Thread: افادیت

This topic contains 226 replies, has 19 voices, and was last updated by  Bawa 5 months, 3 weeks ago. This post has been viewed 7229 times

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 227 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2055
    • Total Posts: 2070
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: افادیت

    یہ صفحہ بنانے کا خیال مجھے گھوسٹ صاحب اور شیرازی کے درمیان گفتگو سے آیا تھا۔۔۔۔۔

    یہ تحریر گھوسٹ صاحب کو مخاطب کر کے ہی لکھی گئی ہے۔۔۔۔۔

    • This topic was modified 6 months, 2 weeks ago by  الشرطہ.
    #2
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2055
    • Total Posts: 2070
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: افادیت

    فلسفہ میں ایک نظریہ پایا جاتا ہے جس کو افادیت(یوٹیلیٹیرینزم) یا شاید سُودمندی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔ یہ نظریہ کافی پرانا ہے۔۔۔۔۔ قدیم یونان کے کچھ فلسفیوں(ایپیکیورس، اریسطیپس وغیرہ) نے اِس نظریہ کا تصور دیا تھا۔۔۔۔۔ مگر اِس یوٹیلیٹیرینزم کو جو جدید تعریف دی اور جس کو اِس جدید نظریہ کا بانی کہا جاسکتا ہے وہ جیریمی بینتھم ہے، پھر آگے چل کر جون اِسٹوورٹ مِل نے اِس پر بہت کام کیا ہے۔۔۔۔۔

    جیریمی بینتھیم بہت ہی مشہور برطانوی قانون دان اور فلسفی تھا۔۔۔۔۔ اُس نے جو معاشرتی تصور(جس کو اُس نے فنڈامینٹل اَیکسیم کہا ہے) دیا جس کی وجہ سے وہ آج تک مشہور ہے، اُس تھیوری کو آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ کسی عمل کے صحیح ہونے کا ایک پیمانہ عظیم اکثریت کا زیادہ سے زیادہ خوشی کا بَہم پہنچنا بھی ہے۔۔۔۔۔ یا یوں کہیں کہ، جتنے زیادہ لوگ جس عمل سے زیادہ سے زیادہ خوشی حاصل کریں گے، وہ عمل، صحیح غلط کے پیمانے پر صحیح کی طرف جھکتا جائے گا۔۔۔۔۔

    دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں قانون اور فلسفہ کے طالبعلموں کو، اور خاص کر حکومت سازی(پولیٹکس اینڈ پبلک ایڈمنسٹریشن) کے حوالے سے جیریمی بینتھم کی یہ تھیوری فرض سمجھ کر پڑھائی جاتی ہے۔۔۔۔۔

    اگر آپ بینتھم کے اِس نظریہ کو جذباتی عینک لگا کر دیکھیں گے تو یہ نظریہ کافی عجیب بلکہ واہیات لگے گا۔۔۔۔۔ مَیں کچھ مثالیں دیتا ہوں۔۔۔۔۔ مگر حکومت سازی، ملٹری، پبلک ایڈمنسٹریشن وغیرہ میں اِس نظریہ کا بے پناہ استعمال بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔

    کچھ سال پہلے ہارورڈ کے پروفیسر کے ایک کورس، انصاف، کے کچھ لیکچرز دیکھے تھے۔۔۔۔۔ پہلا لیکچر اِسی جیریمی بینتھم کے نظریہ افادیت پر تھا۔۔۔۔۔ اُس لیکچر میں وہ کچھ مثالیں دیتا ہے۔۔۔۔۔ ایک مثال کچھ یوں تھی کہ ایک ہسپتال میں چار ایسے مریض ہیں جن کو کسی نہ کسی جسمانی عضو کی انتہائی شدید ضرورت ہے ورنہ اُن کی زندگی چند دنوں میں ختم ہوجائے گی۔۔۔۔۔ اب ایک شخص اسپتال میں ایسا بھی آتا ہے جس کو صرف چیک اپ کروانا ہے۔۔۔۔۔ اگر اُس شخص کو پکڑ کر اُس کے جسم سے وہ ضروری اعضاء نکال لیے جائیں، جن کی ضرورت ہے اور اُن چار مریضوں کو لگا دیے جائیں جو مرنے والے ہیں، تو یہ چار لوگوں کی زندگی بمقابلہ ایک شخص کی موت ہے۔۔۔۔۔ انتہائی حد تک غیر جذباتی لحاظ سے اور صرف اور صرف افادیت کے حوالے سے یہ سیدھا سیدھا کوسٹ بینیفٹ اَینالِسس ہے، چار لوگوں کی خوشی کے مقابلے میں ایک شخص کا غم ، چار اموات کے بمقابلہ ایک موت۔۔۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہوتا اور اِس کے پیچھے وجہ ہے۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    آپ کو مَیں نے کچھ عرصہ پہلے ایک فلم کے بارے میں کہا تھا۔۔۔۔۔ اِمیٹیشن گیم۔۔۔۔۔ اُس فلم کا آخری اور بہترین حصہ بینتھم کے اِسی نظریہ افادیت پر مبنی ہے۔۔۔۔۔ اُس فلم سے قطع نظر حقائق کے حوالوں سے جنگِ عظیم دوئم میں برطانیہ والوں نے جرمن سائفر کوڈنگ مشین کو ڈی کوڈ کرلیا تھا، جس کے ذریعے جرمن افواج اپنا مواصلاتی رابطہ رکھتی تھیں، لیکن اِس بات کو برطانیہ والوں نے راز ہی رکھا تھا بلکہ جنگ ختم ہونے کے تیس سال بعد تک راز ہی رکھا تھا۔۔۔۔۔ انہوں نے اکثر اوقات کچھ مقامات پر جرمن طیاروں کو حملہ کرنے دیا تھا جبکہ اُن کے پاس یہ معلومات پہنچ چکی ہوتی تھیں کہ اِس علاقے پر اِس دن اِس وقت حملہ ہوگا۔۔۔۔۔ کووینٹری شہر پر جرمن طیاروں کی بمباری والا واقعہ تو کالجوں یونیورسٹیوں میں بتایا جاتا ہے۔۔۔۔۔ ونسٹن چرچل اور ایم آئی سکس کے چیف اسٹیورٹ مَینگِز کو غالباً یہ علم تھا کہ اِس دن کووینٹری پر حملہ ہوگا لیکن اِس کے باوجود وہاں حملہ ہونے دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ کووینٹری میں رہنے والے بھی آخر انسان اور برطانوی ہی تھے۔۔۔۔۔ شاید آپ جیسے آئیڈلسٹ حضرات یہ مطالبہ بھی کریں کہ چرچل اور مَینگِز پر مقدمہ چلنا چاہئے تھا کہ اُنہوں نے مکمل معلومات ہونے کے باوجود کیسے جرمنوں کے ہاتھوں اپنے ہی ملک کے شہریوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیا۔۔۔۔۔

    مگر تاریخ دانوں کا یہ خیال ہے کہ اِس راز کو راز ہی رکھنے کی وجہ سے جنگِ عظیم دوئم کا عرصہ کم و بیش دو سال کم ہوگیا اور سوا کڑوڑ لوگ مرنے سے بچ گئے۔۔۔۔۔

    شکر ہے کہ برطانیہ کے کی بورڈ غازیوں و مجاہدوں کے پاس یہ قول نہیں پہنچا تھا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔۔۔۔۔

    اب مجھے اندازہ ہے کہ شاید آپ یہ کہیں کہ وہ جنگ کا زمانہ تھا۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    جنگی طیاروں کے پائلٹس کو خصوصاً سکھایا جاتا ہے کہ اگر جہاز میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے جہاز گرنے کا خطرہ بڑھتا جائے تو اُن کو یہ ہدایت ہوتی ہے کہ وہ اپنے جہاز آبادی والے علاقوں سے زیادہ سے زیادہ دور لے جائیں کہ اگر جہاز گرے بھی تو اُس کی وجہ سے اموات کم سے کم ہوں۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    زمانہ قدیم کے کچھ معاشروں میں انسانوں کی بَلی چڑھانا ایک عام رواج تھا۔۔۔۔۔ مَیں اور آپ شاید انسانوں کے بَلی چڑھانے کو بے وقوفانہ عقائد کا نتیجہ قرار دیں مگر اُن معاشروں میں انسانوں کی قربانی کے پیچھے کوسٹ اینڈ بینیفٹ اَینالِسس تو وہی تھا جو آج ہوتا ہے، کہ ایک انسان کی قربانی کی وجہ سے باقی انسان آفات سے محفوظ رہیں گے۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔

    مَیں یہاں ایسی بہت سی مثالیں دے سکتا ہوں، ڈرون حملے ہوں یا کچھ اور، اُن سب کے پیچھے یہی افادیت(یوٹیلیٹیزینزم) کا فلسفہ کارفرما ہوتا ہے۔۔۔۔۔ انسانی معاشروں میں کوسٹ اور بینیفٹ کا حساب کتاب ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور شاید ہمیشہ ہی ہوتا رہے گا اور اِسی حساب کتاب کے نتیجے کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے رہیں گے۔۔۔۔۔

    ۔

    ۔

    ۔

    فیصلہ سازی کی قوت۔۔۔۔۔

    تاریخ کے کوئی بھی بڑے سے بڑے رہنماؤں پر نظر ڈال لیں۔۔۔۔۔ آپ کو یہ خوبی اُن سب میں نظر آئے گی کہ اُن میں فیصلہ کرنے کی قوت تھی(ہے)۔۔۔۔۔ میری رائے میں عام عوام میں اِس خوبی کو زیادہ اہمیت نہیں جاتی مگر پاور کوریڈورز(طاقت کی راہداریوں) یا خصوصاً ملٹری میں اِس بہترین خوبی کو انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔۔۔ عام عوام کے درمیان فیصلہ سازی کی خوبی کو اہمیت نہ دینے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنا کیا مشکل ہے جب کہ حقیقی دُنیا میں اکثر بلکہ زیادہ تر فیصلہ سازی دو غلط کے درمیان ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ایک طرف ذرا کم غلط ہوتا ہے اور دوسری طرف ذرا زیادہ غلط۔۔۔۔۔ چُوزنگ دِی لیَسر اِیول۔۔۔۔۔ مگر نقصانات بہرحال دونوں اطراف ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ اور وہاں آئیڈیلزم کی ٹوپی سَر پر پہن کر غیر حاضر رہنے کی گنجائش بھی نہیں ہوتی کہ ووٹ ڈالنا لازمی ہوتا ہے۔۔۔۔۔

    پسِ تحریر۔۔۔۔۔

    کچھ مزید خیالات لکھنا ہیں۔۔۔۔۔ وقت ملتے ہی لکھتا ہوں۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 6 months, 2 weeks ago by  BlackSheep.
    #3
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: افادیت

    اسلام میں کئی ایسی باتوں سے منع کیا گیا ہے جو بظاہر لوگوں کے لئے فائدہ مند نظر آتی ہیں

    .

    ہوتا یہ ہے کہ مسلمان پہلے دن سے اس سے بچا رہتا ہے جب کہ غیر مسلم عشروں بعد کے تجربے سے اسے سیکھتا ہے

    انگلش میں اسے

    Learning the hard way

    کہتے ہیں

    .

    پنجابی میں اسے

    “جتیاں کھا کے سدھا ہونا ”

    کہتے ہیں

    #4
    Jack Sparrow
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 11
    • Posts: 501
    • Total Posts: 512
    • Join Date:
      3 Dec, 2016

    Re: افادیت

    In the Bhagavad Gita, Krishna says, “Hesitation is the worst of sins“. Very strange, isn’t it? Hesitation is the worst of sins because in hesitation, you don’t live. He is saying that anything that is not life is the worst sin, adharma. “Don’t hesitate” does not mean to jump into every pit that you see. Your intelligence is capable of choosing and deciding in a moment whether you need to do something or not. [Sadhguru]

    • This reply was modified 6 months, 2 weeks ago by  Jack Sparrow.
    #5
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 13
    • Posts: 1687
    • Total Posts: 1700
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: افادیت

    شاید آپ کا نظریہ افادیت کا یہ مقدمہ سانحہ ساہیوال کے تناظر میں ہے۔۔۔۔۔ بہرحال باقی تحریر کا انتظار ہے۔۔۔

    #6
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 320
    • Posts: 7260
    • Total Posts: 7580
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: افادیت

    اس کالم میں بیان کردہ نظریہ افادیت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن میں صرف ان ایک دو پوائینٹ پر روشنی ڈالوں گا جو اسلام سے لے کر مذاق بنانے کی کوشش کی گئی ہے

    ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، یہ اللہ کا کلام ہے ناکہ کسی انسان کا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے سب سے پیارے عزیزوں یا ملک و قوم کیلئے قربانی نہ دی جاے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بے قصور کو ظلم کرتے ہوے قتل کرنا ایک جرم ہے جسکی اجازت نظریہ افادیت کے تحت دے دی جاے تو پورا معاشرہ مجرموں اور قاتلوں سے بھرجاے گا

    اسلام جسم کے اعضا جیسے آنکھیں، دل، گردے وغیرہ کی پیوندکاری اور ڈونیشن کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اس کو عظیم قربانی قرار دیتا ہے

    ھاں بغیر اجازت کے کسی کے دل ، گردے وغیرہ نکال لینے کو سخت ترین جرم قرار دیتا ہے جسکی اجازت نطریہ افادیت کی رو سے ایک دیسی فالوور نے دے دی ہے بلکہ ایک مثآل سے اپنے گورے رہنماوں کے فلسفے کا ماخذ یہی بتایا ہے کہ جیتے جاگتے صحتمند انسان کو باندھ کر زبردستی اس کے اعضا چرا لئے جائییں خواہ اس کی موت واقع ہوجاے اور ان لوگوں کو بچا لیا جاے جو ہوسکتا ہے اپنی حماقتوں کی وجہ سے بستر پر پڑے ہوے ہوں، ہوسکتا ہے شراب نے ان کے پھیپھڑے تباہ کردئے ہوں مگر اس فلسفے کی رو سے ایک صحتمند اور عقلمند بندے کو مار کر ان احمقوں کو بچا لیا جاے جو اپنی ہی نالائقیوں کی وجہ سے مرنے تک پنہچ چکے ہوں ، یہ تو ہوا نطریہ افادیت ، لگتا ہے ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے بھی یہی نظریہ پڑھ رکھا تھا جس نے ہر رحمدل انسان کو ہلا کر رکھ دیا

    میرا نہیں خیال کہ اس فلسفہ کے بانی نے بھی ایسا سوچا ہوگا مگر اس کے دیسی فالوورز نے اپنی  محدود سوچ سے یہی نتیجہ نکالا ہے

    چرچل کی مثال بھی ایک جھوٹی افواہ ہے کیونکہ چرچل کے قریب ترین بندے نے یہ کہا ہے کہ ریڈار سے حملے کی نشاندہی ہوی تھی مگر لوکیشن کا کچھ معلوم نہیں تھا، چرچل نے کہا کہ لندن میں حملہ ہونے والا ہے اور وہ لندن پنہچ بھی گیا اور اس رات لندن پر ایک محدود حملہ ہوا بھی تھا پڑھیئے اس کے اپنے الفاظ میں جس سے آپکے نظریہ افادیت کا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے

    اس تھیوری کی رو سےکہ چرچل نے جرمن حملہ ہونے دیا مجھے بالکل ایک اسی طرح کی افواہ یاد آگئی  جیسی پینسٹھ کی جنگ میں ملاوں نے اپنے مریدین میں پھیلای تھی کہ ہری پگڑی والے بم کیچ کرکے واپس انڈیا کی طرف پھینک دیتے تھے، فرق صرف اتنا ہے کہ ادھر ملا تھے ادھرگوروں کا ایک دیسی فالوور، اگر ملا جاہل تھے تو کمی ادھر بھی نہیں بس زبان ہی انگلش ہے دماغ وہی، خیر اس اشو پر بی بی سی کی اپنی ریسرچ موجود ہے اس لئے کسی دیسی فالوور کی من گھڑت سوچ کی بجاے گوروں کی اپنی ریسرچ ہی درست مانی جاے گی

    Mr Charman says it is significant that Mr Martin, the only witness to Mr Churchill opening the red box, believed the prime minister “genuinely didn’t know that Coventry was to be attacked – he thought London was the target”.

    The fact that a small air raid did in fact occur in London that night, Mr Charman adds, gives credence to the suggestion that the box really did predict a raid in the capital – and suggests Mr Churchill’s haste to return to the city was founded on a genuine desire to be where the action was.

    https://www.bbc.co.uk/news/uk-11486219

    چرچل ایک محب وطن اور دانشور تھا اس کی محبت کا یہ عالم کہ جہاں حملہ ہونے کی اطلاع تھی وہاں یعنی لندن میں نہیں تھا مگر بھاگم بھاگ وہاں پنہچا کہ ایسے کڑے وقت میں وہ اگر مرے تو اپنی عوام کے ساتھ مرے، ایک اور ریسرچ سے یہ بھی پتا چلا کہ دراصل ہٹلر کا منصوبہ لندن کو نشانہ بنانا تھا مگر ائیر اٹیک زبردست خراب موسم کی وجہ سے ناکام ہوا تو فوری طور پر نئے پلان کے تحت جرمن جہاز اپنے قریب ترین شہر کو نشانہ بنا کر واپس لوٹ گئے کیونکہ بم کافی وزنی تھے ان کو واپس لے جانے سے فیول زیادہ خرچ ہوتااسلئے لیڈ کرنے والوں نے ٹارگٹ بدل دیاااور جو میسر تھا اسی پر بم پھینک دئے

    • This reply was modified 6 months, 2 weeks ago by  Believer12.
    #7
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 97
    • Posts: 2327
    • Total Posts: 2424
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: افادیت

    بلیک شیپ صاحب …آپ نے لکھا ہے کہ اس نظریے کے مطابق جتنے زیادہ لوگ جس عمل سے زیادہ سے زیادہ خوشی حاصل کریں گے، وہ عمل، صحیح غلط کے پیمانے پر صحیح کی طرف جھکتا جائے گا

    لیکن یہ بھی قابل غور بات ہے کہ عوام خود بھی بعض دفعہ کنفیوزن کا شکار ہوجاتے ہیں …ڈرون حملے ایک کلاسک مثال ہے …عوام کی اکثریت ڈرون حملوں کے خلاف ہے لیکن عوام کے نمائندے حکمران …کوسٹ بینیفٹ تجزیہ کرکے ڈرون حملوں کی اجازت دیتے ہیں جوکہ عوامی راۓ کے خلاف ہے …مزید برآں ..آرمی سکول حملے میں بچوں کے مرنے پر عوامی راۓ …چاہے وقتی طور پر …تبدیل ہوتی ہے اور تقریباً ہر پاکستانی (سواۓ منور حسن کے) طالبان کو بھوننے پر تیار ہوتا ہے ..اور یہی وجہ ہے کہ آرمی سکول واقعے کے بعد ڈرون حملوں پر عوام ستو پی کر سو گئے تھے

    آپ نے بر وقت فیصلہ سازی کی بات کی ہے …لہٰذا بعض دفعہ اکثریت نقصان اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہی کسی فیصلے کی افادیت کی قائل ہوتی ہے

    #8
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 97
    • Posts: 2327
    • Total Posts: 2424
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: افادیت

    اسلام میں کئی ایسی باتوں سے منع کیا گیا ہے جو بظاہر لوگوں کے لئے فائدہ مند نظر آتی ہیں . ہوتا یہ ہے کہ مسلمان پہلے دن سے اس سے بچا رہتا ہے جب کہ غیر مسلم عشروں بعد کے تجربے سے اسے سیکھتا ہے انگلش میں اسے Learning the hard way کہتے ہیں . پنجابی میں اسے “جتیاں کھا کے سدھا ہونا ” کہتے ہیں

    حضرت …مہربانی فرما کر کچھ چیدہ چیدہ اصول اور قوانین یا عبادات تحریر کیجیے جوکہ اسلام آنے سے پہلے وجود نہ رکھتے تھے …یعنی اسلام میں کیا نیا تھا جوکہ اس وقت سے پہلے آنے والے مذاہب نے نہیں پیش نہیں کر رکھا تھا

    #9
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: افادیت

    حضرت …مہربانی فرما کر کچھ چیدہ چیدہ اصول اور قوانین یا عبادات تحریر کیجیے جوکہ اسلام آنے سے پہلے وجود نہ رکھتے تھے …یعنی اسلام میں کیا نیا تھا جوکہ اس وقت سے پہلے آنے والے مذاہب نے نہیں پیش نہیں کر رکھا تھا

    اسلام میں کیا نیا تھا ؟ یہ سوال کہاں سے آ گیا ؟

    آپ ابھی اسلام اور عیسائیت و یہود کے درمیان مباحثہ کروانا چاہتے ہیں ؟ کیوں؟

    .

    لگتا ہے آپ کو میرے کمینٹ کی سمجھ نہیں آئی

    #10
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 13
    • Posts: 1687
    • Total Posts: 1700
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: افادیت

    اس کالم میں بیان کردہ نظریہ افادیت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن میں صرف ان ایک دو پوائینٹ پر روشنی ڈالوں گا جو اسلام سے لے کر مذاق بنانے کی کوشش کی گئی ہے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے، یہ اللہ کا کلام ہے ناکہ کسی انسان کا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے سب سے پیارے عزیزوں یا ملک و قوم کیلئے قربانی نہ دی جاے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ کسی بے قصور کو ظلم کرتے ہوے قتل کرنا ایک جرم ہے جسکی اجازت نظریہ افادیت کے تحت دے دی جاے تو پورا معاشرہ مجرموں اور قاتلوں سے بھرجاے گا اسلام جسم کے اعضا جیسے آنکھیں، دل، گردے وغیرہ کی پیوندکاری اور ڈونیشن کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اس کو عظیم قربانی قرار دیتا ہے ھاں بغیر اجازت کے کسی کے دل ، گردے وغیرہ نکال لینے کو سخت ترین جرم قرار دیتا ہے جسکی اجازت نطریہ افادیت کی رو سے ایک دیسی فالوور نے دے دی ہے بلکہ ایک مثآل سے اپنے گورے رہنماوں کے فلسفے کا ماخذ یہی بتایا ہے کہ جیتے جاگتے صحتمند انسان کو باندھ کر زبردستی اس کے اعضا چرا لئے جائییں خواہ اس کی موت واقع ہوجاے اور ان لوگوں کو بچا لیا جاے جو ہوسکتا ہے اپنی حماقتوں کی وجہ سے بستر پر پڑے ہوے ہوں، ہوسکتا ہے شراب نے ان کے پھیپھڑے تباہ کردئے ہوں مگر اس فلسفے کی رو سے ایک صحتمند اور عقلمند بندے کو مار کر ان احمقوں کو بچا لیا جاے جو اپنی ہی نالائقیوں کی وجہ سے مرنے تک پنہچ چکے ہوں ، یہ تو ہوا نطریہ افادیت ، لگتا ہے ساہیوال میں سی ٹی ڈی نے بھی یہی نظریہ پڑھ رکھا تھا جس نے ہر رحمدل انسان کو ہلا کر رکھ دیا میرا نہیں خیال کہ اس فلسفہ کے بانی نے بھی ایسا سوچا ہوگا مگر اس کے دیسی فالوورز نے اپنی محدود سوچ سے یہی نتیجہ نکالا ہے چرچل کی مثال بھی ایک جھوٹی افواہ ہے کیونکہ چرچل کے قریب ترین بندے نے یہ کہا ہے کہ ریڈار سے حملے کی نشاندہی ہوی تھی مگر لوکیشن کا کچھ معلوم نہیں تھا، چرچل نے کہا کہ لندن میں حملہ ہونے والا ہے اور وہ لندن پنہچ بھی گیا اور اس رات لندن پر ایک محدود حملہ ہوا بھی تھا پڑھیئے اس کے اپنے الفاظ میں جس سے آپکے نظریہ افادیت کا بھٹہ بیٹھ جاتا ہے اس تھیوری کی رو سےکہ چرچل نے جرمن حملہ ہونے دیا مجھے بالکل ایک اسی طرح کی افواہ یاد آگئی جیسی پینسٹھ کی جنگ میں ملاوں نے اپنے مریدین میں پھیلای تھی کہ ہری پگڑی والے بم کیچ کرکے واپس انڈیا کی طرف پھینک دیتے تھے، فرق صرف اتنا ہے کہ ادھر ملا تھے ادھرگوروں کا ایک دیسی فالوور، اگر ملا جاہل تھے تو کمی ادھر بھی نہیں بس زبان ہی انگلش ہے دماغ وہی، خیر اس اشو پر بی بی سی کی اپنی ریسرچ موجود ہے اس لئے کسی دیسی فالوور کی من گھڑت سوچ کی بجاے گوروں کی اپنی ریسرچ ہی درست مانی جاے گی Mr Charman says it is significant that Mr Martin, the only witness to Mr Churchill opening the red box, believed the prime minister “genuinely didn’t know that Coventry was to be attacked – he thought London was the target”. The fact that a small air raid did in fact occur in London that night, Mr Charman adds, gives credence to the suggestion that the box really did predict a raid in the capital – and suggests Mr Churchill’s haste to return to the city was founded on a genuine desire to be where the action was. https://www.bbc.co.uk/news/uk-11486219 چرچل ایک محب وطن اور دانشور تھا اس کی محبت کا یہ عالم کہ جہاں حملہ ہونے کی اطلاع تھی وہاں یعنی لندن میں نہیں تھا مگر بھاگم بھاگ وہاں پنہچا کہ ایسے کڑے وقت میں وہ اگر مرے تو اپنی عوام کے ساتھ مرے، ایک اور ریسرچ سے یہ بھی پتا چلا کہ دراصل ہٹلر کا منصوبہ لندن کو نشانہ بنانا تھا مگر ائیر اٹیک زبردست خراب موسم کی وجہ سے ناکام ہوا تو فوری طور پر نئے پلان کے تحت جرمن جہاز اپنے قریب ترین شہر کو نشانہ بنا کر واپس لوٹ گئے کیونکہ بم کافی وزنی تھے ان کو واپس لے جانے سے فیول زیادہ خرچ ہوتااسلئے لیڈ کرنے والوں نے ٹارگٹ بدل دیاااور جو میسر تھا اسی پر بم پھینک دئے

    بیلور بھائی۔۔ میرے خیال میں یہ جو فلسفی ہوتے ہیں ان کا بنیادی مشن ہوتا ہے کہ اس بات کی کھوج کی جائے کہ زندگی کو کس طرح بہتر سے بہتر گزارا جائے، زیادہ سے زیادہ مسرت یا زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے مسرت کا حصول کس طرح ممکن  بنایا جائے۔ اسی کاوش میں یہ نظریات اور رہنما اصول تراشتے ہیں۔ اگر آپ غور کریں تو ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی  کئی بار یوٹیلیٹیرنزم کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہیں، بےشمار بار ہم زیادہ مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کم نقصان برداشت کرلیتے ہیں، بیشتر بار ہم اپنے فیملی ممبرز کو خوش رکھنے کیلئے، انہیں پریشانی سے بچانے کےلئے اپنی ٹینشن انہیں نہیں بتاتے اور اکیلے اپنے سر لے لیتے  ہیں۔۔ 

    میری رائے میں نظریہ افادیت کو اگر انسانی عقل استعمال کرتے ہوئے حدود و قیود میں رہ کر دیکھا جائے تو بہت سے معاملات میں یہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔یوٹیلیٹیرنزم کی تفصیل پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ اس نظریے کو مفید سے مفید تر بنانے کے لئے مذکورہ دو فلسفیوں نے کافی رہنما اصول دیئے ہیں،  حاصل شدہ خوشی / افادیت کو اس کی شدت،  دورانیہ، شفافیت وغیرہ کے ذریعے ناپاگیا ہے۔۔

    دوسری طرف اس نظریے کو زندگی کے ہر معاملے (انفرادی / اجتماعی / حکومتی) میں لاگو نہیں کیا جاسکتا یا نہیں کیا جانا چاہیے، اگر کوئی یوٹیلیٹرین اصرار کرے کہ ہر معاملے کو یوٹیلیٹرینزم کے تحت ہی ڈیل کیا جانا چاہیے تو پھر انسان کا جوہر یعنی انسانیت مائنس ہوجاتی ہے، پھر انسان ایک مشین / روبوٹ سے زیادہ کچھ نہیں رہتا۔۔۔

    • This reply was modified 6 months, 2 weeks ago by  Zinda Rood.
    #11
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2055
    • Total Posts: 2070
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: افادیت

    بلیک شیپ صاحب …آپ نے لکھا ہے کہ اس نظریے کے مطابق جتنے زیادہ لوگ جس عمل سے زیادہ سے زیادہ خوشی حاصل کریں گے، وہ عمل، صحیح غلط کے پیمانے پر صحیح کی طرف جھکتا جائے گا
    لیکن یہ بھی قابل غور بات ہے کہ عوام خود بھی بعض دفعہ کنفیوزن کا شکار ہوجاتے ہیں …ڈرون حملے ایک کلاسک مثال ہے …عوام کی اکثریت ڈرون حملوں کے خلاف ہے لیکن عوام کے نمائندے حکمران …کوسٹ بینیفٹ تجزیہ کرکے ڈرون حملوں کی اجازت دیتے ہیں جوکہ عوامی راۓ کے خلاف ہے …مزید برآں ..آرمی سکول حملے میں بچوں کے مرنے پر عوامی راۓ …چاہے وقتی طور پر …تبدیل ہوتی ہے اور تقریباً ہر پاکستانی (سواۓ منور حسن کے) طالبان کو بھوننے پر تیار ہوتا ہے ..اور یہی وجہ ہے کہ آرمی سکول واقعے کے بعد ڈرون حملوں پر عوام ستو پی کر سو گئے تھے آپ نے بر وقت فیصلہ سازی کی بات کی ہے …لہٰذا بعض دفعہ اکثریت نقصان اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہی کسی فیصلے کی افادیت کی قائل ہوتی ہے

    قرار صاحب۔۔۔۔۔

    یہ جملہ میرا نہیں ہے بلکہ جریمی بینتھم کا ہے۔۔۔۔۔

    مَیں بینتھم کے اِس بنیادی اَیکسئم سے نظریاتی طور پر کُلی اتفاق نہیں کرتا کیونکہ میری انتہائی ذاتی رائے میں آفاقی صحیح و غلط پائے ہی نہیں جاتے۔۔۔۔۔ البتہ حکومت سازی اور ملٹری کے بے شمار معاملات میں، مَیں اِس نظریہ افادیت(یوٹیلیٹیرینزم یا سُودمندی) کو کامیابی سے عَمل پیرا ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔ اور بینتھم کا اَیکسئم ہے بہت دلچسپ، اور یہ اَیکسئم اور افادیت کا نظریہ آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔۔۔۔۔ مَیں بالکل مانتا ہوں کہ کسی بھی قسم کے انتہائی جذباتی حالات میں اِس افادیت کے نظریہ کا استعمال انتہاء درجہ کی سفاکیت ہے۔۔۔۔۔ آپ نے شاید مَیرل اِسٹریپ کی ایک کافی پرانی مگر بہت مشہور فلم سوفی چوائس دیکھی ہو۔۔۔۔۔ اُس فلم کا ایک سِین بہت مشہور ہے۔۔۔۔۔ سوفی(مَیرل اِسٹریپ) کو ایک بہت ہی سفاکانہ فیصلہ لینا ہے۔۔۔۔۔ اِسی وجہ سے انگریزی بول چال میں بھی دو انتہائی مشکل صورتحال میں سے ایک چُننے کو سوفی چوائس بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔

    https://www.youtube.com/watch?v=DZ9bht5H2p4

    کچھ ایسا ہی امتیاز علی تاج کے ڈرامہ قرطبہ کے قاضی میں تھا۔۔۔۔۔ باپ منصف بھی تھا اور منصف باپ بھی تھا۔۔۔۔۔

    لیکن جہاں پر کسی بھی انسان کو ذاتی جذبات سے باہر نکل کر اجتماعی حوالوں سے فیصلہ لینا ہوگا میرے خیال میں وہ لامحالہ اِسی یوٹیلیٹیزینزم کو اپنائے گا۔۔۔۔۔ اور شاید مَیں بھی ایسی صورتحال میں اِسی یوٹیلیٹیرینزم کی بنیاد پر فیصلہ کروں گا۔۔۔۔۔۔

    جہاں تک آپ نے عوام اور اربابِ اختیار کے درمیان فاصلہ(یہاں مَیں لفظ فاصلہ اِن معنوں میں استعمال کررہا ہوں کہ عوام کچھ اور چاہتے ہوں اور اربابِ اختیار کچھ اور فیصلے کررہے ہوں) پر بات کی تو مجھے اتفاق ہے۔۔۔۔۔ آپ نے ہی یہاں وہ ابراہم لنکن کا قول لگایا تھا، جو مجھے بہت پسند ہے، کہ برے قانون کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ اُس قانون کو مکمل نافذ کرنا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ مَیں سمجھتا ہوں کہ جب تک لوگ خود بھگتتے نہیں ہیں وہ سیکھتے بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کے پاس مکمل معلومات ہوتی ہیں یا جذباتی بخار چڑھا ہوا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ورنہ بہت سے لوگ حضرت خادم رضوی علیہ السلام کی بابرکت محفل میں دو زانو بیٹھ کر جب مولانا سے پاکستان کے بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کا پلان سُنتے ہیں تو ایسا نادر منصوبہ سُن کر خوشی سے صرف سَر ہی دُھنتے رہتے ہیں کہ جاؤ ابھی نہیں دیتے پیسے ورنہ غوری(میزائل) آیا جے۔۔۔۔۔۔ مگر جو فیصلہ کرنے کی کُرسی پر بیٹھے ہوتے ہیں اُن کو سارا نفع نقصان دیکھ بالآخر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اب یہاں بہت سارے نکات ہیں کہ عام عوام کی خواہشات اور اہلِ اختیار کے فیصلوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہئے، عوام تک معلومات کا حصول ہونا چاہئے، عوام کی خواہشات کا پَل میں تولہ پَل میں ماشہ ہوجانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔

    پسِ تحریر۔۔۔۔۔

    ابھی اِس موضوع پر مزید گفتگو ہوگی تو مزید پہلو سامنے آئیں گے۔۔۔۔۔

    ایک دوسرے صفحہ پر آپ کے پوچھے گئے کچھ سوالات کے جوابات دینے ہیں۔۔۔۔۔ بس چھٹیوں پر تھا لیکن گھوسٹ صاحب اور شیرازی کے درمیان دلچسپ بحث نے مجھے بھی اِس جنجال پورے میں کھینچ لیا۔۔۔۔۔

    • This reply was modified 6 months, 2 weeks ago by  BlackSheep.
    #12
    Gulraiz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 35
    • Posts: 1268
    • Total Posts: 1303
    • Join Date:
      16 May, 2017
    • Location: Santa Barbara

    Re: افادیت

    بھونپو خراب ہوگیا تھا اسلئیے کالی بھیڑ غائب تھی ، آتے ہی سور اسرافیل پھونکدیا

    دنیا بھر کے چوتیا چوتیا فلسفیوں کے چتیاپے کے فلسفوں کو اگر جاننا ہو تو فورم پر آجائیں
    خود تو مغرب میں رہتے ہیں اور جب مشرقی ممالک کے لوگوں پر ظلم ہوتو انکو سمجہانے کے لئیے ایسی ایسی شتربے مہار اور فلسفیانہ گفتگو کرتے ہیں کہ جو بھی ہورہا ہے بس یہی تھیک ہے ،،،،
    ابے اسطرح کی درندگی اگر ایجنسیاں اور پولیس اور فوج امریکہ ، برطانیہ میں کرے تو دوسرے دن لوگ ڈنڈہ ڈولی کردیں
    کالے نے قومی ترانے پر کھڑا ہونے سے انکار کردیا کہ میری قوم کے ساتھہ ظلم ہورہا ہے ، کرنا ہے جو کرلو
    اسطرح کے لوگوں کو پھر مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان فلسفوں پر عمل کرتے ہیں ،،،،،،، مردہ مثالیں صدام حیسن اور قذافی کی ہیں کہ جب پہیہ الٹا چلا تو کوئی چوہے کی طرح بل میں سے ملا اور کسی کو اسی کی سونے کی پستول سے لوگوں نے سڑک پر گھسیٹ کی ماردیا،، ایک اور بھی مثال ہے جب سارے درندے ایک ساتھہ پنجروں میں خود ہی بند ہوگئے تھے ،،،،،، انقلاب فرانس اور زار کی باتیں تو سب کو پتہ ہی ہے ،،،،،،،،، جیسی کرنی ویسی بھرنی اور جو بو گے اسے کاٹنے کے لئیے تیار رہو ،،،،،،، ابھی ہاتھہ میں بندوق بھی ہے اور قانون بھی ،،،،تو سوچنے سمجہنے صلاحیت مفقود ہوچکی ہے ،،،،، الاپتے رہو راگ چوتیپا

    #13
    Qarar
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 97
    • Posts: 2327
    • Total Posts: 2424
    • Join Date:
      5 Jan, 2017

    Re: افادیت

    اسلام میں کیا نیا تھا ؟ یہ سوال کہاں سے آ گیا ؟ آپ ابھی اسلام اور عیسائیت و یہود کے درمیان مباحثہ کروانا چاہتے ہیں ؟ کیوں؟ . لگتا ہے آپ کو میرے کمینٹ کی سمجھ نہیں آئی

    جناب صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ وہ فائدہ مند چیزیں کون سی تھیں جس کے بارے میں اسلام پہلی دفعہ بتا رہا تھا جبکہ پوری دنیا ان سے لاعلم تھی

    #14
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 140
    • Posts: 11274
    • Total Posts: 11414
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: افادیت

    دنیا بھر کے چوتیا چوتیا فلسفیوں کے چتیاپے کے فلسفوں کو اگر جاننا ہو تو فورم پر آجائیں 

    :hilar:

    :hilar: :hilar:

    :hilar: :hilar:   :hilar:

    :hilar: :hilar:   :hilar:   :hilar:

    :hilar: :hilar:   :hilar:   :hilar:   :hilar:

    :hilar: :hilar:   :hilar:   :hilar:   :hilar:   :hilar:

    :hilar: :hilar:   :hilar:   :hilar:   :hilar:

    :hilar: :hilar:   :hilar:   :hilar:

    :hilar: :hilar:   :hilar:

    :hilar: :hilar:

    :hilar:

    #15
    BlackSheep
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Professional
    • Threads: 15
    • Posts: 2055
    • Total Posts: 2070
    • Join Date:
      11 Feb, 2017
    • Location: عالمِ غیب

    Re: افادیت

    شاید آپ کا نظریہ افادیت کا یہ مقدمہ سانحہ ساہیوال کے تناظر میں ہے۔۔۔۔۔ بہرحال باقی تحریر کا انتظار ہے۔۔۔

    زندہ رُود۔۔۔۔۔

    مجھے یہ سب لکھنے کا خیال ساہیوال کے واقعہ پر نہیں بلکہ شیرازی صاحب کے ساتھ بحث میں گھوسٹ صاحب کی انتہائی آئیڈلسٹ پوزیشن لینے پر آیا تھا۔۔۔۔۔

    جہاں تک ساہیوال واقعہ کی بات ہے تو اُس میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پسِ پردہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کافی ساری غلطیاں ہوئی ہیں۔۔۔۔۔ انٹیلی جنس سے لیکر آپریشن تک بہت سی باتوں کو بہتر بنایا جاسکتا تھا(ہے)۔۔۔۔۔ لیکن اِس صفحہ کا موضوع اور مقصد آئیڈلزم اور رئیلزم پر گفتگو کرنا ہے۔۔۔۔۔

    کیونکہ میری ذاتی رائے میں ایک آئیڈلسٹ کی نظر صرف دو رنگ پہچانتی ہے، سیاہ اور سفید۔۔۔۔۔ جبکہ زمینی حقیقتیں شاید شیڈز آف گرے میں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔

    پاکستان کی زمین پر ہونے والے ڈرون حملے اِس موضوع اور اِس پر بحث کی ایک بہترین مثال ہیں۔۔۔۔۔ اور ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ آیا کولیٹرل ڈیمج(ساتھ میں بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع) کے ساتھ ڈرون حملوں ہونے چاہئیں۔۔۔۔۔ اور اگر نہیں ہونے چاہئیں تو پھر دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے متبادل حکمتِ عملی کیا ہونی چاہئے۔۔۔۔۔

    #16
    Atif
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 146
    • Posts: 7011
    • Total Posts: 7157
    • Join Date:
      15 Aug, 2016

    Re: افادیت

    جناب صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ وہ فائدہ مند چیزیں کون سی تھیں جس کے بارے میں اسلام پہلی دفعہ بتا رہا تھا جبکہ پوری دنیا ان سے لاعلم تھی

    ہوسکتا ہے لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زمین میں گاڑ دینے کی قبیح رسم مراد ہو :thinking: ۔

    #17
    Zinda Rood
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 13
    • Posts: 1687
    • Total Posts: 1700
    • Join Date:
      3 Apr, 2018
    • Location: NorthPole

    Re: افادیت

    زندہ رُود۔۔۔۔۔ مجھے یہ سب لکھنے کا خیال ساہیوال کے واقعہ پر نہیں بلکہ شیرازی صاحب کے ساتھ بحث میں گھوسٹ صاحب کی انتہائی آئیڈلسٹ پوزیشن لینے پر آیا تھا۔۔۔۔۔ جہاں تک ساہیوال واقعہ کی بات ہے تو اُس میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پسِ پردہ انٹیلی جنس ایجنسیوں سے کافی ساری غلطیاں ہوئی ہیں۔۔۔۔۔ انٹیلی جنس سے لیکر آپریشن تک بہت سی باتوں کو بہتر بنایا جاسکتا تھا(ہے)۔۔۔۔۔ لیکن اِس صفحہ کا موضوع اور مقصد آئیڈلزم اور رئیلزم پر گفتگو کرنا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ میری ذاتی رائے میں ایک آئیڈلسٹ کی نظر صرف دو رنگ پہچانتی ہے، سیاہ اور سفید۔۔۔۔۔ جبکہ زمینی حقیقتیں شاید شیڈز آف گرے میں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ پاکستان کی زمین پر ہونے والے ڈرون حملے اِس موضوع اور اِس پر بحث کی ایک بہترین مثال ہیں۔۔۔۔۔ اور ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ آیا کولیٹرل ڈیمج(ساتھ میں بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع) کے ساتھ ڈرون حملوں ہونے چاہئیں۔۔۔۔۔ اور اگر نہیں ہونے چاہئیں تو پھر دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے متبادل حکمتِ عملی کیا ہونی چاہئے۔۔۔۔۔

    میری نظر میں گھوسٹ صاحب کا آئیڈیلسٹ ہونا ایک طرح سے جائز بھی ہے، کیونکہ اس فورم پر ایم کیو ایم کے حوالے سے اب تک کے ان کے نظریات و خیالات کے تناظر میں میری پردہ سکرین پر جو ان کی تصویر بنتی ہے، وہ مجھے متاثرہ فریق (وکٹم) کی لگتی ہے (مجھے  لگتا ہے  کہیں نہ کہیں ان کے ساتھ کوئی ذاتی واقعہ جڑا ہے، بہرحال میں غلط بھی ہوسکتا ہوں) اور جو متاثرین ہوتے ہیں، ان کی رائے اور سوچ کا آئیڈیلزم کی طرف مائل ہونا اور رئیلزم سے دور ہونا عین ممکن ہے۔۔

    مثلاً پاکستان میں پیدا ہونے اور زندگی گزارنے والے لوگ (خاص کر مڈل کلاس لوگ اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے) پاکستانی حکومت کی پالیسیوں سے ڈائریکٹ متاثر ہوتے ہیں، وہ پولیس کے رویے سے نالاں ہیں، سرکاری دفتروں میں ان کے کام نہیں ہوتے، چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہ رہ کر ان کی زندگیاں المناکی کی تصویر بنی ہوئی ہیں، ان کی طبیعت میں خفگی اور مزاج میں چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہے، میری نظر میں یہ تمام لوگ متاثرین ہیں، یہ اپنے ابتر حالات سے متاثرہ ہیں۔ (میں خود کو بھی کسی نہ کسی حوالے سے متاثرہ فریق ہی تصور کرتا ہوں)۔ اس کے برعکس یورپ کے کسی مہذب ملک میں رہائش پذیر متمول لوگ جن کی زندگی میں وہ مصائب و مشکلات نہیں ہیں جو کسی پسماندہ  علاقے کے “متاثرین” کو فیس کرنی پڑتی ہیں، وہ معاملات کو زیادہ حقیقی نکتہ نظر سے دیکھنے کے قابل ہیں۔۔

    آپ اول الذکر (پاکستانی) سے کسی موضوع پر گفتگو کریں تو وہ کہے گا بھاڑ میں جائے ریئلزم فلاں کام ایسے ہونا چاہیے اور ڈھمکاں ایسے ہونا چاہیے، چاہے وہ دور دور تک امکانات کی حد میں نہ آتا ہو۔۔۔  ہم تھیٹر میں بیٹھ کر جب کوئی دھانسو فلم دیکھتے ہیں جس میں اکیلا ہیرو بیس بیس لوگوں کے کشتوں کے پشتے لگا رہا ہوتا ہے، کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایسا ہونا کیسے ممکن ہے، سب بڑے جوش اور مسرت سے اس کو انجوائے کرتے ہیں، اصل میں وہ، وہ دیکھنا چاہتے ہیں جو وہ حقیقی زندگی میں نہیں کرسکتے، ان کی آئیڈیلزم کو ہلکی سی تھپکی ملتی ہے، ان کی فرسٹریشن دور ہوجاتی ہے۔۔۔

    میری نظر میں آئیڈیلزم سے نکل کر رئیلزم کی دنیا میں آنے کے لئے انسان کے اپنے حالات میں ٹھہراؤ ہونا کافی ضروری ہے۔۔ 

    • This reply was modified 6 months, 2 weeks ago by  Zinda Rood.
    #18
    Gulraiz
    Participant
    Offline
    • Advanced
    • Threads: 35
    • Posts: 1268
    • Total Posts: 1303
    • Join Date:
      16 May, 2017
    • Location: Santa Barbara

    Re: افادیت

    میری نظر میں گھوسٹ صاحب کا آئیڈیلسٹ ہونا ایک طرح سے جائز بھی ہے، کیونکہ اس فورم پر ایم کیو ایم کے حوالے سے اب تک کے ان کے نظریات و خیالات کے تناظر میں میری پردہ سکرین پر جو ان کی تصویر بنتی ہے، وہ مجھے متاثرہ فریق (وکٹم) کی لگتی ہے (مجھے لگتا ہے کہیں نہ کہیں ان کے ساتھ کوئی ذاتی واقعہ جڑا ہے، بہرحال میں غلط بھی ہوسکتا ہوں) اور جو متاثرین ہوتے ہیں، ان کی رائے اور سوچ کا آئیڈیلزم کی طرف مائل ہونا اور رئیلزم سے دور ہونا عین ممکن ہے۔۔

    مثلاً پاکستان میں پیدا ہونے اور زندگی گزارنے والے لوگ (خاص کر مڈل کلاس لوگ اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے) پاکستانی حکومت کی پالیسیوں سے ڈائریکٹ متاثر ہوتے ہیں، وہ پولیس کے رویے سے نالاں ہیں، سرکاری دفتروں میں ان کے کام نہیں ہوتے، چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہ رہ کر ان کی زندگیاں المناکی کی تصویر بنی ہوئی ہیں، ان کی طبیعت میں خفگی اور مزاج میں چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہے، میری نظر میں یہ تمام لوگ متاثرین ہیں، یہ اپنے ابتر حالات سے متاثرہ ہیں۔ (میں خود کو بھی کسی نہ کسی حوالے سے متاثرہ فریق ہی تصور کرتا ہوں)۔ اس کے برعکس یورپ کے کسی مہذب ملک میں رہائش پذیر متمول لوگ جن کی زندگی میں وہ مصائب و مشکلات نہیں ہیں جو کسی پسماندہ علاقے کے “متاثرین” کو فیس کرنی پڑتی ہیں، وہ معاملات کو زیادہ حقیقی نکتہ نظر سے دیکھنے کے قابل ہیں۔۔

    آپ اول الذکر (پاکستانی) سے کسی موضوع پر گفتگو کریں تو وہ کہے گا بھاڑ میں جائے ریئلزم فلاں کام ایسے ہونا چاہیے اور ڈھمکاں ایسے ہونا چاہیے، چاہے وہ دور دور تک امکانات کی حد میں نہ آتا ہو۔۔۔ ہم تھیٹر میں بیٹھ کر جب کوئی دھانسو فلم دیکھتے ہیں جس میں اکیلا ہیرو بیس بیس لوگوں کے کشتوں کے پشتے لگا رہا ہوتا ہے، کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایسا ہونا کیسے ممکن ہے، سب بڑے جوش اور مسرت سے اس کو انجوائے کرتے ہیں، اصل میں وہ، وہ دیکھنا چاہتے ہیں جو وہ حقیقی زندگی میں نہیں کرسکتے، ان کی آئیڈیلزم کو ہلکی سی تھپکی ملتی ہے، ان کی فرسٹریشن دور ہوجاتی ہے۔۔۔

    میری نظر میں آئیڈیلزم سے نکل کر رئیلزم کی دنیا میں آنے کے لئے انسان کے اپنے حالات میں ٹھہراؤ ہونا کافی ضروری ہے۔۔

    زندہ رود
    ضروری نہیں کہ آدمی جس چیز کی حمایت کر رہا ہے وہ اسمیں سے گذرا ہو ، وہ اسپر بھی بیتی ہو ،،،،، کیا کینیڈی کبھی غلام تھا جو صدر بنتے ہی کالوں کو حقوق دی دئیے ،،،، کیا گورباچوف کبھی غلام ملک کا شہری تھا کہ صدر بنتے ہی سبکو آزادی دیدی
    اگر انسان ، انسان بنکر رہے تو سبکے درد اسے اپنے جیسے ہی لگتے ہیں ،،،،، چاہے لاہور کی زینت شہزادی ہو یا اوکاڑہ کے مزارعین کا معاملہ یا پشاور اسکول کا واقعہ یا ساہیوال کا سانحہ ،،،، بالکل ایسے ہی ہیں جیسے کراچی کی تشدد زدہ لاشیں ،،،، مجرم تو سبکا ایک ہی ہے ،،،،،، البتہ کچہہ ہیں جو کل تک راُو انور جیسے دہشتگرد کے حق میں جلوس نکالتے تھے اور اسے زندہ باد کہتے تھے اور کچہہ اسے اچھا بچہ کہتے ہیں ،،،،، یہ تو انسانی ضمیر کے سودے ہیں ،،،،، جب ضمیر ہی مر جائے تو درندہ ہی باقی رہ جاتا ہے

    #19
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: افادیت

    جناب صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ وہ فائدہ مند چیزیں کون سی تھیں جس کے بارے میں اسلام پہلی دفعہ بتا رہا تھا جبکہ پوری دنیا ان سے لاعلم تھی

    چند سوالات

    کیا آپ اسلام اور دیگر الہامی ادیان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں یا اسلام اور لادینی کے بارے میں ؟

    اگر اسلام اور دوسرے الہامی ادیان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو جواب ہے “اسلام کچھ نیا نہیں ” ہاں اگر اسلام اور لا دینی یا انسان کے بنائے ادیان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو میں جواب دے سکتا ہوں

    .

    دوسرا سوال : آپ سائنس کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں یا دیگر کسی میدان کے بارے میں

    #20
    Shah G
    Participant
    Offline
    • Professional
    • Threads: 7
    • Posts: 1708
    • Total Posts: 1715
    • Join Date:
      29 Sep, 2016
    • Location: Milky Way Galaxy

    Re: افادیت

    زن۔۔۔۔ اور ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ کہ آیا کولیٹرل ڈیمج(ساتھ میں بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع) کے ساتھ ڈرون حملوں ہونے چاہئیں۔۔۔۔۔ اور اگر نہیں ہونے چاہئیں تو پھر دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے متبادل حکمتِ عملی کیا ہونی چاہئے۔۔۔۔۔

    آپ ضرب عضب آپریشن کی تفصیلات پڑھیں کہ انھوں نے کیسے دہشت گردوں کو ختم کیا تھا

    .

    میں یہ پیشگی بیان کر دوں کہ ضرب عضب میں ڈرون نہیں ایف سولہ طیارے استعمال ہوئے تھے پھر بھی کولاتیرل ڈیمیج نہیں ہوا اور یہ جنگ مزید جنگوں کا سبب نہیں بنی

    .

    مزید وضاحت کے لئے بھی میں تیار ہوں

Viewing 20 posts - 1 through 20 (of 227 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation