Home Forums Suggestions & Support آخری گیت سنانے کیلئے آئے ہیں آخری گیت سنانے کیلئے آئے ہیں

Believer12
Participant
Offline
  • Expert
#35

ھر شے کی طرح جو اس دنیا میں آئ ،حیات پائ اور ایک معین مدت پوری کرکے رخصت ہوئ ۔، یہ فورم بھی ایک دن اپنی منزل طے کرکے اختتام کو پہنچا ۔ ضروری نہیں ہے کہ ھر انسان کی خواھشات اسکی زندگی کے سفر میں اس کی مرضی کے مطابق پوری ہوتی رھیں ۔ میری اپنی کچھ نجی مصروفیات مجھے اس فورم سے کچھ عرصہ دور رکھنے کا سبب بنیں ۔ تلخی بھرے پچھلے 5 مہینے بالاخر میری عزیز ترین شے کو ہمیشہ کے لیے لے کر رخصت ہوگئے اور میں اپنی تمام تر دعاؤں ، عبادات، کاوشوں اور رت جگوں کے باوجو ، ہونے والی کو ٹال نہ سکا۔

کل من علیہہ فان

بہت سے دوستوں اور اصحاب سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ملا ۔ انکی کمی ہمیشہ رہے گی ۔ انکی یادیں بھی ہمراہ رہیں گی ۔ میری نیک خواھشات ان سب کے لیے جن سے اس فورم پر بات چیت رہی ۔ اگر کسی کا دل میرے لفظوں سے دکھا تو میری معذرت قبول فرمائیں ۔ دکھی دل کے ساتھ اور الجھے اور بوجھل خیالات کے ساتھ یہ شاید میری آخری پوسٹ ہو ۔

مدت کے بعد تم سے ملا ہوں تو یہ کھلا

یہ وقت اور فاصلہ دھوکہ نظر کا تھا

چہرے پہ عمر بھر کی مسافت رقم سہی

دل کے لیے تمام سفر لمحہ بھر کا تھا

کیسی عجیب ساعت دیدار ہے کہ ہم

پھر یوں ملے کہ جیسے کبھی دور ہی نہ تھے

آنکھوں میں کم سنی کے وہ سب خواب جاگ اٹھے

جن میں نگاہ و دل کبھی مجبور ہی نہ تھے

معصوم کس قدر تھیں وہ بے نام چاہتیں

بچپن سے ہمکنار تھا عہد شباب بھی

یوں آتش بدن میں تھی شبنم گھلی ہوئی

مہتاب سے زیادہ نہ تھا آفتاب بھی

پھر وہ ہوا چلی کہ سبھی کچھ بکھر گیا

وہ محفلیں وہ دوست وہ گل رنگ قہقہے

اب رقص گرد باد کی صورت ہے زندگی

یہ وقت کا عذاب کہاں تک کوئی سہے

اب تم ملیں تو کتنے ہی غم ہیں تمہارے ساتھ

پتھر کی طرح تم نے گزاری ہے زندگی

کتنا لہو جلایا تو یہ پھول مسکرائے

کس کس جتن سے تم نے سنواری ہے زندگی

میں نے بھی ایک جہد مسلسل میں کاٹ دی

وہ عمر تھی جو پھول سے ارماں لیے ہوئے

اب وہ جنوں رہا ہے نہ وہ موسم بہار

بیٹھا ہوں اپنا چاک گریباں سیے ہوئے

اب اپنے اپنے خوں کی امانت ہے اور ہم

اور ان امانتوں کی حفاظت کے خواب ہیں

آنکھوں میں کوئی پیاس ہو دل میں کوئی تڑپ

پھیلے ہوئے افق سے افق تک سراب ہیں

کس کو خبر تھی لمحہ اک ایسا بھی آئے گا

ماضی تمام پھر سمٹ آئے گا حال میں

محسوس ہو رہا ہے کہ گزرا نہیں ہے وقت

اک لمحہ بٹ گیا تھا فقط ماہ و سال میں

تم بھی وہی ہو میں بھی وہی وقت بھی وہی

ہاں اک بجھی بجھی سی چمک چشم نم میں ہے

یہ لمحہ جس کے سحر میں کھوئے ہوئے ہیں ہم

کتنی مسرتوں کا سرور اس کے غم میں ہے

زیدی صاحب آپ کی بیٹی کا سن کر اتنا صدمہ ہوا کہ بیان سے باہر ہے اتنی لائق اتنی ایجوکیٹڈ اور ینگ بیٹی میں یہی دعا کرسکتا ہوں کہ جنت الفردوس کی اعلی ترین نعمتوں سے سرفراز ہو اور جنت کے باغوں میں بہت خوش رہے آمین

اللہ تعالی آپ کو صبر جمیل عطا فرماے اور اس کا نعم البدل بھی عطا فرماے

×
arrow_upward DanishGardi