Thread: آسٹریلیا میں آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفاتر پر پولیس کے چھاپوں کی مذمت

Home Forums Internationl News آسٹریلیا میں آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفاتر پر پولیس کے چھاپوں کی مذمت

This topic contains 3 replies, has 4 voices, and was last updated by  shami11 2 months, 1 week ago. This post has been viewed 203 times

Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)
  • Author
    Posts
  • #1
    SaleemRaza
    Participant
    Offline
    Thread Starter
    • Expert
    • Threads: 665
    • Posts: 11882
    • Total Posts: 12547
    • Join Date:
      13 Oct, 2016
    • Location: سہراب گوٹھ ۔

    Re: آسٹریلیا میں آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفاتر پر پولیس کے چھاپوں کی مذمت

    آسٹریلیا میں آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفاتر پر پولیس کے چھاپوں کی مذمت
    45 منٹ پہلے
    اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک
    اس پوسٹ کو شیئر کریں وٹس ایپ
    اس پوسٹ کو شیئر کریں Messenger
    اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر
    شیئر
    تصویر کے کاپی رائٹSAEED KHANImage captionاے بی سی کے دفاتر پر چھاپوں میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا
    آسٹریلیا میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا اُن صحافیوں پر مقدمہ چلایا جائے گا جن کی ایک رپورٹ سے متعلق پولیس نے چھاپے مارے ہیں۔

    نشریاتی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پولیس کے چھاپوں اور تلاشی کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ اِن چھاپوں کے دوران آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن یا اے بی سی کے دفاتر سے دستاویزات کو قبضے میں لیا گیا ہے۔

    اے بی سی نے 2017 میں افشاء ہونے والی کچھ فوجی دستاویزات کی بنیاد پر ایک رپورٹ نشر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ آسٹریلیا کی فوج پر افغانستان میں ممکنہ جنگی جرائم کے الزام کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    اشتہار
    آسٹریلیا کی وفاقی پولیس نے دستاویزات کے افشا یا لیک ہونے کے بارے میں تفتیش کے لیے بدھ کو اے بی سی کے دفاتر پر چھاپہ مارا تھا۔

    آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ نیوز رپورٹ میں ملک کی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    یہ بھی پڑھیے
    ’مقتول والدہ کے لیے بیٹے کی انصاف کی جنگ‘

    سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

    ’میں آپ کے ماتھے پر چار گولیاں مار کر قتل کرسکتا ہوں‘

    تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGESImage captionاے بی سی کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی فوج کی جانب سے افغانستان میں ممکنہ جنگی جرائم کی تفتیش کی گئی ہے (فائل فوٹو)
    بی بی سی نے بھی آسٹریلیا میں پولیس کی جانب سے اے بی سی کے دفاتر پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں آزادیِ صحافت پر ایک انتہائی ’پریشان کن حملہ‘ قرار دیا ہے۔

    آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کہا ہے کہ یہ چھاپے ملک میں میڈیا کی آزادی پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔

    ‘یہ ایک انتہائی سنجیدہ پیش رفت ہے اور یہ پریس کی آزادی اور ملکی سلامتی اور دفاعی معاملات سے متعلق باقاعدہ عوامی جانچ پڑتال کے لیے جائز طور پر تشویش پیدا کرتی ہے۔’

    بی بی سی نیوز نے بھی اپنے بیان میں اِسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ‘اے بی سی میں ہمارے پارٹنرز کے خلاف پولیس کا یہ چھاپہ آزادیِ صحافت پر حملہ ہے اور ہمارے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔’

    @BBCNewsPR کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہتصویر ٹوئٹر پر دیکھیں
    BBC News Press Team
    ✔@BBCNewsPR

    BBC statement on Australian Broadcasting Corporation (ABC) police raid:

    3,153
    6:27 AM – 5 جون، 2019

    2,305 people are talking about this

    Twitter Ads info and privacy

    @BBCNewsPR کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں
    ‘ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں میڈیا کی آزادی کم ہو رہی ہے، یہ بہت پریشان کن بات ہے کہ ایک عوامی نشریاتی ادارے کو اپنا عوامی مفاد کا کام کرنے پر نشانہ بنایا جائے۔’

    اے بی سی میں تحقیقاتی صحافت کے شعبے کے سربراہ جان لیونز نے پولیس آفیسرز کی کام کرتے ہوئے اور تلاشی کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے تصاویر ٹویٹ کی ہیں۔

    تصویر کے کاپی رائٹABC NEWSImage captionآسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کہا ہے کہ یہ چھاپے ملک میں میڈیا کی آزادی پر ایک سوالیہ نشان ہیں
    چھاپے کے وقت ٹویٹس کرتے ہوئے لیونز نے کہا کہ ‘مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ یہاں بیٹھ کر ایک جائز نیوز رپورٹ کے بارے میں تحقیقات کے لیے پولیس کو اُسی میڈیا ادارے کے کمپوٹرز کو استعمال کرتے ہوئے دیکھ کر میں یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکا کہ یہ ایک ایسے ملک کے لیے ایک خراب، افسوسناک اور خطرناک دن ہے جہاں ہم کافی عرصے سے آزادیِ صحافت کی قدر کرتے رہے ہیں اور اِس حق کی اہمیت کو محسوس نہیں کرتے تھے۔‘

    اِن چھاپوں میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ پولیس کو چھاپوں کی اجازت سنہ 1914 کے اُس آسٹریلوی قانون کے تحت دی گئی جس کے مطابق کوئی بھی سرکاری اہلکار خفیہ معلومات کو ظاہر نہیں کر سکتا۔

    #2
    Believer12
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 320
    • Posts: 7263
    • Total Posts: 7583
    • Join Date:
      14 Sep, 2016

    Re: آسٹریلیا میں آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفاتر پر پولیس کے چھاپوں کی مذمت

    برادرم اس پوسٹ کو ایڈٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہر تیجی لائین کے بعد پانچ سات لائینیں غیر متعلقہ مواد کی آجاتی ہیں؟؟

    :serious:

    #3
    Bawa
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 140
    • Posts: 11280
    • Total Posts: 11420
    • Join Date:
      24 Aug, 2016

    Re: آسٹریلیا میں آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفاتر پر پولیس کے چھاپوں کی مذمت

    #4
    shami11
    Participant
    Offline
    • Expert
    • Threads: 663
    • Posts: 6898
    • Total Posts: 7561
    • Join Date:
      12 Oct, 2016
    • Location: Pakistan

    Re: آسٹریلیا میں آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے دفاتر پر پولیس کے چھاپوں کی مذمت

    مجھے تو لگ رہا ہے سلیم بھائی نے تھریڈ آپ کے لئے ہی بنایا تھا کے آپ نوٹس کرتے ہیں کے نہی

    میں تو سلیم بھائی کے تھریڈ اسی وقت سیریس لیتا ہو جب اس میں رؤف کلاسرا ، صابر شاکر ، بھٹی صاحب اور نئے فنکار چوہدری افتخار ہو

    برادرم اس پوسٹ کو ایڈٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہر تیجی لائین کے بعد پانچ سات لائینیں غیر متعلقہ مواد کی آجاتی ہیں؟؟ :serious:
Viewing 4 posts - 1 through 4 (of 4 total)

You must be logged in to reply to this topic.

Navigation