Thread: انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی مقبولیت اور الیکشن ٢٠١٨

Home Forums Siasi Discussion انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی مقبولیت اور الیکشن ٢٠١٨

This topic contains 0 replies, has 1 voice, and was last updated by  حسن داور 10 months ago. This post has been viewed 76 times

Viewing 1 post (of 1 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    حسن داور
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 3485
    • Posts: 1917
    • Total Posts: 5402
    • Join Date:
      8 Nov, 2016

    Re: انتہا پسند مذہبی جماعتوں کی مقبولیت اور الیکشن ٢٠١٨

    راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہ اسلام آباد ایکسپریس وے پر فیض آباد جنکشن کو نومبر کے مہینے میں تین ہفتے تک انتہائی دائیں بازو کی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنان نے اپنے مطالبے کی منظوری تک دھرنے دے کر بند کر رکھا تھا۔

    تحریک لبیک یا رسول اللہ کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ وہ اکتوبر میں قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے انتخابی اصلاحات کے بل میں احمدیوں اور ختم نبوت کے حوالے سے دو شقوں میں کی گئی تبدیلیوں کے ذمہ داران کی نشاندہی کریں اور وزیر قانون زاہد حامد سے استعفی لیں۔

      ٢٥ نومبر کو حکومت نے اس دھرنے کو ختم کرنے کے لیے ایک آپریشن کیا جو کہ مکمل طور پر ناکام ہوا۔ اس کے بعد فوج نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کرائے جو 27 نومبر کو چھ نکاتی معاہدہ کی منظوری کے بعد مکمل ہوئے اور دھرنا اختتام پذیر ہوا۔

    اس موقع پر کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھا کہ یہ کون سی جماعت ہے جس نے نہ صرف تین ہفتے تک حکومتی رٹ کو ملک کے دارلحکومت میں سرعام چیلینج کیا بلکہ دو ماہ قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے اپنے حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں تیسری پوزیشن بھی حاصل کی۔

    اس جماعت کی مقبولیت اور اس کے مرکزی سیاست کے دھارے میں شامل ہونے کے تانے بانے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل سے ملتے ہیں جنھیں ان کے اپنے ہی سیکورٹی گارڈ اور بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پولیس کمانڈو ممتاز قادری نے جنوری 2011 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

    اس واقعے کے بعد ممتاز قادری کےحق میں بریلوی جماعتوں اور علما نے کافی آواز بلند کی اور ان میں سب سے نمایاں آواز لاہور سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ علامہ خادم حسین رضوی کی تھی جنھوں نے ممتاز قادری کی حمایت، احمدیہ جماعت اور ختم نبوت کے مسئلے کے بارے میں اپنی تقاریر سے کافی شہرت حاصل کی۔

    فروری 2016 میں ممتاز قادری کو حکومت نے پھانسی کی سزا دی تو خادم حسین رضوی نے اسلام آباد میں ڈی چوک پر چار روزہ مظاہرہ کیا۔ اِس سال ممتاز قادری کی برسی پر ہونے والے عرس کے موقع پر حکومت پنجاب نے خادم حسین رضوی کو اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی۔

    یوٹیوب پراس سال چھ مارچ کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں خادم حسین رضوی کا خطاب دیکھا جا سکتا ہے جس میں انھوں نےسامعین کو بتایا کہ حکومت نے انھیں بغیر کسی وجہ کے اسلام آباد جانے سے روک دیا لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے مزید کہا: آپ محنت کریں اور حضور کا دین ٢٠١٨ میں تخت پر لائیں، کام ہو جائے گا۔ یہ باتیں طاقت سے ہوں گی۔ میں تعداد کا قائل نہیں ہوں لیکن ان کو تعداد دکھانی ہوگی۔

    اس خطاب کے صرف چھ ماہ بعد علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں بننے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے حمایتی امیدوار شیخ اظہر رضوی نے نواز شریف کے پاناما کیس میں نااہل ہونے کے بعد لاہور کے حلقہ 120 کی خالی نشست پر ستمبر کے ضمنی انتخابات میں حیران کن طور پر تیسری پوزیشن حاصل کر کے یہ واضح کر دیا کہ خادم حسین رضوی کی تقریر بے معنی نہیں تھی۔

    لاہور سے سات ہزار ووٹ لینے کے بعد اگلے ماہ تحریک لبیک نے دوسری بڑی کامیابی پشاور کے حلقہ 4 میں حاصل کی جب انھوں نے ایک ایسے علاقے سے تقریباً 10 ہزار ووٹ حاصل کیے جو روایتی طور پر کبھی بھی بریلوی مکتبہ فکر کا گڑھ نہیں رہا۔ ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی جس نے 2013 میں 16 ہزار ووٹوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، ضمنی انتخاب میں صرف سات ہزار ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر چلی گئی۔

    تحریک لبیک پاکستان کے علاوہ حلقہ 120 میں ممبئی پر 2008 میں ہونے والے حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ حافظ سعید کی مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کی نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے حمایتی امیدوار نے بھی تقریباً چھ ہزار ووٹ حاصل کیے لیکن اس کے بعد پارٹی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس اپنی رجسٹریشن کرانے میں دشواریاں درپیش آگئیں اور فی الوقت یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

    واضح رہے کہ مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو تقریباً 10 ماہ کی نظر بندی کے بعد گذشتہ مہینے رہا کر دیا گیا تھا۔ انھیں کشمیر میں سرگرم جہادی تنظیم لشکر طیبہ کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر 2008 میں انڈین شہر ممبئی میں ہونے والے حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

    ان دونوں مذہبی جماعتوں کی کارگردگی کو دیکھتے ہوئے اور ساتھ ساتھ تحریک لبیک پاکستان کے اسلام آباد میں تین ہفتے تک جاری رہنے والے کامیاب دھرنے کے بعد مبصرین یہ غور کرنے پر مجبور ہوئے کہ انتہائی دائیں بازو کی سوچ کی حامل جماعتوں کی ایسی متاثرکن کارکردگی ٢٠١٨ میں ہونے والے عام انتخابات کو کیسا رنگ دے گی۔

    تجزیہ نگار ڈاکٹرعائشہ صدیقہ نے بی بی سی سے گفتگو میں اس رائے کا اظہار کیا کہ یہ دونوں جماعتیں انتخابات میں خاطر خواہ کارکردگی تو شاید نہ دکھا سکیں لیکن زیادہ بڑا خدشہ ہے کہ ان کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے سے قومی بیانیہ سخت گیر ہو جائے گا جو کہ پورے معاشرے پر منفی اثرات قائم کرے گا۔

    ان دونوں ضمنی انتخابات اور پھر نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار عامر رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں دیو بندی مکتبہ فکر کی جماعتوں کو ملک میں سیاسی طور پر واضح برتری حاصل تھی اور ان کے مقابلے میں بریلوی جماعتیں تتر بتر تھیں۔ ان حالات میں ٢٠١١ میں سلمان تاثیر کا قتل بریلوی جماعتوں کے لیے ایک ایسا نکتہ بن گیا جو ان کو سیاسی دھارے میں دوبارہ شامل کرنے کا ذریعہ بن سکتا تھا۔

     تحریک لبیک پاکستان نے ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی اور ناموس رسالت کو اپنا مرکزی نکتہ بنا پیش کیا اور ایسی کامیابی حاصل کی جو ماضی میں بریلوی جماعتوں کو کبھی بھی نہیں ملی تھی۔ لیکن یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ مجموعی طور پر بریلوی جماعتیں ان حالات کا فائدہ اٹھا سکیں گی کیونکہ روایتی طور پر وہ ہمیشہ بٹی ہوئی رہتی ہیں اور دیوبندی جماعتوں کے برعکس ان کی تنظیمی صلاحیتیں اتنی اچھی نہیں ہیں۔

    عامر رانا نے کہا کہ بریلوی جماعتوں کا اتحاد آنے والے انتخاب میں قدرے اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن ماضی کے اسباق کو دیکھتے ہوئے اس کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

     بہت ممکن ہے کہ تحریک لبیک پاکستان دھرنے اور انتخابی کامیابی کے بعد اپنے اسی سخت گیر ایجنڈے کے تحت اپنے حمایتیوں کو اکھٹا کرے لیکن اس میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ایسی حکمت عملی عوامی جذبات کو لمبے عرصے تک اپنے سحر میں مبتلا رکھے گی یا نہیں۔

    دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کے رکن اور حلقہ 120 میں انتخاب لڑنے والے امیدوار شیخ اظہر رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی پارٹی نے پہلے دن سے اسلام کی سربلندی اور ناموس رسالت کے تقدس کو اپنی پارٹی کے منشور کا بنیادی جزو بنایا ہوا ہے اور اسی پر ان کی جماعت نے انتخابی مہم چلائی تھی۔

     ہم نے اپنی مہم میں صرف یہ کہا کہ نہ ہم نے کسی کو گرانا ہے نہ کسی کو اٹھانا ہے۔ ہمارا مقصد صرف نبی کریم کے دین کو تخت پر لانا ہے۔ ہمارا پہلے دن سے یہی مقصد رہا ہے اور آگے بھی یہی رہے گا۔ جب یہ دین آئے گا تو لوگوں کو کیا نہیں ملے گا۔

    جب شیخ اظہر رضوی سے سوال کیا گیا کہ ان کی جماعت نے اپنی ویب سائٹ پر مذہب کی سربلندی کے علاوہ معاشی بہتری، خارجہ پالیسی، تعلیم اور صحت جیسے مختلف مسائل کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے اور اس کے لیے ان کی حکمت عملی کیا ہے؟ تو جواب میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار نے کہا کہ ’چونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اسی سے تمام مسائل کا حل پیدا ہوگا۔

     دین میں کونسی چیز نہیں ہے؟ کیا دین نے سڑکیں نہیں دیں؟ کیا دین نے پُل نہیں دیے؟ دین نے کیا نہیں دیا ہے؟ دین ہی سب کچھ دے گا اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے۔

    لیکن یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا ناموس رسالت اور دین کی سربلندی کے لیے لگایا گیا نعرہ دیگر مذہبی جماعتوں کی موجودگی کے باوجود زیادہ بااثر کیوں ثابت ہوا اور کہیں اس کے پیچھے مذہب کے علاوہ دوسرے عوامل تو شامل نہیں ہیں؟

    یہ سوالات دوبارہ اس وقت سامنے آئے جب اسلام آباد میں جاری دھرنے کو ختم کرنے میں فوج نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

    پہلے بری افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکومتی مطالبے کے باوجود دھرنا دینے والوں کے خلاف کاروائی کرنے سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ’فوج اپنوں کے خلاف کاروائی نہیں کرتی‘۔ اس کے بعد خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہم ترین عہدے داران میں سے ایک میجرجنرل فیض نے حکومت اور تحریک لبیک کے اراکین کے درمیان مرکزی ثالث اور ضامن کا کردار ادا کیا اور پھر اس کے بعد سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پنجاب رینجرز سے تعلق رکھنے والے اعلی افسر نے دھرنے کے مظاہرین میں نقد 1000 روپے تقسیم کیے۔

    اس بارے میں تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی حلقہ 120 کے انتخاب کے بعد ٹی وی پر دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں ان شکوک کو قطعی طور پر غلط قرار دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی کو پنڈی یا کسی ادارے سے کوئی آشیرباد نہیں حاصل ہے اور ان کے تمام تر وسائل اور فنڈز چندے اور اعانت کی مدد سے اکٹھے کیے گئے تھے۔

    دھرنے کے دوران بھی بی بی سی سے گفتگو میں خادم رضوی نے کہا تھا کہ کہ فوج نے اس مسئلے میں پہلے ہی موقف دے دیا اور وہ ‘کبھی بھی ناموسِ رسالت اور ختم نبوت پر نہ کبھی پیچھے ہٹی ہے اور نہ قیامت تک ہٹے گی’ لیکن فوج کی جانب سے کسی بھی قسم کی پشت پناہی کے شک کو غلط قرار دیا۔

    لیکن تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اس بارے میں کہا کہ ایک نئی پارٹی، خاص طور پر ایک مذہبی پارٹی کا اس قدر تیزی سے مقبولیت حاصل کرنا فوج کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

    اسی نکتے پر مزید بات کرتے ہوئے ہفتہ وار جریدے نیوز ویک پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی اور مصنف خالد احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ حلقہ 120 کی انتخابی مہم کے دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کے کئی کارکنان کو مبینہ طور اٹھایا گیا لیکن واپس آجانے کے بعد ان میں سے کسی نے بھی میڈیا پر بات نہیں کی حالانکہ جماعت کے عہدے داران ٹی وی پر آکر یہ شکایات کرتے رہے کہ پارٹی کے لوگوں کو اٹھایا گیا۔

     ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی قسم کی آرکسٹریشن کی گئی ہے اور فوج تو پہلی ہی بیان دے چکی ہے کہ وہ دائیں بازو کی پرتشدد تنظیموں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش مند ہے۔ ایسا کرنا حافظ سعید کی جماعت اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

    بشکریہ ….. عابد حسین

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan-42477957

Viewing 1 post (of 1 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation