا کر ۔۔۔ گنگ دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ جیسے ان کی چائے میں کچھ ملا یا جارھا ہو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

    اور یہی وجہ ہے ۔۔۔۔ فوج کو ۔۔۔۔ اس ملک میں کسی سے  خطرہ نہیں ہے ۔۔۔۔ جب  شکار خود ہی شکاری کے رومانس  میں ہو تو  ۔۔۔۔ پھر صرف تما شہ دیکھنا با قی رھ جاتا ہے ۔۔۔۔

    جو میں روز ٹی وی پر ۔۔۔۔ لائیو دیکھ رھا ۔۔۔۔ کئی سالوں سے ۔۔۔۔  روز نیا شغل کبھی کوئی نیا چ چیف عد الت میں قلا بازی د کھا رھا ہے  کبھی شکریہ راحیل درخت سے الٹا لٹک کر قوم کو محظوظ کررھا ہے

    ۔۔ پہلے میرا دل د کھا کرتا تھا لیکن اب مجھے مزہ آتا ہے ۔۔۔۔

    میں سوچتا ہوں جیسا مسلحہ اس عوام کا رومانس ہے ویسی ہی مسلحہ زندگی ان کا انجام بنی ہوئی  ہے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 6 months, 1 week ago by  Guilty.
    #19
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 665
    • Posts: 11882
    • Total Posts: 12547
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    جی پی بھائی صاحب یہ غداری اور حب الوطنی کی اسناد والا کام سب سے زیادہ جرنل ضیاء اور جرنل مشرف نے کیا ہے – یہ دونوں پنجابی ہی تھے نا ؟؟؟

    وڈھے ۔۔پائی ۔

    میرے خیال میں  مشرف نے ایم کیو ایم کو زیادہ بانس پر چڑھایا۔۔ہے ۔۔۔بندے پھڑکانے کی آزادی دینے کے   ساتھ ساتھ مشرف نے ۔بابر غوری کی کراچی کی تباہی  کو دیکھتے ہوئے میزائلوں میں ایک کا نام ۔بابر ۔اور دوسری کا غوری رکھ دیا ہے ۔

    :bigsmile:

    #20
    muhammad moazzam niaz
    Participant
    Offline
    • Member
    • Threads: 1
    • Posts: 56
    • Total Posts: 57
    • Join Date:
      12 Feb, 2017

    Re: اپنا بچہ‘ فوج کی نظر میں دشمن قوتوں کا آلۂ کار کیوں بن گیا؟‘

    یہ باریک نکتہ ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب میں فرق کرنا چاہئے اور یہ فرق سب سے زیادہ اہل پنجاب پر فرض ہے کہ چونکہ آپ کے بھائی ، چچا ، کزن وغیرہ فوج میں نوکری کرتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کی ہر ناجائز بات کے پیچھے کھڑے ہوکر دیگر گروہوں میں غداری یا حب الوطنی کی اسناد بانٹنے کی جو قدرتی کھرک پائی جاتی ہے اس پر کچھ قابو پایا جائے. مگر جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ملٹری کی ہر جائز اور ناجائز واردات کی سب سے زیادہ غیر مشروط حمایت اہل پنجاب کی طرف سے آتی ہے تو انکے لئے آسان ہوجاتا ہے کہ ہر دو گروہوں کو گڈ مڈ کردیا جائے. اس دھاگہ کو دیکھ لیں اسلام اور پاکستانیت کا چوغہ اتار کر پھینکنے میں دوستوں نے ذرا بھی دیر نہیں لگائی

    میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر   بھائی غفور کے بھرتی کردہ تنخواہ دار پاکستانیوں کی ایکٹویٹی(تعداد نہیں ایکٹویٹی) عام پنجابی سوشل میڈیا راۓ دہندگان سے کئی گنا زیادہ ہے .ذرا غور کریں کہ صرف تیس ہزار لوگوں پر مشتمل محمد بن سلمان کی ٹرال آرمی   پچھلے چھ ماہ میں  سینکڑوں بار محض گھنٹوں میں اپنے ٹوٹر ٹرینڈز کو ورلڈ ٹاپ فائیو میں لا سکتی ہے ؛ ناقدین کو ٹویٹر اور سوشل میڈیا چھوڑنے پر  مجبور کر سکتی ہے جبکہ سعودی پوری دنیا میں سست اور کاہل ترین نوجوانوں کی قوم کے طور پر مشہور ہے. یھاں پاکستان میں ڈگری یافتہ پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کا تناسب اور اسکی تباہکاریوں سے آپ بھی واقف ہیں .

    پی ٹی ایم کے ابتدائی دنوں(نہ اسوقت لر و بر کے نعرے تھے، نہ کوئی ٹوٹر ٹرینڈز اور نہ ہی اشرف غنی کی ٹویٹ)میں ہی جب عام پنجابی کو اس تحریک کی الف-بے  کا بھی علم نہیں تھا؛ اسی وقت سے اس پر بڑی تعداد  میں اور بھا ری وثوق سے غداری   اور پشتونستان وغیرہ کے فتوے لگنا شروع ہو چکے تھے(نفرت کا یہ عالم تھا  کہ جیسے پی ٹی ایم والوں نے ان پنجابیوں  کی ذاتی جائیداد پر غاصبانہ قبضہ کر کے اسے فروخت کر کے یورپ میں قدم  جما لیے ہوں اور ان لوگوں  کو بچوں سمیت سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہو) . اب اتنا “صاحب بصیرت” کوئی عام سوشل میڈیا یوزر پنجابی  تو کبھی بھی کوئی نہیں ہو سکتا

    تیسرا ، پی ٹی آئ سوشل میڈیا ٹیم  اور یوتھیوں کو بھی عسکری ٹیم کا بغیر تنخواہ حصہ سمجھیں . جتنی انکو سیاست کی سمجھ ہے اس سے کہیں کم آئین، وفا  ق  اور ریاستی اکائیوں، اور بین  الاقوامی  معاملات کی

    آخری ؛ پشتون، کشمیری ،بلتی اور بلوچ تو پہاڑ پر چڑھ جائیگا ؛ سندھی بھی تھر یاترا پر نکل سکتا ہے مگر پنجابی کہاں بھاگے اور  چھپے گا؟؟؟؟

    لہٰذا، ایسی امید  رکھنا نہایت ناانصافی ہے  

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 44 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation