ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

Home Forums Siasi Discussion ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

#477
Zia Yasir
Participant
Offline
  • Advanced
  • Threads: 48
  • Posts: 1165
  • Total Posts: 1213
  • Join Date:
    4 Apr, 2017
  • Location: London

Re: ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

شاہد بھای نے جو چار گواہوں والی بات لکھی ہے وہ زانی نہیں بلکہ زیادتی کے کیس میں ہے، آپ ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ چودہ سو سال پہلے اگر کوی کہتا کہ زیادتی کے مجرم کا ڈی این اے یا لڑکی کا میڈیکل کروایا جاے تو کسی کو سمجھ نہ آتی اس لئے اس وقت لڑکی کے بیان کے بعد چار گواہوں کیضرورت پڑتی تھی اب چار گواہوں پر مسلمانون کو ابھی تک آئیڈیا ہی نہیں آیا کہ یہ کسطرح ممکن ہے، کیا چار مرد گواہ اپنے سامنے ریپ ہوتے دیکھتے رہے اور غیرت نہ دکھای، تو کیوں نہ جج سب سے پہلے ان چار گواہوں کو پھڑکا دے؟ میرے نزدیک چار گواہ اس واقعے کی تصدیق کریں گے کہ ایسا کوی واقعہ ہوا ہے اور مجرم واقعی ایسا ہی تھا کہ اسطرح کا کوی جرم کرتا ، بحرحال یہ اس دور کیلئے تھا اور اب سو گواہوں کے برابر ایک ہی گواہی کافی ہے جسے آپ ڈی این اے ٹیسٹ قرار دے رہے تھے

قرآن میں چار گواہوں والی شرط ہونے کے باوجود اگر آپ آج کے دور میں ڈی این اے کے استعمال کے قائل ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور وقت وقت کے حساب سے انسان کو اپنی ضروریات وحالات اور دستیاب سہولیات کی بناء پر تبدیل ہونا پڑتا ہے،۔۔ آپ نے ہاتھ کاٹنے والی سزا کی حمایت کی جبکہ آج کے دور میں مہذب دنیا بغیر ہاتھ پاؤں کاٹے چوری ڈکیتی جیسے جرائم پر قابو پاچکی ہے۔ پاکستان جیسا معاشرہ جس میں 90 فیصد سے زائد لوگ کرپٹ ہوں، اس میں اگر آپ ہاتھ کاٹنے کی سزا رائج کر بھی دیں تو بھی سزا ہمیشہ چھوٹے چور کو ہی ملے گی اور بڑا چور بچ جائے گا۔۔ آج کے دور کے تقاضے مختلف ہیں، آپ نے میرے اصرار کے باوجود زانی مرد اور زانیہ عورت کو کوڑوں والی سزا کی حمایت سے احتراز کیا، اس کا مطلب یہ ہے آپ کا دل بھی اس پر مطمئن نہیں، وجہ صاف ظاہر ہے، اس دور اور آج کے دور میں بے انتہا فرق ہے، قرآن و احادیث میں بیان کردہ سزائیں، شرائط اس دور کے حساب سے بہترین تھیں، عرب میں ویسے بھی مارنا کاٹنا ایک عام سی بات تھی، مگر آج کے دور میں انسان کو بہت بہتر وسائل میسر ہیں، اگر اس دور میں آج کے وسائل دستیاب ہوتے تو کیا اسلام ان کو استعمال کرنے سے منع کرتا۔۔۔؟ اس دور میں تو مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بچے پیدا کرنے کا کہا، لیکن کیا آج جب پاکستان آبادی سے پھٹنے کے قریب ہے، ہمارا مفاد زیادہ بچے پیدا کرنے میں ہے یا آبادی کو کنٹرول کرنے میں۔۔؟ کیا اسلام ایک رجڈ چیز ہے، جس میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔۔۔؟ میرا تو خیال یہ ہے کہ دورِ حاضر کے حساب سے اسلام کی نئی تشریح ہونی چاہئے اور اسلام کو جس قدر ہوسکے آج کے دور کے قریب لانا چاہیے، کیونکہ جو مذہب وقت کے ساتھ مطابقت نہ رکھتا ہو وہ لوگوں کی زندگیوں سے نکل کر عبادتگاہوں تک محدود ہوجاتا ہے۔

Navigation